رہبرانقلاب اسلامی: ایرانی قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدار کو ختم کردےگی

Posted: 23/02/2012 in All News, Articles and Reports, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

Comments are closed.