امریکی صدر باراک اوباما نے اسلامی جمہوریہ ایران پر دباؤ میں شدت پیدا کرنے کی تاکید کرتے ہوۓ دعوی کیا ہے کہ تہران اس وقت شدید پابندیوں کی زد میں ہے۔ باراک اوباما نے مزید دعوی کیا کہ ایران آج عالمی سطح پر الگ تھلگ ہوچکا ہے جبکہ عالمی برادری متحد ہے اور تہران پر شدید ترین پابندیاں لگائي جا چکی ہیں۔ امریکی حکام جن پابندیوں کی بات کررہے ہیں ان میں ایران کے تیل اور سنٹرل بینک پر لگائي جانے والی پابندیاں سرفہرست ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب یورپی یونین میں واشنگٹن کے قریبی اتحادی بھی ایران پر لگائي جانے والی پابندیوں کے سلسلے میں امریکہ کا ساتھ دینے کے بارے میں تشویش میں مبتلاء ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے تیل پر پابندی سے امریکہ اور اس سے بڑھ کر یورپ کے اقتصاد پر بہت منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب مشرق وسطی کی تیزی سے بدلتی ہوئي صورتحال اور اس خطے میں امریکہ کی مداخلت کی وجہ سے توانائی کے بارے میں مختلف خدشات پاۓ جاتے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا کہنا ہےکہ باراک اوباما اس طرح کے بیانات کے برعکس ایران کے خلاف لگائی جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی وجہ سے تشویش میں مبتلاء ہیں لیکن چونکہ وائٹ ہاؤس پر صیہونی لابی کا دباؤ ہے اس لۓ وہ آئندہ کے صدارتی انتخابات میں ووٹ حاصل کرنے کے لۓ ایران سے متعلق امریکہ کی خارجہ پالیسی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ اس لۓ امریکی حکام کے رویۓ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ البتہ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ روس اور چین جیسے ممالک کہ جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں یا یورپی یونین کے اراکین ، کہ جن کو وائٹ ہاؤس اپنے اتحادی قرار دیتا ہے اس سلسلے میں واشنگٹن کی پیروی گے۔ اقتصادی اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ خطے میں قیام امن کے سلسلے میں ایران کے کلیدی کردار کے پیش نظر اور توانائی کا اہم حصہ برآمد کرنے والا ملک ہونے کے ناتے نیز دوسری متعدد وجوہات کی بنا پر ایران پر دباؤ کے لۓ امریکہ کے منظور نظر اتحاد کی تشکیل کا دعوی بالکل بے بنیاد ہے۔ اور یہ جو جمعے کے دن برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں تہران کے خلاف زیادہ پابندیوں کا مطالبہ کیا گيا لیکن ان پابندیوں پر عملدرآمد کو آئندہ مہینوں تک کے لۓ ملتوی کردیا گيا ہے تو اس سے بھی ہماری اسی بات کی ہی تصدیق ہوتی ہے۔ یورپی یونین کے وزراۓ خارجہ نے گزشتہ ہفتے ایران کی توانائی ، بینکنگ اور نقل و حمل کے شعبوں میں نئی پابندیوں سے اتفاق کیا تھا لیکن اٹلی ، یونان اور اسپین سمیت بعض ممالک نے اس بارے میں اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکہ برسوں سے ایران کو نقضان پہنچانے کے لۓ اپنے تمام تر وسائل بروۓ کار لا رہا ہے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لۓ امریکی کانگریس سالانہ دوسو ملین ڈالر کا بجٹ مختص کرتی ہے۔ امریکہ نے یورپی یونین کے بعض ممالک اور جاپان کی مدد سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے لۓ اقدامات انجام دیۓ ہیں اور ایران کی بعض کمپنیوں ، بینکوں ، افراد حتی ایٹمی ماہرین پر پابندیاں لگا رکھی ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد میں ذکر شدہ ایران کے بعض ایٹمی سائنسدانوں پر دہشتگردانہ حملے کر کے ان کو شہید بھی کردیا گیا ہے ۔ بہرحال ایران کے خلاف امریکہ کے مخفی اور علانیہ اقدامات کا سلسلہ جاری ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے اقدامات کا نتیجہ امریکہ کی مزید ذلت و رسوائی کے سوا کچھ اور برآمد ہونے والا نہیں ہے۔

Comments are closed.