Archive for the ‘Health & Sports News’ Category

لندن : ایک چیرٹی سیف ایگزٹ کے سربراہ ٹوئن بی ہال نے لندن اولمپکس سے قبل ایسٹ لندن میں جسم فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم فروشی کے خلاف مہم کے نتیجے میں سنگین جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویش ناک بات ہے کہ جنوری سے اب تک ٹاور ہیملیٹس سے 48 اور گذشتہ 2 ماہ کے دوران نیوہیم سے 21 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ سٹی ہال کے مطابق نیوہیم میں گذشتہ 18 ماہ کے دوران جسم فروشی کے 80 اڈے بند کئے جاکے ہیں۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کمیونٹی کی شکایت پر کارروائی کی ہے اولمپک کی وجہ سے نہیں. برطانیہ کی سب سے کم عمر ماں کی بیٹی ساشا نے جو اب 15 سال کی ہوچکی ہے کہا ہے کہ میں اپنی ماں کی غلطی نہیں دہراؤں گی اور 18 سال تک کنواری رہوں گی۔ اس نے کہا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری ماں نے صرف 12 سال کی عمر میں مجھے جنم دیا تھا تو میں ششدر رہ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک ماں نہیں بننا چاہتی جب تک مالی طور پر خودکفیل نہ ہوجاؤں۔ اس نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات مجھ پر جنسی تعلق قائم کرنے کیلئے دباؤ ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود لڑکوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میں اب تک کنواری ہوں اور 18 سال کی عمر تک کنواری رہنا چاہتی ہوں۔ میرے خیال میں کمسنی میں جنسی تعلق قائم کرنا خطرناک ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر انتظار کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی ماں سے محبت کرتی ہوں اور ماں بھی مجھے چاہتی ہے لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں اس وقت پیدا ہوئی جب ماں کی عمر صرف 12 برس کی تھی تو مجھے دھچکا لگا کیونکہ اس عمر میں تو میں باربی سے کھیل رہی تھی۔ میری ماں کے پاس کبھی بھی وافر رقم نہیں رہی، میں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی کی خواہاں ہوں.لندن جنسی جرائم کا ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ بچوں کے خلاف جرائم پر مشتمل ہے۔گزشتہ سال ہر 20 منٹ کے بعد ایک بچے کو مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا جاتا تھا جب کہ روزانہ 60 بچوں پر جنسی حملوں کی رپورٹ پولیس کو دی جاتی تھی۔ انگلینڈ اور ویلز میں 2010-11 ء میں 23,000 بچوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے 20 فیصد اتنے چھوٹے تھے کہ سیکنڈری سکول میں داخلے کے قابل بھی نہیں تھے۔ ان بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرموں میں 10 فیصد سے بھی کم کو سزائیں ہو سکیں۔جرائم کے ان اعداد و شمار میں زنا بالجبر، اور بچوں کو قحبہ گری پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔گزشتہ سال مجموعی طور پر 54,982 جنسی جرائم ہوئے جن میں سے 23,097 بچوں کے خلاف تھے۔ 14,819 بچے 11۔17 سال عمر اور 8749 بچے 13-15 سال عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

Advertisements

موغا ديشو … صوماليہ کے ايک تھيٹر ميں خود کش حملے ميں قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور حکومتي وزير سميت 7 افراد ہلاک ہوگئے ہيں. دار الحکومت موغاديشو ميں پوليس اہلکاروں کے مطابق ايک خود کش حملہ آور نے تقريب کے دوران خود کو تھيٹر کي عمارت کے اندر دھماکے سے اڑا ديا. صومالہ ميں سرکاري ٹيلي ويژن کے ذرائع کے مطابق قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور ايک حکومتي وزير ہلاک ہونے والوں ميں شامل ہيں. يہ تھيٹر 1990 ميں خانہ جنگي کے آغاز کے بعد بند کر ديا گيا تھا اور گزشتہ ماہ ہي دوبارہ کھولا گيا تھا.

عراق یا افغانستان میں فرائض انجام دینے کے بعد لوٹنے والے امریکی فوجیوں میں روزانہ سر درد معمول کی بات ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جو امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جنگی فرائض انجام دینے کے بعد  وطن لوٹتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی دماغی چوٹ یا بڑے دھچکے کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فوجیوں میں سے ہر پانچویں فوجی کو مہینے میں کم از کم پندرہ دن سر میں مستقل درد رہتا ہے۔ اس جائزے کے دوران بہت سے فوجی روزانہ بنیادوں پر سر درد کے مریض پائے گئے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج امریکی میڈیکل ریسرچ میگزین Headache کے تازہ شمارے میں شائع ہو گئے ہیں۔ اس طبی تحقیقی سروے کے دوران امریکی فوج کے محققین نے قریب ایک ہزار فوجیوں کے موجودہ اور پرانے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ یہ سارے فوجی ایسے تھے جنہیں عراق یا افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے یا چھوٹی بڑی دماغی چوٹ کا سامنا رہا تھا۔اس سروے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ان فوجیوں میں سے ہر پانچواں یا مجموعی طور پر قریب بیس فیصد فوجی بار بار ہونے والے سر کے ایسے درد کا شکار رہتے ہیں جسے مستقل بنیادوں پر روزانہ سر درد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں سے ہر ایک کم از کم بھی تین مہینے تک اس سر درد کا شکار رہا۔ ان ایک ہزار امریکی فوجیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے تھے جنہیں ہر روز کئی کئی گھنٹے تک شدید سر درد رہتا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق جن امریکی فوجیوں کو مستقل سر میں درد رہتا تھا، ان میں کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے کے بعد پائے جانے والے جذباتی یا اعصابی دباؤ کے عارضے PTSDکے واضح آثار بھی پائے گئے۔ اس کے برعکس دیگر فوجیوں میں جنہیں مسلسل سر درد کی شکایت نہیں تھی، ایسے کسی دباؤ کے کوئی آثار دیکھنے کو نہ ملے۔طبی ماہرین اس حالت سے پہلے کے دھچکے کو Concussion کا نام دیتے ہیں۔ ‘کن کشن‘ کسی ذہنی دھچکے کی وجہ سے دماغ کو لگنے والی وہ ہلکی سی چوٹ ہوتی ہے جس کے بعد عموما سر درد کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ فوجی اہلکار کتنی بڑی تعداد میں ایسے کسی ذہنی دھچکے کے بعد سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ اس سے پہلے عام اندازہ یہ تھا کہ اگر کسی Concussion کے بعد متعلقہ فرد دائمی سر درد کا مریض بن جاتا ہے تو یہ شرح بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس طبی تحقیقی جائزے کی سربراہی امریکی فوج کے ریاست ٹیکساس میں تعینات میجر بریٹ تھیلر نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار کے قریب فوجیوں کی صحت اور ان کے میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ وہ سارے فوجی عراق یا افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں وہاں ’کن کشن‘ کا سامنا بھی رہا تھا۔ میجر بریٹ تھیلر کے مطابق ایسے 98 فیصد فوجیوں نے امریکا واپسی کے بعد بار بار سر کے درد کی شکایت کی۔

نیو یارک……دنیا بھر میں ایک ارب افراد معذور ہیں۔ عالمی ادارہٴ صحت اور عالمی بینک نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی سطح پر تقریباً ایک ارب افراد کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائیں جائیں۔ معذوری پر جاری کی جانے والی یہ پہلی عالمی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا کہ دنیاکی کل آبادی کا پانچواں حصہ اپاہج ہے ،ترقی یافتہ ممالک میں کل روزگار میں سے44فیصد معذور افراد برسرروزگار ہیں۔ یہ رپورٹ جون میں جاری کی گئی۔

نیویارک……صبح سویر ے نیند سے بیداری کے فوری بعد سگریٹ نوشیپھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این ‘ کے مطابق صبح سویرے تمباکو نوشی کرنے سے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد جو نیند سے بیدار ہوتے ہی سگریٹ سلگا لیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر کے میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق سے ان تمباکو نوشوں کی نشاندہی کی جا سکے گی جن میں کینسر کے زیادہ امکانات ہیں۔ دن کے باقی اوقات میں سگریٹ نوشی سے نکو ٹین اور تمباکو کے دیگر مضر رساں اجزاء اس حد تک جسم میں سرایت نہیں کرتے، جتنے صبح بیداری کے بعد پہلی سگریٹ سے انسان کے جسم میں اترتے ہیں۔ وہ لوگ جو بیداری کے بعد31 سے 60منٹ کے دوران سگریٹ پیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کے تیس فیصد زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ جو بیداری کے پہلے نصف گھنٹے میں سگریٹ سلگاتے ہیں ان میں80فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ پہلے نصف گھنٹے میں سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا ہونے کے 60فیصد جبکہ بیداری کے 31سے60منٹ کے دوران 40فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف امریکاکے کینسر سوسائٹی کے جریدے میں شائع دو مختلف تحقیقات میں کیا گیا۔

نیویارک .  . مچھلی کے تیل میں موجودقدرتی غذائیت نہ صرف بینائی تیز کرتی ہے بلکہ قوتِ حافظہ بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل کااستعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے ۔ اس میں موجود Omega-3 Fatty Acids قدرتی طور پر خون پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے نہ صرف بلڈ پریشرکی سطح ہموار ہوجاتی ہے بلکہ یہ ہائپر ٹینشن سمیت امراضِ قلب سے حفاظت کا بھی موثر ذریعہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کی ناہموار سطح ہائپر ٹینشن کا سبب بنتی ہے جبکہ مچھلی کے تیل کا استعمال اس بیماری سے لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

دہلی…فارن ڈیسک…بچے کی اعصابی و دماغی نشونما کے لیے مچھلی کا استعمال بہت ضروری ہے۔بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ماں کے دودھ کے بعد بچے کے اعصاب ،دماغ اور آنکھوں کی نشونما کے لیے ’اومیگا 3ایسڈ‘ کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو صرف مچھلی میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ سائنسی جرنل کے مطابق مچھلی کے بہت سے فوائد ہیں اور یہ دماغی بیماریوں کو روکنے میں بھی کا م آتی ہے۔

میری لینڈ :امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ امومیگا تھری (چکنائی) فیٹی ایسڈ سے بھرپور غذا بڑھاپے میں آنکھوں کے امراض سے بچانے میں معاون ہے۔ امریکی طبی ماہرین کے مطابق اوسط عمر کے افراد کی بینائی میں بتدریج کمی کے مرض اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ امریکی ریاست میری لینڈ میں ماہرین نے 2400 بوڑھے افراد کی غذا، بینائی بارے  ایک سال تک مطالعاتی جائزہ لیا۔ اس ضمن میں ماہرین نے میری لینڈ کے ساحلی علاقہ میں رہنے والے ان افراد کا علیحدہ گروپ بنایا جو کہ سمندری غذا یعنی مچھلی اور شیل فش کا زیادہ استعمال کرتے تھے جبکہ دوسرے کنٹرول گروپ میں شامل بوڑھے افراد کی غذا میں مچھلی کا گوشت بہت کم یا نہ ہونے کے برابر تھا۔ ماہرین نے اس تحقیق میں شامل افراد کی غذا اور بینائی میں کمی کے مرض اور بینائی میں بہتری بارے مطالعاتی جائزہ لیا جس کے دوران اخذ کیا کہ فیٹی ایسڈ یعنی اومیگا تھری جو کہ زیادہ تر مچھلی کے گوشت میں پایا جاتا ہے کہ باعث بڑھاپے کے ساتھ ساتھ بینائی میں کمی کا مرض ان بوڑھوں میں کم پایا گیا جن کی غذا میں مچھلی کا گوشت شامل تھا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ قبل ازیں ماہرین نے بڑھاپے میں بینائی میں کمی کے مرض کا تعلق غذا میں زنک سے قرار دیا تھا تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے بڑھاپا میں نظر کی کمی بارے مزید طویل مدتی تحقیق کی ضرورت ہے۔

واشنگٹن: امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ روزے دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تحقیق کے مطابق مختلف دورانیے کے روزے رکھنے سے انسانی دماغ کی قوت بڑھتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہفتے میں دو یا تین دن کھانے سے گریز کرنے سے دماغ الزائمر، پارکنسن اور دوسری بیماریوں کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ قوت مدافعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

بے خوابی کے علاج کیلئے متاثرہ شخص کو اپنے اردگرد کے ماحول کو اچھا اور خود کو معمولات زندگی میں مصروف رکھنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر نفسیات عائشہ موکم قریشی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کی کئی اقسام ہیں جیسے ابتدائی اور مختصر جزو وقتی بے خوابی، وقفے وقفے سے نیند کا نہ آنا بے خوابی کی انتہائی شدید صورتحال ہے جس کے دوران مریض معمول کے سونے کے وقت میں کبھی صحیح طرح سے نہیں سوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کا علاج ہر شخص کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ بے خوابی کی بیماری ابتدائی طور پر ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ خود پر مسلط کی ہوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتشار کی صورت ہے جس کے دوران کوئی شخص کام کی زیادتی کے باعث یا تنائو کے ماحول میں معمول کے مطابق اپنی نیند نہیں لے سکتا اور جن ڈاکٹر سے علاج کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے بے خوابی کے مریضوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طور پر خود تشخیص کردہ ادویات کا استعمال نہ کریں جس کے صحت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض ان کا عادی بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات جن سے نیند متاثر ہو سب سے پہلے انہیں جھٹک دینا چاہتے جس سے بیماری کا علاج بغیر ادویات کے ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین بے خوابی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں میں یہ بیماری عام ہوتی ہے جبکہ وہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونے سے قبل غیر ضروری ادویات جیسے کہ وٹامنز کا استعمال نہیں کرنا چاہئے وٹامنز وغیرہ کو ان کے وقت لینا چاہئے۔ انہوں نے اچھی بھرپور نیند کیلئے کچھ تدابیر بھی بتائیں جن کو اپنے سے بے خوابی کا علاج ممکن ہے۔ ان کے مطابق سونے کا کوئی قرینہ یا ترتیب بنائی جائے۔ کافی اور کیفین کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خود کو کسی کام میں مصروف رکھا جائے اور تھکن کی وجہ سے اچھی اور بھرپور نیند آتی ہے اور جب دوسرے سوجائیں تو سونے کی کوشش کی جائے

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پانی ابال کر استعمال کرنے سے یرقان سمیت پانی سے ہونے والی تمام بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔  یرقان سے بچائو کی حفاظتی تدابیر اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید اور  ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ یرقان کی پانچ اقسام ہیں جن میں اے بی سی ڈی اور ای شامل ہیں۔ یرقان اے اور ای گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ یرقان کی علاقات میں جسم میں ہلکا درد ہونا’ ہلکا بخار ہونا’ متلی ہونا’ پیٹ میں درد’ آنکھوں کا زرد ہونا اور پائوں سوجھ جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرقان ایک خاموش قاتل ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں پانچ سے سات سال کا عرصہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں ایک سے دو فیصد بال گرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین ڈرگ کو دو سے آٹھ ڈگری درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے کیونکہ نارمل درجہ حرارت پر اسے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان میں یرقان کی بنیادی وجہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے اور عام طور پر لوگ اس طرف دھیان نہیں دیتے جس سے یرقان کے جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی وجوہات میں استعمال شدہ بلیڈ اور سرنج’ گندے ہاتھ اور خون کی منتقلی بھی شامل ہے۔

افغانستان میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔مرنے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت انتہائی کم درجہ حرارت میں یہ بچے سردی سے بچا ئوکے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔ اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر نے کہا کہ جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) جو اولمپک کے مقابلوں کے لیے فٹبال کے کھیل کی گورنر باڈی ہے، نے کھیل کے میدان میں سر پر حجاب رکھنے کی وجہ سے اردن، فلسطین اور بحرین کی خواتین کھلاڑیوں پر اس بنا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ادارہ ایرانی خواتین پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت ساری نوجوان باصلاحیت مسلمان لڑکیاں عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے سے محروم رہ جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ لڑکیاں اس انداز سے سر پر اسکارف باندھ کر کھیلتی ہیں کہ جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوتا اور نہ کھیل میں انھیں دقت یا مشکل پیش آتی ہے۔  قبل ازیں مسلمان خواتین پر حجاب کے حوالے سے مختلف نوعیت کی پابندیاں مختلف ملکوں میں عائد کی جا چکی ہیں۔ بعض ممالک میں انھیں سرکاری ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سے باحجاب خواتین پر روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں نے پابندی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی طالبہ سر پر حجاب پہن کر کالج یا سکول میں نہیں آ سکتی۔ ایسے اقدامات ان مسلمان لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہیں جو اپنے مذہبی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حجاب کے خلاف مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے یہاں تک نفرت انگیز فضا ہموار کی ہے کہ 2009ء میں جرمنی کی ایک عدالت میں ایک مصری خاتون مروہ الشربینی کو فقط حجاب پہننے کے جرم میں ایک جرمن شدت پسند نے قتل کر دیا تھا، جسے عالم اسلام میں شہیدہ حجاب کا نام دیا گیا ہے۔  یوں معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں تمام تر دینی اور مذہبی علامتوں اور اقدار کے خلاف ایک شعوری تہذیبی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ اب مسلمان خواتین پر کھیل کے دروازے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ اردن کی ایک کھلاڑی راہاف اویس نے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن میں ایک فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُس کی اس اپیل پر اگر عالمی بیداری پیدا نہ ہوئی تو صدا بہ صحرا ثابت ہو گی کیونکہ یہ فیصلے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے مسلمان کھلاڑی لڑکیوں پر یہ پابندی عائد کی ہے، اُن کا ایجنڈا عالمی اور تہذیبی ہے۔  مسلمانوں کے خلاف مختلف توہین آمیز، اذیت ناک اور سماجی و اقتصادی مقاطعے کے حوالے سے جو اقدامات عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں، اگرچہ وہ حکمران طبقوں کی طرف سے ہیں اور پراپیگنڈہ کی عالمی قوت سے متاثر افراد ان کے حامی بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ مشرق و مغرب کے تمام غیر مسلم ان اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے عیسائی اور یہودی راہنماﺅں نے مساجد کے میناروں کی تعمیر کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں کیے جانے والے اقدامات کے خلاف بیانات دیئے تھے۔  ایسے عیسائی اور یہودی راہنما بھی موجود ہیں جنھوں نے قرآن حکیم کو نذرآتش (نعوذباللہ) کے سنگین اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔ حجاب پر پابندیوں کے فیصلوں کی مخالفت کرنے میں بھی کئی غیر مسلم راہنما نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حامی امریکہ کے کئی اداروں اور کارکنوں نے واشنگٹن میں زیرو گراﺅنڈ کے پاس مسجد کی تعمیر کے مسلمانوں کے مطالبے کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔ اس وقت یہی صورتحال ہمیں کھیلوں کی دنیا میں باحجاب خواتین پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے ضمن میں بھی دکھائی دیتی ہے۔  خواتین کی کھیلوں کی مختلف انجمنوں نے مسلمان خواتین پر حجاب پہن کر کھیلنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہن کر کھیلنے کی اجازت دی جائے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی پابندی عائد نہ کی جائے۔ ان تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک امتیازی فیصلہ قرار دیا ہے۔ بعض خواتین نے اس فیصلے کی بنیاد اسلامو فوبیا کو قرار دیا ہے۔ جن خواتین ٹیموں کی کپتانوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے ان میں اٹھارہ ممالک کی ٹیمیں اب تک شامل ہو چکی ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ پر change.org نامی سائٹ پر اس حوالے سے متعدد پٹیشنز موجود ہیں جن کی عالمی سطح پر حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مضمون کے لکھتے وقت اب تک 15 ہزار سے زیادہ افراد اس کی حمایت اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی فیصلے کی مخالفت میں اپنی رائے دے چکے ہیں۔  یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔  البتہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب میں مختلف ادیان و مذاہب میں ایک وسیع حلقہ اس منافقت کی حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ عالمی سطح پر موجود بیداری اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرازم کے نعروں کی اوٹ میں انسانی وسائل پر قبضہ جمانے اور عالمی سلطنت قائم کرنے کی مکروہ خواہشیں اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پسماندہ اور محروم عوام نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے حصول کے لیے عزم کر لیا ہے۔ اب اس طرح کی پابندیاں تار عنکبوت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔تحریر: ثاقب اکبر

نیو یارک: تیز رفتار ہواؤں کے ساتھ آنیوالا برفانی طوفان امر یکا کے شمال مشرقی علاقے سے ٹکرا گیا۔ سفید چادر نے ہر شے کو ڈھانپ لیا جبکہ نظام زندگی درہم برہم ہونے سے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق شدید برفانی طوفان نے وسطی پنسلو ینیا سے کنیٹیکٹ تک ایک بڑے علاقے کو متاثر کیا ہے۔ نیویارک، فلاڈلفیا، بوسٹن اور واشنگٹن سمیت کئی علاقوں میں برفباری ہوئی۔ کئی مقامات پر سڑکیں اور عمارتیں برف سے ڈھک گئیں۔ فلاڈلفیا انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی ترجمان نے بتا یا کہ انھیں چھیاسٹھ پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ سیاٹل کے جنوب میں دو لاکھ سے زائد گھر اور متعدد تجارتی مقامات برفباری کے باعث بجلی سے محروم ہوگئے۔ اس سال موسم سرما میں امریکا کی کئی ریاستیں غیر معمولی سردی اور برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ پینسلوینیا سے نیویارک تک مسلسل برفباری سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوچکے ہیں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہوگئی ہیں جس سے لوگوں کو سفر میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھاری سامان لیجانے والے ٹرک برفباری کے باعث پھنس کر رہ گئے ہیں۔ تمام تر مشکلات کے باوجود کئی شہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد برفباری سے لطف اندوز ہوتی رہی۔ نیویارک شہر میں اب تک تین سے پانچ انچ تک برف پڑچکی ہے۔ فلاڈ یلفیا میں دو سے چار انچ بوسٹن میں تین انچ موٹی برف کی تہہ جم چکی ہے۔

کراچی : العباس اسکاؤٹس گروپ کے سرپرست اعلیٰ سید ایاز امام رضوی کی ہدایت پر چہلم امام حسین علیہ اسلام کے موقع پر اتوار 20 صفر کو نشتر پارک سے نکلنے والے مرکزی ماتمی جلوس کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے مرکزی طبی امدادی کیمپ نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ پر لگایا جائے گا جس میں ماہر ڈاکٹرز و نرسنگ عملہ اور اسکاؤٹس موجود ہوں گے۔ اسکاؤٹس لیڈر عابد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 

کلکتہ…بھارت کے شہر کلکتہ ميں سرکاري اسپتالوں کے طبي امداد دينے سے انکار کے بعد ايک خاتون سڑک پر دو بچوں کي پيدائش کے بعد چل بسي ، بھارتي ميڈيا رپورٹس کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ اس کي بيوي نے اسپتال لے جا نے کے دوران ہي ٹيکسي ميں جڑواں بچوں کو جنم ديا،وہ بچوں اوربيوي کو تشويشناک حالت ميں لے کر سرکاري اسپتالChittaranjan sishu seva sadan پہنچا ،جہاں ڈيليوري کيلئے بيوي کا نام لکھوايا تھا ،ليکن اسپتال عملے نے يہ کہہ کرانکار کرديا کہ ايسے کيسز کيلئے ان کے پاس سہولتيں موجود نہيں جس پر وہ اپني بيوي کو لے کردوسرے سرکاري اسپتال پہنچا،ليکن اسپتال عملے نے کہا کہ يہاں اس کي بيوي زيرعلاج نہيں رہي اس ليے وہ اُسے داخل نہيں کرسکتے،شوہر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال ميں اُس کي بيوي دم توڑ گئي جبکہ بعد ميں بچوں کوسرکاري اسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں داخل کرليا گيا ،واقعے کيخلاف اُس نے مقامي پوليس اسٹيشن ميں رپورٹ درج کرادي ہے، جس پررياستي حکومت نے تحقيقات کا حکم ديديا ہے .

کراکس: دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنمائوں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنمائوں کو سرطان کا مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔ ہوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔ گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ان کے علاوہ پیرا گوئے کے صدر فرناندو لوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔ تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقینا، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے۔

پاکستان کے معروف ڈاکٹر ادیب رضوی کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا ہے یہ ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب اور فیملی کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے۔ بقول عظیم مرثیہ نگار میر انیس :

جو زندہ ہے وہ موت کی تکلیف سہے گا
جب احمد مرسل نہ رہے کوں رہے گا

   تمام ملت اسلامیہ خصوصا ملت تشیع اس سانحہ عظیم پر اپنے اس عظیم فرزند اور ان کے تمام اہل و عیال کی خدمت میں اس انتقال پررنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت پیش کرتی ہے اور دعا گوء ہے کہ اللہ تعالی مرحومہ کی مغفرت کرتے ہوئے  جوار معصومین علیہ السلام سے ملحق فرمائے اور ڈاکٹر ادیب رضوی صاحب اور ان کے تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عنایت کرے

پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے چیف کمشنر،فیڈرل شریعت کورٹ کے چیف جسٹس ، جسٹس آغا رفیق احمد خان نے صوبائی اسکاؤٹ کمشنر سندھ پروفیسرانوار احمد زئی اورڈسٹرکٹ اسکاؤٹ کمشنر کراچی حسن فیروز کی سفارش پر یکم محرم کو فائرنگ کے واقعہ میں شہید ہونے والے پاک حیدری اسکاؤٹس کے اسکاؤٹ لیڈر اظہرعلی اور بوتراب اسکاؤٹس کے روور اسکاؤٹ زین علی کو اسکاؤٹنگ میں بہادری کا اعزاز” گیلنٹری ایوارڈ “دینے کا فیصلہ کیا ہے یہ ایوارڈ چیف اسکاؤٹ و صدرپاکستان کی جانب سے جاری کیا جائے گا، دریں اثناء پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیف کمشنر جنرل (ر) سید پرویز شاہد،کراچی اوپن ڈسٹرکٹ کے صدر محمد صدیق شیخ ،خیبر پختونخواہ بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے ڈپٹی صوبائی سیکرٹری امتیاز خان، بلوچستان بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن،آزاد کشمیربوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن، پی آئی اے بوائے اسکاؤٹس ایسو سی ایشن کے علاوہ ضلعی اسکاؤٹس ایسوسی ایشنز ،بے نظیرآباد،لاڑکانہ، جیکب آباد، خیرپور اور حیدرآباد نے پاک حیدری اسکاؤٹس کے اسکاؤٹ لیڈر اظہرعلی اور بوتراب اسکاؤٹس کے روور اسکاؤٹ زین علی کی شہادت پر دکھ وافسوس کا اظہارکرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ شہید اسکاؤٹس کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ دریں اثناء آل پرائیویٹ اسکول مینجمنٹ ایسوسی ایشن سندھ کے چیئرمین سیدخالد شاہ اور دیگر رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم شہید ہونیوالے دو اسکاؤٹس کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے پاک فوج پرنیٹوکی جانب سے ہونیوالے حملے کی شدید مذمت کی۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سابق سربراہ پال کونڈون نے کہا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں، کرکٹ کھیلنے والے تمام اہم ملک بڑے میچوں کی فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔آئی آئی سی کے انسداد بدعنوانی یونٹ کے بانی سربراہ نے ’لندن ایوننگ اسٹینڈرڈ‘ کے ساتھ انٹرویو میں کہا: ’’1990ءکی دہائی کے آخر میں ٹیسٹ اور ورلڈ کپ میچز باقاعدگی سے فکس کیے جاتے رہے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ متعدد ٹیمیں فکسنگ میں ملوث رہی ہیں اور یقینی طور پر برصغیر سے باہر کی زیادہ ٹیمیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔ کونڈون نے کہا ہر انٹرنیشنل ٹیم، کسی نہ کسی مرحلے پر اس طرح کے کام کرتی رہی ہے۔
رواں ماہ برطانیہ کی ایک عدالت نے تین پاکستانی کرکٹرز کو سزائے قید کا فیصلہ سنایا تھا۔ ان کھلاڑیوں پر انگلینڈ کے ساتھ گزشتہ برس کھیلے گئے ایک ٹیسٹ میچ میں دانستہ نوبالز کرانے کا الزام تھا۔ان کھلاڑیوں میں شامل پاکستان کے سابق کپتان سلمان بٹ کو ڈھائی سال قید جبکہ بولر محمد آصف کو ایک سال اور محمد عامر کو چھ ماہ کی قید سنائی گئی۔ کونڈون نے کہا: ’’ 1990ء کی دہائی کے آخر میں کھیلنے والے کرکٹروں کی پوری نسل یہ ضرور جانتی ہو گی کہ کیا چل رہا ہے، لیکن اس نے (اسے روکنے کے لیے) کچھ نہیں کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی جڑ ایشیا میں نہیں ہے بلکہ انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا: ’’اگر آپ ٹیم اے ہیں اور سنڈے لیگ میں بہتر پوزیشن رکھتے ہیں۔ میں ٹیم بی کا کپتان ہوں اور سنڈے لیگ میں میری ٹیم کی جگہ کا کوئی امکان نہیں تو میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سودا کر سکتا ہوں کہ آپ کی ٹیم سنڈے لیگ میں زیادہ سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرے۔‘‘انہوں نے دورِ حاضر کے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ کھیل میں بدعنوانی کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں کھلاڑیوں کی جانب سے ایسے بہت کم معاملات کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔کونڈون لندن میٹروپولیٹن پولیس فورس کے سابق سربراہ ہیں۔ انہوں نے 2000ء میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن اینڈ سکیورٹی یونٹ کی تشکیل میں مدد دی اور ایک دہائی تک اس یونٹ کے سربراہ بھی رہے۔

 

یورپ میں کئی ایسے جرثوموں کی گرفت مضبوط پڑتی دکھائی دے رہی ہے جن پر انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹکس ادویات بھی اثر نہیں کر پا رہیں۔ زیادہ متاثرہ یورپی ممالک میں جرثومے کی ایک قسم میں دوا سے مدافعت کی شرح پچاس فیصد کی خطرناک حد تک نوٹ کی گئی ہے۔ مختلف قسم کی ادویات کے مقابلے میں مدافعت رکھنے والے جرثوموں ’بیکٹیریا‘ کے بارے میں ایک رپورٹ تیار کی گئی ہے۔ ان جرثوموں کو ’سپر بگز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یورپیئن سینٹر فار ڈزیز پریوینشن اینڈ کنٹرولECDC نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس طرز کے جرثوموں پر قابو پانے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔اس ادارے کے ڈائریکٹر مارک سپرینگر نے لندن میں خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ اس طرز کی بیکٹیریا کے خلاف ماہرین طب کو ’اعلان جنگ‘ کر دینا چاہیے۔ ’’ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو انفیکشن کے بہت سارے معاملات سامنے آئیں گے اور نتیجے میں ایسے بہت سے مریض ہمارے درمیان موجود ہوں گے، جن کی حالت بہت خراب ہوچکی ہوگی اور ہمارے پاس ان کے علاج کے لیے اینٹی بائیوٹکس بھی موجود نہیں ہوگی۔‘‘  ان کے بقول یورپ میں کلیبسیلا Klebsiella نمونیا نامی بیکٹیریا میں اینٹی بائیوٹکس سے مدافعت کی شرح میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دو فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے بقول زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ بعض ممالک میں اس بیکٹیریا میں دوا کے خلاف مزاحمت پچاس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ کلیبسیلا  نامی بیکٹیریا نمونیا، پیشاب کے نظام اور نظام خون میں انفیکشن کا عمومی سبب ہے۔ اس بیکٹیریا کی سپر بگز نسل دنیا کی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس دوا کارباپینیمس carbapenems کے خلاف بھی مدافعت رکھتی ہے۔ ECDC کے مطابق متعدد یورپی ممالک سے ملنے والی رپورٹوں میں انکشاف ہوا ہے کہ وہاں 15 تا 50 فیصد کلیبسیلا بیکٹیریا کارباپینیمس نامی طاقتور ترین اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت ظاہر کر رہا ہے۔ماہرین کے بقول اس کی ایک بڑی وجہ اینٹی بائیوٹکس کا بے دریغ استعمال بھی ہے، جس کے سبب جسم کا مدافعاتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور یوں بیکٹیریا پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔ اس ضمن میں ایسے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کو بھی ذمہ دار ٹہرایا گیا ہے جو بلاناغہ مریضوں کو اینٹی بائیوٹکس تجویز کرتے ہیں۔

امریکہ میں ہیلتھ انشورنس سے محروم مریضوں کو ان کی طبی حالت سے قطع نظر ہیلتھ انشورنس رکھنے والے مریضوں کے مقابلے میں ہسپتالوں سے بظاہر جلد فارغ کر دینے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں گزشتہ برس ایسے افراد کی تعداد 50 ملین کے قریب تھی جن کے پاس بیماری کی صورت میں علاج کے لیے کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں تھی۔ یہ تعداد سن 2009 کے مقابلے میں زیادہ تھی۔  امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے شہر چارلسٹن میں یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولائنا کے محققین کے مطابق ان کی ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ کوئی مریض اپنی بیماری کے علاج کے لیے کسی ہسپتال میں کتنا عرصہ قیام کرے گا، اس بات میں مالیاتی عوامل بھی مکنہ طور پر اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے دوران ماہرین نے ایسے آٹھ لاکھ 50 ہزار کے قریب بالغ مریضوں کے طبی ریکارڈ کا مطالعہ کیا جو سن 2003 اور 2007 کے درمیان مختلف امریکی ہسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے۔ اس مطالعے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ وہ مریض جن کے پاس بیماری کی صورت میں علاج کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے بیمے کی سہولت نہیں تھی، ان میں سے ہر ایک اوسطاﹰ صرف 2.8 روز تک کسی نہ کسی ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ ان میں سے زیادہ تر مریض دمے اور ذیا بیطس جیسی بیماریوں کا شکار تھے۔ اس کے برعکس وہ مریض، جن کے پاس کوئی نہ کوئی ہیلتھ انشورنس تھی اور جن کے میڈیکل کے بلوں کی ادائیگی کے بارے میں ہسپتالوں کی انتظامیہ کو کوئی پریشانی نہیں ہو سکتی تھی، ان میں سے ہر ایک اوسطاﹰ 2.9 روز تک ہسپتال میں زیر علاج رہا۔ اس تحقیق کے فیملی میڈیسن نامی جریدے میں شائع ہونے والے نتائج کے مطابق جن مریضوں کا اس عرصے کے دوران ہسپتال میں قیام فی کس بنیادوں پر اوسطاﹰ سب سے زیادہ رہا، وہ ایسے غریب شہری تھے، جن کے علاج کے لیے اخراجات ایک حکومتی پروگرام Medicaid کے تحت ادا کیے گئے تھے۔ ایسے مریضوں کے مختلف ہسپتالوں میں قیام کی فی کس اوسط 3.2 دن رہی تھی۔ اس جائزے کی سربراہی کرنے والے Arch Mainous نامی ماہر کے مطابق اگر کوئی یہ پوچھے کہ اعداد و شمار کے اس فرق سے کوئی فرق پڑتا ہے، تو ان کا جواب ہاں میں ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ انشورنس کے حوالے سے مختلف طرح کے پس منظر کے حامل ان مریضوں کے اپنے علاج کے لیے ہسپتال میں قیام کے عرصے میں یہ فرق تھوڑا سہی لیکن بہت معنی خیز ہے۔ Mainous کے بقول امریکہ میں ہیلتھ انشورنس کی سہولت سے محروم مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی روشنی میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ مریضوں کے پاس کسی ہیلتھ انشورنس کا ہونا یا نہ ہونا ان کے لیے علاج کی سہولتوں پر کس طر‌ح کے ممکنہ اثرات کا سبب بنتا ہے۔

اگر سب سے زيادہ آبادی والا ملک چين خاندانی منصوبہ بندی کے سخت اقدامات نہ کرتا تو آج عالمی آبادی يقيناً کئی سو ملين زيادہ ہوتی۔ ليکن چين کی فی گھرانہ ايک بچے کی سرکاری پاليسی نے بہت سے سماجی مسائل بھی پيدا کيے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ايک اندازے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک عالمی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ سن 1970 کے عشرے کے آخر ميں چين کے 10 سالہ ’ثقافتی انقلاب‘ کے بعد چينی معيشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ غربت کا راج تھا، رہائشی مکانات کی قلت اور افرادی قوت کی زيادتی تھی۔ چينی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر آبادی اتنی ہی تيز رفتاری سے بڑھتی رہی تو عوام کی غذائی ضروريات پوری نہيں ہو سکيں گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے ليے حکومت نے سن 1979 ميں پيدائش پر رياستی کنٹرول کا ضابطہ جاری کيا۔ بيجنگ کی رينمن يونيورسٹی کے سماجی علوم کے پروفيسرجو سياؤ جينگ نے کہا: ’’ماؤزے تنگ کا اس پر پورا يقين تھا کہ آبادی جتنی زيادہ ہو گی اتنا ہی ملک طاقتور ہو گا۔ ليکن ثقافتی انقلاب کے خاتمے اور ماؤ کی وفات کے بعد چين نے اس کے بالکل مخالف پاليسی اپنا لی۔‘‘  اب نئے جاری کردہ ضابطے کے تحت شہروں ميں رہنے والا ہر گھرانہ صرف ايک بچہ پيدا کر سکتا تھا۔ چين کے بڑے شہروں ميں فی گھرانہ صرف ايک بچے کی پيدائش کے ضابطے کی آج بھی بڑی حد تک پابندی کی جا رہی ہے۔ پہلے بچے کے معذور ہونے يا مر جانے کی صورت ہی ميں دوسرے بچے کو جنم دينے کی اجازت ہے۔ ديہی علاقوں ميں بھی صرف وہی گھرانے دو بچے پيدا کر سکتے ہيں، جن کی پہلی اولاد لڑکی ہو کيونکہ ديہی آبادی روايتی طور پر خاندان کے سربراہ کی حيثيت سے مرد کو ترجيح ديتی ہے۔ چين کی اقليتوں پر بچوں کی پيدائش کے سلسلے ميں کسی قسم کی پابندی نہيں ہے۔ چينی حکام فی گھرانہ ايک بچے کی پاليسی پر عمل کرانے کے سلسلے ميں جبری اسقاط حمل کا طريقہ بھی اختيار کرتے ہيں۔ اخبار ’ چائنا ڈيلی ‘ کے مطابق جبری اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد کئی ملين تک پہنچتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظيم ویمينز رائٹس ودآؤٹ بارڈرز کی بانی ريگی لٹل جون نے کہا: ’’انسانوں کو آبادی کم کرنے کی تعليم دينا ايک الگ بات ہے ليکن عورتوں کو حمل گرانے اور رحم مادر ميں بچوں کو ہلاک کرنے پر مجبور کرنا اس سے بالکل مختلف بات ہے۔ چينی حکومت کی ايک بچے کی پاليسی ايک جبر اور عورتوں کے حقوق کی شديد خلاف ورزی ہے۔‘‘لٹل جون نے کہا کہ جبری اسقاط حمل نجی زندگی کے دائرے اور عورتوں کے حقوق ميں زبردست مداخلت ہے۔ پروفيسر سياؤ جينگ نے ايک بچے کی پاليسی کے خاتمے کی اپيل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پورے چينی معاشرے پر برے اثرات پڑ رہے ہيں۔ بہن بھائيوں کے ساتھ مل جل کر بڑا ہونے کے مقابلے ميں بہت سے اکلوتے بچوں ميں معاشرتی ميل جول کی صلاحيت بہت کم ہوتی ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ جیمز سودرلینڈ نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے خلاف میچ فکسنگ کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن کی عدالت میں یہ الزامات ایک ایسے شخص نے لگائے ہیں، جس کی اپنی حیثیت مشکوک ہے۔ سودرلینڈ نے منگل کو ایک بیان میں ان الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا: ’’یہ الزامات بے بنیاد دکھائی دیتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کو بلاوجہ بدنام کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو آسٹریلوی حکام تفتیش کریں گے۔ سودر لینڈ نے کہا کہ ان کے کسی بھی کھلاڑی پر ایسے الزامات ثابت ہوئے تو ان کے خلاف تاحیات پابندی لگانے میں دیر نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلوی کھلاڑی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوتے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انہیں (سودرلینڈ کو) اس حوالے سے آگاہ کر چکی ہوتی۔ سودر لینڈ نے کہا کہ آئی سی سی اپنے کرپشن یونٹ کے ساتھ تمام بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہوتی ہے، جن کی جانب سے آسٹریلوی کھلاڑیوں کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں سنی گئی۔لندن کی ایک عدالت میں پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کے الزامات پر پیر کو مقدمے کی سماعت کے چوتھے روز ان کے ایجنٹ مظہر مجید کا آڈیو بیان سنا گیا۔ اس میں مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے متعدد نامور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ آسڑیلوی کھلاڑی بھی میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ انہوں نے آسڑیلوی کھلاڑیوں کے نام ظاہر نہیں  یے۔مظہر مجید کی یہ باتیں برطانوی اخبار ’دی نیوز آف دی ورلڈ‘ کے انڈر کور صحافی مظہر محمود نے ریکارڈ کی تھی۔ یہ اخبار اب بند ہو چکا ہے۔ مظہر محمود اب اس مقدمے میں استغاثہ کے گواہ ہیں۔مجید نے آسٹریلوی کھلاڑیوں کو دنیائے کرکٹ کے میچ فکسنگ کے سب سے بڑے کردار قرار دیا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حوالے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ اس حوالے سے آسٹریلین کرکٹرز ایسوسی ایشن کے سربراہ پال مارش کا کہنا ہے کہ مجید قابلِ بھروسہ شخص نہیں۔ انہوں نے آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن ریڈیو سے گفتگو میں کہا: ’’مجھے یہ بات بہت دلچسپ لگی کہ وہ (مجید) بعض پاکستانی کھلاڑیوں کے نام لینے پر تو تیار تھا لیکن اس نے کسی آسٹریلوی کھلاڑی کا نام نہیں لیا۔‘‘

پاکستانی کھلاڑیوں محمد آصف اور سلمان بٹ کے خلاف لندن میں جاری اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران بتایا گیا ہے کہ کرکٹ میں جوئے بازی کا سلسلہ بہت پرانا ہے اور’اسپاٹ فکسنگ‘ میں آسٹریلوی کھلاڑی سب سے آگے ہیں۔ پیر کے دن لندن کی ساؤتھ وارک  کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران کرکٹزر کے ایجنٹ مظہر مجید اور نیوز آف دی ورلڈ کے سابق صحافی کے مابین ہونے والی گفتگو کی ویڈیو ریکاڈنگ دکھائی گئی۔ ’انڈر کور‘ صحافی نے یہ ریکارڈنگ خفیہ طور پر کی تھی۔اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے الزام عائد کیا کہ آسٹریلوی کھلاڑیوں کے علاوہ پاکستانی کرکٹ کے نامور نام جوئے بازی میں ملوث رہے ہیں اور وہ میچ کے مختلف حصوں کو پہلے سے ہی فکس کرتے رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں صحافی نے خود کو ایک جوئے باز کی طرح پیش کیا اور مظہر مجید سے میچ فکس کروانے کی بات کی۔عدالت کو بتایا گیا کہ یہ ریکارڈنگ گزشتہ برس اٹھارہ اگست کو کی گئی، جب پاکستان اور انگلینڈ کے مابین اوول ٹیسٹ میچ کا پہلا دن تھا۔ اس ریکارڈنگ میں مظہر مجید نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ٹیم کے چھ کھلاڑی اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور وہ جو چاہے ان سے کروا سکتا ہے،’ میرے پاس اہم کھلاڑی ہیں۔ میرے پاس بولرز، بلے باز اور آل راؤنڈرز ہیں‘۔ مظہر مجید نے مزید کہا،’ ہم نے میچوں کے کچھ نتائج پہلے سے ہی طے کر لیے ہیں، جس کے مطابق پاکستانی ٹیم اپنے آئندہ تین میچوں میں شکست سے دوچار ہو گی‘۔مظہر مجید نے پاکستان کرکٹ کے سابقہ کئی نامور کھلاڑیوں کے نام لیتے ہوئے کہا،’ کرکٹ میں سٹہ بازی زمانے سے ہو رہی ہے، یہ برسوں سے جاری ہے۔ وسیم، وقار، اعجاز احمد اور معین خان سبھی یہ کرتے رہے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ آسٹریلوی کھلاڑی میچوں کے مختلف حصوں کو فکس کرتے ہیں،’ آسٹریلوی کرکٹرز، وہ سب سے آگے ہیں، وہ ہر میچ میں دس حصوں پر اسپاٹ فکنسگ کرتے ہیں‘۔ اس نے بتایا کہ ہر حصے پر پچاس ہزار سے 80 ہزار پاؤنڈز تک کا سٹہ کھیلا جاتا ہے۔ تاہم آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ان کی ٹیم کو کوئی کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہے۔مظہر مجید کے بقول ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کے نتائج کو فکس کرنے کے لیے چار لاکھ پاؤنڈ ، ون ڈے میچ کو فکس کرنے کے لیے ساڑھے چار لاکھ پاؤنڈ جبکہ ٹیسٹ میچ کے نتیجے کو پہلے سے طے کرنے کے لیے ایک ملین پاؤنڈ لگتے ہیں۔ مظہر مجید نے کہا کہ کرکٹ میں سٹہ بازی کے دوران بڑی بڑی رقوم داؤ پر لگائی جاتی ہیں تاہم پاکستانی کھلاڑیوں کو ہمیشہ ہی بہت کم پیسہ دیا جاتا ہے۔پاکستانی قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلمان بٹ، فاسٹ بولر محمد آصف اور محمد عامر پر الزام ہے کہ انہوں نے سازش کرتے ہوئے پاکستان اور انگلینڈ کے مابین لارڈز ٹیسٹ کے کچھ حصوں  کو پہلے ہی فکس کر لیا تھا۔ تاہم اس کیس کے دوران محمد عامر پیش نہیں ہوئے ہیں۔

میکسیکو سٹی میں شادی کی کم سے کم مدت دو سال رکھنے کی حکومتی تجویز پر کیتھولک چرچ اور اپوزیشن کی طرف سے کافی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔  میکسیکو سٹی کی چونتیس سالہ میریانا ویاری، جو اس ہفتے شادی کے بندھن میں بندھنے جا رہی ہیں، کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے وقت مقرر کرنا شادی کی معیاد رکھنے کی مانند ہے۔ قانون سازوں کا ماننا ہے کہ اس تجویز کے عمل میں لائے جانے سے بڑھتی ہوئی طلاق کی شرح میں کمی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ میکسیکو سٹی میں پہلے ہی اسقاط حمل اور ہم جنس پرستی کو قوانین کی شکل دینے والی پارٹی آف دی ڈیموکریٹک ریولوشن کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے تنازعے سے خوفزدہ نہیں۔  یہ تجویز لزبیتھ روزاز کی طرف سے پیش کی گئی، جس میں انہوں نے شادی کی کم سے کم معیاد دو برس رکھنے کے بارے میں بات کی، جبکہ زیادہ سے زیادہ معیاد کا فیصلہ شادی شدہ جوڑا خود کرے گا۔ اس عرصے کے بعد وہ چاہیں تو شادی کو جاری رکھیں یا تحلیل کر دیں۔”ہم اس قدم سے شادی شدہ جوڑے کوایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔” یہ بات روزاز نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس کے علاوہ اس معاہدے میں جائیداد کی تقسیم، قیام کے اخراجات اور اولاد کی تحویل اور کفالت کو بھی زیرغور لایا گیا ہے۔ چھیالیس سالہ ایلبرٹو گارشیا کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ قدم ازدواجی رشتے سے منسلک جوڑے کے درمیان محبت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ نیشنل ایکشن پارٹی اورارچڈیوسیس کے ترجمان نے اس تجویز کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے اسے “مبہم” قرار دیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ  تجویز قانون سازی کے باقاعدہ عمل سے گزاری جائے گی، جہاں اسے سخت مخالفت کی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی محققین کا خیال ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر سے قبل شادی کرنے والی لڑکیوں کو آئندہ برسوں کے دوران متعدد نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نفسیاتی معالجین کی تازہ ریسرچ میں بتایا گیا ہے کہ وہ لڑکیاں جن کی شادیاں اٹھارہ سال کی عمر سے قبل ہو جاتی ہیں، وہ وقت گزرنے کے ساتھ کئی جسمانی عارضوں کے علاوہ نفسیاتی مسائل کا سامنا کرتی ہیں۔ اٹھارہ سال کی عمر میں جن لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں وہ ذہنی طور پر خاصی صحت مند رہتی ہیں اور ان کو نفسیاتی پیچیدگیوں کا سامنا کم کرنا پڑتا ہے۔ اس خصوصی ریسرچ میں فوکس ایشیا اور افریقہ کے وہ ممالک تھے جہاں بچپن کی شادیاں رواج میں ہیں۔ کم عمری کی شادیوں سے متعلق نئی ریسرچ بچوں کے بین الاقوامی طبی جریدے پیڈیارٹکس میں شائع کی گئی ہے۔ اس ریسرچ کے لیے حکومتی سطح پر کی جانے والی اعلیٰ ریسرچ کو معیار بنایا گیا تھا۔ یہ ریسرچ سن 2001 اور 2002 میں مکمل کی گئی تھی۔ اس ریسرچ میں امریکہ اور فرانس کےنفسیاتی محققین خصوصیت سے پیش پیش تھے۔
نفسیاتی معالجین کا خیال ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں یا اس کے بعد جن لڑکیوں کی شادیاں ہوتی ہیں وہ ذہنی اعتبار سے کئی سماجی و معاشرتی مسائل کے علاوہ طبی معاملات کی سوج بوجھ بھی رکھتی ہیں اور یہ فہم و فراست ان کی خانگی زندگی میں پریشانیوں سے بچنے میں مدگار ہوتی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں کم عمری میں شادی کرنے والی لڑکیاں ڈپریشن کے علاوہ کئی اندرونی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر میں کی جانے والی شادی اور اس سے کم عمر میں شادی دلہنوں کے نفسیاتی و جسمانی عوارض سے متعلق یہ پہلی اہم ریسرچ ہے جس کے نتائج کو خاصی اسٹڈی کے بعد عام کیا گیا ہے۔ اس ریسرچ میں امریکہ میں نوعمری میں ماں بننے والی لڑکیوں کی سوچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ امریکہ کی سیاہ فام آبادیوں کے خاص طبقوں میں نوعمری میں لڑکیوں کی شادیاں کرنے کا رواج موجود ہے۔ ریسرچرز نے اس تحقیق کے لیے ہزاروں خواتین کے براہ راست انٹرویو بھی کیے۔ اس کے علاوہ سوالناموں کو بھی مکمل کیا گیا۔ ریسرچ کے مطابق کم عمری میں شادیاں کرنے والی لڑکیاں بعض اوقات ایسی نفسیاتی صورت حال کا سامنا کرتی ہیں کہ وہ اپنے خاندانوں اور معاشروں میں مس فٹ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ریسرچرز نے یہ بھی ضرور واضح کیا ہے کہ نوعمری میں شادی کرنے والی ہر لڑکی ضروری نہیں کہ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو لیکن زیادہ تر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسی شادیوں سے نفسیاتی عوارض جنم لیتے ہیں۔

تائیوان میں مختلف وجوہات کی بنا پر عام خواتین میں شرح پیدائش دنیا بھر میں سب سے کم ہو چکی ہے اور گزشتہ برس وہاں ایک عام خاتون کی طرف سے پوری زندگی میں جنم دیے جانے والے بچوں کی اوسط شرح صرف 0.9 بچے فی خاتون رہی۔ تائی پے میں حکام نے بتایا کہ عام خواتین میں افزائش نسل کی اس انتہائی کم شرح کی وجوہات بہت متنوع ہیں۔ اس امر کے اسباب اقتصادی نوعیت کے بھی ہیں اور توہم پرستانہ بھی۔ سن 2010 کے دوران اس بہت کم شرح پیدائش پر تائی پے میں پالیسی سازوں کو اس لیے بہت تشویش ہے کہ اگر سالانہ بنیادوں پر اس شرح میں قابل ذکر اضافہ نہ ہوا تو مستقبل قریب میں تائیوان کے لیے اپنی ہمسایہ دیگر برآمدی معیشتوں مثلاﹰ ہانگ کانگ، سنگا پور اور جنوبی کوریا کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ تائیوان 23 ملین کی آبادی والا ایک جزیرہ ہے، جو خود کو چینی جمہوریہ قرار دیتا ہے لیکن بیجنگ کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کا ایک باغی صوبہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر جبری طور پر بھی باقی ماندہ چین کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ سن 2010 میں تائیوان میں اس سے پہلے کے سالوں کے مقابلے میں اور بھی کم بچے پیدا ہوئے، جس کی ماہرین کے نزدیک جزوی طور پر ایک وجہ یہ بھی رہی کہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث وہاں بہت سے جوڑوں کے پاس اتنے اضافی مالی وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ بچے پیدا کرنے کا سوچتے اور یہ رقوم ان بچوں کی پرورش پر خرچ کرتے۔ تائی پے میں وزارت داخلہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی خاتون سربراہ لیو لی فانگ کا کہنا ہے کہ سن 2010 میں تائیوان میں اس لیے بھی بہت کم بچے پیدا ہوئے کہ چینی کیلنڈر کی رو سے گزشتہ برس بچوں کی پیدائش کے لیے کوئی مبارک سال نہیں تھا۔ لیو لی فانگ کے بقول یہ ہے تو توہم پرستانہ سوچ کا نتیجہ لیکن اس حقیقت نے بھی پچھلے سال شرح پیدائش کو واضح طور پر متاثر کیا۔ کئی ماہرین سماجیات کے مطابق تائیوان میں ان دنوں یہ رجحان بھی بہت زیادہ ہے کہ وہاں اکثر خواتین یا تو سرے سے شادی کرتی ہی نہیں یا پھر ایسا بہت دیر سے کرتی ہیں۔ اس کے بڑے اسباب یہ ہیں کہ ان پر یا تو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں مزید آگے بڑھنے کا جوش و جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے یا پھر وہ ان روایتی ساسوں سے بچنا چاہتی ہیں، جو عام طور پر شادی کے بعد بھی اپنے بیٹوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں اور جن کے ان کی بہوؤں  سے خاندانی زندگی میں مطالبات ہمیشہ ہی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ وزارت داخلہ کی اعلیٰ اہلکار لیو لی فانگ کا کہنا ہے کہ تائیوان میں بچوں کی کم تر شرح پیدائش ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے، جس کا تعلق اس بات سے بھی بہت زیادہ ہے کہ وہا‌ں کی آبادی کا معاشرتی ماحول کیسا ہوتا ہے اور چینی لوگوں کی جذباتی ترجیحات کیا ہیں۔ تائی پے میں سرکاری اہلکاروں کے مطابق اگر تائیوان میں بچوں کی انتہائی کم شرح پیدائش آئندہ بھی دیکھنے میں آتی رہی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ حکومت کو یا تو بیرون ملک مقیم شہریوں سے وطن واپسی کی درخواست کرنا پڑے گی یا پھر زیادہ سے زیادہ تعداد میں بزرگ شہریوں کو اس بات پر آمادہ کرنا پڑے گا کہ وہ پینشن پر جانے کی بجائے مسلسل کام کرتے رہیں۔ گزشتہ برس تائیوان میں بچوں کی مجموعی شرح پیدائش صرف 7.21 بچے فی ایک ہزار خواتین رہی تھی اور یہ شرح دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک یا خطے کے مقابلے میں سب سے کم بنتی ہے۔

جرمنی کے ادارہ شماریات کے مطابق اس ملک میں پیدا ہونے والے ہر تین بچوں میں سے ایک بچہ ناجائز ہوتا ہے رپورٹ کےمطابق جرمنی کے روزنامہ والٹ نے اپنی رپورٹ میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جرمنی میں گذشتہ برس پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی تعداد بڑھ کر تینتیس فیصد ہو گئي ہے، کہا کہ انیس سو نوے میں یہ تعداد صرف پندرہ فیصد تھی ۔ اس اخبار نےاس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ جرمنی کی مشرقی ریاستوں میں ایسے بچے زیادہ پیدا ہوتے ہيں جن کے قانونی ماں باپ نہيں ہوتے، کہا کہ اس کے باوجود جرمنی میں پیدا ہونے والے ناجائزبچوں کی تعداد یورپی یونین کی متوسط شرح سےکم ہے۔ یورپی یونین کےادارہ شماریات یورو اسٹیٹ نے دو ہزار نو میں جرمنی میں یہ اعداد وشمار تقریبا اڑتیس فیصد بتائے تھے۔ اس ادارے نےاس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یورپی یونین میں سب سے زيادہ ناجائز بچے سٹونی میں پیدا ہوتے ہیں، جن کی شرح انسٹھ فیصد ہے اور سب سے کم شرح یونان میں ہے جوسات فیصد ہے، اعلان کیا کہ فرانس، برطانیہ، آسٹریا اور اٹلی میں پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کی شرح بالترتیب 53، 46، 39،اورچوبیس فیصد ہے جن کے والدین نے باقاعدہ شادی نہيں کی ہے۔

ستائیس رکنی یورپی یونین میں جرمنی اپنے قریب 81 ملین شہریوں کے ساتھ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جرمنی میں 18 برس سے کم عمر کے شہریوں کا تناسب اب صرف 16.5 فیصد بنتا ہے۔یہ شرح پوری یورپی یونین میں کسی بھی ملک کی مجموعی آبادی میں بچوں کی سب سے کم شرح ہے۔ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت بھی ہے اور ایک امیر اور ترقی یافتہ ملک بھی۔ لیکن جرمن شہریوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بچے پیدا کر کے انہیں پالنے کے بجائے، اپنی زندگی کسی بھی خاندانی ذمہ داری یا فکر مندی کے بغیر گزارنے کو ترجیح دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام جرمن خاتون اپنی زندگی میں اوسطاﹰ جتنے بچوں کو جنم دیتی ہے، وہ شرح پوری یورپی یونین میں سب سے کم ہے۔ بچے اگر کم پیدا ہو رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ معاشرے میں بالغوں کے مقابلے میں نابالغ شہریوں کی شرح بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جرمن معاشرہ مجموعی طور پر تیزی سے بوڑھا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر شرحء پیدائش میں کافی اضافہ نہ ہوا تو چند ہی عشروں بعد جرمن ریاست کے لیے اپنے سماجی نظام کو قائم رکھنا قدرے مشکل ہو جائے گا۔جرمنی میں ہر دور میں پینشن یافتہ افراد کو، ان کی اپنی ادا کردہ رقوم کے علاوہ، پینشن کی ادائیگی ان مالی وسائل سے بھی کی جاتی ہے، جو نوجوان کارکن ریاستی پینشن فنڈ میں جمع کراتے ہیں۔ اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ نوجوان کارکنوں کی مسلسل کم ہوتی ہوئی تعداد کو زیادہ سے زیادہ بزرگ شہریوں کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیے رقوم ادا کرنا پڑتی ہیں۔ لیکن اگر شرحء پیدائش میں کمی اور آبادی میں بوڑھے شہریوں کے تناسب میں اضافے کا یہی رجحان جاری رہا، تو چالیس پچاس سال بعد آج کے نوجوان کارکنوں کو ان کی پینشنوں کی ادائیگی کے لیے رقوم کون ادا کرے گا؟ وفاقی جرمن حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے شہریوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دیتی ہے اور روزگار کی جگہوں پر چھوٹے بچوں کے لیے کنڈر گارٹن قائم کرنے کا قانون بھی موجود ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے کہ عام شہریوں کو بچوں کی پیدائش کی ترغیب دی جا سکے۔ لیکن پھر بھی ویزباڈن میں وفاقی دفتر شماریات کے مطابق اس وقت صورت حال یہ ہے کہ قریب 81 ملین کی مجموعی آبادی میں بچوں اور نوجوانوں کی شرح صرف 16.5 فیصد یا 13.1 ملین رہ گئی ہے۔ دس سال پہلے کے مقابلے میں یہ تعداد 2.1 ملین کم ہے۔ آج کے جرمنی میں زیادہ سے زیادہ بچے ایسے گھرانوں میں پرورش پا رہے ہیں، جو مالی حوالے سے محدود وسائل والے گھرانے ہوتے ہیں اور یوں قریب ہر چھٹا بچہ غربت کا شکار ہو جاتا ہے۔ جرمنی کے برعکس ہمسایہ ملک فرانس کی آبادی میں نابالغ افراد کی شرح 22 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

امریکہ نے بہّتر افراد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک ایسے عالمی نیٹ ورک کا حصہ تھے جو انٹرنیٹ پر کمسن بچوں کی فحش تصاویر اور ویڈیوز کا تبادلۂ کرتے تھے۔ اعلیٰ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ’ڈریم بورڈ‘ نامی ویب سائٹ کے کم و بیش چھ سو صارفین سے تفتیش کی گئی ہے اور بیس ماہ تک جاری رہنے والے اس تفتیشی سلسلے کو ’آپریشن ڈیلاگو‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اٹورنی جنرل ایرک ہولڈر کا کہنا ہے کہ ویب سائٹ پر کچھ تصاویر کمسن بچوں سے جنسی زیادتی کیے جانے پر مشتمل تھیں۔ امریکہ نے اب تک بہتّر افراد پر الزام عائد کیے جانے والوں میں سے تینتالیس افراد کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ نو افراد ملک سے باہر ہیں۔ امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی سیکرٹری جینٹ نیپولٹانو نے بتایا کہ باقی کے بیس افراد کو شناخت نہیں جا سکا کیونکہ انھوں نے ویب سائٹ پر اپنے درست نام درج نہیں کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کل ملا کر اتنی تصاویر اور ویڈیوز تھیں کہ ان سے سولہ ہزار ڈی وی ڈیز بھر جائیں۔ حکام نے تیرہ دیگر ممالک میں لوگوں کو اس نیٹ ورک کا حصہ ہونے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ ان ممالک میں کینیڈا، ڈینمارک، ایکواڈور، فرانس، جرمنی، ہنگری، کینیا، نیدرلینڈ، فلےپینز، قطر، سربیا، سویڈن اور سوٹزرلینڈ شامل ہیں۔ امریکی جسٹس ڈی پارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ڈریم بورڈ ویب سائٹ کے ارکان آپس میں بارہ سال سے کم عمر کے بچوں پر کی جانے والی جنسی زیادتیوں پر مشتمل تصاویر اور ویڈیوز کی لین دین کرتے تھے۔ ارکان نے ان تمام تصاویر اور ویڈیوز کی ایک لائبریری بنائی ہوئی تھی۔ ایرک ہولڈر نے کہا ’اس نیٹ ورک کے تمام ارکان ذہنی مرض کا شکار ہیں اور ان کا خواب انٹرنیٹ پر بچوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتیوں کو مقبولیت دینا تھا۔‘ انھوں نے کہا ’لیکن جن بچوں کا جنسی استحصال ہوا ہے، ان کے لیے یہ ایک ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔‘ امریکی تفتیش کے بعد گرفتار ہونے والے باون افراد میں سے تیرہ پر الزام ثابت ہو گیا ہے اور ان میں سے دو افراد کا تعلق کینیڈا اور فرانس سے ہے۔ ڈریم لینڈ ویب سائٹ سنہ دو ہزار آٹھ میں بنائی گئی تھی اور دو ہزار گیارہ میں امریکی حکومت کی طرف سے شروع کی گئی تفتیش کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔ جرائم ثابت ہونے پر ویب سائٹ کے ارکان کو بیس سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

برطانوی ادا کار روون ایٹکنسن(مسٹر بین) کیمرج شائر میں کار حادثے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روون ایٹکنسن(مسٹر بین) کو کندھے پر اس وقت چوٹ آئی جب ان کی گاڑی، جسے وہ خود چلا رہے تھے، ایک درخت سے ٹکرائی اور اسے آگ لگ گئی۔ خیال ہے کہ یہ حادثہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ میڈیا رپوٹس کے مطابق حادثے کے بعد ایٹکنسن ’میکلارن ایف ون‘ نامی سپر کار سے باہر آئے اور ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے۔ حادثے کے بعد آگ بھجانے والے عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا۔ ’کیمرج شائر فائر اینڈ ریسکیو سروسز‘ کی ترجمان کے مطابق آگ بھجانے والے عملے نے آٹھ بج کر تیرہ منٹ پر آگ پر قابو پا لیا۔ واضح رہے کہ روون ایٹکنسن (مسٹر بین) نے بی بی سی کے شوز ’دی نائین او کلاک نیوز‘ اور ’بلیک ایڈر‘ سے شہرت حاصل کی تھی جبکہ انھیں بین الاقوامی شہرت مزاحیہ پروگرام ’مسٹر بین‘ سے حاصل ہوئی 

ایچ آئی وی ایڈز شمالی افریقہ اور مشرقی وسطیٰ کے ہم جنس پرستوں میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ محقیقن نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ جنسی رویوں کی وجہ سے ایڈز کا دیگر علاقوں تک پھلینے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔  دنیا کے متعدد ممالک میں ہم جنس پرستی ایک ممنوعہ موضوع ہے۔ قطر کےکورنل میڈیکل کالج کے محققین کے مطابق کئی ممالک، جن میں مصر، پاکستان، سوڈان اور تیونس شامل ہیں، ان میں ہم جنس پرستی اور غیر محفوظ جنسی روابط کی وجہ سے ایڈز کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ان ممالک میں کچھ خاص طبقوں میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد پانچ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔ طبی موضوع پر شائع ہونے والے ایک جریدے کے مطابق پاکستان میں صورتحال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور  ہم  جنس پرستوں میں ایڈز سے متاثرہ افراد کی تعداد 28 فیصد تک پہنچ گئی ہے اس تناظر میں محققین کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے انہیں نگرانی کے عمل کو سخت کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی ہم جنس پرستوں کو ایڈز کے بارے میں زیاہ سے زیادہ آگاہی دینی چاہیے اور انہیں اس مرض سے محفوظ رہنے کا طریقہ کار سمجھانا چاہیے۔  ایک اندازے کے مطابق 2009ء میں دنیا بھرمیں قوت مدافعت کو کمزور کر دینے والے اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد 33 ملین سے زیادہ تھی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں تقریباً 22 ملین افراد کا تعلق سب صحارہ کے خطے سے ہے۔ تاہم مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں ایڈز سے متاثرہ افراد کے حوالے سے بہت کم ہی اعداد و شمار موجود ہیں۔ اس بارے میں طویل مشاہدے کے بعد محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ ان دو خطوں میں خاص طور پر مرد ہم جنس پرست ایڈز کے پھیلاؤ کا سبب بن رہے ہیں۔ ان ممالک میں ہم جنس پرست افراد معاشرے سے چھپ کر جنسی روابط قائم کرتے ہیں، جس وجہ سے اسے کنٹرول کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں ڈپریشن کا شکار ماؤں کے بچوں میں کم وزنی یا کمزور نشوونما کا شکار ہونے کا امکان 40 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے بلیٹن میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق غریب ملکوں میں 15 سے 57 فیصد مائیں غربت، ازدواجی تنازعات، گھریلو تشدد اور اقتصادی وسائل پر اختیار نہ ہونے کے باعث ڈپریشن کا سامنا کرتی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے، ’’ترقی پذیر ملکوں میں ماؤں کے ڈپریشن یا ڈپریشن کی علامات اور بچوں کی کمزور نشوونما کے درمیان مثبت یا غیر معمولی تعلق ظاہر ہوا ہے۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سخت ڈپریشن کا شکار ماؤں کے بچوں میں زیادہ کمزور نشوونما دیکھی گئی ہے۔ یہ تجزیہ افریقہ، ایشیا، جنوبی امریکہ اور کریبیئن کے ملکوں میں تقریباﹰ 14 ہزار ماؤں اور ان کے چھوٹے بچوں پر کیے گئے 17 تحقیقی مطالعوں پر مبنی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے موازنہ کرنے کے لیے ترقی یافتہ ملکوں میں ماؤں کے ڈپریشن کے اعداد و شمار فراہم نہیں کیے۔ بچپن میں ناکافی نشوونما کا نتیجہ بلوغت میں چھوٹے قد، کمزور تعلیمی کارکردگی، کم تولیدی صلاحیت اور بیماری کے زیادہ خطرات کی صورت میں نکلتا ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے بلومبرگ اسکول برائے صحت عامہ کی محقق پامیلا سرکن نے ایک بیان میں کہا، ’’ماں کے ڈپریشن میں مبتلا ہونے کا نتیجہ بچے کی کم نگہداشت اور چھاتی سے دودھ نہ پلانے یا مختصر مدت کے لیے پلانے کی صورت میں نکلتا ہے۔‘‘ تاہم ترقی پذیر ملکوں میں سماجی نظام، گروپ تھیراپی یا گھروں میں انفرادی کوششوں سے بھی  اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ان اقدامات کے ذریعے چین، جمائیکا، پاکستان، جنوبی افریقہ اور یوگنڈا میں ماؤں کے ڈپریشن کی علامات میں کمی لانے میں مدد ملی ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماں کی ذہنی صحت اور بچے کی صحت کے درمیان بھی تعلق ہو سکتا ہے۔ بچے کی کمزور صحت سے بھی ماں میں ڈپریشن کی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔

واشنگٹن:اعلٰی امریکی افسران نے تصدیق کی ہے کہ اس اجازت سے امریکی فوج کی تیاری پر اثر نہیں پڑے گا۔ اس پیشرفت سے فوج میں ہم جنس پرستوں پر ”نہ پوچھو نہ بتاؤ“ کی 18 سالہ پابندی ختم کر دی جائیگی۔  امریکی صدر بارک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں پر عائد پابندی 20 ستمبر کو ختم ہو جائیگی، اس موقع پر ان کے ساتھ وزیر دفاع لیون پنیٹا اور ایڈمرل مائیک مولن بھی موجود تھے، ان اعلٰی امریکی افسران نے تصدیق کی ہے کہ اس اجازت سے امریکی فوج کی تیاری پر اثر نہیں پڑے گا۔ اس پیشرفت سے فوج میں ہم جنس پرستوں پر ”نہ پوچھو نہ بتاؤ“ کی 18 سالہ پابندی ختم کر دی جائیگی۔

برطانوی سائنسدانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی جینز جانوروں میں استعمال کرنے کے تجربات کے لیے قوانین بنائے جائیں تاکہ ایسے تجربات کو نہ صرف اخلاقی طور پر قابل قبول بنایا جاسکے بلکہ یہ تجربات کسی عفریت کو جنم نہ دے سکیں۔ان سائنسدانوں کے مطابق جانوروں میں انسانوں کے جینز یا خلیے داخل کرنے یا سائنسی اصطلاح میں ’ہیومنائزنگ اینیملز‘ کے ذریعے انسانی جسم کے کام کرنے کے طریقے اور بیماریوں کے پھیلاؤ کے بارے میں گرانقدر معلومات حاصل ہوتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے واضح قوانین کی ضرورت ہے تاکہ جانوروں میں انسانی جینز داخل کرنے والے تجربات کو ایک حد کے اندر رکھا جاسکے اور ان پر نظر رکھی جاسکے۔ سائسندانوں کے خیال میں کسی بندر میں انسانی دماغ کے خلیے داخل کرکے ایک بولنے والا بن مانس بنانا تو شاید محض ایک سائنسی خواب ہی رہے لیکن دنیا بھر میں اس میدان میں تحقیق کرنے والے مستقلاﹰ اس طرح کے تجربات میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں۔ چین کے سائنسدان انسانی سٹیم سیل ایک بکری میں داخل کرچکے ہیں جبکہ امریکی محققین ایک ایسے منصوبے پر غور کر رہے ہیں جس میں ایک چوہے میں انسانی دماغ کے خلیے داخل کیے جانے ہیں، تاہم ابھی تک انہوں نے اس تجربے پر عملدرآمد نہیں کیا۔ ہیومنائزڈ اینیمل بانجھ پن کے علاج کے لیے ہونے والی تحقیق کے لیے بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ سٹیم سیل کے حوالے سے کی جانے والی تحقیق میں بھی انہیں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ برطانیہ کی اکیڈمی برائے میڈیکل سائنسز کی طرف سے جانوروں میں انسانی اجزاء داخل کرنے کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسی متنازعہ تحقیق کی نگرانی انتہائی ضروری ہے۔ جانوروں میں کسی حد تک انسانی خواص کوئی نئی بات نہیں ہے۔  انسانی ڈی این اے متعارف کرائے گئے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ چوہے کینسر جیسے امراض وغیرہ کے لیے ادویات کی تیاری کے سلسلے میں ہونے والی تحقیق کا مرکزی حصہ ہیں۔ اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت کو اس حوالے سے ماہرین کا ایک قومی ادارہ تشکیل دینا چاہیے، جو جانوروں پر ہونے والی تحقیق کی نگرانی کرے۔ برطانوی وزراء نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کی تجاویز پر غور کریں گے، کیونکہ اس حوالے سے سائنسدانوں کے علاوہ عوامی تشویش میں بھی اضافہ ہوتا جار ہا ہے۔

ہوم آف اولمپکس ایتھنز میں دنیا کے 180ممالک کی صف میں پاکستان کے محض 82 ایتھلیٹس نے 56 تمغے حاصل کیے۔ ان میں سونے کے 17، چاندی کے25 جبکہ کانسی کے 14 تمغے شامل ہیں۔ ایونٹ میں دو گولڈ میڈل جیتے والی خاتون ایتھلیٹ بختاور گُل سے ٹیبل ٹینس کے ارسلان احمد اور سائیکلسٹ بلاول اسلم سے سوئمر حسنین عباس تک ہر ایک نے شاندار کارکردگی دکھائی، تاہم ایتھنز کے اصل ہیرو 18سالہ ایتھلیٹ عدیل امیر تھے۔ عدیل نے جو تین طلائی تمغے اپنے سینے پر سجائے، اس میں 100میٹر ریس کی وہ معرکتہ الآرا کامیابی بھی تھی جس نے انہیں ایتھنز اولمپکس کا تیز ترین اور بہترین ایتھلیٹ بھی بنا دیا۔لاہور کےعلاقے چورنگی گوجرپور کے ایک غریب عیسائی خاندان سے تعلق رکھنے والے عدیل امیر کی سنسنی خیز کامیابی کی کہانی بھی اتنی ہی سنسنی خیز اور ڈرامائی ہے۔ پاکستان اسپیشل اولمپک ایتھلیٹکس ٹیم کے کوچ عرفان انور نے ریڈیو ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ عدیل امیر کی اسکواڈ میں شمولیت ان کے بڑے بھائی عرفان مسیح کی جگہ پر ہوئی جسے چند ماہ پہلے ایک خاندانی اجمتاع میں قتل کردیا گیا تھا۔ابتدا میں عدیل کے والدین خوف کی وجہ سے اسے قومی کیمپ میں شرکت کی بھی اجازت نہیں دے رہے تھے کیونکہ اس کو بھی قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ عرفان انو کے بقول:’’ اس لیے  ہم نے عدیل امیر کے تحفظ کی خاطر ٹریننگ کیمپ لاہور سے کراچی و اسلام آباد منتقل کر دیے۔‘‘عرفان انور کے مطابق کیونکہ قتل عدیل کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اسلیے اولمپکس قبل کئی بار عدیل امیر کا نفسیاتی معائنہ بھی کرایا گیا۔ انور کے بقول عدیل نے اپنی قوت ارادی کے بل پر پوری دنیا میں خود کومنوا لیا جو پاکستان کے لیے قابل فخر ہے۔عدیل امیر کا اپنے مقتول ایتھلیٹ بھائی عرفان مسیح کے ساتھ کچھ ایسا لگاؤ تھا کہ وہ یونانی ٹریک پر پہنچنے پر بھی اسے بھلا نہ سکا۔ ڈوئچے ویلے کو اپنے انٹرویو میں عدیل امیر کا کہنا تھا کہ بھائی کےغم کے ساتھ ٹریک پر ڈورنا دشوار تھا: ’’ ایک رات پہلے میں بہت اپ سیٹ ہو گیا تھا مگر اسی شام کوچ نے میری گھر والوں سے بات کرائی جنہوں نے چرچ میں میرے لیے خصوصی دعائیں کرائیں جس کے نتیجے میں کامیابی ملی‘‘۔
 عدیل امیر نے سو میٹر جمپ گولڈ میڈل کو اپنے بھائی کے نام منسوب کیا ہے اوراب وہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جانب سے پانچ لاکھ روپے کے اعلان کے ساتھ دیگر حلقوں کی جانب سے کی جا رہی اپنی پزیرائی پر بھی کافی خوش ہے۔عدیل کا کہنا تھا کہ ہمارے گھر آنے والا ہر کوئی صرف اس کے بارے میں پوچھ رہا ہے:’’میں نے سات سال کی عمر میں دوڑ لگانا شروع کی تھی اب لگتا ہے کہ مجھے میری محنت کا صلہ مل گیا ہے۔ میری کامیابی کا کریڈٹ کوچ حنیف صاحب کو جاتا ہے۔‘‘عدیل کا کہنا ہے کہ انہیں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے  بھائی کے قتل کا انصاف دلانے کا وعدہ کیا جس پر امید ہے کہ ضرور عمل ہو گا۔عدیل جیسے اسپیشل اولمپیئنز کے لیے اولمپکس مقابلے تو 1968 سے ہو رہے ہیں مگر پاکستان میں ذہنی طور پر معذور افراد کو کھیل کے میدان میں لانے کا سلسلہ اسپیشل اولمپکس پاکستان نامی ادارے نے 1989 میں کراچی میں شروع کیا تھا۔جب قومی کوچ عرفان انور سے پوچھا گیا کہ ماضی کے مقابلے میں اس باراسپیشل اولمپکس میں پاکستان کی سنگ میل کامیابی کی وجہ کیا رہی تو ان کا کہنا تھا: ’’پہلے ہمیں تیاری کے لیے گراؤنڈ اور ٹریک تک یہ کہہ کر نہیں دیے جاتے تھے کہ وہاں نارمل ایتھلیٹس زیر تربیت ہیں مگر اس بار تیاری کے لیے یہ سہولت مستقل فراہم کی گئی۔ ہمارے کیمپوں میں کوئی خلل نہیں آیا اور اسکا  نتیجہ سب کے سامنے ہے۔‘‘حکومت پاکستان نے اسپیشل ایتھلیٹس کے لیے ایک سے پانچ لاکھ روپے کے انفرادی انعامات کا تو اعلان کیا ہے مگر عرفان انور کے مطابق حکومت اور نجی اداروں کو ان کھلاڑیوں کو روزگار کے مستقل مواقع فراہم کرنے چاہییں، تاکہ یہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو سکیں۔حکومتی اقدامات سے قطع نظر پاکستانی اسپیشل ایتھلیٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ رکاوٹ کیسی بھی ہو انسانی اسپرٹ اور قوت ارادی کے ذریعہ اسے عبور کیا جا سکتا ہے۔

ہر سیکنڈ دنیا بھر میں 258 بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک گھنٹے دنیا کی آبادی میں دو لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو پچپن افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی ہر سال دنیا میں تراسی ملین افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں ہر سال پاکستان کی آدھی آبادی کے قریب اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق آئندہ برس دنیا کی آبادی سات ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی سن 2025 تک آٹھ جبکہ دو ہزار پچاس تک نو ارب سے بڑھ جائےگی۔ یہ اندازے غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی وثوق سے یہ نہیں بتا سکتا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے انسانی طرز زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔اگر آج دنیا کے تمام افراد ترقی پذیر ممالک کے درمیانے طبقے کی طرح بھی زندگی بسر کریں، تو ہمیں وسائل کے حصول کے لیے ایسی ہی ایک نئی زمین درکار ہو گی۔دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ایک ہی زمین ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کی طرح ہر سال ’عالمی یوم آبادی‘ منایا جاتا ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کا کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی بہتری کے لیے قائم کردہ ہزاریہ اہداف ہم اسی صورت میں حاصل کر سکتے ہیں، جب تمام مردوں، عورتوں، بچوں اور بچیوں کی ضروریات کو ہم مل کر پورا کریں گے۔‘‘اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے سن 1889 میں عالمی یوم آبادی منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دن کو منانے کے لیے گیارہ جولائی  کا انتخاب اس وجہ سے کیا گیا تھا کیونکہ 11 جولائی 1987ء کو دنیا کی آبادی نے پانچ ارب کی حد عبور کی تھی۔ اس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دی گئی تھی۔اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کی خصوصی کامیابیوں کو یاد کرنا اور عالمی مسائل کے حل کے بارے میں سوچ کو فروغ دینا ہے۔ سال بھر میں اقوام متحدہ کی طرف سے مختلف مقاصد کے لیے مجموعی طور پر 70 دن منائے جاتے ہیں۔

ریکارڈ ساز بھارتی بلے باز سچن تندولکر کرکٹ کی دنیا میں ایک اور عالمی اعزاز اپنے نام کرنے جا رہے ہیں مگر وہ اس بار بھی ہمیشہ کی طرح ٹیم اسپرٹ کی بات کرتے ہیں۔تندولکر بین الاقوامی کرکٹ میں مجموعی طور پر 99 سینچریاں سکور کر چکے ہیں۔ اگلے ہفتے سے بھارتی ٹیم انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کا آغاز کر رہی ہے، جس دوران سچن کو سینچریوں کی سینچری مکمل کرنے کے مواقع دستیاب رہیں گے۔ اس سے قبل سچن نے ٹیسٹ میچوں میں 51 اور ایک روزہ مقابلوں میں 48 سینچریاں سکور کر رکھی ہیں۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں لٹل ماسٹر کا کہنا تھا، ’’ میری کارکردگی کا راز یہی ہے کہ میں ریکارڈز کا تعاقب نہیں کرتا، میں یہی سوچتا ہوں کہ کھیل سے کس طرح بھرپور لطف اندوز ہوا جائے اور کیسے اس لطف کو بڑھایا جائے۔‘‘ سچن بے نیازی سے کہتے ہیں کہ جو بھی ریکارڈ وہ بناچکے ہیں اور جو مستقبل میں بنائیں گے، کوئی نہ کوئی اسے توڑ ہی دے گا۔ اگلے ہفتے لارڈز میں شروع ہونے والے ٹیسٹ میچ سے قبل سچن نے لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے گزشتہ چار میچوں میں سب سے زیادہ 37 رنز کی اننگ کھیلی تھی، جو ان کے پائے کے بلے باز کے لیے انتہائی معمولی سکور ہے۔سچن کہتے ہیں، ’’  اگر میں زیادہ لطف محسوس کروں تو فطری طور پر کھیل کا معیار بلند ہوتا ہے، میرے لیے یہ اہم ہے کہ اگر اچھا کھیلوں تو چیزیں خود بخود ہونے لگتی ہیں۔‘‘ بھارتی ٹیم کی مخالف انگلش ٹیم کے کپتان اینڈریو سٹراؤس اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ سینچریوں کی سینچریاں مکمل کرنا بہرحال ایک ریکارڈ ہے اور سچن اس حوالے سے دباؤ میں ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول، ’’ جتنی دیر ہم سچن کو 99 سینچریوں تک محدود رکھ سکیں اتنا ہی اچھا ہوگا۔‘‘سچن تندولکر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ جب انہوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کیا تھا تو بھارت بھر میں 83ء کے عالمی کپ کی جیت کی مسرتیں بکھری ہوئی تھیں اور یوں ان میں بھی عالمی چیمپئن ٹیم کا حصہ بننے کی خواہش ابھری۔ وہ رواں سال اپریل میں ایک روزہ کرکٹ کا عالمی کپ جیتنے کو اپنی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شمار کرتے ہیں۔38 سالہ بھارتی بلے باز نے 16 برس کی عمر سے کرکٹ کھیلنا شروع کیا اور گزشتہ 22 سال سے پیشہ ورانہ سطح پر کرکٹ کھیل رہے ہیں۔

ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ  حمل ضائع کرائے جاتے ہیں جو ماؤں کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کا سبب ہے۔ وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تولیدی صحت کے لئے کام کرنے والی تنظیم’’پاتھ فائینڈر‘‘ کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر فہیم احمد نے کہا کہ اسقاط حمل کی اتنی زیادہ شرح ہونے کی وجوہات شعور کی کمی کے علاوہ ایک بڑی آبادی کو ضبط حمل کی اشیاء اور ادویات کی عدم دستیابی اورمعاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق پائی جانے والی مخالفت ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر ایک لاکھ زچگیوں کے دوران 270مائیں ہلاک ہو جاتی ہیں جن کی وجوہات میں اگرچہ کم عمری کی شادیاں، بچوں کی پیدائش میں وقفہ نا ہونا،تربیت یافتہ دائیوں سمیت علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے لیکن ڈاکٹر فہیم کی رائے میں اگر مانع حمل کے طریقے اپنا کر خواتین اسقاط حمل سے بچ سکیں  تو ان کی شرح اموات میں کم از کم دس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ ‘‘ماؤں کی شرح اموات بلوچستان میں سب سے زیادہ یعنی آٹھ سو، خیبر پختونخواہ میں 325،  سندھ میں 280جبکہ پنجاب میں 222 ہے تنظیم کے جائزے کے مطابق  اس وقت ملک بھر میں صرف تیس فیصد آبادی مانع حمل کے طریقے استعمال کر رہی ہے۔ عالمی تنظیم کے نمائندے کا کہنا تھا کہ گذشتہ 20 سالوں کے دوران حکومت کی طرف سے پیدائش میں وقفے کے رجحان کی اہمیت اور ضرورت سے متعلق شعور اجاگر کرنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں اس کا ایک حوصلہ افزا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ شرح پیدائش پانچ اعشاریہ تین فیصد سے کم ہو کر چار فیصد پر آگئی  ہے۔ لیکن انہوں نے متنبہ کیا کے اسقاط حمل کی شرح نا صرف ابھی بھی تشویش ناک حد تک زیادہ ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ مذہبی اسکالر اور پشاور یونیوسٹی کے پروفیسر معراج الاسلام اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ ماں اور بچے کی جان کے تحفظ کے لئے  پیدائش میں وفقہ یا غیر مستقل ضبط حمل کے طریقے اپنانا کسی بھی طرح غیر اسلامی نہیں۔ پاتھ فائنڈر کی طرف سے ملک کے 26 اضلاع میں آگاہی کا ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے تحت علماء کی شراکت سے لوگوں کو ضبط حمل اور پیدائش میں وقفے سے متعلق دینی تعلیمات سے روشناس کرایا جائے گا۔

سویڈن کے شہر سٹاک ہوم میں ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ دانتوں کو تواتر سے فلاس کرنے سے عورتوں کا حاملہ ہونے کے امکانات زیادہ ہو جاتے ہیں۔  ڈاکٹرز کے مطابق موٹاپے کی طرح صفائی کا خیال نہ رکھنے سے بھی حمل میں دو ماہ کی تاخیر ہوتی ہے۔  سٹاک ہوم میں ہوئے ڈاکٹرز کے اجلاس میں بتایا گیا کہ جن عورتوں کو مسوڑوں کی تکلیف تھی ان کے حمل میں سات ماہ کی تاخیر ہوئی۔ یہ پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے کہ دانتوں کے مرض سے دل کے امراض، ذیبیطس، اسقاطِ حمل اور مردوں میں مادہ منویہ کی کمی کا باعث بنتا ہے۔ آسٹریلوی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل دانتوں کے مرض اور حمل میں روابط کے بارے میں کوئی رپورٹ شائع نہیں کی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ دانتوں کا مرض کے باعث حمل میں تاخیر کئی وجوہات میں سے ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ 

جرمنی میں آئندہ مصنوعی ذرائع سے حمل کے طریقہء کار کے دوران انسانی ایمبریوز پر سخت شرائط کے تحت جینیاتی تجربات کی اجازت ہو گی۔ اس بارے میں برلن میں وفاقی جرمن پارلیمان نے کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کے بعد ایک قانونی مسودے کی اکثریتی رائے سے منظوری دے دی۔ اس بل کی حمایت میں 326 ارکان نے ووٹ دیے، 260 ارکان پارلیمان نے اس کی مخالفت کی جبکہ آٹھ اراکین نے اپنی رائے محفوظ رکھی۔ اس بارے میں منظوری کے لیے جو مسودہء قانون ایوان میں پیش کیا گیا، اس کے لیے درخواست حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان تفریق سے ہٹ کر کئی سیاسی پارٹیوں نے مل کر دی تھی۔ اسی لیے اس موضوع پر رائے شماری سے پہلے پارلیمانی گروپوں کی بنیاد پر رائے دہی کی پابندی عبوری طور پر ختم کر دی گئی تھی۔ اس نئے قانون کے تحت جرمنی میں مستقبل میں جنین پر جینیاتی تجربات یا PID کہلانے والے طریقہء کار کی اجازت صرف اسی وقت دی جائے گی، جب والدین میں سے کوئی ایک یا دونوں کسی شدید بیماری کے شکار ہوں، بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی موت کا خطرہ موجود ہو یا پھر یہ طبی امکان پایا جاتا ہو کہ متعلقہ حمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ ذہنی یا جسمانی طور پر معذور ہو سکتا ہے۔ آئندہ ایسے تجربات سے متعلق ہر ممکنہ واقعے میں کوئی بھی فیصلہ ایک اخلاقی کمیشن کی سطح پر کیا جائے گا۔ اس نئے قانون کی ضرورت اس لیے پیش آئی تھی کہ گزشتہ برس جولائی میں وفاقی جرمن عدالت نے PID کہلانے والے طبی طریقہء کار پر پابندی کے خاتمے کا حکم دے دیا تھا۔ اس طریقہء کار کے تحت مصنوعی حمل کی صورت میں ایمبریوز کو متعلقہ خاتون کے جسم میں منتقل کرنے سے قبل اس پر بہت ابتدائی سطح پر ہی جینیاتی تجربات کیے جاتے ہیں۔ پھر جن ایمبریوز کے پرورش پانے کے بعد معمول کے مطابق صحت مند بچے کے طور پر پیدا ہونے کا طبی امکان بہت کم ہو، وہ عام طور پر ضائع کر دیے جاتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ویٹ لفٹنگ کی عالمی چیمپیئن شپ جیتنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ ملیشیا میں ہونے والے جونیئر ویٹ لفٹنگ مقابلوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد رہبر انقلاب اسلامی نے مبارک باد کا پیغام جاری کیا ہے اس پیغام میں آیا ہے کہ میں غیور نوجوان ویٹ لفٹروں کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جنہوں نے عالمی چیمپیئن شپ جیتی اور ایران کے لوگوں کو خوش کیا۔  ایران کی جونیئر ویٹ لفٹنگ ٹیم نے جمعرات کے روز ملیشیا میں ہونے والے ویٹ لفٹنگ کے سینتیسویں عالمی مقابلوں میں سونے کے آٹھ ، چاندی کے چھ اور کانسی کا ایک تمغہ جیت کر پہلی بار چیمپیئن شپ جیتی ہے۔
ان مقابلوں میں چین نے سونے کے سات ، چاندی کا ایک اور کانسی کا ایک تمغہ جیت کر دوسری اور روس نے سونے کے تین چاندی کے چھ اور کانسی کے سات تمغے جیت کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔

سا ئنسدانوں نے بالوں کو سفید ہونے سے روکنے والا پر وٹین دریا فت کر لیا ہے.بالوں کا جلدی سفید ہو جا نادنیا بھر کے افراد کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے لو گ ہیر کلرزکا استعما ل کرتے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق امریکی سا ئنسدانوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیاہے اور بالوں کو سفید ہونے سے روکنے والا پر وٹین دریا فت کر لیا ہے ،اس دریافت کی مدد سے ایسی دوائیں اور شیمپو بنا نا ممکن ہو گا جو با لوں میں اس پر وٹین کی افزائش کو بڑھا کر انہیں سفید ہو نے سے روک سکیں گےاوراس پروٹین کی افزا ئش بڑھا کربالوں کوگرنے سے بھی روکاجاسکے گا ۔

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے دیوانہ وار عوامی محبت آج بھی کم نہیں ہوئی۔ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے ساڑھے تین برس گزر گئے لیکن منگل کوان کی 58 ویں سالگرہ پورے ملک میں اس قدر جوش و خروش سے منائی گئی کہ ان کی یاد میں ایک طرف سینکڑوں لوگوں نے خون کے چراغ جلائے تو دوسری جانب کم وبیش ایک لاکھ افراد نے خون کے عطیات دیئے۔ کراچی جیسا سب سے بڑا شہر ہو یا چھوٹے سے چھوٹا قصبہ ،منگل کو ہر طرف بے نظیر بھٹو کے ہی چرچے رہے۔ اخبارات ، ٹی وی ، ریڈیو اور انٹرنیٹ ۔ ۔ہر جگہ سالگرہ کا اہتمام نظر آیا۔ شہید جمہوریت کے لقب سے جانی جانے والی بے نظیر بھٹو کی سالگرہ ملک بھر میں اس قدر چاوٴ اور احترام سے منائی کہ ایک لاکھ سے زائد افراد نے ان کی یاد میں خون کے عطیات دیئے۔ اتنے عطیات اپنے آپ میں ایک ریکارڈ تو ہے ہی ایک ایسی انوکھی مثال ہے جس کی تقلید شائد دوسری قومیں اور اگلی نسلیں بھی کرنا نہ بھولیں۔ سالگرہ کا اہتمام پاکستان پیپلز پارٹی‘ پیپلز یوتھ آرگنائزیشن‘ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر تنظیموں کی جانب سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں ،دیہاتوں اور قصبوں میں بھی میں کیا گیا۔ دن بھر تقریبات منعقد ہوتی رہیں جبکہ مختلف شہروں میں خون کے عطیات کے لئے سینکڑوں کیمپس بھی لگائے گئے ۔ خون دینے والوں میں پاکستان کے صدر اور مرحومہ کے شوہر آصف علی زرداری ، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے تمام کارکن شامل تھے ۔ اس سے قبل پارٹی کے مرکزی قائدین‘ اراکین‘ وفاقی و صوبائی اسمبلی اور کارکنان نے نوڈیرو قبرستان میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر تمام علاقائی ہیڈکوارٹرز میں لنگر بھی تقسیم کیا گیا جبکہ ملک بھر کی مساجد میں بے نظیر بھٹو اوران کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی روح کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے سابق وزیراعظم کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ صدر آصف علی زرداری نے نوڈیرو میں خون کا عطیہ دیا۔اس موقع پر ان کی صاحبزاد بختارو بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ بھی موجود تھے۔ خون کا عطیہ دینے والوں میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عاشق اعوان بھی پیش پیش تھیں۔آصفہ بھٹو زرداری نے بھی خون کا عطیہ دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینے والوں کیلئے خون کا عطیہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ خون کا عطیہ دینے کا مقصد دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں مصروف پاک فوج کے جوانوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ سالگرہ کے موقع پر منگل کو ہی بے نظیر بھٹو کی سوانح عمری کا بھی اجراء ہو ا جس کی خاص بات وہ 1100 تصاویر ہیں جو اس سے پہلے شائع نہیں ہوئیں۔ اسلام آباد کے لوک ورثہ میں آج بے نظیر بھٹو کی نایاب تصاویر کی نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا۔

پاکستان میں بھٹو خاندان کا سحر: پاکستان کی تاریخ میں بھٹو خاندان ایک سحرکی سی حیثیت رکھتا ہے ۔ایسا سحر جونہ صرف پچھلے کئی عشروں سے’ سر چڑھ کر ‘بول رہا ہے بلکہ جو ‘جکڑ’ اس خاندانی سحر میں ہے وہ آج تک کسی اور خاندان کو حاصل ہی نہیں ہوئی۔ ملک کی ابتدائی تاریخ ذوالفقار علی بھٹو کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے تو بعد کے سال بینظیر بھٹو کے بغیر نامکمل۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ اس خاندان نے ملک کے لئے جو قربانیاں دیں وہ بھی کسی اور خاندان کو نہیں نہ مل سکیں۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر ان کی اولاد تک کوئی بھی طبعی موت نہ پاسکا۔ سچ پوچھئے تو موجودہ حکومت کا پائے تخت بے نظیر اور بھٹو خاندان کی قربانیوں پر ہی ٹکا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ناقدین بھی اس بات پر حیران ہیں کہ اس خاندان میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اس سے دیوانہ وار محبت کرتے ہیں۔  علم سیاسیات کے ایک سینئر پروفیسر علی عابد کا کہنا ہے کہ “عجب اتفاق ہے کہ جن لوگوں نے کبھی بے نظیر بھٹو یا ان کے والد کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا وہ ان کے زیادہ دیوانے ہیں۔ وہ بھلے ہی پڑھنا لکھنا نا جانتے ہوں ، سیاست کی ابجد سے بھی لاعلم ہوں اور جن کی سمجھ میں ان رہنماوٴں کی باتوں کا صحیح مفہوم بھی نہ آتا ہو وہ بھی محض ان کی جادوئی شخصیت کے دیوانے ہیں ۔ کئی خاندانوں کی کئی نسلیں گزر گئیں مگر وہ بھٹو خاندان کے سحر سے الگ نہ نکل سکے۔

بھٹو خاندان ۔۔۔ناقدین کی نظر میں: سیاست سے گہری دلچسپی اور پیپلز پارٹی کو تنقید ی نگاہوں سے دیکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی شخصیت پرستی کا شاخسانہ ہے۔ بے نظیر بھٹو اس خاندان کی آخری اور اصل چشم و چراغ تھیں ۔ پارٹی اب جس دورسے گزر رہی ہے وہ اس کاعبوری اور آخری دور اقتدار ہے ، یہ اقتدار بھی بینظیر بھٹو کی موت سے ہمدردی کا نتیجہ تھا آگے گیپ ہی گیپ ہے۔ ایک اور ناقد کا کہنا ہے کہ اس وقت اپوزیشن کے سب سے بڑے رہنما کی تمام تنقید کا محور ہی پی پی کی سربراہ قیادت ہے ورنہ یہی وہ رہنما ہیں جو تمام اختلافات کے باوجود بے نظیر کو بڑا لیڈر تسلیم کرتے تھے

لندن: جو بچے اپنے والدین کو باقاعدگی سے شراب نوشی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ شراب نوشی کی جانب مائل ہوتے ہیں۔ یہ بات ایک سروے میں کہی گئی ہے۔ جوزف رونٹری فاوٴنڈیشن کے ایک سروے کے مطابق جن بچوں پر والدین نظر نہیں رکھتے وہ شراب نوشی کی عادت میں زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ اپساس موری کے لئے محققین نے پورے انگلستان میں 5,700 ٹین ایجرز سے سوالات کئے۔ سروے کے مطابق 13-14 سال عمر کے ہر 4 میں سے ایک ٹین ایجر کو دن میں ایک مرتبہ سے زیادہ شراب نوشی کرتے ہوئے پایا گیا جبکہ 15-16 سال عمر کے گروپ میں 52 فیصد بچوں کو ایک مرتبہ شراب نوشی کرتے پایا گیا۔ جن والدین کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کے بچے ہفتے کی رات کو کہاں تھے وہ شراب نوشی میں زیادہ ملوث پائے گئے۔ جوزف رونٹری فاوٴنڈیشن کے کلیئر ٹرنر نے کہا کہ والدین کا اپنے بچوں پر گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ انہیں شراب نوشی اور دوسری سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ 

لندن…اولاد ہر جوڑے کی خواہش ہوتی ہے تاہم جو جوڑے اولاد کی نعمت سے محروم ہوتے ہیں وہ اسکے حصول کے لیے طب کی دنیا میں موجود تمام امتحانوں سے گزرنے کے لے تیار نظر آتے ہیں۔اس مسئلے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے برطانیہ میں ایک ایسا آپریشن ہونے جارہا ہے جہاں پہلی بار دنیا میں کسی خاتون کے رحم کی ٹرانسپلانٹیشن سرجری کی جائیگی۔برطانیہ کی ایک56سالہ بزنس وومینEva Ottossonدنیا کی وہ پہلی خاتون بننے جارہی ہیں جو اپنا رحم اپنی25سالہ بیٹی سارا میں ٹرانسپلانٹ کرو ارہی ہیں ۔سارا پیدائشی طور پر پیداواری اعضاء سے محروم تھیں لہٰذا انکے یہاں بچے کی پیدائش ناممکن تھی تاہم اب وہ اپنی والدہ کا رحم ٹرانسپلانٹ کرواکے ماں بننے کے قابل ہوسکتی ہیں اور اسی بچہ دانی میں اپنے بچے کی نشوونما بھی کرسکتی ہیں جس میں خود کبھی ان کی والدہ نے سارا کی نشوونما کی تھی۔اپنی نوعیت کا یہ پہلا کیس اگر کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں اولاد سے محروم کئی خواتین کے لیے اولاد کا حصول ممکن بنایا جاسکے گا۔

امریکہ میں جاری کیے گئے ایک تازہ تحقیق کے نتائج کے مطابق کسی خاتون کے چہرے کی جھریوں سے ممکنہ طور پر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے جسم کی کسی ہڈی کے ٹوٹنے کا امکان کتنا زیادہ ہے۔    واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ کسی خاتون کے جسم کی کسی ہڈی کے ٹوٹنے کا درست اندازہ لگانا اس طرح ممکن ہو سکتا ہےکہ انسانی جلد اور ہڈیوں میں پائی جانے والی پروٹین کی اقسام اور سطح کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اگر کسی خاتون کے چہرے یا گردن پر بہت زیادہ جھریاں موجود ہوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس کی ہڈیوں میں پائی جانے والی پروٹین کی کمی کے باعث ان ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔امریکہ کی     یونیورسٹی کے ماہرین کی اس نئی ریسرچ کے نتائج پیر کو جاری کیے گئے۔  یالےاس تحقیقی مطالعے کے دوران ماہرین نے 114 ایسی خواتین کا تفصیلی طبی معائنہ کیا، جن میں ماہواری کے خاتمے کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اس تحقیق کے دوران پہلے سے جاری ایک میڈیکل ریسرچ پروجیکٹ کے تحت جن خواتین سے متعلق اعداد و شمار کا مطالعہ کیا گیا، ان کا تعلق امریکہ کے مختلف شہروں سے تھا۔ یہ خواتین ایسی تھیں جن میں حیض کو ابھی تین سال سے زائد کا عرصہ نہیں ہوا تھا۔  اس ریسرچ کے دوران ایسی خواتین کے چہروں اور گردن پر 11 مختلف مقامات پر جھریوں کا مطالعہ کیا گیا۔ اس کے لیے ان جھریوں کا ظاہری طور پر بھی مشاہدہ کیا گیا اور اس مشین کے ذریعے بھی جسے durometer کہا جاتا ہے۔ یوں یہ پتہ چلایا گیا کہ ان خواتین کے چہروں اور گردن پر ان کی جلد کتنی سخت اور جھریوں والی ہو چکی تھی۔ پھر انہی خواتین کے جسموں میں ان کی ہڈیوں کے مضبوط اور صحت مند ہونے کا بھی الٹراساؤنڈ اور ایکسرے کے ذریعے مشاہدہ کیا گیا۔Yale  یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیسن کے زچہ بچہ کے شعبے کی ایسوسی ایٹ پروفیسر لبنیٰ پال کے مطابق اس ریسرچ سے انہیں اور ان کے ساتھی ماہرین کو یہ پتہ چلا کہ زیر مطالعہ خواتین میں چہرے اور گردن کی جھریوں کا ان کی ہڈیوں کی مضبوطی سے گہرا تعلق ہے۔ یعنی جیسے جیسے کسی خاتون کے چہرے اور گردن پر جھریاں زیادہ اور گہری ہوتی جائیں گی، اتنی ہی اس خاتون کی ہڈیوں کی مضبوطی بھی کم ہوتی جائے گی۔   لبنیٰ پال کے بقول چہرے اور گردن پر بہت زیادہ جھریوں والی خواتین میں یہ دیکھا گیا کہ ان کی ہڈیاں زیادہ مضبوط نہیں تھیں اور اس بات کا اس حقیقت سے کوئی تعلق نہ نکلا کہ ان خواتین کی عمر کتنی تھی۔ لیکن ایسی تمام خواتین میں طبی حوالے سے ماہواری کا عمل بند ہو چکا تھا۔ امریکی شہر بوسٹن میں اینڈوکرائن سوسائٹی کی طرف سے جاری کیے گئے اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق بظاہر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ جتنی کسی خاتون کے چہرے اور گردن پر جھریاں کم ہوں گی، اتنی ہی اس کی ہڈیاں اور ان ہڈیوں کے ڈھانچے زیادہ مضبوط ہوں گے۔

تھائی لینڈ میں وہ قانون سرکاری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے، جو مریضوں کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ مخصوص حالات میں ہسپتالوں میں اپنے طبی علاج سے انکار کرتے ہوئے موت کو گلے لگا لیں   بنکاک سے موصولہ رپورٹوں میں تھائی ذرائع ابلاغ میں آج جمعرات کو شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس قانون میں لاعلاج بیماریوں یا شدید نوعیت کے حادثات کا شکار ہو جانے والے افراد اور ان کے اہل خانہ کے لیے وہ رہنما ضابطے وضع کر دیے گئے ہیں، جن کے تحت ایسے مریضوں یا ان کے لواحقین کو ان کی جان بچانے کے لیے کیے جانے والے طبی اقدامات سے انکار کا اختیار حاصل ہو گا۔   اس قانون کی منظوری کا مقصد انتہائی تکلیف دہ حالات میں زندگی کی جنگ لڑنے والے یا طویل عرصے تک لاعلاج امراض کے شکار تھائی شہریوں کی تکالیف میں کمی کی کوششیں بتائی گئی ہیں۔ نئے قانون کے ذریعے یہ وضاحت بھی کر دی گئی ہے کہ اگر کوئی مریض ایسے حالات میں اپنے علاج سے انکار کرنا چاہتا ہو تو اسے اپنے اہل خانہ اور ہسپتال میں اپنے معالجین کو اپنے خود مختارانہ فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا ہو گا۔   ایسے مریض اکثر جس قدر تکلیف کا سامنا کرتے ہیں، اس میں وہ اپنے لیے زندگی کی بجائے موت کی خواہش کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ نیا قانون ایک طرح سے  ایسے مریضوں کو اپنے لیے سہل موت کا انتخاب کرنے میں مدد دینے کے مترادف ہے۔   تھائی لینڈ میں قومی ہیلتھ کمیشن کے سیکرٹری جنرل امپون جنداوتنا نے بنکاک میں صحافیوں کو بتایا کہ اس نئے قانون کا اطلاق اٹھارہ سال سے زائد عمرکے ایسے افراد پر ہو گا جو لاعلاج امراض کے باعث انتہائی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں لیکن اپنے لیے قدرتی اور پرسکون موت کے خواہاں ہیں۔  تھائی لینڈ میں یہ قانون سازی وزارت صحت کے ایک ضابطے کی صورت میں کی گئی ہے، جس کی پارلیمان نے دسمبر سن 2009 میں باقاعدہ منطوری بھی دے دی تھی۔ اس نئے قانون کا نفاذ گزشتہ جمعہ کے روز ملکی قوانین کے اس کتابچے میں باضابطہ اشاعت کے ساتھ عمل میں آیا، جو رائل گزٹ کہلاتا ہے۔

لندن :  کثرت شراب نوشی کے سبب ہسپتال داخل ہونے والے مریضوں کی سالانہ تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی ہے۔ این ایچ ایس انفارمیشن سنٹر کی رپورٹ کے مطابق 2008-9ء اور 2009-10ء کے درمیان اس تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔ ان میں شراب نوشی کے سبب ہونے والی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض بھی شامل تھے۔ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ رواں برس کے آخر میں الکحل سے متعلق نئی گائیڈ لائنز جاری کرے گا۔ رپورٹ کے مطابق کثرت شراب نوشی کے سبب ہسپتال آنے والے ہر تین میں سے دو مریض مرد ہوتے ہیں۔ رواں برس کے آغاز میں الکحل کنسرن نے پیشگوئی کی تھی 2015ء تک شراب نوشی کے سبب ہسپتال آنے والے مریضوں کی تعداد 1.5 ملین تک پہنچ جائے گی جن کے علاج پر این ایچ ایس کو سالانہ 3.7 بلین پونڈ خرچ کرنا پڑیں گے۔ این ایچ ایس انفارمیشن سنٹر کے چیف ایگزیکٹو نے کہا کہ پہلی مرتبہ شراب پینے کے سبب ہسپتال آنے والے افراد کی تعداد ایک ملین سے زائد ہوتی ہے اور الکحل کی بیماری کے سبب این ایچ ایس سے نسخہ لینے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔