Archive for the ‘Articles and Reports’ Category

پیغمبر(ص) اسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے . اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے بیشمار روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ۔
تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
 آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ۔
 جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ، آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں۔ اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت:
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا (ص)کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ پیغمبر اسلام (ص)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مبارک آج تک مخفی ہے جو ان کے خلاف خلیفہ وقت کے ظلم و ستم کا مظہر ہے۔

Advertisements

ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ عرب سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی مقصد کیلئے ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔گذشتہ دنوں سعودی عرب کے بوڑھے وزیر اطلاعات پاکستان کے دورے پر تشریف لائے، انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ انہیں خوش کرنے کے لئے پاکستانی وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک ڈانس پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں پاکستانی لڑکیاں انتہائی شرمناک لباس میں بوڑھے سعودی وزیر کے سامنے کافی دیر تک ناچتی رہیں اور اس دوران پاکستانی اعلٰی حکام اور خود وزیر اطلاعات فردوش عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ اس پارٹی کے بعد کی کہانی معلوم نہ ہوسکی۔ وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میزبانی میں اس تقریب کے مہمان خصوصی خادمین حرمین شریفین کنگ عبداللہ کے وزیر اطلاعات و کلچر منسٹر عزت ماب عبدالعزیز بن محی الدین تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میڈیا اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ پارٹی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین کے دورہ پاکستان سے دنیا میں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشترکہ میڈیا حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گیواضح رہے کہ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردس عاشق اعوان کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی وزیر اطلاعات کے دورے سے نہ صرف ایک دوسرے کی ثقافتوں کو سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی باعث ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الغدیر، وفاقی سیکریٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر افسران بھی ان پارٹیوں میں شریک ہوئے۔ سعودی وزیر اطلاعات کے پاکستان کے لئے پرجوش جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حال ہی میں ان کا ایک آپریشن ہوا ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنے پاکستان کے دورے کو مؤخر نہیں کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دورے سے جو توقع تھی وہ پوری نہ ہوئی اور انہوں نے پی ٹی وی کے لئے فوری طور پر کسی گرانٹ یا رقم کا اعلان نہیں کیا اور پی ٹی وی کی طرف سے ڈانس پارٹی بھی ضائع گئی۔

پاکستان میں ڈاکٹروں اور فلاحی اداروں کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں ان کے وارث مختلف وجوہات کی بنا پر یا تو قتل کر دیتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے جھولے میں ڈال دیتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے لاوارث گمنام بچوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ان بچوں کی پرورش کرنے والے ہر ادارے کے پاس انفرادی ریکارڈز تو موجود ہیں تاہم مجموعی اعدادوشمار اب تک جمع نہیں کئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں کئی ایسے غیر سرکاری فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے وہ بچوں کو پال نہیں سکتے تو انہیں اداروں کے سپرد کردیا جائے جہاں ان کو گود لینے کے لئے کئی جوڑے رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاونڈیشن کے ملک بھر میں چار سو مراکز قائم ہیں جن کے باہر جھولے لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس بات کی جانب آمادہ کرنا ہے کہ وہ ایسے بچے جن کی پرورش وہ نہیں کرنا چاہتے، انہیں قتل کرنے یا کسی گلی محلے اور کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے ان جھولوں میں ڈال دیں۔ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدلاستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے ان جھولوں سے ملنے والے بچوں کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ چھ دہائی قبل ان کے شروع کئے گئے جھولا پراجیکٹ کے تحت سولہ ہزار بچوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ تاہم مردہ حالت میں بچے اب بھی شہر کے مختلف علاقوں سے ملتے رہتے ہیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف ایدھی فاونڈیشن کو ہی ملک بھر سے سالانہ اوسطاً تین سو پینسٹھ بچے ملتے ہیں،’’زیادہ تر مرے ہوئے بچے ملتے ہیں۔ انہیں پلاسٹک بیگ میں بند کرکے، منہ میں کپڑا ڈال کر یا گلے میں رسی ڈال کر پھینک دیتے ہیں۔عبدلاستار ایدھی کے مطابق ملنے والے ان بچوں میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے جبکہ مردہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے، ’’ہمیں سال میں اگر پچیس بچے زندہ ملتے ہیں تو اڑھائی سو مردہ ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو معذور یا دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں بھی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے‘‘۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف مئی دو ہزار بارہ میں تیرہ گمنام نوزائدہ بچوں کی لاشیں ان کی تنظیم کو ملی جنہیں دفن کیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے بچوں کو فوری طور پر گود لینے کے خواہش مند جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ عبدلاستار ایدھی کے مطابق اب تک چھبیس ہزار بچوں کو ان کے ادارے نے گود دیا ہے۔ان میں دیگر طریقوں سے ایدھی سینٹر کو ملنے والے بچے بھی شامل ہیں ۔ ان بچوں کو گود دینے سے قبل جوڑوں کی اچھی طرح سے چھان بین کی جاتی ہے، ’’ہم بچے صرف بے اولاد جوڑوں کو دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ لمٹس رکھی ہیں ۔ مثلاً شادی کو دس سال ہوئے ہوں، اولاد نہ ہو تو اپلائی کر سکتے ہیں ۔ جائداد دیکھتے ہیں، مکان پکا ہے اور اپنا ہے تو دیتے ہیں۔ چھ ہزار سے کم تنخواہ والوں کو نہیں دیتے کیونکہ بچے کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہوتی ہے۔ جبکہ بچہ حوالے کرنے کے بعد پانچ سال تک خبر گیری رکھتے ہیں۔ آگے اسلئے نہیں کرتے کہ تاکہ بچے کو احساس نہ ہو کہ وہ گود لیا ہوا بچہ ہے‘‘۔ ان بچوں کو گمنام چھوڑ دینے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ بلقیس ایدھی کے مطابق بعض ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو زنا یا زیادتی کے باعث مائیں بن جاتی ہیں اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ان کی پرورش نہیں کرنا چاہتی۔ بعض عورتیں دوسری شادی کے لئے بچے چھوڑ جاتی ہیں۔ اور بعض دیگر مجبوریوں کے باعث بچے سے دستبردار ہوتی ہیں، اُن کے بقول،’’ایک غربت اور دوسرا جہالت، ہمارے ملک میں غربت بہت ہے، ہمارے ملک میں بے روزگاری ہے، ملک میں منصوبہ بندی نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہوتی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عورت کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں‘‘۔ پاکستان میڈیکل ایسوسیشن سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کہتی ہیں کہ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنہیں لاوارث اور گمنام چھوڑا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا،’’ ان میں صرف ناجائز بچے نہیں ہوتے بلکہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ماں باپ غربت کے باعث انہیں پال نہیں سکتے۔ بچے پر بچہ پیدا ہوتا جاتا ہے، کوئی فیملی پلاننگ نہیں ہوتی۔ نہ ہی درمیان میں کوئی وقفہ ہوتا ہے۔ انہیں نہ کچھ بتایا جا رہا ہوتا ہے نہ انہیں اسے کنڑول کرنے کے لئے کوئی چیز دی جارہی ہوتی ہے۔اگر ایسے میں بچہ پیدا ہو جائے تو لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیتے ہیں‘‘۔جرمنی سمیت دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہسپتالوں میں ایسے جھروکے قائم ہیں جہاں نومولود کو مائیں مختلف وجوہات کے باعث چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں‘‘۔ ہسپتالوں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں ایسے کسی نظام کے نافذ کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ یہاں اتنی کرپشن سے کہ اگر ایسے نظام قائم کئے گئے تو یہ کاروبار کی صورت اختیار کر جائیں گے، وہ کہتی ہیں،’’ لوگ اس کاروبار کے تحت بچوں کی خرید و فروخت شروع کر دیں گے۔اسلئے میرے خیال میں ایسا کوئی نظام سرکاری اداروں میں نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں لیکن ایدھی سینٹرز کی طرح کے ادارے ہوں تو ان کے حوالے کیا جا سکتا ہے جہاں نہ صرف بچوں کی مناسب دیکھ بھال ہوتی ہے بلکہ انہیں گود لینے کے خواہشمند جوڑوں کے حوالے بھی کیا جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں baby hatches یا ایسا کوئی نظام قطعی طور پر ہونا چاہئے جس کے تحت لاوارث چھوڑ دئیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام ہو۔ کیونکہ یہ ان کو قتل کرنے سے بہتر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’جو بچہ نہیں رکھنا چاہتا وہ ہر صورت میں نہیں رکھے گا۔ وہ اس کو مار کر پھنک دے گا، گلا دبا دے گا ،سانس روک دے گا، غلط ہاتھوں میں بچہ چلا جائے گا۔ اس سے بہتر نہیں ہے کہ آپ ایک جھولا لگائیں جس میں بچہ چھوڑ کر جانے والے بچے کو ڈال جائیں ۔ کم از کم اس کی جان تو بچ جائے گی،اس کو تعلیم اور کھانا تو مل جائے گا‘‘ ۔ملک میں baby hatches کے حق میں جہاں ایک طرف پزیرائی پائی جاتی ہے وہیں اس نظام کے حوالے سے کچھ مخالفت بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق لاوارث بچوں کی پرورش اور انہیں گود دینے پر بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’مولویوں نے کہا کہ عبدلاستار ایدھی اور ان کی بیوی واجب القتل ہیں کیونکہ یہ حرام کے ناجائز بچے پالتے ہیں اس لیے یہ جنت میں نہیں جائیں گے اور اسلام سے خارج ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آج تک تنقید کر رہے ہیں‘‘ ۔ ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ظہیر عابدی کا کہنا ہے کہ ماؤں کا اپنے بچوں کو کسی خیراتی ادارے میں چھوڑ جانا احسن عمل نہیں اور اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن بچوں کو قتل کرنے سے کم از کم بہتر ہے کہ انہیں ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا ، ’’انسانی معاشرہ میں اس بات کی کہیں اجازت نہیں کہ بچوں کو کسی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ اور اسلام میں تو پہلے ہی بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ جن پر عمل درآمد کیا جائے تو نوبت ہی نہ آئے کہیں بچہ حوالے کرنے کی ۔ اور اگر غربت کے باعث ایسا کیا جا رہا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ غربت کے باعث اپنے بچوں کو نہ مارو کیونکہ اس کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ لیکن اسلام میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ناجائز بچوں کی پرورش کرنے والے جرم کرتے ہیں یا وہ واجب القتل ہیں‘‘۔

صنعاء – یمن کے دینی علماء اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انصار الشریعہ کی جانب سے تین افراد پر جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزا دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا اور یہ تنظیم کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے انصاف کا استحصال ہے۔ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم انصار الشریعہ نے 12 فروری کو صوبہ ابیان کے شہر جعار اور صوبہ شبوہ کے شہر عزن میں ان موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا۔ تنظیم نے ان تینوں افراد پر الزام لگایا تھا کہ وہ مقامی، علاقائی اور عالمی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں۔ ان افراد کو دن دیہاڑے مقامی رہائشیوں کے سامنے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ انصار الشریعہ کے خبر رساں ادارے مدد نے اپنی ویب سائیٹ پر اس سزائے موت کے بارے میں اعلان اور ایک وڈیو کلپ شائع کیا تھا۔ وڈیو کلپ کا عنوان “عين على الحدث [واقعات پر نظر] چوتھا ایڈیشن” تھا جس میں تینوں ملزمان کے اعترافی بیانات ریکارڈ تھے۔ انصار الشریعہ نے جعار اور عزن میں ان سزاؤں کو دیکھنے کے لئے آنے والے افراد میں اعترافی بیانات کی ہزاروں نقول بھی تقسیم کیں۔‘کوئی قانونی اختیار نہیں’ یمن کے سابق وزیر برائے اوقاف اور رہنمائی حمود الھتار نے کہا کہ انصار الشریعہ کو دوسروں پر اپنے خلاف جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزائیں دینے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ اس کے پاس تو قانونی فیصلے سنانے کا کوئی قانونی اختیار ہی نہیں ہے، چاہے یہ ان افراد کے خلاف ہوں یا کسی اور گروپ کے۔ الھتار نے الشرفہ ویب سائیٹ سے گفتگو میں کہا کہ گروپ کو الزامات لگانے یا کوئی قانونی فیصلہ سنانے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ یہ صرف یمنی حکومت کے عہدیداروں کا بلا شرکت غیرے حق ہے۔ الھتار نے کہا کہ یمن میں سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے ایسے قانونی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو قانون کے ضوابط کی پاسداری کرتے ہوں۔ ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے اور اس پر آئین، لاگو قوانین، انسانی حقوق کے آفاقی اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ جب کوئی مقدمہ چلانے والی عدالت یا اپیل منظور کرنے والی عدالت فیصلہ جاری کرتی ہے تو ملزم کو اپیل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو اٹارنی جنرل پھر اس اپیل کو منظوری کے لئے صدر کو بھجواتے ہیں۔الھتار نے کہا کہ القاعدہ کے پاس سزائے موت یا حد کے تحت دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کے لئے قانونی، آئینی یا شرعی قانون کا اختیار نہیں ہے۔ شریعہ قانون ان شرائط کی وضاحت کرتا ہے ‘جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے’
وزارت اوقاف و رہنمائی کے نائب وزیر شیخ حسن الشیخ نے کہا کہ اسلام میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حد کے تحت سزا پر عمل درآمد یا ان افراد کی بریت جن پر غلط الزام لگایا گیا ہے صرف اعلٰی مذہبی حکام کی منظوری سے ہی ہو سکتی ہے جن کی عملداری کی عوام نے اجازت دی ہو۔ انہوں نے الشرفہ سے گفتگو میں کہا کہ سربراہ مملکت یا اعلٰی مذہبی قیادت کو سزائے موت یا دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک کہ اس بارے میں عدالت نے فیصلہ نہ دیا ہو۔ یہ فیصلہ بھی صرف اس وقت مؤثر ہے جب یہ ثبوت یا جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کے اعتراف پر مبنی ہو۔ الشیخ نے کہا کہ کسی گروپ، فرقے، جماعت یا قبیلے کو قانونی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ورنہ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دائرہ اختیار کی اجازت امہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور یہ اپنے طور پر فرض نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انصار الشریعہ کا یہ اعلان کہ اس نے اسلامی امارت قائم کر دی ہے، اسے جاسوسوں یا دیگر افراد کے خلاف فیصلے سنانے یا ان پر عمل درآمد کرنے کا کوئی حق نہیں دیتا کیونکہ اسلام میں شریعہ قانون پر مبنی ایسی پابندیاں رکھی گئی ہیں جو وقت، جگہ اور ان شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اپنے مفادات سے مطابقت رکھنے والے فیصلے
ایک وکیل اور ہود تنظیم برائے حقوق و آزادیاں کے سربراہ محمد ناجی علاؤ نے کہا کہ القاعدہ جاسوسوں اور دیگر افراد کو جس طرح موت کے گھاٹ اتار رہی ہے وہ بلا جواز اور غیر آئینی اقدامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسلح گروپ اس حقیقت کے باوجود ریاست کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے کہ قانونی حیثیت وہ ہوتی ہے جس پر عوام کی اکثریت کا اتفاق ہو۔ انہوں نے کہا القاعدہ سمیت مسلح گروپ اپنے مقاصد و مفادات کے لئے ان قانونی فیصلوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ ایک مسلح گروپ ہے جو ہلاکتوں کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتا ہے۔ ……….کسی بھی شک ہو شبہ کے بغیر یہ ہی صورت حال پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ہے اور اس سے بھی بدتر صورت حال پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی کی ہے جہاں پر کچھ سیاسی اور مذہبی تنظیمیں  شیعہ مسلمانوں کو بڑی ہی بے دردی سے بغیر کسی جرم و خظا کے بس شوقیہ طور پر قتل کرتی ہین جس کی واضح مثال حالیہ چنددنوں مین شہر کراچی میں رونما ہونے والے واقعات ہیں جس میں شیعہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کو کبھی بسوں سے اتار کر، کبھی پیدل چلتے ہوئے، کبھی پس اسٹاپ پر، کبھی اور دیگر طرح سے شہید کر دیا جاتا ہے۔

پشاور – علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔ پار ہوتی، مردان کے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ خودکش بمبار روئے زمین پر سب سے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ مرنے کے بعد انہیں نہ تو عام مسلمانوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہوتی ہے۔ مردان کے علاقہ پار ہوتی کے محلہ نیو اسلام آباد میں امام کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ انہیں رحمان اللہ کی حالت پر افسوس ہے جسے نماز جنازہ پڑھائے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔ 17 سالہ رحمان اللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں افغان اور اتحادی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا۔ رحمان اللہ کے والد غفران خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا اب تک غم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے رحمان اللہ کو اغوا کر کے اس کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے تھے۔ انہیں اپنے بیٹے کی لاش یا اس کی تدفین کا عمل دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا تاحال یقین نہیں ہے۔
عسکریت پسندوں کی گرفت سے آزاد ہونے والے بعض افراد
اسی علاقے کے ایک اور لڑکے سیف اللہ کو اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا جب طالبان نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مئی 2005 میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو فراج اللبی کی مردان سے گرفتاری سے پہلے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔اس کے والد نے بتایا کہ طالبان سیف اللہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے اور وہ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ دیگر افراد نے اس کے والد کو اپنے بیٹے کے بحفاظت جرمنی پہنچ جانے پر مبارک باد دی ہے۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر طالبان میرے بیٹے کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر لیتے تو وہ غسل، نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہ جاتا، جو کہ مسلمانوں کے لئے موت کے بعد اہم رسومات ہیں۔ پشاور کے علاقے داؤد زئی کے ایک امام اجمل شاہ نے واضح لفظوں میں ان رسومات کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے طالبان کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دینے کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بم دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو دھماکے سے اڑا کر بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے افراد کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ان کے تربیت کاروں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔
طالبان کے ذہنی خیالات بدلنے کے طریقے
طالبان کے بھرتی کار نیم خواندہ، بے روزگار نوجوانوں کو اغوا کرنے یا ہلانے پھسلانے کے بعد انہیں پراپیگنڈا مواد پڑھنے کو دیتے ہیں اور جہادی وڈیوز دکھاتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی پر کاربند ہو جائیں۔ وہ ان نوجوانوں کو یہ بات کبھی نہیں بتاتے کہ خودکش حملہ کرنے سے وہ اسلامی طریقے سے تدفین اور نماز جنازہ کی رسومات کے پیدائشی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ وہ قرآن میں جنت میں جانے کی آیات کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں۔ شاہ نے جذباتی انداز میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے کہ خودکش حملے کرنے والے نوجوانوں کے خیال میں وہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں انہیں خدا کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں۔ خدائی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے خودکش بمبار بننے کا انتخاب کرنے والے افراد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ بھرتی کار نوجوانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے ہدف بنائے جانے والے افراد کو “کافر” قرار دیتے ہیں اور انہیں موت کی سزا سنانے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ تربیت کار اپنے لڑکوں کی گمشدگی پر غمگین خاندانوں کو بتاتے ہیں کہ وہ “شہید” ہو چکے ہیں۔
خودکش بمباروں کا شرمناک انجام
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ حادثات و ہنگامی صورت حال کے سربراہ ڈاکٹر شراق قیوم نے بتایا کہ حکام خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بننے والے افراد کی جسمانی باقیات کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی کارکن ڈی این اے کے ذریعے ناموں کی شناخت ہونے کے بعد پہلے دفنائے گئے افراد کو قبر سے نکال کر دوبارہ دفن کرتے ہیں۔ تاہم خودکش بمباروں کی جسمانی باقیات کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پورے پاکستان میں جاری رواج کے حوالے سے کہا کہ ہم خودکش بمباروں کی باقیات کو کبھی دفن نہیں کرتے، انہیں فورنزک معائنوں کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر قیوم نے کہا کہ خودکش بمبار جنازے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کی کارروائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خودکش بمباروں کی باقیات کی یہ توہین اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ پاکستان میں تو ایسے افراد کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو بیرون ملک انتقال کر گئے تھے اور ان کی لاشیں وطن واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ شبقدر کے رہائشی رحیم اللہ نے کہا کہ خودکش بمبار کا کردار اختیار کرنا اسلام چھوڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ رحیم اللہ کا 19 سالہ بیٹا قاری نقیب اللہ ایک خودکش بمبار تھا جس نے مارچ 2011 میں افغانستان کے شہر قندھار میں اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 10 فوجی جاں بحق ہو گئے تھے۔ چار سدہ کے علاقے سرخ ڈھیری کا رہائشی واحد اللہ جنوری 2008 میں لاپتہ ہو گیا۔ دو ماہ بعد طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس کے بزرگ والد جمعہ گل کو مطلع کیا کہ ان کا “شہید” بیٹا جنت میں چلا گیا ہے۔ والد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ایک دن علی الصبح طالبان نے جب مسجد میں داخل ہو کر مجھے یہ خبر سنائی تو پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میری ناپسندیدگی کے باوجود وہ مجھے مبارک بادیں دیتے رہے مگر میں اپنے بیٹے کے اس اقدام پر اب بھی لعنت ملامت کر رہا ہوں۔ واحد اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کا سوگ تنہا ہی منایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنا رحم دلی کی ایک اہم نشانی ہے جس کا اظہار نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں نے بھی کیا تھا مگر میں انتہائی بدقسمت ہوں کہ میرے اکلوتے بیٹے کی موت پر کسی شخص نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لوگ خودکش حملوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی نے بھی میرے ساتھ تعزیت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اموات والدین کے لئے تکلیف کا باعث ہیں اور انہیں بالکل یہ امید نہیں ہے کہ اللہ خود کو دھماکے سے اڑانے اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے بیٹوں پر کوئی رحم کرے گا۔ جمعہ گل نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آوروں کے لئے کوئی شخص بھی “اللہ اس پر رحمت نازل کرے” یا “اس کی روح کو سکون پہنچائے” جیسے رحم دلانہ الفاظ نہیں کہتا جس سے ان کے اہل خانہ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں خود کشی حرام ہونے کے باوجود وہ لوگ جو خود کشی کرتے ہیں رشتہ داروں سے رسم غسل، نماز جنازہ اور دفن ہوتے ہیں- لیکن خود کش بمبار جو دوسروں کو مارتے ہیں ان کو کویئ قبول نہي کرتا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رسومات کی تردید ہوتی ہے، شاہ نے کہا خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو تمام زندگی ایک اور دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے اور وہ ان کی قبر کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دوست رشتہ دار مغفرت کی دعا کرنے کے لئے نہیں جا سکتے

بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے ايران کے ساتھ تازہ ترين مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں۔ تبصرہ نگار کے مطابق يہ ايک سفارتی حل کے ليے اچھی علامت نہيں ہےبين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں نے ايک فوجی اڈے کے اندر واقع ايرانی ايٹمی تنصيب پارشين تک رسائی کے ليے دو روز تک کوشش کی ليکن تہران حکومت اس پر راضی نہ ہوئی۔اس نے کليدی دستاويزات کا معائنہ کرنے اور ايٹمی پروگرام ميں حصہ لينے والے سائنسدانوں سے بات چيت کرنے کی اجازت بھی نہيں دی۔ اس کے بعد ايٹمی توانائی ايجنسی کے سائنسدان اپنے مشن ميں ناکام ہو کر واپس آ گئے۔ ايرانی حکام کی طرف سے کہا گيا کہ بين الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بات چيت خوشگوار اور پراعتماد ماحول ميں ہوئی۔ ايک ناکام مشن کی اس سے زيادہ غلط تشريح ممکن نہيں تھی۔ چند ہفتوں کے اندر معائنہ کاروں کے دوسرے ناکام مشن کا مطلب اگلے ہفتوں اور مہينوں کے ليے اچھا نہيں ہے۔ خاص طور پر جب اسے سياق و سباق کے حوالے سے ديکھا جائے۔
ايک دوسرے کی اقتصادی ناکہ بندی
ايرانی حکومت مارچ کے پارليمانی انتخابات سے قبل ايک اور زيادہ سخت پاليسی پر مائل نظر آتی ہے۔ ايرانی وزارت تيل نے پچھلے ويک اينڈ پر ہی فرانس اور برطانيہ کو ايرانی تيل کی فراہمی فوراً بند کر دينے کا اعلان کر ديا تھا۔ دونوں ملکوں نے يورپی يونين کی طرف سے ايرانی تيل کی درآمد پر يکم جولائی سے عائد کی جانے والی پابندی کو خاص طور پر سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کيا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ايرانی بحريہ نے شام کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے ليے دو جہاز بحيرہء روم پہنچا ديے تھے۔ فوجی لحاظ سے يہ ايک غير اہم کارروائی ہے ليکن شام کی صورتحال کی وجہ سے يہ ايک سوچی سمجھی اشتعال انگيزی تھی۔ يورپی اور امريکی ايرانی تجارت ميں خلل ڈالنے کی کوششوں ميں اچھا خاصا آگے بڑھ چکے ہيں۔ ٹيلی کميونیکيشن سسٹم اوررقوم کی منتقلی کا زيادہ تر کاروبار انجام دينے والا ادارہ Swift ايرانی بينکوں سے روابط منقطع کرنے ميں مصروف معلوم ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں ايران کو ان ممالک سے بھی تجارت کرنے ميں شديد مشکلات پيش آئيں گی جنہوں نے ايران پر کوئی پابندی نہيں لگائی۔ ان ميں روس اور چين پيش پيش ہيں۔
اعتماد کے بجائے مخاصمت
درحقيقت فريقين نے آخر ميں نئے مذاکرات کے ليے کوششيں کی تھيں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ايرانی مذاکراتی قائد جليلی نے يورپی يونين کی امور خارجہ کی ذمہ دار کیتھرين ايشٹن کو ان کے اکتوبر 2011 کے مکتوب کا جواب ديا تھا اور ايران کے ايٹمی پروگرام پر بات چيت پر آمادگی کا اشارہ ديا تھا۔ ايشٹن نے اپنے خط ميں پرامن مقاصد کے ليے ايٹمی پروگرام کے ايرانی حق کو واضح طور پر تسليم کيا تھا اور اس طرح ايک سازگار فضا پيدا کردی تھی۔بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کار ايران ميں يہ جانچ پرکھ کرنا چاہتے تھے کہ کيا ایران کا ايٹمی پروگرام واقعی پرامن مقاصد کے ليے ہے، جيسا کہ ايران کا دعوٰی ہے۔ ليکن ايران نے تعاون اور اس طرح رفتہ رفتہ اعتماد کا ماحول پيدا کرنے کے بجائے سختی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختيار کيا۔ اس طرح مذاکرات پر زور دينے والے جرمنی جيسے ممالک بھی يہ تاثر حاصل کر رہے ہيں کہ ايران کے ليے مذاکرات کا واحد مقصد مزيد مہلت حاصل کرنا ہے، جس دوران اسرائيل ايرانی ايٹمی تنصيبات پر حملے سے گريز کرتا رہے اور ايران ايٹمی ہتھياروں کی تياری جاری رکھے۔
اسرائيلی عزائم کی حوصلہ افزائی
اقوام متحدہ کی ويٹو طاقتيں اور جرمنی اب ايران کی نئے مذاکرات کی پيشکش قبول کرنے پر غور کر رہے ہيں۔ بين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں کے حاليہ مشن کا مقصد يہ بھی آزمانا تھا کہ ايران اپنے ايٹمی پروگرام کے بارے ميں شکوک و شبہات دور کرنے کے ليے کس حد تک معائنے کی اضافی اجازتيں دينے پر تيار ہے۔ يہ آزمائش دوسری بار ناکام رہی ہے۔يہ سب کچھ اسرائيلی حکومت کے عزائم کے لیے اور تقويت کا باعث ہے، جو يہ سمجھتا ہے کہ ايران کو صرف فوجی طاقت کے ذريعے ہی ايٹم بم بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو اگلے ہفتے سياسی مذاکرات کے ليے واشنگٹن جا رہے ہيں۔ اب امريکی صدر کے ليے اسرائيل سے يہ کہنا اور بھی مشکل ہو گيا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

برطانیہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانی جو امریکہ کیلئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے، اس امریکی کانگریس میں کیلی فورنیا کے ڈینا روہراباکو کی طرف سے پہلے تو ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے تحت بلوچستان پر عوامی سماعت کرانے اور بعدازاں قرارداد پیش کرنے پر سخت صدمہ پہنچا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ جو ایک قوم ہیں، پاکستان افغانستان اور ایران میں منقسم ہیں ان کو اپنا حق خودارادیت اور علیحدہ ملک بنانے کا اختیار ملنا چاہئے، اگرچہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد حکومت کی پالیسی نہیں اور وہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، لیکن اہل نظر بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ہورہاہے، جو بیک وقت اس مسئلے کے ذریعے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنا نشانہ بنارہی ہے، بلوچستان اور خصوصاً گوادر کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی طور پر اہم مقام کی حامل ہے، میاں امریکہ نے اپنے مستقبل کے حریف چین کے اثر و نفوذ سے بھی نہایت خوفزدہ ہے اب وہ بلوچستان کو ایک آزاد ملک بنواکر یہاں اپنا اڈہ بنانے کا خواہاں ہے، چین کی پیش قدمی کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چین کے دوستوں کو کمزور کیاجائے اور اس کے دشمنوں کو مضبوط بنایاجائے، اس پالیسی کے تحت پاکستان کو توڑنے اور بھارت کو ہر قسم کی سہولیات مثلاً انرجی اور ہائی ٹیکنالوجی دے کر طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں، اسی پالیسی کے تحت امریکی دانشور پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، ان پیش گوئیوں کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اب یہ لوگ کسی ملک کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں اور وارننگ دی جارہی ہے کہ ہماری باتوں کو بلا چوں چراں تسلیم کرلیاجائے، بصورت دیگر ہم تمہارا یہ حشر بھی کرسکتے ہیں، اس سازش میں بھارت اور اسرائیل پوری طرح امریکہ کے ساتھ ہیں، بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یقیناً اس میں ہماری اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں بھی شامل ہیں، 58, 73, ء کی بغاوتوں کے اسباب کا سدباب نہ کیاگیا اور اب حال ہی میں سابق صدر مشرف نے قبر میں ٹانگیں لٹکائے اکبر بگٹی کو جس طرح ہلاک کیا، اس سے پاکستان دشمن قوتوں کو جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع ملا ہے، پاکستانسیٹو اورسینٹو میں صرف بھارت کے خوف اور جارحانہ ارادوں کے باعث شامل ہوا تھا، لیکن 65ء اور71ء کی جنگوں میں امریکہ کا جو کردار رہا، اس سے دوستی کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی، 9/11 کے بعد کی جنگ جو بیشتر حلقوں کے نزدیک پاکستان کے مفادات کے خلاف تھی، اس میں ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر زبردستی شامل ہونے پر مجبور کیاگیا، اس بارے میں دونوں ممالک کے مفادات مختلف تھے، جس پر دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ ناگزیر تھا، اب جب کہ امریکہ ایک طرح سے ناکام ہوکر اس علاقے سے واپسی تیاریوں میں مصروف ہیں، اپنا تمام ترغصہ پاکستان پر نکال رہاہے، مختلف طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وسیع تر آزاد بلوچستان کی آڑ میں ایران کو بھی نقصان پہنچانا چاہتاہے، ایرانی قوم کو امریکی چالوں کو عرصے دراز جانتی ہے اور امریکہ کو شیطان بزرگ کے نام سے پکارتی ہے وہ اسے دنیا کا پولیس مین نہیں بلکہ بدمعاش کہتے ہیں، امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم چلاکر بے تحاشا تباہی پھیلائی، بعد میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان اور دنیا کے دیگر کوئی ممالک میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اپنے حامی ڈکٹیٹروں کو تحفظ دیتا رہا اور مخالفین کی حکومتوں کو سی آئی اے کے ذریعے گرایا، اس کو بلوچستان کے عوام کا حق خودارادیت تو واضح طرز پر نظر آگیا ہے،مطالبہ اگرچہ بلوچستان کی جمہوری طور پر منتخب اسمبلی نے بھی نہیں کیا، امریکہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر راتو کو نیند نہیں آرہی، لیکن اس کو نہ تو ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ نظرآیا اور نہ ہی اسے فلسطین میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی کا علم ہے اور انسانی حقوق کی بات وہ ملک کررہاہے، جسکے فوجیوں نے حال ہی میں افغانستان میں مردہ افغانیوں کی لاشوں پر پیشاب کیا، عراق کی ابو غریب جیل میں عراقیوں پر کتے چھوڑے اور لاشوں کی بے حرمتی کی اور گوانتاناموبے میں جو کچھ کیا اس پر خود امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ماتم کررہی ہیں۔

کراچی: ٹی وی رپورٹ, جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“میں تجزیہ کرتے ہوئے میزبان نے کہا کہ خطے میں موجود صورتحال کے حوالے سے جمعرات کا دن نہایت اہم ہے، پاکستان کے قریب ترین ہمسایوں افغانستان اور ایران کے صدور پاکستان میں ہیں، احمدی نژاد نے صدر آصف زرداری سے پُرجوش مصافحہ کیا ہے ، امریکا ضرور ناراض ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر احمدی نژاد پہلی بار پاکستان کے سرکاری دورے پر موجودہ حکومت کے دور میں آئے ہیں۔ صدر آصف زرداری کی صدر احمدی نژاد کو پاکستان آنے کی دعوت دینا اور ان کے ساتھ بغلگیر ہونا اور انتہائی گرمجوشی سے مصافحہ کرنا پاکستان اور ایران کے قریبی تعلقات کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ اس پیشرفت پر مغربی قوتیں خاص طور پر امریکا ناراض ہوسکتا ہے اور پاکستان کا ایران کو گلے لگانا امریکا کو پسند نہیں آئے گا۔ امریکا آج کل ایران کو کنارے لگانے کی کوشش کررہا ہے، امریکا نے نہ صرف خود ایران پر پابندیاں لگائی ہیں بلکہ یورپی یونین سے بھی ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کا کہا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کو اس کے وسائل سے محروم کردیا جائے ، اسے کسی صورت بھی پسند نہیں آئے گا کہ دنیا کی کوئی قوت خاص طور پر پاکستان اس کے دشمن ایران کو گلے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ اپنے دور حکومت میں صدر آصف زرداری نے چار مرتبہ ایران کا دورہ کیا ہے اور اب ایران کے صدر احمدی نژاد پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ایران ، پاکستان اور افغانستان کی سیاسی اور فوجی قیادت جمع ہوئی ہے کہ اس خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کی پالیسی یکسا ں ہو۔ سینئر تجزیہ کار فرخ سلیم نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ایک تو سیاسی سطح کے تعلقات ہیں، دوسرے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے حوالے سے اور تیسرے اقتصادی تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر بہت سی پابندیاں لگائی جاچکی ہیں جن کی پابندی کرنا پاکستان پر لازم ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین ، آسٹریلیا، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، جاپان اور امریکا نے بھی ایران پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے اقتصادی تعلقات میں ایک سنگین قسم کا ادائیگی کا بحران پیدا ہوتا نظر آرہاہے، دنیا کی تاریخ کبھی اتنی سخت فائنانشل پابندیاں کسی ملک پر نہیں لگیں جتنی ایران پر لگائی گئی ہیں۔ فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے تقریباً 8بلین ڈالر کے قرضے چاہئیں لیکن دنیا کا کوئی بھی مالی ادارہ اس پائپ لائن کو فنڈ دینے کیلئے بالکل تیار نہیں ہے۔اب پاکستان کیلئے ایران سے اقتصادی تعلقات مزید بڑھانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان نے دس سے بارہ سال تک ایران کے خلاف پراکسی جنگ لڑی ہے، ایران شمالی اتحاد کا ساتھ دے رہا تھا اور ہم طالبان کا ساتھ دے رہے تھے۔

ہم ایک دور میں زندہ ہیں جو برائیوں سے اٹا ہوا ہے، جیسے پاکستان میں امریکہ اور نیٹو کے ڈرون حملے، سرحدی علاقوں میں فوجوں پر بمباری، اندرون ملک شہریوں، حساس تنصیبات پر خودکش بم دھماکے اور انتہا پسندی کو پھیلانے جیسے مغربی استعمار کے ہتھکنڈے، افغانستان، عراق، ایران اور شام میں امریکی و اسرائیلی استعمار اور اس کے حواریوں کی سربراہی میں لاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا ہے۔ اپنی سرزمینوں کی حفاظت مسلمانوں اور بالخصوص امریکی و اسرائیلی سازشوں کا ادراک رکھنے والے مجاہد مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے اپنے مال و دولت اور جان تک کو اپنے ملک کی حفاظت کیلئے نچھاور کرنے کیلئے ہر لمحہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہرگز اللہ تبارک تعالٰی کے احکامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے ہر ممکن ذرائع سے چاہے وہ مال و دولت ہو یا اپنی زندگی، اس مقدس سرزمین کی حفاظت میں نچھاور کر دینی چاہیے۔فرمان حضرت امام حسین ع ہے کہ یہ برائیوں کا زمانہ ہے اور حق کے پیروکار داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ خدا کے احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جن چیزوں سے منع کیا گیا تھا ان پر بخوشی عمل کیا جا رہا ہے۔ جنگ کو منافع بخش صنعت سمجھنے والے امریکی آقاؤں کی فرمائش پر بعض مصنوعی، جعلی سکالرز نے ایک مرتبہ پھر امریکہ کی سیاسی گلیوں و بازاروں میں یہ صدا لگانا شروع کر دی ہے کہ ایران پر پیشگی حملہ کر دیا جائے۔ “سرجیکل اسٹرائیک” کی حالیہ آواز امریکہ کی خارجی تعلقات کی کونسل سے تعلق رکھنے والے سکالرز میتھیو کروئنگ کی طرف سے آئی ہے جو فارن افیئرز میگزین میں اپنے لکھے گئے آرٹیکل “Time to Attac Iran ” میں جو دلائل کی کمی سے بھرپور ہے، میں اپنا موقف پیش کرتا ہے۔کروئنگ کہتا ہے کہ اب ایران پر فوری حملہ مشرق وسطٰی سمیت پوری دنیا کو صدام حسین جیسے خطرے سے باز رکھے گا اور اس کے نتیجے میں امریکہ کی قومی سلامتی کو بہتر کرنے میں بھی کردار ادا کرے گا۔ وہ کہتا ہے کہ سفارتکاری اور پابندیاں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہیں، کسی ملک کا نام نہ لیتے ہوئے اس نے الزام عائد کیا کہ خطے میں بہت سے ممالک امریکہ کو چھوڑ کر ایران کے اتحادی بننے لگے ہیں اور ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے ایٹمی پروگرام بھی شروع کر دیں، جس کے نتیجے میں خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی۔ اس نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر فوری حملے کی گھڑی سے فائدہ اُٹھا لینا چاہیے، اس سے قبل کہ ایران اپنے ایٹمی اثاثوں کو مزید محفوظ مقامات پر منتقل نہ کر دے۔ پس اگر امریکہ فوری حملے کا آپشن اختیار نہیں کرتا تو اس صورت میں وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے آخری موقع کے حق سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔  کسی بھی خطرے سے خالی سنجیدہ صورتحال کی موجودگی پر زور دیتے ہوئے کروئنگ خبردار کرتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا حامل ایران مشرق وسطٰی میں امریکہ کے آزادانہ نقل و حرکت کو فی الفور روک سکتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اسرائیل ایک ایٹمی اسلحہ رکھنے والا خطرناک ملک ہے۔ وہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو اس صورت میں وہ کبھی بھی پہلے حملہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گا لیکن اگر صیہونی ریاست نے ایران پر حملہ کیا تو اس کے نتیجے میں بحران ایک بے قابو مرغولے کی شکل اختیار کر لے گا اور امریکہ کو خطے میں لمبے عرصے کیلئے مزید ایک دلدل میں پھنسا دے گا۔  مختصراً کروئنگ یہ مشورہ دیتا ہے کہ ایک فوری ضروری، محتاط، منظم پیشگی امریکہ حملہ بہترین حل ہے جو امریکہ کو ایک مہنگی عسکری کارروائی سے بچا سکتا ہے جس کی مستقبل میں ایران کے ایک ایٹمی قوت بن جانے کے بعد امریکہ کو ضرورت ہے۔ مزید برآں فوری حملہ مشرق وسطٰی کو فضا میں تحلیل کر دینے کے اسرائیل کے ان یکطرفہ اقدامات کے اشارے جن کی پیشنگوئی ممکن نہیں، کے خلاف ایک ڈیٹرنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔   کروئنگ اپنے میدان جنگ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کے خلاف مزاحمتی حملہ، صرف ایران کے نیوکلیئر تنصیبات پر حملوں تک محدود رہے گا جو مختلف شہروں، اراک، نطنز اور تہران کے علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وہ ان بموں کے بارے میں بتلاتا ہے جو اس حملے میں استعمال کیے جائیں گے۔ امریکہ کے جنگی ہتھیاریوں میں 3ہزار پاؤنڈ (13608کلو) وزنی Massive Oronance Penetrator جو تباہ کن صلاحیتوں کا حامل ہے اور 200فٹ گہرائی تک کنکریٹ کی کسی بھی تعمیرات کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بھی شامل ہیں۔ مزید برآں وہ یقین دلاتا ہے کہ اگر واشنگٹن رات کو حملے کرے گا تو سویلین افراد کی ہلاکتوں کا امکان بہت ہی کم ہو گا اور حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت فوجی اہلکار، سیاستدان، انجینئر اور ایٹمی تنصیبات پر کام کرنے والے اسٹاف کے لوگ ہونگے۔ اہداف پر گائیڈڈ میزائل استعمال کرنے سے ایٹمی تنصیبات سے متصل عمارتوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ کروئنگ کے پیش نظر دو آپشنز ہیں، امریکہ کو ایران کے خلاف ابھی رسمی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دینا چاہیے یا دوسری صورت میں ایک ایٹمی ایران سے مستقبل میں تصادم کیلئے تیار رہے۔ تاہم اس کے مطابق امریکہ کیلئے معقول حل صرف ایک ہی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ابھی ایک فیصلہ کن حملہ کر دے اور اس بات کو یقینی بنا دے کہ ایران کا ایٹمی انفراسٹرکچر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ کروئنگ کے غلط نتائج اخذ کرنے کی بنیاد آئی اے ای کے بورڈ آف گورنرز کی نومبر 2011ء کو شائع ہونے والی وہ رپورٹ ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران، رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے فتویٰ کے بعد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا کام ترک کر چکا ہے۔ جس میں انہوں نے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو اسلامی نقطہ نظر سے خلافِ انسانیت قرار دیا تھا، رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2003ء سے اسلامی جمہوریہ کی پالیسی آئی اے ای سے مکمل تعاون پر مبنی ہے۔ 2003ء سے قبل ایران کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس پر آئی اے ای اے کا اظہار اطمینان بالکل واضح تھا۔ 2003ء کے آخر تک آئی اے ای اے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات پیدا کرنے کی اپنی اہلیت کا اظہار کرتی نظر آتی ہے۔ مختصراً کروئنگ ایران کے خلاف فوری حملے (سرجیکل سٹرائیک) کے اپنے موقف کی بنیاد 2003ء کے بعد ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایٹمی پروگرام سے متعلق عدم تعاون کے نتیجہ کو قرار دیتا ہے۔  دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایران پر حملے کے غیر منطقی، غیر منصفانہ اور غیر اخلاقی فیصلے کے پیچھے کون ہے؟ امریکی سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران کو کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ یہ ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے اور واضح طور پر اسرائیل کیلئے بھی ریڈ لائن ہے۔ نارمن پوڈورئز جونیو کنزرویٹو اور کمنٹری میگزین کے ایڈیٹر ہیں، قیاس آرائی کرتے ہیں کہ ایران اسلامی فاشسٹ نظریات کا مرکز ہے، جس سے ہم 9/11کے بعد سے لڑ رہے ہیں، ایران دہشتگردی جو اسلامک فاشزم کا مقبول ہتھیار ہے کا زبردست سپورٹر بھی ہے۔ علاوہ ازیں ایران جنگ عظیم چہارم کا نمایاں چہرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔  ایران کی ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں اسے تمام دنیا کیلئے بہت زیادہ خطرناک بنا سکتی ہیں۔ بش کے دور میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا بارکلے، 2003ء سے 2011ء تک امریکی سینٹ اٹارنی جنرل اور ٹورنٹو میمو نوشت کرنے والے جوہن پو لکھتے ہیں کہ اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے ایک بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کرنے میں ہچکچاہٹ کے باعث، دوسرے کئی جیسے ری پبلکن امیدوار کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام کو تباہ کرنے کیلئے فوجی حملہ کا کیس تیار کرنا شروع کر دینا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایٹمی ایران ایک اور ہولوکاسٹ کا پیش خیمہ ہو گا، اس نے مزید کہا کہ خطے میں دیگر طاقتوں کی طرح ایران ایک ایسی طاقت ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے۔ ایک ایٹمی ایران پورے مڈل ایسٹ اور تمام دنیا کیلئے ایک سنجیدہ خطرہ ہو گا اور یقیناً یہ ہمارے لیے ایک بالواسطہ اور سنگین خطرہ ہے۔   دوسر ے جعلی سکالرز جو ایران کا خوف اور اسلامو فوبیا کے شعلوں کو ہوا دینے میں مصروف ہیں، ان میں سنٹر فار سکیورٹی پالیسی کے فرنیک گریفن، سوسائٹی آف امریکنز فار نیشنل ایگزسٹنس کے ڈیوڈ یروشلمی، مڈل ایسٹ فورم کے ڈینئل پائپس، جہاد واچ اینڈ سٹاپ اسلامائزیشن آف امریکہ کے رابرٹ سپنسر، انویسٹی گیٹو پراجیکٹس آن ٹیررازم کے سٹیون ایمرسن، الٹرا رائٹ ونگ کریسچن، صیہونسٹ جان ہیگ فرام کریسچن یونائیٹڈ فار اسرائیل، کریسچن براڈ کاسٹنگ نیٹ ورک اینڈ دی سنٹر فار لاء اینڈ جسٹس پیٹ رابرٹسن، فیتھ اینڈ فریڈم کولیشن کے رالف ریڈ اور ربلی گرام، ایوینجلسٹک ایسوسی ایشن اور سمارٹنز پریس کے فرینکلن گراہم قابل ذکر ہیں۔   اس حقیقت سے ہر شخص آگاہ ہے کہ امریکہ کی نگاہیں صدیوں سے توانائی کے ذخائر سے مالا مال خلیج فارس کے علاقے پر گڑی ہوئی ہیں، لیکن ایران پر حملے کی کال اس موقع پر کیوں دی جا رہی ہے؟ جبکہ جنگ کے خواہشمند صرف اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا لے گا، اس لیے اس پر پیشگی حملہ کر دیا جائے۔ درحقیقت حالیہ ہیجان کے پیچھے سچائی اور وہ وجہ جس کا واضح اظہار نہیں کیا جا رہا یہ ہے کہ صیہونی مکمل طور پر اس بات کو محسوس کر رہے ہیں کہ دنیائے عالم کی ان کے بارے میں رائے تیزی سے تبدیل ہوتی جا رہی ہے تبھی وہ بڑی قوتوں کو ایران کے خلاف فوجی حملے کی طرف دھکیل رہے ہیں، تاکہ دنیا کی انکے بارے میں بدلتی رائے کے مسئلے پر توجہ ہٹائی جاسکے۔   امریکی معیشت ابتری کی حالت میں ہے اور فوجی بجٹ خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کی وجہ سے پنٹاگون بھی کٹوتیوں کی زد میں ہے۔ ان حالات میں مستقبل میں ایران کے خلاف مہم جوئی ناپسندیدہ عمل تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں الیکشن کے سال میں ایک جنگ کا آغاز امریکی معیشت کی بری صورتحال اور سماجی مسائل جو امریکہ میں طاعون کی وبا کی طرح پھیل رہے ہیں سے ووٹرز کی توجہ ہٹانے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایک اور نقطہ جس کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری اس بات پر کیوں شور نہیں مچا رہی کہ صیہونی ریاست اسرائیل اپنے ایٹمی ہتھیاروں اور ذخیروں کو ظاہر کرے اور انہیں آئی اے ای اے کے سامنے معائنے کیلئے پیش کرے۔ ایک اندازے کے مطابق اسرائیل کے پاس 200 سے 300 ایٹمی ہتھیار ہیں اور یہ ناجائز ریاست خطے میں جارحیت کے ارتکاب کی ایک تاریخ رکھتی ہے۔ اس ریاست نے 1981ء میں عراق کے نیوکلیئر ری ایکٹر اوسراک پر حملہ کیا، 1967ء، 1997ء، اور 2007ء میں شام، 1985، 1988ء میں تیونس، 1978، 1982اور 1993ء میں لبنان اور ماضی قریب میں 2006ء میں جنوبی لبنان۔ 2000 ، 2009 اور 2011ء میں فلسطین کے علاقے غزہ پر حملے کیے۔ دوسری طرف ایران نے خطے میں کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا۔ پس کیوں ہر وقت جنگ پر آمادہ صیہونی ریاست اسرائیل کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے، لیکن کبھی نہ مشتعل ہونے والا ایران پر صرف اس لیے حملہ کر دیا جائے کیونکہ وہ ایٹمی پروگرام حاصل کرنے کی صرف جستجو کر رہا ہے۔  یقیناً اسلام اجتماعی اور انفرادی طور پر اسلحہ رکھنے اور قوموں کو دفاع کا حق فراہم کرتا ہے، تاکہ ہم اپنے علاقے، حقوق اور وقار کا تحفظ کر سکیں، تاہم اسلام مسلمانوں کو کبھی اس چیز کی اجازت نہیں دیتا کہ محض ایسی جنگ میں الجھا جائے جو فقط قیاس آرائیوں اور غیر مقبول الزامات پر استوار کی گئی ہو۔ اسلامی سکالر احمد لکھتے ہیں کہ اسلام میں پیشگی جنگ کے نظریئے کا کوئی تصور موجود نہیں۔ پیشگی حملے کا تصور یا نظریہ بے دین اور ملحدوں کا ہے، جو ہمیشہ عقب سے یا کسی اشتعال انگیزی کے بغیر حملہ کر دیتے تھے۔   مغرب اور اس کے اتحادی ایران کو دھمکانے اور مسلمانوں کو دہشتگرد کہہ کر بدنام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ اسلام ان کے جنگوں کے لامتناہی سلسلے، قبضے اور خون آشامی کے ایجنڈے کے مدمقابل جہاد کا نظریہ پیش کرتا ہے۔ بنیادی طور پر جہاد انسانی اقدار کے فروغ کے راستے پر اچھائیوں کی تبلیغ اور برائیوں کے خاتمے کی کوششوں کا نام ہے۔ جہاد کی پابندی کرتے ہوئے مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ وہ کسی بھی ملک کو اپنے قدرتی وسائل پر قبضہ نہیں کرنے دیں گے کیونکہ یہ وسائل اللہ تعالٰی نے انہیں عطا کیے تاکہ تمام انسانیت اس سے استفادہ کرے۔ ہم ایک دور میں زندہ ہیں جو برائیوں سے اٹا ہوا ہے، جیسے پاکستان میں امریکہ اور نیٹو کے ڈرون حملے، سرحدی علاقوں میں فوجوں پر بمباری، اندرون ملک شہریوں، حساس تنصیبات پر خودکش بم دھماکے اور انتہا پسندی کو پھیلانے جیسے مغربی استعمار کے ہتھکنڈے، افغانستان، عراق، ایران اور شام میں امریکی و اسرائیلی استعمار اور اس کے حواریوں کی سربراہی میں لاکھوں مسلمانوں کو خاک و خون میں غلطاں کر دیا گیا ہے۔ اپنی سرزمینوں کی حفاظت مسلمانوں اور بالخصوص امریکی و اسرائیلی سازشوں کا ادراک رکھنے والے مجاہد مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے اپنے مال و دولت اور جان تک کو اپنے ملک کی حفاظت کیلئے نچھاور کرنے کیلئے ہر لمحہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہرگز اللہ تبارک تعالٰی کے احکامات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اپنی سرزمین کا دفاع کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے، اس کیلئے ہر ممکن ذرائع سے چاہے وہ مال و دولت ہو یا اپنی زندگی، اس مقدس سرزمین کی حفاظت میں نچھاور کر دینی چاہیے۔ تحریر: زاہد مرتضٰی

یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) جو اولمپک کے مقابلوں کے لیے فٹبال کے کھیل کی گورنر باڈی ہے، نے کھیل کے میدان میں سر پر حجاب رکھنے کی وجہ سے اردن، فلسطین اور بحرین کی خواتین کھلاڑیوں پر اس بنا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ادارہ ایرانی خواتین پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت ساری نوجوان باصلاحیت مسلمان لڑکیاں عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے سے محروم رہ جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ لڑکیاں اس انداز سے سر پر اسکارف باندھ کر کھیلتی ہیں کہ جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوتا اور نہ کھیل میں انھیں دقت یا مشکل پیش آتی ہے۔  قبل ازیں مسلمان خواتین پر حجاب کے حوالے سے مختلف نوعیت کی پابندیاں مختلف ملکوں میں عائد کی جا چکی ہیں۔ بعض ممالک میں انھیں سرکاری ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سے باحجاب خواتین پر روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں نے پابندی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی طالبہ سر پر حجاب پہن کر کالج یا سکول میں نہیں آ سکتی۔ ایسے اقدامات ان مسلمان لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہیں جو اپنے مذہبی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حجاب کے خلاف مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے یہاں تک نفرت انگیز فضا ہموار کی ہے کہ 2009ء میں جرمنی کی ایک عدالت میں ایک مصری خاتون مروہ الشربینی کو فقط حجاب پہننے کے جرم میں ایک جرمن شدت پسند نے قتل کر دیا تھا، جسے عالم اسلام میں شہیدہ حجاب کا نام دیا گیا ہے۔  یوں معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں تمام تر دینی اور مذہبی علامتوں اور اقدار کے خلاف ایک شعوری تہذیبی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ اب مسلمان خواتین پر کھیل کے دروازے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ اردن کی ایک کھلاڑی راہاف اویس نے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن میں ایک فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُس کی اس اپیل پر اگر عالمی بیداری پیدا نہ ہوئی تو صدا بہ صحرا ثابت ہو گی کیونکہ یہ فیصلے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے مسلمان کھلاڑی لڑکیوں پر یہ پابندی عائد کی ہے، اُن کا ایجنڈا عالمی اور تہذیبی ہے۔  مسلمانوں کے خلاف مختلف توہین آمیز، اذیت ناک اور سماجی و اقتصادی مقاطعے کے حوالے سے جو اقدامات عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں، اگرچہ وہ حکمران طبقوں کی طرف سے ہیں اور پراپیگنڈہ کی عالمی قوت سے متاثر افراد ان کے حامی بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ مشرق و مغرب کے تمام غیر مسلم ان اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے عیسائی اور یہودی راہنماﺅں نے مساجد کے میناروں کی تعمیر کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں کیے جانے والے اقدامات کے خلاف بیانات دیئے تھے۔  ایسے عیسائی اور یہودی راہنما بھی موجود ہیں جنھوں نے قرآن حکیم کو نذرآتش (نعوذباللہ) کے سنگین اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔ حجاب پر پابندیوں کے فیصلوں کی مخالفت کرنے میں بھی کئی غیر مسلم راہنما نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حامی امریکہ کے کئی اداروں اور کارکنوں نے واشنگٹن میں زیرو گراﺅنڈ کے پاس مسجد کی تعمیر کے مسلمانوں کے مطالبے کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔ اس وقت یہی صورتحال ہمیں کھیلوں کی دنیا میں باحجاب خواتین پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے ضمن میں بھی دکھائی دیتی ہے۔  خواتین کی کھیلوں کی مختلف انجمنوں نے مسلمان خواتین پر حجاب پہن کر کھیلنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہن کر کھیلنے کی اجازت دی جائے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی پابندی عائد نہ کی جائے۔ ان تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک امتیازی فیصلہ قرار دیا ہے۔ بعض خواتین نے اس فیصلے کی بنیاد اسلامو فوبیا کو قرار دیا ہے۔ جن خواتین ٹیموں کی کپتانوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے ان میں اٹھارہ ممالک کی ٹیمیں اب تک شامل ہو چکی ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ پر change.org نامی سائٹ پر اس حوالے سے متعدد پٹیشنز موجود ہیں جن کی عالمی سطح پر حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مضمون کے لکھتے وقت اب تک 15 ہزار سے زیادہ افراد اس کی حمایت اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی فیصلے کی مخالفت میں اپنی رائے دے چکے ہیں۔  یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔  البتہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب میں مختلف ادیان و مذاہب میں ایک وسیع حلقہ اس منافقت کی حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ عالمی سطح پر موجود بیداری اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرازم کے نعروں کی اوٹ میں انسانی وسائل پر قبضہ جمانے اور عالمی سلطنت قائم کرنے کی مکروہ خواہشیں اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پسماندہ اور محروم عوام نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے حصول کے لیے عزم کر لیا ہے۔ اب اس طرح کی پابندیاں تار عنکبوت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔تحریر: ثاقب اکبر

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا تاریخ اسلام کےحوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوروجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پرحضرت آدم (ع) کی خلقت سے ۹لاکھ برس پہلے  ہوئی اوردوسری روایت کے مطابق۴۔ ۵لاکھ سال قبل ہوئی تھی، آنحضور (ص) کا نور اقدس اصلاب طاہرہ، اور ارحام مطہرہ میں ہوتا ہواجب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچاتوآپ کاظہوروشہود انسانی شکل میں بطن جناب ” آمنہ بنت وہب” سے مکہ معظمہ میں ظاہرہوا۔ آنحضور (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا۔ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ھ کی روایت کے مطابق شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے پوری دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ دنیاکے تمام بتکدےاوردیگر غیراللہ کی عبادت گاہیں منہدم ہوگئییں، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورا بجھ گئی۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا پیکر بنا کر بھیجا وہ کائنات کے لئےرحمۃ للعالمین اور عباداللہ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں آنحضور نے بشریت کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت مشقتیں اور سختیاں برداشت کیں اور انھوں نے اپنے عمل کے ذریعہ عرب کے جاہل ماحول میں انسانیت کی شمعیں روشن کیں اور دشمنوں سے اپنی صداقت اور امانت کا لوہا منوایا اور معاشرے میں صبر و استقامت اور اخلاق و نیکی کے پھول لگائے۔ پیغمبر اکر کی سیرت آج بھی مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء سے ملاقات میں فرمایا: امت اسلامی کو اتحاد و یکجہتی کی سخت ضرورت ہے اورایرانی عوام نے حضرت امام خمینی (رہ) کی راہ پرگامزن رہ کر اپنے عزم و ارادے کو دشمن پر غالب بنادیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء نے آج صبح رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع)کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور اس دن کو طول تاریخ میں انسانیت کی سب سے بڑي عید قراردیتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص) کی عظیم شخصیت اور ان کے وجود مبارک کے مختلف پہلوؤں سے سبق حاصل کرنے کے ذریعہ امت اسلامی حقیقی عزت ، عظمت ، کرامت اورمعنوی و مادی سعادت  تک پہنچ سکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) کو علم ، امانتداری، عدالت و انصاف ، اخلاق حسنہ، رحمت اور اللہ تعالی کے وعدوں پر اطمینان کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: بشریت اپنی زندگی میں تمام مادی پیشرفتوں اور تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ طول تاریخ میں ان اعلی اقدار اور صفات کے پیچھے رہی ہےاور آج امت اسلامی کو ان خصوصیات کی دوسروں سے بہت زيادہ ضرورت ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان ایکدوسرے کے ساتھ  صبر و تحمل اور برادرانہ رفتار پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور اطمینان امت اسلامی کے لئے آج ایک اور ضرورت ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ دباؤ کے مقابلے میں مجاہدت ، تلاش و کوشش ، استقامت اور اسی طرح دنیاوی شہوات اور مال و مقام کے مقابلے میں پائداری کے ذریعہ انسان  ہدف اور مقصد تک پہنچتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام (ص)کی مدینہ میں دس سالہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ اس حکومت کی عمر مختصر تھی لیکن اس کی ایسی بنیاد رکھی گئی جو طویل صدیوں سے بشریت کی مادی و معنوی  ترقی و پیشرفت اور علم و تمدن کے لئے بلند اور روشن مینار رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد و یکجہتی کو امت اسلامی کی ایک اور اہم ضرورت قراردیا اور علاقہ میں عوامی انقلاب اور قوموں کی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں جاری انقلابات ،حالات اور اسی طرح امریکہ کی مسلسل پسپائی ،عقب نشینی اور اسرائيل کی غاصب حکومت کی روز افزوں کمزوری امت اسلامی کے لئے بہترین موقع ہے اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالی کے لطف و کرم ،امت اسلامی کی ہمت،، ممتاز علمی ماہرین ، سیاسی اور دینی شخصیات کے تعاون سے یہ تحریک جاری رہےگی اور امت اسلامی اپنی عزت و عظمت کی بلندی تک ایک بار پھر پہنچ جائےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادف (ع) کی ولادت باسعادت اور انقلاب اسلامی کے تقارن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ انقلاب، پیغمبر اسلام (ص) کی تاریخ میں عظیم حرکت کے ثمرات میں سے ہے اور انقلاب اسلامی در حقیقت اسلام کے لئے حیات نو ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس دور میں تسلط پسند طاقتیں یہ تصور کرتی تھیں کہ انھوں نے اپنے تسلط سے اسلام اور معنویت کی پیشرفت کی تمام راہیں ختم کردیں  ہیں  تو اچانک و ناگہاں  انقلاب اسلامی کی تاریخی  ، پائدار اور عظيم صدا بلند ہوئی جس کی وجہ سے دشمن وحشت میں پڑ گئے اور آگاہ و بابصیرت انسانوں اور دوستوں کی امیدوں میں اضآفہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی آواز کو خاموش کرنے کے لئےتسلط پسند اور سامراجی طاقتوں کی پیچیدہ اور مختلف سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  دشمن کی تمام سازشوں اور دباؤ کے باوجود، امام خمینی (رہ) کی رہبری کی برکت اور ایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے انقلاب اسلامی باقی رہا، انقلاب کو فروغ ملا اور انقلاب کی طاقت و قدرت میں روز افزوں اضافہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کے معین کردہ اہداف کی جانب انقلاب کی مستمر حرکت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم حضرت امام (رہ) کی راہ پر وفاداری ، استقامت اور مشکلات کو برداشت کرکے اپنے عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن  کی سازش پر غالب ہوگئی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کے روز افزوں فروغ اور استحکام کو اسلام اور پیغمبر اسلام (ص)کی عظیم حرکت کا ثمرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: گذشتہ 33 برسوں میں ایرانی قوم کی جد وجہد، تلاش و کوشش ، تحرک، استقامت اور مجاہدت ایک گرانقدر تجربہ اور عبرت ہےجو امت اسلامی اور قوموں کی نگآہوں کے سامنے ایک بورڈ کے مانند ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں صدر احمدی نژاد نےاپنے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور تاریخ میں تمام حریت پسند تحریکوں اور اصلاح پسند حرکتوں منجملہ انقلاب اسلامی کو  اللہ تعالی کے انبیاء (ع) بالخصوص خآتم النبیین (ص) کی عظيم  تحریک کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام (ص) توحید کا علم بلند کرنے، حقیقی اقدار کی ترویج، ظلم و جور ، جہل اوربرائیوں کو دور کرنے،اور اخلاق و عدالت کی حاکمیت قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور انقلاب اسلامی ایران در حقیقت اسی حرکت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے علاقہ میں جاری حالیہ تحریکوں کو بھی پیغمبر اسلام (ص) کی عظيم تحریک کی کڑي قراردیتے ہوئے کہا:  علاقہ کے حالیہ حالات سرعت کے ساتھ ایک عظيم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوجائیں گے،جس کی بدولت دنیا پر توحید کی حکومت قائم ہوجائے گی اور دنیا ،ظالموں اور صہیوینوں کے شر اور مصیبت سے محفوظ ہوجائےگی ۔ اس ملاقات کے اختتام میں 25ویں عالمی وحدت کانفرنس کے غیر ملکی مہمانوں  نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ قریب سے گفتگو اور ملاقات کی۔

مبصرین خانپور واقعہ کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور سرپرستی کو قرار دیتے ہیں۔ سٹی تھانہ خانپور میں ملک اسحاق سمیت سولہ افراد پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ گڈگورننس کا راگ الاپنے والی پنجاب حکومت، ملک اسحاق کو کیسے گرفتار کرتی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر ملک اسحاق کو گرفتار نہ کیا گیا اور اس پر مقدمہ نہ چلایا گیا تو یہ تاثر ملت تشیع میں زور پکڑے گا کہ اُن کا ناحق خون بہانے میں پنجاب حکومت برابر کی شریک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلٰی، جو اپنے آپ کو خادم اعلٰی پنجاب کہتے ہیں، وہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔زمین سخت ہے اور آسمان بھی دور، انسان جائے بھی تو کہاں؟ ہر روز ایک نئی داستان رقم ہو رہی ہے اور آنے والا ہر دن کئی گھروں کے چراغ گل ہونے کی خبر دے رہا ہے، کہیں بم دھماکے ہوتے ہیں تو کہیں ٹارگٹ کلنگ، کوئی اغوا ہو رہا ہے تو کسی کو فقط اس جرم کی پاداش میں موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے کہ اس کے نام کیساتھ لفظ علی، حسن یا حسین آتا ہے اور شائد اس سے بڑھ کر یہ جرم ہے کہ ان کے آباو اجداد نے اس ملک کی خاطر اتنی بڑی قربانیاں دیں، کسی کی باری لگ گئی ہے تو کوئی اگلے نشانے پر ہے، اس ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں، حکمرانوں کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے، وہ تو فقط اپنی حکومت کے پانچ سال مکمل کرنے کیلئے تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں، بھلے ملک میں خون کی ہولی کھیلی جاتی رہے۔ جب کبھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کو طالبان اور دہشتگردی کا نام دیکر اگلے واقعہ کا انتظار کیا جاتا ہے، خون اتنا ارزاں ہے کہ جب اور جہاں جس فرقہ پرست کو موقعہ ملتا ہے وہ اپنا کام کر دکھاتا ہے۔سانحہ مستونگ میں چھبیس شہداء کا واقعہ ہو یا سانحہ اختر آباد، آج تک عوام یہ خبر سننے کو ترس گئے ہیں کہ واقعہ کے اصل محرکات کیا تھے۔؟ کس نے مجرموں کو پناہ دی اور کس نے لاجسٹک سپورٹ فراہم کی، آج تک کسی کو پتہ نہیں چل سکا، یہاں مجرموں کی گرفتاری تو دور کی بات ہے ایف آئی آر تک درج نہیں کی جاتی، پاسبان جعفریہ کے سربراہ عسکری رضا کی شہادت اور ملزموں کیخلاف جس انداز میں ایف آئی آر درج ہوئی وہ پوری قوم جانتی ہے، بلوچستان ہائی کورٹ نے سانحہ مستونگ کا ازخود نوٹس لیا، لیکن تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی، اس کی وجہ کیا ہے؟ کسی کو معلوم نہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ عوام کا عدالتوں سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور دہشتگرد پراعتماد ہوتے جا رہے ہیں، کیونکہ ان کے دھمکانے سے جج اپنے فیصلے فوراً تبدیل کر لیتے ہیں، مستبقل میں حالات مزید خراب ہونگے، سانحہ خانپور انہی واقعات کا تسلسل ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں کو ٹھیک ہونے میں مزید چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امام بارگاہ دربار حسین ع سے چہلم امام حسین علیہ السلام کا جلوس برآمد ہوا اور ابھی چند فرلانگ کے فاصلہ پر پہنچا ہی تھا کہ کھمبے کیساتھ بوسیدہ قرآنی اوراق اور مقدس کاغذات کے ڈبے میں نصب کیا گیا بم پھٹ گیا۔ اس واقعہ میں سب سے زیادہ شہادتیں بستی حاجن سے تعلق رکھنی والی بلوچ فیملی کی ہوئیں، جن کے گیارہ افراد شہید ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، بستی حاجن کا نام تبدیل کر کے اب بستی شہداء رکھ دیا گیا ہے۔ جب اس بستی کا نام ذہن میں آتا ہے تو بے ساختہ آنکھوں سے اشک رواں ہو جاتے ہیں۔اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوئے مناظر کو قرطاس پر اُتارنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ میں نے یہ مناظر اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھے ہیں کہ شہداء کے ورثاء شدت غم سے نڈھال تھے، اکثر لوگوں کی آنکھیں رو رو کر پتھرا گئی تھیں، کہیں سے آواز آ رہی تھی کہ ہم نے اپنا بیٹا حضرت علی اکبر ع کے صدقے میں دیا ہے، کہیں سے صدائیں آ رہی تھیں کہ اے میرے بچے جا تجھے ہم نے علی قاسم ع کے صدقے میں دے دیا، کوئی ماں کہہ رہی تھی اے فاطمہ الزہرہ سلام اللہ علیہا مجھ سے راضی ہو جانا میں نے اپنے دو جوان بیٹے تیرے حسین ع کے صدقے میں قربان کر دئیے ہیں۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لیاقت پور، ظاہر پیر، رکن پور، اوچ شریف، احمد پور شرقیہ، بہاولپور، ملتان، مظفر گڑھ، علی پور، سیت پور، صادق آباد سمیت لاہور، اسلام آباد سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جنازے میں شرکت کیلئے پہنچ گئے۔ اکثر لوگ ذہنی طور پر آمادہ ہو کر آئے تھے کہ وہ مطالبات کی منظوری تک وہاں دھرنا دیں گے اور جس طرح پاسبان جعفریہ کے سربراہ عسکری رضا شہید کے نامزد ملزم اورنگ زیب فاروقی کے خلاف پچاس ہزار سے زائد لوگوں نے گورنر ہاؤس کراچی کے سامنے احتجاجی دھرنا دیکر اپنے مطالبات منظور کرا لئے تھے وہ بھی عزت کا راستہ اپناتے ہوئے خانپور تھانہ صدر کے باہر نئی تاریخ رقم کریں گے اور دنیا کو بتا دیں گے کہ تشیع کا خون اتنا ارزاں نہیں، مگر اُن کی یہ سب تدبیریں کارآمد ثابت نہ ہوئیںپنجاب پولیس کی لاپرواہی اور غفلت کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خانپور میں جیسے ہی بم بلاسٹ ہوا تو ایس ایچ او اظہر خان نے آر پی او بہاولپور کو بتایا کہ دھماکہ ٹرانسفارمر پھٹ جانے کا نتیجہ ہے، جس کے باعث آر پی او بہاولپور نے فوراً میڈیا پر بیان داغ دیا کہ یہ واقعہ ٹرانسفارمر کے پھٹنے سے ہوا ہے۔ ایس ایچ او نے غلط بیانی کی، مگر یہ بات حیران کن ہے کہ دوسرا برآمد ہونے والا بم جسے ناکارہ بنایا گیا وہ ٹرانسفارمر والی جگہ سے ہی برآمد ہوا، اسے اتفاق کہیں یا پھر یہ کہیں کہ اس واقعہ میں ایس ایچ او ملوث ہے۔ خانپور کے اکثر مومینین اسے محض اتفاق قرار دیتے پر تیار نہیں۔  ایم ڈبلیو ایم ضلع رحیم یار خان کے سیکرٹری جنرل اصغر تقی سے اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے اس سانحہ کی ذمہ داری کالعدم دہشتگرد تنظیم لشکر جھنگوی کے رہنماء ملک اسحاق پر عائد کی، اسی طرح شیعہ علماء کونسل کے ضلعی رہنما مولانا ضمیر حسین بھی اس واقعہ میں ملک اسحاق کے ساتھ ساتھ پنجاب حکومت کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک اسحاق ضلع رحیم یار کے علاقے ٹرنڈا سوئے خان سے تعلق رکھتا ہے جو تحصیل خانپور سے فقط بیس سے پچیس کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ ملک اسحاق کی رہائی کے بعد خانپور میں ایک ریلی بھی نکالی گئی تھی، جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد اکھٹے ہوئے، اس ریلی میں ملک اسحاق کا استقبال کیا گیا اور شہر میں باقاعدہ تقریر کا اہتمام کیا گیا، جس میں آن ریکارڈ شیعہ کافر کے نعرے لگائے گئے اور ملک اسحاق کی تمام تقریر ملت تشیع کے خلاف تھی۔  ملک اسحاق نے ایک بار نہیں، بلکہ کئی مرتبہ اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پہلے والا کام کرے گا، دنیا جانتی ہے کہ وہ پہلے کیا کام کرتا تھا، اس ساری صورتحال کے پیش نظر ضلع رحیم یار خان کی مختلف شخصیات نے ڈی پی او رحیم یار خان کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا کہ ملک اسحاق اس علاقے کیلئے خطرہ ہے، لہٰذا اس دہشتگرد کو پابند سلاسل کیا جائے۔ ملک اسحاق نے رہائی کے فوراً بعد ہی مختلف علاقوں میں دورے شروع کر دئیے تھے، جس میں علی پور گھلواں کا دورہ بھی شامل ہے، جس کے بعد اس دہشتگرد کو نظر بند کر دیا گیا اور لاہور ہائیکورٹ نے دوبارہ نظر بندی کے ختم کرنے کے احکامات جاری کئے، اس وقت ملک اسحاق آزادانہ نقل و حرکت کر رہا ہے۔   واضح رہے کہ ضلع رحیم یار خان میں تریسٹھ برسوں میں اس طرح کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ مبصرین خانپور  واقعہ کی بڑی وجہ پنجاب حکومت کے کالعدم تنظیموں سے رابطوں اور سرپرستی کو قرار دیتے ہیں۔ سٹی تھانہ خانپور میں ملک اسحاق سمیت سولہ افراد پر مقدمہ درج ہو چکا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ گڈگورننس کا راگ الاپنے والی پنجاب حکومت، ملک اسحاق کو کیسے گرفتار کرتی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اگر ملک اسحاق کو گرفتار نہ کیا گیا اور اس پر مقدمہ نہ چلایا گیا تو یہ تاثر ملت تشیع میں زور پکڑے گا کہ اُن کا ناحق خون بہانے میں پنجاب حکومت برابر کی شریک ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلٰی، جو اپنے آپ کو خادم اعلٰی پنجاب کہتے ہیں، وہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلئے کیا اقدامات کرتے ہیں۔….تحریر: نادر بلوچ

مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائےخطے میں ایک سال قبل جنم لینے والی اسلامی بیداری کی لہر نے امریکہ کے پٹھو حکمرانوں کو سرنگونی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کے سامنے نئے پیدا ہونے والے سیاسی حالات کے مدنظر دو راستے موجود تھے۔ ایک یہ کہ خاموشی سے بیٹھ کر اپنے پٹھووں کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کا تماشا کرتے رہے اور دوسرا یہ کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان حالات کا مقابلہ کرے اور اپنی پوری کوشش کرے کہ مغرب کے بنیادی اصول یعنی خطے سے سستی انرجی کی ترسیل اور اسرائیل کی قومی سلامتی کی یقین دہانی کو محفوظ بنا سکے۔ اس بیداری کی لہر میں عوام ایسے ڈکٹیٹرز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جنہیں امریکہ نے ان پر زبردستی ٹھونس رکھا تھا۔ ان آمر حکمرانوں کی سرنگونی کا منطقی نتیجہ انقلابی ممالک سے امریکی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ چاہتا ہے کہ وہ سیاسی حالات کو ایسے رخ میں لے جائے کہ اسکے مفادات کو کم از کم نقصان پہنچے۔  آج اگر اسرائیلی تھنک ٹینکس سے یہ سوال پوچھا جائے کہ شام میں بدامنی کیوں پھیلا رہے ہیں تو انکی جانب سے دو جواب سامنے آئیں گے۔ پہلا جواب یہ کہ شام پر دباو ڈالنے کا مقصد اسلامی مزاحمت کے مرکز ایران سے مقابلہ کرنا ہے۔ اور دوسرا جواب یہ کہ مغربی مفادات کے حصول کیلئے انہیں چاہئے کہ وہ براہ راست ایران کو اپنے حملے کا نشانہ بنائیں تاکہ خطے میں اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
امریکہ کئی عشروں سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ خطے میں اسکی حامی قوتوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہم اس جنگ میں کم از کم اخراجات کے ذریعے اپنے اھداف کو حاصل کر سکیں۔  شام میں صدر بشار اسد کی سرنگونی مغربی دنیا کی آرزو ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل شام میں سرگرم عمل ہے تاکہ اس طریقے سے ایران کو آسانی سے شکست دے سکے۔ بین الاقوامی امن فوجی کی موجودگی کے باوجود حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔  بعض ماہرین کے نزدیک شام میں مغربی قوتوں کی مداخلت ایک بڑے ھدف کا مقدمہ ہے جسکے ذریعے وہ حقیقی خودمختار اور جہادی اسلام کے مقابلے میں امریکی اسلام متعارف کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔  پہلا نظریہ رکھنے والے ماہرین شام کو ایران سے مربوط مسائل کے ضمن میں دیکھتے ہیں جبکہ دوسرے نظریئے کے حامل ماہرین کی نگاہ زیادہ جامع ہے اور وہ اس بات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایک تیر میں دو شکار کئے جائیں اور ایران کا مسئلہ بھی حل ہو جائے اور خطے میں اسلامی بیداری کی لہر پر بھی قابو پا لیا جائے۔ انکا خیال ہے کہ ایران کو خطے میں اسلامی بیداری کی امواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے جسکے نتیجے میں خطے سے امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے یا کمی کو ایران کی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔  مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائے۔ یہ منصوبہ شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور اس سازش کا مرکز اسرائیل ہے۔  شام میں مغربی قوتوں کے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور خانہ جنگی بھی بند گلی سے روبرو ہو گئی۔ شام کی فوج میں بھی وہ تفرقہ نہیں ڈال سکے۔ لہذا انکے پاس واحد راستہ مذہبی جنگ کا آغاز کروانا ہے۔
شام سے مختلف رپورٹس کی روشنی میں اب تک پانچ ہزار افراد قتل کئے جا چکے ہیں جن میں تین ہزار عام شہری جبکہ دو ہزار فوجی شامل ہیں۔ قتل کئے جانے والے افراد میں سات سو ایسے شیعہ افراد بھی شامل ہیں جنکا لڑائی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں مذہبی فسادات پھیلائے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔  حزب اللہ لبنان کی طاقت اب تک شام میں مذہبی فسادات شروع نہ ہونے کا باعث بنی ہے۔ مغربی قوتوں کے پاس شام کی حکومت کو سرنگون کرنے کا واحد راستہ وہاں پر مذہبی فسادات شروع کروانا تھا جبکہ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ کہیں حزب اللہ لبنان اپنی توانائی اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے لبنان سے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت پسند افراد کو شام بھیجنے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں شیعہ تنظیمیں ان مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور جانتی ہیں کہ مغرب نے خطے میں جو عظیم سازشیں تیار کر رکھی ہیں یہ انکی شکست اور بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بحرین کی صورتحال بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ وہاں عوامی تحریک کے آغاز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ ایک شیعہ سنی جنگ ہے لیکن شیعہ قوتوں کی ہوشیاری نے انکے اس مذموم پروپیگنڈہ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔  سعودی عرب میں ملک عبداللہ کی موت ایک بڑے سیاسی زلزلے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سال سب کو توقع ہے کہ سعودی عرب میں سیاسی نظام کسی بڑی تبدیلی سے دوچار ہو گا۔ سعودی عرب نہ فقط مشرق وسطی میں ایک خاص جیوپولیٹیکل حیثیت کا حامل ہے بلکہ امریکہ اور مغربی دنیا کی اقتصاد اور معیشت کیلئے دھڑکتے ہوئے دل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ سعودی عرب سے ہر روز ایک کروڑ بیرل خام تیل مغربی ممالک کی جانب ارسال کیا جاتا ہے جس میں کسی بھی قسم کا خلل مغربی دنیا کیلئے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔  یہ تمام حقائق خطے اور مشرق وسطی میں سیاسی تبدیلیوں کی نسبت مغربی دنیا کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس خطے کے حالات کو اپنے کنٹرول میں لینے سے متعلق انکی کوششوں کی وجوہات کی بھی اچھی طرح وضاحت کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی بلاک بھی ان مغربی چالوں کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے محو تماشا نہیں بلکہ انتہائی ہوشیاری اور سمجھ داری سے ان کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ان تمام مغربی اقدامات کو نظر میں رکھے ہوئے ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مناسب اور منطقی موقف اپنا سکے

حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بعد عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے ہیں،15 رمضان المبارک سن تین ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے وہ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ کے پہلے فرزند ہیں پیغمبر اسلام نے ان کا نام حسن رکھا اور یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بدع عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ  یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے  زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔

امام حسن علیہ اسلام ۔۔۔ ولادت تا شہادت
امام حسن (ع)کی کنیت ؛ ابو محمد، اور سبط اکبر، زکی، مجبتی آپ کے مشہور القاب تھے، پیغمبر اسلام کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے ساتھ خاص محبت اور الفت تھی۔ جب تک پیغمبر اسلام زندہ تھے امام حس ن وامام حسین علیہمالسلام  ان کے ہمراہ تھے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن (ع) پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین کودوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔    ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ص ۱۲) ۔  ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڑھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔  مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ تو جعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیرا عقد کردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینا نقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیا اور جعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا، امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصا موقع مل گیا اوروہ جعدہ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے، آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔ مدینہ منور میں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی، امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لئے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر، شب بست وہشتم صفر ۵۰کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں، جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن، میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدر بزرگوار اور اپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابنافم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے، اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں، امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے، لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پر دو قصر ایک زمردکا، ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن زہرسے شہیدہوں گے اورحسین تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہا افسوس تونے بڑی بے وفائی کی، لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اور آنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربند فرما کرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔ امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردو عورتوں اور ایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی۔(روضة الشہداء ص ۲۲۰تا ۲۳۵طبع بمبئی ۱۲۸۵ءء وذکرالعباس ص ۵۰طبع لاہور ۱۹۵۶ء)

جرائم پیشہ افراد جیلوں سے رہا ہونے کے بعد کالعدم ناصبی دہشت گرد ملت اسلامیہ، غازی فورس ،لشکر اسلام اور بلوچستان لبریشن آرمی جیس دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں، رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ اداروں نے اپنی ایک رپوٹ میں تصدیق کی ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث جرائم پیشہ افراد رہائی کے بعد کالعدم تنظیموں میں شامل ہورہے ہیں اور ان کی شمولیت سے کالعدم ناصبی دہشت گردگروہ سپاہ صحابہ،لشکر جھنگوی اور دیگر مضبوط ہو رہے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خفیہ اداروں کی جانب سے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹ میں اُن چار دہشت گرد کالعدم تنظیموں کی نشاندہی کی گئی ہے جس میں چھوٹے مقدمات یعنی چوری ،ڈکیتی ،اغواء برا ئے تاوان میں ملوث جرئم پیشہ افراد رہائی کے بعد شمولیت اختیار کر رہے ہیں ۔ ان میں ملت اسلامیہ پاکستان (کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ)،غازی فورس ، لشکر اسلام اور بلوچستان  لبریشن آرمی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں میں سب سے زیادہ افرادصوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا ہ کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں جبکہ صوبہ بلوچستان کی مچھ جیل سے رہائی پانے والوں میں سے اکثریت بلوچستان لبریشن آرمی میں شامل ہورہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر خبر رساں ادرے کو بتایا کے اس خفیہ اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے دہشت گرد گرہوں میں شمولیت کی بڑی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل کے قوائد و ضوابط پر عمل نہ کرنا ہے اور اس کے علاوہ ان مجرموں کو یہ یقین دہانی کرانا ہے کہ ان کے مقدمات کو ختم کروانے کا دعویٰ جبکہ ان افراد کی رہائی کے بعد مقامی پولیس کی جانب سے اُن کی سرگرمیوں پر نطر نہ رکھنا بھی شامل ہے۔ جیل کے قوائد و ضوابط میں یہ واضح طور پر لکھا گیا تھا کے چھوٹے اور معمولی جرم میں ملوث افراد کو جرائم پیشہ اور شدت پسندی کی وارداتوں کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ نہ رکھا جائے زرائع کے مطابق رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان افراد میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ جیل میں کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کے رہن سہن کو دیکھتے ہوئے اور اس علاقے میں اُن کا اثر و رسوخ دیکھتے ہوئے ان گروپوں میں یہ افراد شامل ہورہے ہیں۔ خفیہ اداروں نے وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ مختلف مقدمات میں ملوث سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، طالبان کے افراد جیل سے رہائی کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیموں میں  شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ان افراد کی شمولیت سے یہ گروپ مضبوط ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان کالعدم تنظیموں میں سب سے زیادہ افراد صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی جیلوں سے رہائی کے بعد شامل ہو رہے ہیں ذرائع کے مطابق ان رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف علاقوں سے چار سو سے زائد مشتبہ افراد کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کیا جن سے ابتدائی تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ قبل ہی جیل سے رہا ہوئے تھے اور قید کے دوران اُن کا زیادہ تر وقت شدت پسندی کے مقدمات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ گُزرا۔ یاد رہے کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جرائم پیشہ عناصر جیل کے اندر سے ہی اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی جو تمام معاملات کا جائزہ لے گی لیکن تاحال اس کمیٹی نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا۔

دراصل بات یہ ہے کہ امریکہ دوسروں کی بات سننے کو تیار نہیں اور اس کا اپنا اندازِ گفتگو غیر سفارتی اور ہتک آمیز ہی نہیں، بلکہ دھمکی آمیز بھی ہے۔ وہ اپنے پاکستان جیسے مخلص ساتھی کو دہشتگرد اور جھوٹا قرار دیتا ہے۔ انڈمرل ریٹائرڈ مولن کہتا ہے کہ آئی ایس آئی دہشتگردوں کی ایک برانچ ہے۔ بات سمجھنے کے لئے وہ تیار ہے، نہ اس کے پاس پاکستانی قیادت کو سمجھانے کے لئے کوئی لاجک ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ صرف وہ کریں، جو میں کہہ رہا ہوں۔ پاکستان اپنی دلیلیں نہ دے۔برطانیہ کی اینگلو ایرانین آئل کمپنی (AIOC) جس کا بعد میں نام بڑٹش پٹرولیم رکھا گیا، 1950ء میں ایران کے تقریباً سارے تیل کے ذخیروں پر قابض تھی۔ اس طرح اس کا اس وقت ایران کی معاشی شہ رگ پر انگوٹھا تھا۔ یہ صورتِ حال اہل ایران کو ناپسند تھی لیکن جب ایرانی حکومت نے اینگلو ایرانین آئل کمپنی کو خود چلانے کی بات کی تو خون چوسنے والے انگریز لٹیروں نے یہ کہہ کر اُن کی حوصلہ شکنی کی کہ آپ تکنیکی طور پر اس قابل نہیں کہ اس کمپنی کے معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے سکیں۔  برطانیہ نے صرف 1950ء کے سال میں اس کمپنی سے 170 ملین پاؤنڈز کمائے اور برطانیہ بھیجے۔ یہ آج سے ساٹھ سال پہلے ایک بہت بڑی رقم تھی۔ اس میں سے ایرانین حکومت کا حصہ صرف 10 سے 12 فیصدی تک تھا۔ 1951ء اپریل میں جب محمد مصدق ایران کا وزیراعظم بنا اور اس نے ایک دفعہ پھر انگریزوں کو اس تیل کمپنی کا کنٹرول ایرانیوں کے سپر د کرنے کو کہا تو انگریزوں نے جواب میں یہ مطالبہ کر دیا کہ آپ اس کمپنی پر ہونیوالی ساری لاگت اور اب سے 40 سال بعد تک اس کمپنی سے ہونے والا متوقع منافع بھی ہمیں ادا کر دیں تو ہم کمپنی آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔  یہ سودا ایرانین وزیراعظم کو قبول نہ تھا، وہ اس کمپنی کو قومیانے کو سوچ ہی رہا تھا کہ اگست 1953ء میں امریکی CIA اور برٹش MI-6 نے مل کر ایک جمہوری وزیراعظم کا تختہ الٹ دیا اور دنیا کو جمہوریت کا درس دینے والے مغربی آقاؤں نے ایران میں بادشاہت قائم کر دی۔ 1953ء سے 1979ء تک انسانی حقوق کے علمبردار امریکہ نے ایران کے بادشاہ کے گن گائے اور اس کو ہر طرح سے مضبوط کیا۔ اس زمانے میں ایران امریکہ کی مدد سے اس خطے کی مضبوط ترین نہ صرف معاشی بلکہ عسکری طاقت بھی بن گیا۔ اسرائیل کو بھی امریکہ نواز ایران کی طاقت سے کوئی ڈر نہ تھا۔ ایران نے مغرب سے بہت زیادہ اسلحہ، گولہ بارود، جہاز، آبدوزیں اور ٹینکس وغیرہ خریدے، اس پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہوا۔  لیکن بادشاہ کی بے توقیر رخصتی اور اسلامی انقلاب کی آمد کے بعد اب پوری دنیا کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ نیلے آسمان کے نیچے اگر کوئی خراب ملک ہے جو دنیا کو تباہ کر سکتا ہے تو وہ مسلمان ملک ایران ہے، یا پھر ایٹمی پاکستان ہے۔ اگلے دن میں امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کو ایک TVچینل پر سن رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ایران پر فوجی یلغار کی آپشن ہر امریکی صدر کے میز پر رہنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہُ اوباما اب ایران کو حملے کی دھمکی دے رہا ہے۔ ادھر ایٹمی اسرائیل بھی ایران پر حملے کے لئے اس واسطے تیار بیٹھا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے والا ہے، جس کی اسرائیل کو تو اجازت ہے ایران کو نہیں۔ ان سب دھمکیوں کے جواب میں ایران یہ کہہ رہا ہے کہ ہمارا یٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور اگر آپ نے ایران پر مزید پابندیاں لگا کر ایران کی پیٹھ دیوار کے ساتھ لگا دی تو ایران خلیج فارس کی STRAIT OF HORMUZ کو بند کر دے گا۔ سٹریٹ آف ہرمز خلیج فارس کی وہ پتلی گردن ہے جس کی چوڑائی صرف 34 میل یا 54 کلومیٹر ہے۔ اس تنگ سمندری راستے سے دنیا کے 30% تیل بردار ٹینکرز ساری دنیا کی کل تیل سپلائی کا 20 فیصدی لے کر ہر روز گزرتے ہیں۔ اس کے اندر جہاز آنے اور جانے کی دو تین تین کلومیڑ چوڑی Lanes بنی ہوئی ہیں۔ جن کے درمیان تین کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس طرح جہاز رانی کے لیے صرف تقریباً 10 کلو میٹر کی آبی پٹی استعمال ہو تی ہے۔   ایران کہہ رہا ہے کہ اگر اس کا حقہ پانی بند کیا گیا تو سرنگوں سے وہ اس آبی راستے کو بند کر سکتا ہے۔ ایران نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے دس دن کے لیے اُومان کے ساحل کے ساتھ سمندری مشقیں بھی کی ہیں، جو تین جنوری کو ختم ہوئیں۔ چین اور روس نے بھی امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ ایران پر حملے پر تیسری ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ امریکہ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اگر وہ بحرالکاہل یا بحر اقیانوس کے اندر کسی دشمن فوج کی موجودگی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور کیوبا اور ونزویلا کو برداشت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں، تو ایران کو گلف کے اندر اپنی سمندری حدود کے اندر رہ کر اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کا حق حاصل کیوں نہیں۔ روس یا چین کیوبا تو کیا بحرالکاہل یا بحر اوقیانوس میں بھی جائیں تو امریکہ کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہو جاتا ہے، لیکن اگر امریکہ افغانستان، تائیوان، عراق، جارجیا، خلیج فارس اور پاکستان میں بھی آجائے تو روس، چین اور ایران اس کو اپنی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہ سمجھیں۔ یہ عجیب منطق ہے۔ پھر پاکستان کو یہ درس بھی دیا جاتا ہے کہ ہندوستان کی افغانستان میں موجودگی سے پاکستان کی سلامتی کو کوئی ڈر نہیں۔ لیکن افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے 10 ہزار میل دور امریکہ کو خطرہ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ امریکہ دوسروں کی بات سننے کو تیار نہیں اور اس کا اپنا اندازِ گفتگو غیر سفارتی اور ہتک آمیز ہی نہیں، بلکہ دھمکی آمیز بھی ہے۔ وہ اپنے پاکستان جیسے مخلص ساتھی کو دہشتگرد اور جھوٹا قرار دیتا ہے۔ انڈمرل ریٹائرڈ مولن کہتا ہے کہ آئی ایس آئی دہشتگردوں کی ایک برانچ ہے۔ بات سمجھنے کے لئے وہ تیار ہے، نہ اس کے پاس پاکستانی قیادت کو سمجھانے کے لئے کوئی لاجک ہے۔ وہ کہتا ہے کہ آپ صرف وہ کریں، جو میں کہہ رہا ہوں۔ پاکستان اپنی دلیلیں نہ دے۔ 700 ملین ڈالرز کا بل تب ادا ہو گا جب امریکی سرکار مطمئن ہو گی کہ پاکستان اُن کے کہنے پر سب کچھ کر گزرے گا۔ 2000 ارب ڈالرز افغانستان اور عراق میں غرق کرنے والے امریکہ نے پچھلے دس سالوں میں پاکستان کی 1،47،000 فوج کے لیے صرف 20.7 ارب ڈالرز دیئے گئے۔ جبکہ صرف افغانستان میں اتحادیوں کی 1،30000 افواج صرف دو ہفتوں میں 20 ارب ڈالرز خرچ کر رہی ہیں۔ پاکستان کو دیئے گئے 20 ارب ڈالرز میں سے تقریباً 14 ارب ڈالرز ملٹری کے لیے مختص تھے۔ باقی دس سالوں کی معاشی امداد کوئی ساڑھے چھ ارب ڈالرز ہے جن میں سے 2.2 ارب ڈالرز تو ابھی تک دیئے بھی نہیں گئے۔ باقی ماندہ معاشی امداد تو صرف 500 ملین یا نصف ارب ڈالرز سالانہ بنتی ہے۔ جبکہ پاکستان کے سمندر پار باشندوں نے صرف ایک سال میں 11ارب ڈالرز بھیج دیئے ہیں۔ اگر ہم ان اپنے پاکستانی بھائیوں اور بچوں کو کہیں کہ گیارہ کی بجائے اب ساڑھے گیارہ ارب ڈالرز سالانہ بھیج دیا کرو تو امریکی معاشی امداد کی ضرورت نہیں رہتی۔ باقی رقم تو صرف ہمارے فوجی اخراجات کی تلافی ہے۔ امریکہ کو تو پاکستان کے قرضے، جن پر ہم ہر سال 3 ارب ڈالرز سود ادا کرتے ہیں، ختم کروانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی اور ہمیں ہماری معاشی، عسکری، ذرائع رسل و رسائل پر پچھلے دس سالوں میں خرچ ہونے والی 68 ارب ڈالرز کی رقم ادا کرنی چاہیے تھی۔ امریکہ اور یورپ سے ہمیں اُن کی منڈیوں تک رسائی کا مطالبہ کرنا بھی چاہیے اور ساتھ یہ بھی کہنا چاہیے کہ ا س وقت پاکستان میں افغان مہاجرین کو واپس افغانستان بھیجا جائے۔ اس کے علاوہ پاکستان سے سی آئی اے کے جاسوسی کے اڈوں کا خاتمہ ہونا چاہیے۔  امریکہ کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ایران پر حملہ اس صدی کی بہت بڑی حماقت ہو گا۔ ہم امریکہ سے بگاڑ نہیں چاہتے، لیکن 35000 لوگوں کی شہادتوں کے بعد اگر وہ ناراض ہے تو ہمارے پاس امریکہ کو راضی رکھنے کا اور کوئی طریقہ بھی تو نہیں۔ ہندوستان سے دوستی کی پنیگیں بڑھانے، اسرائیل کو خوش رکھنے اور افغانستان میں اپنی ناقص پالیسی پر پردہ ڈالنے کے لیے اگر امریکہ نے پاکستان پر برسنے کو اپنا شعار بنائے رکھا تو یہ بات نہایت قابل افسوس ہو گی۔ ہم اس وقت صرف یہی کہہ سکتے ہیں کہ
بچھڑنا ہے تو مت الفاظ ڈھونڈو
ہمارے واسطے لہجہ بہت ہے

عراق سے امریکی فوج کی ذلت آمیز پسپائی کیا ہوئی کہ پوری دنیا میں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج گیا ۔ یہ سرخی ہے برطانوی اخبار گارڈین کی جبکہ امریکی میگزین ٹائم نے لکھا ہے کہ امریکیوں کو بالآخر مجبور ہوکرعراقی عوام کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہی پڑا اور جب عراق پر امریکا کے حملے کے اہداف و مقاصد پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عراق میں امریکا کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے لکھا کہ امریکا کا مقصدعلاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا مگر اس کا یہ مقصد نہ صرف یہ کہ پورا نہیں ہوا بلکہ نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جی ہاں عراق سے امریکی فوج کے ذلت آمیز انخلاکے بعد عالمی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر امریکا اور مغرب کے اخبارات و جرائد نے جو کچھ لکھا یہ تو اس کی محض چند ایک جھلکیاں ہیں ہوتا تو یہی تھا کہ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ ہمیشہ امریکی اقدامات کو کسی نہ کسی صورت میں صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتے رہے ہيں مگر اس بار عراق میں امریکی ہزیمت و ذلت اتنی زیادہ آشکارہ ہے کہ امریکی مغربی اور حتی صہیونی ذرائع ابلاغ بھی اس پر پردہ نہ ڈال سکے حقیقت تو یہی ہے کہ عراق میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اپنی فوجیں اتار کر امریکا جو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو کچھ بھی نہ مل سکا اس کی کوشش تھی کہ وہ عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلے ، تیل سے مالا مال خلیج فارس کے علاقے پر تسلط جما لے، علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکے ، عالم اسلام میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر کے سامنے بندھ باندھے ، نئے مشرق وسطی کو جنم دے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علاقے میں اسرائیل کی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنائے اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے سارے مقاصد تھے جن میں اسلامی ملکوں سے غنڈہ ٹیکس وصول کرنا بھی شامل تھا مگر نہ صرف یہ کہ اس میں سے امریکا کا ایک بھی مقصد حاصل نہيں ہوسکا بلکہ عراق میں امریکہ کی لشکر اور آٹھ برسوں تک اس کے غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں پندرہ لاکھ کے قریب عراقی شہری ضرور مارے گئے اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مالی اعتبار سے امریکا کو کئی ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے یہ سب اس جنگ کے نقصانات ہیں جس میں امریکا اپنی طاقت وقوت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ جنگ جہاں امریکا کے لئے انتہائي مہنگی ثابت ہوئي وہيں امریکیوں کو تاریخ میں ابتک کی ذلت آمیز شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا اور یوں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بھی بج اٹھا ہے اسی لئے برطانوی اخبار گارڈين نے لکھا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کی پسپائی یک قطبی نظام کے خاتمے کا اعلان بھی ہے جو عراق میں امریکی فوج کے آخری اڈے کے انخلاء کے موقع پر کیا گیا جب اس جنگ کے نتائج پر نظر ڈالی جاتی ہے اوریہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس جنگ سے امریکہ کو کیا ملا تو اس کا جواب یہی نظر آتا ہے کہ سن دوہزار تین سے امریکی قبضے کے نتیجے میں جو نتائج واشنگٹن کو حاصل ہوئے وہ یہ کہ امریکا سے عراقی عوام کی نفرت اور غیظ و غضب میں اضافہ ہوا ہے، اقوام عالم امریکہ جیسے بدمست ہاتھی کاغرور خاک میں مل جانے پر اس کی جانب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھ رہی ہیں اور دنیا پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ کاغذی شیر بہرحال کاغذي ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ وہ نتائج ہيں جو امریکا کی مرضي کے نہيں اور نہ ہی امریکا ان نتائج کے پیش نظر عراق میں گیا تھا آج ہم دیکھ رہے ہيں امریکا کے وہ ذرائع ابلاغ جو صرف اور صرف امریکا کی کامیابی کا ڈھنڈورا ہی پیٹنے کے لئے قائم کئےگئے تھے وہ بھی عراق سے امریکا کی ذلت آمیز اور شرمناک پسپائی پر خاموش نہیں رہ سکے۔ امریکیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عراق میں شکست کا اعتراف ان کی جھوٹی ہیبت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے لیکن اب اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہيں اسی لئے امریکی اثر و رسوخ والے اخبارات و جرائد بھی اب کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج چکا ہے۔

عراق کی شیعہ، سنّی اور کرد آبادیوں کی نمائندگی کرنے والے سیاسی رہنماؤں کی نظریں اپنے اختلافات دور کرنے کے لیے اِس مہینے مجوزہ قومی کانفرنس کے ساتھ ساتھ ملکی عدالتوں کی جانب بھی اُٹھ رہی ہیں۔ اِن اختلافات میں اُس وقت شدت آئی، جب وزیر اعظم نوری المالکی نے امریکی فوجی دستوں کے ا نخلاء کے بعد سنّی نائب صدر طارق الہاشمی کی گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے۔ حکومت میں شامل مختلف سیاسی عناصر کے درمیان انتہا درجے کی بد اعتمادی پائی جاتی ہے اور المالکی کی مخلوط حکومت بقا کے خطرے سے دوچار نظر آتی ہے۔ جہاں المالکی نے سیاسی بے چینی کو کم کرنے کے لیے سیاسی استحکام کی اپیل جاری کی ہے، وہاں پارلیمان کے اسپیکر اُسامہ النجفی نے عراقیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اختلافات بھلا کر اور مل جُل کر ملک کی تعمیر میں حصہ لیں۔ جنوری کے اواخر میں مجوزہ قومی کانفرنس سنّی سیاستدان النجفی اور کرد صدر جلال طالبانی کی تجویز پر منعقد ہونے والی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ سبھی فریق اُس میں شرکت کریں گے۔ جہاں تک المالکی کی جانب سے نائب صدر الہاشمی پر ڈَیتھ اسکواڈ منظم کرنے کے الزامات ہیں، بظاہر اُن کے تصفیے کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے پر اتفاق نظر آ رہا ہے۔تاہم ایک شیعہ سیاستدان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اُسے اِس قومی مکالمت کے کوئی ٹھوس نتائج سامنے آنے کی توقع نہیں ہے۔ سنّی حمایت یافتہ جماعت العراقیہ بدستور پارلیمان کا بائیکاٹ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اگلے انتخابات 2014ء سے پہلے متوقع نہیں ہیں۔ نائب صدر الہاشمی کے معاملے میں وزیر اعظم المالکی نے جو طرزِ عمل اختیار کیا ہے، اُس پر جہاں کئی سنّی اراکینِ پارلیمان ا ور وُزراء کو اُن سے شکایات ہیں، وہاں کچھ شیعہ سیاستدان بھی اُن سے ناخوش ہیں۔ المالکی کا مطالبہ ہے کہ یا تو العراقیہ اپنے سینئر لیڈر طارق الہاشمی کو اپنی صفوں سے الگ کر دے یا پھر حکومت میں اپنی پوزیشن سے محروم ہو جائے۔ اس مسئلے پر العراقیہ کے اندر تقسیم شروع ہو چکی ہے۔ العراقیہ کے ساتھ چھوڑ جانے کی صورت میں المالکی اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے لیے کردوں اور العراقیہ کا ساتھ چھوڑ جانے والے سنی اراکینِ پارلیمان کی جانب دیکھیں گے۔ سیاسی بے یقینی کی اِس فضا میں عراق میں جموریت کا تجربہ ناکامی سے بھی دوچار ہو سکتا ہے اور فرقہ وارانہ تنازعات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

ایران نے خلیج فارس میں اپنی حالیہ فوجی مشقوں کے ذریعے اپنے غیر لچکدار موقف کا اعادہ کیا ہے۔ ادھر مغربی طاقتیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو مفلوج کرنے کے لیے اُس کے خلاف اور زیادہ سخت پابندیوں کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران نے اپنی تیل کی صنعت اور معیشت کے خلاف پابندیاں سخت تر کیے جانے کی صورت میں آئل ٹینکرز کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل آبی راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل عطاء اللہ صالحی کے اس بیان کے بعد اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ خلیج فارس سے ہٹا لیے جانے والے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس نہیں آنا چاہیے ورنہ ایران کارروائی کرے گا۔ اِدھر پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی جانب پیشرفت کر رہا ہے اور امریکہ ہی کی طرح یورپ کو بھی ایران پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن نئی ممکنہ پابندیوں کا ہدف ایران کے مرکزی بینک اور ایران کی تیل کی صنعت کو بنایا جا سکتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک جائزے کے مطابق مغربی دُنیا نے ایران سے تیل درآمد کرنا بند بھی کر دیا تو ایران اپنا تیل چین اور بھارت جیسے ان ملکوں کو بیچ سکتا ہے، جہاں تیل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ ایران اور مغربی دُنیا کے درمیان تناؤ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی کرنسی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کی قدر و قیمت میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں حال ہی میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اِسی لیے اب اُس نے پھر سے اس پروگرام سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس آمادگی کو اس بات کی بھی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ غالباً مغربی دنیا کی عائد کردہ پابندیوں سے ایران کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایران مذاکرات کے احیاء کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی شرط رکھے۔ ایسا ہوا تو امکان ہے کہ واشنگٹن اور مغربی دُنیا کے دیگر ملک اس کی سخت مخالفت کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما نے جن تازہ ترین پابندیوں پر دستخط کیے ہیں، اُن میں ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ روابط رکھنے والے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے امریکہ میں سرگرم عمل ہونے کی پابندی بھی شامل ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کے خیال میں یہ پابندیاں ایرانی معیشت پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں کریں گی تاہم پہلے سے بیروزگاری اور افراطِ زر کی بلند شرحوں کا سامنا کرنے والی ایرانی معیشت ملک کی اندرونی سیاسی صورتِ حال اور مارچ میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں آگے چل کر زیادہ دباؤ کا بھی شکار ہو سکتی ہے۔

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔خوف اور وحشت کی فضا قائم کر کے افراد کی آزادی اور نجی زندگی میں دخل اندازی کرنا امریکی معاشرے میں دوسرے استعماری معاشروں کی طرح سیاستدانوں اور طاقتور لابیز کا مقبول طرز عمل بن چکا ہے۔ جب عام حالات شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت میں مانع ہو جاتے ہیں تو ایک بحرانی صورتحال کو وجود میں لا کر اور لوگوں میں خوف پھیلا کر اس کام کا بہانہ فراہم کر دیا جاتا ہے اور پھر عوام کی پرائیویٹ زندگی میں مداخلت کی کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی امریکہ اپنی ملکی یا بین الاقوامی پالیسیوں میں ناکامی کا شکار ہوا ہے اس نے یہی ہتھکنڈہ اپنایا ہے اور ہمیشہ اسے اپنی بنیادی دہشت گردانہ پالیسی کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔ جب نیویارک کے ٹوئن ٹاورز سے دو ہوائی جہاز ٹکرائے اور اسکے بعد پنٹاگون کی عمارت میں دھماکہ ہوا تو شائد ہی کوئی شخص یہ سمجھ سکا ہو کہ یہ واقعات امریکہ کی اس طویل المیعاد منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جنکے تحت 17 ممالک پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنا ہے اور جسے نیو کنزرویٹو امریکی صدر جرج بش نے اپنی سیکورٹی اسٹریٹجی کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکی اور مغربی مفادات کے راستا میں القاعدہ کی تشکیل:
القاعدہ بھی ایسے ہی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی براہ راست مداخلت سے مشرق وسطی کے سیاسی مقدر پر مسلط ہونے کی غرض سے معرض وجود میں آئی۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں روسی فوج کی افغانستان میں موجودگی کو القاعدہ کی تشکیل کا ابتدائی سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ جو افغانستان میں روس کے ساتھ براہ راست مقابلہ کرنا نہیں چاہتا تھا، نے کوشش کی کہ اسلامی ممالک سے چند شدت پسند سلفی افراد کو جمع کر کے انکے اسلامی جذبات سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ایک منحرف گروہ کو تشکیل دیا جائے تاکہ یہ گروہ اپنے بظاہر دینی اعتقادات کے زیر اثر امریکی مفادات کو انتہائی کم وقت میں اور پوری دقت کے ساتھ جامہ عمل پہنائے۔ اس گروہ کی تشکیل بہت جلد نتیجہ بخش ثابت ہوئی اور روسی فوج 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہی افغانستان سے عقب نشینی پر مجبور ہو گئی۔ لیکن یہ القاعدہ کا اختتام نہیں تھا۔ اپنے منصوبے میں کامیابی نے مغربی پالیسی میکرز کو ترغیب دلائی کہ وہ اس پراجیکٹ کو خطے میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھنے اور اسے اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ لہذا اگرچہ اس گروہ کے اکثر جنگجو افراد افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے بعد اپنے اپنے ممالک میں واپس لوٹ گئے تھے لیکن سعودی شہریت کے حامل دہشت گرد اسامہ بن لادن کی کوششوں سے ایک نئی تنظیم “القاعدہ” کے نام سے 1998 میں رسمی طور پر منظر عام پر آ گئی۔
القاعدہ کے بانی کے طور پر بن لادن کے مغرب سے تعلقات:
القاعدہ کا بانی ہونے کے ناطے اسامہ بن لادن کی شخصیت اور خصوصیات پر ایک نظر ڈالنے سے اسکی حقیقت کا تھوڑا بہت علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ “اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن” ریاض میں پیدا ہوئے اور بن لادن خاندان کا ایک فرد اور سعودی عرب کے مالدار ترین افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ انکے سابق امریکی صدر جرج بش کے ساتھ انتہائی قریبی تجارتی تعلقات تھے۔ بش خاندان ایک تیل کی کمپنی کا مالک جبکہ لادن کا خاندان بھی ایک معروف سعودی خاندان تھا جو کنسٹرکشن کمپنی کا مالک تھا۔ لہذا انکے درمیان گہرے تعلقات پائے جاتے تھے۔ چند سال قبل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے کچھ دیر بعد ہی سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے ہی والے تھے کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے آپریش کو فوری طور پر رکوا دیا۔ وکی لیکس نے بھی ایسے کئی اسناد و مدارک فاش کئے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کا ہی ایجنٹ تھا۔
برطانوی روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف القاعدہ کی تشکیل سے کئی سال قبل سی آئی اے اور ایم آئی 6 کی جانب سے اسامہ بن لادن کی حمایت کئے جانے کے بارے میں لکھتا ہے:
“افغان مجاہدین کے ایک گروہ نے جو برطانیہ کی حمایت سے برخوردار تھا اور سی آئی اے سے بھی خفیہ طور پر مالی امداد وصول کرتا تھا، چند سال بعد دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔ اس رپورٹ کے مطابق 15 جنوری 1980 کو برطانیہ کے ایک وزیر “رابرٹ آرمسٹرنگ” نے پیرس میں امریکی صدر کے سیکورٹی مشیر “زبیگنیو برجنسکی” اور فرانس اور مغربی جرمنی کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کے بعد لندن بھیجے گئے اپنے پیغام میں لکھا “امریکیوں نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپس کی اس طرح حمایت کی جائے کہ یہ کیمپس روس کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہو جائیں”۔  رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح افغان مجاہدین تک جنگی سازوسامان جیسے انٹی ایئر میزائل پہنچائے جائیں اور کس طرح عالم اسلام کو روس کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے آپس میں طے کیا کہ افغان مجاہدین کی مدد کی جائے اور انہیں اسلحہ فراہم کیا جائے۔ یہ برطانوی اخبار مزید لکھتا ہے “ان سالوں کے دوران افغانستان جانے والے ایک شخص جو مغربی ممالک کی جانب سے ٹریننگ اور اسلحے سے بھی برخوردار تھا، کا نام اسامہ بن لادن تھا جس نے بعد میں القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔
القاعدہ کی تشکیل میں مغربی مفادات:
صحیح ہے کہ القاعدہ تنظیم ابتدا میں جنوب مشرقی ایشیا میں سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے بنائی گئی لیکن بعد میں زیادہ وسیع اھداف کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغرب نے اس تنظیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ ان میں سے بعض مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔ 1. ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسکے نتیجے میں ایک متحرک اور فعال اسلامی تحریک کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغربی قوتیں اسکے مقابلے میں سیاسی اسلام کے ایک ایسے غیرحقیقی ماڈل کی تلاش میں مصروف ہو گئیں جو شدت پسندی اور خطے میں رعب و وحشت کی فضا قائم کرنے کا مظہر ہو تاکہ اسکی تشہیر کے ذریعے انقلاب اسلامی ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر کے رائے عامہ کو اس سے متنفر کیا جا سکے۔ دوسری طرف القاعدہ میں شامل عناصر کی شیعہ مذہب سے دشمنی اس بات کا سبب بن سکتی تھی کہ یہ تنظیم ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن کر سامنے آ سکے۔ 2. تیل سے مالامال مشرق وسطی کے خطے میں خوف اور وحشت کی منطق کا ایجاد ہونا امریکہ کی جانب سے اس اسٹریٹجک خطے کی سیکورٹی کو بحال کرنے کے بہانے تھانیدار کی حیثیت سے یہاں موجودگی کا بہترین جواز فراہم کر سکتا تھا۔ القاعدہ جیسی تنظیم ہی وہ اہم ہتھکنڈہ تھا جو مغربی قوتوں کو ان مقاصد کے حصول میں مرکزی کردار ادا کر سکتا تھا اور ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہونے کے ناطے جسکی لاتعداد شاخیں پورے خطے میں پھیلی ہوئی تھیں، خطے کے ممالک کو خوفزدہ کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔ افغانستان پر امریکہ کی فوجی یلغار بھی اس سازش کا حصہ تھا جسکا مقصد مشرق وسطی میں امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا تھا۔ 3. یورپی ممالک میں روز بروز بڑھتی ہوئی اسلامی سوچ اور تفکر سے مقابلے کی ضرورت اور دین مبین اسلام کے تیزی سے پھیلاو پر مغرب کی پریشانی باعث بنے کہ مغربی قوتیں بین الاقوامی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی القاعدہ تنظیم تھی جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا ذریعہ بن گئی۔ اسلام کے نام پر القاعدہ کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات باعث بنے کہ ایک طرف مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف دباو اور سختی میں شدید اضافہ ہو جائے اور دوسری طرف عالمی رائے عامہ کے نزدیک اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کیا جائے۔ 4. خطے کے ممالک میں القاعدہ کی موجودگی نہ فقط باعث بنی کہ خطہ امریکی فوجی مراکز کی جانب سے جدید ترین اسلحہ کے تجربات کی لیبارٹری میں تبدیل ہو جائے بلکہ خود خطہ بھی دنیا میں اسلحہ کی بڑی مارکیٹ بن گیا۔ امریکہ میں اسلحہ ساز کمپنیوں کا اثر و رسوخ اور اہم امریکی سیاسی مراکز پر اسلحہ ساز کمپنی مالکین کا کنٹرول باعث بنا کہ امریکہ خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے اور ممالک کو القاعدہ سے ڈرانے دھمکانے کے ذریعے انہیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے کی ترغیب دلائے اور اس طرح امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو عظیم مالی فائدے سے سرشار کر دے جو خطے کی عوام کے خون کے بدلے حاصل ہوا ہے۔ ان مقاصد کا حصول بھی خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کی موجودگی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس طرح سے القاعدہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ہاتھ میں ایک کارڈ کے طور پر ظاہر ہوئی تاکہ یہ ممالک جب چاہیں اس کارڈ کو چل کر خطے میں اپنے مفادات کو حاصل کر سکیں۔ البتہ امریکہ ہمیشہ اس تنظیم کی خدمت کرنے میں بھی مصروف ہے جو انتہائی خفیہ انداز میں انجام پاتی ہے۔ عراق میں امریکہ کی جانب سے القاعدہ جنگجووں کی حمایت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حال ہی میں عراق کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ بصرہ کے جنوب میں واقع جیل سے القاعدہ کے 12 دہشت گردوں کو فرار کروانے میں امریکی فوجیوں کا بنیادی کردار تھا۔ یہ کمیٹی عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے تشکیل پائی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نے ان 12 القاعدہ دہشت گردوں کو جیل سے فرار کروانے کیلئے جو 2011 کے آغاز میں عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ افراد کئی دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث تھے جن میں 2010 میں بصرہ میں ہونے والا بم دھماکہ بھی شامل تھا۔
کیوں القاعدہ نے اسرائیل کے خلاف ایک حملہ بھی نہیں کیا؟
کسی بھی تنظیم یا تحریک کی امریکہ سے وابستگی کو جانچنے کا ایک بہترین معیار اسرائیل کے بارے میں اسکا موقف ہے۔ اسکی مزید وضاحت کیلئے نائن الیون کے واقعات میں امریکہ کے کردار کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیویارک کے جڑواں ٹاورز میں کام کرنے والے ہزاروں یہودیوں کا 11 ستمبر کے دن غیرحاضر ہونا اور اسکے نتیجے میں انکی جان بچ جانے کا واقعہ نہ ہوتا تو شائد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خود امریکہ اس حادثے ملوث ہو سکتا ہے۔ یہ امر امریکہ میں پبلیکیشنز کی آزادی میں بھی قابل مشاہدہ ہے۔ امریکی اخبار اگرچہ اپنے حکام کے خلاف بڑی سے بڑی توہین آمیز بات لکھ سکتے ہیں لیکن اسرائیل یا امریکہ میں موجود صہیونیستی لابی کے خلاف ایک لفظ بھی لکھنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ عراقی مصنف اور تجزیہ کار “منھل المرشدی” کے خیال میں القاعدہ خطے اور دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی محافظ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی وجہ سے القاعدہ نے اب تک مقبوضہ فلسطین میں ایک حملہ بھی نہیں کیا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور القاعدہ کا آپس میں اسٹریٹجک تعاون:
اسرائیل اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان دو دہشت گرد گروہوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی موجود نہیں اور دونوں امریکی حمایت سے برخوردار ہیں۔ بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم اور القاعدہ نیٹ ورک کے درمیان کئی علاقائی اور عالمی ایشوز پر بہت عمدہ تعاون پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ان ایشوز کی ایک بہترین مثال “شام” کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لبنان کے سابق صدر جناب امیل لحود نے شام میں سیاسی تبدیلی لانے کیلئے اسرائیل اور القاعدہ کی مشترکہ کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے “القاعدہ کے نئے قائد ایمن الظواہری، اسرائیل صدر شیمون پرز اور امریکی نائب وزیر خارجہ جفری فلٹمین کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو معزول ہو جانا چاہئے”۔ اس تین جانبہ تعاون کا بہترین نمونہ چند ہفتے قبل جمعہ کے روز دمشق میں شام کی سیکورٹی مراکز میں ہونے والے کئی بم دھماکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ دھماکے القاعدہ دہشت گردون نے لبنان سے شام میں داخل ہو کر انجام دیئے لیکن یہ دہشت گردانہ اقدامات غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھے۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔ بلکہ برعکس، مغربی اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے خطے کے مسلمانوں کی قتل و غارت میں مصروف ہے۔

سورچہ فال کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم  پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔ اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” ’’یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔‘‘پہلی جنگ عظیم کے بعد اور دوسری جنگ عظیم سے قبل دنیا کو ایک زبردست معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران 4 ستمبر 1929ء  کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ میں اچانک اسٹاک کی قیمتیں گریں، پھر تو اس معاشی افراتفری اور بحران نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری دنیا کے ہر امیر اور غریب ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بحران تقریباً دس سال تک جاری رہا۔ اس کو بیسویں صدی کا بدترین معاشی بحران کہا جاتا ہے۔ بہرحال قوموں پر آیا ہوا مشکل وقت بھی گذر جاتا ہے۔ John D  Rochefeller نے کہا تھا:۔
“In the 93 years of my life, depressions have come and gone. Prosperity has always returned and come again.” یعنی میری 93 سالہ زندگی میں کئی معاشی بحران آئے اور گئے، خوشحالی آخر کار ضرور واپس لوٹتی ہے اور دوبارہ بھی آئے گی۔ بیسویں صدی کی مذکورہ بالا معاشی بدحالی کو Great Depression کہا گیا لیکن اکیسویں صدی کی موجودہ بگڑتی ہوئی بین الاقوامی معاشی صورتحال کو ماہرین معاشیات گریٹ ڈپریشن کہنے کی بجائے Great Recession کہتے ہیں:۔”یہ گریٹ Recession دسمبر2007ء میں شروع ہوئی اور اس نے بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن جون 2009ء میں امریکہ میں یہ محسوس کیا گیا کہ بین الاقوامی معاشی جمود خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حالات پھر مخدوش ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 2011ء کے موجودہ سال میں پوری دنیا Double Dip Recession کا شکار ہو چکی ہے۔ کہا یہ جار ہا ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی یا جمود جس کی لپیٹ میں خصوصاً امریکہ اور یورپ ہے، کی اصل وجہ امریکی Booming Housing Market کا دیوالیہ ہو جانا ہے۔ جس کی بنیاد وہ بینک بنے جنہوں نے بہت کرپشن کی اور عوام کو لوٹا۔ کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ امریکہ میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ اُن کے عراق اور افغانستان میں ہونے والے بے پناہ جنگی اخراجات ہیں۔ ان نقصانات کو اب امریکہ عراق، لیبیا، کویت اور بحرین کے تیل اور گیس کے ذخیروں پر قابض ہو کر دھڑا دھڑ پورا کر رہا ہے۔ امریکہ کی اب نظر ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے خزانوں پر بھی ہے۔ روس اور چین اب امریکہ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے ایران میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس سے کہا یہ جاتا ہے کہ اب مغرب اور مشرق میں پھر سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ Sorcha Fall کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔  اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔ مشرق اور مغرب کے درمیان موجودہ تناؤ میں اس وقت شدت آئی جب دو ہفتے قبل شام سے واپس آتے ہوئے روسی سفیر Vladimir Titorenkoاور اس کے دو اسٹاف ممبران پر برطانوی MI-6 اور سی آئی اے کی مدد سے قطری سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا اور اُن کو اتنا زخمی کر دیا کہ اُن کو قطر کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ روس اور چین کا خیال ہے کہ  CIA اور برطانوی MI-6 والے سفارتی بیگوں سے خفیہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم کو دیتے ہیں۔ جس کو اُنہوں نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کیا تھا اور اب اس تنظیم کی وجہ سے شام اور ایران میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران اور شام پر مہلک Biological agents کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس سے کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ ہالینڈ اراسمس میڈیکل سنٹر کے Virologist جن کا نام Ton Fouchier ہے، نے کہا ہے کہ مہلک جراثیم دوسرے ممالک پر پھینکنے کے لئے امریکہ کے ڈرون RQ-170 استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب حال ہی میں روس نے اپنے Avtobaza گراؤنڈ بسیڈ انٹیلی جنس اور جیمنگ سسٹم کو استعمال کر کے امریکی CIA کا ڈرون RQ۔170 ایران کے علاقے میں اتار لیا۔ جس میں حساس Aerosal Delivery System نصب تھا۔ جس سے دوسرے ممالک پر   Virus   حملے کئے جا سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر بھی Flu Virus کا استعمال ہوا تھا، جس سے دنیا کی آبادی کا تقریباً 3 فیصدی یا اندازا ً500 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ امریکہ کے ایک Investigativeجرنلسٹ Greg Hunter نے ایک رپورٹ لکھی جس کا عنوان ہے۔”Is the World Spinning out of Control”اس رپورٹ میں امریکی صحافی نے لکھا ہے کہ مغربی معاشی نظام 100ٹریلین ڈالرز کے قرضے کے نیچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ قرضہ کوئی ملک بھی واپس ادا نہیں کر سکتا۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی صحافی نے لکھا ہے۔ “Never in history has the World been this close to total financial choas and nuclear war at the same time” ’’یعنی انسانی تاریخ میں اس سے پہلے دنیا ایک ہی وقت پر معاشی بدحالی کی گرفت اور ایٹمی جنگ کے امکانات کے اتنا قریب نہ تھی جتنی اب ہے‘‘۔  قارئین آج سے تقریباً 200 سال پہلے امریکہ کے ایک بانی قائد تھامس جیفرسن نے کہا تھا:۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بینکوں کے ادارے دشمن افواج سے زیادہ ہماری آزادی کے لئے خطرہ ہیں۔ اگر پرائیوٹ بینکوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ پہلے Inflation اور پھر Deflation کریں تو پھر بینکوں کے سہاروں پر کھڑی ہونے والی کارپوریشنیں لوگوں کو اُن کی تمام جائیدادوں سے اس طرح محروم کر دیں گی کہ اُن کے بچے اپنے اُس براعظم پر بے گھر کھڑے نظر آئیں گے، جس کو اُن کے اباؤ اجداد نے فتح کیا تھا  قارئین یہ یاد رکھا جائے کہ پاکستان اب معاشی بدحالی کے Mine Fieldکی تباہیاں جھیلنے کے بعد مکمل معاشی Collapse کے خوفناک گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکمرانی کمزور ہے، سٹیٹ بینک کا کوئی کنٹرول نہیں، حکومت پرائیویٹ بینکوں سے کھربوں روپے اُدھار لے کر کھا رہی ہے۔ تباہ حال کارپوریشنیوں کے پاس مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لئے بھی کچھ نہیں۔ بنیادی خرابیوں کو دور کئے بغیر ان کارپوریشنوں میں مزید اربوں روپے ڈبوئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کمر توڑ ہے، مالیاتی ٹیم کی بے حسی ناقابلِ فہم ہے، بجٹ خسارے اور Inflation کی صحیح صورتِ حال عوام سے چھپائی جا رہی ہے۔ دولت کی بیرون ملک بے خوف پرواز جاری ہے۔ Run away Inflation اور بیرونی Debt default کے زبردست خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ صنعتوں کی بندش کی وجہ سے ایکسپورٹ رُکی ہوئی ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں۔تیل کی قیمتوں، بجلی اور گیس کے بحران نے زراعت، صنعت اور گھریلوں صارفین کی چیخیں نکال دی ہیں۔ زرِمبادلہ کے ذخائر، جو اب تقریباً 12 ارب ڈالرز ہیں، اگلے سال کے اختتام پر صرف چار یا پانچ ارب ڈالرز رہ جائیں گے۔ جس سے مارکیٹ مزید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر Collapse ہو سکتی ہے ۔ایسی صورتِحال میں صدرِ مملکت فرماتے ہیں کہ اُن کی جماعت کے منشور کے 80 فیصدی حصے پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اب خوف یہ ہے کہ حکمران اتحاد کے منشور کی 100 فیصدی تکمیل کے بعد پاکستان کا کیا بچے گا۔……تحریر:جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

عراق:عراق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کرنے والے سابق معزول صدر صدام حسین کو واصل جہنم ہوئے پانچ سال بیعد گئے پانچویں برسی جمعہ کے روز واقع ہوئی۔ موصوف امریکہ اور اسرائیل کے خاص الخاص نمائندے تھے جو خطے میں ان دونوں مما لک کے مفادات کے سب سے بڑے حامی تھے اور قومی دولت اور وسائل کو عوام الناس کی ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے اپنی مادر پدر عیاشیوں، امریکی اور اسرائیلی احکامات کی بجا آوری اور خاص کر شیعیان حضرت علی علیہ السلام کو تباہ و برباد کرنے پر خرچ کرتے تھے۔ جس طرح آجکل سعودی عرب حکمران (آل سعود) اپنے ملکی تمام تر وسائل کو امت اور قوم کی تعلیم و تربیت پر خرچ کرنے کے بجائے، اپنی مادر پدرعیاشیوں نیز اپنے مولا، سید و سردار اور آقائے نامدار حضرت امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی حفاظت کرنے، اپنے ڈوبتے ہوئے اقتدار کو اسلام دشمن منافقیں و کفارکے ساتھ مل کر طول دینے اور امن پسند اسلام ممالک میں فتنہ و فساد پھیلانےکے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ اپنے سابق پالتو کتے  صدام کے انجام سے سبق حاصل کریں ورنہ ان کا مستقبل بھی سابقہ عراقی صدر صدام جیسا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔صدام عراق کے شہر ہرت کے ایک غریب گھرانے میں 1937 کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے ایک سوتیلے باپ کے سائے میں پرورش پائی جس سے انہوں نے سفاکی اور جبر کا سبق بچپن میں ہی سیکھ لیا تھا۔ جوانی میں وہ باز پارٹی سے وابستہ ہوگئے اور 1956 میں جنرل عبدالکریم قاسم کے خلاف ایک ناکام بغاوت میں حصہ لیا۔ 1959 میں صدام حسین کو عراق سے فرار ہو کر قاہرہ میں پناہ لینا پڑی وہ چار سال بعد عراق پہنچے اور باز پارٹی کے اندر تیزی سے ترقی پائی یہاں تک کہ بعث پارٹی نے 1968 میں عبدالرحمن محمد عارف سے اقتدار چھین لیا اور صدام حسین جنرل احمد الحسن البکر کے بعد دوسرے لیڈر بن کر ابھرے۔ ایران میں 1996 میں امریکہ مخالف اسلامی انقلاب آنے کے بعد صدام حسین نے 1980 میں ایران کے ساتھ جنگ چھیڑ دی۔ جنگ خلیج آٹھ سال تک جاری رہی جس میں دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اگست 1990 میں صدام نے قرط پر چڑھائی کر کے اسے عراق میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا جس کے باعث لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ خلیج جنگ کے بعد عراق حکومت کے اندر اختلافات شروع ہوگئے۔ صدام حسین نے اپنے دامادوں کو بھی نہیں چھوڑا انہیں بھی قتل کر دیا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد عراق کو سرکش ریاست قرار دیا گیا۔ امریکہ صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے دعویٰ کیا کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار حاصل کر رہے ہیں جو خطے میں مغربی مفادات کیلئے نقصان دہ ہے لہٰذا اتحادی افواج نے مارچ 2003 میں عراق پر حملہ کر کے صدام حسین کی حکومت ختم کر دی جبکہ صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان دسمبر 2003 میں کیا گیا۔ صدام کے دو بیٹے ہا اور قصیرط جو روپوش تھے بائیس جولائی کو موصل میں امریکی فوج کے چھاپے کے دوران مارے گئے۔ دسمبر 2003 میں امریکی حکام نے صدام حسین کی گرفتاری کا اعلان کیا اور تیس جون 2004 کو انہیں عراق حکام کے حوالے کر دیا گیا جس کے بعد ان پر دجیل میں قتل عام کا مقدمہ چلایا گیا جبکہ پانچ نومبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی کی سزا سنائی اور تیس دسمبر کی صبح عراق کے معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیدی گئی۔

میمو گیٹ اسکینڈل کے معاملے پر پاکستان کی طاقتور فوج اور سویلین حکومت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔ جمعے کے روز چھپنے والے ڈان اخبار کے اداریے کے مطابق میمو اسکینڈل کے بعد پاکستانی فوج نے بغاوت کی ایک سازش بھی تیار کر لی تھی اور اب پاکستانی فوج اور موجودہ حکومت کے تعلقات ’ناقابل واپسی‘ موڑ پر پہنچ چکے ہیں۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے میمو گیٹ اسکینڈل کی مکمل تحقیقات کروانے کا کہا ہے تاکہ پتہ چلایا جا سکے کہ کی اس سازش کے پیچھے کون ہے؟ تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل کیانی کے اس مؤقف سے، پہلے ہی سے غیر مقبول صدر ‌زرداری کی شہرت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔  پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد پاکستان آرمی عوامی اور سیاسی سطح پر شدید تنقید اور دباؤ کی زد میں تھی تاہم 26 نومبر کو نیٹو حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستانی آرمی ایک مرتبہ پھر عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پاکستان میں صدر زرداری کی حکومت انتہائی غیرمقبول ہونے کی وجہ سے میموگیٹ اسکینڈل میں بھی لوگوں کی زیادہ تر ہمدردیاں فوج ہی کے ساتھ ہیں۔ مذکورہ بالا اسکینڈل میں صدر زرداری اور ان کے امریکہ میں تعینات سابق سفیر حسین حقانی امریکہ کے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں اور پاکستان میں پہلے ہی امریکہ مخالف جذبات اپنے عروج پر ہیں۔بیرونی مالی مدد پر انحصار رکھنے والی پاکستان کی موجودہ حکومت اہم ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام نظر آئی ہے، جن میں بجلی کی لوڈشیڈنگ، گیس کا بحران اور ملکی معیشت کی روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال سرفہرست ہیں۔ چند اعلیٰ فوجی افسران کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ ملکی فوج صدر زرداری سے تنگ آ چکی ہے اور قانونی طریقوں سے انہیں منصب صدارت سے فارغ کرنا چاہتی ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی فوج اور حکومت کے درمیان تعلقات خطرناک سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود یہ کہنا کہ پاکستانی فوج ماورائے آئین اقدامات کرتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے، قبل از وقت ہو گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستانی فوج اس وقت ملکی مشرقی سرحدوں سمیت شمالی مغربی سرحدوں پر بھی مصروف ہے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی اس مرتبہ آرمی کا ساتھ دیتی نظر نہیں آتیں۔ آج پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے بھی فوج کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔ انہوں نے جمعے کو میمو اسکینڈل سے متعلقہ مقدمے کی سماعت کے دوران کہا کہ اب عوام کا بھروسہ عدلیہ پر ہے اور اس لیے فوج کے اقتدار میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے اقتدار میں آنے کے امکانات کس قدر کم ہیں اس کا اندازہ گزشتہ روز دیے جانے والے پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ایک بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ  فوج ریاست کے اندر ریاست نہیں بنا سکتی اور وہ پوری طرح پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت دفاع سمیت تمام ملکی ادارے وزیر اعظم پاکستان کے ماتحت ہیں 

عرب ملکوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے اثرات اب سعودی عرب میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ریاض حکومت صرف چند معمولی اصلاحات کرتے ہوئے نوجوان طبقے کو مطمئن کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔
سعودی عرب کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے اور ریاض حکومت کی کوشش ہے کہ کسی بھی احتجاجی تحریک کے امکانات ختم کرنے کے لیے پہلے نوجوان طبقے کو مطمئن کیا جائے۔ ملک میں غیر ملکی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد کی موجودگی کو ایک طویل عرصے سے مقامی افراد کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اب سعودی نوجوانوں کو کس طرح ملازمتیں دی جائیں گی ؟ اس بارے میں سعودی دارالحکومت ریاض میں جرمن صنعت کاروں کے نمائندے آندریاس ہیرگن روئتھر کا کہنا ہے،’’ سعودی عرب کی آبادی تقریباً 28 ملین نفوس پر مشتمل ہے جبکہ اس میں سے سات ملین افراد غیر ملکی ہیں۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق اس وقت 31 فیصد سعودی نوجوان بے روزگار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیوں کو سعودی نوجوانوں کو ملازمتیں دینے کا پابند بنا دیا گیا ہے۔ تعمیر کے شعبے میں سعودی نوجوانوں کا کوٹہ پانچ، صنعتوں اور پیداواری شعبے میں 15، سروس سیکٹر میں 30 جبکہ بینکوں اور انشورنس کمپنیوں میں 50 فیصد رکھا گیا ہے۔‘‘ متحدہ عرب امارات میں ایک جرمن فاؤنڈیشن Konrad-Adenauer-Stiftung کے علاقائی سربراہ تھوماس بیرنگر کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں بحرین کے علاوہ کہیں بھی بڑے سماجی مسائل موجود نہیں ہیں لیکن یہاں کی نئی نوجوان نسل اپنے مسائل واضح طور پر منظر عام پر لانے کی ہمت رکھتی ہے اور یہی چیز حکمرانوں کو خوفزدہ کیے ہوئے ہے۔بیرنگر کے مطابق سعودی حکومت ملک میں بڑی اصلاحات اور جمہوری نظام کے قیام کے لیے تیار نظر نہیں آتی جبکہ یہ اصلاحات انتہائی ضروری ہیں، ’’اگر سعودی حکام ملک کو مستقل طور پر مستحکم کرنا چاہتے ہیں تو اصلاحات انتہائی ضروری ہیں۔ اگر یہ اصلاحات نہیں کی جاتیں یا پھر ان میں دیر کی جاتی ہے تو خلیجی ریاستوں کا استحکام واقعی خطرے میں ہو گا۔ بیرنگر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے زیادہ تر شہریوں کے لیے پیسہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اقتدار کا ہے۔ عشروں سے صرف ایک ہی خاندان برسر اقتدار ہے۔ شاہ عبداللہ کی صحت اب اکثر ٹھیک نہیں رہتی اور کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کے بعد یہ منصب سنبھالنے والا حکمران اصلاحات کر پائے گا بھی کہ نہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں صرف پیسہ ہی اس ملک کو مستحکم نہیں رکھ پائے گا بلکہ اقتدار میں عوامی شراکت کا بھی ایک اہم کردار ہو گا اور عوامی شراکت کے لیے سعودی عرب میں ابھی کوئی بھی تیار نظر نہیں آتا۔

اسلام آباد(طارق عزیز)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے صدر زرداری کی رخصتی کی صورت میں فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر صدر کے ساتھ عوام میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے کہا ہے کہ ساتھ آئے تھے ساتھ جائیں گے۔ اگر کسی سازش کے تحت صدر مملکت کو عہدہ سے فارغ کیا جاتا ہے تو وہ وزیراعظم رہنے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کرنے کو ترجیح دیں گے اور اپنا مقدمہ لے کر عوام کے پاس جائیں گے۔ اوصاف ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کے درمیان طویل ملاقات میں یہ بات زیر غور آئی کہ اگر مقتدر حلقے یا عدلیہ کی طرف سے صدر زرداری کو عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے تو اس صورت میں حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ وزیراعظم گیلانی نے واضح کیا ہے کہ اس صورت میں وہ فاروق لغاری بننے کی بجائے اسمبلیاں توڑ کر حکومت ختم کر دیں گے اور نئے مینڈیٹ کیلئے عوام سے رجوع کریں گے۔ ذرائع کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی کو یہ پیشکش کی جا رہی ہے کہ صدر زرداری کی ایوان صدر سے رخصتی کی شکل میں وہ وزیراعظم رہ سکتے ہیں اور حکومت جاری رکھ سکتے ہیں۔ پیپلزپارٹی زرداری کی جگہ کسی اور شخصیت جو صاف ستھری کردار کی حامل ہو انہیں صدر مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ اوصاف کو معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر صدر گئے تو پھر وزیراعظم، حکومت اور اسمبلیاں بھی جائیں گی۔ وزیراعظم گیلانی کا کہنا ہے کہ سابق صدر فاروق لغاری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کر کے سرائیکی خطہ پر بے وفائی کا جو داغ لگایا تھا وہ صدر کے ساتھ رخصت ہو کر وہ داغ دھو دیں گے۔ صدر زرداری اور وزیراعظم گیلانی کسی بھی سازش کے مقابلہ کیلئے تیار ہیں، وہ سرنڈر کرنے کی بجائے حالات کا مقابلہ کریں گے جس کی جھلک وزیراعظم گیلانی کی قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر صاف دکھائی دے رہی تھی۔ ذرائع کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے صدر زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایوان صدر کے خلاف کسی قسم کی سازش میں وزارت عظمیٰ کے عہدے کو آڑے نہیں آنے دیں گے۔ وزیراعظم گیلانی سمجھتے ہیں کہ وہ پیپلزپارٹی اور صدر زرداری کی وجہ سے ایوان وزیراعظم بیٹھے ہیں، زرداری کی ایوان صدر سے کسی سازش کے تحت رخصتی کی صورت میں ان کا وزیراعظم رہنا محترمہ بے نظیر بھٹو، صدر زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی سے غداری ہوگی جس کے وہ کسی صورت میں مرتکب نہیں ہو سکتے۔ اوصاف ذرائع کے مطابق وزیراعظم گیلانی پیپلزپارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا وہ احسان چکانا چاہتے ہیں جب سابق صدر پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے درمیان جولائی، اگست 2007ء میں دبئی میں ملاقات ہوئی اور مل کر چلنے کی بات چیت چل رہی تھی تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے جنرل پرویز مشرف سے اپنی گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ جنرل صاحب ہمارا بندہ (یوسف رضا گیلانی) آپ نے پانچ سال سے جیل میں ڈال رکھا ہے ہم آپ سے کیا بات کریں۔ پیپلزپارٹی کے سینئر وائس چیئرمین گیلانی اڈیالہ جیل میں بند ہیں پہلے آپ انہیں رہا کریں پھر اگلی بات ہوگی۔ جس کے بعد یوسف رضا گیلانی کی رہائی ممکن ہوئی تھی۔ وزیراعظم گیلانی محترمہ کے اس احسان کو نہیں بھولے اور زرداری کی طرف سے وزیراعظم بنائے جانے پر بھی ان کے احسان مند ہیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر وزیراعظم گیلانی نے کسی قسم کی بے وفائی یا قیادت سے غداری کی بجائے صدر مملکت کا مکمل ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے

وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔قومی اسمبلی کا اجلاس سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کی تقریبات کے باعث ایک ہفتے کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔ جمعرات کے اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب معمول کا خطاب نہیں تھا۔ قبل ازیں وہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں قائداعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر کے آئے تھے وہ اس تقریب میں بین السطور بہت کچھ یہ کہہ کر آئے تھے۔ لیکن انہوں نے رہی سہی کسر قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکال دی، انہوں نے پہلی بار کھل کر حکومت کو لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ختم کرنے (pack up) پیک اپ کی سازش کی جا رہی ہے، اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ انہیں منتخب لوگ چاہئیں یا آمریت۔   جب وزیراعظم گیلانی ایوان میں آئے تو انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارا، حکومتی ارکان کو جو پچھلے کئی روز سے میمو گیٹ سکینڈل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں وزیراعظم کے طرز کلام پر حیران و ششدر تھے ان کو جمہوری نظام کی بساط لپٹتے دکھائی دے رہی تھی جبکہ اپوزیشن، مسلم لیگ (ن) حکومت کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی، لیکن اس مشکل صورتحال قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان جمہوری نظام کے استحکام کے لئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔  انہوں نے جمعرات کو ہی وزیراعظم کی پارلیمانی قوت بڑھا دی اور کہا کہ وہ ایک بار پھر حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ ملک میں ایسے غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرتے، اگر حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور گھر بھجوانے کے لئے غیر جمہوری اقدام کی حمایت کرنا ہوتی تو تین سال قبل کرتے، جب آصف علی زرداری ہم سے اور ایسٹبلشمنٹ سے وعدہ خلافی کر کے خود صدارتی امیدوار بن گئے۔ وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔   یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے بجائے ایک ہفتہ کی چھٹی دے دی اور 29 دسمبر کی شام پانچ بجے اجلاس بلا لیا وزیراعظم ایوان میں گویا ہوئے، پارلیمنٹ ہاوس کی غلام گردشوں میں وزیراعظم گیلانی کا جارحانہ انداز میں خطاب اور اس کے تناظر میں حکومت کا مستقبل موضوع گفتگو تھا حکومتی ارکان کے چہروں سے ان کی پریشانی نمایاں نظر آتی تھی۔تحریر:نواز رضا

پاک فوج کے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ افغان فوج کے مذکورہ افسر نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی سازش افغان اور بھارتی انٹیلی جنس کی ایماء پر تیار کی۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر کا نیٹو حملہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا جس میں افغان فوج کا مذکورہ افسر اور افغان اور ایک دوسرے ملک کے انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ پاکستان نے 26 نومبر کو مہمند ایجنسی کے علاقے میں سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کرنے کی ’سازش‘ کا ذمہ دار افغان فوج کے مقامی کمانڈر کو قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغان فوجی کمانڈر کے بارے میں یہ انکشاف اس تفتیش کے بعد سامنے آیا ہے جو پاکستان نے اس واقعے کے بارے میں اپنے طور پر کی ہے۔ اس تفتیش کے کچھ حصے پاکستان نے افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے حوالے بھی کیے ہیں جو اس سارے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ پاکستانی فوجی حکام کا خیال ہے کہ افغان نیشنل آرمی کے مذکورہ افسر کے خلاف پاکستان نے جو شواہد نیٹو افواج کو فراہم کیے ہیں ان کی بنیاد پر اس افسر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس تفتیش کے نتائج سے باخبر ایک سینئر فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ 26 نومبر کو پاکستانی چوکی پر حملے کی تمام تر ذمہ داری افغان نیشنل آرمی کے اس فوجی کمانڈر پر عائد ہوتی ہے جس کی زیرکمان اس علاقے میں افغان فوج پٹرولنگ کرتی ہے۔  پاک فوج کے تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ افغان فوج کے مذکورہ افسر نے پاکستان کے خلاف اس حملے کی سازش افغان اور بھارتی انٹیلی جنس کی ایماء پر تیار کی۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 26 نومبر کا نیٹو حملہ ایک سازش کے تحت کیا گیا تھا جس میں افغان فوج کا مذکورہ افسر اور افغان اور ایک دوسرے ملک کے انٹیلی جنس اہلکار شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سلالہ کے مقام پر پاکستانی پوسٹ پر حملے میں کوئی امریکی اہلکار ملوث نہیں تھا۔ اس معاملے کی تحقیق پر مامور سینئر پاکستانی فوجیوں نے مقامی فوجی کمانڈرز کے انٹرویوز اور واقعاتی شہادتوں کی بنا پر اس رات پیش آنے والے واقعے کی جو تصویر بنائی ہے اس کے مطابق 25اور 26 نومبر کی درمیانی رات سلالہ چیک پوسٹ پر تعینات محافظوں نے ایک ایسے مقام پر نقل و حرکت دیکھی جو ماضی میں طالبان شدت پسندوں کی آمد و رفت کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ اس پہاڑی نالے کی گزر گاہ کے بارے میں امریکی حکام نے پاکستان کو انٹیلی جنس فراہم کی تھی کہ سوات اور مالاکنڈ کی جانب جانے والے طالبان شدت پسند یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ پاکستانی پوسٹ کے کمانڈر نے یہ نقل و حرکت دیکھتے ہی گولی چلانے کا حکم جاری کر دیا کیونکہ اس طرح کی صورتحال کے لیے فوجی کمان کو یہی طریقہ کار اختیار کرنے کا حکم (ایس او پیز) دیا گیا ہے۔ فغان فوجی گشتی پارٹی ایک ایسے مقام پر موجود تھی جو روزمرہ کے گشتی زون میں نہیں آتا اور اس علاقے میں گشتی پارٹی کو داخل ہونے سے بہتر گھنٹے قبل پاکستانی حکام کو اطلاع فراہم کرنا ہوتی ہے۔ اور پاکستانی پوسٹ کی جانب سے افغان پارٹی پر براہ راست فائرنگ کی گئی، اس کے باوجود افغان گشتی پارٹی کی جانب سے اس صورتحال کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ اس فائرنگ کے چند منٹ کے اندر ہی فضا میں نیٹو کے ہیلی کاپٹر آئے اور انہوں نے پاکستانی پوسٹ پر فائرنگ کی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پاکستانی فوجی پوسٹ پر سے جنہیں مشتبہ شدت پسند سمجھ کر فائرنگ کی گئی وہ افغان فوج کی گشتی پارٹی تھی۔  پاکستانی تفتیش کاروں کے مطابق یہ سب سازش کے تحت ہوا۔ اس کی وجہ فوج کی طرف سے تیار کردہ رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ افغان فوجی گشتی پارٹی ایک ایسے مقام پر موجود تھی جو روزمرہ کے گشتی زون میں نہیں آتا اور اس علاقے میں گشتی پارٹی کو داخل ہونے سے بہتر گھنٹے قبل پاکستانی حکام کو اطلاع فراہم کرنا ہوتی ہے۔ دوسری وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ پاکستانی پوسٹ کی جانب سے افغان پارٹی پر براہ راست فائرنگ کی گئی، اس کے باوجود افغان گشتی پارٹی کی جانب سے اس صورتحال کے لیے مقرر کردہ طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ پاکستانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی چیک پوسٹ کی پوزیشن مقامی افغان کمانڈرز کو اچھی طرح معلوم تھی اس کے باوجود جوابی کارروائی کے لیے نیٹو افوج کو بلانا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ مقامی افغان فوجی کمانڈر نے ایک سازش کے تحت گشتی پارٹی کو ممنوعہ علاقے میں بھیجا، پھر فائر کی زد میں آتے ہی بلا تاخیر یا بلا تنبیہ نیٹو حملے کی دعوت دینے کے خصوصی ‘لنک سولہ’ کو استعمال کیا جو صرف شدت پسندوں کے خلاف بڑی کارروائیوں کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے۔ پاکستانی حکام نیٹو افواج کو اس حد تک اس حملے میں قصوروار ٹھہراتے ہیں کہ لنک سولہ پر حملے کی دعوت ملنے پر کنٹرول روم میں موجود نیٹو افسر نے حملہ کرنے کی جگہ کو نقشے پر چیک کیے بغیر حملہ آور روانہ کر دیے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر نیٹو کا متعلقہ افسر غفلت کا مظاہرہ نہ کرتا اور مروجہ طریقہ کار کے مطابق نقشے پر سے حملے کا مقام دیکھ لیتا تو اس معلوم ہو جاتا کہ نہ صرف یہ مقام پاکستانی سرحد کے اندر تھا بلکہ وہاں ایک پاکستانی فوجی چوکی بھی موجود تھی۔ خیال رہے کہ نیٹو کی جانب سے بھی اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور یہ تحقیقاتی رپورٹ 27 دسمبر کو جاری کی جانی ہے۔

اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کشیدگی میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے تو پاکستان پر بھی ایٹمی مواد کی پیداوار کو روکنے لئے دباؤ بڑھا رہا ہے، تاہم ایران پر عالمی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور ان پابندیوں کو اس لئے ضروری سمجھتا ہے کہ اس طرح ملٹری آپریشن کے بغیر ایران کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ وہ مغرب میں اپنے اتحادیوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے چکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دیں۔ اس معاملہ کو امریکہ سلامتی کونسل میں بھی لے جانا چاہتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (IAEA) نے کسی قرارداد کو جو ایران کے خلاف ہو کو فی الحال سلامتی کونسل کے پاس بھجوانے کے عمل کو ملتوی کر دیا ہے، تاکہ دنیا کو کچھ وقت میسر آسکے تاکہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرسکے۔ عالمی ایٹمی ادارے کا اگلا اجلاس مارچ 2012ء میں ہو گا۔  اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف ایسی کوششیں تو کر رہا ہے مگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کا ہوّا کھڑا کر کے ان سے مال اینٹھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کو بھی امریکیوں نے یہ سمجھایا کہ یہ پروگرام پاکستان کے خلاف ہے، اس پر پاکستانیوں کا ردعمل معمول کا تھا کہ ایران نے ہمارے پروگرام پر اعتراض نہیں کیا تو ہم ان کے پروگرام پر کیوں اعتراض کریں۔ دوسرے امریکہ پاکستان پر ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے پر ایران جیسا دباؤ ڈال رہا ہے تو پاکستان اور ایران دونوں ہی امریکی دباؤ کا شکار ہیں۔ پھر پاکستان کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی معاملے میں پڑے اور اپنی اہمیت بڑھائے کیونکہ اس کی سرحدوں کے قریب ایٹمی تنصیبات پر حملہ سے پاکستان متاثر ہو سکتا ہے اور ایٹمی تابکاری کے اثرات پاکستان تک پہنچ کر تباہی مچا سکتے ہیں۔ اسرائیل بار بار یہ دہرا رہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ضروری ہو گیا ہے۔ اس سے پاکستان کی سرحدوں کے قریب جنگ چھڑ سکتی ہے، جو ایک ایٹمی ملک کے لئے درست نہیں ہو گا۔ اسرائیل اگر ایران پر حملہ کرتا ہے تو انتہائی شدید ہو گا اور ایران کی کم از کم 200 تنصیبات اس کی زد میں آئیں گی۔ اس سے پہلے ایران کا فضائی دفاعی نظام، میزائل داغنے کے مراکز، ریڈار، مواصلاتی نظام تباہ کیا جائے گا اور پھر جا کر وہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکے گا۔ یہ ایک قسم کی مکمل جنگ ہو گی جو پاکستان کا رُخ بھی کر سکتی ہے۔  اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔ اسی طرح وہ اگر ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ پاکستان پر اسرائیل کے جہازوں کے ذریعے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس حملے سے افغانستان بھی بُری طرح متاثر ہو گا بلکہ پورا خطہ جس میں بھارت بھی شامل ہو گا اس کی زد میں آسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اور مسائل پیدا ہو جائیں گے۔  بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو جلا ملے گی، جو ہمارے اسٹرٹیجک مفادات کے خلاف ہے۔ دوسری طرف اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو وہ پھر عالمی ایٹمی تنظیم اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ سے آزاد ہو گا۔ وہ اپنے تمام ذرائع استعمال کرے گا اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا۔ اس کا لبنان میں پھیلا ہوا ہاتھ حزب اللہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا میں تیل کی سپلائی روک سکتا ہے، جو دنیا کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا باعث بن جائے گا۔  یہ اسرائیل کو بہت بھاتا ہے، اسرائیلیوں کی تعداد بہت کم ہے، وہ دنیا کی تعداد کم کر کے اپنے آپ کو آبادی کے لحاظ سے اچھے مقام پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر حملہ ہوا تو پھر ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے کا حق مل جائے گا کہ وہ اپنے دفاع میں یہ کر رہا ہے۔ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر قدم بہ قدم ایک ایسا روڈمیپ تیار کرائے، جس سے عرب بھی ناراض نہ ہوں اور ایران کا وقار بھی مجروح نہ ہو۔ وہ ایران کا اعتماد بھی بحال کر سکتا ہے اور وہ بشمول روس و چین ایران کو ایٹمی چھتری فراہم کر سکتا ہے اور امریکہ مسلمان بھائی عربوں کو لوٹنے کا جو پروگرام بنا رہا ہے اس سے اُن کو بچایا جا سکے۔   ابھی تک عالمی ایٹمی ایجنسی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے جو انسپیکشن کئے ہیں اُن میں اس نے سختی اور اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے کو پیش نظر رکھا ہے اور ایران نے بھی اُن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ملٹری کا عمل دخل موجود نہیں ہے۔ ایرانی کہتے ہیں کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا ہوّا اسی طرح کا ایک جھوٹا فریب ہے جیسا کہ عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا، عراق پر قبضہ کے بعد بھی کبھی کچھ حاصل نہ ہو سکا، اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی پاکستان کی سرحدوں کے خلاف کوئی جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ تحریر:نصرت مرزا

جزیرۃ العرب میں رسول اسلام خاتم النبیین رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نورانی ظہور اور الہی معیارات پر قائم اسلامی احکام و دستور سے مقہور دور جاہلیت کے پروردہ امیہ و ابوسفیان کے پوتے یزید ابن معاویہ اور ان کے ذلہ خواروں کے ہاتھوں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے بعد ظلم و استبداد کے نشہ میں چور اموی ملوکیت نے عصر جاہلیت کے انسانیت سوز رسم و رواج از سر نو، اسلامی معاشرے میں رواج دینے پر کمر باندھ لی ۔بنی امیہ کے اس استبدادی دور میں حسینی انقلاب کے پاسبان امام زين العابدین علیہ السلام  کی ذمہ داریاں شعب ابی طالب میں محصور توحید پرستوں کی سختیوں ، بدر و احد کے معرکوں میں نبردآزما جیالوں کی تنہائیوں ، جمل و صفین کی مقابلہ آرائیوں میں شریک حق پرستوں اور نہروان و مدائن کی سازشوں سے دوچار علی (ع) و حسن (ع) کے ساتھیوں کی جان فشانیوں اور میدان کربلا میں پیش کی جانے والی عظیم قربانیوں کے مراحل سے کم حیثیت کی حامل نہیں تھیں ۔قرآن کی محرومی ،اسلام کی لاچاری اور آل رسول (ص) کی مظلومی کے ” یزید زدہ ” ماحول میں امام سجاد (ع)  کی حقیقی انقلابی روش میں گویا اسلام و قرآن کی تمام تعلیمات جمع ہوگئی تھیں اور اسلامی دنیا آپ کے کردار و گفتار کے آئینہ میں ہی الہی احکام و معارف کا مطالعہ اور مشاہدہ کررہا تھا ۔روز عاشورا نیزہ و شمشیر اور سنان و تیر کی بارش میں امام حسین (ع) کے ساتھ ان کے تمام عزیز و جاں نثار شہید کردئے گئے مردوں میں صرف سید سجاد (ع) اور بچوں میں امام باقر (ع) شہادت کے کارزار میں زندہ بچے تھے جو حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ اہل حرم کے قافلہ سالار تھے ۔خون اور آگ کے درمیان امامت و ہدایت کی یہ دونوں شمعیں الہی ارادہ اور فیصلے کے تحت محفوظ رکھی گئی تھیں جنہوں نے اپنی نرم و لطیف حکمت آمیز روشنی کے ذریعہ عاشورا کے پیغامات تاریخ بشریت میں جاوداں بنادئے ۔امام زين العابدین علیہ السلام کو خدا نے محفوظ رکھا تا کہ وہ اپنی 35 سالہ تبلیغی مہم کے دوران عاشورا کے سوگوار کے طور پر اپنے اشکوں اور دعاؤں کے ذریعہ اموی نفاق و جہالت کو ایمان و آگہی کی قوت عطا کرکے عدل و انصاف کی دار پر ہمیشہ کے لئے آویزاں کردیں اور دنیا کے مظلوموں کو بتادیں کہ اشک و دعا کی شمشیر سے بھی استبدادی قوتوں کے ساتھ جہاد و مقابلہ کیا جا سکتا ہے ۔ظلم و عناد سے مرعوب بے حسی اور بے حیائي کے حصار میں بھی اشک و دعا کے ہتھیار سے تاریکیوں کے سینے چاک کئے جا سکتے ہیں اور پرچم حق کو سربلندی و سرافرازی عطا کی جا سکتی ہے ۔چنانچہ آج تاریخ یہ کہنے پر مجبور ہے کہ کبھی کبھی اشک و دعا کی زبان آہنی شمشیر سے زیادہ تیز چلتی ہے اور خود سروں کے سروں کا صفایا کردیتی ہے ۔امام زین العابدین ،سید سجاد، عبادتوں کی زینت ، بندگي اور بندہ نوازی کی آبرو ، دعا و مناجات کی جان ، خضوع و خشوع اور خاکساری و فروتنی کی روح سید سجاد جن کی خلقت ہی توکل اور معرفت کے ضمیر سے ہوئی ، جنہوں نے دعا کو علو اور مناجات کو رسائي عطا کردی ،جن کی ایک ایک سانس تسبیح اور ایک ایک نفس شکر خدا سے معمور ہے جن کی دعاؤں کا ایک ایک فقرہ آدمیت کے لئے سرمایۂ نجات اور نصیحت و حکمت سے سرشار ہے امام زين العابدین علیہ السلام کی مناجاتوں کے طفیل آسمان سجادۂ بندگي اور زمین صحیفۂ زندگي بنی ہوئی ہے ۔آپ کی ” صحیفۂ سجادیہ ” کا ایک ایک ورق عطر جنت میں بسا ہوا ہے اور آپ کی صحیفۂ کاملہ کاایک ایک لفظ وحی الہی کا ترجمان ہے اسی لئے اس کو ” زبور آل محمد ” کہتے ہیں آپ خود سجاد بھی ہیں اور سید سجاد بھی ،عابد بھی ہیں اور زین العابدین بھی ۔کیونکہ عصر عاشور کو آپ کے بابا سید الشہداء امام حسین (ع) کا ” سجدۂ آخر ” گیارہ کی شب ، شام غریباں میں آپ کے ” سجدۂ شکر ” کے ساتھ متصل ہے ۔اکہتر قربانیاں پیش کرنے کے بعد امام حسین (ع) نے ” سجدۂ آخر ” کے ذریعہ سرخروئي حاصل کی اور جلے ہوئے خیموں کے درمیان ، چادروں سے محروم ماؤں اور بہنوں کی آہ و فریاد کے بیچ ، باپ کے سربریدہ کے سامنے سید سجاد کے ” سجدۂ شکر ” نے ان کو زین العابدین بنادیا ۔نماز عشاء کے بعد سجدۂ معبود میں رکھی گئی پیشانی اذان صبح پر بلند ہوئی اور یہ سجدہ شکر تاریخ بشریت کا زریں ترین ستارۂ قسمت بن گیا ۔باپ کا سجدۂ آخر اور بیٹے کا سجدۂ شکر اسلام کی حیات اور مسلمانوں کی نجات کا ضامن ہے ۔در حقیقت صبر و شجاعت اور حریت و آزادی کے پاسبان امام زين العابدین ، طوق و زنجیر میں جکڑدئے جانے کے باوجود لاچار و بیمار نہیں تھے بلکہ کوفہ و شام کے بے بس و لاچار بیماروں کے دل و دماغ کا علاج کرنے کے لئے گئے تھے ۔کوفہ بیمار تھا جس نے رسول (ص) و آل رسول (ص) سے اپنا اطاعت و دوستی کا پیمان توڑدیا تھا، کوفہ والے بیمار تھے جن کے سروں پر ابن زیاد کے خوف کا بخار چڑھا ہوا تھا اور حق و باطل کی تمیز ختم ہوگئی تھی شام بیمار تھا جہاں ملوکیت کی مسموم فضاؤں میں وحی و قرآن کا مذاق اڑایا جا رہا تھا اور اہلبیت نبوت و رسالت کومعاذاللہ ” خارجی ” اور ترک و دیلم کا قیدی قرار دیا جا رہا تھا ۔شام والے بیمار تھے جو خاندان رسول کے استقبال کے لئے سنگ و خشت لے کر جمع ہوئے تھے لیکن امام سجاد ان کے علاج کے لئے خون حسین (ع) سے رنگین خاک کربلا ساتھ لے کر گئے تھے کہ بنی امیہ کی زہریلی خوراک سے متاثر کوفیوں اور شامیوں کو خطرناک بیماریوں سے شفا عطا کریں ۔چنانچہ علی (ع) ابن الحسین (ع) اور ان کے ہمراہ خاندان رسول (ص) کی خواتین نے اپنے خطبوں اورتقریروں کی ذوالفقار سے کوفہ و شام کے ضمیر فروشوں کے سردو پارہ کردئے کوفہ جو گہرے خواب میں ڈوبا ہوا تھا خطبوں کی گونج سے جاگ اٹھا شام نے جو جاں کنی کی آخری سانسیں لے رہا تھا زنجیروں کی جھنکار سے ایک نئي انگڑائی لی پورے عالم اسلام میں حیات و بیداری کی ایک ہلچل شروع ہوئی اور اموی حکومت کے بام و در لرزنے لگے

پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں غیرت کے نام پر کم از کم 675 خواتین کو قتل کر دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اس ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے یہ اعدادوشمار خبر رساں ادارے اے ایف پی  کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہلاکتیں رواں برس جنوری سے ستمبر کے دوران ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے دسمبر کے دوران پیش آنے والے واقعات کی معلومات فی الحال ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اہلکار کی جانب سے دیے گئے ان اعدادوشمار سے قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں خواتین کے خلاف تشدد کی نوعیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جنہیں اکثر دوسرے درجے کے شہری خیال کیا جاتا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کے خلاف کوئی قانون بھی نہیں ہے۔ ایچ آر سی پی کے اس اہلکار کے مطابق رواں برس کے پہلے نو ماہ کے دوران قتل کی گئی خواتین میں سے کم از کم اکہتر کی عمریں اٹھارہ سال سے کم تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستمبر تک قتل کی گئی عورتوں میں سے تقریباﹰ ساڑھے چار سو پر ’ناجائز تعلقات‘ کا الزام تھا جبکہ ایک سو انتیس کو اپنی مرضی سے شادی کرنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ بعض عورتوں کو قتل سے پہلے انہیں جنسی زیادتی یا پھر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا ساڑھے چار سو کے قریب خواتین کو ناجائز تعلقات رکھنے کے الزام پر قتل کیا گیا کم از کم انیس خواتین کو ان کے بیٹوں نے قتل کیا، انچاس اپنے اپنے والد کے ہاتھوں جان سے گئیں جبکہ ایک سو انہتر کو ان کے شوہروں نے مار دیا۔ گزشتہ برس اس کمیشن نے غیرت کے نام پر ہونے والی سات سو اکانوے ہلاکتوں کی رپورٹ دی تھی۔ اس تناظر میں اس اہلکار کا کہنا ہے کہ رواں برس بھی ان ہلاکتوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہو گا۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق قتل کے نام پر قتل کی وارداتوں کے حوالے سے کسی حد تک پیش رفت کے باوجود حکومت کو خواتین کے قتل کے مرتکب افراد کو سزائیں دینے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پولیس اکثر اوقات ایسے مقدمات کو نجی اور خاندانی امور قرار دیتے ہوئے خارج کر دیتی ہے۔

جنوری میں صدر کو دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، اس بار منزل دبئی نہیں لندن ہو گی جہاں سے استعفیٰ آئیگا، 27 دسمبر کو زرداری ’’الوداعی خطاب‘‘ کریں گے، پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا، ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا، اپنی نااہلی سے ڈرتے ہوئے وزیراعظم سوئس حکومت کو صدر کیخلاف خط لکھیں گے، صدر کو عہدہ چھوڑنے پر سوئس کیسز سے بچنے کی رعایت دی جا سکتی ہے ملک کے موجودہ اور مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کے حوالے سے مقتدر اور باخبر حلقوں کے حوالے سے ذرائع نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے پاکستان پہنچنے کے باوجود ملک میں جاری افواہوں اور سازشوں کا طوفان دم توڑنے کا نام نہیں لے رہا، اب ایک نئی خفیہ سازش کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کے مطابق زرداری صاحب کا کراچی لوٹنا دراصل اس سیاسی کھیل کا آخری منظر ہے جس کا آغاز جنوری میں شروع ہونے والا ہے۔ اس نئی سازش کے لکھاری کے بقول جو ان حلقوں تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اس طرح کی کہانیاں سیاسی حکومتوں کے خلاف سنائی جاتی رہتی ہیں، کے مطابق صدر پاکستان کو دوبارہ جنوری میں ’’دل کا دورہ پڑ سکتا ہے‘‘ اور اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو سکتی ہے جہاں سے وہ خرابی صحت کی بناء پر اپنا استعفیٰ بھی بھیج سکتے ہیں۔ ایک سیاسی پنڈت کے بقول پاکستان میں جب بھی سیاست دان اقتدار میں ہوں تو اس وقت اس طرح کی سازشیں ہر وقت بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں کیونکہ اس طرح کا کھیل سیاسی حکومتوں کے ساتھ کھیلنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور افواہوں اور جوڑ توڑ کی منڈی میں اس طرح کے سودے دستیاب ہوجاتے ہیں جو عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔   ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسی نئی تھیوری کا پتہ چلا ہے جس کے مطابق کہ اگر جنوری میں صدر زرداری کو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کی خبر سامنے آ جائے تو پھر سمجھا جانا چاہیے کہ وہی کچھ ہونے والا ہے جو انہوں نے پاکستانی سیاسی ستاروں کی چالیں دیکھ کر بتایا ہے۔ اس ’’سیاسی نجومی‘‘ کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارے، بلکہ ایک لکھے ہوئے سکرپٹ پر صرف اداکاری کر ے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے خلاف دی گئی فائنل ہدایت کے بعد کہ اب وزیراعظم گیلانی کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ سوئس حکومت کو اپنے صدر اور پارٹی کے سربراہ کے خلاف دوبارہ مقدمات کے لئے خط لکھیں (اگرچہ وزیراعظم گیلانی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے سیاست ترک کر دیں گے)۔ اگر وزیراعظم خط نہیں لکھتے تو پھر سپریم کورٹ انہیں توہین عدالت کے الزام میں نااہل قرار دے سکتی ہے جس سے ان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، تاہم زرداری صاحب کو یہ آفر کی جارہی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ کھلوانے سے بچنے کے لیے اگر صدارت چھوڑ دیں تو انہیں رعایت دی جا سکتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق وزیراعظم گیلانی کی فوج کے ساتھ صدر زرداری کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور ایک ہی مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ صدر زرداری خود صدارت اور سیاست چھوڑ دیں۔ اس کے بدلے میں ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان میں سیاست کرنے کی اجازت ہو گئی اور ان کی پارٹی کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یوں زرداری صاحب بلاول کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کو انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لیے خود صدارت چھوڑنے پر تیار ہو جائیں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی پس منظر میں موجودہ سیاسی ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا جس میں آصف علی زرداری صدر نہیں رہیں گے لیکن اس سے پہلے انہیں ستائیس دسمبر کو نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کے چوتھی برسی پر تقریر کرنے کا موقع دیا جائے گا جو ایک لحاظ سے ان کا ’’الوداعی خطاب‘‘ ہو گا۔ اس خطاب کے بعد جنوری میں صدر زرداری کی طبعیت ایک بار پھر ناساز ہو جائے گی، دل کے عارضے کی وجہ سے انہیں ایوان صدر سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے چکلالہ ائیر بیس لے جایا جائے گا جہاں سے انہیں علاج کے لیے ایک خصوصی طیارے پر بیرون ملک روانہ کیا جائے گا، لیکن اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے گا جہاں وہ فروری تک رہیں گے۔  فروری کے آخر میں صدر صاحب اپنے صدارتی اور پارٹی کے عہدوں سے خرابی صحت کی بنیاد پر مستعفی ہوجائیں گے۔ ان کی جگہ سندھ سے ہی پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو صدر بنایا جائے گا جس پر’’ سب‘‘ کا اتفاق ہو گا۔ تاہم اس دروان سینیٹ آف پاکستان کے انتخابات ہوں گے اور پیپلز پارٹی کو سینٹ میں اکثریت لینے دی جائے گی جو کہ آخری ایکٹ (اسے ڈیل سمجھیں) کا حصہ ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت مل جانے کے بعد وزیراعظم گیلانی خود ہی اپنی حکومت اور پارلیمنٹ کو توڑنے کی سفارش کریں گے اور ساتھ ہی ایک کیئرٹیکر حکومت قائم ہو جائے گی جو کہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلیاں بھی توڑ دی جائیں گی۔ اس اثناء میں عمران خان ایک پٹیشن لے کر سپریم کورٹ پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک بھر میں نئے ووٹ رجسٹر نہیں ہوتے اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہاب الخیری صاحب بھی ایک پٹیشن لے کر عدالت کے دروازے پر پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک سے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہوتا، اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالت یہ دونوں درخواستیں مان کر نگران حکومت کو نوے دن میں انتخابات کرانے کی آئینی شق سے بری کر دے گی اور انتخابات 2013ء کے وسط تک کے لیے ملتوی کر دیئے جائینگے۔ انتخابات کے بعد ایک نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی جس پر عوام کے علاوہ عالمی برادری بھی بھروسہ کرے گی، یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ نئی لیڈرشپ کون ہے۔

لندن :  ہر چار میں سے ایک سے زائد برطانوی خواتین کا پہلا جنسی تجربہ 16 سال سے کم عمر میں ہوا جس کی شرح سابقہ نسل سے بہت زیادہ ہے۔ اس امر کا اظہار اعدادوشمار میں کیا گیا۔ہیلتھ سروے فار انگلینڈ کے اعدادوشمار کے مطابق 16سے24سال عمر کی29فیصد خواتین کا پہلی بار جنسی تجربہ ان کی رضامندی کی عمر سے قبل ہوا ۔ اس کے برعکس اس عمر کے مردوں میں یہ شرح22فیصد ہے۔2010ء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنسی رویئے نسل در نسل تبدیل ہو گئے ہیں جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ 16سال سے کم عمر میں پہلے جنسی تجربے سے گزرنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔55سے69سال عمر کے صرف15فیصد مردوں اور 4 فیصد خواتین کا کہنا تھا کہ ان کا پہلا جنسی تجربہ 16سال سے کم عمر میں ہوا۔اس کے برخلاف 45 سے 54سال عمر کے18 فیصد مردوں اور10فیصد خواتین نے 16سال سے کم عمری میں پہلا جنسی تجربہ کیا۔ایسے مرد وخواتین جن کی عمریں اس وقت 35سے44سال عمر کے درمیان ہیں ان میں سے 22 فیصد مردوں اور17فیصد خواتین نے اپنا پہلا جنسی تجربہ16 سال سے کم عمری میں کیا۔ رپورٹ کے مطابق 16 سے 24 سال عمر کے مردوزن نے 13 یا زائد سیکس پارٹنر بدلے۔ تاہم اسی ایج گروپ کے 32 فیصد مرد اور 26 فیصد خواتین نے اس پیریڈ میں جنسی زندگی شروع نہ کرنے کا بھی اظہار کیا۔ اس کے علاوہ تمام ایج گروپس میں ایک مرد نے تمام زندگی میں اوسطاً 11.3 فیصد خواتین سے سیکس کیا جبکہ خواتین میں یہ شرح 6.7 فیصد رہی۔دریں اثنا سیکس ٹوڈے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالغان میں موٹاپے کی شرح 1993ء کے بعد سے بلند ترین سطح پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010ء میں 26فیصد مر دوخواتین موٹے ہیں جوکہ1993 ء میں 13فیصد تھی ۔ دوسری جانب مجموعی طور پر 16فیصد مردوں اور 17فیصد خواتین میں دمہ کی تشخیص ہوئی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ میں شدت پیدا کرنے کی تاکید کرتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ تہران اس وقت شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔ باراک اوباما نے مزید دعوی کیا کہ ایران آج عالمی سطح پر الگ تھلگ ہوچکا ہے جبکہ عالمی برادری متحد ہے اور تہران پر شدید ترین پابندیاں لگائي جا چکی ہیں۔ امریکی حکام جن پابندیوں کی بات کررہے ہیں ان میں ایران کے تیل اور سنٹرل بینک پر لگائي جانے والی پابندیاں سرفہرست ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپی یونین میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی ایران پر لگائي جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں امریکہ کا ساتھ دینے کے بارے میں تشویش میں مبتلاء ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے تیل پر پابندی سے امریکہ اور اس سے بڑھ کر یورپ کے اقتصاد پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب مشرق وسطی کی تیزی سے بدلتی ہوئي صورتحال اور اس خطے میں امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے توانائی کے بارے میں مختلف خدشات پاۓ جاتے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہےکہ باراک اوباما اس طرح کے بیانات کے برعکس ایران کے خلاف لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے تشویش میں مبتلاء ہیں لیکن چونکہ وائٹ ہاؤس پر صیہونی لابی کا دباؤ ہے اس لۓ وہ آئندہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لۓ ایران سے متعلق امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اس لۓ امریکی حکام کے رویۓ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ روس اور چین جیسے ممالک کہ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں یا یورپی یونین کے اراکین ، کہ جن کو وائٹ ہاؤس اپنے اتحادی قرار دیتا ہے اس سلسلے میں واشنگٹن کی پیروی گے۔ اقتصادی اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ خطے میں قیام امن کے سلسلے میں ایران کے کلیدی کردار کے پیش نظر اور توانائی کا اہم حصہ برآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناتے نیز دوسری متعدد وجوہات کی بنا پر ایران پر دباؤ کے لۓ امریکہ کے منظور نظر اتحاد کی تشکیل کا دعوی بالکل بے بنیاد ہے۔ اور یہ جو جمعے کے دن برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں تہران کے خلاف زیادہ پابندیوں کا مطالبہ کیا گيا لیکن ان پابندیوں پر عملدرآمد کو آئندہ مہینوں تک کے لۓ ملتوی کردیا گيا ہے تو اس سے بھی ہماری اسی بات کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ یورپی یونین کے وزراۓ خارجہ نے گزشتہ ہفتے ایران کی توانائی ، بینکنگ اور نقل و حمل کے شعبوں میں نئی پابندیوں سے اتفاق کیا تھا لیکن اٹلی ، یونان اور اسپین سمیت بعض ممالک نے اس بارے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکہ برسوں سے ایران کو نقضان پہنچانے کے لۓ اپنے تمام تر وسائل بروۓ کار لا رہا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لۓ امریکی کانگریس سالانہ دوسو ملین ڈالر کا بجٹ مختص کرتی ہے۔ امریکہ نے یورپی یونین کے بعض ممالک اور جاپان کی مدد سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے لۓ اقدامات انجام دیۓ ہیں اور ایران کی بعض کمپنیوں ، بینکوں ، افراد حتی ایٹمی ماہرین پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں ذکر شدہ ایران کے بعض ایٹمی سائنسدانوں پر دہشتگردانہ حملے کر کے ان کو شہید بھی کردیا گیا ہے ۔ بہرحال ایران کے خلاف امریکہ کے مخفی اور علانیہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے اقدامات کا نتیجہ امریکہ کی مزید ذلت و رسوائی کے سوا کچھ اور برآمد ہونے والا نہیں ہے۔

ان دنوں امریکہ کے ایران مخالف اقدامات میں وسعت آگئی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے  بی بی سی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوۓ اس سلسلے میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے اور ایران کے داخلی مسائل کا ذکر کرتے ہوۓ دعوی کیا ہےکہ امریکی حکومت ایرانی عوام کی حمایت کرتی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن بقول ان کے ایرانیوں کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے لۓ  ایک آن لائن سفارت خانہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایرانیوں کے لۓ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور امریکہ آنے کے لۓ ویزہ حاصل کرنے سے متعلق معلومات فراہم کرنےکا آسان راستہ ہموار کرسکے۔ امریکی وزارت خارجہ نے دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کا یہ نیا دروازہ کھول کر منگل کے دن اعلان کیا کہ ویب سائٹ پر ایران میں امریکہ کا آن لائن سفارت خانہ قائم کردیا گيا ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد  براہ راست تعلقات کے منقطع ہونے کے بعد اب ایرانی عوام اور امریکہ کے درمیان ایک پل کا کام دے سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے امریکہ کے اس اقدام کے خلاف اپنا ردعمل ظاہرکیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے اس طرح کے اقدامات کو پرفریب قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ان اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکی حکومت اس بات کی معترف ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرکے اور ملت ایران سے روگردانی کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس کے ساتھ رامین مہمان پرست نے یہ بھی کہا ہےکہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو اس غلطی کا ازالہ ہوگا اور نہ ہی جیسا کہ کہا گیا ہے امریکہ کا پیغام ملت ایران تک منتقل ہوگا۔ رامین مہمان پرست نے امریکی حکومت کو نصیحت کی کہ وہ ماضی سے سبق سیکھ کر ایران کی عظیم ملت کے سلسلے میں نیک نیتی کے ساتھ اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لاۓ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران اسلامی بیداری کے مرکز اسلامی جمہوری نظام کو نقصان پہنچانےکی بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایسی حالت میں اپنے آپ کو ایرانی عوام کا ہمدرد ظاہر کرنے اور اپنے خیال باطل کےمطابق اسلامی نظام اور عوام کے درمیان فاصلہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب وہ ملت ایران کے خلاف کی جانے والی بہت سی سازشوں اور دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہیں۔ اب بھی امریکی وزارت خارجہ نے آئن لائن سفارت خانے کے قیام اور اس کے جواز کے سلسلے میں کہا ہے کہ تمام اعتراضات اور مخالفتوں کے باوجود امریکہ بقول ان کے ایرانی عوام اور ایرانی معاشرے کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کی اپنی کوشش جاری رکھے گا۔ حقیقت یہ ہےکہ ملت ایران کے ساتھ براہ راست مقابلے میں ناکامی کے بعد امریکی حکام اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان کو ایران کے عوام اور نظام کے درمیان اختلافات ڈال کر ایران کو اندر سے کھوکھلا اور کمزور کرنے کے نظریۓ پر عمل کرنا چاہۓ۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے بھی اپنی اس طرح کی کوششوں میں ناکام ہوچکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام کہ جسے امریکی وزارت خارجہ کے حکام آن لائن سفارت خانے سے تعبیر کررہے ہیں بین الاقوامی تعلقات اور حقوق میں غیر قانونی اقدام شمار ہوتا ہے اور واضح سی بات ہےکہ  ایران اس کے خلاف قانونی کارروائی پر مبنی اپنا حق محفوظ سمجھتا ہے۔

اب اس بات کا سب کو یقین آگیا ہے کہ امریکی سامراجی پالیسیوں کا ستارہ ان دنوں شدید گردش میں ہے اور اسے فوجی سیاسی اور اقتصادی ہر محاذ پر بری طرح یکے بعد دیگر ے شکست ہوتی جارہی ہے عراق سے اسے رسوائی کے ساتھ نکلنا پڑ رہا ہے تو اقتصادی اعتبار سےوہ اپنی سامراجی حیات کی تاریخ ميں اب تک کے بدترین دور سے گذر رہا ہے اور سیاسی میدان میں بھی اگر دیکھا جائے تو اس کی شکست کوئي نئی بات نہيں ہے چنانچہ واشنگٹن نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے خلاف رپورٹ تیار کرانے میں جتنی مالی اورسیاسی سرمایہ کاری کی تھی وہ نہ صرف رائگاں گئی بلکہ اس نے اپنی عزت کا جنازہ نکالنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی کی ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر یوکیا آمانو کو بھی کہيں کا نہ چھوڑا ۔ جمعہ کو آئی اے ای کے بورڈ آف گورنرکے اجلاس کے دوران امریکا نے اپنی اس ایران مخالف رپورٹ کے سہارے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے معاملے کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کی کونسل میں لے جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جو اس نے یوکیا آمانو کی عزت کا سودا کرکے تیار کرائی تھی مگر اس بار بورڈ آف گورنرز میں جتنی زیادہ رسوائي امریکا اور خود ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ہوئی تھی اس کی مثال اسے سے پہلے کبھی نہيں ملتی.  جس وقت امریکا نے اپنی مرضی کی تیار شدہ ایجنسی کے ڈائریکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے لئے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی اس پر روس چین اور ایک سو بیس ملکوں کی نمائندہ ناوابستہ تحریک کے ممبران نے شدید مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ کی دھجیاں اڑاڈالیں اور سب سے ایک زبان ہوکر کہا کہ اس رپورٹ کی نہ تو کئی قانونی حیثيت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نئي بات ہے روس چین اور ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کے نمائندوں نے کہاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف یہ رپورٹ محض سیاسی بنیادوں پر تیار کي گئی ہے اوریوں امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک ایران کے ایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے سلسلے میں اپنی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ امریکا اور مغربی ملکوں کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس قدر ذلت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ ان میں سے کسی نے بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا سامنا تک نہيں کیا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جو بیان جاری کیا اس میں امریکا کی ہر بات کو مسترد کردیا گیا اور حتی خود آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانوکی رپورٹ کی بھی تائید نہیں کی گئ اور جو بیان ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جاری کیا گیا ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف گورنرز نے اپنے اجلاس میں جس طرح سے امریکا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بیان تیار کیا ہے اس سے ایجنسی کے سربراہ کی بری طرح رسوائی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو جسے توقع تھی کہ اس کے آقا امریکا کی کوششوں کے تحت ایک بار پھر ایران کےایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی ہے ۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے امریکا کے جیسے سامراجی ملکوں لئے ذلت و رسوائی کوئی معنی نہيں رکھتی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اپنی عزت و آبرو کو بھی داؤں پر لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اب امریکا اور دیگر سامراجی ممالک کے لئے جو ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہوتے جارہے ہیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جائےگا کیونکہ ان کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں بری طرح لرزاٹھی ہیں اور سرمایہ دارانہ اور نام نہادلبرل ڈیموکریسی کا نظام اب اپنی آخری سانسیں لینے لگا ہے ۔

کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے ماتحت کرپشن کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرپشن جاری ہے، براعظم ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان میں ایک سال کے اندر قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے جب کہ اس وقت کرپشن کے باعث ملک کے تمام بڑے ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ میں اس وقت حج کرپشن، نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ ( این آئی سی ایل ) نیٹو کنٹینرز، رینٹل پاور کرپشن کیس اور ریلوے کیس سمیت متعدد کرپشن کیسز زیر سماعت ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے این آر اور کرپشن کیسز سے متعلق کمیشن بنایا ہوا ہے، دوسری جانب کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے باعث ملک کے بڑے ادارے پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، یوٹیلٹی اسٹورز اور اسٹیل ملز سمیت کئی اہم ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔  کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے اسلام ٹائمز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  رپورٹ کے مطابق 11 کیسز میں 2 ارب 40 کروڑ 77 لاکھ سے زائد کی رقم غبن کی گئی جبکہ 27 کیسز میں سرکاری قومی خزانےکی رقم کو بےقائدگی سے خرچ کیا گیا اور ان تمام کیسز میں 6 ارب 9 کروڑ 86 لاکھ روپے خرد برد کئے گئے۔ قومی خزانے سے خرچ کی گئی رقم کی تین مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جن میں ایک ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے غبن کئے گئے اور ان کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے جبکہ 17 کیسز میں مالی کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے ان میں 9 ارب 35 کروڑ 82 لاکھ روپے کی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ مالی سال 2010-2011 میں قومی خزانے سے 11 ارب 94 کروڑ 96 لاکھ روپے 38 مختلف کیسز میں غبن کئے گئے جبکہ 6 اثاثوں میں غیر محفوظ انتظامات کی وجہ سے ایک ارب 34 کروڑ 25 لاکھ روپے کی رقم ہڑپ کی گئی۔  کرپشن کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-2011 کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن میں 55 ایسے واقعات ہیں جو 15 ارب روپے کے نقصان کا سبب بنے جبکہ مختلف ایئر لائنز سے بھی 3 ارب روپے سے زائد کی رقم نہیں لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے شعبہ خزانے نے نومبر 2010 میں مختلف ایئر لائنز سے ایرو ناٹیکل رقم کے 3.318 ارب روپے وصول نہیں کئے جبکہ صرف پی آئی اے سے 42 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی۔ سول ایوی ایشن نے آگ پہ قابو پانے کیلئے 1.367 ارب روپے کی 124 گاڑیاں جبکہ 1.24 ارب روپے کی دیگر 19 گاڑیاں سرکاری منظوری کے بغیر ہی خریدی جبکہ ان گاڑیوں کی کل رقم 2.608 ارب روپے بنتی ہے۔  سول ایوی ایشن نے ستمبر 2010 میں ایک ارب 24 کروڑ روپے کا کنٹریکٹ ٹینڈر کے بغیر ہی دے دیا، دسمبر 2009 میں آگ بجھانے والی 24 گاڑیوں کا 1.367 ارب روپے کا کنٹریکٹ بھی اسی طریقے سے دیا گیا جبکہ جون 2010 میں اسی سپلائر کو ریسکیو ایئر کرافٹ آگ بجھانے والی گاڑیوں کا 1.24 ارب روپے کا ایک اور کنٹریکٹ دیا گیا۔ کرپشن کے حوالے سے ہی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران غربت کے خاتمے کیلئے قائم فنڈ کے ذریعے عالمی بنک کی مدد سے ایک کھرب روپے قرضوں کی صورت میں غیر سرکاری این جی اوز میں تقسیم کئے گئے جبکہ اس سلسلے میں فنانس ڈویژن کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ اس کو آڈٹ نہیں کیا جائیگا۔  پبلک اکائونٹس کمیٹی نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی چھان بین کیلئے بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے تمام منصوبوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ایک این جی او کو رولر سپورٹ پروگرام کے ساتھ 1 ارب 69 کروڑ روپے کا دیا ہوا غیر قانونی معاہدہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ این جی او لوگوں کو 20 سے 25 فیصد شرح پر قرضے دیتی رہی لیکن اپنا آڈٹ کرانے کو تیار نہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کی روک تھام اور قومی خزانے سے رقم لوٹنے والے افراد کو گرفتار کرنے والے ادارے نیشنل اکائونٹبلٹی بیورو نیب نے گزشتہ 9 برسوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کی اور اب تک صرف 13 افراد سے لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں واپس کرائی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1999-2000 سے 2007-2008 تک نیب کو 47038 شکایات ملیں جن میں سے 28717 سرکاری افسران، 3685 کاروباری افراد، 1169 سیاستدانوں، 375 ریٹائرڈ فوجیوں اور 13105 درخواستیں دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف ملیں۔ نیب نے ملنے والی درخواستوں میں سے صرف 1495 مقدمات داخل کئے جن میں سے 818 مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ باقی 677 مقدمات لٹکے رہے اور 818 مقدمات میں سے 137 مقدمات عدالتوں میں واپس لئے گئے جبکہ مزید مقدمات میں سے 181 لوگ بری ہونے میں کامیاب رہے اور گذشتہ 9 برس میں صرف 500 بدعنوانوں کو سزا ملی ہے

قارئین پچھلے 1060 دنوں میں 1766 اتحادی فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں، زخمیوں کی تعدار تو کئی ہزاروں میں ہے، یہ بہت بڑا جانی تقصان ہے، اس کے ساتھ امریکہ کے افغان جنگ میں ہر ہفتے 2 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، ایسے مالی نقصان کی بھی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت اب نیم پاگل اور حواس باختہ ہو چکی ہے اور اس غصے میں وہ پاکستان کو بھی لپیٹنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ایک جھٹکے میں پاکستان کے اندر پہلے سے چنے ہوئے نقریباً 300 ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر پاکستانی ایٹمی صلاحیت اور ہوائی قوت کو مفلوج کر دیا جائے۔ ایم کے بھدرا کمار (Mk Bhudhra Kumar) ایک ہندوستانی سفیر ہے، جو سویٹ یونین، جنوبی کوریا، سری لنکا، افغانستان، پاکستان، ازبکستان، کویت اور ترکی میں ہندوستان کی سفارتی نمائندگی کر چکا ہے، اس نے 30 نومبر کو ایشیاء ٹائمز میں ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے US and Pakistan Enter the Danger Zone” ۔
اس مضمون میں ہندوستانی سفارت کار نے پاکستان کابینہ کی کمیٹی برائے دفاع کے فیصلوں کوstunning یعنی زبردست کہا جن میں دہشتگردی کے خلاف امریکہ کی جنگ سے پاکستان کی علیحدگی کے علاوہ باقی تقریباً ساری چیزیں شامل ہیں اور ایک چینی اخبار کے مطابق تو شائد پاکستان جلد ہی اس جنگ سے علیحدہ بھی ہو جائے۔ ہمارے بہت سارے جذباتی پاکستانی بھائی یہ پوچھتے ہیں کہ اگر رات کے سوا بارہ بجے سے لیکر صبح کے سوا دو بجے تک یعنی دو گھنٹے، امریکی حملہ یا جارحیت جاری رہی، تو ہماری ہوائی فوج نے جوابی حملہ کیوں نہیں کیا۔ ایک ٹاک شو میں میرے ساتھ بیٹھے ہوئے ہمارے ایک قابل احترام سابقہ پاکستانی سفیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے ان فوجیوں کو کس لئے پالا ہوا ہے، جب میں نے عرض کیا کہ فوجی تو ملک کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تو سفیر موصوف جن کی میں بہت عزت کرتا ہوں، فوراً بولے کہ اس کے لئے ان کو تنخواہ ملتی ہے۔ یہ نہ سوچتے ہوئے کہ ایک فوجی سپاہی 15 یا 20 ہزارماہانہ کی تنخواہ کی خاطر نہیں بلکہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر اپنے ملک کیلئے رضاکارانہ طور پر اپنی جان قربان کر دیتا ہے، ویسے تو کسی کو دس لاکھ روپے بھی دے کر دیکھ لیں وہ گولی کھانے کیلئے تیار نہیں ہو گا۔ 

قارئین پاکستان کی ایئر فورس دنیا کی ایک مانی ہوئی ہوائی قوت ہے اور ایم ایم عالم جیسے ہمارے سینکڑوں ہوا بازوں کی جرات اور بہادری کی داستانیں ہمارے دشمن بھی سناتے ہیں، لیکن یہاں میں یہ ضرور کہونگا کہ پاکستانی سفیر جو میری طرح محب وطن ہیں، نہایت دیانتداری سے بہت سارے لوگوں کے ان خیالات کی ترجمانی کر رہے تھے جو یہ کہتے ہیں کہ آخر دو گھنٹے تک افواج پاکستان نے جوابی ہوائی حملہ کیوں نہ کیا؟ اس کا جواب ہندوستانی انتہائی تجربہ کار سفارت کار M K Bhudhrah Kumar نے اپنے مذکورہ بالا کالم میں ان الفاظ میں دیا۔   “Washington may have seriously erred if the intention was to draw out the Pakistan Military into a retaliatory mode and then to hit it with a sledge hammer and make it crawl on its knees pleading mercy. Things aren’t going to work that way.”
یعنی 750 ارب ڈالرز دفاع پر سالانہ خرچ کرنے والا امریکہ اگر یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان پوسٹ پر حملہ کر کے صرف پانچ ارب ڈالر سالانہ دفاعی بجٹ والی افواج پاکستان کو ایک کھلی جنگ میں کھینچ لائیگا اور پھر اس کی لوہے کے گولے سے پٹائی کر کے اس کو رینگتے ہوئے رحم کی اپیل کرنے پر مجبور کر دیگا تو یہ اس کی بھول تھی۔ ہندوستانی سفارت کار کے مطابق پاکستان کی عسکری قیادت راوئتی طور پر بہت محتاط ہے، سفیر نہ کہا۔   “Pakistan is not going to give a military response to the US’s provocations. Taliban are always there to keep bleeding the US and NATO Troop’s.”
یعنی پاکستانی فوج امریکی جارحیت کو جواب عسکری انداز میں نہیں دے گی۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب خود افغانی طالبان امریکی اور نیٹو فوجیوں کا خون بہانے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔   قارئین پچھلے 1060 دنوں میں 1766 اتحادی فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں، زخمیوں کی تعدار تو کئی ہزاروں میں ہے، یہ بہت بڑا جانی تقصان ہے، اس کے ساتھ امریکہ کے افغان جنگ میں ہر ہفتے 2 ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں، ایسے مالی نقصان کی بھی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی قیادت اب نیم پاگل اور حواس باختہ ہو چکی ہے اور اس غصے میں وہ پاکستان کو بھی لپیٹنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ایک جھٹکے میں پاکستان کے اندر پہلے سے چنے ہوئے نقریباً 300 ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر پاکستانی ایٹمی صلاحیت اور ہوائی قوت کو مفلوج کر دیا جائے۔  لیکن پاکستان کی عسکری قیادت اتنی معصوم نہیں کہ ٹریپ ہو جائے، انہوں نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا ایسا دفاعی نظام ترتیب دیا ہوا ہے جو ناقابل تسخیر ہے۔ اور نہ ہی وہ امریکہ کے ساتھ لڑائی کرنے کی bate لینا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنی فوج کو صرف اپنے دفاع میں فائز کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے اندر داخل ہونے والے ہر جہاز کو گرایا جائیگا اور بیرونی فوجی کو پاکستان میں داخل ہوتے ہی گولی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن پاکستان کی بری اور ہوائی افواج افغانستان کی زمینی اور ہوائی حدود میں قطعاً داخل نہیں ہونگی۔   اس لئے کابینہ کی ہماری کمیٹی برائے دفاع نے بالکل ٹھیک فیصلے کئے ہیں، ہم اگر امریکہ سے جنگ کرتے ہیں تو ہمارے دشمن ممالک خصوصاً ہندوستان اور اسرائیل کیلئے یہ ایک بہت خوش کن خبر ہو گی، اس لئے اس جال میں بالکل نہ پھنسا جائے۔ لیکن یہ نہ بھولا جائے کہ امریکہ ہمارا اب دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔ پیچھے میں نے ایک کالم بعنوان “پاک امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات، وقت کا ضیائع” لکھا تھا جس میں عرض کیا تھا کہ امریکن ہمیں بے وقوف بنا رہے ہیں۔ اس لئے ہمیں بہت پھونک پھونک کر قدم رکھنے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر، حکومت پاکستان اور افواج پاکستان کی قیادت کا ایک گرڈ پر ہونا بہت ضروری ہے۔  بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو رہا، امریکہ میں سفیر کی سیاسی بنیادوں پر تعیناتی، پاکستان کے مفاد میں بالکل نہیں، وہاں ایک ایسا پیشہ ور سفیر ہونا چاہیے جس کا مرنا اور جینا صرف اور صرف پاکستان سے منسلک ہو۔ اگر ہم ذاتی سیاسی مفادات کی خاطر ملکی مفادات سے غداری نہ کریں تو پاکستان کی خوشحالی ایک راکٹ کی طرح فضا میں بلند ہو سکتی ہے۔ ہندوستانی سفیر کہتا ہے کہ خطے کی صورتحال پہلے ہی پاکستان کے حق میں تبدیل ہونا شروع ہو چکی ہے، چونکہ استنبول کانفرنس میں روس، چین، ایران اور ازبکستان وغیرہ 2014ء کے بعد کے افغانستان میں امریکی اڈوں کو بند کروانے کے حوالے سے اکٹھے کھڑے نظر آئے۔   چونکہ روس، چین اور ایرانی یہ نہیں برداشت کر سکتے کہ ہندوکش پہاڑی سلسلے میں امریکی میزائل نصب ہو جائیں۔ اس کے علاہ ہندوستانی سفارت کار کے مطابق اگر اکیسوی صدی میں امریکہ اپنی توجہ بحر اوقیانوس پر مرکوز رکھنا چاہتا ہے تو اس کو چین کا مقابلہ کرنا ہو گا، جس کا اس خطے میں واحد ساتھی پاکستان ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو شنگہائی کواپریشن آرگنائزیشن کا ممبر بنایا گیا ہے۔   قارئین، پاکستان کو اب بہت جلد بڑے بڑے فیصلے کرنے ہونگے۔ مثلاً یہ کہ گہرے پانی والی گوادر بندر گاہ کو فوراً چین کے حوالے کیا جائے اور چین بدلے میں خنجراب پاس سے لیکر گوادر تک چھ رویا سڑک بنانے اور ریلوے لائن بچھانے کا منصوبہ شروع کرئے۔ روس کے ساتھ ایسے معاہدے ہوں کہ وہ پاکستانی سمندر میں اور زمین پر تیل اور گیس کے کنویں کھودے۔ اسی طرح کے معاہدے وسطی ایشیائی ریاستوں سے ہوں۔ اس کے علاوہ ایران سے گیس اور بجلی فوراً پاکستان تک لائی جائے اور گلگت اور کرغستان کو بھی انرجی کوریڈور بنایا جائے۔   اگلی حکومت اور اسمبلی فوراً کالا باغ ڈیم بنائے اور سندھ میں کوئلے کے ذخائر کو کام میں لایا جائے۔ پاکستان فوج کو مکمل قومی فوج بنانے کیلئے بلوچستان سے مزید بھرتیاں کی جائیں۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی کوششوں سے آج ہماری تقریباً ساڑھے پانچ لاکھ فوج میں 82000 فوجی صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہیں اور 81000 فوجیوں کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 18000 ہمارے بلوچی نوجوان بھی فوج میں شریک ہو چکے ہیں اور مزید بھرتی کیے جا رہے ہیں۔  یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔ 46000 فوجیوں کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے اور کوشش یہ ہو رہی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے فوج میں پانچوں صوبوں اور آزاد کشمیر کی نمائندگی ہو۔ یہ ہدف جلد حاصل کر لیا جائے گا۔ اس وقت کل پانچ لاکھ پچاس ہزار فوجیوں میں سے آبادی کے لحاط سے پنجاب کا 56% حصہ 265000 بنتا ہے۔ لیکن اس وقت پنجابی فوجیوں کی تعدار 290000 ہے یہ معمولی فرق بھی جلد دور کر لیا جائے گا۔   قارئین مجھے شک نہیں، پاکستان اللہ کے کرم سے معاشی لحاظ سے ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ قوم سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیانت دار اور اہل قیادت سامنے لے کر آئے، جو قانون کی بالا دستی اور بہترین حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ مجموعی قومی بصیرت کے استعمال اور ینک نیتی سے اپنے وطن کی مٹی سے ہی ملکی خوشحالی کے چشمے پھوٹ سکتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا۔

محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔عالم انسانیت بالعموم اور عالم اسلام بالخصو ص ماہ محرم کے طلوع ہوتے ہی اپنے اپنے انداز سے نواسہ رسول خدا ص اور ان کے آل و اصحاب کی طرف سے دین خدا، اسلام، شریعت محمدی اور حق کی حفاظت کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم سے نفرت اور مظلوم سے محبت رکھنے والے طبقات سید الشہداء کی یاد مناتے ہیں اور بلا تخصیص مذہب و مسلک حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی والہانہ وابستگی اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تمام شہری بلاتفریق مذہب و مسلک و فرقہ، محرم الحرام میں مجالس و محافل عزاداری مکمل جوش و جذبے، عقیدت اور اتحاد و وحدت کے ذریعے منا رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ چودہ سو سال قبل ریگزار کربلا میں 72 جانثار، حق پرست، دیندار اور وفا شعار اور متقی اصحاب کے ساتھ امام عالی مقام نے جام شہادت نوش کر کے رہتی دنیا تک حق اور باطل میں حد فاصل قائم کرنے کے لئے دائمی اور ابدی کسوٹی فراہم کر دی اور ثابت کر دیا کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے صحرائے کربلا کا سفر اپنی ذات اور مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا کے دین اور الہی نظام کو بندگان خدا پر نافذ کرانے کے لئے ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور مظلوم کو اس کے حق کی فراہمی کے لئے اسلام کی شکل بگاڑنے کی مذموم سازش ناکام بنا کر عالم انسانیت کے سامنے حقیقی اور نبوی اسلام کا تعارف کرانے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ یہ معرکہ صرف چند نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی معیت میں سر کر لیا، جسے بڑی معرکتہ الارا جنگوں سے نہیں جیتا جا سکتا تھا۔
محرم الحرام جہاں ہمیں واقعہ کربلا کی خونیں داستاں کی یاد دلاتا ہے، وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے اعلٰی مشن، ہدف اور مقصد کی ترویج کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور عالم انسانیت کے محروم و مظلوم طبقات کے لئے امید کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ امام حسین ع نے اس وقت اسلام کو درپیش سنگین خطرات سے امت کو آگاہ کیا اور اپنی عظیم قربانی پیش کر کے ہمیں حسینی بن کر اپنے وقت کی صہیونی اور استعماری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سلیقہ عطا کیا۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود ایک تلخ حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ابھارنے کی کوشش ہوتی ہے کہ عشرہ محرم سے ملک میں ایک ہنگامی حالت کا نفاذ ہو جائے گا، کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا اور عوام کی عمومی سرگرمیوں پر پہرہ لگا دیا جائے گا۔ حکومتی اور انتظامی ادارے اپنے غیر سنجیدہ اقدامات سے ماحول کو اس طرح کشیدہ کر دیتے ہیں کہ مشن امام حسین ع اور مقصد عزاداری کی نفی واضح نظر آتی ہے۔ اس سرکاری خودساختہ ماحول نے صورتحال یہاں تک پہنچا دی ہے کہ کل تک جو مسلمان باہمی رواداری، اتحاد بین المسلمین، وحدت و یکجہتی اور امن و آشتی کے ذریعے اپنی مذہبی و شہری آزادیاں استعمال کر رہے تھے، آج وہ باہم تلخی اور تصادم کا شکار ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سرکاری جال میں پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت نہیں بلکہ مٹھی بھر شرپسند عناصر ہی آئے ہیں، جو ہر سال محرم کے ماحول کو تلخ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں مسالک اور مکاتب کی باہمی جنگ اور تصادم موجود ہے۔ 
اس ماحول کے پس پشت مسلمانوں میں تفریق ڈالنے والی ان قوتوں کا ہاتھ بھی ہے جو مسلمانوں میں سے ہی چند ضمیر فروشوں کو خرید کر پہلے تقریری و تحریری مہم کے ذریعے اپنے منفی مقاصد حاصل کرتی رہیں، لیکن جب تمام مسالک اور مکاتب کے علمائے کرام اور انصاف پسند عوام نے باہمی اتحاد کے ذریعے اس مہم کو ناکام بنایا تو انہوں نے اپنا انداز تبدیل کرتے ہوئے اپنے آلہ کاروں کے ہاتھوں میں اسلحہ تھما دیا اور مقتدر قوتوں کو ان کا سرپرست بنا دیا، جس کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بے دریغ خون بہانے کو باعث سعادت اور ذریعہ نجات سمجھنے لگا اس دیوانگی میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ خدا کے گھر (مساجد) اور نبی ع کی آل سے منسوب متبرک مقام (امام بارگاہوں) میں بوڑھوں، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو قتل کر کے نہ صرف ان مقامات کا تقدس پامال کیا بلکہ اپنے لئے جہنم میں دائمی ٹھکانا بنا لیا۔ جدید دور میں خودکش حملوں کا طریقہ اختیار کر کے دہشتگردوں نے ایک ہی وقت میں سینکڑوں لوگوں کا خون بہانے کا گھناؤنا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔محرم کے ماحول میں تلخی و کشیدگی اور پاکستان کی فرقہ وارانہ فضا کی آلودگی بھی در اصل سرکاری اداروں کی غفلت اور مقتدر حلقوں کی مخصوص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان پالیسیوں کے سبب ہی ملک میں مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ، علاقائی فسادات ہوتے رہے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں بننے والے مذہبی اتحادوں بالخصوص ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل نے ملک میں مذہبی فضا کو سازگار بنانے اور باہمی کشیدگی ختم کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں، لیکن طاقت کا سرچشمہ تو ہمیشہ حکومتیں اور سرکاری و انتظامی ادارے رہے ہیں، لہذا مذکورہ مذہبی اتحاد فقط عوامی سطح پر ماحول بہتر بناتے رہے۔
ملک کی عمومی مذہبی فضا کو بہتر رکھنے بالخصوص ایام عزاداری کے دوران حالات کو سازگار بنانے اور کشیدگی سے بچنے کے لئے حکومت کے ساتھ عوام، علمائے کرام، مذہبی جماعتوں، امن کمیٹیوں، مشائخ عظام، طلبہ تنظیموں، رفاعی تنظیموں اور محب وطن سیاسی حلقوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذیل میں چند تجاویز تحریر کی جا رہی ہیں جن سے محرم الحرام کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منعقد کیا جا سکتا ہے اور حکومت کی سہولت و رہنمائی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 

(1) پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنی مذہبی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی، شخصی، ذاتی اور اجتماعی سرگرمیوں کی واضح اجازت دیتا ہے۔ لہذا اس اجازت کا تقاضا ہے کہ عزاداری کے لئے لائسنس، پرمٹ کی شرط ختم کی جائے اور بغیر کسی سرکاری پابندی کے عزاداری کے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔
(2) علمائے کرام، ذاکرین عظام مختلف مکاتب فکر کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نیز عوام کو ایک دوسرے کے عقائد و نظریات، رسوم و عبادات کا احترام کرنے پر آمادہ کریں۔
(3) ذاکرین اور خطباء اپنی تقاریر اور خطابات میں حضرت امام حسین ع کے قیام اور یزیدی عزائم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیں۔
(4) حکومت کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں اور مقامی امن کمیٹیوں میں امن و اتحاد کے فروغ کے لئے کوشاں موثر افراد اور شخصیات کو شامل کرے۔ حکومت مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود اتحاد بین المسلمین بورڈز اور کمیٹیوں میں عوام کے حقیقی نمائندہ افراد کو شامل کرے، کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کمیٹیوں میں سرکاری پسندیدگی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے میرٹ کو نہیں، اس وجہ سے تاحال امن وامان اور فرقہ واریت کی فضا بہتر نہیں ہو سکی۔
(5) مختلف مکاتب فکر کی طرف سے مختلف سطح پر وحدت کانفرنسوں کا انعقاد موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
(6) جلوس ہائے عزاداری، مجالس امام حسین ع اور وحدت کانفرنسوں میں تمام مسالک کے علمائے کرام، مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور انتظامیہ کے افراد کو شریک ہونا چاہیے۔
(7) حکومت عوام الناس اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کو دیگر مکاتب فکر کے شہریوں کے شہری، مذہبی اور آئینی حقوق تسلیم کرنے کا پابند بنانے، کیونکہ اگر وہ دوسروں کی شہری آزادیوں کا احترام کریں گے تو اپنی شہری آزادیوں کو صحیح اور آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ 
(8) جو لوگ اور گروہ کسی مسلک و مکتب کے مذہبی، قانونی اور شہری آزادیوں اور حقوق کا احترام نہیں کرتے اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں حکومت ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہے حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کا سخت محاسبہ کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے، کیونکہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
(9) محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(10) لاؤڈ سپیکر کسی بھی مشن اور نظریے کا نشری ذریعہ ہیں، سارا سال لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہر قسم کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی پروگراموں میں بلادریغ اور بغیر رکاوٹ ہوتا ہے۔ لیکن محرم الحرام کی آمد پر لاؤد سپیکر پر بے جا پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، لہذا مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزاداری میں لاؤڈ سپیکر پر بے جا پابندیاں ختم کی جائیں، البتہ بانیاں مجالس اور ذاکرین و خطباء اس امر کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ سپیکر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر نہ کریں۔
(11) الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی ان ایام میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے،لہذا ٹی وی، ریڈیو، پرائیویٹ چینلز، روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کی طرف سے جاری اور نشر کئے جانے والے پروگراموں، تقاریر، دستاویزی فلموں اور مضامین میں ایسے افراد کو بالکل فراموش کریں، جو ایک دوسرے کی دل آزاری کرتے ہیں اور مذہبی فضا میں کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ اخبارات ایسی تحریروں کو بالکل جگہ نہ دیں جن میں مذہبی اور مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ فسادات پر اکسانے والا مواد موجود ہو۔ بلکہ ایسے افراد سے استفادہ کریں جو غیر متنازعہ، مثبت سوچ و فکر کے حامل اور اتحاد و وحدت کو فروغ دینے کے علمبردار ہوں۔
(12) دہشت گردی کے متوقع واقعات و خطرات سے نمٹنے کے لئے عوام کو انتظامیہ سے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ خود بھی دفاع کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
(13) خواتین کی آمد و رفت کے راستوں پر جلوس اور مجالس کی انتظامیہ خاص نظر رکھے ان کی حفاظت کے لئے خاص اہتمام کرے اور مشکوک سرگرمیوں کی چیکنگ کرے۔
(14) جلوس و مجالس کے بہتر انتظامات اور وحدت کے عملی نمونے کے لئے شیعہ سنی نوجوانوں پر مشتمل انتظامی و حفاظتی دستے تشکیل دیئے جائیں۔
(15) مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام، ذاکرین اور خطباء ایک دوسرے کی مساجد اور امام بارگاہوں میں ایک دوسرے کے پروگراموں میں زور و شور سے شرکت کریں اور عوام کو اپنی عملی وحدت کے ذریعے مثبت اور تعمیری پیغام دیں۔
یقیناً ان تجاویز سے حالات کو پرامن، صورتحال کو خوشگوار اور وحدت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، لیکن امن کے مستقل قیام، دہشتگردی کے مکمل سدباب اور اخوت کے لازوال ماحول کے لئے سب سے بہتر اسلحہ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ اور سرکاری اداروں کی طرف سے ’’توازن کی یک طرفہ پالیسیوں ‘‘ کا خاتمہ ہے…..تحریر:سید اظہار نقوی

عرب لیگ میں شام کی رکنیت کوم معطل اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پرمبنی اچانک اور جلدبازی میں کئے گئے فیصلے کے خلاف شامی عوام اور بعض دیگر عرب ملکوں کی طرف سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اس فیصلے کو جو سعودی عرب اور قطر کے دباؤ میں کیا گيا اور جس پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہے غیر قانونی اور غیراصولی قراردیا جارہا ہے چنانچہ اس فیصلے کے بعد شام کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام نے بڑے بڑے مظاہرے کرکے عرب لیگ کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور شام کے صدر بشار اسد کے لئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اس فیصلے کے مخالف عرب ملکوں اور حلقوں کا کہنا ہےکہ عرب ملکوں نے اپنے یہاں اسرائيلی سفارتخانے کو بند کرنے کے بجائے اب خود میں آپس میں جھگڑنا شروع کردیا ہے اور انہیں اپنے آس پاس ميں جو خطرات لاحق ہيں ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہيں گذشتہ سنیچر کو عرب ليگ نے سعودی عرب کی سربراہی میں اپنے ایک متنازعہ فیصلے کے تحت جس کا خلیج فارس کے عرب ملکوں نے بھی ساتھ دیا شام کی رکنیت معطل کردی اور دمشق سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کا یہ اجلاس اور پھر شام کے خلاف کیا جانےوالا فیصلہ اسی ڈرامے کا حصہ ہے جو امریکا اور مغرب نے شام کے سلسلے میں تیار کررکھا ہے اور اس ڈرامے پرعلاقے کی امریکا اور مغرب نواز حکومتيں کام کررہی ہيں اسی لئے عرب لیگ میں شام کے مندوب یوسف احمد نے کہا کہ عرب لیگ کا یہ فیصلہ امریکا اور مغرب کی ایماء پر کیا گیا ہے ۔اس میں شک نہيں کہ مغرب کی اس وقت پوری کوشش ہے کہ وہ شام کو عرب ملکوں سے کاٹ کر رکھ دے کیونکہ شام علاقے میں ان چند ایک ملکوں میں شامل ہے جو صہیونی حکومت کا سخت ترین مخالف اور فلسطین کے مظلوم عوام کا حامی ہے اسی لئے عرب ليگ کے اس فیصلے پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے عرب لیگ کے اس فیصلے کے بعد اب مغرب کی کوشش ہے کہ وہ شام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جاکر دمشق پر پابندیاں عائد کرے ۔ اب جبکہ مغرب کو لیبیا پر حملے سے فرصت مل گئی ہے تو اس کی کوشش ہے کہ وہ شام پر دباؤ ڈالے اور اگر ممکن ہو تو نیٹو کے ذریعے کاروائي بھی کرے اور اس کے لئے عرب ليگ نے اپنے زعم میں نیٹو اور مغرب کے لئے راستہ بھی ہموار کردیا ہے مگر شاید عرب ليگ کو اپنے ہی اس طرح کے اقدامات کے انجام کی خبر نہيں ہے کہ اس سے علاقے کے امن و استحکام کو کتنا نقصان پہنچے گا ۔ ان تمام باتوں کے باوجود شام نے عرب ملکوں کے ایک ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جیسے بھی اس بحران سے نکلا جائے جو بعض عرب ملکوں کی تفرقہ انگيزپالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کیونکہ شام کے حکام کے ساتھ ساتھ علاقے کے بیشتر مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر علاقےمیں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو خشک و تر سب ایک ساتھ جل کر راکھ ہوجائيں گے اور پورا علاقہ امریکا اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی خطرناک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا اور پھر جنگ کا یہ شعلہ صرف شام کی حدود تک محدود نہيں رہے گا جیسا کہ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ جنگ کا دائرہ پورے علاقے تک پھیل جائے گا اور علاقے کاکوئي بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا اس لئے بہتریہی ہوگا کہ عرب ممالک خاص طورپر وہ حکومتيں جو امریکا اور اسرائیل کی مکمل تابع فرمان ہيں ہوش کے ناخن لیں اور اس سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کو آگ لگانے کا موقع نہ دیں۔

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔گزشتہ ایک ہفتہ سے اسرائیل ایران کو دھمکی دے رہا ہے کہ وہ ایک موثر کارروائی کر کے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو ختم کر دے گا کیونکہ اگر ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو مشرق وسطٰی کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ امریکہ نے ہر چند اسرائیل کی ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کے خلاف فوجی جارحیت کی فی الوقت حمایت نہیں کی ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، جن میں وہ ایرانی بینک بھی شامل ہیں جو نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔  واضح رہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران خفیہ طریقے سے ایٹم بم بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وہ اٹامک انرجی ایجنسی سے اپنے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں بعض معلومات انتہائی خفیہ رکھ رہا ہے اور ایجنسی سے مکمل تعاون نہیں کر رہا ہے، ایرانی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی پہلو ہے جس کی کوئی اہمیت یا حیثیت نہیں ہے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام انتہائی پرامن ہے اور وہ اپنے اس پروگرام سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری طرف ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ سے متعلق روس کا موقف بالکل واضح ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کی حمایت نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی بھی ملک کی جانب سے ایران پر حملہ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کھٹائی میں پڑ جائیں گے اور ماضی میں ایران کی نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں جو مذاکرات ہو چکے ہیں، ان کے نتائج بھی بے ثمر ثابت ہوں گے۔ چین نے بھی ایران پر کسی بھی جانب سے حملے کو مشرق وسطٰی میں آگ سے کھیلنے سے تعبیر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائی کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔ اٹامک انرجی ایجنسی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ وہ اس کا مطالعہ کر رہے ہیں لیکن فی الحال اس میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ فرانس کے صدر نے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے، اسی طرح بعض عرب ممالک بھی ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کی حمایت کر رہے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل کو ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے یا پھر وہ اس کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے؟ بارک اوباما اس سلسلے میں خاصے پریشان نظر آ رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، کیا اسرائیل کو خفیہ طور پر ایران پر حملہ کرنے کے سلسلے میں Go head دے دیں یا پھر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، تاکہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو کامیابی کے ساتھ پایہٴ تکمیل تک نہ پہنچا سکے، لیکن اس سلسلے میں امریکہ کو روس اور چین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور یہ ممکن ہے کہ سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف سخت پابندیوں کی قرارداد منظور نہ ہو سکے۔ اس صورت میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ قطر اور بحرین میں موجود اپنے بحری بیڑوں کو پہلے ہی حرکت میں لا چکا ہے اور یہ بیڑے آہستہ آہستہ خلیج فارس میں داخل ہو رہے ہیں، یقیناً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان فوجی نقل و حمل کی وجہ سے ایران کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور پاکستان کے لئے بھی کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس میں گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو تیزی سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔  اگر ایران پر اسرائیل نے حملہ کیا تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ یقیناً پاکستان کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہوں گی اور ہونی بھی چاہئیں، لیکن کیا پاکستان ایران کی کوئی فوجی مدد کر سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ شاید پاکستان ایسا نہیں کر سکے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو عالمی سطح پر صرف روس اور چین ایران کی حمایت کر رہے ہیں اور کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور مشرق وسطٰی جنگ کی آگ میں بھسم ہو جائے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل اور امریکہ کو پہنچے گا۔ مزید برآں دنیا کی معیشت جو پہلے ہی مندی کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ جائے گی اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت تباہ و برباد ہو سکتی ہے، اس صورت میں معاشرتی افراتفری کا دور دورہ ہو گا اور زندگی کا سفر انتہائی مشکل اور کٹھن ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے بارک حسین اوباما کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے اس دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیں

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کا نشانہ صرف شیعہ نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا۔ ہمیشہ سامراجی قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے، جمہوری اسلامی ایران میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب اس کے اثرات پاکستان میں نمودار ہونا شروع ہوئے اور پاکستان کے شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور خدا عزوجل کا ہم پر کرم ہوا کہ ہمیں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ جیسی قیادت نصیب ہوئی جس نے ملت جعفریہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ سرزمین پاکستان میں شیعہ سنی وحدت کا نعرہ لگایا، اس قیادت کے خلوص، امام حسین ؑ سے بے پناہ عشق اور امام خمینی ؒ سے عقیدت کی وجہ سے پاکستان میں شیعہ اور سنی اپنے مشترکات پر اکھٹا ہونا شروع ہوئے تو سامراجی طاقتوں نے اس انقلاب کے راستے کو روکنے کے لئے اس وقت کے آمر حکمران کا سہارا کے لر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کو عام کیا، اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کو شہید کیا، لہٰذا ہم نے دیکھا کہ اس ملک میں شیعہ سنی کے درمیان تفریق کو عام کیا، دیوبندی بریلوی کے درمیان تفریق کو عام کیا، غرض اس طرح اس ملک کے عوام کو توڑ دیا گیا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ملک کی ایجنسیاں انہیں سامراجی ایجنٹوں کو اپنی گود میں پال کر ان کی پرورش کررہی ہیں، آج ملک میں اس طرح کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ ہر شخص ان سامراجی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہراساں دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ کھیل زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، پاکستان کے شیعوں نے امام خمینی کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کے وحدت کے نعرے کو پھر سے بلند کردیا ہے اور ملک کے گوشے گوشے میں رابطوں کا آغاز کردیا ہے، انشاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ جب سامراجی طاقتوں کا یہ کھیل جلد نابود ہوگا اور ملک خداداد پاکستان کے شیعہ اور سنی متحد ہوکر ان دہشت گردوں کا اس ملک سے سفایا کریں گے۔سامراجی طاقتوں نے یہاں یہ کھیل کھیلا ہے، کچھ لوگ ان کا آلہ کار ضرور بنے ہیں لیکن اس سارے مسئلے کی اصل وجہ عالمی استعمار امریکہ ہے، لہٰذا پاکستان کی شیعہ اور سنی عوام کو متحد ہوکر امریکہ کے خلاف قیام کرنا ہوگا اور اس ملک کو امریکہ کے ناپاک قدموں سے پاک کرنا ہوگا، جس دن ایسا ہوگا اس دن پاکستان کے عوام حقیقی معنوں میں جشن آزادی منائیں گے اور اپنے ان عظیم بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے جنہوں نے اس پاکستان کو بنانے کے لئے اپنی جان، سرمایہ اور حتیٰ کہ ناموس تک کی قربانی پیش کی۔ لہٰذا پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت، صوبائیت، قوم پرستی اور دیگر مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس سرزمین سے امریکہ کو بھگانا ہوگا۔یہ بات درست ہے اور اس ملک کا المیہ ہی یہی ہے کہ سیکیوریٹی ایجنسیاں ان کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہیں، ہم بارہا یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے، دوسرا قابل مذمت امر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران بھی اس سارے کھیل میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، کچھ تازہ حقائق آپ کے گوش گزار کروں کہ گزشتہ تین ماہ کے عرصے کے اندر اب تک 22 سے زیادہ شیعہ عمائدین، کاروباری حضرات اور نوجوانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے لیکن تاحال کسی بھی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا گیا، وہیں دوسری جانب ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری ہے اور شیعہ نوجوانوں کو بے قصور گرفتار کیا جارہا ہے، سعودی قونصل خانے پر حملے کے نام پر گزشتہ پانچ ماہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ملت جعفریہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیا اور ان نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے اقرار جرم کروانے کی کوشش کی گئی جسکا ثبوت منتظر امام کیس بھی ہے اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے منتظر امام پر جھوٹے کیسوں کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے، مزید یہ کہ 16 نومبر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر شیعہ نوجوانوں محمد علی، محسن، زکی اور شہید تابش کو گرفتار کیا، جن کی گرفتاری بیس نومبر کو بتائی گئی جبکہ شہید تابش حسین کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جوکہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ ان کا نشانہ صرف شیعہ ہی نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا اور اس ملک کی ایجنسیوں کو اب یہ جان لینا چاہیئے کہ ظلم کا دور ختم ہونے والا ہے کہیں ایسا نہ ہو مظلوموں کی آہ ان کے گھرانوں میں لرزہ طاری کردے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہہ پیغام یہی ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں، کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ملت کے درمیان اختلاف کی بات کرے، کوشش کریں کہ مجالس امام حسین ؑ میں اہلسنت برادری کو بھی دعوت دیں، یاد رکھیں کہ آج کے دور میں کہ جب ہر طرف ناامنی ہے، دہشت گردی ہے، غربت ہے، زبوں حالی ہے، اقدار کی پامالی ہے، نفرت، جھوٹ، رشوت غرض معاشرے کی ہر برائی عام ہے، ایسے حالات میں ہر شخص کی نگاہیں حسین ؑ کی طرف ہیں، لہٰذا ہمیں بھی حسینی کردار کو اپناتے ہوئے اس سرزمین پاکستان میں اپنے عمل کے ذریعے وحدت کی مؤثر آواز کو بلند کرنا ہے۔ انشاء اللہ خدا سے امید ہے کہ وہ اس عظیم کام میں ہماری مدد فرمائے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عازمین حج کے نام اپنے پیغام میں حج کے رموز کا ذکر کیا۔ آپ نے سرزمین وحی میں حاجیوں کی موجودگی کو بہترین موقعہ قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے معروضی حالات کے تحت حج سے بھرپور استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پیغام حج میں قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی اور سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اسلام مخالف عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ترین سفارشات کی ہیں۔ پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ربّ العالمين وصلوات الله وتحياته على سيد الأنام محمد المصطفى وآله الطيبين وصحبه المنتجبين
اس وقت حج کی بہار اپنی تمام تر روحانی شادابی و پاکیزگی اور خداداد حشمت و شکوہ کے ساتھ آن پہنچی ہے اور ایمان و شوق سے معمور قلوب، کعبہ توحید اور مرکز اتحاد کے گرد پروانہ وار محو پرواز ہیں۔ مکہ، منا، مشعر اور عرفات ان خوش قسمت انسانوں کی منزل قرار پائے ہیں جنہوں نے “واذن فی الناس بالحج” کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدائے کریم و غفور کی ضیافت میں پہنچ کر سرفراز ہوئے ہیں۔ یہ وہی مبارک مکان اور ہدایت کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے اللہ تعالی کی بین نشانیاں ساطح ہوتی ہیں اور جہاں ہر ایک کے سر پر امن و امان کی چادر کھنچی ہوئی ہے۔ دل کو ذکر و خشوع اور صفاء و پاکیزگي کے زمزم سے غوطہ دیں۔ اپنی بصیرت کی آنکھ کو حضرت حق کی تابندہ آیات پر وا کریں۔ اخلاص و تسلیم پر توجہ مرکوز کریں کہ جو حقیقی بندگی کی علامت ہے۔ اس باپ کی یاد کو جو کمال تسلیم و اطاعت کے ساتھ اپنے اسماعیل کو قربانگاہ تک لے کر گئے، بار بار اپنے دل میں تازہ کیجئے۔ اس طرح اس روشن راستے کو پہچانئے جو رب جلیل کی دوستی کے مقام تک پہنچنے کے لئے ہمارے لئے کھول دیا گیا ہے۔ مومنانہ ہمت اور صادقانہ نیت کے ساتھ اس جادے پر قدم رکھئے۔
مقام ابراہیم انہیں آیات بینات میں سے ایک ہے۔ کعبہ شریف کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی قدم گاہ آپ کے مقام و مرتبے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، مقام ابراہیم در حقیقت مقام اخلاص ہے، مقام ایثار ہے، آپ کا مقام تو خواہشات نفسانی، پدرانہ جذبات اور اسی طرح شرک و کفر اور زمانے کے نمرود کے تسلط کے مقابل استقامت و پائيداری کا مقام ہے۔ نجات کے یہ دونوں راستے امت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہم سب افراد کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی جرئت، بہادری اور محکم ارادہ اسے ان منزلوں کی طرف گامزن کر سکتا ہے جن کی طرف آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیائے الہی نے ہمیں بلایا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں عزت و سعادت کا وعدہ کیا ہے۔ امت مسلمہ کی اس عظیم جلوہ گاہ میں، مناسب ہے کہ حجاج کرام عالم اسلام کے اہم ترین مسائل پر توجہ دیں۔ اس وقت تمام امور میں سرفہرست بعض اہم اسلامی ممالک میں برپا ہونے والا انقلاب اور عوامی قیام ہے۔ گذشتہ سال کے حج اور امسال کے حج کے درمیانی عرصے میں عالم اسلام میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو امت مسلمہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور مادی و روحانی عزت و پیشرفت سے آراستہ ایک روشن مستقبل کی نوید بن سکتے ہیں۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں بد عنوان اور دوسروں پر منحصر ڈکٹیٹر تخت اقتدار سے گر چکے ہیں جبکہ بعض دوسرے ممالک میں عوامی انقلاب کی خروشاں لہریں طاقت و دولت کے محلوں کو نابودی و ویرانی کے خطرے سے دوچار کر چکی ہیں۔
ہماری امت کی تاریخ کے اس تازہ باب نے ایسے حقایق آشکارا کئے ہیں جو اللہ کی روشن نشانیاں ہیں اور ہمیں حیات بخش سبق دینے والے ہیں۔ ان حقایق کو اسلامی امہ کے تمام اندازوں اور منصوبوں میں مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ سب سے پہلی حقیقت تو یہی ہے کہ جو اقوام کئی دہائیوں سے غیروں کے سیاسی تسلط میں جکڑی ہوئی تھیں ان کے اندر سے ایسی نوجوان نسل سامنے آئی ہے جو اپنے تحسین آمیز جذبہ خود اعتمادی کے ساتھ خطرات سے روبرو ہوئی ہے، جو تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے پر آ کھڑی ہوئي ہے اور حالات کو دگرگوں کر دینے پر کمربستہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں میں الحادی فکر کے حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں اور تسلط کے باوجود، دین کو مٹا دینے کی خفیہ و آشکارا کوششوں کے باوجود اسلام اپنے پرشکوہ اور نمایاں نفوذ و رسوخ کے ساتھ دلوں اور زبانوں کا رہنما بن گیا ہے اور دسیوں لاکھ کے مجمعے کی گفتار اور کردار میں چشمے کی مانند جاری ہے اور ان کے اجتماعات و طرز عمل کو تازگی اور گرمی حیات عطا کر رہا ہے۔ گلدستہائے آذان، عبادت گاہیں، اللہ اکبر کی صدائیں اور اسلامی نعرے اس حقیقت کی کھلی ہوئی نشانیاں اور تیونس کے حالیہ انتخابات اس حقیقت کی محکم دلیل ہیں۔ بلاشبہ اسلامی ممالک میں جہاں کہیں بھی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات ہوں گے نتائج وہی سامنے آئيں گے جو تیونس میں سامنے آئے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ اس ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات نے سب پر یہ واضع کر دیا ہے کہ خدائے عزیز و قدیر نے اقوام کے عزم و ارادے میں اتنی طاقت پیدا کر دی ہے کہ کسی دوسری طاقت میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرئت و توانائی نہیں ہے۔ اقوام اسی خداداد طاقت کے سہارے اس بات پر قادر ہیں کہ اپنی تقدیر کو بدل دیں اور نصرت الہی کو اپنا مقدر بنا لیں۔
چوتھی حقیقت یہ ہے کہ استکباری حکومتیں اور ان میں سر فہرست امریکی حکومت، کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور سیکورٹی کے حربوں کے ذریعے خطے کی حکومتوں کو اپنا تابع فرمان بنائے ہوئے تھی اور دنیا کے اس حساس ترین خطے پر بزعم خود اپنے روز افزوں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تسلط کے لئے ہر طرح کی رکاوٹوں سے محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھیں، آج اس خطے کی اقوام کی نفرت و بیزاری کی آماجگاہ بنی ہوئي ہیں۔
ہمیں یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان عوامی انقلابوں کے نتیجے میں تشکیل پانے والے نظام ماضی کی شرمناک صورت حال کو تحمل نہیں کریں گے اور اس خطے کا جیو پولیٹیکل رخ قوموں کے ہاتھوں اور ان کے حقیقی وقار و آزادی کے مطابق طے پائے گا۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کی منافقانہ اور عیارانہ طینت اس خطے کے عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔ امریکا اور یورپ نے جہان تک ممکن تھا مصر، تیونس اور لیبیا میں الگ الگ انداز سے اپنے مہروں کو بچانے کی کوشش کی لیکن جب عوام کا ارادہ ان کی مرضی پر بھاری پڑا تو فتحیاب عوام کے لئے عیارانہ انداز میں اپنے ہوٹوں پر دوستی کی مسکراہٹ سجا لی۔ اللہ تعالی کی روشن نشانیاں اور گراں قدر حقایق جو گذشتہ ایک سال کے عرصے میں اس خطے میں رونما ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں اور صاحبان تدبر و بصیرت کے لئے ان کا مشاہدہ اور ادراک دشوار نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود تمام امت مسلمہ اور خصوصا قیام کرنے والی اقوام کو دو بنیادی عوامل کی ضرورت ہے:
اول: استقامت کا تسلسل اور محکم ارادوں میں کسی طرح کی بھی اضمحلال سے سخت اجتناب۔ قرآن مجید میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اللہ کا فرمان ہے ” فاستقم کما امرت و من تاب معک و لا تطغوا” اور ” فلذلک فادع و استقم کما امرت” اور حضرت موسی علیہ السلام کی زبانی ” و قال موسی لقومہ استعینوا باللہ و اصبروا، ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبتہ للمتقین” قیام کرنے والی اقوام کے لئے موجودہ زمانے میں تقوی کا سب سے بڑا مصداق یہ ہے کہ اپنی مبارک تحریک کو رکنے نہ دیں اور خود کو اس وقت ملنے والی (وقتی) کامیابیوں پر مطمئن نہ ہونے دیں۔ یہ اس تقوی کا وہ اہم حصہ ہے جسے اپنانے والوں کو نیک انجام کے وعدے سے سرفراز کیا گيا ہے۔
دوم: بین الاقوامی مستکبرین اور ان طاقتوں کے حربوں سے ہوشیار رہنا جن پر ان عوامی انقلابوں سے ضرب پڑی ہے۔ وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ اپنے تمام تر سیاسی، مالی اور سیکورٹی سے متعلق وسایل کے ساتھ ان ممالک میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کے لئے میدان میں اتریں گے۔ ان کا ہتھیار لالچ، دھمکی، فریب اور دھوکہ ہے۔ تجربے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خواص کے طبقے میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر یہ ہتھیار کارگر ثابت ہوتے ہیں اور خوف، لالچ اور غفلت انہیں شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کی خدمت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ نوجوانوں، روشنفکر دانشوروں اور علمائے دین کی بیدار آنکھیں پوری توجہ سے اس کا خیال رکھیں۔
اہم ترین خطرہ ان ممالک کے جدید سیاسی نظاموں کی ساخت اور تشکیل میں کفر و استکبار کے محاذ کی مداخلت اوراس کا اثر انداز ہونا ہے۔ وہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ نو تشکیل شدہ نظام، اسلامی اور عوامی تشخص سے عاری رہیں۔ ان ممالک کے تمام مخلص افراد اور وہ تمام لوگ جو اپنے ملک کی عزت و وقار اور پیشرفت و ارتقاء کی آس میں بیٹھے ہیں، اس بات کی کوشش کریں کہ نئے نظام کی عوامی اور اسلامی پہچان پوری طرح یقینی ہو جائے۔ اس پورے مسئلے میں آئین کا کردارسب سے نمایاں ہے۔ قومی اتحاد اور مذہبی، قبایلی و نسلی تنوع کو تسلیم کرنا، آیندہ کامیابیوں کی اہم شرط ہے۔  مصر، تیونس اور لیبیا کی شجاع اور انقلابی قومیں نیز دوسرے ممالک کی بیدار مجاہد اقوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ امریکا اور دیگر مغربی مستکبرین کے مظالم اور مکر و فریب سے ان کی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن ان کے حق میں قائم ہو۔ مسلمانوں کو دنیا کو ہڑپ جانے کے لئے کوشاں ان طاقتوں سے اپنے تمام مسائل سنجیدگي سے طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کریں اور یہ اسلامی ممالک کے اتحاد، ہمدلی اور باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ عظیم الشان امام خمینی کی ناقابل فراموش نصیحت بھی ہے۔
امریکا اور نیٹو، خبیث ڈکٹیٹر قذافی کے بہانے کئی ماہ تک لیبیا اور اس کے عوام پر آگ برساتے رہے جبکہ قذافی وہ شخص تھا جو عوام کے جراتمندانہ قیام سے پہلے تک ان (مغربی طاقتوں) کے قریبی ترین دوستوں میں شمار ہوتا تھا، وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھیں، اس کی مدد سے لیبیا کی دولت لوٹ رہی تھیں اور اسے بے وقوف بنانے کے لئے اس کے ہاتھ گرم جوشی سے دباتی تھیں یا اس کا بوسہ لیتی تھیں۔ عوام کے انقلاب کے بعد اسی کو بہانہ بنا کر لیبیا کے پورے بنیادی ڈھانچے کو ویران کرکے رکھ دیا۔ کون سی حکومت ہے جس نے نیٹو کو عوام کے قتل عام اور لیبیا کی تباہی جیسے المیے سے روکا ہو؟ جب تک وحشی اور خون خوار مغربی طاقتوں کے پنجے مروڑ نہیں دیئے جاتے اس وقت تک اس طرح کے اندیشے قائم رہیں گے۔ ان خطرات سے نجات، عالم اسلام کا طاقتور بلاک تشکیل دیئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مغرب، امریکا اور صیہونیت ہمیشہ کی نسبت آج زیادہ کمزور ہیں۔ اقتصادی مشکلات، افغانستان و عراق میں پے در پے ناکامیاں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں عوام کے گہرے اعتراضات جو روز بروز وسیع تر ہو رہے ہیں، فلسطین و لبنان کے عوام کی جانفشانی و مجاہدت، یمن، بحرین اور بعض دوسرے امریکا کے زیر اثر ممالک کے عوام کا جراتمندانہ قیام، یہ سب کچھ امت مسلمہ اور بالخصوص جدید انقلابی ممالک کے لئے بشارتیں ہیں۔ پورے عالم اسلام اور خصوصا مصر، تیونس اور لیبیا کے باایمان خواتین و حضرات نے بین الاقوامی اسلامی طاقت کو وجود میں لانے کے لئے اس موقعہ کا بنحو احسن استعمال کیا۔ تحریکوں کے قائدین اور اہم شخصیات کو چاہئے کہ خداوند عظیم پر توکل اور اس کے وعدہ نصرت و مدد پر اعتماد کریں اور امت مسلمہ کی تاریخ کے اس نئے باب کو اپنے جاودانہ افتخارات سے مزین کریں جو رضائے پروردگار کا باعث اور نصرت الہی کی تمہید ہے۔
والسلام علی عباد اللہ الصالحین, سید علی حسینی خامنہ ای, 5 آبان 1390
29 ذیقعدہ 1432

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے حکومت بحرین کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ مارک ٹونر نے آل خلیفہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں اس بات کے ذکر کو کہ مظاہرین کےخلاف حد سے زیادہ تشدد کا استعمال ہوا ہے مثبت قراردیا۔ یاد رہے کہ امریکہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کا سب سےبڑا حامی ہے کیونکہ بحرین میں امریکہ کی بحریہ کے پانچویں بیڑے کا اڈہ ہے۔ ادھر بحرین کے انقلابی گروہوں اور عوام نے آل خلیفہ کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو سیاسی رپورٹ قرار دیا ہے۔ بحرین کے ایک انقلابی رہنما فاضل عباس نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ عوام کے خلاف جاری حکومتی تشدد کے بارے میں یہ ایک ناقص رپورٹ ہے اور بحرین کے عوام حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد نہیں کرتے کیونکہ ملت بحرین کے خلاف آل خلیفہ اور جارح آل سعود کے جرائم اس سے کہیں بڑھ کر ہیں جن کا ذکر رپورٹ میں کیا گيا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ اس رپورٹ کو تیارکرنے میں امریکی وزارت خارجہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے مداخلت کی ہے۔ فاضل عباس نے کہا کہ بحرینی عوام اس رپورٹ کو نظر میں لائے بغیر اپنے اہداف حاصل ہونے تک استقامت و پائیداری سے اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔دوسری جانب بحرین کی جمعیت الوفاق نے حکومت کی رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد آل خلیفہ کے اقتدار سے ہٹنے کامطالبہ کیا ہے۔ جمعیت الوفاق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت جس کے ہاتھ نہتے عوام کے خون سے رنگے ہیں اور جو عوام کو بری طرح جسمانی ایذائيں پہنچانے اور مساجد کی مسماری کی بھی ذمہ دار ہے، اسے ختم ہونا چاہیے اور اس کی جگہ قومی حکومت قائم ہونی چاہیے۔ اس انقلابی گروہ نے اعلان کیا ہے کہ قومی حکومت موجودہ مجرم حکومت کے خاتمے کے بعد عارضی طور پر ملک کا انتظام چلائے گي اور حقیقی اصلاحات کا آغاز کرے گي۔ جمعیت وفاق ملی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت کو چاہیے کہ اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لئے اسکے کارندوں کےہاتھوں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کو تاوان ادا کرے، آزادی بیان اور احتجاج کرنے کی آزادی کی ضمانت دے، فوجی عدالت کے احکامات کو کالعدم قراردے اور تمام قیدیوں رہا کرے نیز کام سے نکالے گئے تمام ملازموں کو بحال کر دے۔جمعیت وفاق ملی نے بحرین کے عوامی انقلاب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی عدم مداخلت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ نے بھی بحرین کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخاب کے لیے ری پبلکن امیدواروں نے پاکستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واشنگٹن پر اسلام آباد کی امداد میں کٹوتی کے لیے زور دیا ہے۔امریکی صدارتی انتخابات اگلے سال نومبر میں ہورہے ہیں۔ اس سلسلے میں امیدواروں کی مہم جاری ہے جو خارجہ تعلقات، داخلہ امور، اقتصادیات، سلامتی اور دیگر معاملات پر مرحلہ وار مباحثوں میں اپنا اپنا مؤقف امریکی عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک ری پبلکن امیدوار ریک پیری نے جو ریاست ٹیکساس کے گورنر ہیں، پاکستانی حکام کو ناقابل بھروسہ قرار دیا ہے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا، ”بنیادی بات یہ ہے کہ کئی مواقعے پر وہ دکھا چکے ہیں کہ اُن پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، جب تک پاکستانی اس بات کی ضمانت نہیں دیتے کہ امریکہ کا بہترین مفاد اُن کے ذہن میں ہے، میں انہیں ایک پینی بھی نہیں دوں گا۔”امریکہ پر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے واشنگٹن اور اسلام آباد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قریبی اتحادی ہیں۔ اس قربت میں اسلام آباد طویل عرصے سے اس لیے خود کو دباؤ میں محسوس کر رہا ہے کہ واشنگٹن اسے بعض عسکریت پسندوں کے ساتھ خفیہ روابط کے سلسلے میں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رواں سال مئی میں امریکی فوج نے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں خفیہ کارروائی کرکے القاعدہ کے لیڈر اُسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔  اس واقعے کے بعد سے دو طرفہ تعلقات میں تناؤ بڑھا ہے۔صدارتی مہم کے سلسلے میں سابق امریکی سفارتکار جون ہنٹسمین کا کہنا تھا پاکستان کی جانب سے ‘لاحق خطرات’ بہرحال ایک بڑی تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا، ” یہی وہ ملک ہے جو آپ کو راتوں کو جگائے رکھتا ہے، اس کے پاس ایک سو سے زائد جوہری ہتھیار ہیں، اس کی سرحد پر مسئلہ ہے اور یہ ایک ناکام ریاست میں بدلنے کے دہانے پر ہے۔”  کانگریس کی رکن مائیکل باخمن کا اس سلسلے میں کہنا تھا، ” یہ ایک انتہائی غیر مستحکم ریاست ہے اور اس حقیقت کو بہت زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں”۔ ان کے بقول اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ القاعدہ کے دہشت گرد یہ جوہری ہتھیار حاصل کرلیں اور پھر یہ نیویارک اور واشنگٹن تک پہنچ جائیں۔ انہوں نے پاکستان کو ملنے والی اربوں ڈالر کی امداد پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ”ہمیں مزید مطالبات منوانے چاہییں، ہم اس وقت جو رقم پاکستان کو بھیج رہے ہیں وہ بنیادی طور پر انٹیلی جنس سے متعلق ہے، ہمارا جو بھی عمل ہو وہ آخرکار امریکہ کی سلامتی کے لیے ہونا چاہیے۔”سابق اسپیکر نیوٹ گینگرِش Newt Gingrich کا کہنا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ ” امریکی دفتر خارجہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کرکے پاکستانیوں سے کہا جائے کہ یا تو ہماری مدد کرو، یا ہمارے راستے سے ہٹ جاؤ مگر اُس وقت شکایت مت کرو جب ہم ایسے لوگوں کو ہلاک کرتے ہیں، جن کا تم اپنی سرزمین پر تعاقب نہیں کرنا چاہتے۔”ان صدارتی امیدواروں کی طرح بعض دیگر امریکی سیاستدان بھی امریکی خارجہ پالیسی سے متعلق اپنے بیانات میں اسلام آباد حکومت کو ہدف تنقید بنائے ہوئے ہیں۔

مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔اسلامی دنیا کیخلاف یوں تو پہلے دن سے ہی سازشی عناصر نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سازشوں کے طریقہ کار بھی جدید ہوتے چلے گئے، لیکن مسلم دنیا کے سیاسی لٹیروں اور مادہ پرست سازشی عناصر نے استعمار کے پلان پر عمل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو ہدف قرار دیا اور استعمار کی اس گھنائونی سازش میں شامل ہو گئے جو اس نے نوجوانوں خصوصاً مسلم نوجوانوں کیخلاف شروع کی ہوئی تھیں۔ اسلامی افکار، اقدار اور تعلیم سے دور کرنا اور اخلاقی پستی میں دھکیلنا، استعمار کے اولین اہداف ہیں، نوجوانوں میں دین کے بارے میں عجیب و غریب شبہات و خدشات کو جنم دینا اور ان کو ایک ایسے راستہ کی نشان دہی کرنا جو کسی منزل کی طرف نہیں جاتا ہے بلکہ نوجوان کو ایک ایسے بند کمرے میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے نہ واپسی ممکن ہے اور نہ ہی سکون سے جینا ممکن ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسلامی دنیا کے نام نہاد سیاسی کٹھ پتلیاں نوجوانوں کی کردار سازی کرنے کے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا نہ سر ہے اور نہ پیر، اوپر سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک صالح اسلامی معاشرے کے قیام کا موجب بنے گا، فیصلہ کرنے اور راہ کے تعین کرنے کا فقدان ہے، تبھی تو یا تو مادہ پرستی کی طرف جانے والے راستے کو صراط مستقیم قرار دیا جاتا ہے یا پھر اسلام کے شاندار اور لازوال عہد رفتہ کی عظمت اور رفعت کے احیائےنو کے لئے نوجوانوں کو فکری و نظریاتی کردار ادا کرنے کے بجائے مرنے اور گردن اڑا دینے کو ہی اسلام کی اساس قرار دیا جا رہا ہے۔ نوجوان پستی کی طرف گرتا چلا جا رہا ہے، مگر کوئی ان کو سہارا دینے اور سیدھا راستہ دکھانے پر راضی دکھائی نہیں دیتا اور راضی ہو بھی تو کیسے ہو، اگر قوم و ملک کے معماروں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی، تو پھر سر اٹھا کر چلنے والے نوجوان کے عزم و ارادے کے سامنے کون ٹک پائے گا؟ اسی بات کے خوف نے معاشرے میں ایک گھٹن کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے، مادیت کی راہ میں ایک ایسی دوڑ کا آغاز کیا گیا ہے جو گول دائرے کے اطراف میں جاری ہے اور کبھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچے گی۔ جھوٹی اور لادینیت پر قائم رسم و رواج میں سب کو ایسا مشغول کر دیا گیا ہے کہ ان رسموں اور رواجوں کو دین سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، ہر شخص اپنے ہر عمل کی صداقت کو اسلام کی رو سے ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ معاملہ چاہے معصوم اور ناحق خون سے مسجدوں کو لال کیے جانے کا ہو یا لسانیت یا مذہب کے نام پر تعصب کے بیج بونے کا۔۔۔۔۔۔ہر عمل کو اسلام سے درست ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہے۔۔۔۔جس کا دل چاہتا ہے اسلام کو وہی شکل دے کر پیش کر دیتا ہے۔ نعوذ باللہ
کسی بھی معاشرے میں سماجی، معاشی، سیاسی معاملات سے اگر نوجوان لا تعلق نظر آئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ان مسائل کا حل ہونا مشکل ہے۔ طالب علموں اور نوجوانوں کو کسی بھی معاشرے کا سب سے فعال عنصر تصور کیا جاتا ہے، جن پر معاشرے کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے، اگر یہ طبقہ تعمیری فکر اور صحیح سیرت کا حامل ہو گا تو پوری قوم اور معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے، لیکن اگر یہ طبقہ فکری اور عملی بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو مستقبل تو دور کی بات ہے یہ اپنے بزرگوں کے کئے کرائے پر بھی پانی پھیر دے گا۔ نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اچھے خیالات کو قبول کرنے کی صلاحیت ان میں زیادہ ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کو بسا اوقات مصلحتیں اور عصبیتیں کسی فکر کو قبول کرنے سے روک دیتی ہیں۔ نوجوانوں کے مضبوط عزائم ان زنجیروں کو کاٹ سکتے ہیں، جو بڑوں کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ ان ہی خصوصیات کی بناء پر نوجوان ہر تحریک کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کو ہر تحریک اپنے ساتھ لینے اور ان سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب کسی تحریک میں جوانوں کی آمد رک جاتی ہے تو وہ ختم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔ دُنیا میں جو بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں، ان میں نوجوانوں کا ہاتھ رہا ہے۔ ان کی قربانیوں ہی نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے احوال بتاتے ہیں کہ نوجوانوں ہی نے سب سے پہلے ان کا ساتھ دیا۔ دور حاضر میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی کامیابی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی رہا ہے، تیونس ہو یا مصر، یمن ہو یا بحرین، لبنان ہو یا ایران یا مسئلہ فلسطین ۔۔۔صرف نوجوان ہی ہیں، جنہوں نے اپنی ثابت قدمی اور مضبوط فکری بنیادوں کی بدولت استعمار کو اس طرح پچھاڑا ہے کہ دنیا حیران ہے۔ اس وقت پوری دنیا اخلاقی بحران سے گذر رہی ہے۔ آج کے نوجوان بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔ آج کا نوجوان مادہ پرستی کی راہ میں ”روبوٹ“ بننے پر کمربستہ ہے، لیکن اخلاقی قدروں کےحوالے سے اس قدر خاموش ہے کہ ”لاش“ کا گمان ہوتا ہے۔ اخلاقی قدریں انسان کو بعض اصولوں کا پابند بناتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ لیکن موجودہ دور کے انسان کے نزدیک یہ اخلاقی قدریں قدامت پرستی اور جہالت کی دلیل ہے۔ انسان جس اخلاقی قدر کو چاہئے اسے دورِ جاہلیت کی یادگار کہہ کر پامال کر سکتا ہے۔ ہمارے جوان کو کوئی قوم اور زبان کی بنیاد پر تعصب کی عینک پہنا دینا چاہتا ہے تو کوئی مذہبی انتہا پسندی کو اس پر تھوپ دینا چاہتا ہے، کہیں مساجد میں خون کے دریا بہائے جا رہے ہیں تو کہیں مساجد میں کفر کے فتوے سنائے جا رہے ہیں، کہیں نماز اور روزے سے لگائو کی بنیاد پر اسے انتہا پسند قرار دے دیا جاتا ہے تو کہیں مذہب سے دوری کی پاداش میں نوجوان پر جنت کی حوروں کو حرام قرار دے دیا جاتا ہے اور کہیں کسی مسلمان کے قتل کے عوض جنت کی حوروں کا بٹوارہ ہوتا ہے۔ ان تمام ذکر کئے جانے والے مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔ جب ضمام ولایت کہ ہاتھوں میں ہو گی تو حزب اللہ وجود میں آ جاتی ہے اور نوجوان شجاعت و جوانمردی کا پیکر بن جاتا ہے جو راتوں میں اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہوتا ہے اور دن میں باطل سے برسر پیکار رہتا ہے، وہ عرفانیت کی کتنی ہی منازل ایک رات میں طے کر لیتا ہے جس کے لیے سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ اپنی جوانی کو ضائع نہ کریں، استعمار کی متعین کی گئی راہ پر چلنے کے بجائے راہ ولایت کو اختیار کریں اور نصرت دین کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔

حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں امریکہ و برطانیہ گلا پھاڑ کر جس انداز میں ایران فوبیا کا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مشرق وسطٰی میں سیاسی ڈھانچے کو تباہ کن جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تینوں ممالک کی یہ منڈلی یا جماعت جو منحوس مثلث پر مشتمل ہے، ایران کے خلاف اپنے مصنوعی اور بے بنیاد الزامات کو جواز بنائے ہوئے ہیں، اس منحوس مثلت کے اعلٰی دفاعی حکام نے گذشتہ دنوں میں ایک میٹنگ کے دوران ایران کیخلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا ہے، جس سے ان کے مستقبل قریب میں ایران اور خطے کے بارے میں مذموم عزائم کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ایران پر حملہ کرنے کی افواہیں اور آئی اے ای اے کی حالیہ رپورٹ، جس میں ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات لگائے گئے، بعد میں منظر عام پر آئی ہیں۔
برطانوی جریدہ ’’گارڈین‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں تل ابیب کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے اسرائیل کے چوٹی کے ملٹری اور انٹیلی جنس عہدیداروں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، جس میں اسرائیلی دفاعی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ برطانیہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کی مکمل حمایت کرے گا، مزید برآں برطانوی حکام نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت ایران کے نیوکلیئر پلانٹس کے خلاف بڑی تیزی سے ٹارگٹڈ حملوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، اور برطانیہ ان ممکنہ حملوں کے منصوبے کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پچھلے بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اپنے برطانوی ہم منصب سے لندن میں ملاقات کی اور ظاہر ہے کہ اس ملاقات کا اولین ایجنڈہ ایران کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، اس ملاقات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانوی دفاعی حکام نے دسیوں برسوں سے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے، پس حالیہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعلقات میں استحکام اور فروغ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔حال ہی میں واشنگٹن میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی فوجی کمانڈر نے کہا کہ ایران، امریکہ کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے، ایران امریکہ اور اس کے مفادات، ہمارے دوستوں کے لئے خطرے کی بڑی علامت بن چکا ہے، اس کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر کسی چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ ایران ہے۔’’اتفاق‘‘ سے اسی دن اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر کی خواہش کی کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے فوجی آپشن کا مرحلہ نزدیک تر آ گیا ہے، جب چینل کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مسئلے کے کسی سیاسی یا سفارتی حل کی بجائے ملٹری آپشن کی طرف جا رہے ہیں؟ تو شمعون پیریز نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے اور میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ تمام ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی نظرین گھڑی کی ٹک ٹک پر لگی ہوئی ہیں، جو رہنماؤں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔اسی تناظر میں فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کا رویہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی شدید خواہش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس نے کہا اگر اسرائیل کے وجود کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا تو فرانس اس کے تحفظ میں خاموش نہیں رہے گا۔ فرانس کے موقف کے برعکس تین ممالک کی منڈلی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی لفظی جنگ میں دو قدم مزید آگے بڑھالئے ہیں۔
 دھمکی یا دباؤ ایران کے لئے نئے الفاظ نہیں اور وہ اس تلخ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے، جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ نے عالمی مسائل پر عقلمندی اور دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے، اس نے صرف طاقت کے زور پر معاملات کو حل کرنے کی روش اپنا رکھی ہے، وہ معقولیت کو بھی گم کر بیٹھے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ہم ہر تلخ اور سخت صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیارہیں، انہوں نے کہا ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایران سے ٹکراؤ سے قبل کم از کم دو مرتبہ ضرور سوچیں گے۔امریکہ، ایران کیخلاف دوبارہ جاری اپنی لفظی جنگ میں اپنے وہی پرانے الزامات کو بار بار دوہرا رہا ہے، جیسے ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، ایران علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، ایران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور اگر ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لیتا ہے تو یہ تیسری ورلڈوارکا پیش خیمہ ہو گا۔ حالیہ الزامات کا سلسلہ اس وقت مزید تیز ہو گیا جب عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران بڑے پیمانے پر سٹیل کے کنٹینر بنا چکا ہے جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ایران نے نیوکلیئر وارہیڈ میں استعمال ہونے والے سپر کمپیوٹر بھی تیارکر لئے ہیں، اور اسی طرح کی دوسری قیمتی معلومات ابھی صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، جن کاتعلق  ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے ہے۔’’منحوس مثلث‘‘ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا ایران کیخلاف حملے کا پلان سٹیج کرنے کا مقصد اس کے معدنی ذخائر کی لوٹ مار کرنا ہے، تاہم ایران اس صورتحال پر کبھی بھی خاموش بیٹھا نہیں رہے گا اور حملہ آوروں کا ان کے گھر تک پیچھا کریگا۔ اگست 2011ء میں سپاہ پاسداران کے ایک اعلٰی کمانڈر بریگیڈیئر علی شادمانی نے ان تین موثر اقدامات کا ذکر کیا ہے، جو ایران کیخلاف ممکنہ کسی بھی جارحیت کی صورت پر حکمت عملی کے طور پر اختیار کئے جا سکتے ہیں۔
(1) امریکہ اسرائیل کا دوست اور ہمدرد ہے، ایران اسرائیل کا امن تباہ و برباد کر دیگا اور اسرائیل میں عدم اطمینان یقیناً امریکہ کو کسی بھی جارحیت سے روکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
(2) کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لے گا، جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی 40 فیصد سپلائی گزرتی ہے، جس سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی اور پہلے ہی تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔ 
(3) ایران، عراق اور افغانستان میں اپنے اتحادیوں سے مل کر امریکہ کے ملٹری بیسز کا محاصرہ کر سکتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی فوجیں ان بیسز کی طرف بڑھ جائیں گی اور امریکی افواج کی ممکنہ پیش قدمی کو روک دیں گی۔
حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

 

پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر، ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے اور افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی، وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، اس حوالے سے معاشرہ کے ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخوا 2005ء سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، اب تک ہزاروں معصوم شہری دہشتگردوں کے وحشیانہ اور ظالمانہ اقدامات کا نشانہ بن چکے ہیں، مساجد، امام بارگاہوں، بازار، تعلیمی اداروں، سرکاری اور سیکورٹی اداروں سمیت ہر طبقہ ہائے زندگی کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا، صوبہ کے ان مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے 5 اضلاع کو محرم الحرام کے حوالے سے حساس ترین قرار دیا ہے، جس کے مطابق پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ صوبے کے باقی 20 اضلاع میں بھی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے، گزشتہ چند سالوں میں حساس قرار دیئے گئے ان اضلاع میں دہشتگردی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ ایام محرم میں بھی دہشتگردوں نے اپنے روایتی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنایا، ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء پر حملے کئے گئے۔  صوبہ خیبرپختونخوا میں محرم الحرام کے دوران امن وامان کا قیام یقینی بنانے کیلئے سکیورٹی پلان تشکیل دیدیا گیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر محکمہ پولیس میں ہرقسم کے تبادلوں اور نئی تقرریوں پر پابندی عائد ہو گی، حساس قرار دیئے گئے اضلاع صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت کوہاٹ، ہنگو، بنوں اور ڈی آئی خان میں ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر اور ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے پر پابندی ہو گی جبکہ ان اضلاع میں محرم الحرام کے دوران افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی اور اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ اکبر خان ہوتی نے صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر پولیس جوانوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے تشکیل دیئے گئے سکیورٹی پلان کے مطابق محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کے راستوں کو بند کر دیا جائیگا جبکہ ماتمی جلوسوں کے راستے میں ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، ادھر پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے بھی مذہبی بھائی چارے کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور ڈی سی او پشاور سراج احمد خان نے محرم الحرام کے دوران ہر صورت امن عامہ کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے متعلقہ محکموں اور حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔  پشاور میں 26 نومبر سے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس امر کا فیصلہ ڈی سی او پشاور سراج احمد کی سربراہی میں انتظامیہ نے کیا، اس سے قبل 25 نومبر سے دفعہ 144 نافذ ہونی تھی لیکن تحریک انصاف کی جانب سے 25 نومبر کو جلسہ کے باعث یہ تاریخ ایک روز کیلئے بڑھا دی گئی، ڈی سی او نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ 26 نومبر سے قبل کسی شہری کو دفعہ 144 کے نام پر بے جا تنگ نہ کیا جائے جبکہ عوام سے اپیل کی کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی شکایت کی صورت میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، انہوں نے محرم الحرام کے سلسلے میں پولیس کو ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء کی بھرپور حفاظت کیلئے ہدایت بھی کی گئی ہے۔ وبائی حکومت نے محرم الحرام میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر صوبے کے 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پشاور، ہنگو، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت حساس ترین اضلاع میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کو پولیس سیکورٹی کے علاوہ لیویز فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار بھی فراہم کئے جائینگے جبکہ صوبے کے بیشتر علما کرام کے پاس پہلے سے ہی سرکاری سیکورٹی موجود ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز کو ہدایت جاری کر دی ہیں، ان علماء کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، اس سلسلے میں کرم ایجنسی کی تینوں تحصیلوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، کرم ایجنسی کو یکم محرم الحرام سے دس محرم الحرام تک سیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں جبکہ خاصہ دار فورس، لیویز فورس کے علاوہ پیرا ملٹری فورس کی مزید نفری بھی کرم ایجنسی کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کی جا رہی ہے، فاٹا سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق کرم ایجنسی کو وفاق نے حساس قرار دیا ہے جس کے لئے کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ اور پولٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کرم ایجنسی میں محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر قافلوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر دی جائیگی۔ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، ان ایام میں ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا بلخصوص تمام علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں شعور پیدا کریں کہ وہ محرم الحرام کے دوران امام حسین ع کی یاد کو اپنے عقائد اور نظریات کے تحت مناتے ہوئے آپس میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کو اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے، شہریوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور مجالس عزاء اور ماتمی جلوسوں کے تحفظ کیلئے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں، تاکہ سیکورٹی ادارے شہریوں، تاجروں اور مذہبی رہنمائوں کے تعاون سے سیکورٹی کے مکمل انتظامات کر سکیں۔

 

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ اسلام کا نظام معیشت ہی دنیا میں عادلانہ نظام کی ضمانت ہے۔ دوسرے مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اجتہاد کی بحث کو نظری نہیں رہنا چاہیے بلکہ قومی اسمبلی کو اس کا نمائندہ ادارہ ہونا چاہیے۔  اشتراکی اور سرمایہ دارانہ نظام ناکام ہو چکے ہیں، اسلام کا نظام معیشت ہی دنیا میں عادلانہ نظام کی ضمانت ہے، یہی علامہ اقبال رہ اور استاد مرتضٰی مطہری کے افکار کا حاصل ہے۔ ان خیالات کا اظہار چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل مولانا محمد خان شیرانی نے البصیرہ کے زیر اہتمام ایام اقبال رہ کی مناسبت سے منعقد ہونے والے سیمینار ’’احیائے فکر دینی میں علامہ اقبال رہ اور مرتضٰی مطہری رہ کا کردار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔  تقریب کی دوسری نشست کے صدر پروفیسر فتح محمد ملک ریکٹر اسلامی یونیورسٹی نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اقبال کا خواب پورا ہونے کا وقت آچکا ہے، آج سرمایہ دارانہ نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ ہمیں اتحاد امت کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی، یہی علامہ اقبال کے دل کا درد ہے۔ ہم بنیادی باتوں اور فروعی چیزوں میں فرق کرنے سے قاصر ہیں۔  تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر سہیل عمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرتضی مطہری رہ نے ایرانی دانشوروں کی جدید نسل کو اقبال رہ کی افکار سے متعارف کرایا، جبکہ ڈاکٹر فرید پراچہ نائب قیم جماعت اسلامی نے تقریب کے دوران علامہ اقبال اور مرتضٰی مطہری کی فکری مطابقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا علامہ اقبال، مرتضیٰ مطہری اور علامہ مودودی نے معذرت خواہانہ رویے کو ترک کرکے جرات مندی کی روش کو اپنانے کا درس دیا۔ آج اسلامی بیداری انہی تعلیمات کا ثمرہ ہے۔ صدر نشین البصیرہ و اخوت ریسرچ اکادمی اور اس سیمینار کے میزبان ثاقب اکبر نے دنیا میں تیزی پیدا ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والے تہذیبی خلا کو اپنی دینی دانش سے پر کریں، جس کے لیے علامہ اقبال رہ اور استاد مرتضی مطہری کی روش سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔  پروفیسر احسان اکبر نے موجودہ صدی کو اقبال رہ کی صدی قرار دیا، تقریب سے ڈاکٹر محمد طفیل، ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر، ڈاکٹر شہزاد اقبال شام، ڈاکٹر دوست محمد، ڈاکٹر نثار ہمدانی، ڈاکٹر سجاد استوری، خواجہ شجاع عباس، مولانا علی عباس کے علاوہ دیگر کئی مقررین نے خطاب کیا۔ اس پروگرام میں ملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں، یونیورسٹی اساتذہ اور اسکالرز کے علاوہ معززین شہر اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے افراد نے بھی شرکت کی۔ واضح رہے کہ البصیرہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اس سیمینار کا مقصد علامہ اقبال رہ اور مرتضٰی مطہری رہ کے افکار کے ذریعے مغرب کی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنا ہے