Archive for the ‘All News’ Category

پیغمبر(ص) اسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے . اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے بیشمار روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ۔
تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
 آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ۔
 جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ، آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں۔ اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت:
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا (ص)کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ پیغمبر اسلام (ص)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مبارک آج تک مخفی ہے جو ان کے خلاف خلیفہ وقت کے ظلم و ستم کا مظہر ہے۔

Advertisements

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے یومِ شہادت دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین وارث زہراء سلام اللہ علیھا حضرت بقیتہ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور پوری امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا    کہ حضرت سیدہ الزھراء سلام اللہ علیھا جنھوں نے ایک بیٹی، شریکہ حیات اور ماں کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری خواتین اپنے اندر حضرت فاطمہ الزھراء جیسی استقامت پیدا کریں اور تربیت اولاد میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوں جن کی مدد سے معاشرے کو ایسے افراد میسر آ سکیں جن کی رگوں میں حریت حسینی لہو بن کے دوڑتی ہو۔انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع جہاں اہلِ بیت رسول و اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے اور اسے عوام الناس کے لئے کھولا جائے۔

مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے گلگت میں مرکزی جامع مسجد امامیہ کو سیل کیے جانے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے کی جانے والی ایسی کاروائیاں امن عمل کو نقصان پہنچائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی اور مرکزی انتظامیہ کو دہشت گردوں اور امن پسند شہریوں میں تمیز کرنی چاہیے۔   سانحہ کوہستان و چلاس کے مرکزی ملزمان کی گرفتاریوں پر حکومت کی طرف سے مصلحت پسندی اور سست روی پر ان کا کہنا تھاکہ حکومت انہیںفوری گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے لا کر قرار واقعی سزا دلوائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرانتظامیہ کرفیو نافذ کر کے نقص امن کے نام پر پرامن محب وطن پاکستانیوں کو گرفتارکر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے خیبر تک شیعہ نسل کشی کے باوجودہم پاکستان کے قانون کا احترام کر رہے ہیںلیکن اس کے باوجود حکومتی رویہ سمجھ سے بالاتر ہے۔علامہ ناصرعباس جعفری نے کہا کہ ہم حکومت کی طرف سے یکطرفہ کیے جانے والے ایسے تمام اقدامات کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیںکہ جامع مسجد امامیہ کو فوری طور پر نمازیوں کے لئے کھول دیا جائے اورمعصوم شہریوں کے خلاف کاروائیاں بند کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں کو پوراکیا جائے۔

کراچي… پاکستان کي فضائي حدود ميں غير قانوني طور پر داخل ہو نے والے غير ملکي فوجي جہاز کو پاکستان ايئر فورس نے  کراچي ايئر پورٹ پر لينڈ کراديا ہے جس کے بعد طيارے کي چيکنگ جا ري ہے،جيو ٹي وي کے نمائندے طارق ابو الحسن کے مطابق فوجي طيارہ بگرام ايئربيس سے يواے اي کے المکتوم ايئرپورٹ جارہاتھا،ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف124اورپروازنمبروي ڈي اے1455ہے.ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹورسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں مذکورہ غيرملکي فوجي مال بردارطيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پرکراچي ميں اتاراگيا جس کي چيکنگ جاري ہے.

ایس یو سی کے زیراہتمام منعقدہ علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی و امن کا درس دیتا ہے، دہشتگردی کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، دہشتگرد انسانیت دشمن درندے ہیں، حکومت سخت ایکشن لے۔شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ “علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں، وہ صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، حکومت دہشتگردی کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لے کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی قوتیں اُمت مسلمہ میں فتنہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں، ایم ایم اے اتحاد اُمت کی طرف اچھا اقدام تھا، مستقبل میں ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے، آمدہ الیکشن میں علماء کرام بھرپور کردار ادا کریں اور متحرک ہو جائیں۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اس موقع پر تحریک جعفریہ پاکستان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ محسن علی نجفی، وزارت حسین نقوی، علامہ شیخ محمد حسین نجفی، علامہ افتخار نقوی، علامہ رمضان توقیر، علامہ افضل حیدری، علامہ تقی نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ ظفر عباس شہانی، علامہ آغا عباس رضوی، علامہ عبدالجلیل نقوی، علامہ امین شہیدی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر میثمی، مفتی کفایت حسین نقوی اور علامہ عارف واحدی، علامہ احسان اتحادی سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔  علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کے دوران مقرریں کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہے، اس کا کسی مذہب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی چاہے بازار میں ہو، سکول میں ہو، تھانہ یا مسجد و امام بارگاہ میں، اس میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوتا ہے اور اسلام کسی ایک انسان کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم سازش کے تحت دہشتگردی کو اسلام سے نتھی کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگرد کی تعریف اتنی ہی کافی ہے کہ وہ صرف اور صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، جن کا کام معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ شرکاء نے ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہے، جبکہ جن دہشتگردوں کو پکڑ کر سزائیں دی جا چکی ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانیت دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں کوئٹہ، گلگت، بلتستان، پارہ چنار، کراچی، پشاور،خانپور سمیت پورے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ غیر ملکی عناصر بھی ملک میں منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں، اس سلسلے میں بھی علماء کرام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اتحاد کا مظاہرہ کریں، کیونکہ جتنی ضرورت اتحاد کی آج ہے اس سے قبل نہ تھی، مقررین نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اتحاد اُمت کی طرف اچھی پیش رفت تھی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مقررین نے تمام مسالک کے باہمی احترام پر بھی زور دیا کہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے کی طرف گامزن ہوا جائے۔  اس موقع پر سیاچن میں دبے فوجی جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ علمائے کرام کے ہزاروں کے اجتماع نے علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قدم بڑھائیں، ہمیں اپنا ہم رکاب پائیں گے، اس موقع پر علماء کرام نے تحریک جعفریہ پاکستان سے حکومت کی طرف سے عائد پابندی اُٹھانے کا بھی پُر زور مطالبہ کیا۔

دہشتگردی کیخلاف منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ کی طرف جانے والی ریلی علامتی مارچ تھا، حکمران ملک میں جاری دہشت گردی کو روکیں ورنہ اگلے مرحلے میں ایسا مارچ کریں گے جس سے حکومتی ایوان ہل جائیں گے، سانحہ کوہستان ہو یا سانحہ چلاس، کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ ہو یا کراچی و پارا چنار میں قتل عام، یہ گھمبیر صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک ایک قتل گاہ ہے، جہاں جنگل کا قانون ہے اور کوئی پرسان حال نہیں، ہم ذمہ داروں پر حجت تمام کر چکے ہیں۔ ایسی سنگین صورتحال میں کسی بڑے اقدام کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا ۔لہذا ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں جا کر حالات کی سنگینی سے آگاہ کریں اور انہیں متحد و بیدار کریں، تاکہ اس ظلم و نا انصافی کے ازالے کیلئے اقدام کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں علمائے کرام کی احتجاجی ریلی سے قبل منعقدہ علماء کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ مکتب تشیع دین اسلام کی سب سے ارفع و اعلٰی تعبیر و تشریح کا نام ہے۔ ہم تمام مکاتب اور مسالک کے احترام کے قائل ہیں اور اُمت مسلمہ کا ایک باوقار اور طاقتور حصہ ہونے کے ناطے اسلام و مسلمین کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر میدان عمل میں ہیں اور دور حاضر میں غیر اسلامی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اصلاح معاشرہ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر جیسے فریضے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے آگاہ علمائے کرام کی بھر پور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ آخر قاتلوں کو کھلی چھٹی کون دے رہا ہے؟ دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟ یہ کہاں پلتے ہیں؟ رول آف لاء کیوں نہیں قائم ہوسکا؟ ان حالات میں ناگزیر ہے کہ قاتلوں کے خلاف بھر پور آپریشن کیا جائے ہم اس حوالے سے ہر باضمیر شخص، ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان سے رابطے کر کے مکمل بریفنگ دی جائے گی۔

ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سب اس پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تمام شیعہ گروہ اور تنظیمیں ملکی وقار اور تشیعُ کی سربلندی کیلئے ایک ہو کر آواز بلندکریں، ملی یکجہتی کا اظہار، وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکتب تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے پیروان ولایت کو ولایت فقیہ کی سرپرستی میں آگے بڑھنا ہو گا، تمام نوجوان علماء کو بزرگ علماء کا احترام کرنا چاہئے اور یہ اُن کا فرض بنتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بزرگ علماء بھی دست شفقت بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کی غلطیوں سے درگزر کریں۔ انہوں نے کہا کہ چار سے سال سے ہم میدان عمل میں ہیں، ہم اس وقت میدان میں آئے جب ملت میں جمود تھا، ملت تشیع کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن آج الحمداللہ ملی بیداری کا سفر شروع ہو چکا ہے، کراچی میں نشتر پارک کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوامی سمندر نے دشمن کو بتا دیا کہ ہم ایک ہیں، علماء کانفرنس میں جس بڑے پن کا مظاہرہ کیا گیا اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اب یہ بیداری عمل آگے تیزی سے بڑھ رہا ہے، تمام علماء کو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں ان افراد پر نظر رکھیں جو ملی اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سلیقے اور کام کرنے کا اختلاف ہو سکتا ہے، یہ اختلاف مدارس میں، علماء میں، ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کی ضد میں کام کر رہا ہے، ملت تشیع کے وقار کی خاطر جس سے جو ہوپا رہا ہے وہ کر رہا ہے۔ علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ تمام علما کو دعوت دی جاتی ہے کہ یکم جولائی کے پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں اور دشمن پر ثابت کریں کہ ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جگہ جمع ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دشمن نے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی اور ہمیں ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہونے کیلئے مختلف ہربے استعمال کئے، لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ یہ قوم ایک بار پھر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلوں کو صاف کرنا ہو گا، کینے اور بغض کو نکال کر ایک دوسرے کیلئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احترام کے رشتہ کو مضبو ط بنانا ہو گا۔ جو لوگ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اُن افراد پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی۔ کچھ ناداں دوستوں کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ان ناداں دوستوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد: ایران نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے کیا ہے جس میں جدید ترین میزائل لانچنگ اور خشکی ، فضا اور سمندر میں فائر پاور دکھائی گئی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان اور ایرانی آرمڈ فورسز کے اتاشی کرنل وجہہ اللہ درویشی ایرانی فورسز کے سالانہ دن کے موقع پر ہونے والے استقبالئے میں میزبان تھے۔ چےئرمین سینیٹ سید نیئر علی بخاری اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کو چےئر مین سینیٹ کے ہمراہ پوڈیم پر بٹھایا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ یورپین ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے نمائندوں کی تعداد بھی مایوس کن حد تک کم تھی۔وفاقی وزراء جو یوں تو تقریبات میں شرکت کے بہت شوقین ہیں وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وزیر سردار الحاج محمد عمر گورگیج اس تقریب میں شریک ہوئے ، انہیں ڈائس پر بٹھایا گیا لیکن اپنی جان پہچان کے لوگوں کو نہ پا کر وہ کچھ بدحواس سے لگ رہے تھے۔مہمان خصوصی کی آمد پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر مہمانوں کی اکثریت سانحہ سیاچن کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آئی ۔ لوگ برف اور چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے جوانوں اور سویلین افراد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ لو گ اس امر پر حیرانی کا اظہار کررہے تھے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پاکستان کو اس جگہ جانے میں 12 دن کا عرصہ لگا اور وہ بھی صرف فضائی جائزہ لے کر واپس آگئے ،وہ برفیلی سطح پر اترے اور نہ ہی انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگوں سے ہاتھ ہی ملایا۔ڈوما پوسٹ جہاں سے وہ واپس آئے ، گیاری اس سے محض 5 منٹ کی دوری پر ہے۔تقریب میں عمان اور شام کے سفراء بھی شریک ہوئے

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

کراچی: پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ سانحہ بنوں جیل حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ انتہا پسند دہشت گرد جب جیل توڑ کر خطرناک قیدیوں کو لے جاسکتے ہیں تو اس کا مقصد ہے کہ دہشت گرد اتنی جدید ٹیکنالوجی رکھتے ہیں کہ وہ پاکستان کے کسی بھی حصے میں جب چاہیں خون کی ہولی کھیل سکتے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف اگر مثبت اقدامات نہ کیے گیے تو یہ پاکستان اور عوام کے لیے مزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔ کراچی، کوئٹہ، گلگت، بلتستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ مثبت سوچ اپنا کر دہشت گردوں کے گرد قانون کے شکنجے کو سخت کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہل سنت پر لاڑکانہ سے آئے ہوئے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے اور دہشت گرد ملک کی سالمیت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ حکومت عوام کو جواب دہ ہے وہ حقائق سامنے لائے کہ بنوں جیل سے راتوں رات دہشت گرد جیل توڑ کر 300 سے زائد دہشت گردوں کو کس طرح بھگا کر لے گئے۔

کراچی : ہم پاکستان کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن حکومت ہماری سرپرستی نہیں کررہی ۔ کوہستان اور چلاس میں ہمارا قتل عام ہورہا ہے اور کوئی شنوائی نہیں ہورہی۔ہمارا بچہ بچہ محب وطن ہے لیکن ہمیں مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے، ہمیں ایک جامع اور مکمل آئینی پیکیج کی ضرورت ہے۔جب سے پاکستان ، ایران اور افغانستان کے تعلقات بہتر ہوئے ہیں تو خطے کے حالات بگڑے ہیں اس صورتحال کا ذمے دار امریکا اور پاکستان کے وہ دشمن ہیں جو نہیں چاہتے کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات مستحکم ہوں۔ گلگت بلتستان سے راولپنڈی اسلام آباد تک 750 کلومیٹر طویل شاہراہ قراقرم کو پاک فوج کے ذریعے مکمل تحفظ دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اسکردو کے باسیوں نے جیو نیوز پر”کیپٹل ٹاک “ میں میزبان حامد میر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔علاقے میں موجود مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب متحد ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ یہاں کو ئی تنازع پیدا ہی نہ ہو۔اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے عالم دین کا کہنا تھا کہ علاقے میں اہل تشیع کی اکثریت ہے لیکن اس کے باوجود ہر موقع پر شیعہ علمائے کرام اور لوگوں کا کردار انتہائی مثالی رہا ہے۔

لندن: مجلس علمائے شیعہ یورپ کے چار رکنی وفد نے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی ہے۔وفد کی قیادت مجلس کے صدر سید علی رضا رضوی نے کی۔ اس موقع پر واجد شمس الحسن نے پاکستان میں ان کی کمیونٹی کے ممبروں کے قتل پر سخت تشویش ظاہر کی۔ وفد نے تین نکاتی سفارشات غور کے لئے حکومت کو پیش کیں۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گلگت میں کرفیو کی پابندیاں ختم کرے۔سازشی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،نشانہ بننے والوں کے اقارب کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ واجد شمس الحسن نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی پابند ہے۔

ڈيرہ غازي خان…ملک بھر ميں دہشت گردي کا لامتناہي سلسلہ حکومتي ناکامي کا کھلا ثبوت ہے جنوبي پنجاب سميت ملک بھر ميں دہشت گردوں کے خلاف آپريشن کياجائے،کوئٹہ کو فوج کے حوالے کرکے پاکستان کيلئے بے پناہ قربانياں دينے والے مظلوم ہزارہ قبيلے کي نسل کشي روکي جائے ،زيارات مقدسہ اور گلگت ببلتستان وپاراچنار جانے والے راستوں کي سيکيورٹي کا خصوصي بندوبست کيا جائے ،درگاہ حضرت سخي سرور?اور ڈيرہ غازي خان ميں چہلم شہدائے کربلا کے جلوس ميں دہشت گردي کے سانحات کے مجرموں کو کيفر کردار تک پہنچايا جائے، دہشت گردي کے خاتمہ کيلئے قائد ملت جعفريہ آغاسيد حامد علي شاہ موسوي کي جانب سے سپريم کورٹ ميں پيش کرہ امن تجاويز پر عمل کرايا جائے ،کالعدم گروپوں کي نئے ناموں سرگرميوں پر پابندي عائدکي جائے.يہ مطالبات دربار آل محمد ڈيرہ غازي خان ميں تحريک نفاذ فقہ جعفريہ صوبہ پنجاب کے زير اہتمام سہ روزہ عزاداري سيدالشہداء کنونشن ميں شاعر اہلبيت عقيل محسن نقوي کي جانب سے پيش کئے جانے والے اعلاميہ ميں کيے گئے. عقيل محسن نقوي نے ملک ميں امن و امان کي مخدوش صورتحال پرگہري تشويش کا اظہار کرتے ہوئے دہشتگردي ‘ٹارگٹ کلنگ اورخود کش حملوں کي پرزورمذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ دہشتگردي کے مجرموں کو في الفور گرفتار کرکے کيفر کردار تک پہنچائے.اعلاميہ ميں ذاکرين عظام واعظين کرام بانيان مجالس ا ورلاکھوں ماتمي عزاداران مظلوم کربلا کي جانب سے قائد ملت جعفريہ آغا سيد حامد علي شاہ موسوي کي قيادت پر غيرمتزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اس عہد کا اعادہ کيا گيا .اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے جنرل سيکرٹري سيد ظفر عباس نقوي نے کہا کہ چيف جسٹس سجاد علي شاہ اگر دہشتگردي کے واقعات کا ازخود نوٹس ليکر اس کے علل و اسباب اور خاتمہ کيلئے تمام مکاتب ، مسالک ، تنظيموں ، ليڈران و سياستدانو ں سے رابطہ کر سکتے ہيں تو موجودہ چيف جسٹس ايسا کيوں نہيں کر سکتے؟.اس موقع پر تحريک نفاذ فقہ جعفريہ کے مرکزي سيکرٹري اطلاعات علامہ قمر حيدر زيدي ،تحريک تحفظ ولاء و عزا کے صدر سلطان الذاکرين مداح حسين شاہ ،مخدوم نزاکت حسين نقوي ،آغا نسيم عباس رضوي ،علامہ آغا علي حسين نجفي ،ذاکر ضرغام شاہ جھنگ،ذاکرناصر عباس نوتک ،ذاکر آغا علي نقي بھکر،ذاکر عامر رباني ،ذاکر الياس رضا شاہ ڈي جي خان ،ذاکر علي رضا ساہيوال سميت ملک بھر کے سينکڑوں علماء واعظين اور ذاکرين نے خطاب ک

اسلام آباد… سپريم کورٹ ميں انساني اعضا کي پيوند کاري سے متعلق قانون مجريہ 2010 کي خلاف ورزي روکنے سے متعلق انساني حقوق کي کارکن عاصمہ جہانگير اور ديگر کے مقدمے کي سماعت ہوئي. عدالت نے اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي کي قوم کيلئے خدمات پر ان کا شکريہ ادا کيا. سپريم کورٹ ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کي سربراہي ميں بنچ نے درخواست کي سماعت کي ،اس موقع پر جسٹس خلجي عارف نے ڈاکٹر اديب رضوي کا ان کي خدمات پر شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کيلئے دعاگو ہے . چيف جسٹس نے بھي ڈاکٹر اديب رضوي کي خدمات کي تعريف کي. اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي عدالت ميں موجود تھے ،درخواست ميں کہا گيا کہ 1994کے بعد سے پاکستان انساني اعضا کي خريدوفروخت کا سب سے بڑا بازار بن گيا ہے، ملک ميں سال 2007تک ڈھائي ہزار گردے ٹرانسپلانٹ کيے گئے ليکن ان ميں تقريبا ڈيڑھ ہزار غير ملکيوں نے فائدہ اٹھايا، ايک اندازے کے مطابق اسي فيصدکيسز ميں گردے لينے اور دينے والے ميں کوئي تعلق نہيں تھا ، گردے لينے والے نے اس کيلئے رقم اد اکي . درخواست کے مطابق گردے کي پيوند کاري کيلئے بھارت ،يورپ اور مشرق وسطي سے امير مريض پاکستان کا رخ کرتے ہيں اور دس ہزار ڈالرز سے تيس ہزار ڈالرز ميں گردہ خريدليتے ہيں. عدالت نيانساني اعضا کي پيوند کاري اور گردوں کيامراض سے متعلق عوام کيلئے خدمات پر ڈاکٹر اديب رضوي کا شکريہ ادا کرتے ہوئے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان حکومت کو اس بارے ميں جواب 29مئي تک جمع کرانے کي ہدايت کي ،،خيبر پختونخو ا حکومت پہلے ہي اپنا جواب جمع کراچکي ہے

گلگت ميں 16 دن سے نافذ کرفيو ميں آج صبح 6 سے شام 5 بجے تک 11 گھنٹے کا وقفہ ديا گيا ہے، وقفے کے دوران قانون نافذ کرنے اداروں کے اہلکاروں کا گشت جاري ہے،تين اپريل کو گلگت ميں پرتشدد مظاہروں کے بعد سے کرفيو نافذ ہے، جس ميں مختلف اوقات ميں نرمي کي گئي، آج 16 ويں روز بھي صبح 6 سے شام 5 بجے تک کرفيو ميں وقفہ ديا گيا ہے، وقفے کے دوران چادر اوڑھنے ، جيکٹ پہننے اور دو سے زائد افراد کے ايک ساتھ گھومنے پھرنے پر پابندي ہے، موبائل فون سروس بھي بدستور بند ہے، 16 روز سے مسلسل کرفيو کے باعث اکثر علاقوں ميں خوراک، ادويات اور پٹروليم مصنوعات کي قلت پيدا ہوگئي ہے، کرفيو ميں وقفے کے دوران شہر کے داخلي و خآرجي راستوں سے کسي آنے جانے کي اجازت نہيں ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا گشت بھي جاري ہے.

غداد… عراق کے 4 صوبوں ميں متعددبم دھماکوں سے 30 افراد ہلاک ہوئے ہيں. وزارت داخلہ حکام کے مطابق دارالحکومت بھي کئي دھماکوں سے لرز آٹھا جس ميں 17 افراد ہلاک ہوئے.کرکوک ميں دو کار بم دھماکوں ميں 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سمارا بھي دو دھماکوں سے گونج اٹھا، ان دھماکوں سے 3 افراد جان سے گئے. تاجي ميں سڑک کنارے نصب بم پھٹا جبکہ بعقوبہ ميں خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا ليا. دھماکوں کے بعد سيکورٹي فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئيں .زخميوں کو اسپتال منتقل کياجارہاہے.

واشنگٹن …ايک ا مريکي شہر ي نے اپني نو کري اورتما م دولت چھو ڑ چھا ڑ کر پہاڑو ں ميں مو جو د غا ر کو اپنے گھر ميں تبديل کر ليا ہے . ڈينيل سوئلوپيشے کے لحا ظ سے ايک با ورچي تھا ليکن سن 2000 ء ميں امريکہ ميں آنے والے معا شي بحران کے بعد اس نے پيسے اور نو کري پر انحصا ر ختم کر کے رياست Utah کے غاروں ميں رہا ئش اختيار کر لي ہے .ڈينيل سوئلو کا نہ تو کو ئي بينک اکا ؤ نٹ ہے اور نہ ہي وہ حکو مت سے کسي قسم کي کوئي مالي امدا د وصول کر تا ہے . غار ميں رہنے وا لا ڈينيل سوئلو پہاڑوں ميں اگنے والي گھا س پھونس اور سڑ ک کے کنا رے ہلا ک ہو جانے والے جانوروں پر گزراکر تا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اسے زندگي گز ارنے کے ليے رقم کي کو ئي ضر ورت نہيں رہي .

کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم ص کی شان میں گستاخانہ بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے اور ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر نعوذ باللہ شراب کی خرید و فروش کی تہمت لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی نے یہ دعوا کیا تھا کہ : “خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے قبل بعض افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب تحفے میں پیش کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسے یا تو فروخت کر دیتے تھے اور یا پھر دوسروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیتے تھے”۔  اس سعودی وہابی مفتی نے اس تہمت اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر یہ فتوا بھی جاری کیا تھا کہ : “شراب نجس نہیں کیونکہ خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے بعد افراد نے اپنی شراب کی بوتلوں کو باہر گلی میں خالی کر دیا اور صحابہ کرام کے پاوں مسجد میں جاتے ہوئے شراب سے گیلے ہو گئے تھے اور انہوں نے اسی حالت میں نماز ادا کی”۔  آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے اس فتوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر شراب کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا گیا ہے لہذا تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ شراب ویسے ہی نجس ہے جیسے خون اور پیشاب نجس ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کے چاروں فرقوں کے امام نے شراب کو نجس قرار دیا ہے اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں بھی شراب کو صراحت سے نجس قرار دیا گیا ہے۔  کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور بے بنیاد فتوا جاری کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمد العریفی خدا کے حضور توبہ کرے اور تمام مسلمانان عالم سے معذرت خواہی کرے۔

خطیب جمعہ تہران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ شام کے خلاف مغربی اور بعض عرب ملکوں کی دشمنی اور اس ملک میں بدامنی پھیلانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک اسلامی بیداری سے شکست کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ آيت اللہ احمد خاتمی نے کہا کہ شام، صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک محاذ ہے اور عالمی سامراج نے بعض عرب اور مغربی ملکوں کو فریب دے کر شام سے انتقام لینے کی سازشیں شروع کر دی ہیں کیونکہ شام علاقے کے عوام کی تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی بیداری نے علاقے کے بعض ملکوں کو سامراج کے تسلط سے نجات دلائی ہے اور جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آل سعود کی حکومت صیہونی حکومت کے مقابل مزاحمت کے حامل ملک شام میں بڑے پیمانے پر فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے سعودی عرب کی تفرقہ انگيز پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب فتنوں کا گڑھ اور دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے کیونکہ اس نے تیونس کے سابق ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی، اور عراق کے فراری نائب صدر طارق ہاشمی کو پناہ دے رکھی ہے اور مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے علاقائی ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے تعلقات بڑھانے اور مسلمانوں کو نزدیک لانے کی کوشش کی ہے جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ تفرقہ اور اختلافات پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو ان پالیسیوں سے نقصان اور نابودی کے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔ خطیب جمعہ تہران نے بعض عرب ملکوں کی جانب سے بحرین کے حالات اور آل خلیفہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے مظالم کو نظر انداز کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بحرین پر قبضہ کرلیا ہے اور بحرینی عوام کی سرکوبی میں شریک ہے۔ انہوں نے امریکہ سے تعلقات منقطع کرنے کے دن کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انقلابی طلباء کے ہاتھوں امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے ایران اور امریکہ کے درمیاں تعلقات کے منقطع کئےجانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو تعلقات ختم کرنے کا یہی ایک کام ہے اور ہم بھی یہی چاہتے تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔ پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت پرمبنی رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اس سلسلے میں بیرونی دباؤ برداشت نہيں کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔  انھوں نے مزید کہا کہ روس نے بھی اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر تیل اعجاز چودھری نے اٹھائیس مارچ کو کہا تھا کہ روسی کمپنی نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ میں تقریبا ڈیڑہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ واضح رہے کہ بعض ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ کے اصلی اتحادی سعودی عرب نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایسا پیکج دینے کا وعدہ کیا ہے جو ایران پاکستان گیس پروجیکٹ معلق ہونے کی صورت میں اس ملک کی انرجی کی ضرورت پوری کرے گا۔

بیجنگ میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عالمی معاشی بحالی کے لئے خطرناک ثابت ہوں گی، چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکا نے اکتیس دسمبر کو ایران کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے جنوری سے ایرانی تیل کی درآمد، خریداری یا ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔

کارخانو بازار پشاور میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحہ کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحدی حدود پر واقع مشہور کارخانو بازار میں موبائل فون سے مشابہت رکھنے والے پستول  صرف تیس ہزار روپے میں سر عام دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ کارخانو بازار میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحے کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔  ٹیم  نے کارخانو مارکیٹ کا دورہ کرکے اس مہلک ہتھیار کے بارے میں مختلف دکانداروں سے بات چیت کی۔ اسلحہ ڈیلرز و دکانداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ موبائل کی شکل و صورت والا پستول تو معمولی بات ہے یہاں تو ہر قسم کے ہتھیار مل جاتے ہیں، ہمیں جو بھی شخص یا گاہک پیسے دے ہم اسے یہ ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ ہتھیار کون فروخت کرتے ہے تو ان کا جواب تھا کہ نیٹو کے کنٹینرز سے چھیننے والے اس اسلحہ اور دیگر سامان کو عام لوگوں سے لے کر انہیں بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔  جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ مہلک اسلحہ کسی کی جان لے سکتا ہے اور اس سے ملک میں پہلے سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بال بچوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ اسلئے وہ یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ کارخانو مارکیٹ میں پنجاب اور سندھ سے آنے والے بعض خریداروں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ پستول تیس ہزار میں خرید کر پھر اسے لاہور اور کراچی میں پچاس تا ساٹھ ہزار میں فروخت کرکے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔   جب ان سے پوچھا گیا کہ راستے میں پولیس یا سیکورٹی پر مامور اہلکار انہیں روک کر تلاشی نہیں لیتے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ موبائل کی شکل سے مشابہہ ہونے کی وجہ سے کسی کو شک تک نہیں ہوتا اور ہم اپنا کام آسانی سے کر لیتے ہیں۔

حزب وحدت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں ہی نے افغانستان میں طالبان کا فتنہ بو کر طالبان دور حکومت میں بامیان اور مزار شریف میں ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کی۔حزب وحدت افغانستان کے سربراہ استاد محقق نے کوئٹہ میں اہل تشیع ہزاراہ قبیلے کے قتل عام کو پاکستانی ادارون کی ناکامی قرار دیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے استاد محقق کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں اہل تشیع ہزارہ کا قتل عام روکنے کے لئے پاکستانی حکومت زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدام کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے چند ماہ قبل اپنے دورہ پاکستان میں پاکستان کے اعلی حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی ادارے اس قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں ہی نے افغانستان میں طالبان کا فتنہ بو کر طالبان دور حکومت میں بامیان اور مزار شریف میں ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کی، لیکن بعد میں وہی طالبان انہی اداروں کے دشمن بن کر پاکستان کے قومی سلامتی ادروں تک کو نشانہ بنا چکے ہیں، اسلئے ظالم کی سرپرستی کرنا آستین کے سانپ پالنے کے مترادف ہے۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق کیس کی سماعت کرتے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہرشخص کا احترام کرتے ہیں، عقیدہ کچھ بھی ہو۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مر رہے ہیں، حکومت اب تک ایک شخص کو بھی نہیں پکڑ سکی۔ ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بہت سے پولیس والے بھی مارے گئے کوئٹہ میں نارمل صورتحال نہیں ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کہہ رہا ہے کہ کوئٹہ میں جنگ جاری ہے، 25،25 کروڑ روپے ایک ایک رکن صوبائی اسمبلی کو دیے گئے، چیف سیکرٹری کو بلا لیں کہ کتنے فنڈز ملے اور عام آدمی کو بھی بلائیں جس کے پاؤں میں چپل نہیں ہےچيف جسٹس نے ريمارکس ميں کہاکہ کوئٹہ ميں اہل تشيع کے 26 افراد قتل کردئے گئے، حالات کو کس نے کنٹرول کرنا ہے؟ ايڈووکيٹ جنرل نے کہاکہ کوئٹہ ميں سرد جنگ ہو رہی ہے، چيف جسٹس نے کہاکہ اتنے فنڈز مل رہے ہيں ليکن کنٹرول کيوں نہيں ہو رہا،

العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔لبنان کے اھل سنت اور شیعہ علماء نے امریکہ اور صیہونی حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرنے پر سعودی عرب کی مذمت کی ہے۔ جمعیت علماء لبنان کے سینئر رکن شیخ احمد ال زین نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت امریکہ کی خدمت اور صیہونی حکومت کی حمایت کرنا ہے۔ ادھر شہر صیدا کے معروف عالم دین شیخ ماہر حمود نے کہا ہے کہ بحرین سے سعودی عرب کی جارح افواج کو فورا نکل جانا چاہیے کیونکہ بحرین میں سعودی فوجیوں کی موجودگی غیر قانونی ہے۔ فلسطین علماء کونسل کے رکن شیخ محمد موعد نے آل خلیفہ کی حکومت سے کہا ہے کہ شہریوں کے حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے جارح فوجیوں کو بحرین سے نکل جانا چاہیے۔ادھر سعودی عرب میں طلباء نے آل سعود کے کارندوں کی تشدد آمیز روشوں کی مذمت کی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے شہر ابھاء کی ملک خالد یونیورسٹی میں آل سعود کے کارندوں کے ہاتھوں طالبات کی زدوکوب کی مذمت کی۔ طلباء نے کہا ہے کہ وہ پولیس کی اس بربریت کے خلاف دھرنا دیں گے۔ سعودی کارندوں کے تشدد میں ایک طالبہ شہید ہو گئی تھی۔ ادھر شہر قطیف کے امام جمعہ نے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ واریت کو روکنے کے لئے نئے قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ شیخ حسن الصفار نے جمعے کی نماز میں کہا کہ ملک میں ایسے قوانین وضع کرنے کی ضرورت ہے جن سے فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ منافرت کا سدباب ہوتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے عناصر سے مقابلہ کرے۔ یاد رہے سعودی عرب میں شیعہ مسلمانون کے خلاف شدید تعصب اور امتیازی پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ عرب سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی مقصد کیلئے ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔گذشتہ دنوں سعودی عرب کے بوڑھے وزیر اطلاعات پاکستان کے دورے پر تشریف لائے، انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ انہیں خوش کرنے کے لئے پاکستانی وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک ڈانس پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں پاکستانی لڑکیاں انتہائی شرمناک لباس میں بوڑھے سعودی وزیر کے سامنے کافی دیر تک ناچتی رہیں اور اس دوران پاکستانی اعلٰی حکام اور خود وزیر اطلاعات فردوش عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ اس پارٹی کے بعد کی کہانی معلوم نہ ہوسکی۔ وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میزبانی میں اس تقریب کے مہمان خصوصی خادمین حرمین شریفین کنگ عبداللہ کے وزیر اطلاعات و کلچر منسٹر عزت ماب عبدالعزیز بن محی الدین تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میڈیا اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ پارٹی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین کے دورہ پاکستان سے دنیا میں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشترکہ میڈیا حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گیواضح رہے کہ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردس عاشق اعوان کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی وزیر اطلاعات کے دورے سے نہ صرف ایک دوسرے کی ثقافتوں کو سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی باعث ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الغدیر، وفاقی سیکریٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر افسران بھی ان پارٹیوں میں شریک ہوئے۔ سعودی وزیر اطلاعات کے پاکستان کے لئے پرجوش جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حال ہی میں ان کا ایک آپریشن ہوا ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنے پاکستان کے دورے کو مؤخر نہیں کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دورے سے جو توقع تھی وہ پوری نہ ہوئی اور انہوں نے پی ٹی وی کے لئے فوری طور پر کسی گرانٹ یا رقم کا اعلان نہیں کیا اور پی ٹی وی کی طرف سے ڈانس پارٹی بھی ضائع گئی۔

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

 

    واشنگٹن : امریکی خفیہ ادارے کے11 اہلکاروں کو سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبے میں عارضی رخصت پر بھیج دیا گیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر باراک اوباما کے کولمبیا کے دورے سے قبل جسم فروش خواتین کو اپنے ہوٹل کے کمروں میں بلایا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ کولمبیا کی پولیس نے بھی اس حوالے سے انکشافات کئے تھے۔ حکام کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آتے یہ اہلکار انتظامی چھٹیوں پر یہ رہیں گے۔ امریکی صدر امریکی ریاستوں کی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کو کولمبیا پہنچے تھے

کراچي کے علاقے نارتھ ناظم آباد ميں مسلح متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے جناح پولي ٹيکنک انسٹيٹيوٹ کے وائس پرنسپل عمران ذيدي کو شہید کرديا.پوليس کے مطابق نارتھ ناظم آباد ميں ميٹرک بورڈ آفس کے قريب مسلح موٹر سائيکل سواروں متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے کار نمبر ٹي 8473 پر فائرنگ کرکے عمران زیدی کو شديد زخمي کرديا جنہيں عباسي شہيد اسپتال منتقل کيا گيا جہاں وہ زخموں کي تاب نہ لاتے ہوئے سفیر امام حسین حضرت مسلم بن عقیل کی مانند جام شہادت سے سرفراز ہوئے.شہید عمران ذيدي نارتھ کراچي سيکٹر اليون اے کے رہائشي تھے.ڈي ايس پي نارتھ ناظم آباد عبدالرشيد نے بتايا کہ عمران ذيدي جناح پولي ٹيکنک انسٹيٹيوٹ فار مين کے وائس پرنسپل تھے اور ابتدائي تفتيش کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتيجہ ہے تاہم مزيد تحقيقات کررہے جبکہ دوسری طرف نمائند کی رپوٹ کے  مطابق نارتھ ناظم آباد کے علاقے بورڈ آفس کے قریب گھات لگائے امریکی سعودیہ نواز کالعدم تنظیم کے متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے گاڑی نمبر ( 8473 ،مہران )پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں جناح کالج کے وائس پرنسپل  عمران زیدی ولد امام  زید ی موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ رپوٹ کے مطابق شہید کے سر اور جسم میں گولیا ں لگی ۔ واضح رہے کے کراچی کے صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل میں گزشتہ ماہ میں 23شیعان علی ابن ابی طالب کو شہید کیا جا چکا ہے ڈسٹرکٹ سینٹرل امریکی اور سعودی وہابیت نواز کالعدم جماعتوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔جبکہ ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی نے تاحال کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا اس بدترین صورت حال پر ایس ایس پی نہ ہی معطل کیا گیا اور نہ ہی اس کی خلاف کو ئی کاروائی کی گئی جبکہ مجلس وحدت مسلین جعفریہ الائینس ،سیعہ علماء کونسل نے عمران زیدی کی شہادت کی شدید مذمت اور رہنماوں کا کہنا تھا حکومت ملت جعفریہ کو تحفظ دینے میں نا کام ہوچکی ہے

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ بان کی مون نے الخلیفہ حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ الخواجہ کو علاقہ کے لئے  ڈنمارک کے حوالے کردے کیونکہ الخواج کے پاس ڈنمارک کی شہریت بھی موجود ہے۔ الخواجہ کی گرفتاری اور اور اس کی بھوک ہڑتال کے بعد بحرین میں عوامی مظاہروں میں شدت آگئی ہے

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن نواف الموسوی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی مقاومت کی کامیابی شام کے حالات کو درک کرنے کی اصلی کلید ہے اس نے کہا کہ مقاومت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو علاقہ میں شکست و ناکامی سے دوچار کیا ہے اور امریکہ اپنی  شکست و ناکامی کی تلافی کے لئے شام میں اسرائيل کی حامی حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے انھوں نے کہا کہ لبنان اور فلسطین میں اسلامی مقاومت کی کامیابی میں شام کا کلیدی کرداررہا  ہے اور امریکہ نے مقاومت کو شکست دینے کے لئے اب شام کو نشانہ بنایا ہے۔

واشنگٹن: نائیجیریا کی وزیر خزانہ اور عالمی بینک کی صدارت کی امیدوار نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا ہے کہ امریکہ اس روایت کو توڑے کہ ہمیشہ کوئی امریکی ورلڈ بینک کی سربراہی کرے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے یہ بات ورلڈ بینک کے بورڈ کے سامنے ساڑھے تین گھنٹے کے انٹرویو کے بعد کہی۔ نگوزی اوکونجو آئویلہ نے کہا کہ عالمی بینک کی سربراہی کا معیار اہلیت اور مہارت پر ہونا چاہئے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو کے دوران بورڈ پر واضح کیا ہے کہ انتخاب کا طریقہ کار واضح اور شفاف ہونا چاہئے۔ انہوں نے ممالک سے حمایت طلب نہیں کی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ کے غیر رسمی معاہدے کے تحت ہمیشہ ورلڈ بینک کی سربراہی کسی نہ کسی امریکی کے پاس رہے گی جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کا سربراہ یورپی ہوگا۔ چین، بھارت اور برازیل جیسی ابھرتی ہوئی معیشتیں طویل عرصے سے جاری مالیاتی اداروں میں اثر و رسوخ کی روایت کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ نائیجیریا کی وزیر خزانہ نے گزشتہ سال عالمی بینک کا عہدہ چھوڑا تھا۔ عالمی بینک کی صدارت کیلئے کولمبیا کے سابق وزیر خزانہ اور امریکہ کی طرف سے نامزد کوریا نژاد امریکی شہری ان کے مدمقابل امیدوار ہیں۔

پاکستان کے معاشی ہب کراچی میں رواں برس پُر تشدد واقعات کی ایک تازہ لہر نے اب تک سینکڑوں زندگیوں کے چراغ گل کر دیے ہیں اور اس سے ملک کو اقتصادی لحاظ سے شدید نقصانات کا سامنا ہےگزشتہ چار برسوں میں ملک کے دیگر شہروں میں اسلامی انتہا پسندوں کی کارروائیوں سے تو یہ شہر قدرے بچا رہا مگر اندرونی طور پر فرقہ وارانہ اور لسانی تنازعات کے باعث اس شہر کو بھاری جانی اور مالی نقصانات کا سامنا رہا۔ گزشتہ برس کراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور دیگر خونریز واقعات میں 1800 افراد ہلاک ہوئے تاہم رواں برس کے آغاز سے اب تک اس شہر میں تین سو سے زائد افراد مختلف پُر تشدد واقعات میں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ان خونریز واقعات کی وجہ منشیات، بھتے، اسلحے اور لینڈ گریبنگ کی مافیا کے درمیان جاری جھگڑے ہیں، جن کے سلسلے میں سرگرم عمل گروہوں کو مبصرین کے مطابق مختلف سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہےکراچی میں لسانی اور سیاسی بنیادوں پر ہونے والی کسی بھی ہلاکت کے بعد پورا شہر بند کر دیا جاتا ہے اور کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ خبر رساں ادارے AFP کے مطابق کراچی میں اب یہ معمول کی بات ہے کہ کسی پُر تشدد واقعے کے اگلے روز تمام دفاتر، اسکول اور کاروباری ادارے بند رہیں۔ کراچی مارکیٹ الائنس کے چیئرمین عتیق میر کے مطابق گزشتہ ہفتے کراچی شہر مسلسل چھ روز بند رہا۔ ’’کراچی میں گزشتہ ہفتے فائرنگ کے مختلف واقعات میں 24 افراد کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ (کراچی کی بڑی سیاسی جماعت) کی اپیل پر ایک یوم سوگ بھی منایا گیا۔‘‘ عتیق نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے مختلف کاروباری اداروں کو 20 بلین روپے (220 ملین ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ صنعتی اداروں کو 45 بلین روپے ( 495 ملین ڈالر) کا مالی نقصان ہوا۔‘‘ کراچی ملکی جی ڈی پی ( مجموعی قومی پیداوار) میں 42 فیصد حصہ ملاتا ہے، ٹیکس کی مد میں ملک بھر سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 70 فیصد جبکہ سیلز ٹیس کا 62 فیصد کراچی سے ہی حاصل ہوتا ہے تاہم عتیق میر نے کراچی کی صورت حال کو ملک کے شمال مغربی علاقے سے مماثل قرار دیتے ہوئے کہا، ’کراچی ایک شہری وزیرستان بنتا جا رہا ہے، جہاں حکومت اپنی عمل داری کھو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ کراچی سیاسی اور لسانی اعتبار سے اب جغرافیائی طور پر کئی حصوں میں بٹ چکا ہے، جہاں مسلح مافیا گروہ حکومت کرتے ہیں اور عملی طور پر پولیس یا سکیورٹی فورسز کی کوئی عمل داری موجود نہیں

پاکستان میں ڈاکٹروں اور فلاحی اداروں کے مطابق ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں ان کے وارث مختلف وجوہات کی بنا پر یا تو قتل کر دیتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے جھولے میں ڈال دیتے ہیں۔ زندہ بچ جانے والے لاوارث گمنام بچوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا ناممکن ہے کیونکہ ان بچوں کی پرورش کرنے والے ہر ادارے کے پاس انفرادی ریکارڈز تو موجود ہیں تاہم مجموعی اعدادوشمار اب تک جمع نہیں کئے گئے ہیں ۔ پاکستان میں کئی ایسے غیر سرکاری فلاحی ادارے کام کر رہے ہیں جو لوگوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے وہ بچوں کو پال نہیں سکتے تو انہیں اداروں کے سپرد کردیا جائے جہاں ان کو گود لینے کے لئے کئی جوڑے رابطہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ایدھی فاونڈیشن کے ملک بھر میں چار سو مراکز قائم ہیں جن کے باہر جھولے لگائے گئے ہیں۔ اس کا مقصد لوگوں کو اس بات کی جانب آمادہ کرنا ہے کہ وہ ایسے بچے جن کی پرورش وہ نہیں کرنا چاہتے، انہیں قتل کرنے یا کسی گلی محلے اور کوڑے دان میں پھینکنے کے بجائے ان جھولوں میں ڈال دیں۔ ایدھی فاونڈیشن کے سربراہ عبدلاستار ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی نے ان جھولوں سے ملنے والے بچوں کی دیکھ بھال کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ چھ دہائی قبل ان کے شروع کئے گئے جھولا پراجیکٹ کے تحت سولہ ہزار بچوں کی جانیں بچائی جا چکی ہیں۔ تاہم مردہ حالت میں بچے اب بھی شہر کے مختلف علاقوں سے ملتے رہتے ہیں۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف ایدھی فاونڈیشن کو ہی ملک بھر سے سالانہ اوسطاً تین سو پینسٹھ بچے ملتے ہیں،’’زیادہ تر مرے ہوئے بچے ملتے ہیں۔ انہیں پلاسٹک بیگ میں بند کرکے، منہ میں کپڑا ڈال کر یا گلے میں رسی ڈال کر پھینک دیتے ہیں۔عبدلاستار ایدھی کے مطابق ملنے والے ان بچوں میں زیادہ تعداد بچیوں کی ہوتی ہے جبکہ مردہ بچوں کی تعداد زیادہ ہے، ’’ہمیں سال میں اگر پچیس بچے زندہ ملتے ہیں تو اڑھائی سو مردہ ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو معذور یا دماغی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔ انہیں بھی جھولے میں ڈال دیا جاتا ہے‘‘۔ بلقیس ایدھی کے مطابق صرف مئی دو ہزار بارہ میں تیرہ گمنام نوزائدہ بچوں کی لاشیں ان کی تنظیم کو ملی جنہیں دفن کیا گیا۔ زندہ بچ جانے والے بچوں کو فوری طور پر گود لینے کے خواہش مند جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ عبدلاستار ایدھی کے مطابق اب تک چھبیس ہزار بچوں کو ان کے ادارے نے گود دیا ہے۔ان میں دیگر طریقوں سے ایدھی سینٹر کو ملنے والے بچے بھی شامل ہیں ۔ ان بچوں کو گود دینے سے قبل جوڑوں کی اچھی طرح سے چھان بین کی جاتی ہے، ’’ہم بچے صرف بے اولاد جوڑوں کو دیتے ہیں ۔ ہم نے کچھ لمٹس رکھی ہیں ۔ مثلاً شادی کو دس سال ہوئے ہوں، اولاد نہ ہو تو اپلائی کر سکتے ہیں ۔ جائداد دیکھتے ہیں، مکان پکا ہے اور اپنا ہے تو دیتے ہیں۔ چھ ہزار سے کم تنخواہ والوں کو نہیں دیتے کیونکہ بچے کی سکیورٹی بھی دیکھنی ہوتی ہے۔ جبکہ بچہ حوالے کرنے کے بعد پانچ سال تک خبر گیری رکھتے ہیں۔ آگے اسلئے نہیں کرتے کہ تاکہ بچے کو احساس نہ ہو کہ وہ گود لیا ہوا بچہ ہے‘‘۔ ان بچوں کو گمنام چھوڑ دینے کی مختلف وجوہات بتائی جاتی ہیں ۔ بلقیس ایدھی کے مطابق بعض ایسی عورتیں ہوتی ہیں جو زنا یا زیادتی کے باعث مائیں بن جاتی ہیں اور معاشرے میں بدنامی کے خوف سے ان کی پرورش نہیں کرنا چاہتی۔ بعض عورتیں دوسری شادی کے لئے بچے چھوڑ جاتی ہیں۔ اور بعض دیگر مجبوریوں کے باعث بچے سے دستبردار ہوتی ہیں، اُن کے بقول،’’ایک غربت اور دوسرا جہالت، ہمارے ملک میں غربت بہت ہے، ہمارے ملک میں بے روزگاری ہے، ملک میں منصوبہ بندی نہیں ہے، منصوبہ بندی نہیں ہوتی یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عورت کے دس بارہ بچے ہوتے ہیں‘‘۔ پاکستان میڈیکل ایسوسیشن سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کہتی ہیں کہ یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جنہیں لاوارث اور گمنام چھوڑا دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا،’’ ان میں صرف ناجائز بچے نہیں ہوتے بلکہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کے ماں باپ غربت کے باعث انہیں پال نہیں سکتے۔ بچے پر بچہ پیدا ہوتا جاتا ہے، کوئی فیملی پلاننگ نہیں ہوتی۔ نہ ہی درمیان میں کوئی وقفہ ہوتا ہے۔ انہیں نہ کچھ بتایا جا رہا ہوتا ہے نہ انہیں اسے کنڑول کرنے کے لئے کوئی چیز دی جارہی ہوتی ہے۔اگر ایسے میں بچہ پیدا ہو جائے تو لوگ اسے چھوڑنا چاہتے ہیں یا کسی فلاحی ادارے کے سپرد کر دیتے ہیں‘‘۔جرمنی سمیت دنیا کے دیگر کئی ممالک کے ہسپتالوں میں ایسے جھروکے قائم ہیں جہاں نومولود کو مائیں مختلف وجوہات کے باعث چھوڑ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کے مطابق پاکستانی ہسپتالوں میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں‘‘۔ ہسپتالوں خصوصاً سرکاری ہسپتالوں میں ایسے کسی نظام کے نافذ کرنے کے حوالے سے ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ یہاں اتنی کرپشن سے کہ اگر ایسے نظام قائم کئے گئے تو یہ کاروبار کی صورت اختیار کر جائیں گے، وہ کہتی ہیں،’’ لوگ اس کاروبار کے تحت بچوں کی خرید و فروخت شروع کر دیں گے۔اسلئے میرے خیال میں ایسا کوئی نظام سرکاری اداروں میں نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں لیکن ایدھی سینٹرز کی طرح کے ادارے ہوں تو ان کے حوالے کیا جا سکتا ہے جہاں نہ صرف بچوں کی مناسب دیکھ بھال ہوتی ہے بلکہ انہیں گود لینے کے خواہشمند جوڑوں کے حوالے بھی کیا جاتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر ثمرینہ کا کہنا ہے کہ ملک میں baby hatches یا ایسا کوئی نظام قطعی طور پر ہونا چاہئے جس کے تحت لاوارث چھوڑ دئیے جانے والے بچوں کی دیکھ بھال کا انتظام ہو۔ کیونکہ یہ ان کو قتل کرنے سے بہتر ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’جو بچہ نہیں رکھنا چاہتا وہ ہر صورت میں نہیں رکھے گا۔ وہ اس کو مار کر پھنک دے گا، گلا دبا دے گا ،سانس روک دے گا، غلط ہاتھوں میں بچہ چلا جائے گا۔ اس سے بہتر نہیں ہے کہ آپ ایک جھولا لگائیں جس میں بچہ چھوڑ کر جانے والے بچے کو ڈال جائیں ۔ کم از کم اس کی جان تو بچ جائے گی،اس کو تعلیم اور کھانا تو مل جائے گا‘‘ ۔ملک میں baby hatches کے حق میں جہاں ایک طرف پزیرائی پائی جاتی ہے وہیں اس نظام کے حوالے سے کچھ مخالفت بھی موجود ہے۔ بلقیس ایدھی کے مطابق لاوارث بچوں کی پرورش اور انہیں گود دینے پر بعض حلقوں کی جانب سے دھمکیاں بھی موصول ہوتی ہیں۔ انہوں نے بتایا، ’’مولویوں نے کہا کہ عبدلاستار ایدھی اور ان کی بیوی واجب القتل ہیں کیونکہ یہ حرام کے ناجائز بچے پالتے ہیں اس لیے یہ جنت میں نہیں جائیں گے اور اسلام سے خارج ہیں۔ ہمیں بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور آج تک تنقید کر رہے ہیں‘‘ ۔ ممتاز مذہبی اسکالر علامہ ظہیر عابدی کا کہنا ہے کہ ماؤں کا اپنے بچوں کو کسی خیراتی ادارے میں چھوڑ جانا احسن عمل نہیں اور اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن بچوں کو قتل کرنے سے کم از کم بہتر ہے کہ انہیں ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا ، ’’انسانی معاشرہ میں اس بات کی کہیں اجازت نہیں کہ بچوں کو کسی ادارے کے سپرد کر دیا جائے۔ اور اسلام میں تو پہلے ہی بعض ایسی پابندیاں ہیں کہ جن پر عمل درآمد کیا جائے تو نوبت ہی نہ آئے کہیں بچہ حوالے کرنے کی ۔ اور اگر غربت کے باعث ایسا کیا جا رہا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ غربت کے باعث اپنے بچوں کو نہ مارو کیونکہ اس کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ لیکن اسلام میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ ناجائز بچوں کی پرورش کرنے والے جرم کرتے ہیں یا وہ واجب القتل ہیں‘‘۔

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلٰی بن علی نے اپنی آپ بیتی مکمل کر لی ہے۔ امید ہے کہ ’مائی ٹرتھ‘ یعنی ’میرا سچ‘ کے عنوان سے یہ کتاب اگلے ماہ سے دستیاب ہو گی۔تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کی یہ کتاب ابھی صرف فرانسیسی زبان میں شائع ہو گی۔ فرانسیسی ناشرLes Editions du Moment نے اسے شائع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تناظر میں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناشر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ادارے کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تیونس کی ایک ویب سائٹ Tunisia live کےمطابق ناشر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ کتاب اشاعتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیلٰی بن علی کے بقول انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جو زین العابدین کے دور حکومت میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے تھے۔لیلٰی بن علی کا تعلق طرابلیسی خاندن سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ہیر ڈریسر تھیں۔ ان کے انتہائی پر تعیش طرز زندگی اور امیر خاندان کی وجہ سے تیونس کے بہت سے شہری ان پر بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بن علی کے دور حکومت میں کی جانے والی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف کرپشن، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور آزادیء اظہار پر پابندی کی وجہ سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس طرح بن علی عرب دنیا کے وہ پہلے رہنما تھے، جنہیں عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ گزشتہ برس جنوری میں جب احتجاجی مظاہرے تیونس کے دارالحکومت تک پہنچ گئے تو لیلٰی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھیں۔ جون میں تیونس کی ایک عدالت نے زین العابدین اور ان کی اہلیہ کو چوری اور غیر قانونی طور پر جواہرات اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ان دنوں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق بن علی کے دور میں طرابلیسی خاندان نے بڑے پیمانے پرفوائد حاصل کیے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپ بیتی کے منظر عام پر آنے کے بعد تیونس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سماجی ویب سائٹس پر چند افراد نے ابھی سے ’مائی ٹرتھ‘ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بن علی نے اپنے 23 سالہ دور حکومت میں متعدد تصانیف پر پابندی عائد کی تھی تو اس کتاب کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی زبان میں Ma Verite کے ٹائٹل والے یہ کتاب 24 مئی کو فروخت کے لیے جاری کر دی جائے گی اور اس کی قیمت تقریباً 16 یورو ہو گی۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ تہران حکام  کی جانب سے یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب وہ رواں ہفتے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہے ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے مذاکرات کے موقع پر اس اہم معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کو ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بجلی بنانے کے لیے کم سطح پر یورینیئم کی پیداوار جاری رکھتے ہوئے، 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی پیداوار روکنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ فریدون عباسی کا کہنا ہے: ’’ضرورت کے مطابق ایندھن دستیاب ہونے پر، ہم پیداوار کم کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسے تین اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر لے آئیں۔‘‘ ساتھ ہی عباسی نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تبادلے کے معاہدے کا خیال مسترد کر دیا، جو تین سال پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسے دیگر ملکوں سے 20 فیصد ایندھن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس حوالے سے ایران خود سرمایہ لگا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ہفتے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں صالحی کا کہنا تھا: ’’اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط لاگو کرنا مذاکرات سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی مانند ہے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ مذاکرات سے پہلے کوئی بھی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ردِعمل میں کہی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران سے فردو کے زیر زمین نیوکلیئر بنکر کو بند کرنے اور بیس فیصد تک یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کریں گے

فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں یوپے نے کہا ہے کہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے شامی حکومت کے وعدے جھوٹ پر مبنی تھے۔ ترکی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر بشار الاسد نے کوفی عنان سے جھوٹ بولا۔‘ یوپے کے مطابق، ’ نہ ہی بھاری ہتھیاروں سے حملے بند ہوئے ہیں۔ نہ ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ نہ صرف دمشق بلکہ دیگر علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور شامی حکومت جسے فوجی دستوں کا انخلا قرار دے رہی ہے وہ اصل میں متاثرہ علاقوں میں مزید فوجیوں کا بھیجا جانا ہے۔‘یوپے نے کہا کہ وہ یہ معاملہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے: ’’ہم زور دیں گے کہ 12 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال سے تمام تر نتائج اخذ کرے اور دیکھے کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور وہاں سیاسی مکالمت کے آغاز کے لیے کیا نئے اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ کا یہ بیان کوفی عنان کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے جانے والے اس خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عنان نے کہا تھا کہ اسد حکومت ’امن کا اشارہ‘ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عنان نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے ’بنیادی نکتے‘ کا خیال رکھتے ہوئے 12 اپریل تک مکمل طور پر سیز فائر کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 اپریل تک ہر حال میں فائربندی کرے اور ایسے واضح اشارے دے کہ وہ جنگ مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ اگر شام جمعرات کی ڈیڈ لائن کا احترام کرتے ہوئے فائربندی نہ کرے تو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، ’’اگر شامی حکومت اگلے 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل طور پر فائربندی کرنے میں ناکام ہو، تو اقوام متحدہ ایک قرارداد کے ذریعے وہاں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘‘ ترک وزارت خارجہ کے اس بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل سے کس طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے

بھارتی عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ایک تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے دس برس قبل مسلمانوں کے خلاف ہونے والے بلووں میں بھارتی وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ملوث ہونے سے متعلق شواہد نہیں ملے۔ منگل کے روز یہ بات بھارتی عدالت نے کہی۔ اس سے قبل حقوق انسانی کے کارکنان یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ سن 2002ء میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے خلاف خونریز حملے کیے گئے لیکن وزیراعلیٰ مودی نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سن 2002ء میں ہونے والے ان حملوں میں تقریبا دو ہزار افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ مودی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں نہیں پہنچایا۔ بھارتی خبر رساں ادارے PTI نے بھارتی مجسٹیریل کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ان حملوں میں مودی یا شکایت میں شامل دیگر 57 افراد کے خلاف ایسے ثبوت یا شواہد نہیں ملے، جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ افراد ان حملوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تھے۔نریندر مودی ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سن 2014ء کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس اعلان سے مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان افراد کے خلاف شکایت گزار ذکیہ جعفری تھیں، جو کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابقہ رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔ احسان جعفری سن 2002ء میں ہونے والے ایک حملے میں مسلح گروہ کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں گجرات کی ایک ہاؤسنگ کالونی میں دیگر 68 افراد کے ہمراہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل مودی کے وکلا ان الزامات کو ’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دیتے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب نریندر مودی ریاستی انتخابات میں چوتھی مرتبہ وزرات اعلیٰ کے لیے کھڑے ہونے والے ہیں۔ گجرات بھارت کی صنعتوں کی تعداد کے اعتبار سے دیگر ریاستوں سے اوپر ہے۔ اس ریاست میں رواں برس انتخابات ہوں گے۔ اس سے قبل پیر کے روز ایک بھارتی عدالت نے سن 2002ء کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 23 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ان حملوں میں شرکت کرتے ہوئے تقریبا دو درجن افراد کو ہلاک کیا تھا۔

کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر فائرنگ سے زخمي 12 ميں سے  6 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے، شہد ہونےوالے افراد کي تعداد 6 ہوگئي ہے مزید اطلاعات کے مطابق فائرنگ پرنس روڈ پر واقع السادات شوز میکر کی دکان پر کی گئی۔ السادات شوز میکر کے مالک محمد موقع پر ہی شھید ہوگئے تھے۔تمام زخمیوں اور شھیدوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہیں۔ پوليس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر جوتے کي دکان پر نامعلوم موٹر سائيکل سواروں کي فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق اور  6 سے زیادہ زخمي ہوگئے تھے جن ميں سے مزيد 2 افراد زخموں کي تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال ميں جاں بحق ہوگئے ہيں، زخميوں کو سول اسپتال کوئٹہ ميں طبي امداد دي جارہي ہے. اطلاعات کے مطابق کوئٹہ پرنس روڈ پر کالعدم ملک دشمن سپاہ صحابہ سعودیہ نواز مسلمان دشمن گروہ  کے درندہ صفت دھشتگردوں کی فائرنگ سے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والے متعدد شیعہ مسلمانوں کو شھید اور کئی کو زخمی کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شھید ہونے والوں کی تعداد6  جبکہ 6 سے زائد افراد شدید زخمی۔یاد رہیں کوئٹہ میں ایک خاض مقصد کے تحت شیعہ نسل کشی جاری ہیں، جس میں صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ مکمل ملوث ہیں۔ اور کوئٹہ کے جہادی گروپ جو شیعان علی کے قتل عام میں ملوث ہیں انہیں ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور مقامی اتظامیہ کی مکمل پشت پناھی حاصل ھے۔  جبکہ دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے باہر اور پرنس روڈ پر نامعلوم افراد کي جانب سے ہنگامہ آرائي کي گئي ہے.جس پر پوليس کي بھاري نفري دونوں مقامات پر پہنچ گئي ہے اور حالات قابو ميں کرنے کي کوشش کي جارہي ہے اور وزیر اعلی بلوجستان نے صرف دیکھاوے کے لیے  پرنس روڈ تھانے کے ڈیوٹی پر معامور پولیس افسران کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے تا کہ وہ اس حادثہ کے بعد تھوڑا آرام کر لیں۔

گورنر گلگت بلتستان پیر کرم علی شاہ اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نے مرکزی امامیہ جامع مسجد اسکردو میں امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری سمیت دیگر علماء کرام سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران گورنر نے علماء کرام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سکردو والوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں، پاکستان کو بنانے کے لیے یہاں کے لوگوں کی بے پناہ خدمات ہیں، بلتستان کے علماء کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے انتہائی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں امن برقرار رکھا، قیام امن کے لیے پرخلوص کوشش کرنے پر بلتستان کے علماء کو سلام پیش کرتا ہوں، بلتستان کے عوام اور علماء کے تحفظات دور کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی، ہمیں علماء کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہم نے قیام امن کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، ہم نے صدر پاکستان اور وزیراعظم پاکستان تک قیام امن کے لیے رسائی کی ہے۔ گلگت بلتستان اسلام کا قلعہ ہے۔ امام جمعه والجماعت علامه شیخ محمد حسن جعفری نے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر علماء بروقت مداخلت نہ کرتے تو بلتستان کے حالات انتہائی خراب ہو جاتے۔ شیخ محمدحسن جعفری نے کہا کہ ۸۸ء کے سانحے کے بعد سانحہ کوہستان بڑا سانحہ ہے اور صرف 40روز کے اندر دوسرا سانحہ رونما ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ قراقرام اب موت کا کنواں بنا ہوا ہے.ہمارے بارہا کہنے کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی امن قائم رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہم امن کے ٹھیکدار نہیں ہیں، ہم نے اپنا کردار ادا کیا، اب حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ ابھی جو امن قائم ہے وہ علماء کی وجہ سے قائم ہے، ہماری امن پسندی کو بزدلی نہ سمجھا جائے، ہم نے ہمیشہ صبر کیا اور صبر کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔  دوسری جانب گورنر  اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے سکردو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہراہ قراقرم نو گو ایریا نہیں یہاں سے ہر شہری سفر کر سکتا ہے، جن کو جان و مال کا تحفظ دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ شاہراہ کو ایف سی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، متبادل راستوں پر بھی جلد از جلد کام شروع کرایا جائے گا، جبکہ جہاز کے کرایوں میں کمی کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ گورنر اور وزیر اعلٰی گلگت بلتستان نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کے لواحقین کو سانحہ کوہستان کے شہدا کے برابر معاوضہ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے دوران تماشائی بننے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سانحہ چلاس کے شہداء کی تعداد کا علم نہیں، تاہم صرف ایک شخص لاپتہ ہے، جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے دریا میں چلانک لگائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ موبائل نیٹ ورکس آج شام سے بحال ہو جائیں گے۔ سکردو کے حالات کو بگڑنے سے بچانے کا سارا کریڈٹ علماء کو جاتا ہے۔  انہوں نے علماء کرام سے گفتگوکرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ سانحہ چلاس کے ذمہ داران کوکسی طورپر نہیں بخشا جائے گااوراس سانحے میں ملوث افرادکوضرورسزاملے گی،انہوں نے کہاکہ حکومت کی اولین ترجیح میں امن ہے۔ اس موقع پرعلامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہاکہ ایسے واقعات نیم ملاؤں اورنیم مفتیوں کی وجہ سے پیش آرہے ہیں جواسلام کی اصل تعلیمات سے نابلدہیں ،شیخ محمد حسن جعفری نے پرزورمطالبہ کیاکہ ایسے سانحوں سے بچنے کے لئے حکومت اعلیٰ سطحی اقدامات کرے اورسنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد نقوی نے فیصل آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمران ملک کے لئے سکیورٹی رسک بن چکے ہیں، اس وقت ملک میں کوئی قانون نہیں، موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ملک داخلی اور خارجی مسائل سے  دوچار ہو سکتا ہے، ملک میں جاری ظلم و بربریت فقہی اصطلاحات کیخلاف ہیں بلکہ شرپسند عناصر امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، کوئٹہ، گلگت اور بلتستان میں ٹارگٹ کلنگ کر کے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امریکہ عالم اسلام کا دشمن ہے، جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کے سر کی قیمت مقرر کرنے پہ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ سے احتجاج کرے، کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے ملک کے شہری کے سر کی قیمت مقرر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی شیعہ سنی فساد نہیں کوئی شیعہ کسی اہلحدیث، دیوبندی، سنی یا بریلوی کو اور کوئی سنی بریلوی، اہلحدیث کسی شیعہ کو قتل نہیں کر سکتا، ایک مخصوص گروہ ملک میں امن و امان کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔  قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ حکمران کراچی، کوئٹہ، گلگت بلتستان میں ٹارگٹ کلنگ پر قابو پانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ملک کی موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا، فسادات کے پیچھے شرپسند عناصر ہیں جن پر حکمران قابو پائیں اور دہشتگرد تیار کرنیوالی فیکٹریاں ڈھونڈیں۔ حضرت علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ شرپسندوں کا ایک ٹولہ ہی ملک کے امن و امان کو داؤ پر لگائے ہوئے ہے، لیکن حکومت خاموش ہے، حکومت کو چاہیے کہ امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کرئے۔

شیعہ علماء کونسل حیدرآباد کی جانب سے سانحہ چلاس وگلگت کے خلاف قدم گاہ مولاعلی سے کو ہ نور چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید کاظم حسین شاہ نقوی‘ سید غلام محی الدین شاہ حسینی‘ نواز علی شاہ‘ مصطفی علی حیدری ودیگرنے کی۔ ریلی میں شامل افراد کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز تھے جن پر مختلف احتجاجی نعرے درج تھے.مقررین نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار سے گلگت ،گلگت بلتستان سے کراچی اور کوئٹہ سے خیبر تک مٹھی بھر وحشی درندوں جن کی پشت پناہی غیر ملکی طاقتیں اور اندرونی طور پر کچھ ناعاقبت اندیش مفاد پرست قوتیں کر رہی ہیں اور اس ظلم و بربریت کا شکار نہتے پاکستانی خاص طور پر اہل تشیع کے افراد ہیں انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان وزیراعظم ، وزیر داخلہ، چیف آف آرمی اسٹاف اور سب سے بڑھ کر چیف جسٹس آف پاکستان ہمارے اس تشنہ سوال کا جواب دیں کہ شیعہ نسل کشی کیوں ہو رہی ہے اور یہ کیسے رک سکتی ہے-

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سیاچین کے گیاری سیکٹر کے سانحہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے افسوس کا اظہار کیا ہے اور برفانی تودے تلے دب جانے والے پاک فوج کے افراد کی تلاش کے لئے امدادی کاروائیوںمیں مزید تیزی لانے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا ہے کہ قوم ایک بہت بڑے سانحے سے دوچار ہوئی ہے اور قدرتی آفت اور آزمائش میں متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہیں تاہم تودے تلے دب جانے والے جوانوں کی تلاش گویا حسرت و امید کی جاری جنگ ہے ۔اس موقع پرہماری دلی دعا ہے کہ اس سانحہ میں کم سے کم جانی نقصان ہو۔

کراچی: کاروان آل یٰسین کے زیر انتطام ”عظمت حج و زیارات کانفرنس“ برائے شیعہ زائرین اور حج آرگنائز ر کا انعقاد بھوجانی حال میں کیا گیاجس میں حجاج، زائرین اور حج آرگنائزر کی کثیر تعدا د نے شرکت کی ، گو کہ اس قسم کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان اور خاص کر کراچی میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے ، پہلی مرتبہ کے حساب سے کانفرنس متوقع امید سے کئی گناہ زیادہ کامیاب ہوئی جس میں شہر کراچی میں بسنے والے مومنین اور مومنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس کے ساتھ ساتھ شہر کی مقتدر اورمعزز شخصیات کے علاوہ علماءکی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض پروفیسرر انور زیدی نے انجام دئیے اور مختلف علماءحضرات مولانا محمد علی امینی، مولانا اصغر مشہدی،مولانا عبداللہ رضوانی،، علامہ باقر زیدی، علامہ جعفر رضا نقوی ،زوار صاحب اور کاروان آل یٰسین کے روح روان اورچیف آرگنائزر عابد رضوی صاحب کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا اور حج کی اہمیت، مقصد، حج کا فلسفہ، روحانی ثمرات اس کے علاوہ حج کی تیاری ، بکنگ ، قیام گاہ ، حج کے مختلف ارکان کی ادائیگی کے بارے میں مفصل اور سحر انگیز خطاب کیا ۔علماءو مقررین مقصد حج بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حج وہ واحد عبادت ہے جو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے اور اس خواہش کا اظہارخود خدا نے کیا ہے کہ تمام مسلمان اس کے گھر کا حج کریںجو استطاعت رکھتے ہیںنیزحج و زیارات کا ہدف یہ ہے کہ انسان زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی مصلحت پر راضی ر ہےں۔اس موقع پرعلامہ و ذاکریں حضرات نے خطاب میں جنت البقیع مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع وہ مقام ہے جہاں نہ دن میںکوئی سایہ ¿ ہے اور نہ رات کی تاریکی میں کوئی اُجالا ہے۔آخر میں کاروان آل یٰسین کے چیف آرگنائزر عابد رضوی خطاب میں کہا نے اس عظمت حج و زیارات کانفرنس میں شرکت کرنے والے حجاج،زائرین اور حج آرگنائز ر کی اس کثیر تعداد میں شرکت کاروان آل یٰسین کی معیاری اور پُر خلوص خدمات پر ان کے اعتماد ثمر ہے جس پر کاروان آل یٰسین اور ان کی پوری ٹیم شکریہ اداکرتی ہے۔اس عظمت حج و زیارات کانفرنس کی مناسبت سے کاروان آل یٰسین نے قرآن و عترت فاﺅنڈیشن کے صدر جناب خاور صاحب کے تعاون سے حج ، عمر و زیارات کے حوالے سے سی ڈی کے اسٹال بھی لگائے تھے جن میں حج کے عنوان سے سی ڈیز وغیرہ حجاج ، مومنین اور حج آ رگنائز ر کے لیے نہایت مناسب ہدیے پر دستیاب تھی جن میں شرکائے کانفرنس نے گہری دلچسپی کا اظہار کیااور کاروان آل یٰسین کی اس کاوش کو ثمر آور قرار دیا۔

کراچی : گلگت کراچی اور کوئٹہ میں جاری شیعہ نسل کشی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف صبح کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی اور گلگت میں ایک سو پچاس شیعہ مسافروں کی ٹارگٹ کلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کو گرفتار اور کالعدم جماعت کے قاضی نثار اور مولوی عطاء اللہ کو پھانسی دی جائے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مرکزی احتجاجی مظاہرہ کھارادر میں کیا گیا جس میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماؤں مولانا صادق رضا تقوی‘ مولانا علی انور‘ علامہ آفتاب جعفری‘ محمد مہدی‘ وصی محمد ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ‘ کراچی اور گلگت میں 150 سے زائد شیعہ معصوم مسلمانوں کے قتل عام میں امریکا وصیہونی ایجنٹ ملوث ہیں‘ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو بلوچستان بنانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ ملک میں انارکی پھیلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے گلگت بلتستان میں جاری سرکاری اداروں کی سرپرستی میں شیعہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو سرحدی علاقوں کو عدم استحکام سے نہیں بچایا جا سکے گا

کراچی :شیعہ علماء کونسل کراچی کے صدر علامہ سید علی محمد نقوی نے کہا کہ کراچی میں شیعہ نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس میں حکمرانوں کے ساتھ ساتھ کراچی پولیس کے چند نااہل افسران بھی شامل ہیں جن کے بارے میں بار بار توجہ دلانے کے باوجود ان کے خلاف کوئی محکمہ جاتی کارروائی عمل میں نہ لائی جاسکی۔ پولیس کو بے گناہ عوام کا قتل عام روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی تمام تر توجہ جوئے، سٹے کے اڈوں، شراب خانوں اور منشیات کے اڈوں پر مرکوز ہے۔ کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ایک مکتب فکر کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے جس پر ہم سی سی پی او کر اچی اختر گورچانی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ نااہل افسران کو معطل کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے اور ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کسی بھی شیعہ نوجوان کی ٹارگٹ کلنگ ہوگی تو اس کی ایف آئی آر، ایس ایس پی سینٹرل کے خلاف درج کرائی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ شرپسندوں پر نظر رکھیں اور کوئی بھی مشکوک فرد کو یا کوئی چیز نظر آئے تو اس کی فوری اطلاع پولیس اور اپنی تنظیم کے ذمہ داروں کو دیں اور کسی بھی حالت میں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں، انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں

کراچی (پ ر) شاہ کربلا ٹرسٹ رضویہ سوسائٹی کا ایک تعزیتی اجلاس الحاج سید دلشاد حسین رضوی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں گلگت، کوئٹہ کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں جاری شیعہ مسلمانوں کے قتل کی پرزور مذمت کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے عبرتناک سزائیں دی جائیں اور کالعدم دہشت گرد جماعت اور اس کے اراکین پر کسی بھی دوسرے نام سے حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے اور شہداء کے ورثاء کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ اجلاس میں شہداء کو ایصال ثواب کے لئے دعائے مغفرت، لواحقین سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے دعا کی گئی۔ اس موقع پر الحاج سید آغا عباس جعفری، سردار حسن اور دیگر بھی موجود تھے

خیرپور ” قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی ہدایت پر شیعہ علماء کونسل اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے مشترکہ طور پر خیرپور میں احتجاجی ریلی نکالی ریلی میں شریک افراد گلگت چلاس ، کراچی اور دیگر مقامات پر مذہبی دہشت گردی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے احتجاجی ریلی کی قیادت سید منور حسین شاہ، مولانا اسید اقبال زیدی ، مولاناعبدالغفور حیدری، امتیاز حسین شاہ، سجاد حسین مینگل، علی عظمت بلوچ، ظہیر عباس ساجدی، در محمد اور محمد علی چانڈیو نے کی شرکائے ریلی نے شہر بھر کی سڑکوں پر گشت کیا