احمدی نژاد کا صدر زرداری سے پُرجوش مصافحہ،…….. امریکا ناراض

Posted: 18/02/2012 in All News, Articles and Reports, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, USA & Europe

کراچی: ٹی وی رپورٹ, جیو کے پروگرام ”آج کامران خان کے ساتھ“میں تجزیہ کرتے ہوئے میزبان نے کہا کہ خطے میں موجود صورتحال کے حوالے سے جمعرات کا دن نہایت اہم ہے، پاکستان کے قریب ترین ہمسایوں افغانستان اور ایران کے صدور پاکستان میں ہیں، احمدی نژاد نے صدر آصف زرداری سے پُرجوش مصافحہ کیا ہے ، امریکا ضرور ناراض ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے صدر احمدی نژاد پہلی بار پاکستان کے سرکاری دورے پر موجودہ حکومت کے دور میں آئے ہیں۔ صدر آصف زرداری کی صدر احمدی نژاد کو پاکستان آنے کی دعوت دینا اور ان کے ساتھ بغلگیر ہونا اور انتہائی گرمجوشی سے مصافحہ کرنا پاکستان اور ایران کے قریبی تعلقات کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے۔ کامران خان نے کہا کہ اس پیشرفت پر مغربی قوتیں خاص طور پر امریکا ناراض ہوسکتا ہے اور پاکستان کا ایران کو گلے لگانا امریکا کو پسند نہیں آئے گا۔ امریکا آج کل ایران کو کنارے لگانے کی کوشش کررہا ہے، امریکا نے نہ صرف خود ایران پر پابندیاں لگائی ہیں بلکہ یورپی یونین سے بھی ایران کے خلاف پابندیاں لگانے کا کہا ہے۔ امریکا کی کوشش ہے کہ ایران کو اس کے وسائل سے محروم کردیا جائے ، اسے کسی صورت بھی پسند نہیں آئے گا کہ دنیا کی کوئی قوت خاص طور پر پاکستان اس کے دشمن ایران کو گلے لگائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اہم ہے کہ اپنے دور حکومت میں صدر آصف زرداری نے چار مرتبہ ایران کا دورہ کیا ہے اور اب ایران کے صدر احمدی نژاد پاکستان کے دورے پر آئے ہیں۔ ایران ، پاکستان اور افغانستان کی سیاسی اور فوجی قیادت جمع ہوئی ہے کہ اس خطے میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کی پالیسی یکسا ں ہو۔ سینئر تجزیہ کار فرخ سلیم نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان ایک تو سیاسی سطح کے تعلقات ہیں، دوسرے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے حوالے سے اور تیسرے اقتصادی تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایران پر بہت سی پابندیاں لگائی جاچکی ہیں جن کی پابندی کرنا پاکستان پر لازم ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین ، آسٹریلیا، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، جاپان اور امریکا نے بھی ایران پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے اقتصادی تعلقات میں ایک سنگین قسم کا ادائیگی کا بحران پیدا ہوتا نظر آرہاہے، دنیا کی تاریخ کبھی اتنی سخت فائنانشل پابندیاں کسی ملک پر نہیں لگیں جتنی ایران پر لگائی گئی ہیں۔ فرخ سلیم نے کہا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن بچھانے کیلئے تقریباً 8بلین ڈالر کے قرضے چاہئیں لیکن دنیا کا کوئی بھی مالی ادارہ اس پائپ لائن کو فنڈ دینے کیلئے بالکل تیار نہیں ہے۔اب پاکستان کیلئے ایران سے اقتصادی تعلقات مزید بڑھانا بہت مشکل ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان نے دس سے بارہ سال تک ایران کے خلاف پراکسی جنگ لڑی ہے، ایران شمالی اتحاد کا ساتھ دے رہا تھا اور ہم طالبان کا ساتھ دے رہے تھے۔

Comments are closed.