Archive for the ‘Educational News’ Category

پیغمبر(ص) اسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے . اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے بیشمار روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ۔
تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
 آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ۔
 جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ، آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں۔ اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت:
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا (ص)کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ پیغمبر اسلام (ص)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مبارک آج تک مخفی ہے جو ان کے خلاف خلیفہ وقت کے ظلم و ستم کا مظہر ہے۔

Advertisements

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے یومِ شہادت دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین وارث زہراء سلام اللہ علیھا حضرت بقیتہ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور پوری امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا    کہ حضرت سیدہ الزھراء سلام اللہ علیھا جنھوں نے ایک بیٹی، شریکہ حیات اور ماں کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری خواتین اپنے اندر حضرت فاطمہ الزھراء جیسی استقامت پیدا کریں اور تربیت اولاد میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوں جن کی مدد سے معاشرے کو ایسے افراد میسر آ سکیں جن کی رگوں میں حریت حسینی لہو بن کے دوڑتی ہو۔انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع جہاں اہلِ بیت رسول و اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے اور اسے عوام الناس کے لئے کھولا جائے۔

کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم ص کی شان میں گستاخانہ بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے اور ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر نعوذ باللہ شراب کی خرید و فروش کی تہمت لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی نے یہ دعوا کیا تھا کہ : “خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے قبل بعض افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب تحفے میں پیش کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسے یا تو فروخت کر دیتے تھے اور یا پھر دوسروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیتے تھے”۔  اس سعودی وہابی مفتی نے اس تہمت اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر یہ فتوا بھی جاری کیا تھا کہ : “شراب نجس نہیں کیونکہ خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے بعد افراد نے اپنی شراب کی بوتلوں کو باہر گلی میں خالی کر دیا اور صحابہ کرام کے پاوں مسجد میں جاتے ہوئے شراب سے گیلے ہو گئے تھے اور انہوں نے اسی حالت میں نماز ادا کی”۔  آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے اس فتوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر شراب کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا گیا ہے لہذا تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ شراب ویسے ہی نجس ہے جیسے خون اور پیشاب نجس ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کے چاروں فرقوں کے امام نے شراب کو نجس قرار دیا ہے اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں بھی شراب کو صراحت سے نجس قرار دیا گیا ہے۔  کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور بے بنیاد فتوا جاری کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمد العریفی خدا کے حضور توبہ کرے اور تمام مسلمانان عالم سے معذرت خواہی کرے۔

فلسطین میں مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم” اقصیٰ فاؤنڈیشن” نے قبلہ اول کی دیوار براق کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک نئی صہیونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں سرگرم ایک انتہا پسند یہودی گروپ نے امریکا کے شہر نیویارک کی بروکیلن کالونی میں قائم میوزیم میں دیوار براق جسے یہودی دیوار مبکی کے نام سے جانتے ہیں کا ایک قوی ہیکل مجسمہ نصب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز دیواربراق کے اس نام نہاد مجسمے کی تنصیب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسرائیل کا ایک وزیر بھی موجود تھا۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے دیوار براق کے ڈھانچے کی امریکا میں تنصیب کو مسجد اقصیٰ کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک سنگین سازش قرار دیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل دیوار براق کو مسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دینے کے بجائے اسے قبلہ اول سے الگ اور مذموم ہیکل سلیمانی کا حصہ قرار دینے کی مہم چلا رہا ہے۔ امریکا میں یہودی گروپ کی جانب سے دیوار براق کا ہیکل تعمیر کر کے مسجداقصیٰ کی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ دیواربراق مسجد اقصیٰ کا تاریخی حصہ ہے۔ اسرائیل اور یہودیوں کے اس پر دعوے قطعی بے بنیاد اور خرافات ہیں، جن میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں ہے۔

تہران: ایران میں انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام پر کام شروع ہوگیا ہے۔ اس ادارے کے قیام کیلئے ایرانی رہنماٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہدایات جاری کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کیمطابق انٹرنیٹ کی نگرانی کے اس ادارے کے ارکان میں ایرانی صدر، وزیر برائے اطلاعات و ثقافت، پولیس اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر شامل ہوں گے۔ ایران میں انٹرنیٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کیا جانے والا یہ سخت ترین اقدام ہے۔

تہران: ایران کا شہر شیراز اعضاء کی پیوند کاری کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کوا مداد فراہم کرنے والی خیراتی تنظیم کے سربراہ نادر معینی نے کہا ہے کہ یہ ان خاندانوں کیلئے اعزاز کی بات ہے جنہوں نے اپنے خاندان کا ایک رکن کھو دیا۔ تاہم انہوں نے اعضاء عطیہ کر کے دیگر افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔ شیراز شہر میں پیوندکاری کے اس عمل میں 200 افراد شریک ہوئے ہیں اور نادر معینی کے مطابق اب 251 افراد کے گردوں کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 341 افراد کے جگر کی پیوندکاری اور 23 افراد کے پتا کی پیوندکاری کی گئی ہے۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

پاکستان ميں انٹرنيٹ اور متنازعہ ويب سائٹس پر ممکنہ پابندی کی سرکاری کوششيں ملک ميں موجود آزادانہ اظہار خيال کرنے والے افراد، اداروں اور ويب سائٹس کے ليے پريشانی کا باعث بنتی جا رہی ہيں۔ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان کی جانب سے اشتہاری مہم کے ذريعے ايک ايسے سسٹم کی مانگ کی گئی تھی جس کی بدولت حکومت قريب پچاس ملين ويب سائٹس تک صارفين کی رسائی کو ناممکن بنا سکے۔ مختلف ملکی اخبارات اور انٹرنيٹ ويب سائٹس پر شائع ہونے والے ان اشتہارات ميں ملک ميں کام کرنے والی کمپنيوں کو اس سلسلے ميں اپنی تجاويز پيش کرنے کے ليے کہا گيا تھا۔ اس سرکاری مطالبے کے نتيجے ميں پاکستانی عوام ميں اب يہ خدشہ پايا جاتا ہے کہ پابنديوں کا دائرہ کار بڑھا کر اسے آزادانہ اظہار رائے کی رکاوٹ کے ليے استعمال کيا جا سکتا ہے۔ پاکستان ميں انٹرنيٹ کی آزادی سے متعلق کام کرنے والی ايک کمپنی بائٹس کے ڈائريکٹر شہزاد امجد اس حوالے سے دعوٰی کرتے ہيں، ’حکومت نے پہلے ہی متعدد ويب سائٹس پر پابندی عائد کر رکھی ہے اور اب اس پروگرام کے تحت حکومت سياسی اظہار رائے کو کنٹرول کرنا اور روکنا چاہتی ہے‘۔ شہزاد امجد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس سے کوئی مطلب نہيں ہونا چاہيے کہ کوئی بھی شخص انٹرنيٹ پر کيا کرتا اور کیا دیکھتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنيوں کی ايسوسی ايشن کے سربراہ وحاجس سراج کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اس ممکنہ اقدام کے حق ميں ہيں اور يہ کہ عوام کی جانب سے اس کو سمجھنے ميں غلطی کی جا رہی ہے۔ ايسوسی ايشن کے سربراہ کے بقول دراصل يہ ايک مثبت قدم ہے اور کمپنيوں اور ايسے افراد کو جو انٹرنيٹ کے ذريعے اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہيں، اس اقدام سے پريشان ہونے کی ضرورت نہيں ہے۔ملک ميں انٹرنيٹ کی سہوليات فراہم کرنے والی کمپنياں پاکستان ٹيلی کميونيکيشن اتھارٹی کے ماتحت کام کرتی ہيں اور ان کمپنيوں کو پابنديوں سے متعلق ہدايات بھی اس سرکاری ريگوليٹری اتھارٹی کی جانب سے ہی دی جاتی ہيں۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پاکستان ميں ديگر ايشيائی ممالک کی طرح کئی عرياں ويب سائٹس اور اسلام کے خلاف مواد پر مشتمل ويب سائٹس پر پابندی عائد ہے۔ جبکہ مختلف تنازعات کی بناء پر ماضی ميں عارضی طور پر يو ٹيوب اور فيس بک پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ پاکستان ميں ان دنوں انٹرنيٹ پر حکومتی نگرانی سخت بنانے کی يہ کوششيں اس وقت منظر عام پر آ رہی ہيں جب ملک ميں تيزی سے ترقی پانے والے ٹيلی وژن ميڈيا پر بھی پابندياں عائد کيے جانے کے امکانات موجود ہيں۔ اس سلسلے ميں پاکستان اليکٹرانک ميڈيا ريگوليٹری اتھارٹی کو تجاويز پيش کی جا چکی ہيں۔ اگرچہ وفاقی وزير اطلاعات فردوس عاشق اعوان ان تجاويز کے دفاع ميں کہہ چکی ہيں کہ ان کا مقصد منفی نہيں بلکہ ميڈيا کی ترقی کو فروغ دينا ہے، تاہم ملک ميں موجود تجزيہ نگار يہ دعوی کر رہے ہيں کہ يہ اقدامات آئندہ عام انتخابات سے قبل ميڈيا پر حکومت کے خلاف کی جانے والی تنقيد کو روکنے کے ليے ہيں۔

نیویارک……صبح سویر ے نیند سے بیداری کے فوری بعد سگریٹ نوشیپھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این ‘ کے مطابق صبح سویرے تمباکو نوشی کرنے سے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد جو نیند سے بیدار ہوتے ہی سگریٹ سلگا لیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر کے میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق سے ان تمباکو نوشوں کی نشاندہی کی جا سکے گی جن میں کینسر کے زیادہ امکانات ہیں۔ دن کے باقی اوقات میں سگریٹ نوشی سے نکو ٹین اور تمباکو کے دیگر مضر رساں اجزاء اس حد تک جسم میں سرایت نہیں کرتے، جتنے صبح بیداری کے بعد پہلی سگریٹ سے انسان کے جسم میں اترتے ہیں۔ وہ لوگ جو بیداری کے بعد31 سے 60منٹ کے دوران سگریٹ پیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کے تیس فیصد زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ جو بیداری کے پہلے نصف گھنٹے میں سگریٹ سلگاتے ہیں ان میں80فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ پہلے نصف گھنٹے میں سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا ہونے کے 60فیصد جبکہ بیداری کے 31سے60منٹ کے دوران 40فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف امریکاکے کینسر سوسائٹی کے جریدے میں شائع دو مختلف تحقیقات میں کیا گیا۔

میکسیکوسٹی…میکسیکو کا رہائشی ایک 16سالہ لڑکا دنیا کا کم عمر ترین ماہرِنفسیات بن گیاہے۔Almazan Anaya میکسیکو کی ایک مقامی یونیورسٹی میں نفسیات کا شاگرد ہے اوراس ماہ اپنا گریجویشن مکمل کر کے ایک ماہرنفسیات کی حیثیت سے ڈگری بھی حاصل کر لے گا۔Almazanبچپن سے ہی میڈیکل اور نفسیات میں بے حد دلچسپی رکھتا تھا اور اسی لگن نے اسے اس شعبے میں مزید تعلیم حاصل کر نے کیلئے 12سال کی عمر میں کالج پہنچا دیا اور اب اس ماہ وہ صرف 16سال کی عمر میں نفسیات کے مضمون میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر لے گا۔Almazanکے مطابق وہ ڈگری حاصل کر نے کے بعدپر یکٹس شروع کر نے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہNeuroscience اور Neurologyکے شعبوں میں مزید تعلیم حاصل کر نا چاہتا ہے۔

نیویارک……امریکہ میں ایک ڈولفن کو مصنوعی دُم نصب کی گئی ہے جس کے بعد اسے مصنوعی دُم کے ساتھ تیرنے والی دنیا کی پہلی ڈولفن کا اعزاز بھی حاصل ہو گیاہے۔ Winterنا می یہ ڈولفن جب صرف دو ماہ کی تھی کہ زیرآب ایک حادثے میں اپنی دُ م اور ماں سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئی تھی۔ما ہرین کی ایک ٹیم نے اس ڈولفن کو دوبارہ سے تیرنے اور ایک آزاد زندگی فراہم کر نے کیلئے دوسال کے طویل عرصے میں اس کیلئے خصوصی طور پر ایک مصنو عی دُم تیارکی اور پھر اسے ایک طویل آپریشن کے بعد ڈولفن کے جسم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ Winterاس مصنوعی دُم کے ساتھ بغیر کسی مشکل کے عام ڈولفنز کی طرح پانی میں تیرنے کے قابل ہو گئی ہے ۔اس ڈولفن کی مصنوعی دُم نصب ہو نے تک کے سفر کی کہانی پر ہالی ووڈ میں ایک تھری ڈی فلم بھی بنائی جائے گی جس میں دیگر اداکاروں کے ساتھ Winter نا می یہ دولفن مرکزی کر دار میں جلوہ گر ہوگی۔

نیویارک .  . مچھلی کے تیل میں موجودقدرتی غذائیت نہ صرف بینائی تیز کرتی ہے بلکہ قوتِ حافظہ بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل کااستعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے ۔ اس میں موجود Omega-3 Fatty Acids قدرتی طور پر خون پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے نہ صرف بلڈ پریشرکی سطح ہموار ہوجاتی ہے بلکہ یہ ہائپر ٹینشن سمیت امراضِ قلب سے حفاظت کا بھی موثر ذریعہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کی ناہموار سطح ہائپر ٹینشن کا سبب بنتی ہے جبکہ مچھلی کے تیل کا استعمال اس بیماری سے لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

دہلی…فارن ڈیسک…بچے کی اعصابی و دماغی نشونما کے لیے مچھلی کا استعمال بہت ضروری ہے۔بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ماں کے دودھ کے بعد بچے کے اعصاب ،دماغ اور آنکھوں کی نشونما کے لیے ’اومیگا 3ایسڈ‘ کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو صرف مچھلی میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ سائنسی جرنل کے مطابق مچھلی کے بہت سے فوائد ہیں اور یہ دماغی بیماریوں کو روکنے میں بھی کا م آتی ہے۔

یروشلم کی دیواروں پر’مسیحیوں کی موت‘ یا ’ تمہیں صلیب پر چڑھا دیں گے‘ کی طرح کی تحریریں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انتہاپسند یہودیوں کی جانب سے کلیساؤں، قبرستانوں اور دیگر مقامات پر حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ا س سے قبل اسرائیل میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہودیی یا تو مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے یا ان کا ہدف بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیل اور غرب اردن میں دس مساجد کو نذز آتش کیا گیا۔ امن کے لیے سرگرم ’پیس ناؤ‘ نامی تنظیم کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تاہم اب یہ تمام حربے اسرائیل میں آباد مسیحی برادری کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں نے فروری کے وسط میں مغربی یروم شلم میں ایک بیپٹسٹ چرچ، شہر کے قدیم یہودی علاقے کے ایک کرسچن قبرستان اور اسی طرح فروری میں ہی ایک اورتھوڈوکس کلوسٹر کی دیواروں پر اسپرے پینٹ کے ذریعے مسیحیت کے خلاف نعرے درج کیے۔پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عام سی غنڈہ گردی ہےاور ان کارروائیوں کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول نہ ہی ان واقعات کا محرک قوم پرستی ہے۔ اسرائیل کے صدر شمعون پیریز کا اس حوالے سے کہنا تھا ’’ میں تینوں توحیدی مذاہب سے کہنا چاہتا ہو کہ اسرائیل میں مسلمانوں، کرسچنز اور یہودیوں کے مذہبی مقامات اور ان کے رسم و رواج کا احترام کیا جائے۔ Temple Mount یعنی الحرم القدسی الشریف کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس ہے‘‘۔ پیریز نے مزید کہا ’’جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، وہ ہمارے لیے مقدس ہے، جو مقام کرسچنز کے لیے مقدس ہیں، وہ ہمارے لیے بھی ہیں اور جو کچھ ہمارے لیے مقدس ہے وہ یقینی طور پر سب کے لیے مقدس ہےلیکن اس طرح کے بیانات یروشلم میں آباد مسیحیوں کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسرائیل کے دارالحکومت میں انہیں آئے دن امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قوم پرست اورانتہائی قدامت پسند یہودیوں کی جانب سےشہر کے قدیم حصے کے تنگ گلیوں میں مسیحی مذہبی شخصیات پر تھوکنا ایک عام سی بات ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے پادریوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم ’ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ نے رابیوں کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھوکنے کے ان حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہےاس دوران رابی شلومو آمار اور یونا میٹزگر یروشلم میں مسیحی باشندوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ دو سال قبل غرب اردن کے ایک گاؤں یوسف میں مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس کے بعد میٹزگر نے اس علاقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’وہ اپنے پڑوسیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہر مقدس جگہ، جہاں انسان عبادت کرتے ہیں، چاہے وہ مسجد ہو، چرچ ہو یا سینیگوگ ہو، وہ اسے نذر آتش کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند اور انتہا پسند یہودیوں نے ابھی تک رابی یونا میٹزگر کی اپیل پر کان نہیں دھرے

معروف سیاسی اور عسکری تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان جیسی شکایات ایران کے خلاف نہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی مخالفت زیادہ ہے۔ پاکستان امریکی influence سے خود کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔ پاکستان کمزور معیشت کی وجہ سے امریکہ اور مغرب پر انحصار کرتا ہے۔ ایران ضرورت پوری کر دے تو یہ انحصار کم ہو جائے گا۔ امریکہ اس خطے میں اپنا پریشر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اگر دباو میں آئے گا تو کچھ نہیں کر پائے گا۔ حکومت کے پاس قوت فیصلہ نہیں۔ کوئی نہ کوئی حکومت کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ امریکہ کے بارے میں اب فوج بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ پاکستان ایران پر امریکی حملے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خطے میں امریکہ کو چیلنج کرنے والی ایران جیسی قوتوں کی حمایت پاکستان کے مفاد میں ہے

صہیونی حکومت کے اعلی حکام کی لبنان کے خلاف دھمکیوں پر لبنان کے اعلی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ جب تک مزاحمت و استقامت زندہ ہے صہیونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ سید حسن نصر اللہ نے گزشتہ روز صہیونیوں کے خلاف مزاحمت و استقامت کے کمانڈروں اور رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مرتبہ جنوبی لبنان میں صہیونی غاصبوں سے جنگ کے دوران حزب اللہ نے اس حکومت کو سنگین شکست سے دوچار کیا اور اس علاقے میں امن و استحکام بحال کیا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے صہیونی حکومت کی حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلیوں کی دھمکیوں سے ہرگز نہیں ڈرتے اوران دھمکیوں کا ہمارے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ زمانے میں جب ہم تعداد و طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی نہ تھے تب بھی ایریل شیرون اور اسحاق رابین جیسے اسرائیل کے نام نہاد بڑے جنرلوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو آج جب ہم طاقت و قوت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہیں تو کس طرح ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے۔  صہیونی حکومت لبنان پر بار بار زمینی ، فضائی اور بحری حملے کر کے اس ملک کو ہمیشہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ صہیونی حکومت کے لبنان پر متعدد حملوں، لبنان کے بعض علاقوں پر قبضے اور ہمسایہ ممالک کو دی جانے والی مستقل دھمکیوں نے پہلے سے زیادہ اس حکومت کی جنگ پسند اور مہم جو ماہیت کو واضح و آشکار کر دیا ہے۔ جس چیز نے صہیونی حکومت کے تمام منصوبوں اور ارادوں پر پانی پھیر تے ہوئے اسے علاقے میں شکست دی ہے وہ علاقے کے عوام کی مزاحمت و استقامت تھی اور گزشتہ چند سالوں میں لبنان کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ سید حسن نصر اللہ کی حقیقت کو برملا کرنے والی تقریر نے ایک بار پھر لوگوں کو لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی مذموم سازشوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ صہیونی حکومت اور اس کی حامی مغربی حکومتیں لبنان کی مزاحمت کو لبنان میں اپنی تسلط پسندانہ پالسیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ صہیونی حکومت مغربی حکومتوں کی بھرپور حمایت کے باوجود گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ لبنان کی مزاحمت کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ لبنان کی استقامت کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی مستقل ناکامیاں، جس نے دو ہزار میں اس حکومت کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی طرح دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست، لبنان کی مزاحمت و استقامت کی گرانبہا کامیابیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کی حامی حکومتیں لبنانی عوام کے درمیان خوف و وحشت اور اختلاف و تفرقہ پھیلا کر انھیں استقامت سے دور کرنا اور لبنان کے خلاف اپنی سازشوں پر عمل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن لبنان کی عوام نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی سازشوں اور ہتھکنڈ وں سے باخبر اور ہوشیار ہیں۔ لبنانی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت میں روزافزوں اضافہ رہا ہے اور حزب اللہ بھی روزبروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے عوام صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی نئی سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کی طرف سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا ہے۔

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیےالیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار عمرو موسی نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات زیادہ ہیں اور ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے تعمیری مذاکرات کی ضرورت ہے اور ایران کو ایک دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے عمرو موسی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ روابط امریکی تقلید پر مبنی نہیں ہونے چاہییں  اس نے کہا کہ ہمیں تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی ضرورت ہے

اسلامی جموریہ ایران کے وزیر دفاع نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائيل پہلے کی نسبت بہت کمزور ہوگيا ہے اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ شخصیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالم اسلام کے شہیدوں کے دوسرے عالمی سمینار سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیلی فوج درمنادہ ، کمزور ، تھکی ہوئی اور شکست خوردہ فوج ہے اور وہ صہیونی جو مقبوضہ فلسطین میں زندگی بسر کررہے ہیں انیھں معلوم نہیں وہ کتنے عرصہ تک فلسطین میں رہ سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ آج اسرائيل کا وجود حقیقی معنی میں خطرے میں پڑگیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع نے حزب اللہ کے شہید کمانڈروں کی یاد میں منعقدہ سمینار سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان واحد عرب ملک ہےجس نے طاقت کے زور پر غاصب اسرائیلیوں کو ملک سے باہر نکال دیا اور یہ اسلامی مقاومت اور حزب اللہ کی استقامت و پائداری اور لبنانی عوام اور فوج کے تعاون سے ممکن ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آج حزب الہ کی دفاعی پوزیشن سے اسرائيل پر خوف و ہراس طاری ہے اور حزب اللہ کا نظریہ لبنان تک محدود نہیں بلکہ وہ دیگر مقبوضہ عرب زمین کو بھی آزاد کرانے کی فکر میں ہے انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے پسندیدہ اور محبوب شخصیت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی ہونا مہم نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم کس طرف ہیں اور کس کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 33 روزہ لبنان کی جنگ میں اسرائيل کی تاریخی شکست اور اس کے بعد غزہ میں 22 روزہ جنگ میں اسرائيلی شکست سے صاف ظاہر ہوگيا ہے کہ اسرائيل بہت ہی کمزور اور شکست پذير ملک ہے اور اس کی طاقت پہلے جیسی نہیں ہے

العالم کی رپورٹ کے مطابق الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگان اسلام بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الازہر نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان گفتگو کو مغرب کے ساتھ اسلام کے ڈائیلاگ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ العالم نے شیخ الازہر احمدالطیب کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بزرگان اسلام  بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ شیخ الازہر نے کہا کہ شیعہ، مسلمان ہيں اور ان کا اسلام بھی اہلسنت کا اسلام ہے اور اہلسنت اور شیعہ صرف چند معمولی مسائل میں اختلافات رکھتے ہيں۔ احمدالطیب نے مزید کہا کہ الازہر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ شیعوں اور سنیوں کا اختلاف اصول دین میں نہيں ہے بلکہ صرف فروع دین میں ہے۔ الطیب نے کہا کہ الازہر کی نظر میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی فرقے کلمہ شہادتین کے قائل ہيں۔ دیگر ذرائع نے بھی کہا ہے کہ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر احمد محمدالطیب نے انتہا پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر بعض الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز میں شیعوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احمدالطیب نے شیعہ سنی اختلاف کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس کے با‏عث بعض افراد شیعوں کو کافر کہتے ہیں کہا کہ شیعہ سنی اختلافات چندجزئی چيزوں تک محدود ہیں اور بعض افراد کا یہ دعوی کہ شیعوں کا قرآن اہل سنت کے قرآن سے مختلف ہے، یہ باتیں  بےبنیاد ہیں۔ روزنامہ المصریون کے مطابق شیخ الازہر شیعہ اور سنی نظریات کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے شیعہ مسلمانوں کے بارے ميں شیخ الازہر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

برطانوي اورامريکي دفاعي سازوسامان ميں نصب کمپيوٹر ٹيکنالوجي 40برس پراني ہے،برطانيہ کے جوہري پروگرام،امريکي بحريہ کے راڈار نظام اور فرانسيسي ہوائي جہازوں کي کمپيوٹر ٹيکنالوجي 1970کي ہے.ايف15اور ايف18لڑاکا طيارے،ہاک ميزائل، امريکي آبدوزيں،بحري بيڑے، بحريہ کا فائٹر سسٹم اور بين البراعظمي بيلسٹک ميزائلوں ميں 1980کے ويکس مني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں.برطانوي جوہري نظام ميں منسلک کمپيوٹر ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دورکي ہے جو فرانسيسي طيارہ ساز کمپني اپنے ہوائي جہازوں ميں استعمال کرتي ہے.ان کو جديد ٹيکنالوجي سے ليس کرنے ميں کروڑوں ڈالر لاگت اور قومي سيکورٹي ميں خلل کا خدشہ ہے .امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کے مطابق يہ انکشاف حال ہي ميں شائع مضمون ميں سامنے آيا کہ دفاعي ميدان ميں منسلک ٹيکنالوجي قديم ہے اورجديد تقاضوں کے مطابق نہيں ہے. عام طور پر يہ خيال کيا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ميں ريموٹ کنٹرول سے فوجي انٹيلي جنس اکھٹي کرنے اور دشمنوں کو ہدف بنانے کے لئے ڈرونز استعمال کيے جاتے ہيں ڈرونز کي طرح تمام فوجي سازوسامان بھي جديد ترين ٹيکنالوجي سے ليس ہوگا جب کہ ايسا حقيقت ميں نہيں ہے.تاہم کچھ دفاعي ضروريات جديد ٹيکنالوجي سے ليس ہيں جن پر فوج کا انحصار ہے. ليکن زيادہ ترفوجي سازو سامان ميں نصب ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دور کي ہے،يہي ٹيکنالوجي دنيا کا سب بڑا ہوائي جہاز A-380بنانے والے بھي اپني ائر بسوں ميں استعمال کرتے ہيں. اخبار لکھتا ہے کہ يہ صورت حال مشکل اورپريشان کن ہے.بحري جہازوں کا راڈار نظام اور برطانيہ کے جوہري ہتھياروں کي اسٹيبلشمنٹ بھي 1970کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کي طرف سے تيار کردہ پي ڈي پي مني کمپيوٹرز استعمال کرتے ہيں جب کہ فرانسيسي طيارہ ساز بھي اپني ايئر بس ميں اسي نظام کو استعمال کرتے ہيں.F-15اورF-18 لڑاکا طيارے، ہاک ميزائل نظام، امريکي بحريہ کي سب ميرينز اور امريکي بحري بيڑے کے مختلف حصوں، طيارہ بردار بحري جہاز اور بحريہ کا فائٹر سسٹم ان سب ميں 1980 کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کے VAXمني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں. اخبار کے مطابق حسا س اہميت کے پيش نظر ان نظاموں پر مستقبل ميں بھي انحصار کيا جائے گا شايد آئندہ وسط صدي تک يہ نظام اسي طرح کام کرتے رہيں گے.امريکي بين البراعظمي ميزائلوں کا انحصار DEC VAXنامي ٹيکنالوجي پر ہے اور حال ہي ميں اس کو اپ گريڈ کے ليے فنڈز مہيا کيے گئے اور يہ عمل2030تک مکمل ہوگا.رپورٹ کے مطابق دفاعي سازو سامان کي تمام ٹيکنالوجي کي تنصيب ميں کئي اربوں ڈالر کے اخراجات کيے گئے . اس کي تبديلي کے لئے کروڑوں ڈالر کي لاگت آئے گي اور اس عمل کے دوران قومي سلامتي ميں خلل پڑ سکتا ہے.

افغان جنگ ميں عبد الحکيم کو طالبان کمانڈروں ،افغان حکومت اور اتحادي افواج ميں يکساں قابل احترام شخصيت کے طور پر جانا جاتا ہے.وہ کسي بھي سانحے،دھماکے ،يا جنگي جھڑپ کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کرعسکريت پسندوں کي لاشيں اٹھاتاہے ،مناسب ضابطے کي کارروائي کے بعد لاشوں کولواحقين تک پہنچاتا ہے، لاوارث لاشوں کو اسلامي طريقے سے دفن کرديتا ہے ،قندھار ميں اس نے عسکريت پسندوں کے لئے قبرستان بنايا ،گزشتہ چھ برس ميں وہ127لاشوں کو ان کے خاندانوں يا ساتھيوں کے حوالے کرچکاہے.طالبان کمانڈر کسي بھي دھماکے فوراًبعد اسي سے رابطہ کرتے ہيں. قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں ہر لاش کے کوائف ميں’طالب‘ لکھا جاتا ہے،گزشتہ برس ہر ماہ وہاں150لاشيں لائي جاتي تھي.امريکي اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ہزاروں افرادافغان جنگ کا نشانہ بن چکے ،ان ميں کئي افراد حملوں اور دھماکوں کا شکار ہوئے، عبد الحکيم عسکريت پسندوں ،جنگ جوو?ں کي لاشوں،دھماکے کے بعد بکھري باقيات کو لواحقين تک پہچانے کے کام سے پہچانا جاتا ہے . ايسا کوئي واقعہ پيش آئے تو طالبان کمانڈ ان سے رابطہ کرتے ہيں تو حکيم کي طرف سے ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم لاشيں تلاش کر رہے ہيں. جنوبي افغانستان ميں جنگ کے دوران سب سے زيادہ ہلاکتيں ہوئيں . وہ امريکي حکام،افغان حکومت اور طالبان سے اجازت نامے کے بعد وہ ٹرنکوں،لکڑي کے بکسوں والے تھيلوں ميں ڈال کر اپني پيلي ٹيکسي ميں رکھ کر پہنچاتا ہے .خودکش بمبار کي باقيات کے لئے وہ چھوٹے ڈبوں کو استعمال کرتا ہے.حکيم کے مطابق اسے اس سے کوئي غرض نہيں کہ وہ کون ہے ليکن وہ ہر لاش کو اسلامي طريقے سے دفن کرتے ہيں .قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں نيٹو کے فوجيوں کي لاشوں کوا مريکي جھنڈے جب کہ عسکريت پسندوں کي لاشوں کو لکڑي کے تابوت ميں ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے. ريڈ کراس نے اس مردہ خانے ميں ان لاشوں کي باقيات کے تمام کوائف رکھنے کيلئے ايک رجسٹر رکھا ہوا ہيجس ميں ہر عسکريت پسند کے لئے صرف ’طالب‘ استعمال کيا جاتا ہے، حکومت اور عسکريت پسندوں دونوں ميں حکيم عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں.

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کامرکز بنانے پر قادر ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے مغربی ممالک حیرت زدہ ہوگئے ہیں۔ رپورٹ یے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے عمان کے وزير خارجہ یوسف بن علوی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کے دوران ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں اس وقت صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کا مرکز بنانے پر قادر ہیں  جن میں ایران بھی شامل ہے اور ایران کی اس پیشرفت کی وجہ سے مغربی ممالک حیرت ذدہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے دو سال پہلے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو 20 فیصد ایندھن فراہم کرنے کا تقاضا پیش کیا تھا اور انھوں نے اس کے بارے میں سخت شرائط عائد کرنا شروع کردیئے جس کے بعد ہم خود 20 فیصد ایندھن کی پیدوار کے لئے مجبور ہوگئے اور ہم نے 20 فیصد ایندھن تیار کرنے کا اقدام کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے غیور جوانوں نے ہمت و شجاعت سے کام لیا اور ملک اندرونی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے 20 فیصد ایندھن تیار کرلیا انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے ایران کے خلاف بہت پروپیگنڈہ کیا کہ ایران ایٹمی ایندھن کا مرکز تعمیر کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن ہم نے ایسا کرکے دکھا دیا اور اس پر مغربی ممالک چراغ پا ہوگئے ہیں انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک ایران کی علمی پیشرفت کو روکنے کی جستجو میں ہیں لیکن ایران انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دےگا کیونکہ علمی پیشرفت ایرانی عوام اور ایرانی جوانوں کا مسلّم حق ہے۔

واشنگٹن: امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ روزے دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تحقیق کے مطابق مختلف دورانیے کے روزے رکھنے سے انسانی دماغ کی قوت بڑھتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہفتے میں دو یا تین دن کھانے سے گریز کرنے سے دماغ الزائمر، پارکنسن اور دوسری بیماریوں کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ قوت مدافعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

بے خوابی کے علاج کیلئے متاثرہ شخص کو اپنے اردگرد کے ماحول کو اچھا اور خود کو معمولات زندگی میں مصروف رکھنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار ماہر نفسیات عائشہ موکم قریشی نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کی کئی اقسام ہیں جیسے ابتدائی اور مختصر جزو وقتی بے خوابی، وقفے وقفے سے نیند کا نہ آنا بے خوابی کی انتہائی شدید صورتحال ہے جس کے دوران مریض معمول کے سونے کے وقت میں کبھی صحیح طرح سے نہیں سوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بے خوابی کا علاج ہر شخص کیلئے علیحدہ علیحدہ ہوتا ہے۔ بے خوابی کی بیماری ابتدائی طور پر ڈپریشن کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات یہ خود پر مسلط کی ہوئی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتشار کی صورت ہے جس کے دوران کوئی شخص کام کی زیادتی کے باعث یا تنائو کے ماحول میں معمول کے مطابق اپنی نیند نہیں لے سکتا اور جن ڈاکٹر سے علاج کرانا ضروری ہے۔ انہوں نے بے خوابی کے مریضوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طور پر خود تشخیص کردہ ادویات کا استعمال نہ کریں جس کے صحت پر منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مریض ان کا عادی بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خیالات جن سے نیند متاثر ہو سب سے پہلے انہیں جھٹک دینا چاہتے جس سے بیماری کا علاج بغیر ادویات کے ہو جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین بے خوابی سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں میں یہ بیماری عام ہوتی ہے جبکہ وہ تنہا زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سونے سے قبل غیر ضروری ادویات جیسے کہ وٹامنز کا استعمال نہیں کرنا چاہئے وٹامنز وغیرہ کو ان کے وقت لینا چاہئے۔ انہوں نے اچھی بھرپور نیند کیلئے کچھ تدابیر بھی بتائیں جن کو اپنے سے بے خوابی کا علاج ممکن ہے۔ ان کے مطابق سونے کا کوئی قرینہ یا ترتیب بنائی جائے۔ کافی اور کیفین کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خود کو کسی کام میں مصروف رکھا جائے اور تھکن کی وجہ سے اچھی اور بھرپور نیند آتی ہے اور جب دوسرے سوجائیں تو سونے کی کوشش کی جائے

ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پانی ابال کر استعمال کرنے سے یرقان سمیت پانی سے ہونے والی تمام بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔  یرقان سے بچائو کی حفاظتی تدابیر اور اس پر قابو پانے کے حوالے سے ایک پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید اور  ڈاکٹر سید سیف الرحمن نے کہا کہ یرقان کی پانچ اقسام ہیں جن میں اے بی سی ڈی اور ای شامل ہیں۔ یرقان اے اور ای گندے پانی کے استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر عبدالحمید نے کہا کہ یرقان کی علاقات میں جسم میں ہلکا درد ہونا’ ہلکا بخار ہونا’ متلی ہونا’ پیٹ میں درد’ آنکھوں کا زرد ہونا اور پائوں سوجھ جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یرقان ایک خاموش قاتل ہے اور اس کی علامات ظاہر ہونے میں پانچ سے سات سال کا عرصہ لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں ایک سے دو فیصد بال گرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین ڈرگ کو دو سے آٹھ ڈگری درجہ حرارت پر رکھنا چاہیے کیونکہ نارمل درجہ حرارت پر اسے خراب ہونے کا خطرہ ہے۔ ڈاکٹر سیف نے کہا کہ پاکستان میں یرقان کی بنیادی وجہ اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی کمی ہے اور عام طور پر لوگ اس طرف دھیان نہیں دیتے جس سے یرقان کے جراثیم جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کی وجوہات میں استعمال شدہ بلیڈ اور سرنج’ گندے ہاتھ اور خون کی منتقلی بھی شامل ہے۔

افغانستان میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔مرنے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت انتہائی کم درجہ حرارت میں یہ بچے سردی سے بچا ئوکے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔ اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر نے کہا کہ جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ آمر کی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں، آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ دفاع پاکستان کونسل میں شامل دینی جماعتوں میں سے کسی جماعت کو پاکستانی عدلیہ نے کالعدم قرار نہیں دیا، صرف ایک آمرکی طرف سے کچھ دینی جماعتوں کو کالعدم قرار دینے کی کوئی اہمیت نہیں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رحیم یار خان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات میں اگر اسٹیبلشمنٹ نے کسی جماعت کی حمایت کی تو اس سے خون خرابہ ہوسکتا ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات منعقد کرائے جائیں تاکہ قوم اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرسکے، انہوں نے مزید کہا کہ دفاع پاکستان کونسل کے زیراہتمام 20 جنوری کو پارلیمنٹ کے سامنے ایک بڑا مظاہرہ کیا جائے گا، جس میں نیٹو سپلائی کی مبینہ بحالی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن ختم کیا جائے اور لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے تاکہ پاکستانی عوام میں ہماری فوج کا وقار بحال ہوسکے، لیاقت بلوچ نے کہا کہ احمد مختار پاکستان کے وزیر دفاع کے بجائے امریکہ کے نمائندے کے طور پر کام کررہے ہیں جس سے خدشہ ہے کہ آئندہ کچھ عرصہ کے دوران فضائی کے بعد زمینی راستے سے بھی نیٹو سپلائی بحال ہوجائے گی لیکن دفاع پاکستان کونسل اسے عملی طور پر ناکام بنانے کے لئے اپنی تمام تر قوت استعمال کرے گی، انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا مطلب کشمیر کاز سے غداری ہے، جس سے ہزاروں کشمیریوں کی شہادتیں بھی رائیگاں جائیں گی، انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نئے صوبوں کے قیام کی حامی ہے کیونکہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی طور پر بہتری پیدا ہونے کے امکانات ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ سینٹ انتخابات کے فوراً بعد عام انتخابات میں اعلان کردینا چاہیے تاکہ عوام کو کرپٹ حکمرانوں سے نجات مل سکے۔

اگرچہ امریکی حکام بارہا دعوی کر چکے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے لیکن امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینٹا نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران یورینیم کی انرچمنٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن تہران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ ایک ریڈ لائن ہے جس سے ہمیں شدید تشویش ہے۔ لیون پینٹا نے امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ مغرب کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور سفارتی پابندیوں نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق پرامن حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات انجام دینے پر تیار ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رونلڈ برگز نے سینیٹ کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ بھی امریکی فوجیوں کو اپنے حملون کا نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اپنے تازہ ترین بیانئے میں اعلان کیا ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب سعید جلیلی نے کیتھرائن اشتون کے خط کا جواب دیا ہے جس میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کیتھرائن اشتون کی ترجمان ماجا کسیجانسیک نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر سعید جلیلی کے خط کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی خبر میں اعلان کیا ہے کہ ایران حال ہی میں ایٹمی ٹیکنولوجی کے میدان میں اپنی دو بڑی کامیابیوں کو منظر عام پر لایا ہے اور اسی طرح ایران نے ۶ یورپی ممالک کے سفراء کو وزارت خارجہ طلب کر کے انہیں وارننگ دی ہے کہ اگر وہ مغرب کی طرف سے ایران پر لگائے جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی حمایت کریں گے تو ایران انہیں خام تیل کی فروخت روک دے گا۔ مغرب اور یورپی یونین نے کافی عرصے سے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ ایران ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے 

مصر کے ا یک مشہور مصنف اور صحافی جلال عامر نے کہا ہےکہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ جلال عامر نے لکھا ہے کہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ صیہونی حکومت ایک جارح حکومت ہے جبکہ سعودی عرب اپنے نظریات مسلط کرکے اپنے آلہ کاروں کو برسرکار لانا چاہتا ہے۔ اس معروف مصری صحافی نے لکھا ہے کہ عرب ليگ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن چکی ہے اور عمرو موسی کے زمانےمیں بھی عرب لیگ کا یہی حال تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے آل سعود مصر میں اپنی ثقافت پھیلاناچاہتی ہے تاکہ اس ملک کے امور پر مسلط ہوسکے۔ یاد رہے مصر کے عوام نے گذشتہ برس کے آغاز میں تحریک چلائي تھی جس کے نتیجے میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئي اور پارلیمانی انتخابات ہوئے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع بریگيڈیر جنرل احمد وحیدی نے کہا ہے کہ وزارت دفاع، امریکہ کے جاسوس ڈرون آر کیو ایک سو ستر کو ڈی کوڈ کرنے کے وزارت سائنس و ٹکنالوجی کی پیشکش کا خیر مقدم کرتی ہے۔یاد رہےکہ اسلامی جمہوریہ ایران کی الکٹرانیک اور فضائي دفاعی ماہرین نے چار دسمبر کو مشرقی ایران میں امریکہ کے جدید ترین جاسوس طیارے آر کیو ایک سو ستر کو صحیح سالم اتار لیا تھا۔ بریگیڈیر جنرل احمد وحیدی نے کہا کہ وزارت سائنس و ٹکنالوجی کی یہ پیشکش علمی اورجہادی جذبات کی غماز ہے جو ہماری یونیورسٹیوں اور دانشوروں اور سائنس دانوں کی خصوصیت ہے۔ انہوں ایرانی ماہرین کے ہاتھوں ڈرون طیاروں کی تیاری کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جدید ترین ڈرون طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتا ہےاور اس نے اپنی یہ صلاحیت ثابت کردکھائي ہے

ملت جعفریہ کے قانونی مشیر شہید عسکری رضا کا چہلم پر دفاع تشیع کانفرنس ۱۸ فروری کو امروہہ گراونڈ میں منعقد ہوگی ۔  نامہ نگار کی خبر کے مطابق کانفرنس کا اہتمام شیعان علی پاکستان نے کیا ہے ۔ کانفرنس کا مقصد شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرنا ہے ۔ کالعدم سپاہ یزید کے دہشت گردوں شہید عسکری رضا کو ۳۱ دسبر ۲۰۱۱ کی شام گلش چورنگی پر شہید کیا تھا ۔ ان کا چہلم اور کانفرنس سے متعلق سیکڑوں بینرز اور پوسٹر شہر کراچی میں آویزہ کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کے شہر کراچی میں گزشتہ چھ ماہ میں پانچ وکلاء بشمول ایڈوکیٹ مختار بخاری شہید کیے جاچکے ہیں ۔اس موقع پر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملت شیعان پاکستان اور اس کے تمام ذمہ دار احباب اور مقتدر سیاسی و سماجی شخصیات اور تنطیموں نے اب تک سوائے زبانی کھوکلے نعروں اور اخباری بیانات کے سوا کو بھی خاطر خواہ اقدام نہ کیا کیونکہ ذمہ دار حلقوں کو ملت کی افرادی قوت اس کی فلاح و بہبود اور وسائل کے حقیقی تعمیری استعمال سے کوئی سروکار نہیں۔ انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ملت شیعان پاکستاں کے زمہ دار حلقے صرف اور صرف ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جس میں نمودو نمائش زیادہ سے زیادہ ہو، ان کے پاس اپنی ملت کی تعمیر و تربیت کے ثمرات کو ملت کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے کوئی خاظر خواہ راہ عمل نہیں ہےحد تو یہ ہے کہ اگر کوئی شیعہ اپنے بچوں کو کسی شیعہ اچھی اسکول میں تعلیم نہیں دلوا سکتا کیوں کہ ان معیاری شیعہ اسکولوں کی فیسیں ہی اتنی زیادہ ہیں کہ عام شعیہ گھرانے کے بس میں نہیں ہے جس کے سبب سے ملت کے بے شمار شیعہ گھرانے اپنے بجوں کو گورنمٹ یا اور دیگر نجی پرائیوٹ (اہلسنت کے) اسکولوں میں تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے شعبے تنزلی کا شکار ہیں، خدارہ اجتماعیت کو فروغ دیجئے، حقیقت بینی سے کام لیتے ہوئے سوچے، اتحاد قائم کریں، اس کی روشن مثال ہمارے سامنے خوجہ شیعہ عثاء عشری جماعت کی ہے کہ انھوں نے دیکھیے کس طرح اپنے آپ کو تعلیم اور غرض تقریبا” ہر میدان میں اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کے وسائل کو کس طرح بہتریں اور عمدہ طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اتحاد کیا ہے۔۔۔کیا یہی مثال ہم بھی قائم نہیں کر سکتے ہر شعبہ میں ….ذرا سوچیے۔

مرکزی سیکرٹری اطلاعات کا کہنا ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت کو فراموش کر دیتی ہیں وہ راستے کا ایسا پتھر بن جاتی ہیں جن کو ٹھوکر مارنا ہر راہگیر اپنا حق سمجھتا ہے۔امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے ترجمان سلمان عابد کا کہنا ہے کہ ویلنٹائن ڈے غیراسلامی ہے اس کو منانا استعمار کی اقتداء کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں نے ایک مخصوص سازش کے تحت اپنے بے ہودہ ایام مسلمان ملکوں میں داخل کر دیے ہیں اور میڈیا کے ذریعے ان کی اس انداز میں تشہیر کروائی ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ ہماری ثقافت کاحصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو قومیں اپنی ثقافت کو فراموش کر دیتی ہیں وہ راستے کا ایسا پتھر بن جاتی ہیں جن کو ٹھوکر مارنا ہر راہگیر اپنا حق سمجھتا ہے۔ سلمان عابد نے کہا کہ ہمارے نوجوانوں کو ایسے ایام منانے سے گریز کرنا چاہیے، ایسے ایام منانے کے پیچھے استعمار کے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں جن کے حصول کے لئے وہ مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میڈیا کے ذمہ داران کو استعمار کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے بلکہ ویلنٹائن ڈے اورگلوبل ویلج کے نام پر نہ خود گمراہ ہوں نہ دوسرں کو کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہود و ہنود نے کبھی ہمارے تہوار نہیں منائے بلکہ ان دنوں میں یہ کہہ کر کہ یہ مسلمانوں کے تہوار ہیں الگ ہو جاتے ہیں لیکن ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم ان کے تہواروں کو منائیں۔ نیا سال، ویلنٹائن ڈے اور کرسمس تک ایسے تہوار ہیں جو عیسائیوں سے زیادہ ہم مناتے ہیں۔ سلمان عابد نے کہا کہ ہم نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ استعمار کی سازشوں کا شکار نہ ہوں بلکہ باشعور ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ان تہواروں کا بائیکاٹ کریں۔

موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ امریکہ کے خلاف نعرہ لگانے والوں نے ملک کی سلامتی و خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا اور آج ایک بار پھر یہی قوتیں اکٹھی ہو رہی ہیں جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتی تھیں۔پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ ملک کا دفاع اور ملک دشمن قوتوں کے خلاف جہاد کا اعلان کرنا ریاست کا کام ہے نہ کہ کالعدم نام نہاد تنظیموں کا، عوام اب ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے، عوام کو تصویر کا غلط رخ دیکھانے والے یاد رکھیں کہ آج 1980ء نہیں 2012ء ہے، پاکستان اب ایٹمی قوت کا حامل ملک ہے اور عوام آج پہلے سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ ملکی سلامتی، بقاء و خودمختاری کیلئے ملک کا ایک ایک بچہ قربانی دینے کو تیار ہے، ملک بچانے کیلئے ملک بنانے والوں کی اولادیں ہی میدان عمل میں ہونگی، جو لوگ جہاد کا نعرہ لگا رہے ہیں وہ جہاد کی شرائط سے بھی واقف نہیں ہیں۔ امریکہ و بیرونی قوتیں ملک کے خلاف سازشیں کر رہی ہیں، ان سازشوں کو ناکام بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے ضروری ہے عوام کو اعتماد میں لیکر فیصلہ کن اقدامات کریں۔ بلوچستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے حکومت کوششوں کو تیز کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے موجودہ ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان سنی تحریک ملک میں عوامی جدوجہد سے جمہوری انقلاب چاہتی ہے کیونکہ موجودہ حکمرانوں اور عوامی نمائندوں نے عوام کو مسائل سے نکالنے کی بجائے مزید مسائل و مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، دہشتگردی عروج پر ہے۔ امریکہ کے پیرول پر کام کرنے والی کالعدم تنظیمیں امریکہ کے خلاف نعرہ لگا کر اب عوام کو جھانسہ نہیں دے سکتیں۔ ڈرون حملے قابل مذمت عمل ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈرون حملوں کی آڑ میں مساجد، مزارات، اسکولوں اور بازاروں کو بم دھماکوں سے اڑا دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملوں میں 3500 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ان کی آڑ میں انتہا پسند کالعدم تنظیموں نے 35000 ہزار افراد کو شہید کیا، جن میں فوج کے جوان و افسران اور ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں، کیا یہ شہید امریکن تھے؟ امریکہ کے خلاف نعرہ لگانے والوں نے ملک کی سلامتی و خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا اور آج ایک بار پھر یہی قوتیں اکٹھی ہو رہی ہیں، جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے، آج پاکستان کو نقصان پہنچانے کیلئے بیرونی قوتوں کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور اسلام کے تشخص کو خراب کر کے پیش کر رہے ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس کا کہنا ہے کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں، افغان فورسز طالبان کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کیساتھ تعلقات ہیں۔امریکی فوج کے ایک آفیسر نے امریکہ کے افغان مشن کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان میں جاری نام نہاد جنگ سے متعلق امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس جو افغانستان میں ایک سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں انہوں نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور امریکی مشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی مسلح افواج کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈیوس نے کہا کہ میں نے امریکی فوجی قیادت کی طرف سے افغانستان میں زمینی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیانات نہیں دیکھے کہ جس سے اصل تصویر سامنے آتی ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سینیٹرز جنگ کے اصل حقائق کی پردہ پوشی کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں اتحادی افواج کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ 
انہوں نے کہا کہ ہر ایک سطح پر ناکامی دیکھی ہے۔ ان کے بقول ہمارے مزید کتنے فوجی اس مشن میں ہلاک ہونگے یہ کامیابی نہیں جبکہ ہماری فوجی قیادت سات سالوں سے زائد عرصہ سے امید افزاء بیانات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ملک کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے افغان فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔

خوشاب میں معززین سے گفتگو کرتے ہوئے خیرالعمل فاؤنڈیشن کے انچارچ کا کہنا تھا کہ انقلاب اسلامی ایران، انقلاب امام زمان علیہ سلام کا مقدمہ ہے جو پوری دینا کے محرومین و مظلومین کے لیے ایک امید و آرزو ہے جسے قائد انقلاب اسلامی سید روح اللہ الخمینی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی عارفانہ، شجاعانہ جدوجہد، الہٰی نصرت و تائید اور عوامی حمایت کے زریعے شرمندہ تعبیر کیا۔مجلس وحدت مسلمین کے زیر انتظام خوشاب میں مسجد امام باقر علیہ السلام کی تعمیراتی کام کے معائنے کے موقع پر علاقے کے معززین سے گفتگو کرتے ہوئے خیر العمل فاﺅنڈیشن کے انچارچ اور مرکزی سیکرٹری ویلفیئر نثار علی فیضی نے کہا کہ آج عالم اسلام میں بیداری کی جو لہر ہے و ہ انقلاب اسلامی کا ہی ثمر ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجلس وحدت مسلمین بھی پاکستان میں انقلاب کی خوشبو اور آفاقی پیغام کو لیکر معاشرے میں سرگرم عمل ہے تاکہ پاکستان سے بھی بوڑھے استعمار کو اسکے ناپاک منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ ڈال کر اس مادر وطن سے نکال باہر کر دیا جائے۔ تاکہ یہ وطن جو قائد اعظم محمد علی جناح کی کاوشوں اور علامہ اقبال کے خواب کی تعبیر ہے اسے لا الہ الا للہ کا مرکز بنایا جا سکے۔  نثار فیضی کا کہنا تھا کہ عوام کی بے لوث خدمت اور اسلام کو نجات دہندہ سمجھ کر ہی ہم موجودہ مسائل سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ نثار فیضی نے بتایا کہ مجلس وحدت مسلمین کے شعبہ ویلفیئر کے زیر اہتمام اس وقت پورے ملک میں سیلاب زدہ علاقوں میں مکانوں کی تعمیر کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے جس کا افتتاح مجلس کے قائدین جلد ہی ان علاقوں کے دورے کے دوران کریں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ خوشاب میں زیر تعمیر مسجد کی بنیادوں کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ مرکزی سیکرٹری ویلفیئر نے اہل علاقہ سے کام کے معیار اور رفتار کے بارے میں معلومات لیں جس پر لوگوں نے اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے علاقے میں ان فلاحی منصوبوں کے اجراء پر مجلس کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ دورے میں خیر العمل فاﺅنڈیشن کے ایگزیکٹو ممبران بابر زیدی اور مسرور نقوی بھی ہمراہ تھے۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا تاریخ اسلام کےحوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نوروجودکی خلقت ایک روایت کی بنیاد پرحضرت آدم (ع) کی خلقت سے ۹لاکھ برس پہلے  ہوئی اوردوسری روایت کے مطابق۴۔ ۵لاکھ سال قبل ہوئی تھی، آنحضور (ص) کا نور اقدس اصلاب طاہرہ، اور ارحام مطہرہ میں ہوتا ہواجب صلب جناب عبداللہ بن عبدالمطلب تک پہنچاتوآپ کاظہوروشہود انسانی شکل میں بطن جناب ” آمنہ بنت وہب” سے مکہ معظمہ میں ظاہرہوا۔ آنحضور (ص)کی ولادت باسعادت کے موقع پر حیرت انگیز واقعات رونما ہوئے، آپ (ص)کی والدہ ماجدہ کو بارحمل محسوس نہیں ہوا اور وہ آپ کی ولادت کے وقت کثافتون سے پاک تھیں، آپ مختون اورناف بریدہ پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کے موقع پرآپ کے جسم سے ایک ایسانورساطع ہواجس سے ساری دنیاروشن ہوگئی، آپ نے پیداہوتے ہی دونوں ہاتھوں کوزمین پرٹیک کرسجدہ خالق اداکیا۔ پھرآسمان کی طرف سربلندکرکے تکبیر کہی اورلاالہ الااللہ انا رسول اللہ زبان پرجاری کیا۔ ابن واضح المتوفی ۲۹۲ھ کی روایت کے مطابق شیطان کورجم کیاگیااوراس کاآسمان پرجانابندہوگیا، ستارے مسلسل ٹوٹنے لگے پوری دنیامیں ایسازلزلہ آیاکہ دنیاکے تمام بتکدےاوردیگر غیراللہ کی عبادت گاہیں منہدم ہوگئییں، جادواورکہانت کے ماہراپنی عقلیں کھوبیٹھے اوران کے موکل محبوس ہوگئے ایسے ستارے آسمان پرنکل آئے جنہیں کبھی کسی نے دیکھانہ تھا۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی وہ خشک ہوگئی ۔ وادی سماوہ جوشام میں ہے اورہزارسال سے خشک پڑی تھی اس میں پانی جاری ہوگیا، دجلہ میں اس قدرطغیانی ہوئی کہ اس کاپانی تمام علاقوں میں پھیل گیا محل کسری میں پانی بھر گیااورایسازلزلہ آیاکہ ایوان کسری کے ۱۴کنگرے زمین پرگرپڑے اورطاق کسری شگافتہ ہوگیا، اورفارس کی وہ آگ جوایک ہزارسال سے مسلسل روشن تھی، فورا بجھ گئی۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کو تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا پیکر بنا کر بھیجا وہ کائنات کے لئےرحمۃ للعالمین اور عباداللہ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں آنحضور نے بشریت کی تعلیم و تربیت کے لئے بہت مشقتیں اور سختیاں برداشت کیں اور انھوں نے اپنے عمل کے ذریعہ عرب کے جاہل ماحول میں انسانیت کی شمعیں روشن کیں اور دشمنوں سے اپنی صداقت اور امانت کا لوہا منوایا اور معاشرے میں صبر و استقامت اور اخلاق و نیکی کے پھول لگائے۔ پیغمبر اکر کی سیرت آج بھی مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہے

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اسلام کے چھٹے جانشین اور آسمان امامت و ولایت کےچھٹے درخشاں ستارے ہیں آّپ 17 ربیع الاول ۸۳ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں۔ تاریخاسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  ۱۷/ ربیع الاول ۸۳ھ مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے امام جعفر صادق (ع) کی ولادت کی تاریخ کوخداوندعالم نے بڑی عزت و عظمت عطا کی ہے احادیث میں ہے کہ اس تاریخ کوروزہ رکھناایک سال کے روزہ کے برابرہے ولادت کے بعدایک دن حضرت امام محمدباقرعلیہ السلام نے فرمایاکہ میرایہ فرزندان چندمخصوص افراد میں سے ہے جن کے وجود سے خدانے بندوں پراحسان فرمایاہے اوریہی میرے بعد میراجانشین ہوگا۔ علامہ مجلسی تحریر کرتے ہیں کہ جب آپ بطن مادرمیں تھے تب کلام فرمایاکرتے تھے ولادت کے بعدآپ نے کلمہ شہادتین زبان پرجاری فرمایاآپ بھی ناف بریدہ اورختنہ شدہ پیداہوئے ہیں آپ تمام نبوتوں کے خلاصہ تھے۔۔ حضرت امام جعفر صادق کااسم گرامی جعفر، آپ کی کنیت ابوعبداللہ ،ابواسماعیل اورآپ کے القاب صادق،صابروفاضل، طاہروغیرہ ہیں علامہ مجلسی رقمطرازہیں کہ آنحضرت نے اپنی ظاہری زندگی میں حضرت امام جعفربن محمد(ع)کولقب صادق سے ملقب فرمایاتھا اوراس کی وجہ بظاہریہ تھی کہ اہل آسمان کے نزدیک آپ کالقب پہلے ہی سے صادق تھا ۔  جعفرکے متعلق علماء کابیان ہے کہ جنت میں جعفرنامی ایک شیرین نہرہے اسی کی مناسبت سے آپ کایہ لقب رکھاگیاہے چونکہ آپ کافیض عام   نہرجاری کی طرح تھا اسی لیے اس لقب سے ملقب ہوئے

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء سے ملاقات میں فرمایا: امت اسلامی کو اتحاد و یکجہتی کی سخت ضرورت ہے اورایرانی عوام نے حضرت امام خمینی (رہ) کی راہ پرگامزن رہ کر اپنے عزم و ارادے کو دشمن پر غالب بنادیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیغمبر اسلام حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے ملک کے بعض اعلی حکام، عوام کے مختلف طبقات ، پچیسویں عالمی وحدت کانفرنس میں شریک مہمانوں اور اسلامی ممالک کے سفراء نے آج صبح رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اس ملاقات میں پیغمبر اسلام (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع)کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور اس دن کو طول تاریخ میں انسانیت کی سب سے بڑي عید قراردیتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اسلام (ص) کی عظیم شخصیت اور ان کے وجود مبارک کے مختلف پہلوؤں سے سبق حاصل کرنے کے ذریعہ امت اسلامی حقیقی عزت ، عظمت ، کرامت اورمعنوی و مادی سعادت  تک پہنچ سکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیغمبر اسلام (ص) کو علم ، امانتداری، عدالت و انصاف ، اخلاق حسنہ، رحمت اور اللہ تعالی کے وعدوں پر اطمینان کا مظہر قراردیتے ہوئے فرمایا: بشریت اپنی زندگی میں تمام مادی پیشرفتوں اور تبدیلیوں کے باوجود ہمیشہ طول تاریخ میں ان اعلی اقدار اور صفات کے پیچھے رہی ہےاور آج امت اسلامی کو ان خصوصیات کی دوسروں سے بہت زيادہ ضرورت ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے درمیان ایکدوسرے کے ساتھ  صبر و تحمل اور برادرانہ رفتار پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد اور اطمینان امت اسلامی کے لئے آج ایک اور ضرورت ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے وعدہ کیا ہے کہ دباؤ کے مقابلے میں مجاہدت ، تلاش و کوشش ، استقامت اور اسی طرح دنیاوی شہوات اور مال و مقام کے مقابلے میں پائداری کے ذریعہ انسان  ہدف اور مقصد تک پہنچتا ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام (ص)کی مدینہ میں دس سالہ حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر چہ اس حکومت کی عمر مختصر تھی لیکن اس کی ایسی بنیاد رکھی گئی جو طویل صدیوں سے بشریت کی مادی و معنوی  ترقی و پیشرفت اور علم و تمدن کے لئے بلند اور روشن مینار رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اتحاد و یکجہتی کو امت اسلامی کی ایک اور اہم ضرورت قراردیا اور علاقہ میں عوامی انقلاب اور قوموں کی بیداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: علاقہ میں جاری انقلابات ،حالات اور اسی طرح امریکہ کی مسلسل پسپائی ،عقب نشینی اور اسرائيل کی غاصب حکومت کی روز افزوں کمزوری امت اسلامی کے لئے بہترین موقع ہے اور اس موقع سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: بیشک اللہ تعالی کے لطف و کرم ،امت اسلامی کی ہمت،، ممتاز علمی ماہرین ، سیاسی اور دینی شخصیات کے تعاون سے یہ تحریک جاری رہےگی اور امت اسلامی اپنی عزت و عظمت کی بلندی تک ایک بار پھر پہنچ جائےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادف (ع) کی ولادت باسعادت اور انقلاب اسلامی کے تقارن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ انقلاب، پیغمبر اسلام (ص) کی تاریخ میں عظیم حرکت کے ثمرات میں سے ہے اور انقلاب اسلامی در حقیقت اسلام کے لئے حیات نو ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: جس دور میں تسلط پسند طاقتیں یہ تصور کرتی تھیں کہ انھوں نے اپنے تسلط سے اسلام اور معنویت کی پیشرفت کی تمام راہیں ختم کردیں  ہیں  تو اچانک و ناگہاں  انقلاب اسلامی کی تاریخی  ، پائدار اور عظيم صدا بلند ہوئی جس کی وجہ سے دشمن وحشت میں پڑ گئے اور آگاہ و بابصیرت انسانوں اور دوستوں کی امیدوں میں اضآفہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کی آواز کو خاموش کرنے کے لئےتسلط پسند اور سامراجی طاقتوں کی پیچیدہ اور مختلف سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:  دشمن کی تمام سازشوں اور دباؤ کے باوجود، امام خمینی (رہ) کی رہبری کی برکت اور ایرانی قوم کی استقامت کی وجہ سے انقلاب اسلامی باقی رہا، انقلاب کو فروغ ملا اور انقلاب کی طاقت و قدرت میں روز افزوں اضافہ ہوگیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے امام خمینی (رہ) کے معین کردہ اہداف کی جانب انقلاب کی مستمر حرکت پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم حضرت امام (رہ) کی راہ پر وفاداری ، استقامت اور مشکلات کو برداشت کرکے اپنے عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن  کی سازش پر غالب ہوگئی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے انقلاب اسلامی کے روز افزوں فروغ اور استحکام کو اسلام اور پیغمبر اسلام (ص)کی عظیم حرکت کا ثمرہ قراردیتے ہوئے فرمایا: گذشتہ 33 برسوں میں ایرانی قوم کی جد وجہد، تلاش و کوشش ، تحرک، استقامت اور مجاہدت ایک گرانقدر تجربہ اور عبرت ہےجو امت اسلامی اور قوموں کی نگآہوں کے سامنے ایک بورڈ کے مانند ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں صدر احمدی نژاد نےاپنے خطاب میں پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) اور حضرت امام جعفر صادق (ع) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے مبارک باد پیش کی اور تاریخ میں تمام حریت پسند تحریکوں اور اصلاح پسند حرکتوں منجملہ انقلاب اسلامی کو  اللہ تعالی کے انبیاء (ع) بالخصوص خآتم النبیین (ص) کی عظيم  تحریک کا مظہر قراردیتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام (ص) توحید کا علم بلند کرنے، حقیقی اقدار کی ترویج، ظلم و جور ، جہل اوربرائیوں کو دور کرنے،اور اخلاق و عدالت کی حاکمیت قائم کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور انقلاب اسلامی ایران در حقیقت اسی حرکت کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ صدر احمدی نژاد نے علاقہ میں جاری حالیہ تحریکوں کو بھی پیغمبر اسلام (ص) کی عظيم تحریک کی کڑي قراردیتے ہوئے کہا:  علاقہ کے حالیہ حالات سرعت کے ساتھ ایک عظيم انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوجائیں گے،جس کی بدولت دنیا پر توحید کی حکومت قائم ہوجائے گی اور دنیا ،ظالموں اور صہیوینوں کے شر اور مصیبت سے محفوظ ہوجائےگی ۔ اس ملاقات کے اختتام میں 25ویں عالمی وحدت کانفرنس کے غیر ملکی مہمانوں  نے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے ساتھ قریب سے گفتگو اور ملاقات کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ایران علاقائی ممالک کے حالات میں مداخلت نہیں کرتا بحرین میں اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ ایران اسرائیل کے خلاف ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران کیا ۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نماز جمعہ کے خطبوں میں بحرین میں ایران کی مداخلت کے الزام کے جواب میں کہا ،ایران اسرائیل کے خلاف حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتا ہے اور دونوں تنظیموں نے 33 روزہ جنگ اور 22 روزہ جنگ میں اسرائیل کے خلاف نمایاں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد بھی ایران ہراس قوم ،ملک اور ہر گروہ کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہے جو اسرائیل کے خلاف نبرد آزما ہو۔ رہبر معظم نے بحرین کے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ایران بحرین کے معاملے میں مداخلت نہیں کرتا اور اگر ایران کی مداخلت ہوتی تو آج بحرین کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہاایران نے گذشتہ 32 برسوں میں مختلف چیلنجوں کا مقابلہ اور ان پر غلبہ حاصل کیا ہے اور اسی طرح ایران نے گذشتہ برسوں میں علم و پیشرفت کی سمت خاطر خواہ اور قابل اطمینان پیشرفت حاصل کی ہے اور ایران کی علمی پیشرفت سے دشمن سخت پریشان ہے اور اسی لئے اس نے ایران کے خلاف اپنی سازشوں میں اضافہ کردیا ہے

تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر احمدی نژادکے خطاب سے عالمی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز ہوگیا ہے اس کانفرنس میں 50 اسلامی ممالک کے نمائندے شریک ہیں اور یہ کانفرنس پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے منعقد کی جا رہی ہے اورتین دن تک جاری رہیگی۔ کانفرنس میں تقریب مذاہب کونسل کی بیس سالہ کارکردگی ، علاقہ میں جاری اسلامی بیداری اور اسلامی بیداری کی پشت پناہی کے با حوالے سے غور و خوض کیا جائیگا۔ عالمی اسلامیوحدت کانفرنس ہر سال پندرہ تا سترہ ربیع الاول منعقد کی جاتی ہے۔ عالمی اسلامی وحدت کانفرنس میں کویت، امریکہ،سعودی عرب، آذربائیجان،سینیگال،انگلینڈ ، ترکی، عراق، انڈونیشیا، اردن ، گامبیا، قطر، سویڈن، الجزائر، سوڈان، افغانستان، مصر، لبنان، ہندوستان، ڈنمارک، چین، فرانس،، روس، یمن اور دیگر ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔

غیرقانونی و غیر اخلاقی پالیسیوں کے باعث پوری دنیا میں امریکہ کی ساکھ میں منفی تاثر کا اضافہ ہوا، امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، کئی محاذوں پر ایران سے منہ کی کھانا پڑیں۔سال 2011 دنیا کیلئے تبدیلیوں کا سال ثابت ہوا، عرب ممالک میں ہونیوالے مظاہروں کے باعث مصر کے صدر حسنی مبارک، لبیا کے معمر قذافی اور تیونس کے علی زین العابدین کو اقتدار چھوڑنا پڑا جبکہ مختلف ممالک کے 90 سے زائد شہروں میں سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف وال اسٹریٹ تحریک کے نام سے مظاہرے سال بھر جاری رہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق 2 جنوری 2011 کو ایران نے جاسوسی کرنے والے 2 امریکی ڈرون مار گرائے، 9 جنوری کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس امریکی جہاز جاپانی سمندری حدود میں تعینات کر دیا گیا، 9 جنوری کو ہی سوڈان کی تقسیم کیلئے شہریوں نے ریفرنڈم کے ذریعے نیا ملک بنانے کا فیصلہ سنایا، 16 جنوری کو تیونس میں عبوری صدر نے حلف اٹھایا۔  مصر میں 40 لاکھ افراد نے 2 فروری کو اقتدار چھوڑنے کیلئے صدر حسنی مبارک کے خلاف تاریخی مظاہرہ کیا، 11 فروری کو حسنی مبارک مستعفی ہوئے اور اقتدار فوج کے حوالے کیا، 22 فروری کو لبیا کے صدر معمر قذافی نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا، 10 مارچ کو جاپان میں زلزلے اور سونامی سے شدید تباہی آئی اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، 14 مارچ کو تیسرے ری ایکٹر میں دھماکا ہوا ہزاروں لاشیں برآمد ہوئی جبکہ جاپان میں زلزلے سے تباہیوں اور ایٹمی تابکاری کا سلسلہ 20 مارچ تک جاری رہا، یکم اپریل کو بھارت کی آبادی ایک ارب 21 کروڑ تک پہنچ گئی جبکہ رواں سال دنیا کی آبادی 7 ارب سے تجاوز کر گئی۔  برطانیہ کے شہزادے ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی 29 اپریل کو ہوئی جسے دنیا بھر میں ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست دکھایا گیا، 2 مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے ذریعے اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی، 15 مئی کو آئی ایم ایف کا سربراہ ڈومینک اسٹراس ہوٹل ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا، 31 مئی کو یوکرائن میں مقابلہ حسن میں حصہ لینے کی وجہ سے 19 سالہ مسلم لڑکی کاتیہ کورن کو سنگسار کیا گیا۔ بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے کو 23 جون کو عدالت نے 6 سال قید کی سزا سنائی، 27 جون کو عالمی عدالت نے لبیا کے صدر معمر قذافی اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے، 28 جون کو کرسٹائن لاگارڈ آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ بن گئی، 9 جولائی جنوبی سوڈان کے نام سے ایک نیا ملک بنایا گیا، 13 جولائی کو بھارتی شہر ممبئی میں 3 بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔  ایران نے ایک بار پھر جاسوسی کرنے والے امریکی ڈورن کو 20 جولائی کو مار گرایا، 29 جولائی کو ترکی کے 3 فوجی سربراہوں کو مستعفی کیا گیا، یکم اگست کو دنیا بھر سے 25 لاکھ زائرین حج ادا کرنے کیلئے مدینہ پہنچے، 3 اگست کو حسنی مبارک لوہے کے پنجرے میں عدالت پیش ہوئے، 7 اگست کو لندن میں پولیس کے خلاف ہونے والے مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل ہوئے، 22 اگست کو لبیا کے صدر معمر قذافی کے 2 بیٹے گرفتار کئے گئے، 4 ستمبر کو 4 لاکھ اسرائیلی شہری مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، 13 ستمبر کو افغانستان میں امریکی سفارتخانے اور نیٹو ہیڈکوارٹر پر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ سپین میں 16 ستمبر کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف 3 لاکھ لوگوں نے احتجاج کیا، 20 ستمبر کو سابق افغان صدر برہان الدین ربانی خودکش حملے میں ہلاک ہوئے، 5 اکتوبر کو بھارت نے دنیا کا سستا ترین ٹیبلیٹ کمپیوٹر متعارف کرایا۔  15 اکتوبر کو دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہرے کئے، 20 اکتوبر کو لبیا کے صدر معمر قذافی کی ہلاکت سے لبیا پر 42 سالہ حکمرانی کا دور ختم ہوا۔ 27 اکتوبر کو یمن میں پہلی بار پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، 4 نومبر کو غزہ جانے والے امدادی جہاز پر اسرائیلی فوجیوں کا حملہ ہوا، 25 نومبر کو ایران میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے 12 جاسوس گرفتار کئے گئے، 4 دسمبر کو ایک بار پھر ایران نے امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا، 14 دسمبر کو یہودیوں نے 700 سال پرانی مسجد شہید کرنے کی کوشش کی اور 18 دسمبر کو عراق میں 9 سالہ امریکی جنگ کا خاتمہ ہوا اور امریکی فوجیوں کا آخری دستہ بغداد سے روانہ ہوا۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے فوجی سپاہیوں میں خودکشی اور جنسی تشدد کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2011ء میں 164 فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس میں سے 6 جنسی تشدد کے واقعات میں ذمہ داروں نے شراب نوشی کی ہوئی تھی۔ جنسی تشدد کے زیادہ تر واقعات خاتون فوجی اہلکاروں کے خلاف وقوع پذیر ہوئے۔

سعودی عرب کی منحوس وہابی حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول (ص) کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں العالم کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب کی منحوس وہابی(دشمن خدا،دشمن رسول اور دشمن دین اسلام) حکومت سے منسلک سلفی وہابیوں نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے جس کے بعد مدینہ منورہ میں حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آل سعود حکومت سے وابستہ جرائم پیشہ عناصر نے جنت البقیع میں آل رسول (ص) ، اصحاب رسول (ص) اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔ سعودی درندوں نے جنت البقیع میں آج شہادت رسول اللہ اور امام حسن مجتبٰی علیہ اسلام کی مناسبت سے تعزیت کے لیے جنت البقیع آنے والے زائرین کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک کرتے ہوئے انھیں جنت البقیع سے باہر نکالنے کی کوشش کی ، آل رسول (ص) و اصحاب رسول اور ازواج رسول کی قبروں کی بے حرمتی کے بعد مدینہ منورہ  کے حالات سخت کشیدہ ہوگئے ہیں وہابیوں کے علاوہ شیعہ اور سنی مسلمانوں میں مذہبی سعودی پولیس کے اس وحشیانہ اقدام پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

سمندروں کے اندر کئی کلومیٹر کی گہرائیوں میں موجود آتش فشانی دہانوں میں زندگی کی شکلوں کا پتہ چلا ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ بات تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں بغیر آنکھوں والے جھینگے اور سفید شکنجوں والے چھوٹے جاندار سمندری مخلوق کی ان چند قسموں میں شامل ہیں جو معدنیات سے بھرپور پانی میں 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی قائم و دائم ہیں۔ ان دہانوں کے گرد زندگی کا سراغ کیمین جزائر کے جنوب میں Cayman Trough کہلانے والے علاقے میں بحیرہ کیریبیئن کی تہہ میں ملا ہے۔ سمندر کی سطح سے پانچ کلومیٹر نیچے واقع یہ جگہ دنیا کے سب سے گہرے ’سیاہ دھواں اگلنے والے‘ دہانوں کا مرکز ہے۔سن 2010ء میں سر انجام دی جانے والی ایک مہم کے دوران برطانیہ کے National Oceanography Centre کے  میرین جیو کیمسٹ Doug Connelly اور University of Southampton کے ماہر حیاتیات جون کوپلے نے اس جگہ کو چھاننے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی ایک آبدوز استعمال کی۔ محققین نے قریب واقع ماؤنٹ ڈینٹ میں ماضی میں نہ دریافت ہونے والے آتش فشانی دہانوں کا بھی کھوج لگایا۔ ماؤنٹ ڈینٹ پہاڑی سلسلہ سمندر کی تہہ سے شروع ہو کر تین کلومیٹر تک اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ Connelly نے ایک بیان میں کہا: ’’ماؤنٹ ڈینٹ پر سیاہ دھواں اگلنے والے دہانے دریافت کرنا بالکل حیران کن تجربہ تھا۔ اس علاقے میں ماضی میں اس طرح کے گرم اور تیزابیت والے دہانے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں موجود آتش فشاں کے دہانے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آبدوز پر نصب کیمروں سے کھینچی گئی تصویروں میں انتہائی زرد رنگ کے جھینگوں کا سراغ ملا جن کی آنکھوں کے بجائے پشت پر روشنی کو محسوس کرنے والے اعضاء تھے تاکہ وہ سمندر کی گہرائیوں میں انتہائی مدہم روشنی میں راستہ تلاش کر سکیں۔ اس سے ملتی جلتی ایک نوع چار ہزار کلومیٹر دور بحر اوقیانوس کے وسط میں بھی پائی گئی ہیں۔کوپلے نے کہا: ’’ان دہانوں کے گرد پائی جانے والی مخلوق پر تحقیق اور ان کا دنیا کے دیگر آبی دہانوں میں پائی جانے والی انواع کا موازنہ کرنے سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ جانور کس طرح گہرے سمندروں میں منتشر اور ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ ماؤنٹ ڈینٹ کے دہانوں میں جھینگے کی ایک اور قسم کے علاوہ سانپ کی شکل کی ایک مچھلی کا بھی سراغ ملا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہیں۔

چینی حکام نے ملک میں شدید خشک سالی کے باعث بھوک کے ہاتھوں ہلاکت کے خطرے سے دوچار لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے خوراک گرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ سی میں پویانگ جھیل ملک میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اور وہاں ہر سال سردیوں میں دیگر علاقوں اور ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے لاکھوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر بہت کم بارشوں کی وجہ سے یہ جھیل بڑی تیزی سے خشک ہوتی جا رہی ہے۔ پویانگ جھیل میں اب ایسی مچھلیاں، آبی جڑی بوٹیاں اور پانی میں تیرتے ہوئے plankton کہلانے والے چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت کم ہو چکے ہیں جن پر نقل مکانی کرنے والے ایسے لاکھوں پرندے زیادہ تر گزارہ کرتے ہیں۔ پویانگ جھیل ایک محفوظ قدرتی خطہ بھی ہے۔اس جھیل اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں جانوروں اور نباتات کے تحفظ کے محکمے کے سربراہ ژاؤ جِن شَینگ کے بقول پچھلے سال نومبر سے دوسرے ملکوں اور خطوں سے نقل مکانی کر کے وہاں آنے والے پرندوں کو زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہیں ہے۔ عام طور پر یہ پرندے مارچ کے مہینے تک وہاں قیام کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی گرمائی منزلوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق علاقائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پرندوں کو پویانگ جھیل کے ماحولیاتی نظام میں قیام کے دوران بھوک کے ہاتھو‌ں مرنے سے بچانے کے لیے اب انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک مہیا کی جائے گی۔حکام کے مطابق اس مقصد کے تحت ان لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے جھینگے، مکئی کے دانے اور ان کی پسندیدہ غذا کے طور پر دیگر اشیاء پھینکنے کا سلسلہ 23 جنوری سے پہلے شروع کر دیا جائے گا، جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ پویانگ جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے نگران محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار وُو ہیپِنگ نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس جھیل کا رخ کرنے والے لاکھوں پرندوں کو مقامی حکام کی طرف سے خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔ لیکن کئی سال پہلے ایسا شدید برفانی طوفانوں کے دنوں میں کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ تاہم اس اقدام کی ضرورت مسلسل خشک سالی کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ جیانگ سی میں حیوانی اور نباتاتی حیات کے تحفظ کے محکمے کا کہنا ہے کہ پویانگ جھیل میں پانی اتنا کم ہو چکا ہے کہ اب وہاں کا رخ کرنے والے لاکھوں موسمی پرندوں میں سے بہت سے اس جھیل کے نواح میں واقع نو دوسری چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا رخ بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے ان کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک کی فراہمی اور بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ پویانگ کی چینی جھیل کا مجموعی رقبہ پچھلے ہفتے تک سکڑ کو صرف 183 مربع کلومیٹر یا 71 مربع میل رہ گیا تھا۔ معمول کی بارشوں کے بعد عام طور پر تازہ پانی کی اس جھیل کا کُل رقبہ ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے، جو ایشیائی ملک سنگاپور کے مجموعی رقبے کے چھ گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

کراچی : العباس اسکاؤٹس گروپ کے سرپرست اعلیٰ سید ایاز امام رضوی کی ہدایت پر چہلم امام حسین علیہ اسلام کے موقع پر اتوار 20 صفر کو نشتر پارک سے نکلنے والے مرکزی ماتمی جلوس کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے مرکزی طبی امدادی کیمپ نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ پر لگایا جائے گا جس میں ماہر ڈاکٹرز و نرسنگ عملہ اور اسکاؤٹس موجود ہوں گے۔ اسکاؤٹس لیڈر عابد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 

امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نیتجے میں دنیا کے پہلے بندر کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بندر کی پیدائش چھ مختلف جنین کے خلیات کو ملانے سے ممکن ہوئی ہے۔ امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بندر کی پیدائش کا اعلان نئے سال کے پہلے ہفتے کے دوران پانچ جنوری کو کیا۔  اس پیش رفت کو طبی تحقیق میں ممکنہ بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک اس نوعیت کے تحقیق کے لیے بنیادی طور پر چوہے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ لیبارٹری میں دو یا اس سے زائد ابتدائی جنین کو ملانے کے نتیجے میں ایک عجیب الخلقت جانور وجود میں آتا تھا۔ سائنسدان بہت عرصہ پہلے ہی جینیاتی تبدیلیوں کے حامل چوہے کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان چوہوں میں بعض جینز کم رکھے جاتے تھے تاکہ بیماریوں اور طریقہ علاج کا مطالعہ کیا جا سکے جن میں موٹاپا، امراض دِل، بے چینی، ذیابیطس اور پارکنسن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔اس کے برعکس دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات ماضی میں ناکام رہے تھے، لیکن امریکہ کی مغربی ریاست اوریگون میں سائنسدان جینیاتی چوہے کی پیدائش کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار کو بدلتے ہوئے بندر کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بریک تھرو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے انتہائی ابتدائی مرحلے کے جنین کے خلیوں کو آپس میں ملایا، جس کا اگلا مرحلہ زندگی کو ممکن بنانے والے خلیوں کی نمو کے ساتھ پورے جانور کے وجود کی تشکیل تھی۔ قبل ازیں جینیاتی چوہے جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے ذریعے بنائے گئے تھے، جنہیں لیبارٹری میں پروان چڑھاتے ہوئے چوہے کے جنین میں بدلا گیا، لیکن یہ طریقہ کار جینیاتی بندر کی پیدائش کے لیے کامیاب نہیں رہا تھا۔ کیونکہ چوہوں کے برعکس بندروں کے جنین، جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے انضمام کے لیے موزوں نہیں۔ اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں قائم اوریگون نیشنل پرائمیٹ ریسرچ سینٹر کے محققِ اعلیٰ شوکھرات میٹالیپو کہتے ہیں کہ جینیاتی بندروں کی پیدائش چوہوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ان کے اس تجربے کے نتیجے میں تین صحت مند جینیاتی بندر پیدا ہوئے ہیں، جنہیں انہوں نے روکُو، ہیکس اور کیمیرو کے نام دیے ہیں۔ میٹالیپو کہتے ہیں کہ خلیے باہم ملے رہتے ہیں اور ٹشوز اور اعضا کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سائنس کے لیے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ یہ تحقیق بیس جنوری کو جاری ہونے والے سائنسی جریدے ’سیل‘ کی اشاعت سے پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے شمالی بھارت کا سرخ منہ والا بندر استعمال کیا گیا جسے سائنسدان ایچ آئی وی / ایڈز کی دواؤں، پاگل کتے کے کاٹے کے لیے تحقیقی ویکسین، چیچک اور پولیو کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ روس اور امریکہ ان بندروں کو تجرباتی طور پر خلائی مشنز کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

قائد انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ ای نے پير کي صبح تہران ميں قم کے افاضل اور عوام کے ايک اجتماع سے خطاب ميں اسلامي نظام کي مسلسل کاميابيوں ميں صبر و بصيرت کے بنيادي کردار کا حوالہ ديتے ہوئے دشمنوں کي سازشوں کي ناکامي کي وجوہات پر روشني ڈالي ـ قائد انقلاب اسلامي نے دشمنوں کي سازشوں کي ناکامي اور ملت ايران کي قوت و طاقت کے دو بنيادي عناصر کي حيثيت سے اصولوں پر اسلامي نظام کي استقامت اور ميدان عمل ميں عوام کي دانشمندانہ موجودگي کا نام ليا اور فرمايا کہ سامراجي محاذ کے خيالات اور اندازوں کے برخلاف اسلامي جمہوري نظام آج نہ صرف يہ کہ شعب ابو طالب والے حالات ميں نہيں ہے بلکہ بدر و خيبر والي پوزيشن ميں پہنچ چکا ہےـقائد انقلاب اسلامي نے صبر اور بصيرت کو قوموں کي کاميابيوں کا سلسلہ جاري رہنے ميں دو موثر عوامل قرار ديا اور فرمايا کہ ملت ايران نے صبر و بصيرت کي بنياد پر عظيم کاميابياں حاصل کرنے کا تجربہ دنيا کي اقوام کے سامنے پيش کر ديا ہےـحضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے بصيرت و صبر کي تقويت اور کفر و استکبار کے محاذ کي تسلط پسندي کے مقابلے ميں ملت ايران کي سلسلہ وار کاميابيوں کو دو ديگر اہم عناصر پر منحصر قرار ديتے ہوئے فرمايا کہ اصولوں پر اسلامي نظام کي استقامت اور ميدان ميں عوام کي دانشمندانہ موجودگي دشمنوں کي ہر سازش اور مکر و حيلے کو ناکام بنا دے گي ـقائد انقلا اسلامي نے فرمايا کہ استکباري محاذ عوام کو مايوس اور حکام کے ارادوں کو متزلزل کرنے کے لئے ہر حربے اور چال کا استعمال کرتا ہےـآپ نے فرمايا کہ مغربي حکام نے بارہا يہ بات دوہرائي ہے کہ پابنديوں اور عوام پر دباؤ ڈالنے کا مقصد انہيں تھکا کر ميدان سے باہر نکال دينا اور حکام کو اپني پاليسيوں پر نظر ثاني کرنے پر مجبور کرنا ہے ليکن وہ سخت بھول ميں ہيں اور انہيں يہ ہدف ہرگز حاصل ہونے والا نہيں ہے، کيونکہ ہميشہ غلط اندازے لگانے والے يہ روسياہ عناصر اس خيال ميں رہتے ہيں کہ اسلامي نظام شعب ابو طالب والے حالات سے دوچار ہے جبکہ ملت ايران اس وقت بدر و خيبر کي پوزيشن ميں پہنچ چکي ہےـقائد انقلاب اسلامي نے بلنديوں کي جانب ملت ايران کے سفر کے سلسلے ميں فرمايا کہ اس ميں کوئي وقفہ پيدا نہيں ہو سکتا ـ آپ نے فرمايا کہ دشمن ايسے عالم ميں عوام اور حکام کے عزم و ارادے ميں تزلزل پيدا کرنا چاہتا ہے کہ جب اسلامي جمہوريہ ايران کي قوت و توانائي اس مقام پر ہے جس کا بيس يا تيس سال پہلے تصور بھي نہيں کيا جا سکتا تھا دوسري طرف استکبار کے محاذ کي ظاہري ہيبت بھي ماضي کي نسبت اس وقت ختم ہو چکي ہےـ قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ دين اور سعادت دنيا و آخرت کے صراط الہي پر گامزن رہنے کا حکام کا ارادہ مستحکم ہے اور عوام بھي ثابت قدمي کے ساتھ اس راہ پر آگے بڑھ رہے ہيں ـ  قائد انقلاب اسلامي نے انتخابات کو عوامي شراکت کي نمائش کا اہم ميدان قرار ديا اور فرمايا کہ مدتوں پہلے سے کفر و استکبار کے مراکز سے ليکر اس محاذ کے پيادوں تک سب نے وسيع پيمانے پر کوششيں کي ہيں کہ پارليماني انتخابات ميں عوام کا شرکت بہت محدود ہو ليکن اللہ تعالي کے لطف و کرم سے انتخابات ميں عوام کي شرکت دشمن کي کمر توڑ دينے والي ہوگي ـ قائد انقلاب اسلامي نےايران کے پارليماني انتخابات کو دنيا کي تمام مسلم اقوام کے لئے بہت اہم اور موثر قرار ديا اور فرمايا کہ يہي وجہ ہے کہ استکباري محاذ بشمول امريکہ، برطانيہ، صيہونيوں اور ديگر عناصر، سب يہ کوشش کرتے ہيں کہ انتخابات مخدوش بنائيں اور قوموں کي نظر ميں اسے مايوس کن ظاہرکريں ـقائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ ملت ايران انتخابات اور انقلابي رجحان کے لحاظ سے قوموں کے درميان پيش پيش ہے اور تمام قوموں کي نگاہيں ايران کے پارليماني انتخابات پر لگي ہوئي ہيں ــ

عراق کے اسلامی اعلی کونسل کے صدر چهلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے پیدل کربلا کی طرف جانے والے قافلے میں شریک ہو کر ان کے ساتھ کربلا کی طرف روانہ ہو ئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق زائرین حسینی جو نجف اشرف سےکربلا کی طرف پیدل جا رہے تھے عراق کےاسلامی اعلی کونسل کے صدر حجت الاسلام سید عمار حکیم نے ان کے پروگرام میں شرکت کی اور ان کے ھمراه نجف اشرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ اطہر کی طرف کربلا پیدل روانہ ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سید عمار حکیم راستہ میں زائروں اور امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں کی خدمت کرنے والے بعض انجمنوں کے کیمپوں میں جاکران کی حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں کیمپوں میں موجود انجمنوں والے  گرمجوشی سے ان کا استقبال کررہے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس سال بهی خاندان عصمت و طهارت کے چاہنے والے عراق کے تمام گوشہ وکنار اور بعض بیرون ممالک سے اس پروگرام میں شرکت اور اربعین حسینی کی مناسبت سے پیدل کربلا تک سفر کرنے کے لئے نجف اشرف حاضر ہوئے ہیں ۔ ادهرکاظمین کے خطیب جمعہ حجت الاسلام شیخ جلال الدین صغیرکے آفس نے بھی اس سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لئے کربلااورنجف کے درمیان کمبل کے تقسیم کرنے کا انتظام  کیا ہے ۔ان کے اس آفس نے اعلان کیا ہے کہ ایک جدید ہال کا افتتاح کیا گیا ہے کہ جس میں ۴۵۰۰ سے بھی زیادہ امام حسین کے زائرین مقیم ہو سکتے ہیں یہ عمارت کربلا اور نجف کے راستہ میں شہداء کربلا کے عاشقوں اور ان کے غمخواروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔