Archive for the ‘USA & Europe’ Category

کراچي… پاکستان کي فضائي حدود ميں غير قانوني طور پر داخل ہو نے والے غير ملکي فوجي جہاز کو پاکستان ايئر فورس نے  کراچي ايئر پورٹ پر لينڈ کراديا ہے جس کے بعد طيارے کي چيکنگ جا ري ہے،جيو ٹي وي کے نمائندے طارق ابو الحسن کے مطابق فوجي طيارہ بگرام ايئربيس سے يواے اي کے المکتوم ايئرپورٹ جارہاتھا،ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف124اورپروازنمبروي ڈي اے1455ہے.ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹورسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں مذکورہ غيرملکي فوجي مال بردارطيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پرکراچي ميں اتاراگيا جس کي چيکنگ جاري ہے.

Advertisements

کراچی : ہم پاکستان کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت ہماری سرپرستی نہیں کررہی ۔ کوہستان اور چلاس میں ہمارا قتل عام ہورہا ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ہمارا بچہ بچہ محب وطن ہے لیکن ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، ہمیں ایک جامع اور مکمل آئینی پیکیج کی ضرورت ہے۔جب سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں تو خطے کے حالات بگڑے ہیں اس صورتحال کا ذمے دار امریکا اور پاکستان کے وہ دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اسلام آباد تک 750 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم کو پاک فوج کے ذریعے مکمل تحفظ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسکردو کے باسیوں نے جیو نیوز پر”کیپٹل ٹاک “ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔علاقے میں موجود مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب متحد ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ یہاں کو ئی تنازع پیدا ہی نہ ہو۔اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین کا کہنا تھا کہ علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود ہر موقع پر شیعہ علمائے کرام اور لوگوں کا کردار انتہائی مثالی رہا ہے۔

لندن: مجلس علمائے شیعہ یورپ کے چار رکنی وفد نے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی ہے۔وفد کی قیادت مجلس کے صدر سید علی رضا رضوی نے کی۔ اس موقع پر واجد شمس الحسن نے پاکستان میں ان کی کمیونٹی کے ممبروں کے قتل پر سخت تشویش ظاہر کی۔ وفد نے تین نکاتی سفارشات غور کے لئے حکومت کو پیش کیں۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گلگت میں کرفیو کی پابندیاں ختم کرے۔سازشی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،نشانہ بننے والوں کے اقارب کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ واجد شمس الحسن نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی پابند ہے۔

بیجنگ میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عالمی معاشی بحالی کے لئے خطرناک ثابت ہوں گی، چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکا نے اکتیس دسمبر کو ایران کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے جنوری سے ایرانی تیل کی درآمد، خریداری یا ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

 

    واشنگٹن : امریکی خفیہ ادارے کے11 اہلکاروں کو سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبے میں عارضی رخصت پر بھیج دیا گیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر باراک اوباما کے کولمبیا کے دورے سے قبل جسم فروش خواتین کو اپنے ہوٹل کے کمروں میں بلایا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ کولمبیا کی پولیس نے بھی اس حوالے سے انکشافات کئے تھے۔ حکام کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آتے یہ اہلکار انتظامی چھٹیوں پر یہ رہیں گے۔ امریکی صدر امریکی ریاستوں کی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کو کولمبیا پہنچے تھے

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن نواف الموسوی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی مقاومت کی کامیابی شام کے حالات کو درک کرنے کی اصلی کلید ہے اس نے کہا کہ مقاومت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو علاقہ میں شکست و ناکامی سے دوچار کیا ہے اور امریکہ اپنی  شکست و ناکامی کی تلافی کے لئے شام میں اسرائيل کی حامی حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے انھوں نے کہا کہ لبنان اور فلسطین میں اسلامی مقاومت کی کامیابی میں شام کا کلیدی کرداررہا  ہے اور امریکہ نے مقاومت کو شکست دینے کے لئے اب شام کو نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن: نائیجیریا کی وزیر خزانہ اور عالمی بینک کی صدارت کی امیدوار نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا ہے کہ امریکہ اس روایت کو توڑے کہ ہمیشہ کوئی امریکی ورلڈ بینک کی سربراہی کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ بات ورلڈ بینک کے بورڈ کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے کے انٹرویو کے بعد کہی۔ نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا کہ عالمی بینک کی سربراہی کا معیار اہلیت اور مہارت پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو کے دوران بورڈ پر واضح کیا ہے کہ انتخاب کا طریقہ کار واضح اور شفاف ہونا چاہئے۔ انہوں نے ممالک سے حمایت طلب نہیں کی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ کے غیر رسمی معاہدے کے تحت ہمیشہ ورلڈ بینک کی سربراہی کسی نہ کسی امریکی کے پاس رہے گی جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا سربراہ یورپی ہوگا۔ چین، بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں طویل عرصے سے جاری مالیاتی اداروں میں اثر و رسوخ کی روایت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نائیجیریا کی وزیر خزانہ نے گزشتہ سال عالمی بینک کا عہدہ چھوڑا تھا۔ عالمی بینک کی صدارت کیلئے کولمبیا کے سابق وزیر خزانہ اور امریکہ کی طرف سے نامزد کوریا نژاد امریکی شہری ان کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ تہران حکام  کی جانب سے یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب وہ رواں ہفتے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہے ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے مذاکرات کے موقع پر اس اہم معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کو ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بجلی بنانے کے لیے کم سطح پر یورینیئم کی پیداوار جاری رکھتے ہوئے، 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی پیداوار روکنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ فریدون عباسی کا کہنا ہے: ’’ضرورت کے مطابق ایندھن دستیاب ہونے پر، ہم پیداوار کم کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسے تین اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر لے آئیں۔‘‘ ساتھ ہی عباسی نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تبادلے کے معاہدے کا خیال مسترد کر دیا، جو تین سال پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسے دیگر ملکوں سے 20 فیصد ایندھن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس حوالے سے ایران خود سرمایہ لگا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ہفتے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں صالحی کا کہنا تھا: ’’اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط لاگو کرنا مذاکرات سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی مانند ہے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ مذاکرات سے پہلے کوئی بھی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ردِعمل میں کہی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران سے فردو کے زیر زمین نیوکلیئر بنکر کو بند کرنے اور بیس فیصد تک یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کریں گے

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے ترکی کے توسط سے ایرانی سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کے نام خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام پرامن ثابت کر دے تو امریکا اسے قبول کر لے گا ، خط میں یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں نہیں کرے گا۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کا خط ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچایا۔ ترک وزیر اعظم نے امریکی صدر کا یہ پیغام بھی ایرانی سپریم لیڈر تک پہنچایا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں ایران جوہری تنازع کے پرامن حل کے محدود مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔آن لائن کے مطابق خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اگر حال ہی میں کئے گئے اپنے اس دعوے پر قائم رہیں تو ان کی قوم کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہیں بھاگے گی تو امریکا کو ایران کے سویلین نیوکلیئر پروگرام پراعتراض نہیں ہوگا۔اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کو گناہ عظیم اور یورینیم کی افزودگی کو تباہ کن قرار دیا تھا رپورٹ کے مطابق سیوٴل میں صدر اوباما نے ترک وزیراعظم سے ملاقات میں یہ خط ان کے حوالے کیا

لندن یورپ میں قرضوں کے بحران اور معیشت میں سست روی کے باوجود سال 2011ء میں انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ کی مد میں ”برانڈز“ کی مشہوری کیلئے 5 ارب پونڈ (8 ارب ڈالر) خرچ کر دیئے گئے۔ اس وجہ سے گزشتہ 5 سال کے دوران ویڈیو ایڈز اور مارکیٹنگ نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا ہے۔ یورپ کے انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ بیورو نے سال 2011ء کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس دوڑ میں برطانیہ سرفہرست رہا۔ روایتی ایڈورٹائزنگ کی بجائے انٹرنیٹ پر ایڈورٹائزنگ زور پکڑ رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر آن لائن ایڈورٹائزنگ کی شرح نمو 14.4 فیصد رہی۔ توقع ہے کہ رواں سال بھی اس شرح نمو میں اضافہ ہوگا

سراجيوو…بو سنيا کے دارلحکومت سر ا جيووميں بيس سال قبل جنگ ميں مر نے والوں کو ايک انو کھے انداز ميں يا د کياگيا اور شہر کي سڑ ک کو ہزاروں خالي کرسيوں بھر ديا. انيس سو بيا نو ے ميں بو سينيااور سر بيا کے درميان ہو نے والي جنگ ميں ہلا ک ہو نے والے افراد کي يا د ميں شہر کي مر کزي شاہر ا ہ پر گيارہ ہزار پا نچ سو اکتا ليس سر خ کر سياں رکھي گئيں جو مر نے والوں کو يا دکرنے کي علامت تھيں . ان کر سيوں کي آ ٹھ سو پچيس قطاروں کي ترتيب ديکھ کر يو ں محسوس ہو رہا تھا جيسے شہر کي سڑ ک پر لہو بہہ رہا ہو.واضح رہے کہ اس جنگ کے دوران سر بيين فو جو ں نے چواليس ما ہ تک سراجيوو کا محا صر ہ جاري رکھا تھا جس کے دوران تقريبا ً چاليس لاکھ افراد کھانے پينے اور بجلي سے محر وم ہو گئے تھے جبکہ يہ دو سري جنگ عظيم ميں کيے جانے والے روسي شہر لينن گراڈ کے محا صرے سے بھي طويل ترين محا صر ہ تھا

ويٹي کن سٹي …ويٹي کن سٹي ميں ايسٹر کے موقع پر جمع ہونے والے افراد سے پوپ بيني ڈکٹ نے خطاب کيا. انہوں نے اس موقع پر لوگوں کي توجہ بڑھتي ہوئي ماديت پرستي کي جانب مبذول کرائي پوپ بيني ڈکٹ نے سينٹ پيٹرز بيسي ليکا ميں تقريباً 10 ہزار لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان خدا اور اخلاقي اقدار سے تيزي سے دور ہو رہا ہے جو پوري دنيا کے ليے خطرہ ہے . انہوں نے ماديت پرستي کو اندھيرے سے تعبير کرتے ہوئے کہا کہ دنيا کو روشني کي سمت بڑھنا چاہيئے.انہوں نے کہا کہ آج کا انسان ٹيکنالوجي کا غلام بن چکا ہے جبکہ اسے خدا کا غلام بننا چاہ

لندن : ایک چیرٹی سیف ایگزٹ کے سربراہ ٹوئن بی ہال نے لندن اولمپکس سے قبل ایسٹ لندن میں جسم فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم فروشی کے خلاف مہم کے نتیجے میں سنگین جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویش ناک بات ہے کہ جنوری سے اب تک ٹاور ہیملیٹس سے 48 اور گذشتہ 2 ماہ کے دوران نیوہیم سے 21 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ سٹی ہال کے مطابق نیوہیم میں گذشتہ 18 ماہ کے دوران جسم فروشی کے 80 اڈے بند کئے جاکے ہیں۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کمیونٹی کی شکایت پر کارروائی کی ہے اولمپک کی وجہ سے نہیں. برطانیہ کی سب سے کم عمر ماں کی بیٹی ساشا نے جو اب 15 سال کی ہوچکی ہے کہا ہے کہ میں اپنی ماں کی غلطی نہیں دہراؤں گی اور 18 سال تک کنواری رہوں گی۔ اس نے کہا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری ماں نے صرف 12 سال کی عمر میں مجھے جنم دیا تھا تو میں ششدر رہ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک ماں نہیں بننا چاہتی جب تک مالی طور پر خودکفیل نہ ہوجاؤں۔ اس نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات مجھ پر جنسی تعلق قائم کرنے کیلئے دباؤ ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود لڑکوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میں اب تک کنواری ہوں اور 18 سال کی عمر تک کنواری رہنا چاہتی ہوں۔ میرے خیال میں کمسنی میں جنسی تعلق قائم کرنا خطرناک ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر انتظار کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی ماں سے محبت کرتی ہوں اور ماں بھی مجھے چاہتی ہے لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں اس وقت پیدا ہوئی جب ماں کی عمر صرف 12 برس کی تھی تو مجھے دھچکا لگا کیونکہ اس عمر میں تو میں باربی سے کھیل رہی تھی۔ میری ماں کے پاس کبھی بھی وافر رقم نہیں رہی، میں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی کی خواہاں ہوں.لندن جنسی جرائم کا ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ بچوں کے خلاف جرائم پر مشتمل ہے۔گزشتہ سال ہر 20 منٹ کے بعد ایک بچے کو مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا جاتا تھا جب کہ روزانہ 60 بچوں پر جنسی حملوں کی رپورٹ پولیس کو دی جاتی تھی۔ انگلینڈ اور ویلز میں 2010-11 ء میں 23,000 بچوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے 20 فیصد اتنے چھوٹے تھے کہ سیکنڈری سکول میں داخلے کے قابل بھی نہیں تھے۔ ان بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرموں میں 10 فیصد سے بھی کم کو سزائیں ہو سکیں۔جرائم کے ان اعداد و شمار میں زنا بالجبر، اور بچوں کو قحبہ گری پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔گزشتہ سال مجموعی طور پر 54,982 جنسی جرائم ہوئے جن میں سے 23,097 بچوں کے خلاف تھے۔ 14,819 بچے 11۔17 سال عمر اور 8749 بچے 13-15 سال عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

واشنگٹن / لندن … امريکا اور برطانيہ ان دنوں موسم کي شدتوں کا شکار ہيں، واشنگٹن اور ٹيکساس ميں طوفان سے درجنوں مکانات اور گاڑيوں کو نقصان پہنچا تو دوسري جانب برطانيہ اور اسکاٹ لينڈ ميں بھي برفباري نے نظام زندگي معطل کرديا ہے. امريکا کي رياست ٹيکساس ميں يکے بعد ديگرے آنے والے طوفان سے علاقے کو خاصا نقصان پہنچا. درجنوں مکانات کي چھتيں اڑگئيں، تيز ہوا اور جھکڑوں سے ٹرک اور گاڑياں دور جاگريں، ساتھ ہي کئي علاقوں ميں بجلي چلے جانے سے مسائل ميں اضافہ ہوگيا. مقامي ميڈيا رپورٹس کے مطابق ٹيکسا س ميں ڈيلاس کے علاقے ميں آنے والے طوفان نے ايمرجنسي کي صورتحال پيدا کردي تاہم کسي جاني نقصان کي اطلاعات نہيں ملي ہيں. دوسري جانب برطانيہ کے 2 حصوں ميں موسم 2 مختلف رنگوں ميں نظر آيا. انگلينڈ ميں گرم اور سرد موسم کا امتزاج ديکھنے ميں آيا اور لوگ موسم کا مزا ليتے دکھائي دئيے تو دوسري طرف اسکاٹ لينڈ ميں ہونے والي برفباري نے سارے علاقے کو برف سے ڈھک ديا. ايک اندازے کے مطابق اب تک 7 انچ برف پڑ چکي ہے اور 11 ہزار گھر بجلي سے محروم ہوگئے تاہم رابطہ سڑکيں گاڑيوں کي آمد ورفت کيلئے کھلي رہيں اور موسم کي شدتوں سے نمٹنے کيلئے امدادي کارروائياں جاري رہيں. محکمہ موسميات کا کہنا ہے کہ اگلے 2 روز ميں موسم اور بھي خراب ہوسکتا ہے.

واشنگٹن (آئی این پی) امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہاہے کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں یہ ہمیشہ رہے اور مجھے خدشہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے، پاکستان اب بھی بھارت کو خطرہ سمجھتاہے جبکہ ہمیں اس موقف سے اختلاف ہے ، پاکستانی حکام اور اسامہ بن لادن کی محفوظ پناہ گاہ کے درمیان کسی رابطے کے کوئی شواہد نہیں لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کس طرح اس کمپاوٴنڈکے بارے میں لاعلم رہی؟ یہ معاملہ تشویش کاباعث ہے ،اسامہ کی ہلاکت کے بعددنیامحفوظ ہوگئی ہے۔ امریکی ٹی وی سی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیاکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں یہ ہمیشہ رہے اورمجھے خدشہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بعض حوالوں سے ہمیں مشترکہ تشویش اور مشترکہ خطرہ درپیش ہیں۔ دہشت گردی سے پاکستان اوراس کے عوام کوبھی اسی طرح خطرہ لاحق ہے جس طرح کہ امریکا اور افغانستان کے عوام کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان خطرے کے تصور پراختلاف ہے مسئلہ ہے کہ پاکستان بھارت کوبڑاخطرہ سمجھتاہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہمیں پاکستان سے مبہم پیغامات ملتے ہیں۔ اسامہ کے خلاف ایبٹ آبادآپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کواس کی اطلاع نہیں فراہم کی کیونکہ ہمیں خدشہ تھاکہ وہ یہ معلومات افشاء کردیں گے جس سے ہم اپنامشن پورانہیں کرپائیں گے۔

رياض. . . .خليج تعاون کونسل نے رکن ممالک کے داخلي امورميں ممکنہ ايراني مداخلت کيپيش نظر ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي تجويز کا جائزہ لينے کے لئے خليجي ممالک اور امريکا کي مشترکہ سيکيورٹي کميٹي قائم کردي ہے.سعودي اخبار کے مطابق يہ فيصلہ خليجي ممالک کے تحفظ کے لئے کيا گيا ہے. مشترکہ کميٹي امن و سلامتي کے ماہرين پر مشتمل ہوگي جو ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي ضرورت اور اہميت کا فيصلہ کريں گے. امريکا نے يقين دہاني کرائي ہے کہ خليجي ممالک سے متعلق اس کے وعدے ٹھوس نوعيت کے ہيں. امريکا کسي بھي خطرے کے مقابلے کے لئے خليجي ممالک کي مشترکہ دفاعي تنصيبات کے استحکام ميں بھرپور تعاون کرے گا.

گزشتہ اتوار سے بحیرہ شمالی میں معدنی گیس کے ایک پلیٹ فارم سے گیس کی بھاری مقدار خارج ہو رہی ہے۔ ابھی اس زہریلی گیس کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ اس سے ماحول کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔ سکاٹ لینڈ کے ساحلوں سے 240 کلومیٹر دور سمندر کے بیچوں بیچ واقع Elgin نامی یہ پلیٹ فارم فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی ملکیت ہے۔ گیس کا اخراج شروع ہونے پر یہ پلیٹ فارم بند کیا جا چکا ہے۔ چونکہ اس پلیٹ فارم سے تیزابی گیس کے ساتھ ساتھ مائع شکل میں معدنی گیس بھی نکالی جاتی ہے، اس لیے ماہرین کے خیال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اخراج بھی انہی گیسوں کا ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے اردگرد 4.8 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل کی پتلی سی تہہ پانی کی سطح پر نظر آ رہی ہے، جو غالباً مائع معدنی گیس کے مرکب ہی کا نتیجہ ہے۔ تیزابی گیس میں زیادہ مقدار معدنی گیس کی ہوتی ہے جبکہ اس میں کچھ فیصد ہائیڈروجن سلفائیڈ نامی مادہ بھی شامل ہوتا ہے، جس کی بُو خراب انڈوں کی سی ہوتی ہے اور جو بہت زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ یہ گیس انسانی خون میں موجود اُس سرخ مادے کو تباہ کرتی ہے، جو جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم مقدار میں بھی یہ گیس انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔تحفظ ماحول کے علمبردار حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فضا اور پانی میں اس گیس کی زیادہ مقدار میں آمیزش کے نتیجے میں اردگرد کے علاقے کا پورا ماحولیاتی نظام تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ آکسیجن کی مخصوص مقدار کے ساتھ مل کر یہ گیس بہت تیزی سے آگ پکڑ سکتی ہے اور یوں گیس کے دھماکے سے پورا پلیٹ فارم تباہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح کے خطرات کی وجہ سے اس پلیٹ فارم کی مالک کمپنی Total نے اپنے عملے کے تمام 238 ارکان کو وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال کر خشکی پر پہنچا دیا ہے۔ معدنی تیل اور گیس نکالنے والے دو قریبی پلیٹ فارم بھی، جو Shell کمپنی کی ملکیت ہیں، خالی کروا لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پولیس نے اس پلیٹ فارم کے اردگرد تین میل کے علاقے میں طیاروں کے اور دو میل کے علاقے میں بحری جہازوں کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ معدنی گیس کے کاروبار پر نظر رکھنے والے ایک ماہر اسٹوآرٹ جوائنر نے، جن کا تعلق Investec-Bank سے ہے، بتایا:’’خراب ترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پائپ لائن میں گیس کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اضافی کنواں کھودا جانا پڑے۔ تاہم ابھی یہ بہت دور کی بات لگتی ہے۔ اگر اضافی کنواں کھودنا پڑ گیا تو اس میں چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘دریں اثناء یہ پتہ چلا لیا گیا ہے کہ یہ گیس چار ہزار میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی ایک پائپ لائن سے خارج ہو رہی ہے۔ ٹوٹل کمپنی نے شگاف کا سراغ لگانے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے ایک آبدوز اور آگ بجھانے والے دو بحری جہاز اس پلیٹ فارم کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں بازارِ حصص میں ٹوٹل کے شیئرز کی قدر و قیمت میں بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

لندن: برطانیہ نے شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے مینشن ہاؤس میں اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ برطانیہ شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد کو دوگنا کرتے ہوئے پانچ لاکھ پاؤنڈ دیگا اور یہ امداد سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی معاونت پر بھی خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم شام سے باہر رہنے والے اپوزیشن گروپوں کی معاونت کیلئے بھی استعمال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کو یہ جان لینا چاہئے کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کیلئے کوئی صورتحال نہیں ہے۔

پیرس: فرانسیسی عدالت نے پولیس کی جانب سے گزشتہ روز گرفتار کئے گئے 17 مسلمانوں کا 24 گھنٹے کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ دہشت گرد حملے کی انکوائری سے منسلک ایک ذریعہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پولیس نے ان 17 افراد کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے جنہیں جمعہ کو مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ فرانس کی علاقائی انٹیلی ایجنسی کے سربراہ بینرڈ اسکوارسنی نے   بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد فرانسیسی ہیں اور دہشت گرد حملوں کی تربیت کے شبہ میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

میلان: اٹلی میں ٹیکس پولیس نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی ہدایت پر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے خاندان کے ارکان کے ایک ارب 10 کروڑ یورو(ایک ارب46کروڑڈالر) کے اثاثے، بشمول اٹلی کی نمایاں کمپنیوں کے حصص ،بینک ڈپازٹس اور موٹر بائیک ہارلے ڈیوڈسن ، ضبط کرلئے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز ایک بیان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضبط کئے گئے اثاثوں میں اٹلی کے سب سے بڑے بینک یونی کریڈٹ میں حصص،تیل وگیس کے بڑے ادارے ای این آئی ،دفاعی ادارے فن میکانیکا ،کاربنانے والی کمپنی فیٹ،ٹرک بنانے والے ادارے فیٹ انڈسٹریل اورتورین میں قائم فٹبال کلب جوینٹس میں حصص شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام متعلقہ کمپنیوں اوراداروں کو نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل گاوینوپٹوزونے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تمام ضبط کئے گئے اثاثے لیبیا کے خودمختارفنڈ،لیبین انوسٹمنٹ اتھارٹی ،میں قذافی خاندان کی طرف سے رکھے گئے تھے

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے ايران پر تيل درآمد کرنے کي نئي پابندياں عائد کرنے کي منظوري دے دي ہے.غيرملکي خبر ايجنسي نے امريکي کانگريس کے حکام کے حوالے سے بتايا کہ صدر اوباما سمجھتے ہيں کہ دنيا ميں ايسے ممالک کي تعداد زيادہ ہے جو ايران سے زيادہ تيل سپلائي کرتے ہيں.صدر اوباما کا خيال ہے کہ ايران پر تيل کي پابنديوں سے تيل کي طلب ميں فرق نہيں پڑے گا.امريکي صدر کا مزيد کہنا ہے کہ تيل پيداکرنے والے ممالک کي جانب سے پيداوار بڑھانے،معاشي صورتحال اور تيل کے موجودہ ذخائر کي روشني ميں ايران پر تيل کي پابنديوں کو فيصلہ کيا گيا ہے.

جنوبی کوریا میں آج ختم ہونے والی ایٹمی سلامتی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے آخری دن شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جوہری دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ تعاون کیا جانا چاہیے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی اس دوسری بین الاقوامی سربراہی کانفرنس میں 53 ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔  کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرنے والوں میں امریکی صدر باراک اوباما بھی شامل تھے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا،’ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ آج بھی موجود ہے۔ دنیا میں ابھی بھی بہت سے برے عناصر خطرناک ایٹمی مادوں کی تلاش میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں سے جوہری مادے ایسے عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔‘امریکی صدر کے بقول کسی ایٹمی تباہی کے لیے بہت سے جوہری ہتھیار یا مادے درکار نہیں ہوں گے بلکہ ایسے تھوڑے سے مادے بھی لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس کی روشن مثال ہیرو شیما اور ناگاساکی ہیں دو سال پہلے باراک اوباما کی تحریک پر اس طرح کی پہلی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی۔ سیول میں آج ختم ہونے والی کانفنرس میں مندوبین کی توجہ کا مرکز اس بارے میں تبادلہ خیال رہا کہ ایٹمی تنصیبات اور جوہری مادوں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے زیادہ سے زیادہ محفوظ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔خاص کر اسرائیل اور امریکہ مین آج ہی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک نے کہا کہ ایٹمی مادوں کے استعمال کو ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کے لیے بڑی پیش رفت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری مادوں کی اسمگلنگ کا پتہ چلانے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ بین لاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔سیول کانفرنس میں مرکزی ایجنڈے سے ہٹتے ہوئے شمالی کوریا کے متنازعہ راکٹ منصوبے پر سخت تنقید بھی کی گئی۔ شمالی کوریا یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپریل میں ایک دور مار راکٹ کے ذریعے اپنا ایک سیٹلائٹ زمین کے مدار میں چھوڑے گا۔ کمیونسٹ کوریا کے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ کئی دوسری ریاستوں کو بھی اس منصوبے پر شدید اعتراض ہے۔ سیول کانفرنس کی دوسرے دن کی کارروائی کچھ دیر کے تعطل کا شکار بھی ہو گئی۔ اس کی وجہ برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جزائر فاک لینڈز کی وجہ سے پایا جانے والا تنازعہ بنا۔ اس حوالے سے ارجنٹائن کے وزیر خارجہ نے لندن حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک ایسی برطانوی آبدوز مبینہ طور پر جنوبی بحر اوقیانوس کے علاقے میں بھیج دی ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کی جا سکتی ہے۔سیول کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اسے مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنے لب و لہجے میں کافی نرم قرار دیا ہے۔ اس میں ایسے اقدامات کی کوئی ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی کہ ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مادوں کو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے کس طرح بچایا جائے گا۔ اس اعلامیے میں کانفرنس میں شریک ملکوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کو محفوظ تر بنائیں گے۔ ساتھ ہی وہ اپنے ہاں انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کے ذخائر میں بھی زیادہ سے زیادہ کمی کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شمالی کوریا اور ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام شامل نہیں تھے۔ ان دونوں ملکوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ چند ناقدین کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس ایک ‘ٹاک شاپ‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی جس میں محض وقت اور پیسے کا ضائع کیا  اور کوئی ٹھوس فیصلے نظر نہ آئے۔

عراق یا افغانستان میں فرائض انجام دینے کے بعد لوٹنے والے امریکی فوجیوں میں روزانہ سر درد معمول کی بات ہے۔ امریکا میں کیے گئے ایک تازہ سروے کے مطابق جو امریکی فوجی عراق یا افغانستان میں جنگی فرائض انجام دینے کے بعد  وطن لوٹتے ہیں، ان میں بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی دماغی چوٹ یا بڑے دھچکے کا شکار رہ چکے ہوتے ہیں۔ ایسے فوجیوں میں سے ہر پانچویں فوجی کو مہینے میں کم از کم پندرہ دن سر میں مستقل درد رہتا ہے۔ اس جائزے کے دوران بہت سے فوجی روزانہ بنیادوں پر سر درد کے مریض پائے گئے۔ اس نئی تحقیق کے نتائج امریکی میڈیکل ریسرچ میگزین Headache کے تازہ شمارے میں شائع ہو گئے ہیں۔ اس طبی تحقیقی سروے کے دوران امریکی فوج کے محققین نے قریب ایک ہزار فوجیوں کے موجودہ اور پرانے میڈیکل ریکارڈ کا معائنہ کیا۔ یہ سارے فوجی ایسے تھے جنہیں عراق یا افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے یا چھوٹی بڑی دماغی چوٹ کا سامنا رہا تھا۔اس سروے کے دوران ماہرین کو پتہ یہ چلا کہ ان فوجیوں میں سے ہر پانچواں یا مجموعی طور پر قریب بیس فیصد فوجی بار بار ہونے والے سر کے ایسے درد کا شکار رہتے ہیں جسے مستقل بنیادوں پر روزانہ سر درد کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں میں سے ہر ایک کم از کم بھی تین مہینے تک اس سر درد کا شکار رہا۔ ان ایک ہزار امریکی فوجیوں میں سے ایک چوتھائی ایسے تھے جنہیں ہر روز کئی کئی گھنٹے تک شدید سر درد رہتا تھا۔ اس ریسرچ کے نتائج کے مطابق جن امریکی فوجیوں کو مستقل سر میں درد رہتا تھا، ان میں کسی بہت بڑے ذہنی دھچکے کے بعد پائے جانے والے جذباتی یا اعصابی دباؤ کے عارضے PTSDکے واضح آثار بھی پائے گئے۔ اس کے برعکس دیگر فوجیوں میں جنہیں مسلسل سر درد کی شکایت نہیں تھی، ایسے کسی دباؤ کے کوئی آثار دیکھنے کو نہ ملے۔طبی ماہرین اس حالت سے پہلے کے دھچکے کو Concussion کا نام دیتے ہیں۔ ‘کن کشن‘ کسی ذہنی دھچکے کی وجہ سے دماغ کو لگنے والی وہ ہلکی سی چوٹ ہوتی ہے جس کے بعد عموما سر درد کی شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ اس تحقیق کی اہم بات یہ ہے کہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ فوجی اہلکار کتنی بڑی تعداد میں ایسے کسی ذہنی دھچکے کے بعد سر درد کا شکار رہتے ہیں۔ اس سے پہلے عام اندازہ یہ تھا کہ اگر کسی Concussion کے بعد متعلقہ فرد دائمی سر درد کا مریض بن جاتا ہے تو یہ شرح بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اس طبی تحقیقی جائزے کی سربراہی امریکی فوج کے ریاست ٹیکساس میں تعینات میجر بریٹ تھیلر نے کی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک ہزار کے قریب فوجیوں کی صحت اور ان کے میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کیا۔ وہ سارے فوجی عراق یا افغانستان میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ انہیں وہاں ’کن کشن‘ کا سامنا بھی رہا تھا۔ میجر بریٹ تھیلر کے مطابق ایسے 98 فیصد فوجیوں نے امریکا واپسی کے بعد بار بار سر کے درد کی شکایت کی۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن نے پاکستان میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم کو بچانے کے لیے پاکستان کو بعض اہم رعایتوں کی پیشکش کی تھی مگر پاکستانی حکام نے انہیں ٹھکرا دیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے جنوری میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے لندن میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کو آئندہ ڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کی پیشکش کی تھی۔ ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ سی آئی اے کے سربراہ نے نشانہ بنائے جانے والے اہداف پر نئی حدود کے اطلاق کی بھی پیشکش کی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے والے دو پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ جنرل پاشا نے پاکستانی پارلیمان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین پر سی آئی اے کے خود مختار ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یہ مطالبہ کرے گا کہ امریکا دہشت گردوں کے بارے میں معلومات پاکستانی سکیورٹی فورسز کو فراہم کرے تا کہ وہ خود ان عسکریت پسندوں کا تعاقب کریں یا پھر ان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کریں۔ گزشتہ برس مختلف ایسے واقعات پیش آئے تھے جن کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ سی آئی اے کے ایک سکیورٹی افسر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل، مئی میں اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی کارروائی میں ہلاکت اور نومبر میں پاکستان کی ایک سرحدی چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔اس کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف ملک سے گزرنے والی نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی بلکہ امریکیوں سے بلوچستان کی شمسی ایئر بیس بھی خالی کروا لی جہاں سے مبینہ طور پر ڈرون طیارے اڑا کرتے تھے۔ فوجی سطح پر تعاون میں پاکستانی اہلکاروں کو تربیت دینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال دیا گیا اور پاکستان نے امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی شرکت سے انکار کر دیا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمان نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ بعض دیگر امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاشا پیٹریاس ملاقات میں پاکستان کو کسی قسم کی رعایتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب جنوری میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو اس وقت امریکی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ جلد ہی آئی ایس آئی کے سربراہ تبدیل ہو جائیں گے۔ اے پی کے مطابق امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ سفارتی تناؤ کے باعث کہیں پاکستان میں ڈرون حملوں کا پروگرام روکنا نہ پڑ جائے۔ لانگ وار جرنل ویب سائیٹ کے اہلکار Bill Roggio کے مطابق آٹھ برسوں کے دوران پاکستان میں کل 289 ڈرون حملے کیے گئے جن میں 2,223 مشتبہ عسکریت پسند، دہشت گرد اور طالبان ہلاک ہوئے۔ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ان ڈرون حملوں میں کافی کمی واقع ہو چکی ہے

قلقیلیہ :  فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں فلسطینیوں کے اسرائیل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران صہیونی فوج کے تشدد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں سمیت دسیوں غیرملکی اور مقامی شہری زخمی ہو گئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گزشتہ روز د مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفرقدوم کے مقام پر فلسطینیوں نے اسرائیلی مظالم، یہودی آباد کاری انتہا پسندوں کے حملوں اور نسلی دیوارکے خلاف ایک ریلی نکالی۔ احتجاجی ریلی میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے فلسطین میں متعین سفیروں سمیت کئی غیرملکی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا میں کئی افراد کا تعلق یورپی ملکوں سے بھی تھا۔قلقیلیہ کے وسط سے نکلنے والی احتجاجی ریلی شہر کے کئی سال سے بند داخلی دروازے کی طرف بڑھی، لیکن وہاں پر تعینات صہیونی فوج نے ریلی پراشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کئی غیرملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں رام اللہ میں متعین جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں کے علاوہ ایک فرانسیسی انسانی حقوق کی خاتون سماجی کارکن بھی زخمی ہو گئیں۔ادھر گزشتہ روز بلعین میں بھی ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اشک اور گیس کی شیلنگ سے کئی بچوں اور خواتین سمیت ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔ آنسوگیس کے شیل لگنے سے زخمی اور زہریلی گیس کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے

واشنگٹن: امریکہ کے قانون سازوں نے فلسطین کے لیے چھ ماہ سے بند کی گئی8 کروڑ80 لاکھ ڈالر سے زائد کی ترقیاتی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اقدام امریکی ایوانِ نمائنداگان کے دو سینیئر ریپبلیکن ارکان کی جانب سے امداد کی بحالی پر مخالفت واپس لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک الیانا روز لیہٹینن کا کہنا تھا کہ یہ رقم غزہ کی پٹی کا جانب نہیں جانی چاہئیے، جس کا انتظام حماس کے پاس ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ باقی پانچ کروڑ اسی لاکھ کی امداد بند رکھیں گی۔ایک خط میں انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ امداد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو سکتی ہے۔الیانا روز لیہٹینن امریکی امورِ خارجہ کی کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آٹھ کروڑ اسی لاکھ ڈالر سے زائد کی یہ امداد اس اتفاقِ رائے کے ساتھ جاری کر رہی ہیں کہ فلسطینی حکومت اسے مغربی کنارے میں سڑک کی تعمیر، تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی۔یہ امداد فلسطین میں صحت، پانی کے منصوبے اور خوراک کی فراہمی کے لیے استعمال کی جانی ہے۔امریکی قانون سازوں نے فلسطین کی امداد اس وقت بند کر دی تھی جب فلسطین نے گذشتہ سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی درخواست پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔امریکہ نے اعتراض کیا تھا کہ فلسطینی درخواست کی باعث امریکی قیادت میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے امداد روکے جانے پر تنقید کی تھی

کنساس: افغانستان کے شہر قندھار میں 17 معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجی پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں۔امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز پر 11 مارچ کو قندھار میں اندھا دھند فائرنگ کرکے افغان شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت فورٹ لیون ورتھ بیس کنساس میں زیر حراست ہے۔ لیکن اب یہ کیس لوئس میک کورڈ بیس منتقل کردیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی امریکی فوجی پر مقدمہ چلانے کے مقام کا تعین کرنے کے اس عمل میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں جس کے بعد کورٹ مارشل کی اصل کارروائی شروع ہوگی

کابل : قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثا کو کو معاوضے دیے گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق قبائلی بزرگوں کے مطابق امریکی فوج نے جان سے جانے والے ہر فرد کے وارث کو چھیالیس ہزار ڈالر اور زخمی ہونے والے فرد یا اس کے وارث کو دس ہزار ڈالر کے مساوی رقم ادا کی ہے۔مقتولوں اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں نے قندھار کے گورنر کے دفتر میں امریکی فوج اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی ایساف افواج کے اہلکاروں سے ایک نجی اجلاس میں ملاقات کی۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ جب11 مارچ کو ہونے والے اس سانحے کے ذمہ دار سارجنٹ بیلز کے خلاف کارروائی شروع ہو گی تو کچھ لوگوں کو گواہی دینے کے لیے امریکہ جانا پڑے گا جب کہ باقی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہوں گے۔اس واقعے میں امریکی فوجی سارجنٹ بیلز نے گھروں میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت سولہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔صوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فا تحہکے لیے آتے ہیں

فلسطین میں مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم” اقصیٰ فاؤنڈیشن” نے قبلہ اول کی دیوار براق کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک نئی صہیونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں سرگرم ایک انتہا پسند یہودی گروپ نے امریکا کے شہر نیویارک کی بروکیلن کالونی میں قائم میوزیم میں دیوار براق جسے یہودی دیوار مبکی کے نام سے جانتے ہیں کا ایک قوی ہیکل مجسمہ نصب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز دیواربراق کے اس نام نہاد مجسمے کی تنصیب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسرائیل کا ایک وزیر بھی موجود تھا۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے دیوار براق کے ڈھانچے کی امریکا میں تنصیب کو مسجد اقصیٰ کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک سنگین سازش قرار دیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل دیوار براق کو مسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دینے کے بجائے اسے قبلہ اول سے الگ اور مذموم ہیکل سلیمانی کا حصہ قرار دینے کی مہم چلا رہا ہے۔ امریکا میں یہودی گروپ کی جانب سے دیوار براق کا ہیکل تعمیر کر کے مسجداقصیٰ کی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ دیواربراق مسجد اقصیٰ کا تاریخی حصہ ہے۔ اسرائیل اور یہودیوں کے اس پر دعوے قطعی بے بنیاد اور خرافات ہیں، جن میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں ہے۔

واشنگٹن: وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی زیر قیادت میں نیٹو افواج شام کے اندر حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکہ میں موجود انٹیلی جنس فرم کیلئے کام کرنے والے تجزیہ نگار کی جانب سے فراہم کردہ ایک خفیہ ای میل جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے گزشتہ سال دسمبر میں پنٹاگون کے اندر فرانس اور برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے متعدد فوجی حکام نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے اس اجلاس کے دوران سنا تھا کہ نیٹو کے زمینی فوجی کافی عرصے سے شام میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق نیٹو افواج کی اس تربیت کا مقصد حکومت کے خلاف لوگوں کو گوریلا جنگ کیلئے تیار کرنا تھا۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے مطابق بن لادن کے آخری ایام کے دوران اس کی بیویوں کے باہمی شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ وہ تیسری منزل پر اپنی چہیتی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ مسئلہ اس کی پہلی بیوی کے آنے کے شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر شوکت قادر نے اپنی ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کی منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ تک اس موضوع پر تحقیق کی اور انہیں وہ دستاویزات دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، جو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے پوچھ گچھ کے بعد تیار کی تھیں۔ دو مئی کے واقعے کے بعد شوکت قادر کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی آخری رہائش گاہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔ یہ تصاویر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی دکھائی گئیں۔ اس میں ایک تصویر میں مرکزی سیڑھیوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک اور تصویر میں کھڑکیاں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں لوہے کی باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔
گھر کا نقشہ
لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا۔ خاندان کے بقیہ افراد اس عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے، جس میں 2 مئی2011ء کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے اس رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی تفتیشی دستاویزات کے علاوہ القاعدہ کے زیر حراست ارکان کے انٹرویوز سے بھی مدد حاصل کی ہے۔ بن لادن 2005ء سے ایبٹ آباد کے اس تین منزلہ مکان میں رہ رہا تھا۔ اس گھر میں کل 28 افراد تھے، ان میں اسامہ بن لادن، اس کی تین بیویاں، آٹھ بچے اور پانچ پوتے پوتیاں تھے۔ بن لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے کم عمر اہلیہ امل احمد عبدالفتح السدا کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ اس کے بچوں کی عمریں 24 سے تین سال کے درمیان تھیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا خالد ( 24) دو مئی کے آپریشن میں مارا گیا تھا۔ اس آپریشن میں بن لادن کا پیغام رساں اور اس کا بھائی بھی مارے گئے تھے اور اُن کی بیویاں اور بچے بھی اس مکان میں رہائش پذیر تھے۔ 54 سالہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے معدے یا گردے کی شکایت تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ عمر سے بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات موجود تھے۔
بن لادن، امل اور خیرہ
یمنی نژاد امل کی شادی 1999ء میں بن لادن سے ہوئی تھی اور شادی کے وقت وہ 19برس کی تھی۔ بن لادن کی ایک اور اہلیہ سہام صابر بھی اسی منزل پر ایک الگ کمرے میں رہتی تھی اور یہ کمرہ کمپیوٹر روم کے طور بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول امل نے آئی ایس آئی کو بتایا کہ 2011ء میں بن لادن کی سب سے بڑی سعودی نژاد اہلیہ خیرہ صابر کی آمد کے بعد سے گھریلو معاملات میں گڑ بڑ پیدا ہونا شروع ہوئی۔ خیرہ صابر نے دورانِ تفتیش خود بھی تسیلم کیا کہ اس کا اپنا رویہ بھی بہت جارحانہ تھا۔ 2001ء میں خیرہ اپنے شوہر بن لادن کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ افغانستان سے ایران چلی گئی تھی۔ ایران میں اسے نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں تہران حکومت نے پاکستان سے ایک ایرانی سفارت کار کی رہائی کے بدلے اُسے سفر کی اجازت دے دی تھی۔ اس ایرانی سفارت کار کو شمالی علاقہ جات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امل نے دوران تفتیش بتایا کہ خیرہ فروری اور مارچ 2011ء کے درمیانی عرصے میں ایبٹ آباد پہنچی تھی۔ اس دوران بن لادن کا بڑا بیٹا خالد خیرہ سے بار بار پوچھتا رہا کہ وہ وہاں کیوں آئی ہے۔ امل کے بقول خیرہ نے جواب دیا کہ اسے اپنے شوہر کے لیے ایک آخری خدمت انجام دینی ہے۔ اس پر خالد نے فوراً ہی اپنے باپ کو بتا دیا کہ خیرہ اسے دھوکہ دینا یا چھوڑنا چاہتی ہے۔ شوکت قادر کے بقول ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ خیرہ صابر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا۔بن لادن کہاں کہاں روپوش رہا امل نے بتایا ہے کہ بن لادن افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں زیادہ عرصہ قیام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ 2002ء میں وہ کچھ عرصہ کوہاٹ کے قریب ایک علاقے میں روپوش رہا۔ اس دوران گیارہ ستمبر کا منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنے آیا تھا، جسے 2003 ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 2004 ء میں وہ اور خاندان کے کچھ افراد سوات کے قریب شانگلہ منتقل ہو گئے تھے۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 2004ء کے آخر میں یہ لوگ ہری پور اور 2005ء کے موسم گرما میں ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان میں آ گئے، جس کی تیسری منزل پر بن لادن امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ اسامہ کے کچھ اہل خانہ کا خیال ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔
آئی ایس آئی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول فوج میں ان کے ایک دوست نے انہیں بن لادن کی زیر حراست اہلیہ امل سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ تک رسائی دی تھی۔ قادر کے بقول انہوں نے بن لادن کے مکان کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے بقول اس گھر میں فرار ہونے کا کوئی خفیہ راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کوئی انتباہی نظام نصب نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تہہ خانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول ’’یہ گھر اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں وہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘‘۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

امریکہ شام میں فوجی مداخلت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اس سلسلے میں نو فلائی زون کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی مشنوں، بحری راستوں کی نگرانی اور محدود فضائی حملوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی مفصل منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی مختلف امکانات پر صدر باراک اوباما کے ساتھ تبادلہء خیال کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سرِدست اوباما شامی صدر بشار الاسد کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ ہی کو مناسب طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی مرکزی ریسرچ ایجنسی نے زمین پر دوڑنے والا اب تک کا تیز رفتار ترین روبوٹ تیار کیا ہے، جسے چیتا کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ روبوٹ 29 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ پینٹاگون کی’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی‘ (DARPA)کی طرف سے پیر پانچ مارچ کو جاری کی جانے والی تصاویر اور ویڈیو میں بغیر سر کے ایک چھوٹے کتے کے برابر اس روبوٹ کو ٹریڈ مِل پر دوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ DARPA کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق: ’’اس روبوٹ کے دوڑنے کا انداز تیز رفتار جانوروں کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ ہر قدم پر اپنی کمر کی حرکت کے ذریعے یہ روبوٹ اپنی رفتار بڑھاتا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایک چیتا کرتا ہے۔‘‘ اس روبوٹ چیتے نے ٹانگوں کے ذریعے چلنے اور دوڑنے والے روبوٹس کا رفتار کے حوالے سے اب تک کا ریکارڈ بھی توڑا ہے۔ ریسرچ ایجنسی کے مطابق اس سے قبل یہ ریکارڈ میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کے تیار کردہ ایک روبوٹ کے پاس تھا، جو 21.1 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا تھا۔ یہ روبوٹ 1989ء میں تیار کیا گیا تھا۔ ’چیتا‘ نامی یہ روبوٹ ایک عام انسان کے مقابلے میں زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے، تاہم یہ ابھی تک اولمپک چیمپئن یوسین بولٹ کی رفتار تک نہیں پہنچ سکا، جو 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ والٹہام Waltham میساچیوسٹس میں قائم بوسٹن ڈائنامکس میں DARPA کے ایک پروگرام ’میکسیمم موبیلٹی اینڈ مینیپولیشن‘ (MP3) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد روبوٹ ٹیکنالوجی میں بہتری لانا ہے۔پینٹاگون کی اس ریسرچ ایجنسی کو امید ہے کہ امریکی فوج جلد اس طرح کے روبوٹس کو نہ صرف سڑک کنارے نصب بموں کو ناکارہ بنانے بلکہ میدان جنگ کی صورتحال معلوم کرنے اور وہاں موجود خطرات کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کر سکے گی۔ DARPA کے بقول بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے پہلے ہی روبوٹس سے مدد لی جا رہی ہے، جس سے انسانی ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ان روبوٹس کے دوڑنے اور رفتار سے متعلق صلاحیت میں مزید بہتری کی صورت میں اس طرح کے کام زیادہ بہتر انداز سے ادا کیے جا سکتے ہیں۔یہ روبوٹ تیار کرنے والے ادارے بوسٹن ڈائنامکس کے چیف روبوٹکس سائنٹسٹ الفریڈ رِیزی کے مطابق دوڑنے والے اس روبوٹ کی قدرتی حالات میں آزمائش رواں برس کے اختتام تک کی جائے گی۔

امریکہ کے ساتھ 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے ساتھ کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح دوسرے موا زنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔عالمی میڈیا میں ایران پر ممکنہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے مختلف سماجی ویب سائٹس پر حال ہی میں اعداد و شمار پر مبنی ایک تصویری رپورٹ نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے، جس میں دنیا کے امن کو حقیقی خطرہ کے عنوان سے اب تک دونوں ملکوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار میں بیان ہو ا ہے کہ امریکہ کے پاس 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح  دوسرے موازنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی تیسری لائن میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء کے دوران امریکا کا جنگی و دفاعی بجٹ 687 بلین امریکی ڈالر تھا، جب کہ ایران کا دفاعی بجٹ صرف 7 بلین امریکی ڈالرز ہے۔ اسی طرح موازنے کی چوتھی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک 16 ممالک پر چڑھائی و جارحیت کرکے حملے اور قبضہ تک کیا ہے  لیکن ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی آخری اور پانچویں لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب بھی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور عالمی تنظیموں کے ذریعے پابندیاں لگانے میں مصروف ہے، جبکہ ایران اس حوالے سے دیگر ممالک پر پابندیاں و دخل انداز ی تو دور کی بات خود ہی پابندیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ مختلف سماجی وییب سائٹس پر اس سروے کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

بھارت کی ایک عدالت نے قتل کے مقدمے میں ملوث دو اطالوی فوجیوں کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے جیل میں مراعات کے لیے ان کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت پیر کو بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت میں ہوئی۔ اطالوی فوجیوں نے انہی مراعات کی درخواست کی تھی، جو اٹلی میں ملٹری کو جیل میں حاصل ہوتی ہیں، تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ بھارتی قانون کے مطابق جیل میں ایسی سہولتیں نہیں دی جا سکتیں۔ دونوں فوجیوں پر دو مچھیروں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے، جنہیں دراصل قزاق سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اطالوی فوجی گزشتہ ماہ تیل بردار ایک جہاز کی سکیورٹی پر تھے، جس وقت انہوں نے مچھیروں کی کشتی پر فائرنگ کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقعے نے بھارت اور اٹلی کے سفارتی تعلقات کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ روم حکومت کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا جبکہ نئی دہلی حکومت کا اصرار ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ بھارت قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ Guilio Terzi نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فوجیوں پر اطالوی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔تاہم نئی دہلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ہلاکتیں ایک بھارتی کشتی پر ہوئی ہیں اس لیے مقدمہ بھی بھارت میں چلنا چاہیے۔ اٹلی نے کیرالہ ہائی کورٹ میں بھی ایک علیحٰدہ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں دونوں فوجیوں Massimiliano Latorre اورSalvatore Girone کے خلاف مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پیر کو چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ اے کے گوپا کمار نے کہا کہ دونوں اطالوی شہریوں کو کیرالہ کے ریاستی دارالحکومت تھیرو انت پورم کی سینٹرل جیل بھیج دیا جائے۔ اعلیٰ پولیس اہلکار اجیت کمار نے اے ایف پی کو بتایا: ’’اطالوی شہریوں کو جیل میں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے اور انہیں ہر روز ایک گھنٹے کے لیے ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔‘‘ آئندہ دو ہفتوں میں ان کی عدالت میں پھر سے پیشی متوقع ہے۔ پولیس اہلکار الیگزینڈر جیکب نے کہا کہ ان اطالوی فوجیوں نے جیل میں ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور چوبیس گھنٹے سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔ جیکب نے کہا: ’’عدالت نے ان کی یہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں لیکن انہیں ایک خصوصی کمرہ دیا گیا ہے۔ بھارتی جیلوں میں کسی کو دی جانے زیادہ سے زیادہ لگژری سہولت یہی ہے۔‘‘

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ وہ ايران پر پيشگي حملے کي سوچ کونظرانداز کردے.اسرائيلي وزيراعظم سے ملاقات سے ايک روز قبل اسرائيلي نواز امريکي لابي کے ايک گروپ سے خطاب ميں امريکي صدر کا کہنا تھا کہ امريکہ اور اسرائيل کا خيال ہے کہ ايران کے پاس جوہري ہتھيار نہيں ہيں. اور ہم ان کے جوہري پروگرام کي نگراني ميں حد سے زيادہ چوکس ہيں. واشنگٹن ميں اجلاس سے خطاب ميں بارک اوباما کا کہنا تھا کہ اب بين الاقوامي برادري کي بھي ذمہ داري بڑھ گئي ہے. ايپاک پاليسي کانفرنس سے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ ايران پر پابنديوں کو بڑھايا جارہا ہے. امريکي صدر کا کہنا تھا کہ ايراني رہنماو?ں کے پاس اب بھي درست فيصلہ کرنے کا موقع ہے کہ وہ بين الاقوامي برادري ميں واپس آئيں يا اپنے لئے بند گليوں کاانتخاب کر ليں. امريکي صدر نے کہا کہ ايران کي تاريخ ديکھ کر يہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہيں يہ يقين نہيں ہے کہ ايرني حکمران صحيح سميت ميں فيصلہ کريگا. انہوں نے کہا کہ ملٹري اسٹرائيک سے تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوگا.دوسري جانب واشنگٹن ميں ہي ايپاک کو ايک قبضہ گروپ قرار ديتے ہوئے امريکہ اسرائيل پبلک افئير کميٹي کے کردار کے خلاف احتجاج کياگيا. ايپاک مخالف گروپ کے ايک عہديدار نے کہا کہ پہلے ہي ايپاک نے امريکيوں کوعراق کے خلاف جنگ ميں دھکيل ديا ہے اور اب يہ گروپ ايران کے خلاف جنگ ميں دھکيلنا چاہتا ہے

واشنگٹن . .. . . .. . گزشتہ برس مئي ميں سي آئي اے کے خفيہ آپريشن ميں مارے جانے والے القاعدہ چيف اسامہ بن لادن کے سمندر برد کيے جانے کي اطلاع پر سواليہ نشان لگ گيا ہے.امريکي سيکورٹي ايجنسي اسٹارفورٹ کي خفيہ انٹيلي جنس فائلوں سے حاصل کردہ اي ميل انکشافات کے مطابق القاعدہ چيف کو مارے جانے کے بعد اسلامي طريقے سے سمندر برد کرنے کي خبروں ميں صداقت نہيں بلکہ اسامہ کي لاش کو امريکي رياست ڈيلويئر کے فوجي ائير بيس بھجواديا گيا تھاجہاں سے بعد ميں لاش کو معائنے اور رپورٹ کے ليے مير لينڈ کے امريکي افواج کے ميڈيکل انسٹيوٹ لايا گيا تھا.اي ميل سے يہ بھي معلوم ہو اہے کہ لاش کو سي آئي اے نے خصوصي طيارے سے امريکا پہنچايا

اسلام آباد … امريکي اعتراضات مسترد کرتے ہوئے پاکستان نے ايران کے ساتھ گيس منصوبہ جاري رکھنے کا اعلان کرديا. وزير خارجہ حنا رباني کھر نے کہا ہے کہ ايران کے ساتھ گيس منصوبہ بغير کسي غير ملکي دباو? کے مکمل کريں گے، بھارت کے ساتھ تجارت کا مطلب مسئلہ کشمير پر مو?قف سے پيچھے ہٹنا نہيں، مارچ کے دوسرے ہفتے ميں پارليماني کميٹي کي سفارشات پارليمنٹ ميں آجائيں گي، برطانيہ نے يورپي مارکيٹ تک رسائي دلوانے ميں اہم کردار ادا کيا. وزير خارجہ حنا رباني کھر اسلام آباد ميں پريس کانفرنس سے خطاب کررہي تھي. انہوں نے کہا کہ ملکي مفاد کے خلاف کوئي فيصلہ نہيں کيا جائے گا، تمام فيصلے ملکي مفاد کو مد نظر رکھ کر کئے جائيں گے، پاک ايران توانائي منصوبہ ملکي مفاد کے تحت آگے بڑھائيں گے اور بغير کسي غير ملکي دباو? کے ايران کے ساتھ گيس منصوبہ مکمل کيا جائے گا. وزير خارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارتي تعلقات ميں بہتري ملکي معيشت کے لئے فائدہ مند ہے، کسي بھي ملک کے ساتھ تعلقات ملکي مفاد کے تحت ہوں گے، ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت کا مطلب مسئلہ کشمير سے ہٹنا نہيں . انہوں نے کہا کہ مارچ کے دوسرے ہفتے ميں پارليماني کميٹي کي سفارشات پارليمنٹ ميں آجائيں گي اور نيٹو سپلائي کي بحالي کا فيصلہ پارليمنٹ کرے گي. حنا رباني کھر نے کہا کہ پاکستان امن عمل ميں افغانستان کے ساتھ ہے، پاکستان، ايران افغانستان کے امن کا خطے کے امن سے براہ راست تعلق ہے، انہوں نے واضح کيا کہ کسي کے خلاف اپني سرزمين استعمال نہيں ہونے ديں گے. پريس کانفرنس ميں وزير خارجہ حنا رباني کھر نے مزيد کہا کہ امريکي حکام نے سلالہ چيک پوسٹ واقعے پر افسوس کا اظہار کيا ہے،ان کا کہنا ہے کہ برطانيہ نے پاکستان کو يورپي مارکيٹ تک رسائي دلوانے ميں اہم کردار ادا کيا

میکسیکوسٹی…میکسیکو کا رہائشی ایک 16سالہ لڑکا دنیا کا کم عمر ترین ماہرِنفسیات بن گیاہے۔Almazan Anaya میکسیکو کی ایک مقامی یونیورسٹی میں نفسیات کا شاگرد ہے اوراس ماہ اپنا گریجویشن مکمل کر کے ایک ماہرنفسیات کی حیثیت سے ڈگری بھی حاصل کر لے گا۔Almazanبچپن سے ہی میڈیکل اور نفسیات میں بے حد دلچسپی رکھتا تھا اور اسی لگن نے اسے اس شعبے میں مزید تعلیم حاصل کر نے کیلئے 12سال کی عمر میں کالج پہنچا دیا اور اب اس ماہ وہ صرف 16سال کی عمر میں نفسیات کے مضمون میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر لے گا۔Almazanکے مطابق وہ ڈگری حاصل کر نے کے بعدپر یکٹس شروع کر نے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہNeuroscience اور Neurologyکے شعبوں میں مزید تعلیم حاصل کر نا چاہتا ہے۔

برلن … جرمني ميں سابق صدر کرسٹين وولف کے گھر پر پوليس نے چھاپامارا ہے.غير ملکي خبر ايجنسي نے جرمن استغاثہ کے حوالے سے بتايا کہ ہينور کے علاقے ميں کرسٹين وولف کے گھر سے پوليس نے کمپيوٹر اور ديگر اشياء اپنے قبضے ميں لے ليں. جرمن صدر سے غير قانوني مالي فوائدحاصل کرنے پر تفتيش کي جارہي ہے.پوليس کا کہنا تھا کہ وولف نے پوليس کے ساتھ مکمل تعاون کيا اور پوليس کے کام ميں کوئي رکاوٹ نہيں ڈالي

رباط : اسلامی تعاون تنظیم کے زیراہتمام تنظیم برائے سائنس وثقافت“آئیسیسکو” نے افغانستان میں قابض امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذرآتش کرنے کی جسارت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے نسخوں کو آگ لگانا ایک غلیظ اور گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے افغانستان میں قابض امریکی فوج عالم اسلام اور مسلمانوں سے نظریاتی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق “آئی سیسکو” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اڈے میں قرآن پاک کا نذرآتش کیا جانا پرلے درجے کی اسلام دشمنی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے گستاخ امریکی فوجیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو فوجیوں پرعائد ہوتی ہے، جو تواتر کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر حملوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسلامی تنظیم برائے سائنس وثقافت نے امریکی حکومت، صدر براک اوباما، اقوام متحدہ، او آئی سی اورعرب لیگ سمیت انسانی حقوق کی تمام عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ قران پاک کی توہین کے مرتکب گستاخ امریکی فوجیوں کیخلاف ٹھوس تحقیقات شروع کریں اور صحائف کو جلانے کی پاداش میں ایسے قومی جنگی مجرموں کیخلاف عالمی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے ایک فوجی اڈے پرامریکی فوجیوں کی اس غلیظ حرکت پربھی امریکیوں کو ذرا شرمندگی نہیں ہے اور وہ ان گستاخان اسلام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو بچانے والوں کا بھی وہی بدترین انجام ہو گا جو قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کی مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔امریکی فوج اس سے قبل اسی طرح کی گھناؤنی حرکات عراق اور دیگرملکوں میں کرتی رہی ہے اور وہ اسرائیلی فوجیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے جوفلسطین میں اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں میں ملوث ہیں

یروشلم کی دیواروں پر’مسیحیوں کی موت‘ یا ’ تمہیں صلیب پر چڑھا دیں گے‘ کی طرح کی تحریریں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انتہاپسند یہودیوں کی جانب سے کلیساؤں، قبرستانوں اور دیگر مقامات پر حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ا س سے قبل اسرائیل میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہودیی یا تو مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے یا ان کا ہدف بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیل اور غرب اردن میں دس مساجد کو نذز آتش کیا گیا۔ امن کے لیے سرگرم ’پیس ناؤ‘ نامی تنظیم کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تاہم اب یہ تمام حربے اسرائیل میں آباد مسیحی برادری کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں نے فروری کے وسط میں مغربی یروم شلم میں ایک بیپٹسٹ چرچ، شہر کے قدیم یہودی علاقے کے ایک کرسچن قبرستان اور اسی طرح فروری میں ہی ایک اورتھوڈوکس کلوسٹر کی دیواروں پر اسپرے پینٹ کے ذریعے مسیحیت کے خلاف نعرے درج کیے۔پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عام سی غنڈہ گردی ہےاور ان کارروائیوں کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول نہ ہی ان واقعات کا محرک قوم پرستی ہے۔ اسرائیل کے صدر شمعون پیریز کا اس حوالے سے کہنا تھا ’’ میں تینوں توحیدی مذاہب سے کہنا چاہتا ہو کہ اسرائیل میں مسلمانوں، کرسچنز اور یہودیوں کے مذہبی مقامات اور ان کے رسم و رواج کا احترام کیا جائے۔ Temple Mount یعنی الحرم القدسی الشریف کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس ہے‘‘۔ پیریز نے مزید کہا ’’جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، وہ ہمارے لیے مقدس ہے، جو مقام کرسچنز کے لیے مقدس ہیں، وہ ہمارے لیے بھی ہیں اور جو کچھ ہمارے لیے مقدس ہے وہ یقینی طور پر سب کے لیے مقدس ہےلیکن اس طرح کے بیانات یروشلم میں آباد مسیحیوں کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسرائیل کے دارالحکومت میں انہیں آئے دن امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قوم پرست اورانتہائی قدامت پسند یہودیوں کی جانب سےشہر کے قدیم حصے کے تنگ گلیوں میں مسیحی مذہبی شخصیات پر تھوکنا ایک عام سی بات ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے پادریوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم ’ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ نے رابیوں کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھوکنے کے ان حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہےاس دوران رابی شلومو آمار اور یونا میٹزگر یروشلم میں مسیحی باشندوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ دو سال قبل غرب اردن کے ایک گاؤں یوسف میں مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس کے بعد میٹزگر نے اس علاقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’وہ اپنے پڑوسیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہر مقدس جگہ، جہاں انسان عبادت کرتے ہیں، چاہے وہ مسجد ہو، چرچ ہو یا سینیگوگ ہو، وہ اسے نذر آتش کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند اور انتہا پسند یہودیوں نے ابھی تک رابی یونا میٹزگر کی اپیل پر کان نہیں دھرے

عداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت 3.168 ڈالر کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3.565 ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ایران کی جانب سے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی برآمد روکنے کے اقدام کے نتیجے میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے یومیہ ایندھن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے ماہ فروری میں گذشتہ ماہ کی نسبت گیسولین کی قیمت میں تقریباً ۲۵ سینٹ اوسطاً اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت ۳.۱۶۸ ڈالر کے مقابلے میں ۱۲.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۳.۵۶۵ ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ امریکی شہریوں نے گیسولین کی قیمتوں میں اضافے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کو ماہ اپریل میں خام تیل کی فراہمی میں ۲فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت ۱۰۵.۸ ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے۔ یورپی منڈی میں پرینٹ کروڈ کی قیمتیں ۰.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۲۰.۱۸ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ یورپ کو تیل کی فراہمی بند کرنے کا ایرانی فیصلہ یورپ اور امریکہ کی ایران پر پابندیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف یورپی اور امریکی پابندیاں یکم جولائی ۲۰۱۲ءسے نافذ العمل ہونگی لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق امریکی ڈرون طيارے کو علاقے ميں موجود شدت پسندوں نے مار گرايا ہے، جبکہ مقامی لوگ تباہ شدہ جاسوس طيارے کا ملبہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہيںشمالی وزيرستان ميں ایک امريکی جاسوس طيارہ گر کر تباہ ہو گيا ہے، ذرائع کے مطابق جاسوس طيارہ ميرعلی کے علاقے مچھی خيل ميں آبادی سے دور ويرانے ميں گرکر تباہ ہوا، مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے اچانک زوردار دھماکوں کی آوازيں سنيں اور ديکھا تو گرنے والے جاسوس طيارے کے ملبے ميں آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، ذرائع کے مطابق اطلاع ملنے کے بعد سيکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھيرے ميں لے ليا اور کسی کو بھی اس طرف آنے کی اجازت نہيں دی جارہی۔  ایک نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق امریکی ڈرون طيارے کو علاقے ميں موجود شدت پسندوں نے مار گرايا ہے، جبکہ مقامی لوگ تباہ شدہ جاسوس طيارے کا ملبہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہيں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایک امریکی ڈرون طیارہ وزیرستان میں گر کر تباہ ہوا تھا۔

  امریکی16 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظرثانی کا باعث بنے۔امریکی اخبار نے 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی متفقہ طور پر تیار کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جوہری ریسرچ میں ضرور ہے جو اسے ایٹم بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے لیکن ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003ء میں اپنے جوہری بم بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عوامی سطح پر فوجی حملے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک حقیقت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ ایران جوہری بم بنانے میں کوئی فعال سرگرمی کی کوشش میں ہے۔  امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک 2007ء میں تیار کی گئی ایک انتہائی اہم رپورٹ گزشتہ برس پالیسی سازوں کو فراہم کی گئی تھی۔ قومی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق تہران نے 2003ء میں ایٹمی وار ہیڈز بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا جبکہ حال ہی میں 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظر ثانی کا باعث بنے۔  سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بنیادی انٹیلی جنس یا تجزیے سے اختلاف نہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بننے کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔ کچھ اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ایران جوہری پیش رفت میں بہت آگے چلا جائے اس کو روکنے کیلئے فوجی حملے کا امکان ہے۔

لبنان کی عدلیہ نے تین صیہونی جاسوسوں کو موت کی سزا سنائي ہے۔ لبنان کی فوجی عدالت نے گذشتہ روز تین لبنانی شہریوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کر رہے تھے، موت کی سزا سنائي ہے۔ ایک ہفتے پہلے بھی لبنان کی فوجی عدالت نے تین لبنانیوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی میں ملوث تھے، موت کی سزا سنائي تھی۔ لبنان کی سکیورٹی فورسز نے حزب اللہ کی مدد سے صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کرنے والے متعدد نیٹ ورک پکڑے ہیں۔ صیہونی حکومت حزب اللہ اور ملت لبنان کو نقصان پہنچانے کے لئے لبنان میں وسیع پیمانے پر جاسوسی کی کارروائیوں میں مشغول ہے۔