Archive for the ‘Saudi Arab, Bahrain & Middle East’ Category

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

Advertisements

کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم ص کی شان میں گستاخانہ بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے اور ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر نعوذ باللہ شراب کی خرید و فروش کی تہمت لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی نے یہ دعوا کیا تھا کہ : “خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے قبل بعض افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب تحفے میں پیش کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسے یا تو فروخت کر دیتے تھے اور یا پھر دوسروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیتے تھے”۔  اس سعودی وہابی مفتی نے اس تہمت اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر یہ فتوا بھی جاری کیا تھا کہ : “شراب نجس نہیں کیونکہ خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے بعد افراد نے اپنی شراب کی بوتلوں کو باہر گلی میں خالی کر دیا اور صحابہ کرام کے پاوں مسجد میں جاتے ہوئے شراب سے گیلے ہو گئے تھے اور انہوں نے اسی حالت میں نماز ادا کی”۔  آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے اس فتوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر شراب کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا گیا ہے لہذا تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ شراب ویسے ہی نجس ہے جیسے خون اور پیشاب نجس ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کے چاروں فرقوں کے امام نے شراب کو نجس قرار دیا ہے اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں بھی شراب کو صراحت سے نجس قرار دیا گیا ہے۔  کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور بے بنیاد فتوا جاری کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمد العریفی خدا کے حضور توبہ کرے اور تمام مسلمانان عالم سے معذرت خواہی کرے۔

خطیب جمعہ تہران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ شام کے خلاف مغربی اور بعض عرب ملکوں کی دشمنی اور اس ملک میں بدامنی پھیلانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک اسلامی بیداری سے شکست کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ آيت اللہ احمد خاتمی نے کہا کہ شام، صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک محاذ ہے اور عالمی سامراج نے بعض عرب اور مغربی ملکوں کو فریب دے کر شام سے انتقام لینے کی سازشیں شروع کر دی ہیں کیونکہ شام علاقے کے عوام کی تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی بیداری نے علاقے کے بعض ملکوں کو سامراج کے تسلط سے نجات دلائی ہے اور جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آل سعود کی حکومت صیہونی حکومت کے مقابل مزاحمت کے حامل ملک شام میں بڑے پیمانے پر فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے سعودی عرب کی تفرقہ انگيز پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب فتنوں کا گڑھ اور دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے کیونکہ اس نے تیونس کے سابق ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی، اور عراق کے فراری نائب صدر طارق ہاشمی کو پناہ دے رکھی ہے اور مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے علاقائی ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے تعلقات بڑھانے اور مسلمانوں کو نزدیک لانے کی کوشش کی ہے جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ تفرقہ اور اختلافات پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو ان پالیسیوں سے نقصان اور نابودی کے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔ خطیب جمعہ تہران نے بعض عرب ملکوں کی جانب سے بحرین کے حالات اور آل خلیفہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے مظالم کو نظر انداز کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بحرین پر قبضہ کرلیا ہے اور بحرینی عوام کی سرکوبی میں شریک ہے۔ انہوں نے امریکہ سے تعلقات منقطع کرنے کے دن کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انقلابی طلباء کے ہاتھوں امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے ایران اور امریکہ کے درمیاں تعلقات کے منقطع کئےجانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو تعلقات ختم کرنے کا یہی ایک کام ہے اور ہم بھی یہی چاہتے تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔ پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت پرمبنی رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اس سلسلے میں بیرونی دباؤ برداشت نہيں کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔  انھوں نے مزید کہا کہ روس نے بھی اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر تیل اعجاز چودھری نے اٹھائیس مارچ کو کہا تھا کہ روسی کمپنی نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ میں تقریبا ڈیڑہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ واضح رہے کہ بعض ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ کے اصلی اتحادی سعودی عرب نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایسا پیکج دینے کا وعدہ کیا ہے جو ایران پاکستان گیس پروجیکٹ معلق ہونے کی صورت میں اس ملک کی انرجی کی ضرورت پوری کرے گا۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔لبنان کے اھل سنت اور شیعہ علماء نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کی مذمت کی ہے۔ جمعیت علماء لبنان کے سینئر رکن شیخ احمد ال زین نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت امریکہ کی خدمت اور صیہونی حکومت کی حمایت کرنا ہے۔ ادھر شہر صیدا کے معروف عالم دین شیخ ماہر حمود نے کہا ہے کہ بحرین سے سعودی عرب کی جارح افواج کو فورا نکل جانا چاہیے کیونکہ بحرین میں سعودی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ فلسطین علماء کونسل کے رکن شیخ محمد موعد نے آل خلیفہ کی حکومت سے کہا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے جارح فوجیوں کو بحرین سے نکل جانا چاہیے۔ادھر سعودی عرب میں طلباء نے آل سعود کے کارندوں کی تشدد آمیز روشوں کی مذمت کی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔ طلباء نے کہا ہے کہ وہ پولیس کی اس بربریت کے خلاف دھرنا دیں گے۔ سعودی کارندوں کے تشدد میں ایک طالبہ شہید ہو گئی تھی۔ ادھر شہر قطیف کے امام جمعہ نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کو روکنے کے لئے نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ شیخ حسن الصفار نے جمعے کی نماز میں کہا کہ ملک میں ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جن سے فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ منافرت کا سدباب ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے عناصر سے مقابلہ کرے۔ یاد رہے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانون کے خلاف شدید تعصب اور امتیازی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ عرب سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی مقصد کیلئے ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔گذشتہ دنوں سعودی عرب کے بوڑھے وزیر اطلاعات پاکستان کے دورے پر تشریف لائے، انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ انہیں خوش کرنے کے لئے پاکستانی وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک ڈانس پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں پاکستانی لڑکیاں انتہائی شرمناک لباس میں بوڑھے سعودی وزیر کے سامنے کافی دیر تک ناچتی رہیں اور اس دوران پاکستانی اعلٰی حکام اور خود وزیر اطلاعات فردوش عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ اس پارٹی کے بعد کی کہانی معلوم نہ ہوسکی۔ وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میزبانی میں اس تقریب کے مہمان خصوصی خادمین حرمین شریفین کنگ عبداللہ کے وزیر اطلاعات و کلچر منسٹر عزت ماب عبدالعزیز بن محی الدین تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میڈیا اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ پارٹی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین کے دورہ پاکستان سے دنیا میں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشترکہ میڈیا حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گیواضح رہے کہ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردس عاشق اعوان کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی وزیر اطلاعات کے دورے سے نہ صرف ایک دوسرے کی ثقافتوں کو سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی باعث ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الغدیر، وفاقی سیکریٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر افسران بھی ان پارٹیوں میں شریک ہوئے۔ سعودی وزیر اطلاعات کے پاکستان کے لئے پرجوش جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حال ہی میں ان کا ایک آپریشن ہوا ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنے پاکستان کے دورے کو مؤخر نہیں کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دورے سے جو توقع تھی وہ پوری نہ ہوئی اور انہوں نے پی ٹی وی کے لئے فوری طور پر کسی گرانٹ یا رقم کا اعلان نہیں کیا اور پی ٹی وی کی طرف سے ڈانس پارٹی بھی ضائع گئی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ بان کی مون نے الخلیفہ حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ الخواجہ کو علاقہ کے لئے  ڈنمارک کے حوالے کردے کیونکہ الخواج کے پاس ڈنمارک کی شہریت بھی موجود ہے۔ الخواجہ کی گرفتاری اور اور اس کی بھوک ہڑتال کے بعد بحرین میں عوامی مظاہروں میں شدت آگئی ہے

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلٰی بن علی نے اپنی آپ بیتی مکمل کر لی ہے۔ امید ہے کہ ’مائی ٹرتھ‘ یعنی ’میرا سچ‘ کے عنوان سے یہ کتاب اگلے ماہ سے دستیاب ہو گی۔تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کی یہ کتاب ابھی صرف فرانسیسی زبان میں شائع ہو گی۔ فرانسیسی ناشرLes Editions du Moment نے اسے شائع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تناظر میں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناشر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ادارے کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تیونس کی ایک ویب سائٹ Tunisia live کےمطابق ناشر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ کتاب اشاعتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیلٰی بن علی کے بقول انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جو زین العابدین کے دور حکومت میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے تھے۔لیلٰی بن علی کا تعلق طرابلیسی خاندن سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ہیر ڈریسر تھیں۔ ان کے انتہائی پر تعیش طرز زندگی اور امیر خاندان کی وجہ سے تیونس کے بہت سے شہری ان پر بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بن علی کے دور حکومت میں کی جانے والی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف کرپشن، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور آزادیء اظہار پر پابندی کی وجہ سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس طرح بن علی عرب دنیا کے وہ پہلے رہنما تھے، جنہیں عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ گزشتہ برس جنوری میں جب احتجاجی مظاہرے تیونس کے دارالحکومت تک پہنچ گئے تو لیلٰی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھیں۔ جون میں تیونس کی ایک عدالت نے زین العابدین اور ان کی اہلیہ کو چوری اور غیر قانونی طور پر جواہرات اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ان دنوں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق بن علی کے دور میں طرابلیسی خاندان نے بڑے پیمانے پرفوائد حاصل کیے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپ بیتی کے منظر عام پر آنے کے بعد تیونس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سماجی ویب سائٹس پر چند افراد نے ابھی سے ’مائی ٹرتھ‘ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بن علی نے اپنے 23 سالہ دور حکومت میں متعدد تصانیف پر پابندی عائد کی تھی تو اس کتاب کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی زبان میں Ma Verite کے ٹائٹل والے یہ کتاب 24 مئی کو فروخت کے لیے جاری کر دی جائے گی اور اس کی قیمت تقریباً 16 یورو ہو گی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں یوپے نے کہا ہے کہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے شامی حکومت کے وعدے جھوٹ پر مبنی تھے۔ ترکی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر بشار الاسد نے کوفی عنان سے جھوٹ بولا۔‘ یوپے کے مطابق، ’ نہ ہی بھاری ہتھیاروں سے حملے بند ہوئے ہیں۔ نہ ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ نہ صرف دمشق بلکہ دیگر علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور شامی حکومت جسے فوجی دستوں کا انخلا قرار دے رہی ہے وہ اصل میں متاثرہ علاقوں میں مزید فوجیوں کا بھیجا جانا ہے۔‘یوپے نے کہا کہ وہ یہ معاملہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے: ’’ہم زور دیں گے کہ 12 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال سے تمام تر نتائج اخذ کرے اور دیکھے کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور وہاں سیاسی مکالمت کے آغاز کے لیے کیا نئے اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ کا یہ بیان کوفی عنان کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے جانے والے اس خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عنان نے کہا تھا کہ اسد حکومت ’امن کا اشارہ‘ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عنان نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے ’بنیادی نکتے‘ کا خیال رکھتے ہوئے 12 اپریل تک مکمل طور پر سیز فائر کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 اپریل تک ہر حال میں فائربندی کرے اور ایسے واضح اشارے دے کہ وہ جنگ مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ اگر شام جمعرات کی ڈیڈ لائن کا احترام کرتے ہوئے فائربندی نہ کرے تو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، ’’اگر شامی حکومت اگلے 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل طور پر فائربندی کرنے میں ناکام ہو، تو اقوام متحدہ ایک قرارداد کے ذریعے وہاں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘‘ ترک وزارت خارجہ کے اس بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل سے کس طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے

رياض. . . .خليج تعاون کونسل نے رکن ممالک کے داخلي امورميں ممکنہ ايراني مداخلت کيپيش نظر ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي تجويز کا جائزہ لينے کے لئے خليجي ممالک اور امريکا کي مشترکہ سيکيورٹي کميٹي قائم کردي ہے.سعودي اخبار کے مطابق يہ فيصلہ خليجي ممالک کے تحفظ کے لئے کيا گيا ہے. مشترکہ کميٹي امن و سلامتي کے ماہرين پر مشتمل ہوگي جو ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي ضرورت اور اہميت کا فيصلہ کريں گے. امريکا نے يقين دہاني کرائي ہے کہ خليجي ممالک سے متعلق اس کے وعدے ٹھوس نوعيت کے ہيں. امريکا کسي بھي خطرے کے مقابلے کے لئے خليجي ممالک کي مشترکہ دفاعي تنصيبات کے استحکام ميں بھرپور تعاون کرے گا.

ریاض:  سعودی عرب کی حکومت نے نوجوانوں کے اکیلے شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جانے پر عائد پابندی ختم کردی ۔ سعودی میڈیا کے مطابق ریاض کے گورنر شہزادہ شیطام بن عبدالعزیز نے اعلان کیا ہے کہ اکیلے مردوں پر شاپنگ مارکیٹوں میں خریداری پرعائد پابندی ختم کی جا رہی ہے اور اب مرد اکیلے بھی خریداری کرسکیں گے۔ اس سے قبل سعودی حکومت نے شام کے وقت اور تعطیلات کے دوران مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں اکیلے مردوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ زیادہ تر نوجوان لڑکے خریداری کے دوران مارکیٹوں میں خواتین کوہراساں کرتے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے اکیلے مردوں پر جن کے ساتھ اہل خانہ موجود نہ ہوں پابندی عائد کررکھی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے منفی ردعمل ہوا اور اب نوجوان مارکیٹوں کے باہر جمع ہوکر خواتین کو ہراساں کرتے تھے پابندی اٹھانے کا یہ فیصلہ مقامی حکام اور مذہبی پولیس کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے کیا ہے جس کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب جہاں پر تفریحی مواقع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی نوجوان زیادہ تر مارکیٹوں میں گھوم پھر کر تفریح طبع کا سامان کا سامان کر لیتے تھے

سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ مصرس سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن  نے موج البحر کے عنوان سےکہا ہے کہ  سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ سعودی عرب کے اس سیاسی سرگرم رکن کے مطابق اس نے پہلے سلطان بن عبد العزیز کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات پیش کی تھیں جو صحیح ثابت ہوئيں جبکہ سعودی حکام بالخصوص آل سعود اپنی اطلاعات اور اپنے راز کو پوشیدہ اور مخفی رکھنے کی تلاش و کوشش کرتے ہیں۔ موج البحر کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد نایف بن عبد العزیزدماغی سکتہ اور دل کے دورہ میں مبتلا ہیں اور امریکہ جانے کی اصل وجہ بھی یہی ہے وہ طویل مدت تک امریکہ میں رہنے کے لئے مجبور ہے۔ موج البحرکےمطابق آل سعود اس وقت سخت بحران میں گرفتارہیں کیونکہ سعودی عرب کے اعلی حکام اس وقت لا علاج بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

جینیوا: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں قائم امریکی نواز حکومت شام میں حکومت مخالف باغیوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب و ٹیلی چرکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہیں کہ لیبیا میں شامی باغیوں کے لئے خصوصی طور پر ایک تربیت گاہ قائم کی گئی ہے جہاں لوگوں کو تربیت فراہم کر کے شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جانا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران کو واضح کیا کہ روس اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتا ہے چونکہ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے بھی مترادف ہے۔ چرکین نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

تیونسیہ: حکومت تیونس نے سابق جلا وطن صدر زین العابدین بن علی کو ٹرائل کے لیے وطن واپس لانے بارے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کبھی بھی بن علی کو ملک بدر نہیں کرے گا تاہم کوشش جاری رہے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد منتخب ہونے والے صدر تیونس منصف قرزوقی نے کہا کہ سابق صدر زین العابدین کو ٹرائل کے لیے واپس وطن لانے بارے حکومت تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور سعودی عرب حکومت پر اس حوالے سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سابق صدر کو اپنے ملک کے حوالے کرے تاکہ ان کا ٹرائل کیا جائے تاہم اس امید کا اظہار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب انہیں ملک بدر کرے گا چونکہ وہاں کی اپنی روایات اور قوانین ہیں۔ واضح رہے کہ زین العابدین کو تیونس کی عدالت نے گزشتہ سال کرپشن سمیت مختلف جرائم کے الزام میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ وہ ايران پر پيشگي حملے کي سوچ کونظرانداز کردے.اسرائيلي وزيراعظم سے ملاقات سے ايک روز قبل اسرائيلي نواز امريکي لابي کے ايک گروپ سے خطاب ميں امريکي صدر کا کہنا تھا کہ امريکہ اور اسرائيل کا خيال ہے کہ ايران کے پاس جوہري ہتھيار نہيں ہيں. اور ہم ان کے جوہري پروگرام کي نگراني ميں حد سے زيادہ چوکس ہيں. واشنگٹن ميں اجلاس سے خطاب ميں بارک اوباما کا کہنا تھا کہ اب بين الاقوامي برادري کي بھي ذمہ داري بڑھ گئي ہے. ايپاک پاليسي کانفرنس سے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ ايران پر پابنديوں کو بڑھايا جارہا ہے. امريکي صدر کا کہنا تھا کہ ايراني رہنماو?ں کے پاس اب بھي درست فيصلہ کرنے کا موقع ہے کہ وہ بين الاقوامي برادري ميں واپس آئيں يا اپنے لئے بند گليوں کاانتخاب کر ليں. امريکي صدر نے کہا کہ ايران کي تاريخ ديکھ کر يہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہيں يہ يقين نہيں ہے کہ ايرني حکمران صحيح سميت ميں فيصلہ کريگا. انہوں نے کہا کہ ملٹري اسٹرائيک سے تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوگا.دوسري جانب واشنگٹن ميں ہي ايپاک کو ايک قبضہ گروپ قرار ديتے ہوئے امريکہ اسرائيل پبلک افئير کميٹي کے کردار کے خلاف احتجاج کياگيا. ايپاک مخالف گروپ کے ايک عہديدار نے کہا کہ پہلے ہي ايپاک نے امريکيوں کوعراق کے خلاف جنگ ميں دھکيل ديا ہے اور اب يہ گروپ ايران کے خلاف جنگ ميں دھکيلنا چاہتا ہے

واشنگٹن . .. . . .. . گزشتہ برس مئي ميں سي آئي اے کے خفيہ آپريشن ميں مارے جانے والے القاعدہ چيف اسامہ بن لادن کے سمندر برد کيے جانے کي اطلاع پر سواليہ نشان لگ گيا ہے.امريکي سيکورٹي ايجنسي اسٹارفورٹ کي خفيہ انٹيلي جنس فائلوں سے حاصل کردہ اي ميل انکشافات کے مطابق القاعدہ چيف کو مارے جانے کے بعد اسلامي طريقے سے سمندر برد کرنے کي خبروں ميں صداقت نہيں بلکہ اسامہ کي لاش کو امريکي رياست ڈيلويئر کے فوجي ائير بيس بھجواديا گيا تھاجہاں سے بعد ميں لاش کو معائنے اور رپورٹ کے ليے مير لينڈ کے امريکي افواج کے ميڈيکل انسٹيوٹ لايا گيا تھا.اي ميل سے يہ بھي معلوم ہو اہے کہ لاش کو سي آئي اے نے خصوصي طيارے سے امريکا پہنچايا

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیےالیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار عمرو موسی نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات زیادہ ہیں اور ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے تعمیری مذاکرات کی ضرورت ہے اور ایران کو ایک دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے عمرو موسی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ روابط امریکی تقلید پر مبنی نہیں ہونے چاہییں  اس نے کہا کہ ہمیں تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی ضرورت ہے

يمن کے نئے صدر عبد ربہ منصور ہادي نے آج ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھا ليا ہے. وہ سابق صدر علي عبداللہ صالح کي اقتدار سے عليحدگي کے بعد گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتي انتخاب ميں واحد اميدوار تھےالجزیرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ يمن کے نئے صدر عبد ربہ منصور ہادي نے آج ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھا ليا ہے. وہ سابق صدر علي عبداللہ صالح کي اقتدار سے عليحدگي کے بعد گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتي انتخاب ميں واحد اميدوار تھے.يمن ميں نيا صدارتي انتخاب امريکي حمايت يافتہ خليج تعاون کونسل فارمولے کے تحت عمل ميں لايا گيا.جسے یمنی عوام کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے علي عبداللہ صالح چوتھے امریکہ نوازعرب سربراہ ہيں کہ جنہيں اپنے خلاف ايک سال تک جاري رہنے والي عوامي احتجاج کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونے پڑے ہيں.امریکہ قطر اور سعودی عرب  کے تعاون سے عرب ممالک میں اپنے آلہ کاروں کو بچآنے اور اپنے مخالفین کو گرانے کی کوشش کررہا ہے۔ سعودی عرب ، بحرین اور قطر کے عوام يں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور عرب عوام امریکہ کی غلامی کرنے پر اپنے حکمرانوں سے شدید متنفر ہیں۔ لیکن عرب حکمراں امیرکہ کے تعاون سے اپنا اقتدار قائم رکھنے کی کوشش کررہےہیں

سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیونس میں شام مخالف اجلاس  کے شرکاء میں شگاف اور اختلاف پیدا ہوگیا ہے ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اجلاس  سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ العربیہ کے مطابق سعودی وفد اجلاس کی ناکامی کے بعد اجلاس ہال سے نکل گيا سعودی وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھیں گے، سعودی وزیر خارجہ کو توقع تھی کہ اس اجلاس میں شام میں فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ادھر روس ، چين اور لبنان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ سعودی عرب بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں بحران کو چھپانے کے لئے شام کے معاملات میں بے جا مداخلت کررہا ہے

سعودی عرب کے شہر قطیف میں سخت اور شدید سکیورٹی کے باوجود عوام نے آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔ سعودی عرب کے شہر قطیف میں سخت اور شدید سکیورٹی کے باوجود عوام نے آل سعود کے ظلم و ستم کے خلاف مظاہرے کئے ہیں۔سعودی عرب کے مشرق علاقوں میں آل سعود کے خلاف شدید عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اب تک درجنوں افراد شہید اور سیکڑوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے سعودی عرب میں ظلم و ستم کے خلاف عوامی مظآہرے جاری ہیں لوگ سعودی بادشاہت کے خلاف اور ملک میں جمہوریت کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں  سعودی شہریوں کا کہنا ہے آل سعود امریکہ اور اسرائیل کے نوکر اور غلام ہیں، سعودی عرب کے مظآہرین نے بحرین میں جاری عوامی مظآہروں کی بھی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین نے آل سعود اور آل خلیفہ کی جیلوں میں بند قیدیوں کی آزادی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت کے مخالفین نے آل خلیفہ کے ساتھ گفتگو کو بیہودہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ کی منحوس حکومت کے خلاف بحریری عوام کی جد وجہد کا سلسلہ جاری رہےگا اور شمشیر پر خون کی فتح یقینی ہے۔ الوفاق سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت  اسلام اور مسلمانوں کی دشمن حکومت ہے آل خلیفہ حکومت کے مخالف گروہوں نے آل خلیفہ  حکومت کے ساتھ گفتگو کو بیہودہ قراردیتے ہوئےکہا ہے کہ آل خلیفہ کی منحوس حکومت کے خلاف بحرینی عوام کی جد وجہد کا سلسلہ جاری رہےگا اور شمشیر پر خون کی فتح یقینی ہے۔ بحرینی عوام کا کہنا ہے کہ بحرین میں جمہوریت ، استقلال و آزادی کے حصول تک جد وجہد اور تلاش و کوشش جاری رہےگی۔بحرینی عوام کے مطابق پرامن مظاہرے بحرینی عوام کے مسلّم حقوق میں شامل ہیں ، ادھربحرین کے ممتاز عالم دین  آیت اللہ شیخ عیسی قاسم نےکہا ہے کہ بحرینی حکومت کے اداروں میں سیاسی اور مالی فساد معاشرے میں جاری بے چینی کا سب سے بڑاعامل ہے اور بحرینی حکومت کو استعفی دیکر اقتدار عوام کے حوالے کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ اقتدار بچانے کے لئے عوام کا قتل عام بالکل جائز نہیں ہے اور حکومت کو عوامی مظاہروں کو کچلنے کے بجائے اقتدار عوام کے حوالے کردینا چاہیے انھوں نے کہا کہ عوام کی مرضی کے بغیر ان پر حکومت کرنا جائز نہیں ہے عوام جمہوریت کا مطالبہ کررہے ہیں بحرین کے بحران کا حل جمہوریت اور بحرین کی آزادی میں ہے۔ واضح رہے کہ بحرین کی امریکہ نواز آل خلیفہ حکومت اپنے امریکی اور سعودی  آقاؤں کے ذریعہ بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کو شدت کے ساتھ کچل رہی ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بن علوی نے علاقائی حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ رپورٹ کےمطابق عمان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی،  ایرانی وزير خارجہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تہران پہنچ گئے ہیں جہاں اس نے ایرانی وزیر خآرجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس  میں علاقائي حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسرے عرب ممالک کے عوام کی طرح بحرینی عوام کے مطالبات بھی جائز، قانونی اور محترم ہیں۔ بن علوی نے کہا کہ علاقائي عوام  تبدیلی اور تحولات کے خواہاں ہیں اور علاقہ میں یہ صورت حال جاری ہے اورتعمیری مذآکرات کے ذریعہ عوامی مطالبات کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس نے کہا کہ شہریوں کے مطالبات ہیں اور حکومتوں کو ان کے مطالبات پر سچائی کے ساتھ توجہ دینی چاہیے۔ بن علوی نے کہا کہ بحرینی عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں اور یہ ان کا حق ہے جیسا کہ دیگر ممالک میں عوام تبدیلی لائے ہیں یا تبدیلی کے خواہاں ہیں اس نے کہا کہ عمان بحرینی عوام کے مطالبات کا احترام کرتا ہے

لبنان کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی سازش کارفرما ہے۔اخبار القدس العربی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کے وزیر خارجہ عدنان منصور نے کہا ہے کہ لبنان نے تیونس میں ہونے والے شام مخالف اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اس اجلاس کے پیچھے شام کے خلاف امریکہ کی سرپرستی میں عربی اورمغربی ممالک کی گہری سازش کارفرما ہے۔ انھوں نے کہا کہ تیونس کے وزیر خارجہ رفیق عبد السلام اس اجلاس میں شرکت کے لئے لبنان کو دعوتنامہ ارسال کیا ہے تاہم لبنان نے اس معمالے میں غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے اور لبنان اسی پالیسی کے تحت عرب ممالک کی جانب سے شام کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں بھی شریک نہیں ہے

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی اور عربی ممالک شام کے معاملے کو حل کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور شام کا بحران پورے خطے میں شعلہ ور ہوسکتا ہے علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ شام میں حکومتی اصلاحات کی حمایت کریں اور اختلافات کو مزيد ہوا دینے اور امریکی و اسرائیلی پیروی کرنے سے اجتناب کریں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا ہے کہ مغربی اور عربی ممالک شام کے معاملے کو حل کرنے میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں اور شام کا بحران پورے خطے میں شعلہ ور ہوسکتا ہے علاقائی ممالک کو چاہیے کہ وہ شام میں حکومتی اصلاحات کی حمایت کریں اور اختلافات کو مزيد ہوا دینے اور امریکی و اسرائیلی پیروی کرنے سے اجتناب کریں ۔ ترجمان نے کہا کہ مغربی ممالک مسائل حل نہیں کرتے بلکہ وہ مسائل پیدا کرتے ہیں اور اس صورت حال کے پیش نظر علاقائی ممالک کو اپنے مسائل حل کرنے میں امریکہ کو مداخلت کا موقع نہیں دینا چاہیے ترجمان نے کہا کہ شام کا بحران امریکہ اور اسرائیل کی کئی برسوں کی کوششوں کا نتیجہ ہے اور اب انھیں بعض امریکہ نواز عرب ممالک کی بھی اس سلسلے میں حمایت حاصل ہوگئی ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ نواز عرب ممالک نے کبھی بھی اسرائیل کے مظآلم اور جرائم کے خلاف آواز بلند نہیں کی اور نہ انھوں نے کبھی فلسطین کے مسئلہ کوحل کرنے میں اسرائيل یا امریکہ پر کوئی دباؤ قائم کیا ہے۔ترجمان نے بحرینی عوام پر آل خلیفہ آل خلیفہ کے جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بحرینی عوام پر آل خلیفہ کے مظآلم کا سلسلہ جاری ہےاور بحرین کے مسئلہ میں عرب لیگ اور دیگر عالمی تنظیمیں بالکل سکوت اختیار کئے ہوئے ہیں انھوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطالبہ بحرینی عوام کا سب سے بڑا جرم ہے جس کی انھیں سزا دی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک جمہوریت کے حامی نہیں بلکہ وہ پوری تاریخ میں ڈکٹیٹروں کے حامی رہے ہیں اور آج بھی ڈکٹیٹروں کی حمایت کررہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ علاقہ سے امریکی ڈکٹیٹروں کے خاتمہ کے ساتھ امریکہ کا علاقہ سے بالکل خاتمہ ہوجائےگا

اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت بہترین شرائط میں ہیں اور دشمن کے ہر خطرے اور ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ میجر جنرل جعفری نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی والفجر نامی فوجی مشقوں کے دوران کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج اس وقت بہترین شرائط میں ہیں اور دشمن کے ہر خطرے اور ہر حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جنرل جعفری نے کہا کہ آج اسلامی جمہویرہ ایران کی مسلح افواج ہر میدان میں دشمن کو شکست سے دوچار کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہیں  انھوں نے کہا کہ ایران کے خلاف دشمن کی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری ہے دشمن انقلاب اسلامی کے اہداف کو روکنے کی تلاش و کوشش کررہا ہے اور ایران بھی اپنی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی تلاش میں ہے انھوں نے کہا کہ دشمن اس وقت ایران کے خلاف اقتصادی ، سیاسی اور انرجی کے شعبوں میں جنگ جاری رکھے ہوئے ہے اور دشمن ان میدانوں میں شکست کھانے کےبعد ممکن ہے فوجی کارروائی کا رخ کرے لہذا ایران کی مسلح افواج اس وقت دشمن کے ہر حملے کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے آمادہ ہیں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ایران کی ذمہ داری ہے اور ایران نے اسے آج تک ذمہ داری کے پورا کیا ہے لیکن اگر ایران کے مفادات خطرے میں پڑے تو تو آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی ذمہ داری حملہ آور ملکوں کے دوش پر عائد ہوگی

کابل: افغانستان میں اتحادی افواج کی جانب سے قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کیخلاف امریکی فوجی اڈے کے باہر زبردست احتجاج کیا گیا ہے جبکہ نیٹو نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان پولیس نے بتایا ہے کہ منگل کو کابل کے نزدیک بگرام امریکی فوجی اڈے کے باہر ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری جمع ہوگئے جنہوں نے فوجی اڈے کو گھیرے میں لے لیا اور پٹرول بم داغے جس کے نتیجے میں داخلی دروازے پر آگ بھڑک اٹھی مظاہرین اتحادی افواج کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف سخت احتجاج  کر رہے تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بھی مظاہرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اضافی نفری علاقے میں ممکنہ پرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلئے اضافی نفری بھجوادی گئی ہے جو کہ کابل سے تقریباً ساٹھ کلو میٹر دور واقع ہے۔ ادھر جلال آباد روڈ پر ضلع پل چرخی میں واقع بڑے نیٹو فوجی اڈے کے نزدیک بھی  پانچ سو کے قریب افراد کا ایک ہجوم نکل آیا اور واقعہ کی مذمت اور نعرے بازی کی۔ پولیس ترجمان اشمت استاتکزئی کے مطابق مظاہرین کنٹرول میں ہیں اور تشدد کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں بھی افغانستان میں اس قسم کے مظاہرے رونما ہوچکے ہیں گزشتہ سال اپریل میں ایک امریکی پادری سے فلوریڈا میں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب نیٹو نے اس واقعہ پر معافی مانگ لی ہے۔ نیٹو افغانستان میں نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم  دیدیا ہے۔ ان کا کہنا  تھا کہ جب بھی ہم اس قسم کی کارروائیوں کا سنیں گے تو ہم اس کیخلاف فوری کارروائی کرینگے۔ انہوں نے ان رپورٹس کی جامع تحقیقات کرائی جائیں گی کہ آیا بگرام ائر بیس پر فوجیوں نے ایسی کوئی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی پر میں افغان صدر اور افغان حکومت اور سب سے اہم افغان عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں مجھے یقین ہے کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہوگا۔

تہران : ایران نے کہا ہے کہ وہ قومی سلامتی اور قومی مفاد کا خطرہ محسوس کرتے ہوئے اپنے دشمن پر پیشگی حملہ کر سکتا ہے ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی افواج کے نائب سربراہ محمد مجازی نے کہا ہے کہ ہماری حکمت عملی یہ ہے کہ اگر محسوس کریں گے کہ کوئی دشمن ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے اور ایران پر حملہ کر سکتا ہے تو ہم ان کی کارروائی کا انتظار کئے بغیر دشمن پر  حملہ کر دیں گے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کی بابت ایران کو عالمی سطح پر دبائو کا سامنا ہے مغربی طاقتوں نے ایران کے تیل کی برآمد کو متاثر کرنے کیلئے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ ایران نے رد عمل کے طور پر تیل کی اہم آبی گزر گاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔

واشنگٹن: امریکی ریپبلکن سینیٹروں نے اوبامہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ شام میں قیادت کی تبدیلی کیلئے وہاں اپوزیشن کو ہتھیاروں سے مسلح کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ریپبلکن جان مکین اور لنڈسے گراہام نے اوبامہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں قیادت کی تبدیلی یہ ضروری ہے کہ وہاں اپوزیشن کو ہر طرح کی معاونت فراہم کی جائے۔ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ امریکہ کو چاہئے کہ وہ شام میں اپوزیشن کو براہ راست مداخلت کے بغیر مسلح کرے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شامی اپوزیشن کو مسلح کرنے کے بھرپور حامی ہیں۔ سینیٹر گراہام نے کہا کہ امریکہ شام میں اپوزیشن کو تیسری دنیا کے ممالک اور عرب لیگ کے ذریعے مسلح کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام میں موجودہ قیادت تبدیل ہو جائے تو دنیا ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے۔

دمام: سعودی عرب کی حکومت نے نے شام کے سفر کا قصد کرنے والے اپنے شہریوں کو ایک مرتبہ پھر سخت محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شام میں موجود سعودی باشندوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر وہاں سے نکل آئیں، کیونکہ شام میں موجودہ سیاسی حالات ان کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ جبکہ سعودی فضائی سروس نے شام کے لیے اپنی تمام پروازیں غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ سعودی ایئرلان کے ترجمان عبداللہ الاجھر نے”العربیہ ڈاٹ نیٹ” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب سے شام کے لیے ہفتے میں 10 پروازیں جایا کرتی ہیں جو ہفتے کے روز سے بند کر دی گئی ہیں۔ ان میں سے چار پروازیں جدہ، چار ریاض اور دو دمام سے روانہ کی جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے تمام مسافروں کو بتادیا ہے کہ سعودی عرب سے اب کوئی پرواز شام نہیں جاسکے گی۔ خیال رہے کہ سعودی عرب کے شام میں فضائی سفر کے دوران ایک ہفتے میں 60 لاکھ ریال کے اخراجات ہوتے رہے ہیں اور ایک ہفتے میں سعودی عرب سے 2740 افراد شام کا سفر کرتے ہیں۔ شام کے لیے سعودی فضائی سروسز ایک ایسے وقت میں معطل کی گئی ہیں جب دوسری جانب سعودی حکومت نے شامی بحران کے بارے میں زیادہ سخت موقف اپنایا ہے۔ دریں اثناء سعودی حکومت نے شام میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر نہ کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ سعودی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر شام سے نکل آئیں۔

بحرین کے ایک انقلابی رہنما کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بحرین کے عوام کے قتل عام کا خمیازہ ضرور بھگتے گا۔ علی الفائز نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ آل سعود کی حکومت بحرین کےنہتے عوام کے قتل عام کی ذمہ دار ہے اور اسے اپنےجرائم کا تاوان ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے دنیا کےآزاد ضمیر انسانوں سے اپیل کی کہ بحرین کے مظلوم عوام کی حمایت کریں، انہوں نے کہا کہ ملت بحرین آل خلیفہ اور خلیج فارس تعاون کونسل کے ملکوں کی سازشوں کا شکار ہے اور ان کا ھدف بحرین میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا سدباب کرنا ہے۔ بحرین کے انقلابی رہنما علی الفائز نے کہا کہ حقائق کے برخلاف آل خلیفہ کی شاہی حکومت یہ دعوے کررہی ہے کہ بحرینی عوام کی تحریک تشدد پشند فرقہ وارانہ اور بیرونی ملکوں سے وابستہ ہے۔ یاد رہے بحرین کے عوام آل خلیفہ کی قرون وسطی کی متعصبانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کررہے ہیں اور اپنے حقوق کےخواہاں ہیں۔

مصر کے ا یک مشہور مصنف اور صحافی جلال عامر نے کہا ہےکہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ جلال عامر نے لکھا ہے کہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ صیہونی حکومت ایک جارح حکومت ہے جبکہ سعودی عرب اپنے نظریات مسلط کرکے اپنے آلہ کاروں کو برسرکار لانا چاہتا ہے۔ اس معروف مصری صحافی نے لکھا ہے کہ عرب ليگ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن چکی ہے اور عمرو موسی کے زمانےمیں بھی عرب لیگ کا یہی حال تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے آل سعود مصر میں اپنی ثقافت پھیلاناچاہتی ہے تاکہ اس ملک کے امور پر مسلط ہوسکے۔ یاد رہے مصر کے عوام نے گذشتہ برس کے آغاز میں تحریک چلائي تھی جس کے نتیجے میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئي اور پارلیمانی انتخابات ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق آستانۂ مقدسہ کریمۂ اہل بیت سیدہ فاطمہ معصومہ کے حرم مطہر میں بحرین کے انقلاب کرامت کی پہلی تقریب کا اہتمام کیا جس میں قم کے مراجع تقلید و علمائے اعلام سمیت بحرین کے علماء و فضلاء اور پاکستانی علماء و فضلاء اور عوام کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی اور پاکستان میں نمائندہ ولی فقیہ، عالمی اہل بیت (ع) کی شورائے عالی کے رکن اور تحریک اسلامی پاکستان کے سربراہ “حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید ساجد علی نقوی” نے بھی پاکستانی فضلاء اور علماء کے ایک وفد کے ہمراہ شرکت کی۔ تقریب میں شرکت کرنے والی مذہبی اور علمی شخصیات میں مراجع تقلید “آیت اللہ العظمی حسین نوری ہمدانی” اور “آیت اللہ العظمی سید محمد علی علوی گرگانی”، اور علمائے اعلام میں آیت الله العظمی امام سید علی خامنہ ای کے نمائندے “آیت اللہ رضا استادی”، آیت اللہ العظمی شیخ لطف اللہ گلپائگانی کے نمائندے “حجت الاسلام و المسلمین شیخ علی صافی گلپایگانی”، آیت الله العظمی سید کاظم حائری کے نمائندے “حجت الاسلام والمسلمین طبیب‏زاده”، آیت اللہ العظمی مکارم ناصر مکارم شیرازی کے دو نمائندے نیز اساتذہ حوزہ علمیہ قم “آیت اللہ خرازی”، آیت اللہ علوی بروجردی”، “آیت اللہ نصر اللہ شاہ آبادی”، “آیت اللہ ہادوی تہرانی”، “آیت اللہ جواد فاضل لنکرانی”، آستانہ مقدسہ حضرت سیدہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی اور قم کے امام جمعہ “حجت الاسلام والمسلمین سعیدی”، حوزات علمیہ کے سربراہ آیت آللہ شیخ مرتضی مقتدائی کے نمائندے “حجت الاسلام والمسلمین بحرانی” اور قم سے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے نمائندے “حجت الاسلام والمسلمین بنایی قمی” اور “حجت الاسلام والمسلمین آشتیانی” شامل تھے۔ تقریب کے مقرر اسمبلی کی شورائے عالی کے رکن اور شہر اراک کے امام جمعہ “آیت اللہ شیخ قربان علی دُرّی نجف آبادی” تھے۔ تقریب کے بین الاقوامی شرکاء میں حجت الاسلام والمسلمین علامہ سید ساجد علی نقوی سمیت بحرین کی جمعیۃالعمل الاسلامی کے رکن “ڈاکٹر راشد الراشد”، سعودی عرب کے عالم دین “حجت الاسلام والمسلمین البغشی” پاکستان کے صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے امام جمعہ “حجت الاسلام والمسلمین سید محمدہاشم موسوی” اور برازیل کے شیعہ مرکز کے سربراہ “حجت الاسلام والمسلمین شیخ طالب خزرجی” شام تھے۔ علاوہ ازیں بحرین، یمن، سعودی عرب، پاکستان اور افغانستان سمیت کئی ممالک کے طلاب و فضلاء نے بھی اس تقریب میں بھرپور شرکت کی۔

امریکی ڈرون طیارون نے شام کی فضائي حدود کی خلاف ورزی کرتےہوئے شام کی فضاؤں میں پروازیں انجام دی ہیں۔فلسطینی پریس نے امریکی چینل این بی سی کےحوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی ڈرون طیاروں نے شام کی فضا میں پرواز کی ہے۔ این بی سی نے امریکی وزارت جنگ پنٹاگون کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ڈرون طیاروں کی پروازوں کا مقصد شام پر فوجی حملوں کی ابتدا کرنا نہيں تھا بلکہ اس کے دعوے کے مطابق حکومت کے مسلح مخالفین کے خلاف شام کی فوجی کاروائيوں کی معلومات حاصل کرنا تھا۔ ادھر اوباما کے قومی سلامتی کے مشیر ٹام ڈینیلن شام اور ایران کے بارے میں صیہونی حکام سے گفتگو کرنے کے لئے مقبوضہ فلسطین گئے ہیں۔ یاد رہے شام میں امریکہ اور اسکے مغربی اور عرب اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشتگرد بدامنی پھیلارہے ہیں۔

یمن مین الحوثی تحریک نے کہا ہے کہ یمن کے شمالی صوبوں کے لئے سعودی عرب ہتھیار بھیج رہا ہے۔العالم کی رپورٹ کے مطابق الحوثی تحریک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن کے سلفی گروہوں کی حمایت کے لئے ٹرکوں میں ہتھیار بھر کر بھیج رہا ہے۔ الحوثی تحریک نے کہا کہ سعودی عرب شمالی یمن کے تکفیری اور سلفی دہشت گرد گروپس کی حمایت کررہا ہے اور صعدہ اور حجۃ کے صوبوں میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی پھیلانے کے لیے امریکی و اسرائیلی ایجنڈ پر عمل کرتے ہوئ اپنی ظالمانہ حکومت کو دوام دینے کے لئے  دہشت گرد گروپس کو ہتھیار بھیجے جارہے ہیں۔ یاد رہے سعودی عرب کی ثالثی سے ہی سابق ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح اور ان کے ساتھیوں کو قانونی استثنی ملا ہے اور ان کے نائب عبدربہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔یمن کے عوام کا کہنا ہےکہ علی عبداللہ صالح اور ان کی حکومت کے اراکین پر مقدمہ چلایا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔ یمن کے انقلابی عوام کا مطالبہ ہے کہ علی عبداللہ صالح اور ان کے ساتھیوں کو دیا گيا قانونی استثنی ختم کیا جائے۔جو کہ سعودی ظالم بادشاہوں کے شدید تریں دباو پر دیا گیا ہے

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ بان کی مون کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ  ہی ممکن  ہے اس نے کہا کہ مذاکرات کے علاوہ کوئي دوسرا راستہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ایران کے  ایٹمی معاملے کو حل کیا جاسکے۔ بان کی مون نے کہا کہ ایران نے بعض ابہمات کو ابھی دور نہیں کیا اور ان ابہامات کومذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

قاہرہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کےنگراں دفتر کے سربراہ نے مصری اخبار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی امداد کو مصر کے مضر اورنقصان دہ قرار دیتے ہوئےکہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہنگامی بنیاد پر مصر کا تعاون کرنے کے لئے آمادہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق قاہرہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کےنگراں دفتر کے سربراہ مجتبی امانی نے مصری اخبار الاہرام کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے امریکی امداد کو مصر کے فائدے میں قرارنہ دیتے ہوئےکہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہنگامی بنیاد پر مصر کا تعاون کرنے کے لئے آمادہ ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کی امداد لینےکے بعد مصر میں بہت سے مشکلات پیدا ہوگئی ہیں اور امریکی امداد سے مصری استقلال اور قومی انقلاب کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور امریکہ و اسرائیل بعض عرب ممالک کے ذریعہ مصری عوام کے انقلاب کے رخ کو موڑنے کی تلاش وکوشش کررہے ہیں۔ انھوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ امریکی امداد مصری عوام اور حکومت کے فائدے میں نہیں ہے انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تین دہائیوں سے امریکی امداد بند ہونے کے باوجود تمام شعبوں میں شاندار پیشرفت اور کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ایران نے دنیا پر ثابت کردیا ہے کہ امریکہ کے بغیر زندگی جاسکتی ہے انھوں نے کہا کہ آج امریکہ ایران کی علمی پیشرفت کو روکنے کے لئے نت نئے بہانے تلاش کررہا ہے جبکہ ایران اپنے مکمل استقلال کی جانب بڑھ رہا ہے انھوں نے کہا کہ مصر میں بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ہمت ہے کیونکہ مصری عوام حکومت کے ساتھ ہیں اور مصری عوام کی ہمراہی میں مصر شاندار ترقی حاصل کرسکتا ہے۔ مجتبی امانی نے اسرائیل کی طرف سے ایران پر حملے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائيل میں ہمت ہوتی تو وہ آج تک ایران پر حملہ کردیتا، کیونکہ اسرائیل نے عراق اور شام کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے کے لئے کسی سے اجازت نہیں مانگی تھی لیکن اسرائیل میں ایران پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں  کیونکہ حملہ کی صورت میں اسرائيل کا وجود ہی ختم ہوجائےگا۔

عراق کے وزیر اعظم نے عراق کے فراری قاتل و دہشت گرد نائب صدر طارق الہاشمی کے خلاف عدالت کے ٹھوس شواہد پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الہاشمی کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں بعض عرب ممالک کا بھر پورتعاون بھی شامل رہا ہے۔السومریہ سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے وزیر اعظم نوری مالکی نے عراق کے فراری قاتل و دہشت گرد نائب صدر طارق الہاشمی کے خلاف عدالت کے ٹھوس شواہد پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الہاشمی کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں بعض عرب ممالک کا بھر پورتعاون بھی شامل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ الہاشمی کا ہاتھ عراقی شہریوں کے خون سے رنگین ہے اور اس نے عراقی عوام اور عراق کے ساتھ زبردست خیانت کا ارتکاب کیا ہے انھوں نے کہا کہ نو ججوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن نے بھی 150 سے زیادہ دہشت گرد کارروائیوں میں طارق الہاشمی کے ملوث ہونے کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ طارق الہاشمی اپنے خصوصی محافظوں کے ذریعہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اس کے بعض خصوصی محافظوں کو ایک دہشت گرد کارروائی میں گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد انھوں نے طارق الہاشمی کے ہولناک جرائم کا پردہ فاش کیا جس کے بعد عدالت نے طارق الہاشمی کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے اور طارق الہاشمی بغداد سے فرار ہوکر عراق کے کردستان علاقہ میں روپوش ہوگیا ہے۔

عراق کی وزارت داخلہ کے ایک اعلی اہلکار کے مطابق علاقائی عرب ممالک عراق میں سرگرم القاعدہ دہشت گردوں کی مالی مدد کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق عراقی وزارت داخلہ کے ایک اعلی اہلکار عدنان الاسدی نے العراقیہ ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاقہ کے عرب ممالک نہ صرف عراق میں دہشت گردوں کو بھیج رہے ہیں بلکہ ان کی مالی معاونت بھی کررہے ہیں انھوں نے کہا کہ خلیجی عرب ممالک بڑے تاجروں کے ذریعہ دہشت گردوں کو مالی تعاون فراہم کررہے ہیں جبکہ ان ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اس معاملے کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود کوئی اقدام نہیں کررہی ہیں۔ الاسدی نے کہا کہ عرب ممالک کے اعلی سیاستداں اس بات سے لاعلمی کا اظءار کرتے ہیں جبکہ سب چیزيں ان کے علم میں ہیں۔ الاسدی نے کہا کہ خلیجی عرب ممالک دہشت گردوں اور امریکی سرگرمیوں کا مرکز بن گئے ہیں اور وہ علاقہ میں عدم استحکام پیدا کررہے ہیں۔

سعودی خاندان کے قریبی ذرائع نے سابق نائب وزیر دفاع کی برکناری کی اصلی وجہ اسکی جانب سے شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار کرنے کو بیان کیا ہے۔عربی زبان میں شائع ہونے والے کثیرالانتشار روزنامے “القدس العربی” کے مطابق سعودی خاندان کے قریبی ذرائع نے خبر دی ہے کہ شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کا وزیر دفاع کے عہدے پر منصوب کئے جانے اور امیر خالد کو نائب وزیر دفاع بنانے کی اصلی وجہ سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان عبدالعزیز کی جانب سے نئے ولیعہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار ہے۔ توقع کی جا رہی تھی کہ سعودی عرب کے سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان کو ہی وزیر دفاع کا منصب عطا کیا جائے گا لیکن عید سعید قربان کے دن سعودی بادشاہ ملک عبداللہ کی جانب سے جاری کردہ اس دستور نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا جس کے مطابق شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کو وزیر دفاع اور امیر خالد کو نائب وزیر دفاع بنانے کا اعلان کیا گیا۔ جس چیز نے سعودی خاندان کو سب سے زیادہ حیران کر دیا وہ شہزادہ سلمان کی وزیر دفاع اور امیر خالد بن سلطان کی نائب وزیر دفاع کے طور پر تقرری تھی جسکا مطلب یہ تھا کہ سابق نائب وزیر دفاع امیر عبدالرحمان بن عبدالعزیز اپنے عہدے سے برکنار کئے جا چکے تھے۔ سعودی خاندان کیلئے اس برکناری سے زیادہ اہم بات یہ تھی کہ یہ فیصلہ امیر عبدالرحمان کی مرضی سے انجام نہیں پایا اور انہیں کوئی دوسرا عہدہ بھی عطا نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب کے سیاسی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ امیر سلمان کا وزیر دفاع کے طور پر انتخاب سعودی خاندان کے اندر سیاسی انتشار کی روک تھام کیلئے انجام پایا ہے اور کوشش کی گئی ہے اس اقدام کے ذریعے سعودی خاندان میں موجود مختلف سیاسی دھڑوں کی رضامندی حاصل کی جائے۔ سعودی خاندان کے قریبی ذرائع یہ کہ رہے ہیں کہ عید سعید قربان کے پہلے ہی دن امیر عبدالرحمان بن عبدالعزیز کی برکناری کی اصلی وجہ یہ ہے کہ وہ عید قربان کے دوسرے دن مسلح افواج کے بعض عالی رتبہ افسروں سے ملاقات کا ارادہ رکھتے تھے لہذا انہیں اس ملاقات سے قبل ہی اپنے عہدے سے فارغ کر دیا گیا۔ ان ذرائع کے مطابق سابق سعودی ولیعہد امیر سلطان بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد سعودی فرمانروا ملک عبداللہ چاہتے تھے امیر عبداللہ کو وزیر دفاع کا منصب عطا کر کے انہیں ولیعہد بننے کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر راضی کر لیں لیکن امیر عبداللہ نے نئے ولیعہد شہزادہ نائف بن عبدالعزیز کی بیعت کرنے سے انکار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بدستور ولیعہد کا عہدہ سنبھالنے کے درپے ہیں۔ دوسری طرف امیر سلطام بن عبدالعزیز کو حاکم ریاض کے عہدے پر فائز کرنا جو اس سے قبل سابق حاکم ریاض امیر سلمان کے نائب کے طور پر کام کر رہے تھے نے بھی امیر عبدالرحمان کی ناراضگی کو دوچندان کر دیا ہے کیونکہ وہ توقع کر رہے تھے کہ انہیں وزارت دفاع سے برکنار کرنے کے بعد حاکم ریاض کا عہدہ عطا کر دیا جائے گا۔

صیہونی حکومت نےاعلان کیاہے کہ تحریک فتح اورحماس کی متحدہ فلسطینی حکومت کو وہ تسلیم نہيں کرےگی ۔ واضح رہے کہ دوحہ میں فلسطینی انتظامیہ کے صدرمحمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبے کےسربراہ خالدمشعل کےدرمیان قومی مذاکرات اور مذاکرات کےدوران متحدہ حکومت کی تشکیل پراتفاق رائےکا فلسطینی عوام اوررائےعامہ نے خیرمقدم کیاہے جبکہ صیہونی حکومت اور اس کےحامی سیخ پاہوگئےہيں۔ فلسطینی انتظامیہ کےصدر محمودعباس اور تحریک حماس کےسیاسی شعبےکےسربراہ خالدمشعل نے چھ فروری کو قطرکےدارالحکومت دوحہ میں اٹھارہ فروری کومحمودعباس کی سربراہی میں ایک عبوری فلسطینی حکومت کی تشکیل نیزچارمئی کو فلسطینی مجلس قانون سازکےانتخابات کرائے جانےکےمعاہدے پردستخط کئےہیں۔ ان حالات میں صیہونی وزيرخارجہ اویگیدورلیبرمین نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کےنمائندوں کےاجلاس میں کہاکہ اگرتحریک حماس اسرائیل کےسلسلےمیں اپنی پالیسی تبدیل نہيں کرےگی تو اسرائیل، فتح اورحماس کی مشترکہ حکومت کوتسلیم نہيں کرےگا۔ لیبرمین نےتاکید کےساتھ کہاکہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی معاہدہ اسرائیل کےساتھ فلسطینی انتظامیہ کےمذاکرات کومشکلات سےدوچارکردےگا۔ صیہونی حکومت نے مشرق وسطی سازبازعمل کوہمیشہ فلسطینیوں سےمراعات حاصل کرنےاور ان پراپنی تسلط پسندانہ پالسیاں مسلط کرنے کےلئے ایک ہتھکنڈےکےطورپر استعمال کیاہے جس کافلسطینیوں کےلئےخطرناک منفی نتائج کےسوا کوئی نتیجہ نہيں نکلاہے۔ صیہونی حکومت اس بات سےواقف ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کاقومی مذاکرات کےعمل سےملحق ہوناجس کامحور صیہونی حکومت کی ہرطرح کی تسلط پسندی کی مخالفت کرناہے ، فلسطینی انتظامیہ کےصیہونی حکومت کےسامنےتسلیم رہنےکی روش سےدورہونےکاسبب بنےگا۔ یہ امرصیہونی حکومت کوسنگین خطرے سےدوچارکردےگا اور بنیادی طورپر فلسطینیوں کاقومی اتحاد اوراسی بناپر قومی حکومت کی تشکیل،صیہونی حکومت کےلئے ایک تلخ حقیقت شمارہوتی ہے۔ اس میں کوئي شک نہيں کہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی صیہونی حکومت کےمقابلےميں فلسطینیوں کےموقف میں استحکام اورآخرکار فلسطینیوں کےحقوق کےحصول میں معاون ثابت ہونےپرمنتج ہوگی۔ اوراسی بناپرصیہونی حکومت نےہمیشہ فلسطینیوں کےدرمیان قومی آشتی کےعمل کی مخالفت اوراس میں رخنہ ڈالنےکی کوشش کی ہے۔اوراس تناظرمیں صیہونی حکومت نے فتح اورحماس کےدرمیان مذاکرات کےعمل کوروکنےکی کوششیں تیزکردی ہیں جس نےفلسطینیوں کی مستقل ہوشیاری کومزید ضروری بنادیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے کہا کہ یہ ایام ہمارے لئے خوفناک ایام ہیں شام کے حق میں ویٹو سکیورٹی  کونسل کا پسندیدہ اقدام نہیں تھا جو واقعہ رونما ہوا وہ اچھی خبر نہیں تھی کیونکہ اس  سے پوری دنیا کا اعتماد سکیورٹی کونسل پر متزلزل ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی منفور اور منحوس بادشاہ نے فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جرائم پر کبھی بھی اظہار افسوس نہیں کیا لیکن شام کے خلاف وہ اپنے دل کی بات کہنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائيل کا خادم ہے۔ سعودی بادشاہ کا اعتماد اللہ تعالی پر ختم ہوگیا اور اس کا اعتماد امریکہ اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے سعودی عرب، اللہ تعالی سے  مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد طلب کرتا ہےاور اس ملک کے حکام کفر کی جانب بڑھ گئے ہیں

عراق کے ایک ممتاز عالم دین نےبحرین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ بحرینی عوام ہمارے دینی بھائی ہیں اور بحرینی عوام پرآل خلیفہ کے ظلم و ستم پر خاموشی بالکل جائز نہیں آل خلیفہ کو بحرینی عوام کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگیعراق کے ایک ممتاز عالم دین مقتدی صدر نےبحرین کے حالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہے کہ بحرینی عوام ہمارے دینی بھائی ہیں اور بحرینی عوام پرآل خلیفہ کے ظلم و ستم پر خاموشی بالکل جائز نہیں آل خلیفہ کو بحرینی عوام کے حقوق پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ انھوں نے کہا کہ قرآن مجید میں واضح ہے کہ مؤمن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور جو ظلم آج بحرینی عوام پر ہورہا ہے وہ ہمارے بھائیوں پر ظلم ہورہا ہے اور ہم اس ظلم کے خلاف خاموش تماشائي نہیں رہیں گے۔انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کی ظالم و جابر حکومت بےگناہ شہریوں کو بدترین شکنجے دے رہی ہے حتی خواتین اور بچوں کو بھی بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران علاقائی ممالک کے حالات میں مداخلت نہیں کرتا بحرین میں اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ایران اسرائیل کے خلاف ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران کیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے خطبوں میں بحرین میں ایران کی مداخلت کے الزام کے جواب میں کہا ،ایران اسرائیل کے خلاف حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے اور دونوں تنظیموں نے 33 روزہ جنگ اور 22 روزہ جنگ میں اسرائیل کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد بھی ایران ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ رہبر معظم نے بحرین کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایران بحرین کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتا اور اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہاایران نے گذشتہ 32 برسوں میں مختلف چیلنجوں کا مقابلہ اور ان پر غلبہ حاصل کیا ہے اور اسی طرح ایران نے گذشتہ برسوں میں علم و پیشرفت کی سمت خاطر خواہ اور قابل اطمینان پیشرفت حاصل کی ہے اور ایران کی علمی پیشرفت سے دشمن سخت پریشان ہے اور اسی لئے اس نے ایران کے خلاف اپنی سازشوں میں اضافہ کردیا ہے

بحرینی نیوز ویب سائٹ مرآت البحرین کے مطابق آل خلیفہ اور آل سعود کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدے کی روشنی میں آل خلیفہ کے خاندان نے بحرین کو آل سعود خاندان کی حاکمیت میں دینے اور سعودی عرب سے ملحق کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بحرین کے بادشاہ شیخ حمد عنقریب اس کا عوام کے سامنے اعلان کریں گے۔اس سے پہلے بھی یہ خبر مختلف ذرائع میں شائع کی گئی ہے لیکن بحرین کے اخبار الایام کے چیف ایڈیٹرنجیب الحمر نے حال ہی میں آل خلیفہ اور آل سعود کے درمیان ہونے والے خفیہ معاہدہ کا پردہ فاش کیا ہے نجیب الحمر کے بھائی نبیل الحمر بحرین کے بادشاہ شیخ حمد کے ذرائع ابلاغ کے مشیر ہیں۔ نجیب الحمر کے مطابق دونوں بادشاہوں کے درمیان اتفاق ہوگیا ہے ۔ اگرچہ مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ بحرین اور سعودی بادشاہوں کے درمیان اس سلسلے میں کئی خفیہ ملاقاتیں ہوئی ہیں جس کے بعد بحرین کو سعودی عرب کے ساتھ الحاق کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے واضح رہے کہ سعودی عرب نے بحرینی عوام کے انقلاب کو کچلنے کے لئے پہلے ہی اپنے کئی ہزار فوجی بحرین میں تعینات کررکھے ہیں ۔

عراق کے دارالحکومت بغداد ميں کار بم دھماکے سے 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں.الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد ميں کار بم دھماکے سے 28 افراد ہلاک ہو گئے ہیں. مشرقي بغداد ميں ايک اسپتال کے باہر جنازے کے نزديک کاربم دھماکے کے نتيجے ابتدائي طور پر 20 افراد ہلاک اور 50 زخمي ہو گئے.وزارت داخلہ کے مطابق بغداد کے ڈسٹرکٹ زعفرانیہ ميں پيش آنے والا دھماکہ خودکش تھا.جس ميں بارود سے بھري گاڑي کا استعمال کيا گيا. اور دھماکہ ايسے وقت ميں ہوا جب لوگ اسپتال سے جنازے کو لے جانے کي تياري کر رہے تھے.

روس نے اعلان کیا ہے کہ روس شام کے صدر بشار اسد کے استعفی پر مبنی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کردےگا۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس نے تاکید کی ہے کہ وہ عربی اور مغربی ممالک کی طرف سے ہر ایسی قرارداد کو ویٹو کردےگا جس میں شام کےصدر بشار اسد سے  استعفی کا مطالبہ کیا گيا ہو روس نے شام کے خلاف عربی اور مغربی ممالک کی قرارداد کے ابتدائی مسودے کو بھی ناقابل قبول قراردیا ہے

شامی حکومت کی مخالف قومی کونسل گروپ کے ایک رکن نے شام کے خلاف سعودی عرب کی جدید سازش کا پردہ فاش کیا ہے سعودی عرب ، شام میں عبوری کونسل تشکیل دینے اور اسے سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی سازش کررہا ہے۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شامی حکومت کے مخالف قومی کونسل گروپ کے ایک رکن رمضان نے شام کے خلاف سعودی عرب کی جدید سازش کا پردہ فاش کا ہے۔ قومی کونسل کے رکن کے مطابق سعودی عرب شام میں ایک عبوری کونسل تشکیل دینے کی کوشش کررہا ہے اور اس سلسلے میں سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے شام مخالف دہشت گردوں کے ساتھ قاہرہ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب شام کی اس عبوری کونسل کو سرکاری طور پر تسلیم کرلےگا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب اور قطر امریکہ اور اسرائیل کے ہمراہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں آج رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے جائیں گے  اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کریں گے جبکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں رات سے ہی مجالس کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جس میں عزاداروں نے کثیر تعداد میں شرکت اور مقرریں نے رسول اسلام اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کے فضائل اور زندگی کے مختلف پہلوں کو اجاگر کیا اور شہادت کے مقصد کو بیان کیا۔ رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران ، قم، اور مشہد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج 28 صفر کو  رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانگدازرحلت اور حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے مجالس عزا اور جلوس عزا مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ نکالے گئے اس موقع پر عزاداروں نے سینہ زنی اور گریہ و ماتم کیا۔علماء اور ذاکرین نے پیغمبر اسلام کے اخلاق ، سیرت اور شان  و منزلت اور حضرت امام حسن علیہ السلام کی شہادت کے بارے میں تاریخی حقائق عوام کے سامنے پیش کئے ۔ سعودی عرب میں آج جنت البقیع میں آنے والے زائریں پر سعودی مذبی پولیس نے وحشیانہ اور توہیں آمیز سلوک کرتے ہوئے زائرین کو جنت البقیع سے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کی اور  آج کی اہم تریں مناسبت کے موقع پر ان سلفی مسلک وہابیوں نے خدا، رسول و آل رسول اور اسلام سے دشمنی میں کوئی کسرنہ چھوڑی اس اقدام سے سعودی حکومت کا امت مسلمہ کے ساتھ  اپنے منافقانہ رویہ اظہار کیا جس پر مدینہ میں موجود شیعہ و سنی مسلمانوں نے شدید احتجاج اور اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا

یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ یمن کے ڈکٹیٹر عبد اللہ صالح یمن چھوڑ کر امریکہ کے لئے روانہ ہوگئے ہیں جبکہ یمنی عوام عبد اللہ صالح پر مقدمہ چلانے اور اسے پھانسی دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق یمن کے صدر نے یمنی عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے اشتباہات کی بنا پر معاف کریدں۔ یمن کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے مطابق عبد اللہ صالح علاج کے لئے امریکہ گئے ہیں اور وہ پارٹی کی قیادت کے لئے واپس آجائیں گے۔ادھر یمن کے عوام یمنی صدر عبد اللہ صالح پر مقدمہ قائم کرنے اور اس کی پھانسی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اور سعودی عرب  دو ایسے ممالک ہیں جو عرب ڈکٹیروں کی پناہ گاہ ہیں

بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔العوامیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بحرین میں 14 فروری اتحاد نے آل خلیفہ کی امریکہ نوازملعون حکومت کے خلاف ایک عالم دین کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بحرینی عوام بالخصوص بحرینی جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی سرنگونی تک اپنی جد وجہد کو جاری رکھیں۔ بحرین کے ایک ممتاز عالم دین نے بحرین کی ظالم وجابر حکومت کے خلاف  فتوی صادر کیا ہے جس ميں آل خلیفہ حکومت کو امریکہ اور اسرائیل کی حامی حکومت قراردیا گیا ہے اور حکومت کے ظلم و ستم کے مقابلے میں عوام کو جہادکی دعوت دی گئی ہے 14 فروری اتحاد نے اپنے بیان میں اس فتوی کی حامیت کرتے ہوئے جوانوں سے کہا ہے کہ وہ آل خلیفہ کی یزیدی اور امریکی حکومت کے خلاف کمربستہ ہوجائیں اور اپنے جہاد کو آل خلیفہ حکومت کے زوال اور  سرنگونی تک جاری رکھیں