Archive for the ‘Entertainment News’ Category

واشنگٹن …ايک ا مريکي شہر ي نے اپني نو کري اورتما م دولت چھو ڑ چھا ڑ کر پہاڑو ں ميں مو جو د غا ر کو اپنے گھر ميں تبديل کر ليا ہے . ڈينيل سوئلوپيشے کے لحا ظ سے ايک با ورچي تھا ليکن سن 2000 ء ميں امريکہ ميں آنے والے معا شي بحران کے بعد اس نے پيسے اور نو کري پر انحصا ر ختم کر کے رياست Utah کے غاروں ميں رہا ئش اختيار کر لي ہے .ڈينيل سوئلو کا نہ تو کو ئي بينک اکا ؤ نٹ ہے اور نہ ہي وہ حکو مت سے کسي قسم کي کوئي مالي امدا د وصول کر تا ہے . غار ميں رہنے وا لا ڈينيل سوئلو پہاڑوں ميں اگنے والي گھا س پھونس اور سڑ ک کے کنا رے ہلا ک ہو جانے والے جانوروں پر گزراکر تا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اسے زندگي گز ارنے کے ليے رقم کي کو ئي ضر ورت نہيں رہي .

Advertisements

واشنگٹن: جدید ارضیاتی تاریخ میں سال 2011 نواں گرم ترین سال تھا۔ اس بات کا انکشاف خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا  کے سائنس دانوں نے کیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جدید ارضیاتی ریکارڈ کے مطابق 1880 سے اب تک 9 گرم ترین سال ریکارڈ کئے گئے جن میں سال 2011ء نواں گرم ترین سال تھا۔ ایک اور امریکی ادارے ”این او اے اے” کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اوسطاً درجہ حرارت کے  حساب سے 2011ء 23واں گرم ترین سال تھا۔ ناسا کے ایک ادارے ”گوڈیرڈ انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی” کے مطابق سال 2011ء میں اوسطاً درجہ حرارت کی سطح 0.92 ڈگری فارن ہائیٹ (0.5سینٹی گریڈ) تھی۔ بیسویں صدی عیسوی وسط میں درجہ حرارت مناسب درجوں پر رہا اور انسٹی ٹیوٹ نے 1880ء سے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔

تہران میں انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں منعقدہ پانچویں عالمی کانفرنس سے رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے خطاب کو عالمی سطح پر وسیع کوریج حاصل ہوئي ہے اور مختلف شخصیات نے اس خطاب پر الگ الگ طرح سے رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ اس سلسلے میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم کا رد عمل غور طلب ہے۔ صیہونی اخبار جروزالم پوسٹ نے بنیامین نیتن یاھو کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ تہران اجلاس میں پیش کئے گئے مواقف اور مسائل اسرائيل کی نابودی کے مترادف ہیں ۔ ان امور کے پیش نظر اسرائيل کو یہودی ملک کی حیثیت سے تسلیم کئے جانے اور اسکے سکیورٹی تقاضوں کوپورا کرنے کی ضرورت کا اندازہ ہوتا ہے۔ غاصب صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے یہ بھی دعوی کیا کہ اسرائيل قیام امن کی کوششیں جاری رکھے گا تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ کوششیں مشروط ہونگي اور یہ شرطیں اسرائيل کے باشندوں اور آئندہ نسل کے لئے سکیورٹی کی ضمانت فراہم کۓ جانے سے عبارت ہیں۔ یاد رہے رہبرانقلاب اسلامی نے انتفاضہ فلسطین کی حمایت میں پانچویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب میں ملت فلسطین کے حقوق پر تاکید کرتےہوئے فرمایا ہے کہ فلسطین کے بارے میں ہر طرح کی تجویز کو مکمل فلسطینی سرزمین پر مشتمل ہونا چاہیے کیونکہ فلسطین از نہر تا بحر ہے اس میں ایک بالشت کی کمی بھی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت ا للہ العظمی خامنہ ای نے سرزمین فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرنے کے صیہونی حکومت کے اھداف کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ صیہونی حکومت اس سرزمین کو اپنا اثر ورسوخ اور تسلط بڑھانے کے لئے استعمال کررہی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ فلسطینی قوم کو بھی ہر قوم کی طرح حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قسمت اور اپنے ملک کی حکومت کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ آپ نے دنیا میں رائج اور قابل قبول منطق کے مطابق تجویز پیش کی کہ فلسطین کے اصلی باشندے خواہ مسلمان ہوں، یہودی ہوں یا عیسائي ہوں، فلسطین میں ہوں یا فلسطین کے باہر ایک ریفرینڈم میں شرکت کریں اور اپنی من پسند حکومت کا انتخاب کریں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے ایسا راہ حل پیش کیا ہے جو بلاشبہ صیہونی حکومت اور اسکے حامیوں کے لئے قابل برداشت نہیں ہے۔ اور اس بات کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ صیہونی حکومت ایسی تجویز پر مثبت رد عمل ظاہر کرے گي کیونکہ صیہونی حکومت کا ھدف ہی کچھ اور ہے۔ صیہونی حکومت جس کی غیر قانونی تشکیل کو ساٹھ برسوں سے زیادہ کا عرصہ گذر رہا ہے اس نے ملت فلسطین کی نابودی کے علاوہ کوئي اور بات نہیں سوچی ہے بنابریں ایسے گھناونے ہدف سے فلسیطنی کاز کی حامی قوموں اور خود مختار حکومتوں کو تشویش لاحق ہونا ایک فطری امر ہے۔ رہبرانقلاب اسلامی کے خطاب پر صیہونی وزیر اعظم کے منفی رد عمل سے صیہونی حکومت کے تسلط پسندانہ اھداف مزید کھل کر سامنے آجاتے ہيں اور یہ بات واضح ہوجاتی ہےکہ صیہونی حکومت اپنی سلامتی اور بقا کے لئے مکمل طرح سے امریکہ پر انحصار کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سربراہی اجلاس میں صدر اوباما کے بیان سے صاف واضح ہوجاتاہے کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کا راستہ اور ھدف ایک ہی ہے اور قیام امن و مذاکرات کے بارے میں ان کی باتیں دھوکے اور فریب کے علاوہ اور کچھ نہیں ہیں وہ اپنے ان بظاہر اچھے بیانات سے عالمی راے عامہ کو دھوکہ دینےاور فلسطینی مزاحمتی حلقوں میں اختلاف ڈالنے کےعلاوہ کوئي اور ھدف نہیں رکھتے۔ دراصل لبنان اور غزہ میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی شکست فاش کے بعد اب اسرائیل کی سیکورٹی امریکہ کے لئے ریڈ لائن بن گئي ہے اور اسی میں امریکہ کے مفادات کا تحفط بھی ہے کیونکہ اگر اسرائيل کو کچھ ہوا تو امریکہ کے مفادات خطرے میں پڑ جائيں گے۔ جس چیز نے غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم کو رہبرانقلاب اسلامی کے بیان پر رد عمل ظاہر کرنے پر اکسایا ہے وہ رہبرانقلاب اسلامی کے الفاظ میں یہ حقیقت پسندانہ بیان ہے کہ اوباما کی ریڈ لائن یعنی صیہونی حکومت کی سکیوریٹی مسلمان انقلابی قوموں کے پاؤں تلے پامال ہوجاے گي ۔ رہبرانقلاب اسلامی نے مزید فرمایا ہے کہ جو چيز صیہونی حکومت کے لئے خطرہ ہے وہ ایران اور حزب اللہ کے میزائل نہیں ہیں جن کا مقابلہ کرنے کےلئے ادھر ادھر میزائل شیلڈ لگالی جاۓ بلکہ حقیقی خطرہ جس کے مقابل کوئي چارہ بھی نہیں ہے اسلامی قوموں کا پختہ ارادہ ہے جو اب مزید امریکہ ، یورپ اور ان کے آلہ کاروں کی حکومتوں اور ان کے ہاتھوں اپنی تحقیر کو برداشت نہیں کرنا چاہتے

برطانوی ادا کار روون ایٹکنسن(مسٹر بین) کیمرج شائر میں کار حادثے میں زخمی ہونے کے بعد ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ اطلاعات کے مطابق روون ایٹکنسن(مسٹر بین) کو کندھے پر اس وقت چوٹ آئی جب ان کی گاڑی، جسے وہ خود چلا رہے تھے، ایک درخت سے ٹکرائی اور اسے آگ لگ گئی۔ خیال ہے کہ یہ حادثہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق شام ساڑھے سات بجے پیش آیا۔ میڈیا رپوٹس کے مطابق حادثے کے بعد ایٹکنسن ’میکلارن ایف ون‘ نامی سپر کار سے باہر آئے اور ایک موٹر سائیکل سوار کے ساتھ ایمبولینس کا انتظار کرتے رہے۔ حادثے کے بعد آگ بھجانے والے عملے نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا۔ ’کیمرج شائر فائر اینڈ ریسکیو سروسز‘ کی ترجمان کے مطابق آگ بھجانے والے عملے نے آٹھ بج کر تیرہ منٹ پر آگ پر قابو پا لیا۔ واضح رہے کہ روون ایٹکنسن (مسٹر بین) نے بی بی سی کے شوز ’دی نائین او کلاک نیوز‘ اور ’بلیک ایڈر‘ سے شہرت حاصل کی تھی جبکہ انھیں بین الاقوامی شہرت مزاحیہ پروگرام ’مسٹر بین‘ سے حاصل ہوئی 

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں آج اتوار کے روز ملک کی پہلی ’سلَٹ واک‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ملک میں جنسی جرائم میں تشویشناک حد تک اضافے کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ بھارت میں پہلی بار ’سلَٹ واک‘ منعقد کی جا رہی ہے، جس کا مقصد لوگوں میں خواتین پر تشدد اور جنسی جرائم کے بارے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا اور اس کے خلاف احتجاج کرنا بتایا جا رہا ہے۔ امکان ہے کہ اس ریلی میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد شرکت کریں گے۔ اس نوعیت کی ریلیاں مغربی ممالک میں عام ہیں۔ چند ماہ قبل برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں اسی نوعیت کی ایک واک کا اہتمام کیا گیا تھا۔  بھارت میں اس ریلی کا اہتمام صحافت کی انیس سالہ طالبہ امنگ سبراول نے کیا ہے جن کا کہنا کہ وقت آ گیا ہے کہ بھارتی خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں۔ امنگ کہتی ہیں: ’’بھارت میں اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ ہم نے کیا پہن رکھا ہے۔ اگر خواتین نے خود کو سر سے پیر تک بھی ڈھانپ رکھا ہو تب بھی وہ جنسی زیادتی کا شکار بنتی ہیں۔ اگر خواتین زیادتی کا شکار بنتی ہیں تو انہی پر یہ الزام عائد کر دیا جاتا ہے کہ انہوں نے ایسا کرنے کی خود دعوت دی ہوگی۔‘‘ بھارت میں کیے گئے ایک جائزے کے مطابق نئی دہلی میں پچاسی فیصد خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ بھارتی پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں سن دو ہزار دس میں چار سو نواسی ریپ کیسز رپورٹ کیے گئے۔ خیال رہے کہ بھارت کے قدامت پسند حلقے ’سلَٹ واک‘ کو ’مغربی ثقافت کی یلغار‘ قرار دے کر اس کی مذمت کر رہے ہیں۔

واشنگٹن:اعلٰی امریکی افسران نے تصدیق کی ہے کہ اس اجازت سے امریکی فوج کی تیاری پر اثر نہیں پڑے گا۔ اس پیشرفت سے فوج میں ہم جنس پرستوں پر ”نہ پوچھو نہ بتاؤ“ کی 18 سالہ پابندی ختم کر دی جائیگی۔  امریکی صدر بارک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں پر عائد پابندی 20 ستمبر کو ختم ہو جائیگی، اس موقع پر ان کے ساتھ وزیر دفاع لیون پنیٹا اور ایڈمرل مائیک مولن بھی موجود تھے، ان اعلٰی امریکی افسران نے تصدیق کی ہے کہ اس اجازت سے امریکی فوج کی تیاری پر اثر نہیں پڑے گا۔ اس پیشرفت سے فوج میں ہم جنس پرستوں پر ”نہ پوچھو نہ بتاؤ“ کی 18 سالہ پابندی ختم کر دی جائیگی۔

سعودی عرب کے ایک ذرائع نے فیس بک کی جانب سے سعودی مردوں کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیس بک میں سعودی عورتیں اپنے شوہروں کی جاسوسی کرتی ہیں۔ عرب نیوز ویب سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی عورتیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ اپنے شوہروں کے بارے میں جاسوسی کرتی ہیں عرب نیوز سائٹ نےفیس بک کی جانب سے سعودی مردوں کے لئے کھڑی کی جانے والی مشکلات کے بارے میں خبردار کیا ہے۔اس سائٹ نے کئی عورتوں کے نام بھی شائع کئے ہیں جنھوں نے اپنے شوہروں کے خلاف پولیس میں شکایت کی ہے، عرب نیوز سائٹ کے مطابق سعودی عورتیں  فرضی نام سے فیس بک کی رکنیت حاصل کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کے صفحہ پر جانے کی درخواست کرتی ہیں۔ ام عمار کہتی ہیں کہ میں نے اپنے  شوہر سے فیس بک کے صفحہ پر رکنیت طلب کی اور اس نے قبول کرلی ، اس نے کہا کہ میرے شوہر نے مجھے دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور کچھ مدت کے بعد اسے معلوم ہوگیا کہ وہ جس عورت کو دیکھنے کی کوشش کررہا ہے وہ خود اس کی بیوی ہے۔اسی طرح بہت سی سعودی عورتیں فیس بک میں اپنے شوہروں کی جاسوسی  کرتی ہیں اور ان کے اعمال کا پیچھا کرتی ہیں

جدہ (اے پی پی) سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک مہینہ کے دوران اوسطاً 145 بیویاں اپنے شوہروں پر تشدد کرکے انہیں مارتی ہیں۔یہ بات سعودی عرب کے اخبار عرب نیوز کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے۔ رپورٹ میں جدہ پولیس کی جانب سے دیئے جانے والے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا۔ سعودی ہیومن رائٹس کمشن کی رکن فتایہ القریش نے عرب نیوز کو بتایا کہ ایسی خواتین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو اپنے شوہروں کو مارتی ہیں تاہم انہوں نے تمام کیسز میں تشدد کو رد کرکے بتایا کہ اس کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں۔

کراچی…بالی ووڈسپراسٹار ایشوریا رائے کے ہاں ہونے والے بچے کی ولادت کے سلسلے میں بھارتی سٹہ بازوں کے پنڈتوں، ماہر نجوم، سادھوؤں اور ڈاکٹروں سے رابطے کرنے پر بچن فیملی ذہنی اذیت کا شکار ہوگئی جس کے بعد بچن فیملی نے بچے کی ولادت کسی دوسرے ملک میں کرانے پر غور شروع کردیا ہے۔ واضح رہے کہ بھارت کے بڑے بڑے سٹہ بازوں نے ایشوریا رائے کے ہاں ہونے والے بچے کی ولادت پر کروڑوں روپے کا سٹہ لگایا ہے اس سلسلے میں انہوں نے بچن فیملی کے ڈاکٹروں، لیبارٹریز اور الٹرساؤنڈ کرنے والے اداروں سے بھی خفیہ طور پر رابطے کرنے شروع کردیئے ہیں جس پر بچن فیملی کو ان اداروں پر بھروسہ نہیں رہا کیونکہ ان کے نزدیک اس طرح کیحالات وواقعات سے بچے کی نشوونما پر اثر پڑ سکتا ہے اور ایشوریا رائے کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے چنانچہ بچن فیملی نے اب بھارت کے علاوہ کسی دوسرے ملک میں بچے کی ولادت پر غور کرنا شروع کردیا ہے۔ یاد رہے کہ بچے کی ولادت کی خبر کے بعد ایشوریا رائے کی خیریت دریافت کرنے والوں کی تعداد میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے اور بالی ووڈ فلم انڈسٹری کے بڑے بڑے ستون بھی بچے کی ولادت میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔

غزہ میں حماس کی حکومت نے گزشتہ برس متعارف کیا جانے والا وہ قانون نافذ کر دیا ہے جس کے مطابق مردوں کے ہاتھوں خواتین کے بال تراشنے پر پابندی ہوگی۔  اب تک یہ قانون نافذ نہیں کیا گیا تھا لیکن اس کے تحت اس ہفتے غزہ میں ایک مرد حجام کو گرفتار کیا گیا ہے۔  خواتین کے لئے مرد حجام کو بہت سے مسلمان اسلامی روایات کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس اقدام کو حماس کی اسلامی شناخت کو مضبوط کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جو کہ ناقدین کے اس خیال کے برعکس ہے جس کے مطابق حماس بہت معتدل ہو گئی ہے۔ درحقیقت غزہ میں جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں زیادہ تر خواتین مردوں کے ہاتھوں اپنے بال نہیں کٹوانا چاہتیں۔ بہرحال یہاں چند ہی ایسے سیلون ہیں جہاں مرد حجام کام کرتے ہیں۔ ستائیس برس سے پیشہ ور حجام عدنان برکت کہتے ہیں ’ کام کے بغیر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں مرا ہوا ہوں کیونکہ میرے پاس کوئی کام نہیں ہے۔ میرا سیلون میرے بغیر نہیں چل سکتا۔ میں انیس سو چوراسی سے یہ کام کر رہا ہوں۔ میں کوئی اور کام نہیں جانتا۔ میں اور کیا کر سکتا ہوں؟ عدنان برکت کی طرح کئی دوسرے حجاموں نے شکایت کی ہے کہ خفیہ پولیس ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔  حماس کا کہنا ہے کہ وہ صرف قانون کا نفاذ کر رہی ہے اور یہ قانون لوگوں کی اکثریت کا مطالبہ ہے۔ 

کراچی…ملک میں گزشتہ ایک سال کے دوران گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ اضافہ ہوگیا ہے اور اب یہ 47 لاکھ ہو گئے ہیں۔ وزارت لائیو اسٹاک اینڈ ڈیری ڈیولپمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو سال میں گدھوں کی تعداد 2 لاکھ بڑھی ہے تاہم گھوڑوں اور خچروں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ ملک میں چار لاکھ گھوڑے اور دو لاکھ خچر ہیں جب کہ اونٹ ایک لاکھ ، بکرے، بکریاں 6 کروڑ 15 لاکھ ، دنبے اور بھیڑیں 2 کروڑ 81 لاکھ ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق ملک میں 3 کروڑ 56 لاکھ گائے اور 3کروڑ 17 لاکھ بھینسیں ہیں۔

ممبئی…بھارت میں پاکستانی اداکاروں اور گلوکاروں کیساتھ کیا سلوک ہوتا ہے یہ کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہیں لیکن پھر بھی پاکستانی گلوکار عدنان سمیع بھارت میں رہنے پر بضد ہیں۔ حال ہی میں ممبئی ہائیکورٹ میں دائر ہونے والی ایک درخواست کے بعد جہاں عدنان سمیع کی تمام جائیداد ضبط کرلی گئی تھی وہیں ان کے بیرون ملک جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی لیکن پھر بھی وہ بھارت سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے پر زور دیتے ہوئے یہ کہتے نظر آرہے ہیں کہ وہ بھارت میں ہی خیمے میں زندگی بسر کرلیں گے لیکن پاکستان واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔گلوکارراحت فتح علی خان اور فلمسٹارمیرا کی مثال کو پس پشت رکھتے ہوئے عدنان سمیع پاکستانی جڑیں ہونے کے باوجود بھارت کو ہی اپنا ملک مانتے ہیں۔حال ہی میں بھارت ہائیکورٹ نے عدنان سمیع کو بیرون ملک کنسرٹس کے لیے جانے کی اجازت تو دے دی ہے تاہم اب ان پر یہ سوالات اٹھائیں جارہے ہیں کہ وہ کنسرٹ کے بہانے بھارت سے فرار ہوجائیں گے اور اپنے اثاثے بھی بیرون ملک بینکوں میں منتقل کروالیں گے لیکن عدنان نے ان تمام افواہوں کی سختی سے تردید کردی ہے۔عدنان کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق جس بھی ملک سے ہو لیکن اب وہ بھارت سے تعلق رکھتے ہیں جہاں نہ صرف ان کا کیرئیر ہے بلکہ گھربار اور خاندان بھی ہے لہٰذا وہ یہ سب چھوڑ کر جانے کاسوچ بھی نہیں سکتے

راولپنڈی: آغا سید حامد علی شاہ علامہ نے کہا کہ قرآن مجید کے سورہ اعراف میں ارشاد خداوندی ہے کہ ہماری مخلوق میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ذریعے عدل و انصاف کرتے ہیں۔ یہ آیة مجیدہ اس بات پر دلیل و برہان ہے کہ قیامت تک ہر دور میں ایک ایسا شخص ضرور موجود رہے گا جو حق کا قائم کرنے والا، حق پر عمل کرنے والا اور حق کی طرف ہدایت کرنے والا ہو گا   تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے قائد آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے کہا ہے کہ پانچویں امام حضرت امام محمد باقر ع کی تعلیمات پر عمل کر کے نہ صرف معاشرے کی اصلاح کو یقینی بنایا جاسکتا ہے بلکہ انسانیت کو درپیش گونا گوں مسائل و مصائب، مشکلات اور حوادثات و سانحات سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے عالمی عشرہ اجر رسالت کی مناسبت سے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے یوم ولادت پرنور کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی، علامہ موسوی نے کہا کہ قرآن مجید کے سورہ اعراف میں ارشاد خداوندی ہے کہ ہماری مخلوق میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کی ہدایت کرتے ہیں اور حق کے ذریعے عدل و انصاف کرتے ہیں۔ یہ آیة مجیدہ اس بات پر دلیل و برہان ہے کہ قیامت تک ہر دور میں ایک ایسا شخص ضرور موجود رہے گا جو حق کا قائم کرنے والا، حق پر عمل کرنے والا اور حق کی طرف ہدایت کرنے والا ہو گا۔   انہوں نے کہا کہ کہ انہی خاصان خدا میں سے ایک عظیم ترین ہستی حضرت امام محمد باقر ع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام باقر علیہ السلام کا سینہ علوم کا خزینہ تھا۔ امام زہری، امام عوزاعی، امام مالک اور امام ابوحنیفہ جیسے بزرگ آپ ہی کی درس گاہ کے خوشہ چینوں میں سے تھے۔ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے واضح کیا کہ اگر ہم تمام مشکلات سے نجات چاہتے ہیں تو عالمی سرغنے اور اس کے اتحادیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا اور الہی نمائندوں کی پیروی کرتے ہوئے استعمارکے بجائے ذاتِ پروردگار کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہونا ہو گا، اسی میں ہماری نجات اور کامیابی و سرفرازی کا راز مضمر ہے۔

برلن…جرمنی کے خوب صورت سیاحتی مقام پردرجنوں چینی جوڑوں نے اپنی شادی کو فیری ٹیل کا روپ دے دیا۔باواریئن کے پہاڑی سلسلے میں موجودخوب صورت اور مشہور محل میں اجتماعی شادی کی رنگارنگ تقریب ہوئی۔جس میں درجنوں چینی جوڑوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنے کے عہد و پیمان کئے۔تصاویر بنوائیں اور موسیقی کی دھن پر ڈانس کیا۔شاہی شادی کی طرز پر اس محل میں شادی کا یہ اچھوتا منصوبہ چودہ سال پہلے شروع کیاگیاتھا،جس میں دنیا بھر سے شادی کے ک خواہش مند جوڑے یہاں آتے ہیں اور اپنا دن یادگار بناتے ہیں۔

امام خمینی رہ فرما گئے ہیں کہ آپ ظلم کے خلاف اٹھنے میں جتنی دیر کریں گے قربانی اتنی ہی زیادہ دینا پڑے گی۔ انھیں یہ بات کہے ہوئے ربع صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم نے بہت دیر کر دی ہے لیکن کوئی تو وقت ہوتا ہے جب قومیں عزت سے جینے کا فیصلہ کرتی ہیں، جب ملتیں کروٹ لیتی ہیں، جب ان کے رہنما ظلم و جبر، دھونس اور دھاندلی کو نہ کہہ دیتے ہیں۔ پاکستان اٹھارہ کروڑ انسانوں کا ملک ہے۔ اس کے پاس چھ لاکھ سے زیادہ فوج ہے۔ فوج سے بڑھ کر اللہ پر ایمان اور حق و عدالت کی راہ میں شہادت کا جذبہ ہے۔ امریکی فوجی موت سے خوف زدہ لوگ ہیں۔ وہ خوف کے مارے شادی کی تقریبات کے پٹاخے چلانے والوں کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں انھیں ویت نام، ایران، لبنان ،مصر اور دیگر سرزمینوں کے لوگ رسوا کن شکست سے دوچار کر چکے ہیں  4 جون 2011ء کو امام خمینی رہ کی بائیسویں برسی منائی جا رہی ہے۔ بیسویں صدی میں لوٹ کھسوٹ کا جو عالمی نظام قائم ہوا اس نے بڑے بڑے لوگوں کو بھی قومی ہیرو کی حد میں محدود کرنے کی بنیاد رکھی۔ قومی ریاستوں کے نظام نے ہر چیز، ہر نظریہ، ہر پیغام، ہر مصیبت اور ہر راحت کو قومی سرحدوں کے اندر رکھنے کی داغ بیل ڈالی۔ پاکستان پر مسلط ہونے والے گذشتہ فوجی آمر پرویز مشرف نے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا جو نعرہ لگایا وہ قومی ریاستوں کے اسی عالمی نظام کا شاخسانہ تھا، لیکن انسان کی سرحد ناآشنا عالمی فطرت اپنے جلوے دکھاتی رہتی ہے اور انسان کے آفاقی ہونے کی سچائی کو بےنقاب کرتی رہتی ہے۔ دنیا بھر کے محروموں اور مستضعفوں میں امام خمینی رہ کی مقبولیت و محبوبیت فطرت کے ایسے ہی بےنقاب جلوﺅں میں سے ایک ہے۔  بیسویں صدی کے آخری ربع میں امام خمینی رہ دو قطبوں میں تقسیم دنیا میں برپا جبر و استحصال کے عالمی نظام کو للکارنے اور اور لاشرقیہ ولا غربیہ کا امید بخش پیغام دینے والے قائد کی حیثیت سے افق سیاست پر جلوہ گر ہوئے۔ دو قطبی دنیا کے عادی دانشور تعجب زدہ ہو کر رہ گئے۔ انھوں نے حیرت سے دیکھا کہ یہ کون ہے جو تاریخ کے پہیے کو نصف صدی کے بعد کسی اور پٹڑی پر ڈالنے کی بات کر رہا ہے۔ وہ سوچنے لگے کہ کیا ایسا بھی ممکن ہے۔ سامنے کی دیوار پر اپنی دانش کی سطور لکھنے کے عادی دانشور، دیوار کے اُس پار دیکھنے کا کیسے سوچ سکتے تھے۔ لیکن امام خمینی رہ آئے اور انھوں نے ڈھائی ہزار سالہ جشن شہنشاہیت منانے والے عالمی سامراج کے لے پالک کا طاغوتی محل زمین بوس کر دیا۔   تہران میں ایران کی وزارتِ خارجہ کے صدر دروازے پر”لاشرقی لا غربی جمہوری اسلامی“ کی عبارت پر نظر جمائے ہوئے مجھے امام خمینی رہ کی جراتوں اور شہامتوں سے معمور شب و روز یاد آ رہے تھے۔ یہ چند سال پہلے کی بات ہے اور آج جب پاکستان میں، میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اور پاکستان پر دہشت گردی کے گہرے ہوتے ہوئے مہیب سائے مجھ سے بجلی کے ساتھ ساتھ تپتی دوپہر میں روشنی بھی چھین لے جانے اور ساری فضا کو بارود کے دھوئیں سے بھر دینے کے درپے ہیں، مجھے ان کی یاد زیادہ شدت سے آ رہی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ آج امام خمینی رہ ہوتے تو مجھے اور میرے ہم وطنوں کو اس صورت حال سے نکالنے کے لئے کیا پیغام دیتے۔   پھر میں سوچتا ہوں کہ وہ عالم بالا میں کہتے ہوں گے: میں نہ کہتا تھا کہ امریکہ تمھارا دوست نہیں ہو سکتا۔ میں نے نہ کہا تھا کہ ”امریکہ شیطان بزرگ ہے“ پھر تم نے اُسے اپنا دوست کیوں جانا، تم نے اُسے اپنا سرپرست کیوں بنایا، تم اس کے اشارہ  ابرو پر پاکستان کو اس کی حمایت میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بنانے پر کیوں آمادہ ہو گئے۔؟ میں سوچتا ہوں کہ میرے پاس امام خمینی رہ کے ایسے سوالوں کا کیا جواب ہے۔ امام خمینی رہ تو پاکستان ہی کی تاریخ کی بہت سی مثالیں دے کر ثابت کر سکتے ہیں کہ ہم نے اپنی تاریخ سے ہرگز کوئی سبق نہیں سیکھا۔
کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ پہلے سے پاکستان کے جوہری قوت بننے کا مخالف تھا۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے 1976ء میں پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کو شاہی قلعہ لاہور میں کہا تھا کہ اپنا جوہری پروگرام رول بیک کرلو ورنہ ہم تمھیں عبرت کا نمونہ بنا دیں گے۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پھر تین سال بعد 1979ء میں لوگ جسے قائد عوام کہتے تھے وہ پھانسی پر جھول رہا تھا۔؟کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام سے روکنے کے لئے طویل عرصے تک طرح طرح کی اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنائے رکھا۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ 1998ء میں ایٹمی دھماکے کرنے کے جرم میں امریکہ نے پاکستان پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کر دی تھیں۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت بارہا کہہ چکی ہے کہ ہماری حکومت کو ایٹمی دھماکے کرنے کے جرم میں برخاست کیا گیا ہے۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ ایران سمیت کسی دوسرے مسلمان ملک کو پرامن مقاصد کے لئے بھی جوہری توانائی کے حصول کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ نے عملی طور پر بھارت کے ایٹمی پروگرام کو جائز تسلیم کر لیا ہے۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ذرائع ابلاغ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف شب و روز پراپیگنڈا کرنے میں مصروف ہیں۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان کے بار بار کے احتجاج کے باوجود امریکی ڈرونز پاک سرزمین پر بمباری کر رہے ہیں۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان کی مغربی سرحدوں کے اِس طرف پاک فوج ہے اور اُس طرف امریکی قیادت میں نیٹو افواج۔؟ کیا یہ سچ نہیں کہ اس کے باوجود سرحد کی اُس طرف سے پاکستان کے دہشت گردوں کو جدید ترین اسلحہ ٹینک شکن اور طیارہ شکن ہتھیار اور بے پناہ دولت پہنچ رہی ہے۔؟کیا یہ سچ نہیں کہ 2 مئی 2011ء کو امریکہ نے پاکستان کی فضائی اور زمینی حدود کی خلاف ورزی کر کے عالمی قوانین کو پامال کر دیا اور وہ پھر ایسا کرنے کی دھمکیاں دیے جا رہا ہے۔ اگر یہ سب سچ ہے تو دہشت گردی کے خلاف برپا کی گئی بلکہ صحیح لفظوں میں پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ کا ہدف کس سے پوشیدہ ہے۔
امام خمینی رہ نے جرات اور صداقت سے کہہ دیا کہ امریکہ ہمارا دشمن نمبر ایک ہے۔ ہم نے حرص، ہوس، بزدلی اور مصلحت کوشی سے امریکہ کو اپنا سرپرست بنا لیا۔ امام خمینی رہ سرخرو ہو گئے اور ہم اپنے رہبر علامہ اقبال رہ کی تعلیمات کو پامال کر کے رسوا ہو گئے، جنھوں نے کہا تھا:
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب بھی کوئی چارہ باقی ہے۔؟ امام خمینی رہ فرما گئے ہیں کہ آپ ظلم کے خلاف اٹھنے میں جتنی دیر کریں گے قربانی اتنی ہی زیادہ دینا پڑے گی۔ انھیں یہ بات کہے ہوئے ربع صدی سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے۔ ہم نے بہت دیر کر دی ہے لیکن کوئی تو وقت ہوتا ہے جب قومیں عزت سے جینے کا فیصلہ کرتی ہیں، جب ملتیں کروٹ لیتی ہیں، جب ان کے رہنما ظلم و جبر، دھونس اور دھاندلی کو نہ کہہ دیتے ہیں۔ پاکستان اٹھارہ کروڑ انسانوں کا ملک ہے۔ اس کے پاس چھ لاکھ سے زیادہ فوج ہے۔ فوج سے بڑھ کر اللہ پر ایمان اور حق و عدالت کی راہ میں شہادت کا جذبہ ہے۔ امریکی فوجی موت سے خوف زدہ لوگ ہیں۔ وہ خوف کے مارے شادی کی تقریبات کے پٹاخے چلانے والوں کو نیست و نابود کر دیتے ہیں۔ آج کی تاریخ میں انھیں ویت نام، ایران، لبنان ،مصر اور دیگر سرزمینوں کے لوگ رسوا کن شکست سے دوچار کر چکے ہیں۔  سوویت یونین امام خمینی رہ کی پیش گوئی کے مطابق زمین بوس ہو چکا ہے۔ امریکی سرمایہ داری کی بلند و بالا عمارت کے بھی زمین بوس ہونے کی پیش گوئی امام خمینی رہ کر چکے ہیں۔ لوٹ کھسوٹ اور خوف و وحشت کے سہارے قائم رہنے والا امریکی نظام تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئیے اس کی غلامی کا قلادہ اتار پھینکیں۔ عراقیوں نے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ امریکی فوجیوں کو اپنے شہروں سے نکلنے پر مجبور کر دیا اور رواں برس میں اسے معاہدے کے مطابق عراق کو سرزمین کو خالی کرنا ہے۔ دنیاوی زندگی اور چار روزہ حرص و ہوس کی سانسوں سے نجات پا کر عزت و آبرو کا راستہ اختیار کریں۔ خوف اور بزدلی کے فیصلے رسوائیوں کے سوا قوموں کے دامن میں کچھ نہیں ڈالا کرتے۔ کہاں ہیں جرات سے فیصلہ کرنے والے لیڈر۔؟ وہ کہاں ہیں جو اپنے آپ کو ذوالفقار علی بھٹو کے پیرو کہتے ہیں۔ وہ یاد کریں کہ بھٹو نے لیاقت باغ میں کھڑے ہو کر للکار کر امریکہ کو سفید ہاتھی کہا تھا، وہ غیرت مند تھا پھانسی پر جھول گیا اور ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔  ع جہاں کو اُس کے وارثوں سے بھی یہ انتظار ہے  موت سے نہ ڈریں۔ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجھہ فرماتے ہیں: موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت آج جرات کا فیصلہ کر کے تاریخ کو نئی کروٹ دے سکتی ہے۔

لندن (پی اے ) پولیس نے ایک موٹر سائیکل سوار جنسی حملہ آور کی تلاش شروع کردی جس نے کیمبرج یونیورسٹی کی متعددطالبات کو نشانہ بنایا تھا۔کیمبرج پولیس نے گزشتہ روز مشتبہ کو پکڑنے کیلئے ”آپریشن میجسٹی“ کا اغاز کر دیا ہے ۔ گزشتہ برس اگست میں اس کے بارے میں رپورٹ ملنے کے بعد سے وہ 9 خواتین پر جنسی حملہ کر چکا ہے۔

لاس اینجلس …ہا لی ووڈ کی معر وف اداکارہ ایلز بتھ ٹیلر کو اداکار ی کے علاو ہ ان کے شا دیوں کے شو ق کی بنا ء پر بھی جا نا جا تاہے تاہم ایک بر طانوی خاتون ایسی بھی ہیں جنہوں نے اس معاملے میں ایلز بتھ ٹیلر کو بھی پیچھے چھو ڑدیا ہے ۔چھپن سالہ (56) Pat Higgins نے آ ٹھ نا کا م شادیوں کے بعد اب خو د سے بتّیس سال کم عمر نو جوانMark سے نویں شا دی کر لی ہے ۔شا دیا ں کر نے کی شو قین Higgins نے پہلی شا دی 1974 میں کی تھی جو صرف پانچ دن تک چل سکی تھی جبکہ ان کی طویل ترین شا دی پا نچ سا ل تک بر قرار رہی ۔ Higginns کا کہنا ہے کہ Mark سے ان کی شادی ایک کامیاب شادی ثابت ہو گی اور وہ دونوں ہمیشہ سا تھ رہیں گے ۔

بولاوایو…د نیا بھر میں خواتین کے مقابلہ حسن منعقد کیے جاتے ہیں تاہم زمبابوبے میں ہر سال بدصورت مردوں کے مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔مسلسل تین سال سے ہونیوالے اس مقابلے میں اس سال15مرد وں نے شرکت کی جن میں سے صرف آٹھ حتمی مقابلے تک پہنچ پائے۔خواتین ججوں پر مشتمل پینل کی زیرِ نگرانی ہونے والا بدصورت مردوں کا یہ مقابلہ زمبابوے کے شہر بولاوایو کے30سالہ نوجوان آسٹن بیونے جیت کر120امریکی ڈالرکی انعامی رقم اور ایک کمبل اپنے نام کرلیا۔

میڈرڈ…اسپین میں قانو نی طور پر روایتی کھیل بل فا ئٹنگ پر پابندی لگا دی گئی ہے جس کا آخری شو جلد ہی پیش کیا جائے گا۔Catolonia کی مقامی حکومت کا فی عرصے سے بل فائٹنگ پر پا بندی لگا نے کے لئے قوانین پر غور کر رہی تھی تاہم علا قے کے سینکڑوں افراد نے بھی بل فا ئٹنگ پر پابندی لگانے کی در خوا ست پر دستخط کر دئیے تھے ۔ جا نوروں کے تحفظ کیلئے کا م کر نے والے ادارے اس پا بندی کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ بل فا ئٹنگ اسپین کی ثقا فت کا ایک پر تشددر خ ہے اور ا سے ختم ہوجانا چاہیے

راولپنڈی:  اسلامی تحریک کے سربراہ نے کہا کہ سیرت حضرت زہرا س کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے۔ معاشروں کی تعمیر کر سکتی ہے، نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، اپنے ذاتی، اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔ موجودہ سنگین دور میں جب خواتین میں فکری انتشار پیدا ہو چکا ہے   قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ سیدہ فاطمۃ الزہرا س کی یاد اور پیغام کو زندہ رکھنے کے تین طریقے ہیں، پہلا یہ کہ ان کی ذات اقدس سے عقیدت و احترام اور محبت کا اظہار کیا جائے اور ان سے مکمل وابستگی دکھائی جائے۔ دوسرا یہ کہ ان کواسلام، انسانیت اور طبقہ نسواں کی خدمت کرنے پر خراج عقیدت و تحسین پیش کیا جائے۔ تیسرا یہ کہ ان کے چھوڑے ہوئے قطعی و حتمی نقوش اور اصولوں کو تلاش کر کے ان کا مطالعہ کیا جائے اور ان کو آج کے دور میں نافذ کرنے اور ان کی تطبیق کرنے کے طریقے تلاش کئے جائیں کہ جس سے شریعت سہلہ کا تصور اجاگر ہو اور شریعت کی پابندی بھی برقرار رہے، انسان شتر بے مہار نہ بنے بلکہ اسلامی احکامات کا پابند رہے جبکہ آسان شریعت کو بھی ساتھ ملا کر چلے۔   دختر رسول اکرم ص حضرت فاطمہ زہرا س کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آزادی نسواں کے عالمی نعروں کو اگر حضرت سیدہ فاطمہ زہرا س کے کردار کی روشنی میں دیکھیں تو موجودہ نعرے فریب اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں، البتہ سیرت حضرت زہرا س کی روشنی میں آزادی نسواں کے تصور اور نظریے پر عمل کرنے سے عورت حقیقی معنوں میں ترقی کرسکتی ہے۔ معاشروں کی تعمیر کر سکتی ہے، نئی نسلوں کی کردار سازی کرسکتی ہے۔ سوسائٹی کو سنوارنے میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے، اپنے ذاتی، اجتماعی اور معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرسکتی ہے۔ موجودہ سنگین دور میں جب خواتین میں فکری انتشار پیدا ہو چکا ہے۔ عورت کو فقط تفریح، تعیش اور نفسانی خواہشات کے لئے علامت بنا دیا گیا ہے اور ترقی و جدت کے نام پر عورتوں کا ہر معاشرے میں بالخصوص یورپ اور مغربی معاشروں میں شدت سے استحصال کیا جا رہا ہے، ایسے حالات میں سیدہ فاطمہ زہرا س کی سیرت اور کردار ہی واحد ذریعہ ہے جو دنیا بھر کی خواتین کو انحراف، استحصال، تعیش اور گناہوں سے بچا سکتا ہے اور ایسے کاموں سے عورتوں کو باز رکھنے میں رہنمائی کر سکتا ہے جس سے معاشرے میں تباہی پھیل رہی ہے۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ آزادی نسواں کی حدود و قیود ہر سوسائٹی نے مقرر کر رکھی ہیں سوائے ان لوگوں کے جو مادر پدر آزاد ہیں اور کسی ضابطے، اخلاق اور قانون کے پابند نہیں اور ایسے ہی لوگ معاشروں کی تشکیل میں مصروف ہیں، جہاں عورت کو فحاشی کے لئے استعمال کیا جائے، اسکی عزت و حرمت کو پامال کیا جائے اور مرد و زن کے اختلاط سے معاشروں میں بگاڑ پیدا کیا جاسکے۔ لہذا ان حالات میں امت مسلمہ خواتین کی آزادی کے ان اصولوں کی روشنی میں جدوجہد کرے، جو جناب سیدہ فاطمہ س کی طرف سے مقرر کئے گئے ہیں کیونکہ سیدہ فاطمہ س کی پرورش آغوش رسول ص میں ہوئی۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندانی، ذاتی معاملات سے لے کر اجتماعی معاملات تک ہر موقع پر سیدہ فاطمہ س کی شخصیت کو مدنظر رکھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنی گود سے ایسی نیک سیرت اور انقلابی نسلیں معاشرے کو فراہم کریں جو دنیا میں اسلامی انقلاب لانے کی استعداد رکھتی ہوں، جیسا کہ حضرت فاطمہ س کی پاکیزہ گود سے حسن ع اور حسین ع جیسی شخصیات پیدا ہوئیں، جنہوں نے وقت اور تاریخ کے دھارے کا رخ موڑا۔

کراچی : پاکستان واپڈا کے رستم پنجاب 30 سالہ عثمان مجید عرف بلو پہلوان رستم پاکستان بن گئے۔ اتوار کو اصغر علی شاہ اسٹیڈیم میں انہوں نے ستارہ پاکستان ملتان کے حامد خان کو سڈن ڈیتھ وقت میں شکست دی۔ مقررہ آدھے گھنٹے تک مقابلہ ایک ایک پوائنٹ سے برابر تھا، 32 سالہ حامد نے اپنی شکست کے بعد ریفری کے فیصلے پر اعتراض کیا۔ صوبائی وزیر کھیل ڈاکٹر محمدعلی شاہ نے جو مقابلے کے جج بھی تھے، پہلوانوں میں انعامات تقسیم کئے۔ رستم پاکستان کو حکومت سندھ کی جانب سے ٹرافی اور 3 لاکھ روپے، حامد خان کو 2 لاکھ روپے اور تیسری پوزیشن کے پہلوان زمان کو ایک لاکھ روپے دیئے گئے جبکہ چوتھی پوزیشن کے پہلوان کو پاکستان ریسلنگ فیڈریشن نے 50 ہزار روپے دیئے۔ اس سے قبل ہونے والی تیسری پوزیشن کی فائٹ میں گوجرانوالہ کے زمان بٹ عرف جانی پہلوان نے آرمی کے نادر ڈھاکو کو پوائنٹس پر شکست دے دی۔ آدھے گھنٹے کے اس مقابلے میں فیصلہ آخری لمحات میں ہوا۔ اتوار کو رستم پاکستان دنگل سے قبل24 پہلوانوں کے درمیان کشتی کے 12 نمائشی مقابلے بھی ہوئے۔ فائنل مقابلے سے قبل خاتون جمناسٹ مریم نے جمناسٹک کا خوبصورت مظاہرہ بھی کیا۔ 2011 میں پاکستان کے نئے رستم پاکستان عثمان مجید نے اپنی کامیابی کے بعد کہا کہ کراچی میں پرامن ماحول میں اس دنگل کے انعقاد سے بہت زیادہ خوشی ہوئی، مہنگائی کے اس دور میں فن پہلوانی کو زندہ رکھنا بہت مشکل ہو گیا ہے

ٹوکیو…کان کھڑ ے ہو نے کامحاورہ تو آ پ نے سنا ہو گا جس کا مطلب کسی بات کو غو ر سے سننا ہے ، تا ہم اب یہ محا ورہ حقیقت میں ڈھل گیاہے اور جاپانی سا ئسندا نوں نے بلی کے کا نو ں سے متشا بہ ایسے الیکٹر انک کا ن تیار کر لیے جنہیں سر کے اوپر لگا یا جا سکتا ہے ۔ان کانوں میں لگا ئے گئے سینسر انسا نی خیالا ت کی لہروں کو محسوس کر نے کی صلا حیت رکھتے ہیں جن کے ذریعے کان آ پ کے جذبات اور کیفیت کے مطا بق حرکت کر یں گے ۔ اگر آ پ کسی بات پر غور کریں گے تو یہ کا ن کھڑے ہو جا ئیں گے اور اگر گہری سو چ میں ہو نگے تو لٹک جائیں گے

اسلامی جمہوریہ ایران کے سحر عالمی نیٹ ورک کے اردو ٹی وی چینل کی نشریات میں مزید چار گھنٹے کاا‌ضافہ کیا جا رہا ہے۔ ارد ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر داؤد اسکندری نے اردو ٹی وی چینل کے گيارہویں یوم تاسیس کے موقع پر کہا کہ اردو ٹی کی نشریات میں مزید چار گھنٹوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے جو بائيس مئي سے شروع ہونگي۔ یہ نشریات تہران کے مقامی وقت کے مطابق صبح پانچ بجے سے نوبجے تک دیکھی جاسکتی ہیں۔ دا‎ؤد اسکندری نے کہا کہ اردو ٹی وی چینل سے نہایت اہم پروگرام نشر کئےجائيں گے اور انشاء اللہ مستقبل قریب میں اردو ٹی وی کی نشریات چوبیس گھنٹے کی کردی جائيں گي۔

برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس اور آنجہانی شہزادی ڈیانا کے بڑے بیٹے شہزادہ ولیم اور کیتھرین میڈلٹن رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے ہیں۔  شادی کی تقریب ویسٹ منسٹر ایبے میں ادا کی گئی اور بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس موقع پر وسطی لندن میں دس لاکھ کے قریب افراد جمع ہوئے جبکہ دنیا بھر میں اندازاً دو ارب افراد نے یہ تقریب اپنے ٹیلی ویژنز کی سکرینوں پر دیکھی۔  شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جمعہ کی صبح ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے انیس سو شخصیات کو مدعو کیا گیا جن میں برطانوی شاہی خاندان کے چالیس ارکان اور پچاس سربراہانِ مملکت شامل تھے۔  تاہم امریکہ کے صدر براک اوباما سمیت کئی اہم رہنماؤں کے نام اس تقریب کے مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھےں۔ مدعو نہ کیے جانے والوں میں سابق وزرائے اعظم ٹونی بلیئر اور گورڈن براؤن کے نام بھی ہیں۔  شادی کی تقریب کی تکمیل کے بعد نئے شاہی جوڑے کو ایک بگھی میں جلوس کی شکل میں شاہی محل لے جایا گیا۔ شاہی جوڑے کو دیکھنے کے لیے اس جلوس کے راستے کے دونوں طرف ہزاروں افراد تقریباً دو دن سے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔  بعد ازاں شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین نے بکنگھم پیلس کے جھروکے سے محل کے سامنے جمع ہونے والے پانچ لاکھ افراد کو درشن دیا اور روایتی بوسہ دے کر محل میں چلے گئے۔ اس موقع پر برطانوی شاہی فضائیہ کے طیاروں نے نئے شاہی جوڑے کو سلامی بھی دی۔ شادی کی اس تقریب کے بعد ملکۂ برطانیہ کی جانب سے چھ سو منتخب مہمانوں کے اعزاز میں عصرانہ دیا گیا جبکہ محل میں دیے جانے والے عشائیے میں تین سو چنندہ مہمانوں نے شرکت کی ہے۔  شاہی روایات کے مطابق ملکہ برطانیہ الزبتھ نے شہزادے کو شاہی خطاب سے نواز ہے۔ شہزادہ ولیم کو برطانیہ کا سب سے بڑا خطاب ڈیوک آف کیمبرج اور ان کی ہونے والی بیوی کیتھرین کو ڈچس آف کیمبرج کا خطاب دیا گیا ہے۔  ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اس تقریب کو دو ارب سے زیادہ افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔ انیس سو اکاسی میں شہزاد چارلس اور لیڈی ڈینا کی شادی دنیا بھر میں ٹی وی پر براہراست دیکھی جانے والی اب تک کی سب بڑی تقریب تھی۔ اسے ستر کروڑ پچاس لاکھ افراد نے دیکھا تھا۔  بڑے بڑے عالمی نشریاتی اداروں اور مختلف ممالک کے ذرائع ابلاغ کے آٹھ ہزار سے زیادہ نمائندے لندن میں اس تقریب کی کوریـج کے لیے موجود تھے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس تقریب کی کوریج کے لیے پچاس افراد پر مشتمل ایک ٹیم بھیجی جبکہ برازیل کے چینل ریکارڈ اور جاپانی ٹی وی اساہی نے بالترتیب بارہ اور بیس نمائندوں کو اس تقریب کی کوریج کے لیے بھیجا۔  لندن میں پولیس کا کہنا ہے کہ شادی کی تقریبات کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گیے اور پانچ ہزار اہلکار اس سکیورٹی آپریشن میں شریک رہے۔ اس سکیورٹی آپریشن پر قریباً گیارہ ملین ڈالر خرچ آیا ہے۔

لندن:  برطانوی شاہی فوج کے ایک ہزار جوانوں نے شاہی شادی کی تیاریوں کے سلسلے میں صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے شان دارریہرسل کی۔ اس واک میں بری فوج، بحریہ اور شاہی فضائیہ نے حصہ لیا۔ شہزادہ ولیم اور کیٹ مڈلٹن جب ویسٹ منسٹر ایبے سے آنے جانے کا سفر شروع کریں گے تو ساری دنیا کی نظریں ان پر مرکوز ہوں گی۔ چنانچہ اس ریہرسل کے دوران فوجیوں نے اپنے سروس یونیفارم میں خود کو تفویض کردہ مختلف فرائض کی مشق کی ۔یہ فوجی ویسٹ منسٹر کی ولنگٹن بیرکس سے صبح 5 بجے سے پہلے روانہ ہوئے۔ ان مشقوں میں حصہ لینے والے کچھ فوجی افسران پرنس ولیم کے ساتھی تھے۔ایبے میں سب سے پہلے پہنچنے والی دو گاڑیاں شاہی بیڑے کی دو رولز رائس تھیں جو 4 بج کر 50 منٹ پر وہاں پہنچیں۔ ٹھیک 5 بجے شاہی بحریہ کی کئی کمپنیاں روانہ ہوئیں انکے پیچھے بری فوج کی کمپنیاں تھیں۔ فوجی سینوٹپھ سے ڈاوٴننگ اسٹریٹ کے دروازے تک کھڑے ہوئے تھے۔ یہاں سے آگے شاہی فضائیہ کے جوان تھے جوہارس گارڈز پریڈ تک کھڑے تھے۔ جمعہ کو یہاں سے شاہی قافلہ گزرے گا۔ جب شاہی جوڑا بطور میاں اور بیوی ایبے سے روانہ ہوگا تو 12 فوجیوں کے دو گروپس شاہی بگھی تک صفیں بناکر کھڑے ہوں گے۔ مشق کے دوران درجنوں گھڑ سوار فوجی آج صبح ایک مختلف روٹ سے ایبے تک پہنچے۔گھڑ سوار یعنی کیولری شاہی شادی کے قافلے میں شامل کاروں اور بگھیوں کی ایبے تک رہنمائی کرے گی ۔ دریں اثنا پھولوں اور پودوں پر مشتمل آرائشیں بھی ایبے آنی شروع ہوگئی ہیں۔ ان میں ایک 20 فٹ اونچا برطانوی میپل ٹری ہے۔ اس درخت کا وزن نصف ٹن ہے اور اس کی عمر 18 سال ہے۔ ادھر میٹروپولیٹن پولیس نے شاہی شادی کی حفاظتی تیاریوں کے سلسلے میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیس کی آنکھیں اور کان بن جائیں اور اگر کوئی بھی مشتبہ چیز دیکھیں تو فوری طور پر پولیس اطلاع دیں۔ شاہی شادی کے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں 5000 پولیس اہلکاروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس شاہی شادی کے موقع پر مسلم اگینسٹ کروسیڈز اور انگلش ڈیفنس لیگ کے مجوزہ مظاہروں کو روکنے کے لئے ان سے بات چیت کررہی ہے۔ شادی کی تیاریاں جاری ہیں اور اس سلسلے میں ویسٹ منسٹر ایبے جہاں شادی کی تقریبات ہونی ہیں عام لوگوں کے لئے بند کردیا گیا۔ یہاںآ ج میوزک ریہرسل ہونی ہے اور جمعرات کو پادریوں اور براڈکاسٹرز کے لئے لباس کی ریہرسل ہوگی۔اسی طرح پرنس ولیم اور ان کی منگیتر ایک سینیئر پادری کے ساتھ ایبے میں شادی کی مختلف رسوم کی ریہرسل کریں گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شادی کے موقع کے لئے تمام حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 

لندن … برطانیہ میں شہزادہ ولیم کی شادی کے دن لندن میں موسلادھار بارش کاامکان ہے جس سے دینابھرسے آئے ہوئے سیاحوں کومشکلات کاسامناہوسکتاہے۔لندن میں گزشتہ چندروزسے موسم انتہائی خوشگوارہے جسے شاہی شادی کے بن بلائے مہمانوں نے خوب انجوائے کیا،تاہم جمعے کوولیم اورکیٹ کی شادی کے دن موسم کاموڈ تبدیل ہونے کاامکان ہے۔ محکمہ موسمیات کاکہناہے کہ شاہی شادی کے دن موسم کے بارے میں حتمی پیش گوئی کرنامشکل ہے لیکن گزشتہ کئی روزکی تیزدھوپ کے بعداپریل کاروایتی موسم لوٹ آنے کاامکان موجودہے۔ جس کی وجہ سے مہمانوں کو مشکلات کاسامناہوسکتا ہے اور سیاحوں کودلہن کیٹ کا دیداربھی نصیب نہیں ہوسکے گا۔ بارش ہونے کی صورت میں کیٹ ویسٹ منسٹرایبے سے شاہی محل کاسفرگلاس وین میں کریں گی تاہم برطانوی روایات کے مطابق شادی کے دن بارش کونیک شگون سمجھاجاتاہے

انتیس اپریل کو جب برطانوی ولی عہد شہزادہ چارلس کے بیٹے شہزادہ ولیم اپنی گرل فرینڈ کیٹ مڈلٹن سے شادی کریں گے تو نصف سے زائد برطانوی باشندے ٹیلی وژن پر یہ تقریب براہ راست دیکھیں گے  خبر ایجنسی روئٹرز کے ایک سروے کے مطابق برطانوی شاہی خاندان کے ایک ہر دلعزیز رکن کے طور پر شہزادہ ولیم کی شادی اس سال کا ایک اہم واقعہ ہو گی۔ یہی تقریب دنیا بھر میں ٹیلی وژن پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا واقعہ بھی ہو گی۔ لندن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اندازہ ہے کہ اس شادی کی شاندار تقریب کو مختلف ملکوں میں مجموعی طور پر قریب دو بلین انسان لائیو دیکھیں گے۔ شہزادہ ولیم کی Kate Middleton کے ساتھ شادی کی یہ تقریب برطانوی شاہی خاندان کے ٹی وی چینل کے ذریعے انٹرنیٹ پر لائیو دکھائی جائے گی۔ اس طرح یہ پہلا موقع ہو گا کہ برٹش رائل فیملی کے کسی فرد کی شادی کی تقریب کی کوریج اس طرح کی جائے گی خبر ایجنسی روئٹرز کے سروے کے مطابق 56 فیصد برطانوی شہریوں نے کہا کہ وہ لازمی طور پر دیکھیں گے کہ تاج برطانیہ کے حقداروں کے طور پر دوسرے نمبر پر آنے والی شخصیت کی شادی کس طرح اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ ٹیلی وژن یا انٹرنیٹ پر یہ تقریب یقینی طور پر نہیں دیکھیں گے۔ برطانیہ میں 29 اپریل جمعہ کا دن اس شادی کی وجہ سے عام چھٹی قرار دیا جا چکا ہے۔ توقع ہے کہ اس روز ہزار ہا برطانوی شہری یا تو مختلف بارز اور پبلک پارکوں میں لگائی گئی بڑی بڑی اسکرینوں پر یہ تقریب دیکھیں گے یا پھر وہ لندن میں بکنگھم پیلیس اور ویسٹ منسٹر ایبے کے درمیانی راستے پر سڑک کے دونوں طرف کھڑے ہوں گے تاکہ دلہا اور دلہن کو وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھ سکیں۔ اس عوامی سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ برطانیہ میں تین چوتھائی باشندے شاہی خاندان کے بارے میں بڑی دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ برطانیہ مستقبل میں بھی ایک سلطنت ہی رہے۔ اس کے برعکس 18 فیصد برطانوی شہریوں کو شاہی خاندان یا اس کے ارکان میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ کو بادشاہت کی بجائے ایک جمہوریہ بنا دینا چاہیے۔ برطانیہ میں موجودہ ملکہ الزابیتھ کو ملکہ بنے ساٹھ سال ہو چکے ہیں۔ اب تک ولی عہد کے منصب پر ملکہ الزابیتھ کے سب سے بڑے بیٹے اور شہزادہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس فائز ہیں۔ لیکن برطانیہ میں بہت سے شہریوں کی خواہش یہ بھی ہے کہ مستقبل میں تخت نشینی کے حوالے سے شہزادہ چارلس کو اپنے بیٹے شہزادہ ولیم کے حق میں دستبردار ہو جانا چاہیے۔شہزادہ ولیم کی عمر اس وقت 28 برس اور کیٹ مڈلٹن کی عمر 29 برس ہے۔ ان دونوں کی شادی اور مستقبل کی اولاد کے بارے میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ اگر ان کے ہاں پہلا بچہ ایک بیٹی ہوئی تو شہزادہ ولیم کے بعد اس بچی کو برطانیہ کی ملکہ بننے کا پورا حق حاصل ہو گا۔

لندن …شاہی شادی میں2 ہفتے رہ گئے،تیاریاں اور خوشیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ پرنس ولیم اور کیٹ میڈلٹن کی شادی کی خوشیوں میں شامل12 برطانوی اور امریکی ننھی بچیوں نے شہزادی بن کردن گزارا،شہزادیوں جیسے کپڑے پہنے اورشاہی آداب بھی سیکھے۔شادی میں ملکہ الزبتھ دوئم کے مہمانوں کومحظوظ کرنے اور پوتے کی شادی کی خوشی دوبالا کرنے کیلئے بکنگھم پیلس میں شہزادہ چارلس کی سرکاری ہارپسٹ کلیئر جونز اپنی دھنیں بکھیریں گی۔شاہی شادی کے لیے کیک تو ابھی تک تیار نہیں ہوالیکن کچھ شیفس نے مل کربہترین کیک بنانے کامقابلہ کرڈالا ۔شہزادہ ولیم اور کیٹ میڈلٹن کے مجسمے والا کیک شیف جیت گیا

واشنگٹن … اہم اجلاس اور تقریروں کے دوران رہنماؤں کو نیند آجانا صرف ہمارے ہاں ہی نہیں ہوتا ،امریکی صدر بارک اوباما کے خطاب کے دوران نائب صدر جو بائیڈن بھی سو گئے ۔امریکی نائب صدر جو بائیڈن جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں صدر بارک اوباما کی تقریر کے دوران چند لمحوں کے لئے سو گئے اوروڈیو کیمرے نے انھیں اپنی گرفت میں لے لیا ۔ایک طرف امریکی صدر قومی بجٹ خسارے پر پرجوش تقریر کررہے تھے تو دوسری جانب نائب صدر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ۔وڈیو کے مطابق جو بائیڈن کی گردن نیند میں دائیں بائیں جھولتی رہی اور پھر بیدار ہونے پر نائب صدر اپنے ہاتھ دیکھنے لگتے ہیں

لاس اینجلس … ہالی اداکارہ اورگلوکارہ جنیفرلوپیزکوایک امریکی امریکی میگزین نے دنیاکی خوبصورت ترین خاتون قراردیاہے۔اس اعزازپر41سالہ جینیفرکاکہناتھااگرچہ وہ اس کی حقدارنہیں تاہم اس عمرمیں خوبصورت ترین خاتوں کااعزازپانے پروہ فخرمحسوس کررہی ہیں۔ جینیفرلوپیزان دنوں امریکن آئیڈل میں جج کاکرداراداکررہی ہیں

کراچی:  پاکستانی کرکٹر شعیب ملک اور بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے منگل کو اپنی شادی کی پہلی سالگرہ الگ الگ ملکوں میں منائی۔ انہوں نے فون پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ایک سال کے دوران گذارے لمحات ناقابل فراموش ہیں ۔ شادی کی سالگرہ پر شعیب ملک لاہور اور ثانیہ امریکا میں تھیں۔ شعیب ملک نے بتایا کہ ثانیہ منگل کی شب دبئی پہنچ گئیں جبکہ وہ بدھ کی صبح پہنچیں گے اور ایک دن کی تاخیر سے سالگرہ منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پروفیشن اس نوعیت کے ہیں کہ ہمیں ایک ساتھ رہنے کا موقع کم مل رہا ہے لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ جیون ساتھی بنے ہیں۔ ثانیہ محبت کرنے و الی بیوی ہیں۔ ثانیہ مرزا کا شادی کی سالگرہ کا دن زیادہ تر سفر میں گذرا البتہ ایک دن قبل انہوں نے ٹینس ٹورنامنٹ جیتا

لندن:  والدین کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کے بچوں کو جبری طور پر اپنے عمر سے بڑا دکھائی دینے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اس میں سیلیبرٹی کلچر، بالغوں جیسے کپڑوں اور میوزک وڈیوز کا سب سے زیادہ حصہ ہے۔بیلی ویو کے ایک سروے کے مطابق 88 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ بچوں کے قبل از وقت بالغ ہونے میں کمرشلائزیشن اور جنسیت زدگی کا دباوٴ بنیادی کردار ادا کررہا ہے۔آدھے سے زیادہ والدین ٹی وی پر 9 بجے رات سے پہلے کے پروگراموں اور اشتہارات سے ناخوش ہیں۔ اس سروے کا مقصد والدین کو یہ سوچنے میں مدد دینا تھا کہ بچوں کے سلسلے میں پڑنے والے دباوٴ کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔سروے کے مطابق والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو جو کپڑے پہننے پر مجبور کیا جاتا ہے وہ ان کی عمر سے مطابقت نہیں رکھتے۔اسی طرح ان کیلئے بنائی جانے والی میوزک وڈیوز میں جنسی مواد اور سوپ اوپیراز میں بالغوں والا مواد زیادہ ہوتا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ وہ غیر ضروری آئٹموں کیلئے دباوٴ میں رہتے ہیں۔ ان پر جبرا کمرشلائز اور جنسیت زدہ کلچر مسلط کیا جارہا ہے۔ 40 فیصد والدین کا کہنا تھا کہ شاپ ونڈوز اور اشتہاری بورڈز پر ایسا جنسیت زدہ مواد دکھائی دیتا ہے جو بچوں کے لئے قطعی ناموزوں ہے۔ 41 فیصد والدین نے کہا کہ ٹی وی پر اشتہاروں اور پروگراموں میں بچوں کیلئے ناموزوں مواد پیش کیا جاتا ہے۔

شیر کو جنگل کا با دشاہ کہا جاتاہے جس سے جا نور ہی نہیں انسان بھی خو ف کھا تا ہے ،لیکن ایک ایسے فر دبھی جس کی شیروں سے گہر ی دو ستی ہے ۔ شیر اورانسا ن کی دوستی کے ایسے حیران کن منا ظر پہلے کسی نے نہ دیکھے ہونگے۔ Kevin Richardson نا می اس بہادر شخص نے ان شیر وں کی اپنی محبت سے ایسا را م کیا ہے کہ یہ اب ایک ساتھ کھیلتے کودتے اور مو ج مستی کرتے نظر آتے ہیں۔ Kevinپیشے  کے لحا ظ سے ایک ماہرِ ِ حوا نیا ت ہے اور شیر وں سے گہر ی دو ستی کے باعث اسے Lion Whisperer کے نا م سے بھی جانا جا تا ہے

جرمنی میں ایک تازہ عوامی سروے کے نتیجے میں یہ رجحان ثابت ہو گیا ہے کہ جرمن خواتین کو اکثر ایسے مرد پسند آتے ہیں، جو اگر سینڈلز استعمال کریں تو ساتھ جرابیں ضرور پہنیں عام صارفین میں پائے جانے والے رجحانات اور رائے عامہ کا سروے کرنے والے تحقیقی ادارے GfK کے ایک تازہ جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چپلوں کے ساتھ جرابیں پہننے کا رجحان، جو جرمن مردوں اور خواتین کا ایک سٹیریو ٹائپ رویہ سمجھا جاتا ہے، ملک کے مشرقی صوبوں کی خواتین میں مغربی صوبوں کی خواتین کے مقابلے میں کہیں زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ صارفین سے متعلق تحقیق کی سوسائٹی جی ایف کے کا حوالہ دیتے ہوئے جرمن خبر ایجنسی ڈی پی اے نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سابقہ مشرقی جرمن ریاست کے اب وفاقی جرمنی میں شامل علاقوں کے ’نئے وفاقی صوبوں‘ میں 40.6 فیصد خواتین یہ پسند کرتی ہیں کہ ان کے ساتھی مرد اگر کوئی کھلی چپلیں پہنیں، تو ساتھ جرابیں بھی ضرور پہنیں۔ اس کے برعکس وفاقی جمہوریہ جرمنی کے مغربی علاقے کے ’پرانے وفاقی صوبوں‘ میں ایسی پسند کی حامل خواتین کی تعداد صرف 29.5 فیصد بنتی ہے۔ جرمن شہر بائر برُن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق دونوں جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد کے بیس برس بعد بھی سابقہ مشرقی جرمنی کی خواتین کی مردوں کے پیراکی کے لیے استعمال کیے جانے والے لباس کے حوالے سے ترجیحات بھی سابقہ مغربی جرمنی کی خواتین کی پسند سے بہت مختلف ہیں موجودہ جرمن ریاست کے مشرقی علاقوں میں 58 فیصد خواتین یہ چاہتی ہیں کہ ان کے ساتھی مرد سوئمنگ کے لیے جو شارٹس اور ٹی شرٹ پہنیں، وہ ان کو بالکل پوری تو آتی ہوں لیکن تھوڑی سی تنگ ہوں۔ اس کے برعکس مغربی جرمن علاقوں کی خواتین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پارٹنر مرد پیراکی کے لیے جو شارٹس اور ٹی شرٹ پہنیں وہ تنگ نہیں بلکہ کافی کھلی ہونی چاہیئں۔

ایک نئی سائنسی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ محبت میں تکلیف یا جدائی سے کم از کم ایک مرتبہ تو ہر کوئی متاثر ہوا ہے اور ان جذبات کی وجہ سے متاثرہ انسان کو حقیقت میں درد بھی ہوتا ہے محققین نے ثابت کر دیا ہے کہ پیار میں پہنچنے والی تکلیف کے سبب اور اس بارے میں سوچنے سے انسانی دماغ کے وہی حصے بہت فعال ہو جاتے ہیں، جو جسمانی درد کے باعث بہت تیزی سے کام کرنے لگتے ہیں۔ صحت سے متعلق ویب سائٹHealth.com نے اس بارے میں ایک نئے مطالعے کے نتائج شائع کیے ہیں۔ ان نتائج کے مطابق مثال کے طور پر اگر کسی انسان کے جسم کا کوئی حصہ جل جائے، تو جو درد اس وقت ہوتا ہے، محبت میں دکھ یا جدائی کے سبب تکلیف بھی اسی طرح کا ایک درد ہے۔ اپنی ریسرچ کے نتائج کی روشنی میں ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی دماغ جسمانی یا جذباتی درد میں کوئی تفریق نہیں کر سکتا اس سائنسی مطالعے کی قیادت کرنے والے امریکہ کی مشی گن یونیورسٹی کے پروفیسرEthan Kross کے مطابق یہ ثابت ہو گیا ہے کہ محبت میں اداسی اور بہت تکلیف دہ علیحدگی صرف کوئی علامتی بات نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے سچ مچ درد ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج Proceedings of the National Academy of Sciences نامی سائنسی میگزین میں شائع کیے جائیں گے۔ ان کی مدد سے اس بارے میں کافی نئی معلومات ملیں گی کہ جذباتی دھچکوں اور دائمی درد کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ پروفیسر کراس نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مزید ریسرچ کی ضرورت ہے کہ آیا جسمانی بیماریوں کے علاج سے جذباتی مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس ریسرچ کےدوران چالیس ایسے صحت مند مردوں اور خواتین پر ٹیسٹ کیے گئے جنہیں گزشتہ چھ ماہ کے عرصے میں ان کے ساتھی چھوڑ چکے تھے ان میں سے ایک ٹیسٹ اس گروپ میں شامل ہر فرد کے ایک بازو کو یکدم اتنی گرمی پہنچانے کے بارے میں تھا جیسے ان پر بہت گرم کافی کا ایک کپ انڈیل دیا گیا ہو۔ ایک دوسرے ٹیسٹ میں ان مردوں اور خواتین کو اپنے اپنے سابقہ پارٹنر کی کسی تصویر کو غور سے دیکھنا تھا۔ ان ٹیسٹوں کے دوران ان افراد کےMRI دماغی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔ پتہ یہ چلا کہ اس طبی مشاہدے کے دوران ان کے دماغوں کے دو ایسے حصوں کی کارکردگی بہت تیز ہو گئی، جن کا تعلق پہلے صرف جسمانی درد سے بتایا جاتا تھا

سترہ برس کی عمر میںخاویرکے بہت کم دوست تھے۔ ہکلانےکی وجہ سے وہ پُراعتماد نہیں تھا۔ اسکول کے زمانے میں کسی لڑکی نے بھی اس کی جانب دوستی کا ہاتھ نہیں بڑھایا۔ لیکن اب وہ سنگاپور کا ایک مشہور ’ڈیٹنگ گرو‘ بن چکا ہے خاویر اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ اسکول میں وہ جسمانی طور پر فٹ نہیں تھا، جلد بھی خراب تھی اور بال تو سونے پہ سہاگہ تھے۔ بقول اس کے اسے یقین ہو چلا تھا کہ اپنےخدوخال کے باعث وہ سماجی سطح پر تنہا رہ جائے گا اور کوئی بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لے گا۔ لیکن کہتے ہیں، وقت بدلتے دیر نہیں لگتی تو خاویر کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ 23 سال کی عمر میں اسے ایک آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس ویب سائٹ کی خاص بات یہ تھی کہ وہاں ماہرین بھی موجود ہوتے تھے، جواپنے صارفین کا اعتماد بڑھانے اور ان کی مشکلات حل کرنے کے حوالے سے اپنی خدمات پیش کرتے تھے۔ خاویر نے بھی ان کی خدمات حاصل کیں۔ اب 23 سال کی عمر میں وہ انتہائی پُر اعتماد ہے، اسے ہر فیشن کے بارے میں معلوم ہے اور وہ بطور ڈیٹنگ کوچ کام کر رہا ہے۔ خاویر اب سنگاپور کے دیگر نوجوانوں کو لڑکیوں کے دل جیتنے کے گُر سکھاتا ہے۔ اس حوالے سے تین دن کے کورس کی فیس چودہ سو امریکی ڈالر ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’جو نوجوان میری شاگردی اختیار کرتے ہیں، ان میں کسی بھی عورت کا دل جیتنے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ سنگاپور میں30 سے34 سال کی درمیانی عمر کے 43 فیصد مرد بغیر کسی ساتھی کے زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی وجہ سے خاویر کے پاس امکانات اور شاگردوں کی کمی نہیں ہے۔ جبکہ اسی عمرکی صرف31 فیصد خواتین سنگل ہیں۔ خاویر گروپوں میں بھی اور انفرادی طور پر بھی بھی مختلف کورسز دیتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی جاتی ہے کہ کس طرح اپنی مخالف جنس کو سمجھا جائے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو ریستورانوں، بُک اسٹورز اور دیگر پبلک مقامات پر لے جا کر بھی ان کی عملی تربیت کی جاتی ہے۔ خاویر24/7 Attractive Man نامی ایک امریکی کمپنی سے منسلک ہے۔ اس کے بقول وقت کے ساتھ ساتھ اس کے پاس دل جیتنے کا گُر سیکھنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اب تک سات سو سے زائد نوجوانوں کو تربیت دے چکا ہے ۔ ان میں گرل فرینڈ ڈھونڈنے والوں سے لے کر طلاق یافتہ افراد تک بھی شامل تھے، جو اپنی شادی شدہ زندگی کی وجہ سے لڑکیوں سے دوستی کرنے کے طریقے بھول چکے تھے۔ خاویر کہتا ہے کہ دوسروں کی طرح اس شعبے میں بھی کوششیں جاری رکھنا ضروری ہے، ورنہ خاطر خواہ نتائج حاصل ہونا مشکل ہوجاتا ہے یعنی یہاں بھی کلیہ یہی ہونا چاہیے کہ ’مایوسی کفر ہے

ماسکو…روس کے ارب پتی یوری ملنرYuri Milnerنے امریکی تاریخ کامہنگاترین مکان خرید لیاہے۔اس سنگل فیملی ہوم کی مالیت سوملین ڈالر ہے۔یہ محل نمامکان کیلے فورنیاکے لاس آلٹوس میں واقع ہے۔اوراسے روس کے اس ارب پتی شخص نے خریدا ہے جواپنی اہلیہ اوردوبچوں کے ساتھ ماسکو میں رہائش پذیرہے۔49 سالہ یورپی ملنر کایہ نیاگھر25ہزار5سو اسکوائرفٹ پرپھیلا ہوا ہے جس میں 9باتھ روم ،ایک بال روم،ہوم تھیٹر،ٹینس کورٹ ،اندرون اوربیرون خانہ سوئمنگ پولز ہیں۔یہ گھرسن دوہزار ایک سے سن دوہزار9کے درمیان تعمیر ہواہے اوراسے خریدنے والے ملنرڈیجیٹل اسکائے ٹیکنالوجیزکے سی ای او ہیں اورانہوں نے فیس بک،گروپ آنGroupon اورزینگاZyngaمیں بھی بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی ہوئی ہے

یکم اپریل ہے فول بننے سے بچیئے۔ کوئی آپ کو فون پر بری خبر دے سکتاہے جسے سن کر آپ پریشان ہوسکتے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس بار بھی لوگوں نے یکم اپریل کو ایک دوسرے کو بیوقوف بنانے کی تیاریاں مکمل کرلیں۔ اس لیئے سب کو محتاط رہنا ہوگا کیونکہ آج کے دن یکدم کوئی آپ کو فون پر آپ کے کسی قریبی عزیز کے مرنے یا ایکسیڈنٹ ہونے یا کسی نقصان کی خبردے گا جسے سن کر آپ وقتی طور پر پریشانی کا شکارہوسکتے ہیں اور جلد بازی میں اس خبر کی تصدیق کئے بغیر آپ چل پڑے تو آپ سچ مچ میں اپنا نقصان کروالیں گے۔ معروف مذہبی سکالر زنے اس بارے میں کہاکہ اپریل فول ڈے منانا انگریزوں کی ایک رسم ہے اور اس میں دوہرا گناہ ہے۔ ایک تو جھوٹ بولنا، غلط افواہیں اڑانا جو کہ کبیرہ گناہ ہے اور دوسرا انصاریٰ کی بری رسم پر چلنا اور اسے مسلمانوں کے ملک میں رواج دینا۔ آج مسلمانوں کی حالت قابل صد افسوس ہے۔ کیونکہ وہ جو کام بھی انگریزوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اسے فوراً اپنا لیتے ہیں۔ صورت سیرت لباس اخلاق کردار میں آج کل کا فیشن ایبل مسلمان فرنگی تہذیب سے رنگا ہوا نظر آتا ہے۔ علامہ تبسم بشیراویسی نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ صحیحین میں ہے کہ رسول اللہ ۖ نے فرمایا:” جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے” اور ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نبی کریم ۖ کی بارگا اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ۖ جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے؟ فرمایا سچ بولنا۔ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے اور جو نیکی کا کام کرتا ہے وہ ایمان سے بھر پور ہوتا ہے اور جو ایمان سے بھر پور ہوتا ہے وہ جنت میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیئے آج کے دن ہم سب کو اس گناہ سے بچنا چاہیئے اور محض تفریح کے لیئے کسی کو اذیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہیئے اس کا بائیکاٹ کرکے ہم سب اس گناہ کبیرہ سے بچ سکتے ہیں۔

لندن … آج ہم آپ کو انٹرنیٹ پر مقبولیت حاصل کر نے والی دو جڑواں بچوں کی ایک ایسی ویڈیو دکھا رہے ہیں جس میں یہ جڑواں بچے آپس میں کسی خفیہ زبان میں گفتگو کر رہے ہیں۔نیپی (Nappy)اور مو زے پہنے یہ جڑواں بچے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو کر کسی موضوع پر نہایت دلچسپی اور خوشگوار مو ڈ میں قہقہوں کے ساتھ بحث ومباحثہ کر رہے ہیں ۔SamاورWren جو کہ صرف17ما ہ کے ہیں ،کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ آپس میں اسی طرح کسی خفیہ زبا ن میں با تیں کر تے ہیں جو ان بچوں کے سوا اور کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ عام طور پر جڑواں بچوں کی مشابہت دوسروں کو ان کی جانب متوجہ کر دیتی ہے لیکن ان جڑواں بچوں نے اپنی مخصوص خفیہ زبا ن میں گفتگو سے لو گوں کو اپنا دیوانہ بنا دیا ہے

لندن…آپ نے بھیک مانگتے گداگر تو بہت دیکھے ہو نگے لیکن ایک ایسی ما نو بلی بھی ہے جو اپنا پیٹ بھرنے کیلئے بھیک مانگتی ہے۔یہ بلی پیشہ ور بھکاریوں کی طرح اپنے ہاتھوں سے کشکول بنا کر بے حد معصومیت کے ساتھ میاؤں کہہ کر کھانے کیلئے صدا لگاتی ہے ۔اس بلی کے طور طریقوں دیکھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ جسے اس نے کافی عرصہ گداگروں میں گزارا ہو

دبئی. . . . . . . . فرانسیسی اسپائیڈر مین نے دنیاکی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ کو سر کرنے کی مہم کا آغاز کر دیاہے۔اسپائیڈر مین کے نام سے معروف فرانسیسی شہریalain robert نے برج خلیفہ کو سر کرنے کی مہم کا آغاز کر دیا۔ 2717 فٹ بلند اس عمارت کو سر کرنے کی مہم دیکھنے کے کے لیے سیکڑوں تماشائی موقع پر موجود تھے۔ جن کی سہولت کے لیے 50 میٹر لمبی اور 30 میٹر چوڑی اسکرین بھی لگائی گئی تھی۔ الین رابرٹ عرف اسپائیڈر مین اس سے پہلے دنیا کی 127 عمارتوں کو سر کرچکے ہیں۔عموماً وہ عمارت پر چڑھنے کے لیے کسی چیز کا سہارا نہیں لیتے تاہم برج خلیفہ کی انتظامیہ کی شرائط کی وجہ سے وہ اس عمارت کو رسی اور دیگر سامان کی مدد سے سر کر رہے ہیں

لندن …ہیر وں کو زیورات میں تواستعما ل کیا ہی جا تاہے تاہم ایک بر طا نوی کمپنی کی جا نب سےced Manicure Iکے نام سے دنیا کامہنگا ترین مینی کیور آفر کردیا گیا ہے جس میں نا خنوں پر ہیر ے بھی سجا ئے جا ئیں گے ۔اکیاون ہزار ڈالرما لیت کے اس مینی کیو ر میں ہاتھوں کی صفا ئی اور نا خنو ں کی ترا ش خراش کے بعد ان پر دس قیرا ط کے ہیروں سے سجا وٹ کی جا ئے گی جو ا ٓپ کے ہا تھو ں کوبھی دنیا کے قیمتی ترین ہاتھ بنا دیں گے ۔ ان ہیر وں کو ناخنو ں پر سے ہٹا نے کے بعد زیورات میں بھی استعمال کیا جا سکتاہے

مراکش میں وقت کے ساتھ ساتھ جیون ساتھی ڈھونڈنے کے روایتی طریقوں میں تبدیلی آتی جا رہی ہے۔ اب نوجوان مرد اور خواتین اپنا پارٹنر ڈھونڈنے کےلیے شادی کے’سائبر بازار‘ کا رخ کر رہے ہیں۔ مراکش جہاں آج بھی بیشتر شادیاں والدین طے کرتے ہیں، اب وہاں کمپیوٹر ماؤس کے ایک کلک کے ساتھ ہی نوجوان ایک ایسی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جہاں ہزاروں تنہا دل نوجوان،زندگی کا ساتھی تلاش کرنے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ خبر رساں ایجینسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے   soukzouaj.ma نام کی اس ویب سائٹ کے بانی یاسر نجار بتاتے ہیں کہ یہ ویب سائٹ جون 2010ء میں بنائی گئی تھی، ’’گو کہ یہ ویب سائٹ کچھ عرصہ پہلے ہی بنائی گئی تھی تاہم اس نے کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں کیونکہ یہ نہ صرف مفت خدمات فراہم کرتی ہے بلکہ یہ بہت نزدیک بھی ہے۔ اپنے لیے جیون ساتھی کی تلاش میں روزانہ اس ویب سائٹ کا رخ کرنے والے افراد کی تعداد تقریباﹰ 2600 ہے،جن میں سے دو تہائی تعداد خواتین کی ہوتی ہے۔ اس سائٹ پر مراکش  کا ایک ایسا نقشہ دیکھنے کو ملتا ہے جس میں ملک کو 16 حصوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے۔ کسی بھی حصے پر کلک کر کے کوئی بھی صارف ملک کے مطلوبہ حصے میں اپنے لیے لائف پارٹنر کی تلاش شروع کرسکتا ہے۔ اس ویب سائٹ کے بانی نجار بتاتے ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو اس سائٹ پر اپنے لیے کسی ساتھی کی متلاشی 1670 خواتین جبکہ 870 مردوں نے اپنے اپنے پیغامات لکھ رکھے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ان کے ذہن میں جو خیال آتا ہے اس کے مطابق مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ ہمت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اس سائٹ پر شائع کی جانے والی زیادہ تر پوسٹ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایسے نوجوان افراد اپنے لیے مذہبی طور پر جائز اور سنجیدہ رشتے میں بندھنے کے خواہش مند ہیں۔ مراکشی معاشرے پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق ایک ایسے اسلامی معاشرے میں جہاں زیادہ تر شادیاں بزرگوں کی جانب سے طے کی جاتی ہیں، شادی کرنے مین مدد دینے والی ایسی ویب سائٹس اس معاشرے کے لیے ایک نئی اور انوکھی چیز ہیں۔ مراکش کی ایک ماہر عمرانیات  Naamane Soumaya کہتی ہیں کہ اب لڑکیاں شادی کے معاملے میں مطالبات کرنے لگی ہیں۔ ان کو ایک ایسے شوہر کی تلاش ہوتی ہے، جو ان سے محبت کرے، ان کو عزت دے اور انہیں اپنے سسرالی رشتہ داروں کے زیادہ قریب رہنے پر مجبور نہ کرے۔ ’’وہ ایسے شوہر نہیں چاہتیں، جن کی مائیں بہت زیادہ کنٹرول کرنے والی ہوں۔ Soumaya کے مطابق soukzouaj کی کامیابی کے پیچھے اس کی خدمات کی مفت فراہمی کے علاوہ نوجوان لڑکیوں کا خاندان کی جانب سے طے کیے جانے والے رشتوں یا خاندانی سطح پر اپنے لیے پہلے ہی رشتے پر ہاں کہہ دینے کے رجحان کو اب مزید قبول نہ کرنے کا رویہ ہے۔

دنیا میں کون سا ایسا نوجوان لڑکا یا لڑکی ہو گی، جسے آئیڈیل کی تلاش نہ ہو۔ اس مشکل کو حل کرنے کے لیے جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں گزشتہ جمعہ کے روز سے ایک ایسی نمائش جاری ہے، جس کا نام ’آئیڈیل مرد‘ رکھا گیا ہے اس نمائش میں دنیا کے بہترین فوٹوگرافروں  کی 150 سے زائد آئیڈیل مردوں کی تصاویر بھی رکھی گئی ہیں۔ یہ نمائش آئیڈیل مردوں کے بارے میں ہے اور اس کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ آج کل کے دور میں کس قسم کے مردوں کو پسند کیا جاتا ہے۔ مردوں کا رنگ، حلیہ، بال اور لباس کس طرح کے ہونے چاہیئں کہ لوگ انہیں محبت کی نگاہ سے دیکھیں۔ اس نمائش کی منتظم نادینے بارتھ کہتی ہیں، ’’اسّی کی دہائی میں ایسے ورزش کرنے والے مردوں کو پسند کیا جاتا تھا، جو طاقتور دکھائی دیتے تھے۔ نوے کی دہائی میں ایسے ہپی ٹائپ لڑکوں کو پسند کیا جانے لگا، جن کے بال لمبے ہوتے تھے۔  لیکن آج ہماری خواہشیں بدل چکی ہیں۔ آج ہم چاہتے ہیں کہ لڑکا پڑھا لکھا ہو، پراعتماد ہو اور صورت کے ساتھ ساتھ اس کا کردار بھی اچھا ہو۔ اس نمائش میں رکھی گئی تصویروں کو اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں نئے چہروں کے ساتھ وہی روایتی طریقے سے بنائی گئی تصاویر رکھی گئی ہیں۔ آج کے آئیڈیل اور ماڈل لڑکوں میں وہ کون سی بات ایسی ہے، جو پہلے مردوں میں نہیں ہوتی تھی۔ نمائش کی منتظم نادینے بارتھ کہتی ہیں، ’’تصویروں کا انداز آج بھی روایتی ہے لیکن چہرے نئے ہیں۔ آج کے ماڈلز میں نئی بات یہ ہے کہ وہ خوبصورت ہونے کے علاوہ دلچسپ شخصیت کے مالک بھی ہوتے ہیں۔ مضبوط جسموں کے ساتھ ساتھ وہ علمی لحاظ سے بھی آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر ان تصاویر کو رول ماڈل بنایا جائے تو آج کے آئیڈیل مرد کو خوبصورت، رومانوی، عقل مند، پڑھا لکھا اور کردار کا اچھا ہونے کے علاوہ کئی دوسری خصوصیات کا مالک بھی ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود اس نمائش میں شریک ایک خاتون کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایک مرد، چاہے اس میں کتنی ہی خصوصیات کیوں نہ ہوں، ہر عورت کا آئیڈیل نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی مرد یا عورت کی آئیڈیل شخصیت کیسی ہونی چاہیے، یہ ہر ایک کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے۔

ٹوکیو :  جاپان میں زلزلے کے باعث فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور گزشتہ روز چوتھا ری ایکٹر بھی دھماکے سے پھٹ گیا جس سے تابکاری کے اخراج میں مزید اضافہ ہوگیا، جاپانی حکام نے 30 کلومیٹر کے اطراف سے لوگوں کو نکل جانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ تابکاری کے اثرات اب فوکوشیما سے نکل کر ایباراکی ، سائی تامہ اور ٹوکیو تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جاپانی ایٹمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اور اطراف کے علاقوں میں پہنچنے والی تابکاری تاحال انسانی صحت کیلئے خطرے کا باعث نہیں۔ زلزلے ، سونامی اور ایٹمی بحران سے جاپان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے اور گزشتہ تین دنوں میں ایک ہزار پوائنٹ کم ہوگئے اور حکومت نے عوام سے نقد امداد کی درخواست کردی ہے اور سرکاری ٹی وی پر امداد کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز زلزلے کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے ان جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے 120 کلو میٹر دور شیزو کا میں ماوٴنٹ فیوجی کے نزدیک تھا۔ دوسری جانب آئی اے ای اے نے صورتحال کو سنگین قراردیاہے تاہم چرنوبل جیسے حادثہ کے امکان کو ردکردیاہے۔ جاپانی حکام ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کو روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں جس میں انہیں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سمیت امریکا اور برطانیہ کے ماہرین کی خدمات حاصل ہیں ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی معیشت کو زلزلے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے تین سے چار سال درکارہوں گے۔ جبکہ ایٹمی تابکاری کے اخراج کے بعد ایک بار پھر جاپان سے پاکستانیوں کے انخلا کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان جانے والی تمام ایئر لائنوں میں سیٹیں ختم ہوچکی ہیں جس کے باعث زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ایٹمی تابکاری کے اثرات کے زیر اثر علاقوں میں ابھی تک ہزاروں پاکستانی موجود ہیں جن کے اخراج کا تاحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔علاوہ ازیں جاپانی وزیراعظم نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر چار میں آگ لگی ہے جس کی وجہ سے تابکاری کی سطح انسانی صحت کیلئے خطرناک حدتک پہنچ گئی ہے۔

فنِ مصوری کے بادشاہ لیونارڈو ڈا ونچی کی بنائی گئی شہرہِ آفاق پینٹنگ مونا لیزا کو دنیا بھر میں بیحد اہم مقام حاصل ہے اسی لیے جہاں ہر چھوٹا بڑا مصور اس کو اپنے فن میں نمایاں رکھنے کی کوشش کرتا ہے وہیں دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اسے خراجِ عقیدت پیش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔حال ہی میں چین سے تعلق رکھنے والے ایک زیور ات کے مجموعے کے مالک نے بھی مونا لیزا کی اسی شہرہِ آفاق پینٹنگ کو اپنے انداز مین خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔زیوارت کا ایک بڑا مجموعہ رکھنے والے اس چینی شخص نے 1لاکھ قیراط کے جواہرات کی مدد سے مونا لیزا کی مہنگی ترین پینٹنگ تخلیق کی ہے۔انتہائی محنت سے30سال کے عرصے میں جمع کیے گئے جواہرات کی مدد سے تیار کی گئی مونا لیزا کی یہ پینٹنگ آجکل چین کے شہرShenyangکے ایک شاپنگ مال میں نمائش پر موجود ہے

نشہ آور ادویات کے استعمال پر سزا پانے والی امریکی اداکارہ،گلوکارہ اور ماڈل لنڈسے لوہن اب ایک نئے تنازعے،نئے مقدمے کا شکار ہوگئی ہیں اور ایک جیولری اسٹور نے ان پر بیش قیمت نیکلس چوری کرنے کا مقدمہ درج کروادیا ہے۔اداکارہ لنڈسے لوہن پر لاس اینجلس میں ایک دکان سے نیکلس چوری کرنے کا الزام سامنے آیا ہے جس پر ائیر پورٹ کورٹ کے جج نے ان کے گھر کی تلاشی کے لیے سرچ وارنٹ جاری کردیے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے لنڈسے کو اسٹور میں گھومتے ہوئے وہی نیکلس پہنے ہوئے بھی دیکھا ہے جس کی وڈیو اور تصاویر بھی موجود ہیں۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس جیولری اسٹور نے لنڈسے لوہن کی نیکلس چوری کرنے کیCCTV وڈیو امریکا کے ایک ٹی وی چینل کو 35ہزار ڈالر کے عوض فروخت کردی ہے۔اس سی سی ٹی وی فوٹیج میں لنڈسے لوہن کو چوری ہونے والا نیکلس پہن کر ٹرائی کرتے دکھایا گیا ہے اور ممکنہ طور پر اس فوٹیج کو لنڈسے کے خلاف کیس میں ثبوت کے طور پر استعمال میں لایا جائیگا۔

با لی وڈ کی نامور اداکارہ ایشوریا رائے کو فن اور ثقافت کے شعبے میں لازوال خدمات کے اعتراف کے طور پر اس ماہ ایوارڈ سے نوازا جا ئے گا۔بھارتی ریاست کر ناٹک کے وزیرِ اعلی بی۔ایس یادی اراپاایشوریا رائے کو ایک خصوصی تقریب کے دوران یہ ایوارڈ دینگے۔اس تقریب کا انعقاد ہر سال کیا جاتا ہے اور اس سال بھی ایشوریا رائے کے علاوہ ریاست کر ناٹک سے تعلق رکھنے والے دیگر نا مور افراد کو ان کی خدمات کے صلے میں اعزازات سے نوازا جائے گا ۔اس تقریب کاانعقاد 11مارچ کو Belgaumمیں کیا جائے گا۔

چین کے ایک ارب پتی بزنس مین نے اپنی والدہ کی تکفین و تدفین پر سات لاکھ ڈالر سے زائد کی خطیر رقم خرچ کر کے جنازے کو بھی ایک پر تعیش تقریب میں تبدیل کر دیا ۔مشر قی چین کے صو بے    Zheijiangمیں اس جنا ز ے کو آ خر ی آ را م گا ہ تک پہنچا نے کے لیے آ ٹھ لیمیوز ین گاڑیا ں استعما ل کی گئیں جنہیں قیمتی پھولوں سے سجا یا گیا تھا جبکہ جنا زے کو تو پو ں کی سلا می بھی دی گئی جن پر سو نے کا پا نی چڑھا ہوا تھا ۔ جنا زے کے راستے کو پھولوں سے سجا یا گیا تھا جبکہ ایسی اسکرینز بھی نصب کی گئی تھی جن پر جنا زے کی کا رروائی برا ہ راست نشر کی جا رہی تھی۔ جنا زے کی اس مہنگی ترین تقریب کے دیکھنے لیے ہزاروں لو گو ں نے اس میں شر کت کی

تھا ئی لینڈ کی 11سالہ لڑکی جس کا پورا چہرہ اور جسم با لوں سے بھرا ہوا ہے اپنی اس غیر معمو لی تبدیلی کے باعث دنیا کی سب سے زیادہ بالوں والی لڑکی کا عالمی ٹائٹل حاصل کر نے کے بعد بے حد خوش ہے۔ بچپن سے Supatra Sasuphan کے پو رے جسم پر قدرتی طور پر با ل اگے ہو ئے ہیں جبکہ چہرے اور کانوں پر ان بالوں کی تعداد زیادہ ہے۔Supatraکا کہنا ہے کہ اسکول میں دیگربچے اسےMonkey FaceاورWolf Girlکے نا م سے پکارتے تھے لیکن اب عالمی اعزاز پانے کے بعد وہ نا صرف اسکول میں مقبول ہو گئی ہے بلکہ اب اس کے دوست بھی بننے لگے ہیں۔منفرد ظاہری بناوٹ کی حاملSupatraعام بچوں کی طرح اپنا بچپن پر جوش طریقے سے گزاررہی ہے اور اپنی نئی مقبولیت کے باعث اتنی خوش ہے کہ اسے اپنا آپ اچھا لگنے لگا ہے۔