ذلت آمیز اور شرمناک پسپائی پر خاموشی سے امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بھی بج اٹھا

Posted: 07/01/2012 in All News, Articles and Reports, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News, USA & Europe

عراق سے امریکی فوج کی ذلت آمیز پسپائی کیا ہوئی کہ پوری دنیا میں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج گیا ۔ یہ سرخی ہے برطانوی اخبار گارڈین کی جبکہ امریکی میگزین ٹائم نے لکھا ہے کہ امریکیوں کو بالآخر مجبور ہوکرعراقی عوام کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہی پڑا اور جب عراق پر امریکا کے حملے کے اہداف و مقاصد پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عراق میں امریکا کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے لکھا کہ امریکا کا مقصدعلاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا مگر اس کا یہ مقصد نہ صرف یہ کہ پورا نہیں ہوا بلکہ نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جی ہاں عراق سے امریکی فوج کے ذلت آمیز انخلاکے بعد عالمی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر امریکا اور مغرب کے اخبارات و جرائد نے جو کچھ لکھا یہ تو اس کی محض چند ایک جھلکیاں ہیں ہوتا تو یہی تھا کہ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ ہمیشہ امریکی اقدامات کو کسی نہ کسی صورت میں صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتے رہے ہيں مگر اس بار عراق میں امریکی ہزیمت و ذلت اتنی زیادہ آشکارہ ہے کہ امریکی مغربی اور حتی صہیونی ذرائع ابلاغ بھی اس پر پردہ نہ ڈال سکے حقیقت تو یہی ہے کہ عراق میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اپنی فوجیں اتار کر امریکا جو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو کچھ بھی نہ مل سکا اس کی کوشش تھی کہ وہ عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلے ، تیل سے مالا مال خلیج فارس کے علاقے پر تسلط جما لے، علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکے ، عالم اسلام میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر کے سامنے بندھ باندھے ، نئے مشرق وسطی کو جنم دے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علاقے میں اسرائیل کی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنائے اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے سارے مقاصد تھے جن میں اسلامی ملکوں سے غنڈہ ٹیکس وصول کرنا بھی شامل تھا مگر نہ صرف یہ کہ اس میں سے امریکا کا ایک بھی مقصد حاصل نہيں ہوسکا بلکہ عراق میں امریکہ کی لشکر اور آٹھ برسوں تک اس کے غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں پندرہ لاکھ کے قریب عراقی شہری ضرور مارے گئے اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مالی اعتبار سے امریکا کو کئی ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے یہ سب اس جنگ کے نقصانات ہیں جس میں امریکا اپنی طاقت وقوت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ جنگ جہاں امریکا کے لئے انتہائي مہنگی ثابت ہوئي وہيں امریکیوں کو تاریخ میں ابتک کی ذلت آمیز شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا اور یوں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بھی بج اٹھا ہے اسی لئے برطانوی اخبار گارڈين نے لکھا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کی پسپائی یک قطبی نظام کے خاتمے کا اعلان بھی ہے جو عراق میں امریکی فوج کے آخری اڈے کے انخلاء کے موقع پر کیا گیا جب اس جنگ کے نتائج پر نظر ڈالی جاتی ہے اوریہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس جنگ سے امریکہ کو کیا ملا تو اس کا جواب یہی نظر آتا ہے کہ سن دوہزار تین سے امریکی قبضے کے نتیجے میں جو نتائج واشنگٹن کو حاصل ہوئے وہ یہ کہ امریکا سے عراقی عوام کی نفرت اور غیظ و غضب میں اضافہ ہوا ہے، اقوام عالم امریکہ جیسے بدمست ہاتھی کاغرور خاک میں مل جانے پر اس کی جانب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھ رہی ہیں اور دنیا پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ کاغذی شیر بہرحال کاغذي ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ وہ نتائج ہيں جو امریکا کی مرضي کے نہيں اور نہ ہی امریکا ان نتائج کے پیش نظر عراق میں گیا تھا آج ہم دیکھ رہے ہيں امریکا کے وہ ذرائع ابلاغ جو صرف اور صرف امریکا کی کامیابی کا ڈھنڈورا ہی پیٹنے کے لئے قائم کئےگئے تھے وہ بھی عراق سے امریکا کی ذلت آمیز اور شرمناک پسپائی پر خاموش نہیں رہ سکے۔ امریکیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عراق میں شکست کا اعتراف ان کی جھوٹی ہیبت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے لیکن اب اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہيں اسی لئے امریکی اثر و رسوخ والے اخبارات و جرائد بھی اب کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج چکا ہے۔

Comments are closed.