امریکی سامراجی پالیسیوں کا ستارہ گردش میں

Posted: 11/12/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, USA & Europe

اب اس بات کا سب کو یقین آگیا ہے کہ امریکی سامراجی پالیسیوں کا ستارہ ان دنوں شدید گردش میں ہے اور اسے فوجی سیاسی اور اقتصادی ہر محاذ پر بری طرح یکے بعد دیگر ے شکست ہوتی جارہی ہے عراق سے اسے رسوائی کے ساتھ نکلنا پڑ رہا ہے تو اقتصادی اعتبار سےوہ اپنی سامراجی حیات کی تاریخ ميں اب تک کے بدترین دور سے گذر رہا ہے اور سیاسی میدان میں بھی اگر دیکھا جائے تو اس کی شکست کوئي نئی بات نہيں ہے چنانچہ واشنگٹن نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے خلاف رپورٹ تیار کرانے میں جتنی مالی اورسیاسی سرمایہ کاری کی تھی وہ نہ صرف رائگاں گئی بلکہ اس نے اپنی عزت کا جنازہ نکالنے کے ساتھ ساتھ ایجنسی کی ساکھ کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر یوکیا آمانو کو بھی کہيں کا نہ چھوڑا ۔ جمعہ کو آئی اے ای کے بورڈ آف گورنرکے اجلاس کے دوران امریکا نے اپنی اس ایران مخالف رپورٹ کے سہارے اسلامی جمہوریہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے معاملے کو ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سلامتی کی کونسل میں لے جانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا جو اس نے یوکیا آمانو کی عزت کا سودا کرکے تیار کرائی تھی مگر اس بار بورڈ آف گورنرز میں جتنی زیادہ رسوائي امریکا اور خود ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ہوئی تھی اس کی مثال اسے سے پہلے کبھی نہيں ملتی.  جس وقت امریکا نے اپنی مرضی کی تیار شدہ ایجنسی کے ڈائریکٹر کی رپورٹ کی بنیاد پر ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے لئے قرارداد منظور کرانے کی کوشش کی اس پر روس چین اور ایک سو بیس ملکوں کی نمائندہ ناوابستہ تحریک کے ممبران نے شدید مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے مذکورہ رپورٹ کی دھجیاں اڑاڈالیں اور سب سے ایک زبان ہوکر کہا کہ اس رپورٹ کی نہ تو کئی قانونی حیثيت ہے اور نہ ہی اس میں کوئی نئي بات ہے روس چین اور ناوابستہ تحریک کے رکن ملکوں کے نمائندوں نے کہاکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے خلاف یہ رپورٹ محض سیاسی بنیادوں پر تیار کي گئی ہے اوریوں امریکا اور اس کے بعض اتحادی ممالک ایران کے ایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جانے کے سلسلے میں اپنی کوششوں میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ امریکا اور مغربی ملکوں کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں اس قدر ذلت و شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا کہ ان میں سے کسی نے بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا سامنا تک نہيں کیا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جو بیان جاری کیا اس میں امریکا کی ہر بات کو مسترد کردیا گیا اور حتی خود آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانوکی رپورٹ کی بھی تائید نہیں کی گئ اور جو بیان ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں جاری کیا گیا ہے وہ بہت ہی مضحکہ خیز ہے سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ بورڈ آف گورنرز نے اپنے اجلاس میں جس طرح سے امریکا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے بیان تیار کیا ہے اس سے ایجنسی کے سربراہ کی بری طرح رسوائی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کو جسے توقع تھی کہ اس کے آقا امریکا کی کوششوں کے تحت ایک بار پھر ایران کےایٹمی معاملے کو سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا جمعہ کو بورڈ آف گورنرز کے فیصلے پر سخت مایوسی ہوئی ہے ۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے امریکا کے جیسے سامراجی ملکوں لئے ذلت و رسوائی کوئی معنی نہيں رکھتی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے اپنی عزت و آبرو کو بھی داؤں پر لگانے کے لئے تیار رہتے ہیں لیکن ساتھ ہی ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اب امریکا اور دیگر سامراجی ممالک کے لئے جو ہر محاذ پر شکست سے دوچار ہوتے جارہے ہیں اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا روز بروز مشکل ہوتا جائےگا کیونکہ ان کے سرمایہ دارانہ نظام کی بنیادیں بری طرح لرزاٹھی ہیں اور سرمایہ دارانہ اور نام نہادلبرل ڈیموکریسی کا نظام اب اپنی آخری سانسیں لینے لگا ہے ۔

Comments are closed.