اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کشیدگی میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے تو پاکستان پر بھی ایٹمی مواد کی پیداوار کو روکنے لئے دباؤ بڑھا رہا ہے، تاہم ایران پر عالمی پابندیاں عائد کر رہا ہے اور ان پابندیوں کو اس لئے ضروری سمجھتا ہے کہ اس طرح ملٹری آپریشن کے بغیر ایران کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھنے سے روک سکتا ہے۔ وہ مغرب میں اپنے اتحادیوں پر مشتمل ایک گروپ تشکیل دے چکا ہے کہ وہ ایران کے خلاف عائد پابندیوں کو عملی جامہ پہنانے میں مدد دیں۔ اس معاملہ کو امریکہ سلامتی کونسل میں بھی لے جانا چاہتا ہے۔ اگرچہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی (IAEA) نے کسی قرارداد کو جو ایران کے خلاف ہو کو فی الحال سلامتی کونسل کے پاس بھجوانے کے عمل کو ملتوی کر دیا ہے، تاکہ دنیا کو کچھ وقت میسر آسکے تاکہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرسکے۔ عالمی ایٹمی ادارے کا اگلا اجلاس مارچ 2012ء میں ہو گا۔  اگرچہ امریکہ ایران کے خلاف ایسی کوششیں تو کر رہا ہے مگر سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ، ایران کے ایٹمی پروگرام کا ہوّا کھڑا کر کے ان سے مال اینٹھنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ پاکستان کو بھی امریکیوں نے یہ سمجھایا کہ یہ پروگرام پاکستان کے خلاف ہے، اس پر پاکستانیوں کا ردعمل معمول کا تھا کہ ایران نے ہمارے پروگرام پر اعتراض نہیں کیا تو ہم ان کے پروگرام پر کیوں اعتراض کریں۔ دوسرے امریکہ پاکستان پر ایٹمی مواد کی پیداوار روکنے پر ایران جیسا دباؤ ڈال رہا ہے تو پاکستان اور ایران دونوں ہی امریکی دباؤ کا شکار ہیں۔ پھر پاکستان کے لئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ ایران کے ایٹمی معاملے میں پڑے اور اپنی اہمیت بڑھائے کیونکہ اس کی سرحدوں کے قریب ایٹمی تنصیبات پر حملہ سے پاکستان متاثر ہو سکتا ہے اور ایٹمی تابکاری کے اثرات پاکستان تک پہنچ کر تباہی مچا سکتے ہیں۔ اسرائیل بار بار یہ دہرا رہا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ ضروری ہو گیا ہے۔ اس سے پاکستان کی سرحدوں کے قریب جنگ چھڑ سکتی ہے، جو ایک ایٹمی ملک کے لئے درست نہیں ہو گا۔ اسرائیل اگر ایران پر حملہ کرتا ہے تو انتہائی شدید ہو گا اور ایران کی کم از کم 200 تنصیبات اس کی زد میں آئیں گی۔ اس سے پہلے ایران کا فضائی دفاعی نظام، میزائل داغنے کے مراکز، ریڈار، مواصلاتی نظام تباہ کیا جائے گا اور پھر جا کر وہ ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکے گا۔ یہ ایک قسم کی مکمل جنگ ہو گی جو پاکستان کا رُخ بھی کر سکتی ہے۔  اسرائیل کب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبول کرتا ہے اور امریکہ کی سریع الحرکت فوج افغانستان میں صرف اسی لئے بیٹھی ہے کہ وہ پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات پر قبضہ جما لے، اگرچہ ان کو بارہا ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اُس کی تاریخ دیکھیں تو اس نے جھوٹا یا سچا ایک اسامہ بن لادن ایبٹ آباد سے نکال کر مار دیا۔ اسی طرح وہ اگر ایران پر حملہ آور ہوتا ہے تو وہ پاکستان پر اسرائیل کے جہازوں کے ذریعے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ اس حملے سے افغانستان بھی بُری طرح متاثر ہو گا بلکہ پورا خطہ جس میں بھارت بھی شامل ہو گا اس کی زد میں آسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اور مسائل پیدا ہو جائیں گے۔  بلوچستان کی علیحدگی کی تحریک کو جلا ملے گی، جو ہمارے اسٹرٹیجک مفادات کے خلاف ہے۔ دوسری طرف اگر ایران پر حملہ ہوتا ہے تو وہ پھر عالمی ایٹمی تنظیم اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدہ سے آزاد ہو گا۔ وہ اپنے تمام ذرائع استعمال کرے گا اور اسرائیل کو تباہ کرنے کی کوشش میں لگ جائے گا۔ اس کا لبنان میں پھیلا ہوا ہاتھ حزب اللہ اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے دنیا میں تیل کی سپلائی روک سکتا ہے، جو دنیا کی مشکلات میں بے پناہ اضافے کا باعث بن جائے گا۔  یہ اسرائیل کو بہت بھاتا ہے، اسرائیلیوں کی تعداد بہت کم ہے، وہ دنیا کی تعداد کم کر کے اپنے آپ کو آبادی کے لحاظ سے اچھے مقام پر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر حملہ ہوا تو پھر ایران کو ایٹمی اسلحہ بنانے کا حق مل جائے گا کہ وہ اپنے دفاع میں یہ کر رہا ہے۔ ضروری ہو گیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر قدم بہ قدم ایک ایسا روڈمیپ تیار کرائے، جس سے عرب بھی ناراض نہ ہوں اور ایران کا وقار بھی مجروح نہ ہو۔ وہ ایران کا اعتماد بھی بحال کر سکتا ہے اور وہ بشمول روس و چین ایران کو ایٹمی چھتری فراہم کر سکتا ہے اور امریکہ مسلمان بھائی عربوں کو لوٹنے کا جو پروگرام بنا رہا ہے اس سے اُن کو بچایا جا سکے۔   ابھی تک عالمی ایٹمی ایجنسی نے ایران کی ایٹمی تنصیبات کے جو انسپیکشن کئے ہیں اُن میں اس نے سختی اور اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاملے کو پیش نظر رکھا ہے اور ایران نے بھی اُن کے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے۔ انہوں نے اس کی تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں ملٹری کا عمل دخل موجود نہیں ہے۔ ایرانی کہتے ہیں کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا ہوّا اسی طرح کا ایک جھوٹا فریب ہے جیسا کہ عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا، عراق پر قبضہ کے بعد بھی کبھی کچھ حاصل نہ ہو سکا، اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی پاکستان کی سرحدوں کے خلاف کوئی جنگ پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ تحریر:نصرت مرزا

Comments are closed.