یمن میں القاعدہ کی جانب سے سزائے موت پر عمل درآمد ‘غیر قانونی’

Posted: 02/04/2012 in All News, Articles and Reports, Important News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

صنعاء – یمن کے دینی علماء اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ انصار الشریعہ کی جانب سے تین افراد پر جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزا دینے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا اور یہ تنظیم کے سیاسی مقاصد پورے کرنے کے لئے انصاف کا استحصال ہے۔ القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم انصار الشریعہ نے 12 فروری کو صوبہ ابیان کے شہر جعار اور صوبہ شبوہ کے شہر عزن میں ان موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کیا۔ تنظیم نے ان تینوں افراد پر الزام لگایا تھا کہ وہ مقامی، علاقائی اور عالمی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے لئے جاسوسی کر رہے ہیں۔ ان افراد کو دن دیہاڑے مقامی رہائشیوں کے سامنے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ انصار الشریعہ کے خبر رساں ادارے مدد نے اپنی ویب سائیٹ پر اس سزائے موت کے بارے میں اعلان اور ایک وڈیو کلپ شائع کیا تھا۔ وڈیو کلپ کا عنوان “عين على الحدث [واقعات پر نظر] چوتھا ایڈیشن” تھا جس میں تینوں ملزمان کے اعترافی بیانات ریکارڈ تھے۔ انصار الشریعہ نے جعار اور عزن میں ان سزاؤں کو دیکھنے کے لئے آنے والے افراد میں اعترافی بیانات کی ہزاروں نقول بھی تقسیم کیں۔‘کوئی قانونی اختیار نہیں’ یمن کے سابق وزیر برائے اوقاف اور رہنمائی حمود الھتار نے کہا کہ انصار الشریعہ کو دوسروں پر اپنے خلاف جاسوسی کا الزام لگا کر انہیں موت کی سزائیں دینے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ اس کے پاس تو قانونی فیصلے سنانے کا کوئی قانونی اختیار ہی نہیں ہے، چاہے یہ ان افراد کے خلاف ہوں یا کسی اور گروپ کے۔ الھتار نے الشرفہ ویب سائیٹ سے گفتگو میں کہا کہ گروپ کو الزامات لگانے یا کوئی قانونی فیصلہ سنانے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ یہ صرف یمنی حکومت کے عہدیداروں کا بلا شرکت غیرے حق ہے۔ الھتار نے کہا کہ یمن میں سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے ایسے قانونی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو قانون کے ضوابط کی پاسداری کرتے ہوں۔ ملزم پر فرد جرم عائد کی جائے اور اس پر آئین، لاگو قوانین، انسانی حقوق کے آفاقی اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق منصفانہ مقدمہ چلایا جائے۔ جب کوئی مقدمہ چلانے والی عدالت یا اپیل منظور کرنے والی عدالت فیصلہ جاری کرتی ہے تو ملزم کو اپیل کرنے کا حق ہوتا ہے۔ اگر سپریم کورٹ بھی اس فیصلے کو برقرار رکھتی ہے تو اٹارنی جنرل پھر اس اپیل کو منظوری کے لئے صدر کو بھجواتے ہیں۔الھتار نے کہا کہ القاعدہ کے پاس سزائے موت یا حد کے تحت دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کرنے کے لئے قانونی، آئینی یا شرعی قانون کا اختیار نہیں ہے۔ شریعہ قانون ان شرائط کی وضاحت کرتا ہے ‘جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے’
وزارت اوقاف و رہنمائی کے نائب وزیر شیخ حسن الشیخ نے کہا کہ اسلام میں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حد کے تحت سزا پر عمل درآمد یا ان افراد کی بریت جن پر غلط الزام لگایا گیا ہے صرف اعلٰی مذہبی حکام کی منظوری سے ہی ہو سکتی ہے جن کی عملداری کی عوام نے اجازت دی ہو۔ انہوں نے الشرفہ سے گفتگو میں کہا کہ سربراہ مملکت یا اعلٰی مذہبی قیادت کو سزائے موت یا دیگر سزاؤں پر عمل درآمد کا اس وقت تک کوئی حق نہیں جب تک کہ اس بارے میں عدالت نے فیصلہ نہ دیا ہو۔ یہ فیصلہ بھی صرف اس وقت مؤثر ہے جب یہ ثبوت یا جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کے اعتراف پر مبنی ہو۔ الشیخ نے کہا کہ کسی گروپ، فرقے، جماعت یا قبیلے کو قانونی فیصلے کرنے کی اجازت نہیں ورنہ ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دائرہ اختیار کی اجازت امہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور یہ اپنے طور پر فرض نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ انصار الشریعہ کا یہ اعلان کہ اس نے اسلامی امارت قائم کر دی ہے، اسے جاسوسوں یا دیگر افراد کے خلاف فیصلے سنانے یا ان پر عمل درآمد کرنے کا کوئی حق نہیں دیتا کیونکہ اسلام میں شریعہ قانون پر مبنی ایسی پابندیاں رکھی گئی ہیں جو وقت، جگہ اور ان شرائط کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں جن کے تحت فیصلوں پر عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
اپنے مفادات سے مطابقت رکھنے والے فیصلے
ایک وکیل اور ہود تنظیم برائے حقوق و آزادیاں کے سربراہ محمد ناجی علاؤ نے کہا کہ القاعدہ جاسوسوں اور دیگر افراد کو جس طرح موت کے گھاٹ اتار رہی ہے وہ بلا جواز اور غیر آئینی اقدامات ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسلح گروپ اس حقیقت کے باوجود ریاست کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے کہ قانونی حیثیت وہ ہوتی ہے جس پر عوام کی اکثریت کا اتفاق ہو۔ انہوں نے کہا القاعدہ سمیت مسلح گروپ اپنے مقاصد و مفادات کے لئے ان قانونی فیصلوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ القاعدہ ایک مسلح گروپ ہے جو ہلاکتوں کے ذریعے اپنے سیاسی اہداف حاصل کرتا ہے۔ ……….کسی بھی شک ہو شبہ کے بغیر یہ ہی صورت حال پاکستان کے قبائلی علاقوں کی ہے اور اس سے بھی بدتر صورت حال پاکستان کے بین الاقوامی شہر کراچی کی ہے جہاں پر کچھ سیاسی اور مذہبی تنظیمیں  شیعہ مسلمانوں کو بڑی ہی بے دردی سے بغیر کسی جرم و خظا کے بس شوقیہ طور پر قتل کرتی ہین جس کی واضح مثال حالیہ چنددنوں مین شہر کراچی میں رونما ہونے والے واقعات ہیں جس میں شیعہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کو کبھی بسوں سے اتار کر، کبھی پیدل چلتے ہوئے، کبھی پس اسٹاپ پر، کبھی اور دیگر طرح سے شہید کر دیا جاتا ہے۔

Comments are closed.