Archive for the ‘Important News’ Category

پیغمبر(ص) اسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے . اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے بیشمار روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ۔
تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
 آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ۔
 جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ، آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں۔ اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت:
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا (ص)کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ پیغمبر اسلام (ص)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مبارک آج تک مخفی ہے جو ان کے خلاف خلیفہ وقت کے ظلم و ستم کا مظہر ہے۔

Advertisements

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے یومِ شہادت دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین وارث زہراء سلام اللہ علیھا حضرت بقیتہ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور پوری امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا    کہ حضرت سیدہ الزھراء سلام اللہ علیھا جنھوں نے ایک بیٹی، شریکہ حیات اور ماں کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری خواتین اپنے اندر حضرت فاطمہ الزھراء جیسی استقامت پیدا کریں اور تربیت اولاد میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوں جن کی مدد سے معاشرے کو ایسے افراد میسر آ سکیں جن کی رگوں میں حریت حسینی لہو بن کے دوڑتی ہو۔انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع جہاں اہلِ بیت رسول و اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے اور اسے عوام الناس کے لئے کھولا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے گلگت میں مرکزی جامع مسجد امامیہ کو سیل کیے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی ایسی کاروائیاں امن عمل کو نقصان پہنچائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور مرکزی انتظامیہ کو دہشت گردوں اور امن پسند شہریوں میں تمیز کرنی چاہیے۔   سانحہ کوہستان و چلاس کے مرکزی ملزمان کی گرفتاریوں پر حکومت کی طرف سے مصلحت پسندی اور سست روی پر ان کا کہنا تھاکہ حکومت انہیںفوری گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے لا کر قرار واقعی سزا دلوائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرانتظامیہ کرفیو نافذ کر کے نقص امن کے نام پر پرامن محب وطن پاکستانیوں کو گرفتارکر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے خیبر تک شیعہ نسل کشی کے باوجودہم پاکستان کے قانون کا احترام کر رہے ہیںلیکن اس کے باوجود حکومتی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔علامہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ ہم حکومت کی طرف سے یکطرفہ کیے جانے والے ایسے تمام اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ جامع مسجد امامیہ کو فوری طور پر نمازیوں کے لئے کھول دیا جائے اورمعصوم شہریوں کے خلاف کاروائیاں بند کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں کو پوراکیا جائے۔

کراچي… پاکستان کي فضائي حدود ميں غير قانوني طور پر داخل ہو نے والے غير ملکي فوجي جہاز کو پاکستان ايئر فورس نے  کراچي ايئر پورٹ پر لينڈ کراديا ہے جس کے بعد طيارے کي چيکنگ جا ري ہے،جيو ٹي وي کے نمائندے طارق ابو الحسن کے مطابق فوجي طيارہ بگرام ايئربيس سے يواے اي کے المکتوم ايئرپورٹ جارہاتھا،ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف124اورپروازنمبروي ڈي اے1455ہے.ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹورسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں مذکورہ غيرملکي فوجي مال بردارطيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پرکراچي ميں اتاراگيا جس کي چيکنگ جاري ہے.

ایس یو سی کے زیراہتمام منعقدہ علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی و امن کا درس دیتا ہے، دہشتگردی کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، دہشتگرد انسانیت دشمن درندے ہیں، حکومت سخت ایکشن لے۔شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ “علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں، وہ صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، حکومت دہشتگردی کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لے کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی قوتیں اُمت مسلمہ میں فتنہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں، ایم ایم اے اتحاد اُمت کی طرف اچھا اقدام تھا، مستقبل میں ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے، آمدہ الیکشن میں علماء کرام بھرپور کردار ادا کریں اور متحرک ہو جائیں۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اس موقع پر تحریک جعفریہ پاکستان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ محسن علی نجفی، وزارت حسین نقوی، علامہ شیخ محمد حسین نجفی، علامہ افتخار نقوی، علامہ رمضان توقیر، علامہ افضل حیدری، علامہ تقی نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ ظفر عباس شہانی، علامہ آغا عباس رضوی، علامہ عبدالجلیل نقوی، علامہ امین شہیدی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر میثمی، مفتی کفایت حسین نقوی اور علامہ عارف واحدی، علامہ احسان اتحادی سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔  علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کے دوران مقرریں کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہے، اس کا کسی مذہب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی چاہے بازار میں ہو، سکول میں ہو، تھانہ یا مسجد و امام بارگاہ میں، اس میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوتا ہے اور اسلام کسی ایک انسان کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم سازش کے تحت دہشتگردی کو اسلام سے نتھی کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگرد کی تعریف اتنی ہی کافی ہے کہ وہ صرف اور صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، جن کا کام معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ شرکاء نے ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہے، جبکہ جن دہشتگردوں کو پکڑ کر سزائیں دی جا چکی ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانیت دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں کوئٹہ، گلگت، بلتستان، پارہ چنار، کراچی، پشاور،خانپور سمیت پورے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ غیر ملکی عناصر بھی ملک میں منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں، اس سلسلے میں بھی علماء کرام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اتحاد کا مظاہرہ کریں، کیونکہ جتنی ضرورت اتحاد کی آج ہے اس سے قبل نہ تھی، مقررین نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اتحاد اُمت کی طرف اچھی پیش رفت تھی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مقررین نے تمام مسالک کے باہمی احترام پر بھی زور دیا کہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے کی طرف گامزن ہوا جائے۔  اس موقع پر سیاچن میں دبے فوجی جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ علمائے کرام کے ہزاروں کے اجتماع نے علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قدم بڑھائیں، ہمیں اپنا ہم رکاب پائیں گے، اس موقع پر علماء کرام نے تحریک جعفریہ پاکستان سے حکومت کی طرف سے عائد پابندی اُٹھانے کا بھی پُر زور مطالبہ کیا۔

ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سب اس پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تمام شیعہ گروہ اور تنظیمیں ملکی وقار اور تشیعُ کی سربلندی کیلئے ایک ہو کر آواز بلندکریں، ملی یکجہتی کا اظہار، وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکتب تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے پیروان ولایت کو ولایت فقیہ کی سرپرستی میں آگے بڑھنا ہو گا، تمام نوجوان علماء کو بزرگ علماء کا احترام کرنا چاہئے اور یہ اُن کا فرض بنتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بزرگ علماء بھی دست شفقت بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کی غلطیوں سے درگزر کریں۔ انہوں نے کہا کہ چار سے سال سے ہم میدان عمل میں ہیں، ہم اس وقت میدان میں آئے جب ملت میں جمود تھا، ملت تشیع کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن آج الحمداللہ ملی بیداری کا سفر شروع ہو چکا ہے، کراچی میں نشتر پارک کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوامی سمندر نے دشمن کو بتا دیا کہ ہم ایک ہیں، علماء کانفرنس میں جس بڑے پن کا مظاہرہ کیا گیا اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اب یہ بیداری عمل آگے تیزی سے بڑھ رہا ہے، تمام علماء کو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں ان افراد پر نظر رکھیں جو ملی اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سلیقے اور کام کرنے کا اختلاف ہو سکتا ہے، یہ اختلاف مدارس میں، علماء میں، ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کی ضد میں کام کر رہا ہے، ملت تشیع کے وقار کی خاطر جس سے جو ہوپا رہا ہے وہ کر رہا ہے۔ علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ تمام علما کو دعوت دی جاتی ہے کہ یکم جولائی کے پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں اور دشمن پر ثابت کریں کہ ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جگہ جمع ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دشمن نے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی اور ہمیں ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہونے کیلئے مختلف ہربے استعمال کئے، لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ یہ قوم ایک بار پھر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلوں کو صاف کرنا ہو گا، کینے اور بغض کو نکال کر ایک دوسرے کیلئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احترام کے رشتہ کو مضبو ط بنانا ہو گا۔ جو لوگ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اُن افراد پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی۔ کچھ ناداں دوستوں کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ان ناداں دوستوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد: ایران نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے کیا ہے جس میں جدید ترین میزائل لانچنگ اور خشکی ، فضا اور سمندر میں فائر پاور دکھائی گئی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان اور ایرانی آرمڈ فورسز کے اتاشی کرنل وجہہ اللہ درویشی ایرانی فورسز کے سالانہ دن کے موقع پر ہونے والے استقبالئے میں میزبان تھے۔ چےئرمین سینیٹ سید نیئر علی بخاری اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کو چےئر مین سینیٹ کے ہمراہ پوڈیم پر بٹھایا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ یورپین ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے نمائندوں کی تعداد بھی مایوس کن حد تک کم تھی۔وفاقی وزراء جو یوں تو تقریبات میں شرکت کے بہت شوقین ہیں وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وزیر سردار الحاج محمد عمر گورگیج اس تقریب میں شریک ہوئے ، انہیں ڈائس پر بٹھایا گیا لیکن اپنی جان پہچان کے لوگوں کو نہ پا کر وہ کچھ بدحواس سے لگ رہے تھے۔مہمان خصوصی کی آمد پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر مہمانوں کی اکثریت سانحہ سیاچن کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آئی ۔ لوگ برف اور چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے جوانوں اور سویلین افراد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ لو گ اس امر پر حیرانی کا اظہار کررہے تھے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پاکستان کو اس جگہ جانے میں 12 دن کا عرصہ لگا اور وہ بھی صرف فضائی جائزہ لے کر واپس آگئے ،وہ برفیلی سطح پر اترے اور نہ ہی انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگوں سے ہاتھ ہی ملایا۔ڈوما پوسٹ جہاں سے وہ واپس آئے ، گیاری اس سے محض 5 منٹ کی دوری پر ہے۔تقریب میں عمان اور شام کے سفراء بھی شریک ہوئے

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

کراچی: پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ سانحہ بنوں جیل حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ انتہا پسند دہشت گرد جب جیل توڑ کر خطرناک قیدیوں کو لے جاسکتے ہیں تو اس کا مقصد ہے کہ دہشت گرد اتنی جدید ٹیکنالوجی رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں جب چاہیں خون کی ہولی کھیل سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف اگر مثبت اقدامات نہ کیے گیے تو یہ پاکستان اور عوام کے لیے مزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کراچی، کوئٹہ، گلگت، بلتستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مثبت سوچ اپنا کر دہشت گردوں کے گرد قانون کے شکنجے کو سخت کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہل سنت پر لاڑکانہ سے آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ حکومت عوام کو جواب دہ ہے وہ حقائق سامنے لائے کہ بنوں جیل سے راتوں رات دہشت گرد جیل توڑ کر 300 سے زائد دہشت گردوں کو کس طرح بھگا کر لے گئے۔

کراچی : ہم پاکستان کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت ہماری سرپرستی نہیں کررہی ۔ کوہستان اور چلاس میں ہمارا قتل عام ہورہا ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ہمارا بچہ بچہ محب وطن ہے لیکن ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، ہمیں ایک جامع اور مکمل آئینی پیکیج کی ضرورت ہے۔جب سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں تو خطے کے حالات بگڑے ہیں اس صورتحال کا ذمے دار امریکا اور پاکستان کے وہ دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اسلام آباد تک 750 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم کو پاک فوج کے ذریعے مکمل تحفظ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسکردو کے باسیوں نے جیو نیوز پر”کیپٹل ٹاک “ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔علاقے میں موجود مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب متحد ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ یہاں کو ئی تنازع پیدا ہی نہ ہو۔اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین کا کہنا تھا کہ علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود ہر موقع پر شیعہ علمائے کرام اور لوگوں کا کردار انتہائی مثالی رہا ہے۔

لندن: مجلس علمائے شیعہ یورپ کے چار رکنی وفد نے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی ہے۔وفد کی قیادت مجلس کے صدر سید علی رضا رضوی نے کی۔ اس موقع پر واجد شمس الحسن نے پاکستان میں ان کی کمیونٹی کے ممبروں کے قتل پر سخت تشویش ظاہر کی۔ وفد نے تین نکاتی سفارشات غور کے لئے حکومت کو پیش کیں۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گلگت میں کرفیو کی پابندیاں ختم کرے۔سازشی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،نشانہ بننے والوں کے اقارب کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ واجد شمس الحسن نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی پابند ہے۔

ڈيرہ غازي خان…ملک بھر ميں دہشت گردي کا لامتناہي سلسلہ حکومتي ناکامي کا کھلا ثبوت ہے جنوبي پنجاب سميت ملک بھر ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن کياجائے،کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرکے پاکستان کيلئے بے پناہ قربانياں دينے والے مظلوم ہزارہ قبيلے کي نسل کشي روکي جائے ،زيارات مقدسہ اور گلگت ببلتستان وپاراچنار جانے والے راستوں کي سيکيورٹي کا خصوصي بندوبست کيا جائے ،درگاہ حضرت سخي سرور?اور ڈيرہ غازي خان ميں چہلم شہدائے کربلا کے جلوس ميں دہشت گردي کے سانحات کے مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جائے، دہشت گردي کے خاتمہ کيلئے قائد ملت جعفريہ آغاسيد حامد علي شاہ موسوي کي جانب سے سپريم کورٹ ميں پيش کرہ امن تجاويز پر عمل کرايا جائے ،کالعدم گروپوں کي نئے ناموں سرگرميوں پر پابندي عائدکي جائے.يہ مطالبات دربار آل محمد ڈيرہ غازي خان ميں تحريک نفاذ فقہ جعفريہ صوبہ پنجاب کے زير اہتمام سہ روزہ عزاداري سيدالشہداء کنونشن ميں شاعر اہلبيت عقيل محسن نقوي کي جانب سے پيش کئے جانے والے اعلاميہ ميں کيے گئے. عقيل محسن نقوي نے ملک ميں امن و امان کي مخدوش صورتحال پرگہري تشويش کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردي ‘ٹارگٹ کلنگ اورخود کش حملوں کي پرزورمذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ دہشتگردي کے مجرموں کو في الفور گرفتار کرکے کيفر کردار تک پہنچائے.اعلاميہ ميں ذاکرين عظام واعظين کرام بانيان مجالس ا ورلاکھوں ماتمي عزاداران مظلوم کربلا کي جانب سے قائد ملت جعفريہ آغا سيد حامد علي شاہ موسوي کي قيادت پر غيرمتزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کيا گيا .اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے جنرل سيکرٹري سيد ظفر عباس نقوي نے کہا کہ چيف جسٹس سجاد علي شاہ اگر دہشتگردي کے واقعات کا ازخود نوٹس ليکر اس کے علل و اسباب اور خاتمہ کيلئے تمام مکاتب ، مسالک ، تنظيموں ، ليڈران و سياستدانو ں سے رابطہ کر سکتے ہيں تو موجودہ چيف جسٹس ايسا کيوں نہيں کر سکتے؟.اس موقع پر تحريک نفاذ فقہ جعفريہ کے مرکزي سيکرٹري اطلاعات علامہ قمر حيدر زيدي ،تحريک تحفظ ولاء و عزا کے صدر سلطان الذاکرين مداح حسين شاہ ،مخدوم نزاکت حسين نقوي ،آغا نسيم عباس رضوي ،علامہ آغا علي حسين نجفي ،ذاکر ضرغام شاہ جھنگ،ذاکرناصر عباس نوتک ،ذاکر آغا علي نقي بھکر،ذاکر عامر رباني ،ذاکر الياس رضا شاہ ڈي جي خان ،ذاکر علي رضا ساہيوال سميت ملک بھر کے سينکڑوں علماء واعظين اور ذاکرين نے خطاب ک

اسلام آباد… سپريم کورٹ ميں انساني اعضا کي پيوند کاري سے متعلق قانون مجريہ 2010 کي خلاف ورزي روکنے سے متعلق انساني حقوق کي کارکن عاصمہ جہانگير اور ديگر کے مقدمے کي سماعت ہوئي. عدالت نے اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي کي قوم کيلئے خدمات پر ان کا شکريہ ادا کيا. سپريم کورٹ ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کي سربراہي ميں بنچ نے درخواست کي سماعت کي ،اس موقع پر جسٹس خلجي عارف نے ڈاکٹر اديب رضوي کا ان کي خدمات پر شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کيلئے دعاگو ہے . چيف جسٹس نے بھي ڈاکٹر اديب رضوي کي خدمات کي تعريف کي. اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي عدالت ميں موجود تھے ،درخواست ميں کہا گيا کہ 1994کے بعد سے پاکستان انساني اعضا کي خريدوفروخت کا سب سے بڑا بازار بن گيا ہے، ملک ميں سال 2007تک ڈھائي ہزار گردے ٹرانسپلانٹ کيے گئے ليکن ان ميں تقريبا ڈيڑھ ہزار غير ملکيوں نے فائدہ اٹھايا، ايک اندازے کے مطابق اسي فيصدکيسز ميں گردے لينے اور دينے والے ميں کوئي تعلق نہيں تھا ، گردے لينے والے نے اس کيلئے رقم اد اکي . درخواست کے مطابق گردے کي پيوند کاري کيلئے بھارت ،يورپ اور مشرق وسطي سے امير مريض پاکستان کا رخ کرتے ہيں اور دس ہزار ڈالرز سے تيس ہزار ڈالرز ميں گردہ خريدليتے ہيں. عدالت نيانساني اعضا کي پيوند کاري اور گردوں کيامراض سے متعلق عوام کيلئے خدمات پر ڈاکٹر اديب رضوي کا شکريہ ادا کرتے ہوئے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان حکومت کو اس بارے ميں جواب 29مئي تک جمع کرانے کي ہدايت کي ،،خيبر پختونخو ا حکومت پہلے ہي اپنا جواب جمع کراچکي ہے

غداد… عراق کے 4 صوبوں ميں متعددبم دھماکوں سے 30 افراد ہلاک ہوئے ہيں. وزارت داخلہ حکام کے مطابق دارالحکومت بھي کئي دھماکوں سے لرز آٹھا جس ميں 17 افراد ہلاک ہوئے.کرکوک ميں دو کار بم دھماکوں ميں 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سمارا بھي دو دھماکوں سے گونج اٹھا، ان دھماکوں سے 3 افراد جان سے گئے. تاجي ميں سڑک کنارے نصب بم پھٹا جبکہ بعقوبہ ميں خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا ليا. دھماکوں کے بعد سيکورٹي فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئيں .زخميوں کو اسپتال منتقل کياجارہاہے.

کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم ص کی شان میں گستاخانہ بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے اور ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر نعوذ باللہ شراب کی خرید و فروش کی تہمت لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی نے یہ دعوا کیا تھا کہ : “خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے قبل بعض افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب تحفے میں پیش کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسے یا تو فروخت کر دیتے تھے اور یا پھر دوسروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیتے تھے”۔  اس سعودی وہابی مفتی نے اس تہمت اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر یہ فتوا بھی جاری کیا تھا کہ : “شراب نجس نہیں کیونکہ خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے بعد افراد نے اپنی شراب کی بوتلوں کو باہر گلی میں خالی کر دیا اور صحابہ کرام کے پاوں مسجد میں جاتے ہوئے شراب سے گیلے ہو گئے تھے اور انہوں نے اسی حالت میں نماز ادا کی”۔  آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے اس فتوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر شراب کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا گیا ہے لہذا تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ شراب ویسے ہی نجس ہے جیسے خون اور پیشاب نجس ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کے چاروں فرقوں کے امام نے شراب کو نجس قرار دیا ہے اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں بھی شراب کو صراحت سے نجس قرار دیا گیا ہے۔  کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور بے بنیاد فتوا جاری کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمد العریفی خدا کے حضور توبہ کرے اور تمام مسلمانان عالم سے معذرت خواہی کرے۔

خطیب جمعہ تہران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ شام کے خلاف مغربی اور بعض عرب ملکوں کی دشمنی اور اس ملک میں بدامنی پھیلانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک اسلامی بیداری سے شکست کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ آيت اللہ احمد خاتمی نے کہا کہ شام، صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک محاذ ہے اور عالمی سامراج نے بعض عرب اور مغربی ملکوں کو فریب دے کر شام سے انتقام لینے کی سازشیں شروع کر دی ہیں کیونکہ شام علاقے کے عوام کی تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی بیداری نے علاقے کے بعض ملکوں کو سامراج کے تسلط سے نجات دلائی ہے اور جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آل سعود کی حکومت صیہونی حکومت کے مقابل مزاحمت کے حامل ملک شام میں بڑے پیمانے پر فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے سعودی عرب کی تفرقہ انگيز پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب فتنوں کا گڑھ اور دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے کیونکہ اس نے تیونس کے سابق ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی، اور عراق کے فراری نائب صدر طارق ہاشمی کو پناہ دے رکھی ہے اور مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے علاقائی ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے تعلقات بڑھانے اور مسلمانوں کو نزدیک لانے کی کوشش کی ہے جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ تفرقہ اور اختلافات پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو ان پالیسیوں سے نقصان اور نابودی کے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔ خطیب جمعہ تہران نے بعض عرب ملکوں کی جانب سے بحرین کے حالات اور آل خلیفہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے مظالم کو نظر انداز کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بحرین پر قبضہ کرلیا ہے اور بحرینی عوام کی سرکوبی میں شریک ہے۔ انہوں نے امریکہ سے تعلقات منقطع کرنے کے دن کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انقلابی طلباء کے ہاتھوں امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے ایران اور امریکہ کے درمیاں تعلقات کے منقطع کئےجانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو تعلقات ختم کرنے کا یہی ایک کام ہے اور ہم بھی یہی چاہتے تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔ پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت پرمبنی رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اس سلسلے میں بیرونی دباؤ برداشت نہيں کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔  انھوں نے مزید کہا کہ روس نے بھی اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر تیل اعجاز چودھری نے اٹھائیس مارچ کو کہا تھا کہ روسی کمپنی نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ میں تقریبا ڈیڑہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ واضح رہے کہ بعض ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ کے اصلی اتحادی سعودی عرب نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایسا پیکج دینے کا وعدہ کیا ہے جو ایران پاکستان گیس پروجیکٹ معلق ہونے کی صورت میں اس ملک کی انرجی کی ضرورت پوری کرے گا۔

کارخانو بازار پشاور میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحہ کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحدی حدود پر واقع مشہور کارخانو بازار میں موبائل فون سے مشابہت رکھنے والے پستول  صرف تیس ہزار روپے میں سر عام دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ کارخانو بازار میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحے کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔  ٹیم  نے کارخانو مارکیٹ کا دورہ کرکے اس مہلک ہتھیار کے بارے میں مختلف دکانداروں سے بات چیت کی۔ اسلحہ ڈیلرز و دکانداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ موبائل کی شکل و صورت والا پستول تو معمولی بات ہے یہاں تو ہر قسم کے ہتھیار مل جاتے ہیں، ہمیں جو بھی شخص یا گاہک پیسے دے ہم اسے یہ ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ ہتھیار کون فروخت کرتے ہے تو ان کا جواب تھا کہ نیٹو کے کنٹینرز سے چھیننے والے اس اسلحہ اور دیگر سامان کو عام لوگوں سے لے کر انہیں بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔  جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ مہلک اسلحہ کسی کی جان لے سکتا ہے اور اس سے ملک میں پہلے سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بال بچوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ اسلئے وہ یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ کارخانو مارکیٹ میں پنجاب اور سندھ سے آنے والے بعض خریداروں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ پستول تیس ہزار میں خرید کر پھر اسے لاہور اور کراچی میں پچاس تا ساٹھ ہزار میں فروخت کرکے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔   جب ان سے پوچھا گیا کہ راستے میں پولیس یا سیکورٹی پر مامور اہلکار انہیں روک کر تلاشی نہیں لیتے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ موبائل کی شکل سے مشابہہ ہونے کی وجہ سے کسی کو شک تک نہیں ہوتا اور ہم اپنا کام آسانی سے کر لیتے ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق کیس کی سماعت کرتے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہرشخص کا احترام کرتے ہیں، عقیدہ کچھ بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔ ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے پولیس والے بھی مارے گئے کوئٹہ میں نارمل صورتحال نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کہہ رہا ہے کہ کوئٹہ میں جنگ جاری ہے، 25،25 کروڑ روپے ایک ایک رکن صوبائی اسمبلی کو دیے گئے، چیف سیکرٹری کو بلا لیں کہ کتنے فنڈز ملے اور عام آدمی کو بھی بلائیں جس کے پاؤں میں چپل نہیں ہےچيف جسٹس نے ريمارکس ميں کہاکہ کوئٹہ ميں اہل تشيع کے 26 افراد قتل کردئے گئے، حالات کو کس نے کنٹرول کرنا ہے؟ ايڈووکيٹ جنرل نے کہاکہ کوئٹہ ميں سرد جنگ ہو رہی ہے، چيف جسٹس نے کہاکہ اتنے فنڈز مل رہے ہيں ليکن کنٹرول کيوں نہيں ہو رہا،

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ بان کی مون نے الخلیفہ حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ الخواجہ کو علاقہ کے لئے  ڈنمارک کے حوالے کردے کیونکہ الخواج کے پاس ڈنمارک کی شہریت بھی موجود ہے۔ الخواجہ کی گرفتاری اور اور اس کی بھوک ہڑتال کے بعد بحرین میں عوامی مظاہروں میں شدت آگئی ہے

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

واشنگٹن: نائیجیریا کی وزیر خزانہ اور عالمی بینک کی صدارت کی امیدوار نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا ہے کہ امریکہ اس روایت کو توڑے کہ ہمیشہ کوئی امریکی ورلڈ بینک کی سربراہی کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ بات ورلڈ بینک کے بورڈ کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے کے انٹرویو کے بعد کہی۔ نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا کہ عالمی بینک کی سربراہی کا معیار اہلیت اور مہارت پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو کے دوران بورڈ پر واضح کیا ہے کہ انتخاب کا طریقہ کار واضح اور شفاف ہونا چاہئے۔ انہوں نے ممالک سے حمایت طلب نہیں کی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ کے غیر رسمی معاہدے کے تحت ہمیشہ ورلڈ بینک کی سربراہی کسی نہ کسی امریکی کے پاس رہے گی جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا سربراہ یورپی ہوگا۔ چین، بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں طویل عرصے سے جاری مالیاتی اداروں میں اثر و رسوخ کی روایت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نائیجیریا کی وزیر خزانہ نے گزشتہ سال عالمی بینک کا عہدہ چھوڑا تھا۔ عالمی بینک کی صدارت کیلئے کولمبیا کے سابق وزیر خزانہ اور امریکہ کی طرف سے نامزد کوریا نژاد امریکی شہری ان کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

پاکستان کے معاشی ہب کراچی میں رواں برس پُر تشدد واقعات کی ایک تازہ لہر نے اب تک سینکڑوں زندگیوں کے چراغ گل کر دیے ہیں اور اس سے ملک کو اقتصادی لحاظ سے شدید نقصانات کا سامنا ہےگزشتہ چار برسوں میں ملک کے دیگر شہروں میں اسلامی انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے تو یہ شہر قدرے بچا رہا مگر اندرونی طور پر فرقہ وارانہ اور لسانی تنازعات کے باعث اس شہر کو بھاری جانی اور مالی نقصانات کا سامنا رہا۔ گزشتہ برس کراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر خونریز واقعات میں 1800 افراد ہلاک ہوئے تاہم رواں برس کے آغاز سے اب تک اس شہر میں تین سو سے زائد افراد مختلف پُر تشدد واقعات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان خونریز واقعات کی وجہ منشیات، بھتے، اسلحے اور لینڈ گریبنگ کی مافیا کے درمیان جاری جھگڑے ہیں، جن کے سلسلے میں سرگرم عمل گروہوں کو مبصرین کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہےکراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی کسی بھی ہلاکت کے بعد پورا شہر بند کر دیا جاتا ہے اور کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ خبر رساں ادارے AFP کے مطابق کراچی میں اب یہ معمول کی بات ہے کہ کسی پُر تشدد واقعے کے اگلے روز تمام دفاتر، اسکول اور کاروباری ادارے بند رہیں۔ کراچی مارکیٹ الائنس کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق گزشتہ ہفتے کراچی شہر مسلسل چھ روز بند رہا۔ ’’کراچی میں گزشتہ ہفتے فائرنگ کے مختلف واقعات میں 24 افراد کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (کراچی کی بڑی سیاسی جماعت) کی اپیل پر ایک یوم سوگ بھی منایا گیا۔‘‘ عتیق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے مختلف کاروباری اداروں کو 20 بلین روپے (220 ملین ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ صنعتی اداروں کو 45 بلین روپے ( 495 ملین ڈالر) کا مالی نقصان ہوا۔‘‘ کراچی ملکی جی ڈی پی ( مجموعی قومی پیداوار) میں 42 فیصد حصہ ملاتا ہے، ٹیکس کی مد میں ملک بھر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد جبکہ سیلز ٹیس کا 62 فیصد کراچی سے ہی حاصل ہوتا ہے تاہم عتیق میر نے کراچی کی صورت حال کو ملک کے شمال مغربی علاقے سے مماثل قرار دیتے ہوئے کہا، ’کراچی ایک شہری وزیرستان بنتا جا رہا ہے، جہاں حکومت اپنی عمل داری کھو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کراچی سیاسی اور لسانی اعتبار سے اب جغرافیائی طور پر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، جہاں مسلح مافیا گروہ حکومت کرتے ہیں اور عملی طور پر پولیس یا سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری موجود نہیں

پاکستان میں ڈاکٹروں اور فلاحی اداروں کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں ان کے وارث مختلف وجوہات کی بنا پر یا تو قتل کر دیتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے جھولے میں ڈال دیتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے لاوارث گمنام بچوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ان بچوں کی پرورش کرنے والے ہر ادارے کے پاس انفرادی ریکارڈز تو موجود ہیں تاہم مجموعی اعدادوشمار اب تک جمع نہیں کئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں کئی ایسے غیر سرکاری فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے وہ بچوں کو پال نہیں سکتے تو انہیں اداروں کے سپرد کردیا جائے جہاں ان کو گود لینے کے لئے کئی جوڑے رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاونڈیشن کے ملک بھر میں چار سو مراکز قائم ہیں جن کے باہر جھولے لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس بات کی جانب آمادہ کرنا ہے کہ وہ ایسے بچے جن کی پرورش وہ نہیں کرنا چاہتے، انہیں قتل کرنے یا کسی گلی محلے اور کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے ان جھولوں میں ڈال دیں۔ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدلاستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے ان جھولوں سے ملنے والے بچوں کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ چھ دہائی قبل ان کے شروع کئے گئے جھولا پراجیکٹ کے تحت سولہ ہزار بچوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ تاہم مردہ حالت میں بچے اب بھی شہر کے مختلف علاقوں سے ملتے رہتے ہیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف ایدھی فاونڈیشن کو ہی ملک بھر سے سالانہ اوسطاً تین سو پینسٹھ بچے ملتے ہیں،’’زیادہ تر مرے ہوئے بچے ملتے ہیں۔ انہیں پلاسٹک بیگ میں بند کرکے، منہ میں کپڑا ڈال کر یا گلے میں رسی ڈال کر پھینک دیتے ہیں۔عبدلاستار ایدھی کے مطابق ملنے والے ان بچوں میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے جبکہ مردہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے، ’’ہمیں سال میں اگر پچیس بچے زندہ ملتے ہیں تو اڑھائی سو مردہ ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو معذور یا دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں بھی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے‘‘۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف مئی دو ہزار بارہ میں تیرہ گمنام نوزائدہ بچوں کی لاشیں ان کی تنظیم کو ملی جنہیں دفن کیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے بچوں کو فوری طور پر گود لینے کے خواہش مند جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ عبدلاستار ایدھی کے مطابق اب تک چھبیس ہزار بچوں کو ان کے ادارے نے گود دیا ہے۔ان میں دیگر طریقوں سے ایدھی سینٹر کو ملنے والے بچے بھی شامل ہیں ۔ ان بچوں کو گود دینے سے قبل جوڑوں کی اچھی طرح سے چھان بین کی جاتی ہے، ’’ہم بچے صرف بے اولاد جوڑوں کو دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ لمٹس رکھی ہیں ۔ مثلاً شادی کو دس سال ہوئے ہوں، اولاد نہ ہو تو اپلائی کر سکتے ہیں ۔ جائداد دیکھتے ہیں، مکان پکا ہے اور اپنا ہے تو دیتے ہیں۔ چھ ہزار سے کم تنخواہ والوں کو نہیں دیتے کیونکہ بچے کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہوتی ہے۔ جبکہ بچہ حوالے کرنے کے بعد پانچ سال تک خبر گیری رکھتے ہیں۔ آگے اسلئے نہیں کرتے کہ تاکہ بچے کو احساس نہ ہو کہ وہ گود لیا ہوا بچہ ہے‘‘۔ ان بچوں کو گمنام چھوڑ دینے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ بلقیس ایدھی کے مطابق بعض ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو زنا یا زیادتی کے باعث مائیں بن جاتی ہیں اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ان کی پرورش نہیں کرنا چاہتی۔ بعض عورتیں دوسری شادی کے لئے بچے چھوڑ جاتی ہیں۔ اور بعض دیگر مجبوریوں کے باعث بچے سے دستبردار ہوتی ہیں، اُن کے بقول،’’ایک غربت اور دوسرا جہالت، ہمارے ملک میں غربت بہت ہے، ہمارے ملک میں بے روزگاری ہے، ملک میں منصوبہ بندی نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہوتی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عورت کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں‘‘۔ پاکستان میڈیکل ایسوسیشن سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کہتی ہیں کہ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنہیں لاوارث اور گمنام چھوڑا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا،’’ ان میں صرف ناجائز بچے نہیں ہوتے بلکہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ماں باپ غربت کے باعث انہیں پال نہیں سکتے۔ بچے پر بچہ پیدا ہوتا جاتا ہے، کوئی فیملی پلاننگ نہیں ہوتی۔ نہ ہی درمیان میں کوئی وقفہ ہوتا ہے۔ انہیں نہ کچھ بتایا جا رہا ہوتا ہے نہ انہیں اسے کنڑول کرنے کے لئے کوئی چیز دی جارہی ہوتی ہے۔اگر ایسے میں بچہ پیدا ہو جائے تو لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیتے ہیں‘‘۔جرمنی سمیت دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہسپتالوں میں ایسے جھروکے قائم ہیں جہاں نومولود کو مائیں مختلف وجوہات کے باعث چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں‘‘۔ ہسپتالوں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں ایسے کسی نظام کے نافذ کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ یہاں اتنی کرپشن سے کہ اگر ایسے نظام قائم کئے گئے تو یہ کاروبار کی صورت اختیار کر جائیں گے، وہ کہتی ہیں،’’ لوگ اس کاروبار کے تحت بچوں کی خرید و فروخت شروع کر دیں گے۔اسلئے میرے خیال میں ایسا کوئی نظام سرکاری اداروں میں نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں لیکن ایدھی سینٹرز کی طرح کے ادارے ہوں تو ان کے حوالے کیا جا سکتا ہے جہاں نہ صرف بچوں کی مناسب دیکھ بھال ہوتی ہے بلکہ انہیں گود لینے کے خواہشمند جوڑوں کے حوالے بھی کیا جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں baby hatches یا ایسا کوئی نظام قطعی طور پر ہونا چاہئے جس کے تحت لاوارث چھوڑ دئیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام ہو۔ کیونکہ یہ ان کو قتل کرنے سے بہتر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’جو بچہ نہیں رکھنا چاہتا وہ ہر صورت میں نہیں رکھے گا۔ وہ اس کو مار کر پھنک دے گا، گلا دبا دے گا ،سانس روک دے گا، غلط ہاتھوں میں بچہ چلا جائے گا۔ اس سے بہتر نہیں ہے کہ آپ ایک جھولا لگائیں جس میں بچہ چھوڑ کر جانے والے بچے کو ڈال جائیں ۔ کم از کم اس کی جان تو بچ جائے گی،اس کو تعلیم اور کھانا تو مل جائے گا‘‘ ۔ملک میں baby hatches کے حق میں جہاں ایک طرف پزیرائی پائی جاتی ہے وہیں اس نظام کے حوالے سے کچھ مخالفت بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق لاوارث بچوں کی پرورش اور انہیں گود دینے پر بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’مولویوں نے کہا کہ عبدلاستار ایدھی اور ان کی بیوی واجب القتل ہیں کیونکہ یہ حرام کے ناجائز بچے پالتے ہیں اس لیے یہ جنت میں نہیں جائیں گے اور اسلام سے خارج ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آج تک تنقید کر رہے ہیں‘‘ ۔ ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ظہیر عابدی کا کہنا ہے کہ ماؤں کا اپنے بچوں کو کسی خیراتی ادارے میں چھوڑ جانا احسن عمل نہیں اور اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن بچوں کو قتل کرنے سے کم از کم بہتر ہے کہ انہیں ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا ، ’’انسانی معاشرہ میں اس بات کی کہیں اجازت نہیں کہ بچوں کو کسی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ اور اسلام میں تو پہلے ہی بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ جن پر عمل درآمد کیا جائے تو نوبت ہی نہ آئے کہیں بچہ حوالے کرنے کی ۔ اور اگر غربت کے باعث ایسا کیا جا رہا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ غربت کے باعث اپنے بچوں کو نہ مارو کیونکہ اس کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ لیکن اسلام میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ناجائز بچوں کی پرورش کرنے والے جرم کرتے ہیں یا وہ واجب القتل ہیں‘‘۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ تہران حکام  کی جانب سے یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب وہ رواں ہفتے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہے ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے مذاکرات کے موقع پر اس اہم معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کو ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بجلی بنانے کے لیے کم سطح پر یورینیئم کی پیداوار جاری رکھتے ہوئے، 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی پیداوار روکنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ فریدون عباسی کا کہنا ہے: ’’ضرورت کے مطابق ایندھن دستیاب ہونے پر، ہم پیداوار کم کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسے تین اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر لے آئیں۔‘‘ ساتھ ہی عباسی نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تبادلے کے معاہدے کا خیال مسترد کر دیا، جو تین سال پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسے دیگر ملکوں سے 20 فیصد ایندھن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس حوالے سے ایران خود سرمایہ لگا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ہفتے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں صالحی کا کہنا تھا: ’’اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط لاگو کرنا مذاکرات سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی مانند ہے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ مذاکرات سے پہلے کوئی بھی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ردِعمل میں کہی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران سے فردو کے زیر زمین نیوکلیئر بنکر کو بند کرنے اور بیس فیصد تک یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کریں گے

فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں یوپے نے کہا ہے کہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے شامی حکومت کے وعدے جھوٹ پر مبنی تھے۔ ترکی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر بشار الاسد نے کوفی عنان سے جھوٹ بولا۔‘ یوپے کے مطابق، ’ نہ ہی بھاری ہتھیاروں سے حملے بند ہوئے ہیں۔ نہ ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ نہ صرف دمشق بلکہ دیگر علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور شامی حکومت جسے فوجی دستوں کا انخلا قرار دے رہی ہے وہ اصل میں متاثرہ علاقوں میں مزید فوجیوں کا بھیجا جانا ہے۔‘یوپے نے کہا کہ وہ یہ معاملہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے: ’’ہم زور دیں گے کہ 12 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال سے تمام تر نتائج اخذ کرے اور دیکھے کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور وہاں سیاسی مکالمت کے آغاز کے لیے کیا نئے اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ کا یہ بیان کوفی عنان کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے جانے والے اس خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عنان نے کہا تھا کہ اسد حکومت ’امن کا اشارہ‘ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عنان نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے ’بنیادی نکتے‘ کا خیال رکھتے ہوئے 12 اپریل تک مکمل طور پر سیز فائر کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 اپریل تک ہر حال میں فائربندی کرے اور ایسے واضح اشارے دے کہ وہ جنگ مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ اگر شام جمعرات کی ڈیڈ لائن کا احترام کرتے ہوئے فائربندی نہ کرے تو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، ’’اگر شامی حکومت اگلے 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل طور پر فائربندی کرنے میں ناکام ہو، تو اقوام متحدہ ایک قرارداد کے ذریعے وہاں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘‘ ترک وزارت خارجہ کے اس بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل سے کس طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے

بھارتی عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ایک تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے دس برس قبل مسلمانوں کے خلاف ہونے والے بلووں میں بھارتی وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ملوث ہونے سے متعلق شواہد نہیں ملے۔ منگل کے روز یہ بات بھارتی عدالت نے کہی۔ اس سے قبل حقوق انسانی کے کارکنان یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ سن 2002ء میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے خلاف خونریز حملے کیے گئے لیکن وزیراعلیٰ مودی نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سن 2002ء میں ہونے والے ان حملوں میں تقریبا دو ہزار افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ مودی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں نہیں پہنچایا۔ بھارتی خبر رساں ادارے PTI نے بھارتی مجسٹیریل کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ان حملوں میں مودی یا شکایت میں شامل دیگر 57 افراد کے خلاف ایسے ثبوت یا شواہد نہیں ملے، جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ افراد ان حملوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تھے۔نریندر مودی ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سن 2014ء کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس اعلان سے مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان افراد کے خلاف شکایت گزار ذکیہ جعفری تھیں، جو کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابقہ رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔ احسان جعفری سن 2002ء میں ہونے والے ایک حملے میں مسلح گروہ کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں گجرات کی ایک ہاؤسنگ کالونی میں دیگر 68 افراد کے ہمراہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل مودی کے وکلا ان الزامات کو ’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دیتے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب نریندر مودی ریاستی انتخابات میں چوتھی مرتبہ وزرات اعلیٰ کے لیے کھڑے ہونے والے ہیں۔ گجرات بھارت کی صنعتوں کی تعداد کے اعتبار سے دیگر ریاستوں سے اوپر ہے۔ اس ریاست میں رواں برس انتخابات ہوں گے۔ اس سے قبل پیر کے روز ایک بھارتی عدالت نے سن 2002ء کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 23 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ان حملوں میں شرکت کرتے ہوئے تقریبا دو درجن افراد کو ہلاک کیا تھا۔

کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر فائرنگ سے زخمي 12 ميں سے  6 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے، شہد ہونےوالے افراد کي تعداد 6 ہوگئي ہے مزید اطلاعات کے مطابق فائرنگ پرنس روڈ پر واقع السادات شوز میکر کی دکان پر کی گئی۔ السادات شوز میکر کے مالک محمد موقع پر ہی شھید ہوگئے تھے۔تمام زخمیوں اور شھیدوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہیں۔ پوليس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر جوتے کي دکان پر نامعلوم موٹر سائيکل سواروں کي فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق اور  6 سے زیادہ زخمي ہوگئے تھے جن ميں سے مزيد 2 افراد زخموں کي تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال ميں جاں بحق ہوگئے ہيں، زخميوں کو سول اسپتال کوئٹہ ميں طبي امداد دي جارہي ہے. اطلاعات کے مطابق کوئٹہ پرنس روڈ پر کالعدم ملک دشمن سپاہ صحابہ سعودیہ نواز مسلمان دشمن گروہ  کے درندہ صفت دھشتگردوں کی فائرنگ سے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والے متعدد شیعہ مسلمانوں کو شھید اور کئی کو زخمی کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شھید ہونے والوں کی تعداد6  جبکہ 6 سے زائد افراد شدید زخمی۔یاد رہیں کوئٹہ میں ایک خاض مقصد کے تحت شیعہ نسل کشی جاری ہیں، جس میں صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ مکمل ملوث ہیں۔ اور کوئٹہ کے جہادی گروپ جو شیعان علی کے قتل عام میں ملوث ہیں انہیں ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور مقامی اتظامیہ کی مکمل پشت پناھی حاصل ھے۔  جبکہ دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے باہر اور پرنس روڈ پر نامعلوم افراد کي جانب سے ہنگامہ آرائي کي گئي ہے.جس پر پوليس کي بھاري نفري دونوں مقامات پر پہنچ گئي ہے اور حالات قابو ميں کرنے کي کوشش کي جارہي ہے اور وزیر اعلی بلوجستان نے صرف دیکھاوے کے لیے  پرنس روڈ تھانے کے ڈیوٹی پر معامور پولیس افسران کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے تا کہ وہ اس حادثہ کے بعد تھوڑا آرام کر لیں۔

گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی شاہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نے مرکزی امامیہ جامع مسجد اسکردو میں امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران گورنر نے علماء کرام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سکردو والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پاکستان کو بنانے کے لیے یہاں کے لوگوں کی بے پناہ خدمات ہیں، بلتستان کے علماء کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے انتہائی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں امن برقرار رکھا، قیام امن کے لیے پرخلوص کوشش کرنے پر بلتستان کے علماء کو سلام پیش کرتا ہوں، بلتستان کے عوام اور علماء کے تحفظات دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی، ہمیں علماء کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہم نے قیام امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ہم نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان تک قیام امن کے لیے رسائی کی ہے۔ گلگت بلتستان اسلام کا قلعہ ہے۔ امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر علماء بروقت مداخلت نہ کرتے تو بلتستان کے حالات انتہائی خراب ہو جاتے۔ شیخ محمدحسن جعفری نے کہا کہ ۸۸ء کے سانحے کے بعد سانحہ کوہستان بڑا سانحہ ہے اور صرف 40روز کے اندر دوسرا سانحہ رونما ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ قراقرام اب موت کا کنواں بنا ہوا ہے.ہمارے بارہا کہنے کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی امن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم امن کے ٹھیکدار نہیں ہیں، ہم نے اپنا کردار ادا کیا، اب حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ ابھی جو امن قائم ہے وہ علماء کی وجہ سے قائم ہے، ہماری امن پسندی کو بزدلی نہ سمجھا جائے، ہم نے ہمیشہ صبر کیا اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔  دوسری جانب گورنر  اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے سکردو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہ قراقرم نو گو ایریا نہیں یہاں سے ہر شہری سفر کر سکتا ہے، جن کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ شاہراہ کو ایف سی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، متبادل راستوں پر بھی جلد از جلد کام شروع کرایا جائے گا، جبکہ جہاز کے کرایوں میں کمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ گورنر اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کے لواحقین کو سانحہ کوہستان کے شہدا کے برابر معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے دوران تماشائی بننے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کی تعداد کا علم نہیں، تاہم صرف ایک شخص لاپتہ ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے دریا میں چلانک لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موبائل نیٹ ورکس آج شام سے بحال ہو جائیں گے۔ سکردو کے حالات کو بگڑنے سے بچانے کا سارا کریڈٹ علماء کو جاتا ہے۔  انہوں نے علماء کرام سے گفتگوکرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سانحہ چلاس کے ذمہ داران کوکسی طورپر نہیں بخشا جائے گااوراس سانحے میں ملوث افرادکوضرورسزاملے گی،انہوں نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح میں امن ہے۔ اس موقع پرعلامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہاکہ ایسے واقعات نیم ملاؤں اورنیم مفتیوں کی وجہ سے پیش آرہے ہیں جواسلام کی اصل تعلیمات سے نابلدہیں ،شیخ محمد حسن جعفری نے پرزورمطالبہ کیاکہ ایسے سانحوں سے بچنے کے لئے حکومت اعلیٰ سطحی اقدامات کرے اورسنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد نقوی نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہیں، اس وقت ملک میں کوئی قانون نہیں، موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ملک داخلی اور خارجی مسائل سے  دوچار ہو سکتا ہے، ملک میں جاری ظلم و بربریت فقہی اصطلاحات کیخلاف ہیں بلکہ شرپسند عناصر امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت اور بلتستان میں ٹارگٹ کلنگ کر کے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امریکہ عالم اسلام کا دشمن ہے، جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت مقرر کرنے پہ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ سے احتجاج کرے، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے ملک کے شہری کے سر کی قیمت مقرر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی فساد نہیں کوئی شیعہ کسی اہلحدیث، دیوبندی، سنی یا بریلوی کو اور کوئی سنی بریلوی، اہلحدیث کسی شیعہ کو قتل نہیں کر سکتا، ایک مخصوص گروہ ملک میں امن و امان کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔  قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ حکمران کراچی، کوئٹہ، گلگت بلتستان میں ٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کی موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا، فسادات کے پیچھے شرپسند عناصر ہیں جن پر حکمران قابو پائیں اور دہشتگرد تیار کرنیوالی فیکٹریاں ڈھونڈیں۔ حضرت علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ شرپسندوں کا ایک ٹولہ ہی ملک کے امن و امان کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے، لیکن حکومت خاموش ہے، حکومت کو چاہیے کہ امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کرئے۔

شیعہ علماء کونسل حیدرآباد کی جانب سے سانحہ چلاس وگلگت کے خلاف قدم گاہ مولاعلی سے کو ہ نور چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید کاظم حسین شاہ نقوی‘ سید غلام محی الدین شاہ حسینی‘ نواز علی شاہ‘ مصطفی علی حیدری ودیگرنے کی۔ ریلی میں شامل افراد کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز تھے جن پر مختلف احتجاجی نعرے درج تھے.مقررین نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار سے گلگت ،گلگت بلتستان سے کراچی اور کوئٹہ سے خیبر تک مٹھی بھر وحشی درندوں جن کی پشت پناہی غیر ملکی طاقتیں اور اندرونی طور پر کچھ ناعاقبت اندیش مفاد پرست قوتیں کر رہی ہیں اور اس ظلم و بربریت کا شکار نہتے پاکستانی خاص طور پر اہل تشیع کے افراد ہیں انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان وزیراعظم ، وزیر داخلہ، چیف آف آرمی اسٹاف اور سب سے بڑھ کر چیف جسٹس آف پاکستان ہمارے اس تشنہ سوال کا جواب دیں کہ شیعہ نسل کشی کیوں ہو رہی ہے اور یہ کیسے رک سکتی ہے-

کراچی: کاروان آل یٰسین کے زیر انتطام ”عظمت حج و زیارات کانفرنس“ برائے شیعہ زائرین اور حج آرگنائز ر کا انعقاد بھوجانی حال میں کیا گیاجس میں حجاج، زائرین اور حج آرگنائزر کی کثیر تعدا د نے شرکت کی ، گو کہ اس قسم کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان اور خاص کر کراچی میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے ، پہلی مرتبہ کے حساب سے کانفرنس متوقع امید سے کئی گناہ زیادہ کامیاب ہوئی جس میں شہر کراچی میں بسنے والے مومنین اور مومنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس کے ساتھ ساتھ شہر کی مقتدر اورمعزز شخصیات کے علاوہ علماءکی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض پروفیسرر انور زیدی نے انجام دئیے اور مختلف علماءحضرات مولانا محمد علی امینی، مولانا اصغر مشہدی،مولانا عبداللہ رضوانی،، علامہ باقر زیدی، علامہ جعفر رضا نقوی ،زوار صاحب اور کاروان آل یٰسین کے روح روان اورچیف آرگنائزر عابد رضوی صاحب کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا اور حج کی اہمیت، مقصد، حج کا فلسفہ، روحانی ثمرات اس کے علاوہ حج کی تیاری ، بکنگ ، قیام گاہ ، حج کے مختلف ارکان کی ادائیگی کے بارے میں مفصل اور سحر انگیز خطاب کیا ۔علماءو مقررین مقصد حج بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حج وہ واحد عبادت ہے جو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے اور اس خواہش کا اظہارخود خدا نے کیا ہے کہ تمام مسلمان اس کے گھر کا حج کریںجو استطاعت رکھتے ہیںنیزحج و زیارات کا ہدف یہ ہے کہ انسان زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی مصلحت پر راضی ر ہےں۔اس موقع پرعلامہ و ذاکریں حضرات نے خطاب میں جنت البقیع مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع وہ مقام ہے جہاں نہ دن میںکوئی سایہ ¿ ہے اور نہ رات کی تاریکی میں کوئی اُجالا ہے۔آخر میں کاروان آل یٰسین کے چیف آرگنائزر عابد رضوی خطاب میں کہا نے اس عظمت حج و زیارات کانفرنس میں شرکت کرنے والے حجاج،زائرین اور حج آرگنائز ر کی اس کثیر تعداد میں شرکت کاروان آل یٰسین کی معیاری اور پُر خلوص خدمات پر ان کے اعتماد ثمر ہے جس پر کاروان آل یٰسین اور ان کی پوری ٹیم شکریہ اداکرتی ہے۔اس عظمت حج و زیارات کانفرنس کی مناسبت سے کاروان آل یٰسین نے قرآن و عترت فاﺅنڈیشن کے صدر جناب خاور صاحب کے تعاون سے حج ، عمر و زیارات کے حوالے سے سی ڈی کے اسٹال بھی لگائے تھے جن میں حج کے عنوان سے سی ڈیز وغیرہ حجاج ، مومنین اور حج آ رگنائز ر کے لیے نہایت مناسب ہدیے پر دستیاب تھی جن میں شرکائے کانفرنس نے گہری دلچسپی کا اظہار کیااور کاروان آل یٰسین کی اس کاوش کو ثمر آور قرار دیا۔

کراچی :شیعہ علماء کونسل کراچی کے صدر علامہ سید علی محمد نقوی نے کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس میں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ کراچی پولیس کے چند نااہل افسران بھی شامل ہیں جن کے بارے میں بار بار توجہ دلانے کے باوجود ان کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی عمل میں نہ لائی جاسکی۔ پولیس کو بے گناہ عوام کا قتل عام روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی تمام تر توجہ جوئے، سٹے کے اڈوں، شراب خانوں اور منشیات کے اڈوں پر مرکوز ہے۔ کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک مکتب فکر کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر ہم سی سی پی او کر اچی اختر گورچانی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نااہل افسران کو معطل کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کسی بھی شیعہ نوجوان کی ٹارگٹ کلنگ ہوگی تو اس کی ایف آئی آر، ایس ایس پی سینٹرل کے خلاف درج کرائی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ شرپسندوں پر نظر رکھیں اور کوئی بھی مشکوک فرد کو یا کوئی چیز نظر آئے تو اس کی فوری اطلاع پولیس اور اپنی تنظیم کے ذمہ داروں کو دیں اور کسی بھی حالت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں

کراچی (پ ر) شاہ کربلا ٹرسٹ رضویہ سوسائٹی کا ایک تعزیتی اجلاس الحاج سید دلشاد حسین رضوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں گلگت، کوئٹہ کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری شیعہ مسلمانوں کے قتل کی پرزور مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرتناک سزائیں دی جائیں اور کالعدم دہشت گرد جماعت اور اس کے اراکین پر کسی بھی دوسرے نام سے حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے اور شہداء کے ورثاء کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ اجلاس میں شہداء کو ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت، لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔ اس موقع پر الحاج سید آغا عباس جعفری، سردار حسن اور دیگر بھی موجود تھے

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے ترکی کے توسط سے ایرانی سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کے نام خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام پرامن ثابت کر دے تو امریکا اسے قبول کر لے گا ، خط میں یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں نہیں کرے گا۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کا خط ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچایا۔ ترک وزیر اعظم نے امریکی صدر کا یہ پیغام بھی ایرانی سپریم لیڈر تک پہنچایا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں ایران جوہری تنازع کے پرامن حل کے محدود مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔آن لائن کے مطابق خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اگر حال ہی میں کئے گئے اپنے اس دعوے پر قائم رہیں تو ان کی قوم کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہیں بھاگے گی تو امریکا کو ایران کے سویلین نیوکلیئر پروگرام پراعتراض نہیں ہوگا۔اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کو گناہ عظیم اور یورینیم کی افزودگی کو تباہ کن قرار دیا تھا رپورٹ کے مطابق سیوٴل میں صدر اوباما نے ترک وزیراعظم سے ملاقات میں یہ خط ان کے حوالے کیا

وحدت المسلمين کے رہنمااضغر عسکري کا کہنا ہے کہ جنازے بھي ہمارے پياروں کے اٹھائے جارہے ہيں اور انکا الزام بھي ہم پر لگايا جارہا ہے.نااہل حکومت دوسروں کي طرح ہميں بھي ہتھيار اٹھانے پر مجبور کررہي ہے تاکہ ملک ميں خانہ جنگي کے حالات پيدا ہوں. اسلام آباد ميں سانحہ چلاس کے خلاف وحدت المسلمين کے دھرنے کے تيسرے روز پريس کانفرنس کرتے ہوئے اضغر عسکري نے کہا کہ ملک دشمن عناصر گلگت بلتستان ميں مذہبي فرقوں ميں فسادات پھيلا رہے ہيں اور دہشت گردوں کا نشانہ ہميشہ کي طرح اہل بيت کو ہي بنايا جارہا ہے.انکاکہنا تھا کہ 6 دن گزرنے کے باوجود حکومت اور سيکيورٹي فورسز نے سانحہ چلاس کے زمہ دران کو گرفتار کرنے کے بجائے گلگت ميں شہدا کے سوگواروں پر کرفيو مسلط کر رکھا ہے جس کے باعث مقامي لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے.انھوں نے کہا کہ اگر سانحہ چلاس ميں ملوث لوگوں کو فوري گرفتاراور علاقے ميں امن قائم نہ کيا گيا تو ملک بھر ميں احتجاج کي کال دي جائے گي.جسکا مرکز اسلام آباد ہوگا.وحدت المسلمين کي جانب سے آئندہ جمعے ايک بڑے احتجاجي مظاہرہ کا اعلان کيا گيا ہے

راولپنڈي… قائد ملت جعفريہ آغاسيدحامدعلي شاہ موسوي نے سياچن گليشئر کے گلياري سيکٹر ميں فوجي کيمپ پر برفاني تودہ گرنے کے سانحہ کو عظيم قومي الميہ قرارديتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے عساکر پاکستان کے جوانوں اور کراچي ‘کوئٹہ اور گلگت بلتستان ميں ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بننے والے اہل وطن کے درجات کي بلندي کيلئے سوموار 9اپريل کو ملک گير ” يوم ترحيم “ منانے کا اعلان کيا ہے.ہيڈکوارٹر مکتب تشيع سے جاري کردہ ايک بيان ميں انہوں نے کہا کہ نامساعد حالات ميں ملکي سرحدوں کي حفاظت اوراندروني و بيروني خطرات کا مقابلہ کرنے والے افواجِ پاکستان کے سپوتوں کي سلامتي اور حفاظت کيلئے خصوصي دعائيں کي جائيں کيونکہ يہ ہيروز قوم کے ماتھے کا جھومر ہيں .آقاي موسوي نے کہا کہ يہ شہداء درحقيقت قومي اعزازات اور قومي تمغوں کے مستحق ہيں جن کے غمزدہ خاندانوں کے غم ميں پوري قوم برابر کي شريک ہے.انہوں نے گلگت بلتستان ‘چلاس ‘کوئٹہ اور کراچي ميں پے درپے ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردي کي بھينٹ چڑھنے والے بے گناہ شہريوں کے ايصالِ ثواب کيلئے يوم ترحيم کے موقع پر قرآن خواني‘مجالس تراحيم اور فاتحہ خواني کرکے ان کے لواحقين کے زخموں کيلئے مرہم کا سامان بہم پہنچايا جائے.انہوں نے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ دہشتگردي کي بھينٹ چڑھنے والے اہل وطن کے قاتلوں کو في الفور گرفتار کرکے کيفر کردار تک پہنچائے اورلواحقين کو پہنچنے والے نقصانات کي تلافي کرے‘ عدليہ تمام سانحات کي تحقيقات کيلئے اعلي? سطحي کميشن تشکيل دے.

راولپنڈي … گلگت ميں فسادات کے دوران پھنس جانے والے 120 غير ملکي سياحوں کو راولپنڈي پہنچا ديا گيا. گلگت فسادات کے دوران يہ غير ملکي ہنزہ کے قريب کريم آباد کے علاقے ميں پھنس گئے تھے. تمام غيرملکي سياحوں کو ايئرفورس کے جوانوں نے متاثرہ علاقے سے نکالا اور سي 130 کے ذريعے انہيں چکلالہ ايئربيس پہنچايا. ان غير ملکيوں ميں 77 جاپاني اور 3 کينيڈين کے علاوہ امريکا، ناروے،جرمني ، تھائي لينڈ اور چين کے باشندے شامل ہ

سراجيوو…بو سنيا کے دارلحکومت سر ا جيووميں بيس سال قبل جنگ ميں مر نے والوں کو ايک انو کھے انداز ميں يا د کياگيا اور شہر کي سڑ ک کو ہزاروں خالي کرسيوں بھر ديا. انيس سو بيا نو ے ميں بو سينيااور سر بيا کے درميان ہو نے والي جنگ ميں ہلا ک ہو نے والے افراد کي يا د ميں شہر کي مر کزي شاہر ا ہ پر گيارہ ہزار پا نچ سو اکتا ليس سر خ کر سياں رکھي گئيں جو مر نے والوں کو يا دکرنے کي علامت تھيں . ان کر سيوں کي آ ٹھ سو پچيس قطاروں کي ترتيب ديکھ کر يو ں محسوس ہو رہا تھا جيسے شہر کي سڑ ک پر لہو بہہ رہا ہو.واضح رہے کہ اس جنگ کے دوران سر بيين فو جو ں نے چواليس ما ہ تک سراجيوو کا محا صر ہ جاري رکھا تھا جس کے دوران تقريبا ً چاليس لاکھ افراد کھانے پينے اور بجلي سے محر وم ہو گئے تھے جبکہ يہ دو سري جنگ عظيم ميں کيے جانے والے روسي شہر لينن گراڈ کے محا صرے سے بھي طويل ترين محا صر ہ تھا

ويٹي کن سٹي …ويٹي کن سٹي ميں ايسٹر کے موقع پر جمع ہونے والے افراد سے پوپ بيني ڈکٹ نے خطاب کيا. انہوں نے اس موقع پر لوگوں کي توجہ بڑھتي ہوئي ماديت پرستي کي جانب مبذول کرائي پوپ بيني ڈکٹ نے سينٹ پيٹرز بيسي ليکا ميں تقريباً 10 ہزار لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان خدا اور اخلاقي اقدار سے تيزي سے دور ہو رہا ہے جو پوري دنيا کے ليے خطرہ ہے . انہوں نے ماديت پرستي کو اندھيرے سے تعبير کرتے ہوئے کہا کہ دنيا کو روشني کي سمت بڑھنا چاہيئے.انہوں نے کہا کہ آج کا انسان ٹيکنالوجي کا غلام بن چکا ہے جبکہ اسے خدا کا غلام بننا چاہ

راولپنڈي … ترجمان پاک فوج ميجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ سياچن حادثہ ايک غير معمولي واقعہ ہے، وثوق سے نہيں کہا جاسکتا کتنے افراد نيچے زندہ ہوں گے، دوست ممالک سے تيکنيکي معاونت لينے کي کوشش کررہے ہيں، پوري قوم ملبے تلے دبے فوجي اہلکاروں اور شہريوں کيلئے دعا کرے. ترجمان پاک فوج نے جيو نيوز کے پروگرام ليکن ميں ثناء بچہ سے گفتگر کرتے ہوئے کہا کہ ايک کمانڈنگ آفيسر سميت ديگر اہل کار برفاني تودے ميں دبے ہوئے ہيں جن ميں سے 70 سے 80 فيصد کا تعلق شمالي علاقہ جات سے ہے، امدادي کارروائياں جاري ہيں، پاک فوج کے انجنئيرز بھي امدادي کاموں ميں مصروف ہيں. ميجر جنرل اطہر عباس نے ايک سوال کے جواب ميں بتايا کہ دوست ممالک سے تکنيکي معاونت لينے کي کوشش کر رہے ہيں تاہم حکومت فيصلہ کرے گي کہ کس ملک سے مدد ليني ہے. انہوں نے کہا کہ سياچن ميں برفاني تودے معمول کي بات ہے ليکن اس نوعيت کا واقعہ پہلے کبھي نہيں ہوا سياچن حادثہ ايک غير معمولي واقعہ ہے، وثوق سے نہيں کہا جاسکتا کہ کتنے افراد ملبے کے نيچے زندہ ہوں گے. ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ کوشش پوري کررہے ہيں، اہل کاروں کو زندہ نکالا جاسکے، پوري قوم پاک فوج کے اہل کاروں کيلئے دعا کرے

راولپنڈي… آرمي چيف جنرل اشفاق پرويز کياني نے سياچن کے گياري سيکٹر کا دورہ کيا اور برف کے تودے تلے دبے جوانوں کي تلاش کے کام کا جائزہ ليا. آئي ايس پي آر کے بيان ميں کہا گياہے کہ گياري سيکٹرميں گرنے والا برفاني تودہ 80 فٹ اونچا اور ايک کلوميٹر رقبے پر پھيلا ہوا ہے. ہفتے کي صبح حادثے کے ايک گھنٹے کے اندر 21 افراد موقع پر پہنچ گئے تھے جنہوں نے اپنے طور پر امدادي کارروائي شروع کردي تھي. آئي ايس پي آر کے مطابق اس وقت 180 فوجي اور 60 سويلين افراد امدادي کاموں ميں مصروف ہيں.آرمي ،فرنٹيئر ورکس آرگنائزيشن اور گلگت بلتستان پبلک ورکس ڈيپارٹمنٹ کي بھاري مشينري موقع پر موجود ہے. اس کے علاوہ راول پنڈي سے سي ون تھرٹي طيارے کے ذريعے بھي بھاري مشينري لائي گئي ہے جس سے برف اور پتھروں کو توڑا اور ہٹايا جارہا ہے. جديد ترين آلات سے ليس آرمي انجينئرز کي خصوصي تربيت يافتہ ٹيموں کے ساتھ ساتھ سراغ رساں کتوں سے بھي مدد لي جارہي ہے. تلاش اور امداد کے کام پر نظر رکھنے اور اسے مربوط و موثر بنانے کے لئے گياري ميں ہيڈکوارٹر 10 کور اور ہيڈکوارٹر ايف سي اين اے ميں خصوصي انتطامات کئے گئے ہ

اسلام آباد میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔مجلس وحدت مسلمین کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ ایک بار پھر گلگت بلتستان میں آگ لگائی گئی ہے۔ دہشتگردی میں ملوث ایک شخص کی گرفتاری کیخلاف ہڑتال کا اعلان اور ہڑتال کی آڑ میں فورسز اور پولیس کی بے گناہ عوام اور گھروں پر حملے اور بے دریغ فائرنگ نے علاقے کے امن و امان کو تباہ کر دیا ہے۔ لیکن اس تمام صورتحال کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ چلاس کے مقام پر ایک بار پھر مسافر بسوں سے بے گناہ مسافروں کو اتارا گیا اور ان کے شناختی کارڈ چیک کر کے ان میں سے آخری اطلاعات آنے تک 10 افراد کو شہید اور درجنوں مسافروں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات یہ ہیں کہ مسلح لشکر کوہستان اور دیامر کے علاقوں سے گلگت کی طرف روانہ ہو چکا ہے۔  ایم ڈبلیو ایم سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال انتہائی خطرناک نتائج کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس کے نتائج پورے علاقے اور وطنِ عزیز کے باقی علاقوں کو بھی متاثر کریں گے۔ فرقہ واریت اور شدت پسندی پہلے ہی ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اگر حکومت اور بالخصوص سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے میں کسی طرح سے بھی کوتاہی کی تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہونگے، بلتستان کی تمام وادیوں میں اس وقت بے چینی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ ہنزہ نگر میں عوام سڑکوں پر آگئی ہیں۔ ایسے میں سکیورٹی کے ذمہ دار اداروں کا امتحان شروع ہو چکا ہے۔ فرقہ وارانہ سوچ رکھنے والوں کی سرپرستی اور پشت پناہی سے ملک کی سلامتی کو جو خطرات بلوچستان میں لاحق ہو چکے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں، اب اگر یہ ادارے گلگت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں تو یہ اس ملک کی بدقسمتی ہو گی۔ آج ہی کے دن کراچی میں 3 بے گناہ شیعہ جوانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا اور خبر آئی ہے کہ اس میں حکومت اتحاد کے مسلح لوگ بھی ملوث ہیں۔  ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں حالات کی ابتری کے ذمہ دار سکیورٹی کے ادارے ہیں، ان حالات سے ملک دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ رحمان ملک نے سانحہ کوہستان کے حوالے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے، جس سے عوام میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزیراعلٰی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ صوبے میں امن قائم نہیں کر سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے بعد گلگت میں حالات خراب کرنے کی عالمی سازش کی جا رہی ہے، اس حوالے مجلس وحدت مسلمین جلد سپریم کورٹ میں رجوع کرے گی۔  اس موقع پر علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر گلگت بلتستان کی موجودہ صورتحال کو کنٹرول کیا جائے اور دہشتگردوں کو فوراً روکا جائے۔ چلاس سے تمام مسافروں کو ان کے گھروں تک بحفاطت پہنچایا جائے۔ علاقے کے امن کو تباہ کرنے والے عناصر کی سرپرستی ترک کی جائے اور گلگت بلتستان کا امن لوٹایا جائے۔

اپنے مذمتی بیان میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، کوئٹہ میں شیعوں کی ٹارگٹ کلنگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کے قتل عام میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں، صدر اور رحمان ملک کی کراچی میں موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے 3 بے گناہ شیعہ عمائدین کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ کالعدم دہشتگرد گروہ کراچی، گلگت اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کراچی میں 3 شیعہ عمائدین (اصغر جعفری، نسیم عباس، سید ساجد حسین) کی ٹارگٹ کلنگ اور گلگت میں مسافر بسون پر دہشتگردوں کے حملے میں شہید ہونے والے عمائدین کی شہادت اور کوئٹہ میں 2 افراد کی شہادت پر اپنے مذمتی بیان میں کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت، پاراچنار، ڈیرہ اسماعیل خان، ہنگو اور ملک کے دیگر حصوں میں بے گناہ انسانوں اور شیعان حیدر کرار کا قتل عام حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں، اگر دہشتگردی کی اس آگ کو فوراً نہ بجھایا گیا تو پھر اس آگ سے عدلیہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت میں شیعہ مسافروں کی شہادت افسوسناک سانحہ ہے، حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں ملت جعفریہ کے عمائدین کی شہادت میں کالعدم گروہ اور ریاستی ادارے ملوث ہیں۔ علامہ راجہ ناصر نے مزید کہا کہ کالعدم دہشتگرد گروہ گلگت، کراچی اور کوئٹہ میں بے گناہ افراد کا قتل عام کرکے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں 24 گھنٹے کے اندر 3 شیعہ عمائدین کا قتل قابل مذمت ہے، صدر اور رحمان ملک کی موجودگی میں کالعدم تنظیم کے دہشتگردوں کی فائرنگ سے بے گناہ افراد کی شہادت حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں اور ان کے سرپرستوں کو سرعام پھانسی پر لٹکایا جائے۔ درایں اثناء ایم ڈبلیو ایم کراچی کے ترجمان آصف صفوی کا کہنا تھا کہ کراچی میں شہید ہونے والے اصغر زیدی، نسیم عباس اور ساجد حسین کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں۔ سیاسی اور لسانی تنظیمیں شیعہ عمائدین کے قتل عام پر اپنی مکاری کی سیاست نہ کریں، شہید ساجد حسین کا تعلق کسی لسانی تنظیم سے نہیں، اُنہوں نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، چیف جسٹس اور وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک سے مطالبہ کیا کہ اگر وہ اس ملک میں شیعہ عمائدین کی نسل کشی کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے تو اپنی ذمہ داریوں سے مستعفی ہو جائیں ورنہ ملت جعفریہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اگر کوہستان میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر درندگی کا نشانہ بنانے والے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آ ج ملت تشیع کو مزید جنازے نہ اٹھانے پڑتے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان شعبہ امور جوانان کے زیراہتمام، سانحہ چلاس اور گلگت بلتستان کی مخدوش صورتحال کے خلاف نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرین کی قیادت ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور جوانان کے مرکزی سیکرٹری علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی، مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبود نثار علی فیضی، پنجاب کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ اصغر عسکری، راولپنڈی اسلام آباد کے ضلعی سیکرٹری جنرل علامہ فخر علوی سمیت دیگر قائدین نے کی، اس دوران سینکڑوں جوانوں نے چلاس میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ہونے والی 10 بے گناہ افراد کی مظلومانہ شہادت، گلگت بلتستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور حکومت و سکیورٹی اداروں کے جانبدارنہ رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر دہشتگردی کے خلاف نعرے درج تھے۔  مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم شعبہ امور جوانان کے مرکزی سیکرٹری علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی نے کہا کہ سانحہ چلاس در اصل سانحہ کوہستان کا تسلسل ہے، اگر کوہستان میں مسافروں کو گاڑیوں سے اتار کر درندگی کا نشانہ بنانے والے سفاک قاتلوں کو گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آ ج ملت تشیع کو مزید جنازے نہ اٹھانے پڑتے۔ انہوں نے کہا کہ طالبانی سوچ رکھنے والے ملک دشمن عناصر سرزمین پاکستان پر سکیورٹی و تعلیمی اداروں اور شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر وطن عزیز کو تاریکی اور تباہی کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔   مقررین کا کہنا تھا کہ ہمیں پرامن رہنے کی سزا دی جا رہی ہے، ہم نے گلگت میں 16 شہداء کے جنازے اٹھائے، لاکھوں کی تعداد میں اکٹھے ہونے کے باوجود اشتعال انگیزی سے گریز کیا اور حکومت و انتطامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر کے ثابت کیا ہم پرامن قوم ہیں اور ہمیں ملک و قوم کی سلامتی عزیز ہے، جس کے نتیجہ میں ہمیں 10 مزید جنازے اٹھانے پڑے، دوسری جانب ایک دہشتگرد کی گرفتاری کے خلاف ہونے والی کالعدم تنظیم کی ہڑتال کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے، دستی بموں اور بھاری اسلحہ کا بے دریغ استعمال ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے بیسوں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے گلگت بلتستان میں امن و امان کی بحالی، دہشگردوں کی گرفتاری، طالبانہ سوچ کے خاتمہ اور چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر برادر نثار علی فیضی، علامہ فخر علوی، علامہ اصغر عسکری اور علامہ عابد حسین بہشتی نے بھی خطاب کیا۔

اسلام آباد … گلگت بلتستان ميں امن و امان بحال کرنے کيلئے تمام گروپوں کے درميان مذاکرات کا عمل فوري شروع کرانے کا فيصلہ کيا گيا ہے. وفاقي وفاقي وزير داخلہ رحمان ملک سے وزير اعلي? گلگت بلتستان سيد مہدي شاہ اور وفاقي وزير مياں منظور وٹو نے اسلام آباد ميں ملاقات کي. اس موقع پر گلگت بلتستان ميں حاليہ فسادات کے بعد کي صورتحال پر غور اور تمام گروپوں کے درميان مذاکراتي عمل فوري شروع کرانے کا فيصلہ کيا گيا. رحمان ملک نے کہاکہ گلگت بلتستان ميں امن و امان کي بحالي کيلئے وفاقي حکومت ہرممکن تعاون کرے گي اور اس سلسلے ميں ہرقسم کے وسائل بروئے کار لائے جائيں گے. وفاقي وزير داخلہ نے وزيراعلي? گلگت بلتستان کو فوري طور پر علاقے ميں پہنچنے کيلئے خصوصي ٹرانسپورٹ فراہم کي. انہوں نے شرپسند عناصر کو وارننگ ديتے ہوئے کہا کہ ان کے عزائم کسي صورت کامياب نہيں ہونے ديئے جائيں گے

واشنگٹن / لندن … امريکا اور برطانيہ ان دنوں موسم کي شدتوں کا شکار ہيں، واشنگٹن اور ٹيکساس ميں طوفان سے درجنوں مکانات اور گاڑيوں کو نقصان پہنچا تو دوسري جانب برطانيہ اور اسکاٹ لينڈ ميں بھي برفباري نے نظام زندگي معطل کرديا ہے. امريکا کي رياست ٹيکساس ميں يکے بعد ديگرے آنے والے طوفان سے علاقے کو خاصا نقصان پہنچا. درجنوں مکانات کي چھتيں اڑگئيں، تيز ہوا اور جھکڑوں سے ٹرک اور گاڑياں دور جاگريں، ساتھ ہي کئي علاقوں ميں بجلي چلے جانے سے مسائل ميں اضافہ ہوگيا. مقامي ميڈيا رپورٹس کے مطابق ٹيکسا س ميں ڈيلاس کے علاقے ميں آنے والے طوفان نے ايمرجنسي کي صورتحال پيدا کردي تاہم کسي جاني نقصان کي اطلاعات نہيں ملي ہيں. دوسري جانب برطانيہ کے 2 حصوں ميں موسم 2 مختلف رنگوں ميں نظر آيا. انگلينڈ ميں گرم اور سرد موسم کا امتزاج ديکھنے ميں آيا اور لوگ موسم کا مزا ليتے دکھائي دئيے تو دوسري طرف اسکاٹ لينڈ ميں ہونے والي برفباري نے سارے علاقے کو برف سے ڈھک ديا. ايک اندازے کے مطابق اب تک 7 انچ برف پڑ چکي ہے اور 11 ہزار گھر بجلي سے محروم ہوگئے تاہم رابطہ سڑکيں گاڑيوں کي آمد ورفت کيلئے کھلي رہيں اور موسم کي شدتوں سے نمٹنے کيلئے امدادي کارروائياں جاري رہيں. محکمہ موسميات کا کہنا ہے کہ اگلے 2 روز ميں موسم اور بھي خراب ہوسکتا ہے.

موغا ديشو … صوماليہ کے ايک تھيٹر ميں خود کش حملے ميں قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور حکومتي وزير سميت 7 افراد ہلاک ہوگئے ہيں. دار الحکومت موغاديشو ميں پوليس اہلکاروں کے مطابق ايک خود کش حملہ آور نے تقريب کے دوران خود کو تھيٹر کي عمارت کے اندر دھماکے سے اڑا ديا. صومالہ ميں سرکاري ٹيلي ويژن کے ذرائع کے مطابق قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور ايک حکومتي وزير ہلاک ہونے والوں ميں شامل ہيں. يہ تھيٹر 1990 ميں خانہ جنگي کے آغاز کے بعد بند کر ديا گيا تھا اور گزشتہ ماہ ہي دوبارہ کھولا گيا تھا.