Archive for the ‘United Nations News’ Category

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں آل خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکن عبد الہادی الخواجہ کو علاج کے لئے ڈنمارک روانہ کرے الخواجہ نے بحرینی حکومت کے سنگين جرائم کے خلاف دو مہینے سےبھوک ہڑتال کررکھی ہے۔ بان کی مون نے الخلیفہ حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ الخواجہ کو علاقہ کے لئے  ڈنمارک کے حوالے کردے کیونکہ الخواج کے پاس ڈنمارک کی شہریت بھی موجود ہے۔ الخواجہ کی گرفتاری اور اور اس کی بھوک ہڑتال کے بعد بحرین میں عوامی مظاہروں میں شدت آگئی ہے

Advertisements

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

شامی حکومت صدر بشارلاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کسی سمجھوتے پر رضامند دکھائی دی ہے۔ شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تصدیق کی ہے کہ دمشق حکام نے چھ نکاتی امن منصوبہ تسلیم کر لیا ہے۔ عنان کے بقول یہ شام میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شام میں خونریزی رکوانے کے لیے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا  گیا تھا، جس میں شامی فورسز کی جانب سے جنگ بندی، زخمیوں کو طبی امداد اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے لڑائی میں روزانہ دو گھنٹے کا وقفہ اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل چین اور روس بھی کوفی عنان کی حمایت کر چکے تھے

بدھ کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں مسلم اور عرب ملکوں کے نمائندے ایک بحث سے باہر نکل گئے جس میں ہم جنس پرست مرد و خواتین کے خلاف دنیا بھر میں ہونے والے امتیازی سلوک کو روکنے کی کوششوں پر بات کی گئی تھی۔ واک آؤٹ کرنے سے قبل ستاون رکنی تنظیم برائے اسلامی تعاون (او آئی سی) کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے ہم جنس پرستی کو ’اخلاق باختگی کا رویہ‘ قرار دیا۔ افریقی گروپ کے رہنما سینیگال نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمگیر معاہدے اس موضوع کا احاطہ نہیں کرتے۔ نائجیریا نے، جہاں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے گروپوں کے بقول ہم جنس پرست مرد و خواتین پر حملے ہوتے رہتے ہیں، کہا کہ اس کا کوئی بھی شہری جنسی میلان یا صنفی شناخت کی بناء پر تشدد کے خطرے سے دوچار نہیں ہے۔ عرب گروپ کی نمائندگی کرنے والے موریطانیہ نے کہا کہ ’جنسی میلان کے متنازعہ موضوع‘ کو مسلط کرنے کی کوششوں سے کونسل میں انسانی حقوق کے حقیقی مسائل پر بحث کمزور ہو جائے گی۔سفارت کاروں کے بقول 47 اراکین پر مشتمل انسانی حقوق کونسل میں یہ بائیکاٹ پہلی بار تین بڑے بلاکس نے ایک ساتھ کیا ہے۔ یہ مقاطعہ اس وقت کیا گیا جب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور اس عالمی ادارے کی انسانی حقوق سے متعلق کمشنر ناوی پیلے نے سیشن کو بتایا کہ تمام حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ ہم جنس پرست مرد و خواتین کو تحفظ فراہم کریں۔ پینل کے نام اپنے وڈیو پیغام میں بان کی مون نے کہا، ’ہمیں بعض لوگوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کا رویہ اس وجہ سے نظر آتا ہے کیونکہ وہ ہم جنس پرست مرد، خواتین، دونوں جنسوں کی طرف میلان رکھنے والے یا تیسری صنف کے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’یہ متاثرہ افراد کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور ہمارے مشترکہ ضمیر پر ایک بدنما داغ ہے۔ یہ بین الاقوامی قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ آپ کو انسانی حقوق کونسل کے اراکین کے طور پر اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔‘ اسلامی اور افریقی ملکوں نے کافی عرصے سے کونسل میں اس بحث کو روک رکھا تھا جسے اقوام متحدہ ’جنسی میلان اور صنفی شناخت‘ کا نام دیتا ہے۔کونسل میں بحث کے لیے یہ قرارداد امریکا اور جنوبی افریقہ نے پیش کی تھی۔ کمشنر ناوی پیلے نے ہم جنس پرستوں کے خلاف امتیازی سلوک کے بارے میں اپنی رپورٹ میں ’ہومو فوبیا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے خلاف دنیا میں ہونے والے مختلف مظالم کا ذکر کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے کل 192 رکن ملکوں میں سے 76 میں ہم جنس پرست رویے کو جرائم پیشہ قرار دینے کے قوانین موجود ہیں۔ پانچ ملکوں میں اس جرم کے تحت سزائے موت رائج ہے جن میں ایران بھی شامل ہے۔ناوی پیلے نے کہا کہ بعض ملک یہ دلیل دیں گے کہ ہم جنس پرستی اور دونوں جنسوں کی طرف میلان ’مقامی ثقافتی یا روایتی اقدار یا پھر مذہبی تعلیمات سے متصادم ہے، یا رائے عامہ اس کے خلاف ہے مگر جہاں تک آفاقی انسانی حقوق کا تعلق ہے تو ان کا احترام ضروری ہے۔‘

اقوام متحدہ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011 میں فلسطینیوں پر یہودیوں کے ہفتہ وار حملوں میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں یہودی مہاجرین کی جانب سے مقامی فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسندی کے واقعات پر مبنی جارہ کردہ تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 80 شہر ایسے ہیں جہان مقیم اڑھائی لاکھ فلسطینی شہری یہودی مہاجرین کی جانب سے شدت پسندانہ اور دہشت گردانہ اقدامات کی زد میں ہیں۔ ان میں سے 76 ہزار فلسطینی شہری ایسے ہیں جنکو یہودی مہاجرین کی جانب سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینیوں پر ہفتہ وار حملوں کی تعداد میں جن میں انکا جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے موجودہ سال 2011 میں گذشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ جبکہ 2009 کی نسبت 165 فیصد دیکھنے کو ملا ہے۔ بدھ کے روز اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق دفتر “اوچا” کی جانب سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہودی مہاجرین کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات نے مقبوضہ فلسطین میں فلسطینی شہریوں کی جان، مال اور معیشت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہودی مہاجرین کے شدت پسندانہ اقدامات قتل و غارت، فلسطینیوں کے اموال کی تخریب اور ان پر ناجائز قبضہ، انہیں اپنے کھیتوں میں جانے سے روکنے، انکی فصلوں پر حملہ کرنے اور انکے مویشیوں کو نقصان پہنچانے پر مشتمل ہیں۔اس رپورٹ میں ان شدت پسندانہ اقدامات کی ترویج اور اضافے کی ذمہ داری اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم پر عائد کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران ایسے یہودی مہاجرین کی جانب سے کثرت کے ساتھ شدت پسندانہ اقدامات دیکھنے کو ملے جو غیرقانونی اجتماعات میں شریک تھے۔ یہ اجتماعات حکومت کی جانب سے اجازت لئے بغیر فلسطینی شہری علاقوں میں تشکیل پائے تھے۔ 2008 کے بعد یہودی بستیوں کے مکینوں نے فلسطینی شہریوں اور انکے اموال کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ وہ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کو بلیک میل کرتے ہیں اور اسے غیرقانونی اجتماعات کو ختم کرنے سے روکتے ہیں۔ یہ شدت پسندانہ اقدامات “انتقام گیری” نامی جامع منصوبے کے تحت عمل میں لائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2011 میں دس ہزار سے زیادہ درخت جن میں سے اکثر زیتون کے درخت تھے اور فلسطینی شہریوں سے متعلق تھے یہودی مہاجرین کے ہاتھوں اکھاڑ پھینکے گئے۔ یہ اقدام سینکڑوں فلسطینی شہریوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنا۔ رپورٹ میں یہودی مہاجرین کی جانب سے ان شدت پسندانہ اقدامات کی اصلی وجہ اسرائیل کی پالیسیوں کو بیان کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حکومت نے غیرقانونی طور پر یہودی مہاجرین کو فلسطینی شہریوں کی سرزمین پر قبضہ کرنے میں مدد کی ہے اور انکی تشویق بھی کی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے ایسے قوانین بنائے ہیں جو یہودی مہاجرین کے حق میں اور کرانہ باختری میں مقیم 25 لاکھ فلسطینی شہریوں کے نقصان میں ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی شہریوں کی زمین پر یہودی مہاجرین کے ناجائز قبضے کو قانونی بنانے کی حکومتی کوششیں بھی شدت پسندی میں خاطرخواہ اضافے کا باعث بنی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی امور کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے یہودی مہاجرین کے خلاف 90 فیصد مقدمات کی پیروی نہیں کی گئی اور کسی قسم کی عدالتی کاروائی سے گریز کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیل کے قانون نافذ کرنے والے ادارے یہودی مہاجرین کے خلاف کسی قسم کی قانونی کاروائی کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہیں اور انکی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف شدت پسندانہ اقدامات کو نہیں روک پائے۔ یہودی مہاجرین کے خلاف قانونی کاروائی نہ ہونے کی ایک اور بنیادی وجہ وہ قانون ہے جسکے مطابق فلسطینی شہری پابند ہیں کہ وہ ایف آئی آر کیلئے یہودی بستیوں میں موجود پولیس اسٹیشنز سے رجوع کریں جہاں تک رسائی ان کیلئے بالکل ممکن نہیں۔ رپورٹ کے مطابق جون 2011 میں 127 افراد نے یہودی مہاجرین کی جانب سے مسلسل حملوں سے تنگ آ کر اپنا آبائی علاقہ ترک کر دیا اور دوسرے علاقوں کی جانب نقل مکانی کر لی۔ یہودی مہاجرین کے حملوں کا نشانہ بننے والے افراد کا نقل مکانی کر جانا انکے اہلخانہ پر انتہائی منفی اثرات کا باعث بنتا ہے۔ یہ اثرات جو معاشرتی، معیشتی، احساساتی اور مادی حوالے سے ظاہر ہوتے ہیں لمبی مدت تک ان کیلئے خطرے کا باعث ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں تاکید کی گئی ہے کہ اسرائیلی حکام انسانی حقوق کے تقاضوں اور بین الاقوامی قوانین کی رو سے یہودی مہاجرین کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف شدت پسند اور دہشت گردانہ اقدامات کو روکنے کے پابند ہیں۔ اسی طرح انکا قانونی وظیفہ بنتا ہے کہ وہ اب تک انجام پانے والے تمام دہشت گردانہ اقدامات کی تحقیقات کروائیں اور فلسطینی شہریوں کا ہونے والا نقصان پورا کریں۔

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے مختلف آپریشنز کے دوران آٹھ ہزار کشمیریوں کو ماورائے قانون مختلف عقوبت خانوں میں قید کررکھا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 2700 گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان قبروں میں مدفون افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے جس سے ثابت ہوا کہ یہ تمام افراد مقامی تھے جن کو بھارت کی سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کا لیبل لگاکر قتل کیا۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ نے جمہوریت کے دعویدار بھارت کا مکروہ چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب کر دیا ہے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک کشمیری قوم چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے ۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور 58 برس تک پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے کے لئے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہا لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے دوسرا ، تیسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا آپشن سامنے لاکر پاکستان کے 58 برسوں سے قائم استصواب رائے کے اصولی موقف کو دھندلا کر رکھ دیا۔ رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے ،،دانشوروں،، نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دے کر پوری کر دی۔ سابق صدر پرویز مشرف اگر ایک فون کال پر امریکہ کے آگے ڈھیر ہوگیا تھا تو آج جمہوریت کی چھتری تلے کشمیر کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے ،،زعمائ،، نے بغیر فون کال کے ہی بھارت کے سابقہ تمام گناہ معاف کرتے ہوئے اسے دنیا کے تقریباً دوسو ممالک میں سے پسندیدہ ترین ملک قرار دے دیا ہےاقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کردہ حالیہ رپورٹ ،،دیگ کے چند دانوں،، کی طرح ہیں جس سے پوری دیگ کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی ہسٹری شیٹ کے حامل ملک کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا عمل پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ اشارے بھی موجودہیں کہ بھارت کو پسندیدہ ملک امریکی دبائو پر قرار دیا جارہا ہے اگر اس بات میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو یہ اور بھی افسوسناک اور شرمناک فعل ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے والے دانشور کہتے ہیں کہ یہ اقدام تجارت کو فروغ دینے کے لئے اٹھایا گیا ہے اگر ان دانشوروں کی یہ منطق مان بھی لیا جائے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ یقینا بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والی کسی بھی قسم کی تجارت کا توازن ہمیشہ بھارت کی ہم سے کئی گنا بڑی معیشت اور انڈسٹری کے حق میں ہی رہے گا۔ دریں اثناء بھارت تجارت کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو غیر محسوس طریقے سے سردخانے میں ڈال کر پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے اوپر گرفت کو مزید کمزور کر دینا چاہتا ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور برابری کی سطح پر تجارت کو یقینی بنائے۔ مزید برآں حکومت پاکستان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر بھی سیاسی او ر سفارتی سطح پر پُرزور آواز احتجاج بلند کرے

نیو یارک……دنیا بھر میں ایک ارب افراد معذور ہیں۔ عالمی ادارہٴ صحت اور عالمی بینک نے حال ہی میں انکشاف کیا ہے کہ عالمی سطح پر تقریباً ایک ارب افراد کسی نہ کسی معذوری میں مبتلا ہیں۔ رپورٹ میں دنیا بھر کے ممالک سے کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے اہم اقدامات اٹھائیں جائیں۔ معذوری پر جاری کی جانے والی یہ پہلی عالمی رپورٹ ہے جس میں کہا گیا کہ دنیاکی کل آبادی کا پانچواں حصہ اپاہج ہے ،ترقی یافتہ ممالک میں کل روزگار میں سے44فیصد معذور افراد برسرروزگار ہیں۔ یہ رپورٹ جون میں جاری کی گئی۔

نیویارک: اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شامی بحران کے لیے خصوصی مندوب مقرر کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے مشترکہ طور پر کوفی عنان کے نام کا اعلان کیا۔ کوفی عنان شام کے بحران کو حل کرنے میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ دونوں کی جانب سے خصوصی مندوب ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے اعلان کے مطابق کوفی عنان اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے شام میں ہر طرح کے تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس بحران کا دیرپا اور مستقل حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اعلامیئے میں مزید کہا گیا کوفی عنان شام میں فعال اور سرگرم تمام جماعتوں اور بیرون ملک کام کرنے والی تمام شامی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے، انہیں ساتھ ملانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس دوران کوفی عنان کی معاونت کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ عرب ممالک کے ذمے ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بان کی مون کو خصوصی مندوب کے لیے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی کسی ایسی شخصیت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا تھا، جسے تمام فریقوں کی تائید حاصل ہو۔ اس حوالے سے کوفی عنان اور فن لینڈ کے سابق صدر مارتی آہتیساری کے ناموں پر غور کیا گیا۔ یہ دونوں رہنما ماضی میں مصالحت کار رہ چکے ہیں۔ عنان کینیا جبکہ  آہتیساری کوسووو میں ثالث رہے ہیں اور دونوں کو ان کی خدمات کے بدلے میں امن کا نوبل انعام دیا جا چکا ہے۔اسی دوران شام کے رونما ہونے والے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں شام کے ان سرکاری اہلکاروں کے نام درج ہیں، جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ اطلاعلات کے مطابق حمص شہر میں بشارلاسد کی حامی فوج کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شام کے مختلف شہروں میں ساٹھ سے زائد افراد سرکاری فوج کا نشانہ بنے۔ بین الاقوامی تفتیش کاروں پر مشتمل اس کمیشن نے جنیوا میں بتایا کہ انہوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ ان تمام افراد کے نام اور شناخت منظر عام پر لائی جائیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ ساتھ ہی اس رپورٹ میں شامی باغیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے عالمی برادری کو دمشق حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو بھی قریب لانے کی کوشش کی جائے

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ آمانو نے کہا کہ ابھی بعض ابہامات دور کرنے کے لئے باقی ہیں جن کو دور کرنے کے لئے طرفین میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے آمانو نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے لئے پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کا آغاز کردے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے ایٹمی شعبہ میں ایران کی پیشرفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے 20 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی مہارت حاصل کرلی ہے اور اس شعبہ میں ایران کا انحصار اب مغربی ممالک پر ختم ہوگیا ہے، ادھر روس کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئے ایران کے ایٹمی مسئلہ کو بہانہ بنا رہا ہے۔

بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے ايران کے ساتھ تازہ ترين مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں۔ تبصرہ نگار کے مطابق يہ ايک سفارتی حل کے ليے اچھی علامت نہيں ہےبين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں نے ايک فوجی اڈے کے اندر واقع ايرانی ايٹمی تنصيب پارشين تک رسائی کے ليے دو روز تک کوشش کی ليکن تہران حکومت اس پر راضی نہ ہوئی۔اس نے کليدی دستاويزات کا معائنہ کرنے اور ايٹمی پروگرام ميں حصہ لينے والے سائنسدانوں سے بات چيت کرنے کی اجازت بھی نہيں دی۔ اس کے بعد ايٹمی توانائی ايجنسی کے سائنسدان اپنے مشن ميں ناکام ہو کر واپس آ گئے۔ ايرانی حکام کی طرف سے کہا گيا کہ بين الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بات چيت خوشگوار اور پراعتماد ماحول ميں ہوئی۔ ايک ناکام مشن کی اس سے زيادہ غلط تشريح ممکن نہيں تھی۔ چند ہفتوں کے اندر معائنہ کاروں کے دوسرے ناکام مشن کا مطلب اگلے ہفتوں اور مہينوں کے ليے اچھا نہيں ہے۔ خاص طور پر جب اسے سياق و سباق کے حوالے سے ديکھا جائے۔
ايک دوسرے کی اقتصادی ناکہ بندی
ايرانی حکومت مارچ کے پارليمانی انتخابات سے قبل ايک اور زيادہ سخت پاليسی پر مائل نظر آتی ہے۔ ايرانی وزارت تيل نے پچھلے ويک اينڈ پر ہی فرانس اور برطانيہ کو ايرانی تيل کی فراہمی فوراً بند کر دينے کا اعلان کر ديا تھا۔ دونوں ملکوں نے يورپی يونين کی طرف سے ايرانی تيل کی درآمد پر يکم جولائی سے عائد کی جانے والی پابندی کو خاص طور پر سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کيا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ايرانی بحريہ نے شام کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے ليے دو جہاز بحيرہء روم پہنچا ديے تھے۔ فوجی لحاظ سے يہ ايک غير اہم کارروائی ہے ليکن شام کی صورتحال کی وجہ سے يہ ايک سوچی سمجھی اشتعال انگيزی تھی۔ يورپی اور امريکی ايرانی تجارت ميں خلل ڈالنے کی کوششوں ميں اچھا خاصا آگے بڑھ چکے ہيں۔ ٹيلی کميونیکيشن سسٹم اوررقوم کی منتقلی کا زيادہ تر کاروبار انجام دينے والا ادارہ Swift ايرانی بينکوں سے روابط منقطع کرنے ميں مصروف معلوم ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں ايران کو ان ممالک سے بھی تجارت کرنے ميں شديد مشکلات پيش آئيں گی جنہوں نے ايران پر کوئی پابندی نہيں لگائی۔ ان ميں روس اور چين پيش پيش ہيں۔
اعتماد کے بجائے مخاصمت
درحقيقت فريقين نے آخر ميں نئے مذاکرات کے ليے کوششيں کی تھيں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ايرانی مذاکراتی قائد جليلی نے يورپی يونين کی امور خارجہ کی ذمہ دار کیتھرين ايشٹن کو ان کے اکتوبر 2011 کے مکتوب کا جواب ديا تھا اور ايران کے ايٹمی پروگرام پر بات چيت پر آمادگی کا اشارہ ديا تھا۔ ايشٹن نے اپنے خط ميں پرامن مقاصد کے ليے ايٹمی پروگرام کے ايرانی حق کو واضح طور پر تسليم کيا تھا اور اس طرح ايک سازگار فضا پيدا کردی تھی۔بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کار ايران ميں يہ جانچ پرکھ کرنا چاہتے تھے کہ کيا ایران کا ايٹمی پروگرام واقعی پرامن مقاصد کے ليے ہے، جيسا کہ ايران کا دعوٰی ہے۔ ليکن ايران نے تعاون اور اس طرح رفتہ رفتہ اعتماد کا ماحول پيدا کرنے کے بجائے سختی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختيار کيا۔ اس طرح مذاکرات پر زور دينے والے جرمنی جيسے ممالک بھی يہ تاثر حاصل کر رہے ہيں کہ ايران کے ليے مذاکرات کا واحد مقصد مزيد مہلت حاصل کرنا ہے، جس دوران اسرائيل ايرانی ايٹمی تنصيبات پر حملے سے گريز کرتا رہے اور ايران ايٹمی ہتھياروں کی تياری جاری رکھے۔
اسرائيلی عزائم کی حوصلہ افزائی
اقوام متحدہ کی ويٹو طاقتيں اور جرمنی اب ايران کی نئے مذاکرات کی پيشکش قبول کرنے پر غور کر رہے ہيں۔ بين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں کے حاليہ مشن کا مقصد يہ بھی آزمانا تھا کہ ايران اپنے ايٹمی پروگرام کے بارے ميں شکوک و شبہات دور کرنے کے ليے کس حد تک معائنے کی اضافی اجازتيں دينے پر تيار ہے۔ يہ آزمائش دوسری بار ناکام رہی ہے۔يہ سب کچھ اسرائيلی حکومت کے عزائم کے لیے اور تقويت کا باعث ہے، جو يہ سمجھتا ہے کہ ايران کو صرف فوجی طاقت کے ذريعے ہی ايٹم بم بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو اگلے ہفتے سياسی مذاکرات کے ليے واشنگٹن جا رہے ہيں۔ اب امريکی صدر کے ليے اسرائيل سے يہ کہنا اور بھی مشکل ہو گيا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔

پیرس (رائٹرز) آئی ایم ایف کے سابق سربراہ اسٹراس کاہن کو فرانس کی پولیس نے گرفتار کر لیا، ان سے شمالی فرانس میں قحبہ خانے چلانے اور کمپنی فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق الزام کے بارے میں تحقیقات کی جارہی ہے،اس الزام میں اسٹراس کو پولیس 48 گھنٹے اپنی تحویل میں رکھ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ بان کی مون کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ  ہی ممکن  ہے اس نے کہا کہ مذاکرات کے علاوہ کوئي دوسرا راستہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ایران کے  ایٹمی معاملے کو حل کیا جاسکے۔ بان کی مون نے کہا کہ ایران نے بعض ابہمات کو ابھی دور نہیں کیا اور ان ابہامات کومذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے کہا کہ یہ ایام ہمارے لئے خوفناک ایام ہیں شام کے حق میں ویٹو سکیورٹی  کونسل کا پسندیدہ اقدام نہیں تھا جو واقعہ رونما ہوا وہ اچھی خبر نہیں تھی کیونکہ اس  سے پوری دنیا کا اعتماد سکیورٹی کونسل پر متزلزل ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی منفور اور منحوس بادشاہ نے فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جرائم پر کبھی بھی اظہار افسوس نہیں کیا لیکن شام کے خلاف وہ اپنے دل کی بات کہنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائيل کا خادم ہے۔ سعودی بادشاہ کا اعتماد اللہ تعالی پر ختم ہوگیا اور اس کا اعتماد امریکہ اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے سعودی عرب، اللہ تعالی سے  مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد طلب کرتا ہےاور اس ملک کے حکام کفر کی جانب بڑھ گئے ہیں

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیں۔برطانوی اخبار ٹيلي گراف کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیںاخبار کےمطابق دو ملين ڈالر ماليت کي منشيات کتابوں کے بيگ ميں چھپائي گئي تھيں جس پر عالمي ادارے کا لوگو چسپاں تھا. پوليس کے مطابق يہ تھيلے ميکسيکو سے بھيجے گئے ليکن جب اوہائيو ميں پارسل کي جانچ پڑتال کي گئي توان کا پتہ تلاش نہيں کيا جاسکا جس پر اسے اقوام متحدہ کو بھيج ديا گيا. نيويارک پوليس ڈيپارٹمنٹ کے ڈپٹي کمشنر پال براؤن کے مطابق مکتوب اليہ کا نام نہ ہونے پر کورئير سروس نے يہ سوچا کہ اقوام متحدہ کي علامت چسپاں ہے لہذاا نہوں نے وہاں بھيج ديا

روس نے اعلان کیا ہے کہ روس شام کے صدر بشار اسد کے استعفی پر مبنی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کردےگا۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس نے تاکید کی ہے کہ وہ عربی اور مغربی ممالک کی طرف سے ہر ایسی قرارداد کو ویٹو کردےگا جس میں شام کےصدر بشار اسد سے  استعفی کا مطالبہ کیا گيا ہو روس نے شام کے خلاف عربی اور مغربی ممالک کی قرارداد کے ابتدائی مسودے کو بھی ناقابل قبول قراردیا ہے

امریکی حکام نے عراق میں موجود ایک ایرانی اپوزیشن گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا تجویز کردہ منصوبہ قبول کرتے ہوئے اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی نئی جگہ پر منتقل کر دے۔ واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی حکام کی طرف سے یہ مطالبہ کل پیر کی رات کیا گیا۔ ایران  کے سیاسی منحرفین کے اس گروپ کو اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا اس لیے کہا گیا ہےکہ اس تنظیم کے عراقی حکومت کے ساتھ پائے جانے والے طویل تنازعے کو ختم کیا جا سکے۔ اس گروپ کا نام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن ہے  اور اسے امریکہ،ایران اور عراق ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی طرف سے سن 2003 میں عراق کے سابق ‌ڈکٹیٹر صدام حسین کے دور حکومت کے خاتمے سے پہلے تک عراقی سرزمین سے ایران پر حملے کیے جاتے تھے۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسلح ارکان کے کیمپ اشرف نامی مرکز کو بند کرنے کا اردہ رکھتی ہے۔ اس کیمپ میں تقریبا 3000 ایرانی منحرفین رہتے ہیں۔ کیمپ اشرف بغداد کے شمال میں واقع ہے اور عراقی حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ پیپلز مجاہدین کے اس کیمپ کو اس سال کے آخر تک بند کر دینا چاہتی ہے۔ لیکن سال رواں کے ختم ہونے میں اب دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ایرانی سیاسی منحرفین اور بغداد حکومت ابھی تک کیمپ اشرف کی بندش اور ان جلاوطن ایرانیوں کی کسی دوسری جگہ منتقلی سے متعلق کوئی قابل عمل حل نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔امریکی حکام کے مطابق اقوام متحدہ نے پیپلز مجاہدین کو جس دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے وہ جگہ بغداد ائرپورٹ کے نزدیک واقع ہے۔ پیپلز مجاہدین کو مجاہدین خلق بھی کہا جاتا ہے اور امریکی اہلکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سوچ یہ ہے کہ ان ایرانی جلاوطن شہریوں کی بغداد ائرپورٹ کے قریب منتقلی کے بعد خود اقوام متحدہ کا ادارہ ہی ان کی مونیٹرنگ بھی کرے گا۔ عالمی ادارے کے منصوبے کے مطابق بعد میں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان ایرانی اپوزیشن کارکنوں اور جلاوطن شہریوں کو مہاجرین کے طور پر دوسری جگہوں پر آباد کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایرانی حکومت کے ان مخالفین کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہو گا۔ ان میں سے بعض اپنی ایران واپسی سے خوف کھاتے ہیں کیونکہ ایران میں انہیں ریاست کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔مجاہدین خلق کے بہت سے دیگر ارکان کو امریکہ اور کئی دوسرے ملک دہشت گرد بھی سمجھتے ہیں۔ مجاہدین خلق کے مسلح ارکان نے ستر کے عشرے میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایک گوریلا تحریک میں بھی حصہ لیا تھا۔ رضا شاہ پہلوی کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور اسی لیے مجاہدین خلق کی طرف سے امریکی اہداف پر بھی کئی گوریلا حملے کیے گئے تھے۔ مجاہدین خلق سے عراق ہی میں کسی دوسرے جگہ منتقل ہو جانے پر آمادگی کا مطالبہ کرنے والے امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، لیکن انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ایرانی اپوزیشن تنظیم کو اقوام متحدہ کے منصوبے پر ردعمل کے سلسلے میں حقیقیت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔فلسطینی پرچم لہرانے کی یہ تقریب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوئی۔امریکہ نے فلسطین کو رکنیت دینے پر یونیسکو کو دی جانے والی مالی امداد میں زبردست کٹوتی کر دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت کو کسی بھی عالمی ادارے کی رکنیت کا اہل بننے سے پہلے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ’آج ہم یونیسکو کے رکن ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہماری خودمختار ریاست ہوگی۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے امریکہ کی جانب سے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو ایک جارحانہ اقدام قرار دیا ہے۔  فارس خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر صالحی نے آج تہران میں نیمیبیا کے وزیر خارجہ یوتونی نجوما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکہ کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے کے ایران کی فضائی حدود میں داخلے کے بارے میں کہا کہ ایران امریکہ کے اس جارحانہ اقدام کا مسئلہ اقوام متحدہ کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم ، ناوابستہ تنظیم اور دوسری عالمی تنظیموں میں بھی اٹھاۓ گا۔ علی اکبر صالحی نے اس بات کو بیان کرتے ہوۓ کہ امریکہ کے بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے کو اپنے کنٹرول میں لینے پر مبنی اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی کامیابی امریکہ اور دوسرے جارح ممالک کے لۓ عبرت کا باعث ہونی چاہۓ کہا کہ ایران ہمیشہ چوکس رہتا ہے اور وہ اپنے قومی اقتدار اعلی کا دفاع کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

اقوام متحدہ…:…لیبیا کے سابق باغیوں نے اب تک سات ہزار کے قریب افراد کو قید کر رکھا ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ملکوں سے ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں سیکرٹری جنرل بان کی مون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض افراد پر تشدد بھی کیا گیا ہے اور خواتین اور بچوں کو بھی مردوں کے ساتھ زیرحراست رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس بات کی اطلاعات ملی ہیں کہ سرت شہر میں باغیوں اور سابق حکومتی فورسز دونوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ یہ رپورٹ پیر کو سلامتی کونسل میں لیبیا سے متعلق ہونے والی ایک بحث کیلئے تیار کی گئی ہے۔

اپنی گفتگو میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کوئی نئی تبدیلی نہیں ہوئی، جو چیز ایران پر پابندیاں لگانے کا باعث بن رہی ہے وہ علاقے میں رونما ہونے والے واقعات ہیں، ان تبدیلیوں نے مغربی طاقتوں کے مسلط کئے ہوئے ڈیکٹیٹرز کو زمین پر پٹخ دیا ہے۔فارس نیوز کے مطابق مجلس شوری کے اسپیکر علی لاریجانی کا ایران پر لگائی جانے والی نئی پابندیوں، کہ جس میں مرکزی بینک پر لگائی جانے والی پابندی بھی شامل ہے، کے بارے میں کہنا تھا کہ ان کے اس اقدام کے جواب میں یقینا ایران بھی قدم اٹھائے گا اور ہم اس قسم کے ممالک سے جو ایران سے ایسا سلوک کریں، سے روابط رکھنے پر نظرِثانی کریں گے۔ فارس نیوز کے پارلیمانی خبرنگار کی رپورٹ کے مطابق مجلس شوری کے اسپیکر علی لاریجانی نے آج منگل کے دن ظھر کے وقت شھداءِ سپاہ کی یاد میں رکھے گئے مراسم میں نیوز رپورٹز سے بات چیت کی، اپنی گفتگو کے دوران اس سوال پر کہ یورپی یونین کی طرف سے لگائی جانے والی متوقع پابندیوں کا اعلان کہ جن میں مرکزی بینک پر پابندی بھی شامل ہے اس بارے میں آپکی کی کیا نظر ہے؟ کے جواب میں علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ میں  پہلے بھی اس مسئلے پر کہہ چکا ہوں کہ یہ روش جو امریکہ اور برطانیہ جیسے بعض ممالک نے اپنا رکھی ہے، بیوقوفانہ روش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کوئی نئی تبدیلی نہیں ہوئی، بس اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو چیز ان پابندیوں کا باعث بن رہی ہے وہ علاقے میں رونما ہونے والے واقعات ہیں۔ جب ہم اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علاقے میں ہونے والی تبدیلیوں نے مغربی طاقتوں کے مسلط کئے  ہوئے ڈیکٹیٹرز  کو زمین پر پٹخ دیا ہے۔ 
مجلس کے اسپیکر نے واضح کیا کہ ایران کے مرکزی بینک پر پابندی دوسری اقوام کے ساتھ بھی زیادتی ہے، انکا کہنا تھا ایران کے اسلامی انقلاب کو دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس میں وہ پیغام ہے جس نے ان ڈیکٹیٹرز کو زمین پر پٹخ دیا ہے، اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ انکے اس آخری قدم (ایران پر مزید پابندیاں لگانا) کا سلامتی کونسل میں انکی کی گئی کوششوں سے بھی تعلق ہے، لیکن اپنی ان کوششوں میں وہ کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہے۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے کہ مغربی طاقتوں نے ایران کے خلاف ایک قرارداد پاس کی ہے لیکن یہ قرارداد بھی مضبوط نہیں تھی۔    ایران کی قومی اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ جو کام وہ کرنے جا رہے ہیں، اس بھول میں نہ رہیں کہ اسکا جواب نہیں دیا جائے گا بلکہ ایران بھی ایسے ممالک کی اس روش کے جواب میں ان سے تعلقات پر نظرِثانی کرے گا اور ہم بھی جلد ہی اسمبلی میں اس مسئلے کی چھان بین کریں گے۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا مرکزی بینک پر پابندی لگانے سے مغرب اپنے ھدف کو حاصل کر لے گا یا نہیں، کہا کہ انہوں نے ایک قدم اٹھایا ہے، ایران بھی یقینا اقدام کرے گا البتہ یہ اقدامات ایران کی جوہری توانائی کے پروگرام میں کسی قسم کی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے اور نہ ہی اسپر تاثیرگزار ہوں گے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کی مجموعی آبادی جو اس ہفتے سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ اس صدی کے آخر تک آبادی دگنی سے زیادہ ہو جائے گی۔دنیا کی آبادی میں اس تیز رفتار اضافے کی وجہ سے زمینی وسائل شدید دباؤ کا شکار ہو جانے کا خطرہ ہے جس سے غربت اور بھوک بڑھے گی۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کی آبادی میں ہر سال آٹھ کروڑ انسانوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ تازہ اعداد و شمار نے بہت سے ماہرین کو حیران کر دیا ہے کیونکہ دنیا کی آبادی میں اضافہ ان کی توقعات سے کہیں زیادہ رفتار سے ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے پرانے اندازوں کے مطابق دنیا کی آبادی اکیسویں صدی کے اختتام تک دس ارب تک پہنچنے کی توقع تھی۔ تازہ اعداد و شمار اقوام متحدہ کے آبادی سے متعلق ادارے یو این ایف پی اے کی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں جو دنیا کی آبادی کے سات ارب تک پہنچنے کے تاریخی موقع کی مناسبت سے شائع کی جانی ہے۔ یہ رپورٹ ’دی اسٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن 2011‘ دنیا کے کئی شہروں میں بیک وقت شائع کی جانی ہے جب اکتیس اکتوبر کو دنیا میں کہیں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کی کل آبادی سات ارب کے ہندسے کو چھو جائے گی۔ چیئرمین آف پاپولیشن میٹرز راجر مارٹن کا جو دنیا کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے متحرک ہیں کہنا ہے کہ دنیا تباہی کے ایک نئے حصے میں داخل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’ہماری دنیا ایک خطرناک طوفان کی طرف بڑھ رہی ہے جس میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ، ماحولیاتی تبدیلی اور تیل کی پیدوار اپنے انتہائی درجے پر پہنچ کر کم ہونا شروع ہو گی۔ انیس سو ساٹھ سے اب تک دنیا کی آبادی دگنی ہو گئی ہے جس کی بڑی وجہ ایشیاء، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں پیدائش کی شرح میں اضافہ اور بچوں کے لیے اچھی اور بہتر ادوایات کی دستیابی ہے جس سے بچوں کی شرح اموات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے سے اسرائیل کا ’’قبضہ ختم نہیں ہو گا‘‘ مگر اس سے فلسطینیوں کا ہاتھ ضرور مضبوط ہو گا۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔  فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ کہ وہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کا مطالبہ ضرور پیش کریں گے۔ فلسطینی صدر نے ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقوام متحدہ سے اپنے جائز حق کی درخواست کریں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ اقوام متحدہ میں رکنیت حاصل کرنے سے اسرائیل کا ’’قبضہ ختم نہیں ہو گا‘‘ مگر اس سے فلسطینیوں کا ہاتھ ضرور مضبوط ہو گا۔ واشنگٹن نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی ریاست کے حوالے سے پیش کی جانے والی قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔ بعض امریکی سیاست دانوں نے کہا ہے کہ اگر فلسطینی انتظامیہ نے اپنی یہ کوشش جاری رکھی، تو امریکہ اس کی امداد بند کر دے گا، جو اس وقت سالانہ 500 ملین ڈالر کے قریب بنتی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ امریکہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے پر کاربند ہے، تاکہ ان کی کامیابی کے بعد دو ایسی ریاستیں قائم ہوں، جو ایک دوسرے کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہ سکیں۔  ادھر یورپی یونین کی جانب سے بھی فلسطینیوں کو اس ارادے سے باز رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی آ گئی ہے اور وہ فلسطینی انتظامیہ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں آزاد ریاست کی قرارداد پیش نہ کرے۔ اس میں ناکام رہنے پر یورپی یونین فلسطینیوں کو اس بات پر بھی مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ مکمل آزاد ریاست کی بجائے اقوام متحدہ میں اپنا درجہ بڑھا لیں۔ اگر سلامتی کونسل میں امریکہ نے فلسطینیوں کی درخواست کو ویٹو کر دیا، تو وہ پھر جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جا کر اسے پیش کر سکتے ہیں جس کے پاس انہیں مکمل رکنیت دینے کا اختیار تو نہیں ہے مگر وہ فلسطین کو ایک غیر رکن ریاست کے طور پر تسلیم کر سکتے ہیں۔ اس حیثیت سے فلسطینیوں کو مختلف عالمی اداروں تک رسائی کا موقع مل جائے گا جن میں بین الاقوامی فوجداری عدالت بھی شامل ہے جہاں غرب اردن پر اسرائیل کے طویل عرصے سے قبضے کے خلاف وہ اس پر ہرجانے کا دعوٰی بھی کر سکتے ہیں۔ادھر اسلامی تنظیم حماس نے اس منصوبے کو نمائشی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ منگل کو عرب لیگ نے محمود عباس کے منصوبے کی حمایت کی۔ عرب وزرائے خارجہ نے ایک ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں لیگ کے سربراہ اور چھ اراکین شامل ہوں گے اور وہ متنازعہ ریاست کی درخواست کو آگے بڑھائے گی۔ محمود عباس جنہیں بین الاقوامی دباؤ کے سامنے کمزور تصور کیا جاتا ہے کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اسرائیل کے نزدیک فلسطینیوں کی اقوام متحدہ میں جانے کی کوشش مذاکرات سے گریز اور یہودی ریاست کو سلامتی کی ضمانت فراہم کرنے سے انکار ہے۔

نیویارک: فلسطین کے مذاکراتکار صاب ارکات نے کہا ہے کہ فلسطین اپنی مؤقف پر قائم ہے اور رکنیت کیلئے درخواست لازمی دی جائے گی۔ صدر محمود عباس تئیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی اس درخواست کو ویٹو کر دے گا۔  فلسطین کے صدر محمود عباس اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک پہنچ گئے ہیں جہاں وہ فلسطین کو بطور آزاد ریاست رکنیت دینے کی درخواست کریں گے۔ محمود عباس پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ وہ ہر صورت میں فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دینے کیلئے درخواست دیں گے۔ دوسری جانب امریکہ نے کہا ہے کہ وہ فلسطین کی اس درخواست کو ویٹو کر دے گا۔ فلسطین کے مذاکراتکار صاب ارکات نے کہا ہے کہ فلسطین اپنی مؤقف پر قائم ہے اور رکنیت کیلئے درخواست لازمی دی جائے گی۔ صدر محمود عباس تئیس ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ صدر محمود عباس کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے امن مذاکرات شروع کرنے چاہئیں۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران جو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی غرض سے نیویارک پنچے ہیں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ قوموں کے حقیقی مطالبات پر توجہ دے۔ ارنا نیوز ایجنسی کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب محمود احمدی نژاد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 66 ویں اجلاس میں شرکت کیلئے آج صبح نیویارک پہنچے۔ انہوں نے جان اف کینڈی ائرپورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ قوموں کی عزت، احترام، تشخص اور مفادات کی حفاظت کرے۔ جناب محمود احمدی نژاد نے کہا کہ اقوام متحدہ پر اس وقت دوسری جنگ عظیم کے چند فاتح ممالک کا قبضہ ہے اور دوسرے ممالک کو اس بین الاقوامی ادارے میں آمدورفت کیلئے امریکہ کا ویزا لینا پڑتا ہے جبکہ امریکہ بھی باقی ممالک کی طرح اقوام متحدہ کا رکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امکان فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی تمام حکومتیں مکمل آزادی کے ساتھ اقوام متحدہ میں آمدورفت انجام دے سکیں اور اپنے عوام کے مطالبات کو مطرح کر سکیں۔ ایرانی صدر اپنے 5 روزہ دورے کے دوران جنرل اسمبلی میں خطاب، امریکہ میں مقیم ایرانیوں کے ساتھ ملاقات اور امریکی یونیورسٹیوں کے اساتید اور طلبا سے ملاقات انجام دیں گے۔ اس دوران وہ مختلف نیوز چینلز کے ساتھ انٹرویو بھی انجام دیں گے۔ جناب محمود احمدی نژاد جمعرات کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے جس میں اہم عالمی ایشوز پر اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف بیان کیا جائے گا۔

شیخ الازہر مصر نے اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کو مستقل حیثیت دیئے جانے کی درخواست کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے ویٹو پاور استعمال کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق شیخ الازہر مصر جناب احمد الطیب نے تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کو مستقل حیثیت دلوانے میں اسکی حمایت کریں اور امریکہ کی جانب سے ویٹو کا اختیار استعمال کرنے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے یہ بات فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ جناب محمود عباس سے اپنی ملاقات میں کہی۔ جناب احمد الطیب نے فلسطینی ریاست کو مستقل حیثیت دلوانے کیلئے اقوام متحدہ سے درخواست کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے یہ درخواست ویٹو کئے جانے کا مقابلہ کریں۔  شیخ الازہر مصر نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم ممالک اور اسی طرح وہ ممالک جو اقوام متحدہ میں اثر و رسوخ کے حامل ہیں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ ابومازن کی مدد کریں اور امریکہ کے خلاف جو ہمیشہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی حمایت کرتا آیا ہے اٹھ کھڑے ہوں۔ جناب احمد الطیب نے فلسطین اور بیت المقدس کی ھمہ جہت حمایت کو تمام مسلمانوں کا شرعی وظیفہ قرار دیتے ہوئے دولتمند اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصی کی حفاظت اور حمایت کیلئے موثر اقدامات انجام دیں۔

امور خارجہ کے پارليماني کميشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ بدستور تل ابيب اور واشنگٹن کے مفادات کا تحفظ کررہي ہے-علاؤالدين بروجردي نے غزہ کے محاصرے اور کاروان آزادي پر حملے کے بار ے ميں اقوام متحدہ کي تحقيقاتي کميٹي کي جانبدارانہ رپورٹ کا حوالہ ديتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ سے اقوام متحدہ کي ساکھ متاثر ہوئي ہے- ايران کے رکن پارليمان نے کہا کہ اسرائيل اقوام متحدہ کي تائيد ہي کے نتيجے ميں قائم ہوا ہے اور صہیوني ریاست بدستور اس عالمي ادارے کو اپنے اثرو رسوخ کے تحت چلارہي ہے-واضح رہے کہ جيفري پالمر کي قيادت ميں اقوام متحدہ کي تحقيقاتي کميٹي نے غزہ کے لئے جانے والے کاروان آزادي پر اسرائيلي فوجيوں کے وحشيانہ حملے کو جائز قرار ديتے ہوئے مذکورہ بحري کارواں کي غزہ روانگي کو غير قانوني قرار ديا ہے- اکتيس مئي دوہزار دس کو صہیوني فوج کے کمانڈوز نے غزہ کے لئے عالمي امداد لے جانے والے کاراون آزادي ميں شامل بحري جہاز مرہ مرہ پر بين الااقوامي سمندري حدود ميں حملہ کرديا تھا- اس حملے ميں ترکي سے تعلق رکھنے والے نو امن کارکن شہيد ہوگئے تھے- اسرائيل نے غزہ کے پندرہ لاکھ لوگوں کا محاصرہ کر رکھا ہے

پشاور: اس صدی کی ابتداء میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی  نے عرب ممالک کے مطلق العنان حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اپنے عوام کو حقوق دے کر خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو بہترین اصول حکمرانی کے لئے انہیں امام علی ع کی طرف سے مصر میں اپنے گورنر مالک اشتر کو بھیجے جانے والے خط میں موجود اصولوں کو آئیڈئیل بنانا ہوگا عرب ممالک کے مطلق العنان حکمران اگر ڈکٹیٹر شپ و مظالم ترک کرکے بہترین حکمرانی کے لئے امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کو اپنا آئیڈئیل بنا لیتے تو آج ذلت سے بچ جاتے۔ اکیسویں صدی کے اوائل میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے عرب ممالک کے حوالے سے اپنی جاری شدہ رپورٹ میں عرب ممالک کے مطلق العنان حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ اگر وہ اپنے عوام کو حقوق دے کر خوش دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو بہترین اصول حکمرانی کے لئے انہیں امام علی ع کی طرف سے مصر میں اپنے گورنر مالک اشتر کو بھیجے جانے والے خط کے اصولوں کو آئیڈئیل بنانا ہوگا۔  اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے یو این ڈی پی نے اپنی اس رپورٹ میں امیر المومنین امام علی ع کی طرف سے مصر میں اپنے گورنر مالک اشتر کے نام رعایا اور عوام سے حسن سلوک اور حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے اہم اصولوں کا ذکر کیا تھا اور عرب ممالک کے ڈکٹیٹروں کو تنبیہہ کیا تھا کہ اگر عرب ممالک پر مسلط ڈکٹیٹروں نے امام علی ع کی معین کردہ اصول حکمرانی کو نہ اپنایا تو ان ممالک میں عوامی بغاوت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ عرب ممالک کے مطلق العنان حکمران بالخصوص مصر میں کئی دہائیوں تک مسلط اس زمانے کا فرعون حسنی مبارک اگر رعایا سے حسن سلوک کی خاطر مصر کے گورنر مالک اشتر کے نام بھیجے جانے والے خط میں امیر المومنین امام علی ع کے سفارش کردہ اصول و ظوابط پر کاربند رہتے تو آج ذلت و رسوائی کے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ مگر انہوں نے کیا کیا کہ اسرائیل اور امریکہ کی خوشنودی کی خاطر اپنے عوام پر وہ مظام ڈھائے کہ اگر خود وہی (امریکہ یا اسرائیل) یہاں حکمران ہوتے شاید اس طرح نہ کرپاتے۔ چنانچہ وہ اپنے ہی مکافات عمل کا مزہ اب چک رہا ہے۔ 31 سال تک تخت قاہرہ پر عیش کرنے والا آج اپنے پیاروں سمیت جیل میں بطور مجرم زندگی گزار رہا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے سابق نگران وزیراعظم ملک معراج خالد نے بھی اپنے نگران دور حکومت میں ملک کے تمام محکموں کے افسران اور اعلی حکام کو آئیڈئیل گورننس یا بہترین طرز حکمرانی اور رعایا سے حسن سلوک کے لئے امیرالمومنین ع کا یہی “نامہ” تمام محکموں کے سربراہوں کو بھیجا تھا تاکہ پاکستان سے کرپشن و بیڈ گورننس یا بدترین حکمرانی اور رعایا سے ظلم و جبر کا سلسلہ ختم ہوجائے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے شام کے صدر بشار الاسد پر زور دیا ہے کہ وہ شہریوں کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال بند کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں شام میں بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش ہے۔ اقوام متحدہ کے پریس آفس کے ایک بیان کے مطابق سیکریٹری جنرل بان کی مون نے مطالبہ کیا ہے کہ بشار الاسد شہریوں کے خلاف فوج کی تعیناتی کا سلسلہ بند کریں۔ بیان میں مزید کہا گیا: ’’شام کے صدر بشار الاسد کے ساتھ آج (ہفتہ کو) ایک ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل (بان کی مون) نے گزشتہ دِنوں کے دوران وہاں  تشدد کے واقعات اور ہلاکتوں میں اضافے پر اپنی اور بین الاقوامی برادری کی تشویش کا اظہار کیا ہے۔‘‘ دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ احمد داوود اوغلو منگل کو شام کا دورہ کریں گے۔ ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوآن کا کہنا ہے کہ احمد اوغلو دمشق حکومت کے لیے انقرہ کا پیغام لے کر جائیں گے۔خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترکی رواں برس تک شام کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا رہا ہے، تاہم اس کی جانب  سے وہاں پانچ ماہ سے جاری عوامی بغاوت کو دبانے پر بشار الاسد پر کھل کر تنقید بھی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی، جب جون میں شام کے دس ہزار سے زائد شہری سکیورٹی فورسز کے آپریشن سے بچتے ہوئے ترکی میں داخل ہوگئے۔ ان میں سے بیشتر ابھی تک ترکی کے پناہ گزین کیمپوں میں آباد ہیں۔ ترکی کے صدر عبداللہ گُل نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ شام کے وسطی شہر حما میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی نے انہیں دہلا کر رکھ دیا۔ ترک وزیر اعظم اردوآن نے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا: ’’ہمارا پیغام بھرپور انداز سے (بشار الاسد کو) پہنچایا جائے گا۔’’ ان کا مزید کہنا تھا کہ ترکی اور شام کی سرحد ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر طویل ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات قائم ہیں، اس لیے ترکی شام کے حالات کو تماشائی بن کر نہیں دیکھ سکتا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر نے صیہونی حکومت کی حمایت کرتےہوئے کہا ہےکہ امریکہ خودمختار فلسطینی ملک کو اقوام متحدہ میں شامل کرنےکی درخواست کی مخالفت کرے گا۔ فارس نیوز کے مطابق راسمری ڈیکارلو نے کہاکہ ستمبر میں جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کوآزاد ملک کے طورپرتسلیم کئےجانے کی درخواست پر غور کیا جاے گا تو امریکہ، فلسطین کو اقوام متحدہ کی رکنیٹ دینے کی مخالفت کرے گا۔ ادھر صیہونی حکومت خودمختار فلسطینی مملکت کو تسلیم کئےجانے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کررہی ہے اور اس سلسلےمیں دنیا کے مختلف ملکوں سے صلاح و مشورہ کرکے کوشش کررہی ہے کہ خودمختارفلسطینی مملکت کو تسلیم نہ کیا جاے۔ ستمبر کے مہینے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کو آزاد ملک کی حیثیت سے تسلیم کئےجانے کی درخواست پر غور کرے گي۔ خودمختارفلسطینی مملکت انیس سو ‎سڑسٹھ کی حدود میں تشکیل دی جاے گي ۔

مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کےنمائندےنےاس علاقےمیں قیام امن کےعمل میں پیشرفت کامطالبہ کیاہے۔رپورٹ کےمطابق مشرق وسطی کےلئےاقوام متحدہ کےخصوصی نمائندےرابرٹ سری نےمشرق وسطی میں سازبازکےعمل میں تعطل پرتشویش کااظہارکرتےہوئےکہاہےکہ فلسطین اورصیہونی حکومت کےدرمیان تنازعات کےحل کےلئےہونےوالی کوششیں بحران کاشکارہوگئی ہیں ۔ رابرٹ سری نےمشرق وسطی میں امن وامان کےفقدان کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ اس علاقےمیں مذاکرات کےعمل میں پیشرفت اس وقت ہمیشہ سےزیادہ ضروری نظرآتی ہے۔

اقوام متحدہ. .. اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ کانگو میں اس سال خسرہ کی بیماری سے ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک ہوئے ہیں۔کانگو میں اقوام متحدہ کے انسانی امور کے مشن کے مطابق کانگو میں جنوری سے جون تک خسرہ کی بیماری میں مبتلا گیارہ لاکھ سے زائد متاثرہ بچوں میں سے ایک ہزار ایک سو پنتالیس بچے ہلاک ہوگئے ہیں۔ مشن کے مطابق کانگو کے پانچ صوبوں میں اب تک 3.1 ملین بچوں کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق کانگو میں بچوں کی بڑی تعداد خسرہ کے علاوہ ہیضے اور پولیو میں بھی مبتلا ہیں۔ کانگو میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے علاوہ دیگر نجی ادارے بھی خسرہ سمیت دیگر بیماریوں کی روک تھام کیلئے کام رہے ہیں۔

ایک عرب سفارتکار کے مطابق لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی یونیفل فورس اسرائيل کے لئے جاسوسی کررہی ہے۔ ایک عرب سفارتکار کے مطابق لبنان میں تعینات یونیفل فورس  اسرائيل کے لئے جاسوسی کررہی ہے۔ اس عرب سفارتکار کے ملک کے حزب اللہ کے ساتھ اچھے روابط نہیں ہیں۔ عرب سفارتکار کے مطابق یونیفل کے فرانسیسی اور اٹلی کے جاسوسی دستے جو جنوب لبنان میں یونیفل فورس میں شامل ہیں انھوں نے حزب اللہ کے 100 میزائل ٹھکانوں کی نشاندہی کی ہے۔ اقوام متحدہ کی یونیفل فورس جنوب لبنان میں تعینات ہے اور حزب اللہ نے بارہا کہا ہے کہ یونیفل اسرائيل کے لئے کام کررہی ہے۔

اقوام متحدہ میں انسداد منشیات کے ادارے کے سربراہ یوری فدوتف نے آج تہران میں صدر جناب احمدی نژاد سے ملاقات کی ہے ۔اس ملاقات میں صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ منشیات سے مقابلہ کرنے کےلئے عالمی سطح پر عزم راسخ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات انسانیت کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے مقابلے کے لئےعالمی سطح پر پختہ عزم کی ضرورت ہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ، افغانستان اور دیگر علاقوں میں منشیات کی پیداوار سے ہمہ گیر مقابلہ کرنے کی غرض سے مدد کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو کو منشیات سے مقابلہ کرنے کے لئے حقیقی معنی میں تعاون کرنا چاہیے ۔ اس ملاقات میں اقوام متحدہ میں انسداد منشیات کے ادارے کے سربراہ یوری فدوتف نے منشیات کا مقابلہ کرنےمیں اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں کوسراہا۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ منشیات کے مقابلے کے لئے ایران کی مرکزیت سے علاقائي تعاون کے لئے اقدامات کرے گي ۔

اقوام متحدہ کے علمي اور ثقافتي امور کے ادارے يونسکو نے بيت المقدس کو اسرائيل کا دار الحکومت قرار دينے کے اپنے اعلان کو واپس لے ليا ہے۔ادارے نے فلسطيني عوام اور اسلامي تنظيموں کي جانب سے زبردست احتجاج کے بعد اپنا موقف ترک کر دياـيونسکو نے اپنے ايک بيان ميں کہا ہے کہ ہم اپنے موقف سے پسپائي اختيار کرتے ہيں ـ ادارے نے حال ہي ميں اپني ويب سائٹ پر بيت المقدس کو اسرائيل کا دار الحکومت قرار ديا تھاجس پر فلسطينی تنظيموں اور اسلامي ممالک نے سخت احتجاج کيا تھا

ہر سیکنڈ دنیا بھر میں 258 بچے پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک گھنٹے دنیا کی آبادی میں دو لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو پچپن افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی ہر سال دنیا میں تراسی ملین افراد کا اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھرمیں ہر سال پاکستان کی آدھی آبادی کے قریب اضافہ ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق آئندہ برس دنیا کی آبادی سات ارب سے بھی تجاوز کر جائے گی۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی آبادی سن 2025 تک آٹھ جبکہ دو ہزار پچاس تک نو ارب سے بڑھ جائےگی۔ یہ اندازے غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی وثوق سے یہ نہیں بتا سکتا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے انسانی طرز زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔اگر آج دنیا کے تمام افراد ترقی پذیر ممالک کے درمیانے طبقے کی طرح بھی زندگی بسر کریں، تو ہمیں وسائل کے حصول کے لیے ایسی ہی ایک نئی زمین درکار ہو گی۔دنیا کے تمام انسانوں کے لیے ایک ہی زمین ہے، یہی وجہ ہے کہ آج کی طرح ہر سال ’عالمی یوم آبادی‘ منایا جاتا ہے۔ گزشتہ برس اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کا کہنا تھا، ’’اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی بہتری کے لیے قائم کردہ ہزاریہ اہداف ہم اسی صورت میں حاصل کر سکتے ہیں، جب تمام مردوں، عورتوں، بچوں اور بچیوں کی ضروریات کو ہم مل کر پورا کریں گے۔‘‘اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) نے سن 1889 میں عالمی یوم آبادی منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دن کو منانے کے لیے گیارہ جولائی  کا انتخاب اس وجہ سے کیا گیا تھا کیونکہ 11 جولائی 1987ء کو دنیا کی آبادی نے پانچ ارب کی حد عبور کی تھی۔ اس دن کو منانے کی منظوری اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دی گئی تھی۔اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کی خصوصی کامیابیوں کو یاد کرنا اور عالمی مسائل کے حل کے بارے میں سوچ کو فروغ دینا ہے۔ سال بھر میں اقوام متحدہ کی طرف سے مختلف مقاصد کے لیے مجموعی طور پر 70 دن منائے جاتے ہیں۔

عالمی برادری نے دنیا کے نقشے میں سوڈان سے علیحدگی کے بعدعیسائی اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک نئے ملک جنوبی سوڈان کے قیام کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ یہ نہ صرف جنوبی سوڈان بلکہ پورے افریقا کیلئے ایک تاریخی دن ہے۔مصر نے بھی نئی ریاست کو تسلیم کرنے اعلان کیا ہے۔کینیڈا نے بھی جنوبی سوڈان کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جنوبی سوڈان کے عوام کیلئے اہم موقع ہے کہ وہ اپنے بہتر مستقبل کی تعمیر کریں۔ ادھر جنوبی سوڈان کے صدر سلوا کیر نے کہا ہے کہ وہ مشکل میں گھرے سرحدی علاقے میں امن لائیں گے انہوں نے باغیوں کو امن کی بھی پیشکش کی۔انہوں نے آبی،دارفر،بلیو نیل اور جنوبی کورڈوفان کے عوام کو یقین دلایا کہ ہم آپ کو نہیں بھولے جب آپ چیخ وپکار کررہے تھے تو ہم بھی چیخ رہے تھے جب آپ کا خون بہہ رہا تھا تو ہم بھی خون بہا رہے تھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے آزادی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے حاضرین سے کہا کہ وہ جنوبی سوڈان میں بدعنوانی کے سرطان کے خاتمے کیلئے بھی لڑیں۔انہوں نے اس موقع پر ان تمام افراد کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جنہوں نے سوڈان کے خلاف اسلحہ اٹھایا۔

اسرائیلی حکام لبنان میں اقوامِ متحدہ کے اس افسر کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جس نے اپنی رپورٹ میں مئی میں فلسطینیوں کی جانب سے سرحد کی خلاف ورزی پر اسرائیلی رد عمل پر نکتہ چینی کی ہے۔  اسرائیل میں سفارتی ذرائع نے ان خبروں پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔  خیال ہے کہ اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں اسرائیلی فوج کی جانب سےمظاہرین پر فائرنگ کی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لبنان سے سرحد کی خلاف ورزی کرنے والوں میں سے سات مظاہرین اس فائرنگ میں ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ واقعہ نکبہ کی برسی کے موقع پر ہوا تھا جب فلسطین کے حامیوں نے اسرائیلی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر شام کے ساتھ لگنے والی اسرائیلی سرحد پر بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں جہاں لوگوں نے اسی طرح کے احتجاج میں حصہ لیا تھا۔ اس وقعہ سے متعلق رپورٹ لبنان میں اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئرنمائندے مائیکل ولیمز نے تیار کی تھی۔ رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ فلسطینیوں کا یہ اقدام ا اشتعال انگیز تھا لیکن ساتھ ہی اسرائیلی فوج پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوج نے ان مظاہرین پر فائرنگ کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا جو نہتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بھیڑ پر قابو پانے کے روایتی طریقے بھی استعمال نہیں کیے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اب اسرائیلی سفارت کار مسٹر ولیمز کے ساتھ ملاقات سے انکار کر رہے ہیں ان کا خیال ہے کہ مسٹر ولیمز نے مظاہرین کے بجائے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

دو ماہ کی تاخیر کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے صہیونی ریاست کے یوم النکبۃ کے مظالم کی مذمت کی ہے۔فلسطینی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بان کی مون نے لبنانی سرحد پر مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر حملے میں غیر روایتی ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کی ۔ واضح رہے کہ اس حملے میں سات فلسطینی شہید ہوگۓ تھے ۔ بان کی مون نے کہا ہے کہ صہیونی ریاست اس واقعے کے لۓ جوابدہ ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مزید کہا ہے کہ تحقیقات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ صہیونی فوج نے ہی تشدد کا آغاز کیا تھا اور اسی نے قرار داد سترہ سو ایک کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسری جانب صہیونی ریاست نے بان کی مون کے بیانات پر اپنا رد عمل دکھاتے ہوۓ بان کی مون کے خصوصی نمائندے مائیکل ویلیمز کے دورۂ تل ابیب کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے قرارداد سترہ سو ایک پر عمل درآمد کے سلسلے میں اپنی حالیہ رپورٹ میں مقبوضہ فلسطین اور لبنان کی سرحدوں پر فلسطینی عوام کے قتل عام کے ارتکاب کی وجہ سے صہیونی ریاست کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بان کی مون کی یہ رپورٹ ویلیمز نے تیار کی تھی۔  صہیونی ریاست نے رواں سال مئی کے مہینے میں فلسطین پر قبضے کے دن کے موقع پر لبنان کے مارون الراس علاقے میں مظاہرہ کرنے والے فلسطینیوں پر حملہ کر کے سات فلسطینیوں کوشہید کردیا تھا۔

کراچی: رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ناکام ریاستوں کی فہرست میں آگے نہیں آسکتا ہے لیکن طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں پر عمل درآمد نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ملک بنا دیا ہے   موقر امریکی جریدے فارن پالیسی نے دنیا کی ناکام ترین ریاستوں کی سالانہ درجہ بندی میں پاکستان کو 12 واں نمبر دیا ہے۔ امریکی جریدے نے فنڈ فار پیس ادارے کے تعاون سے دنیا کی ناکام ترین ریاستوں کی سالانہ درجہ بندی کی رپورٹ جاری کی, جس میں 177 ممالک شامل ہیں۔ صومالیہ سرفہرست ہے جبکہ ٹاپ ٹین میں دیگر ریاستوں میں چاڈ، سوڈان، کانگو، ہیٹی، زمبابوے، افغانستان، وسطی افریقہ ریپبلک، عراق اور کوسٹ دی آئیوری شامل ہیں جبکہ ناکام ریاستوں کی اس فہرست میں پاکستان کو 12 واں درجہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان نہ صرف مغرب کیلئے تاحال خطرہ ہے بلکہ اکثر اوقات یہ اپنے لوگوں کیلئے بھی ایک خطرہ بن جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان ناکام ریاستوں کی فہرست میں آگے نہیں آسکتا ہے لیکن طویل عرصے سے امریکی پالیسیوں پر عمل درآمد نے پاکستان کو دنیا کا سب سے خطرناک ملک بنا دیا ہے۔

عراقی پارلمینٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے نام ایک خط ارسال کر کے امریکی اداروں اور کمپنیوں پر عراقی تیل کی رقم چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اس بین الاقوامی ادارے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تیل کا چوری شدہ پیسہ واپس دلانے کے لیے عراق کی مدد کرے۔ عراقی پارلیمنٹ کی مالی بدعنوانی کا مقابلہ کرنے والی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ امریکی کمپنیوں نے عراقی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی سترہ ارب ڈالر کی رقم کہ جو اس ملک کی تعمیرنو پر خرچ ہونی چاہیے تھی، خوردبرد کر لی ہے۔ عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ کے نام پچاس صفحات پر مشتمل خط میں امریکہ کی جانب سے عراقی دولت کی چوری کو مالی جرم قرار دیا ہے۔
اس سے قبل عراقی کی تعمیرنو کے امدادی فنڈ کے نگران، خصوصی امریکی آڈیٹر اسٹوارٹ بوئن نے بھی کہا تھا کہ اس امدادی فنڈ کے بجٹ میں سے چھ ارب ڈالر غائب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے امریکی وزارت دفاع کو عراق کے خوردبرد ہونے والے پیسوں کا پتہ لگانے سے چشم پوشی کرنے کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔  اطلاعات کے مطابق عراق کی تعمیر نو کے فنڈ میں سے غائب ہونے والے پیسے اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ جس کا اعلان امریکی آڈیٹر نے کیا ہے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ عراق کی تعمیرنو کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے اٹھارہ ارب ڈالر سے زائد رقم غائب ہوئی ہے۔  عراق نے اس کا الزام امریکہ پر لگایا ہے اور عراقی حکام نے امریکی اداروں کو کہ جن میں سے بعض واشنگٹن کے اعلی حکام سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے پاس عراق میں بڑے بڑے تعمیراتی پروگراموں کے ٹھیکے ہیں، عراقی دولت لوٹنے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود عراق اس کی دولت لوٹنے والے ان امریکی اداروں اور کمپنیوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتا۔ عراقی حکومت عراق کے خلاف سلامتی کونسل کی مختلف قراردادوں کو اس ملک کی دولت لوٹنے والے امریکیوں کے خلاف قانونی اقدام کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے اس لیے عراقی پارلیمنٹ کے نمائندوں نے اقوام متحدہ سے اس سلسلے میں مدد طلب کی ہے۔

اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے بحرین کو پیرس میں عالمی میراث تنظیم یونسکو کے پینتیسویں اجلاس کا صدر بناۓ جانے پر تنقید کی ہے۔ اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے اقوام متحدہ کی ذیلی تعلیمی ، علمی اور ثقافتی تنظیم یونسکو کی صدارت بحرین کو دیۓ جانے کو وہ بھی ایسے حالات میں کہ جب اس ملک کی حکومت اپنے ثقافتی ورثے کو تباہ و برباد کررہی ہے ریاکارانہ قرار دیا ہے۔ اسلامی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ مسعود شجرہ نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں کہا ہےکہ بحرین کے حکام نے حکومت مخالف مظاہروں کے دوران پینتیس سے زیادہ قدیم مساجد کو شہیدکردیا ہے۔ جن میں چھ سو چالیس سال پرانی ایک مسجد بھی شامل ہے۔ اسلامی انسانی حقوق کمیشن نے بحرین کو یونسکو سے خارج کۓ جانے کی حمایت میں ایک مظاہرے کا بھی اہتمام کیا ہے۔ دریں اثناء بحرین کے شہر المالکیہ کے باشندوں نے مظاہرہ کرکے اپنے ملک سے سعودی عرب کے فوجیوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق المالکیہ شہرکے باشندوں نے جلوس نکال کر اپنے ملک پر سعودی عرب کے فوجیوں کے قبضے کی مذمت کرتے ہوۓ ان کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ بحرین میں پرامن مظاہروں کے دوران حکومت کی جانب سے تشدد روا رکھے جانے کے باوجود اس ملک کے شہری چودہ فروری سے تقریبا ہر روز مظاہرے کر کے آل خلیفہ کی حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

ماسکو: برطانوی اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی بھی قرارداد پیش کی گئی تو اسے ویٹو کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ وقت اس کیلئے مناسب نہیں ہے   روسی صدر دیمتری میدیدوف نے کہا ہے کہ وہ شام کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔ برطانوی اخبار کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں شام کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی بھی قرارداد پیش کی گئی تو اسے ویٹو کر دیا جائے گا، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ وقت اس کیلئے مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ملک شام پر لیبیا جیسی قرارداد لانے کیلئے تیار نہیں۔ جو محض ایک بے معنی فضائی آپریشن میں تبدیل ہو گئی، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ روسی صدر نے شام کے صدر بشارالاسد کے لیے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ایک بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے کل جنیوا میں اپنے اجلاس میں ایران کے لۓ ایک خصوصی رپورٹر کا انتخاب کیا ہے جو ایران میں انسانی حقوق کا جائزہ لےکر اس سلسلے میں رپورٹ پیش کرے گا۔ واضح رہےکہ امریکہ اور دوسرے چند ممالک کی جانب سے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں بے بنیاد تشویش کا اظہار کیا گيا ہے۔ امریکہ نے خاص طور پر حالیہ دو برسوں کے دوران ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کو بہانہ بنا کر اس پر پابندیاں لگانے ، فوجی کارروائی کی دھمکی دینے ، سافٹ وار اور سنہ دو ہزار نو میں صدارتی انتخابات کے بعد ہنگامے کرانے جیسے مختلف حربوں کے ذریعے ایران کی غلط تصویر پیش کرنےکی کوشش کی۔اور اب امریکہ نے ایران کے خلاف نۓ اقدامات انجام دینے کے لۓ انسانی حقوق کو حربے کے طور پر اختیار کرلیا ہے۔ امریکہ اور چند دوسرے ممالک کی کوششوں کے ساتھ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے اپریل کے مہینے میں جنیوا میں ایران کے خلاف ایک قرار داد پاس کی تھی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا قیام سنہ دو ہزار چھ میں عمل میں آیا۔ اس کونسل کی کارکردگی کے حوالے سے سب سے اہم تشویش یہ ہے کہ یہ کونسل یورپی دباؤ میں آجاتی ہے اور اس کونسل کو ناجائز سیاسی مقاصد کے لۓ ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بہت سے قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ ایران کے لۓ انسانی حقوق کا رپورٹر مقرر کۓ جانے کا مقصد انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینا نہیں ہے بلکہ اسے خاص مقاصد کے حصول کے لۓ معین کیا گيا ہے۔ اور یہ اقدام ایسے عالم میں انجام دیا گيا ہے کہ جب اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے غالب اکثریت کے ساتھ ایک قرار داد منظور کی جس کے مطابق خود انسانی حقوق کونسل کی صورتحال پر نظر ثانی اور اس کا جائزہ لۓ جانے کو ضروری قرار دیا گيا ہے۔ یہ قرار داد کئي مہینوں تک کے غور و خوض کے بعد جمعے کے دن پیش کی گئي اور امریکہ ، کینیڈا اور صیہونی حکومت کی کوششوں کے باوجود اس کے حق میں ایک سو چون ووٹ ڈالے گۓ جبکہ اس کے خلاف صرف چار ووٹ پڑے اور یہ قرار داد منظور کر لی گئي۔ انسانی حقوق کونسل کی صورتحال پر نظر ثانی کی قرارداد کے سلسلے میں ہونے والی ووٹنگ میں اقوام متحدہ کے ایک سوچورانوے ممالک کے مقابل میں صرف چار ووٹ ڈالے جانے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ عالمی برادری اس کونسل کے امتیازی رویۓ سے راضی نہیں ہے اور وہ موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ امریکہ ایسے عالم میں اپنے آپ کو دنیا میں انسانی حقوق اور جمہوریت کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کررہا ہے کہ جب اس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے مطالبے کے باوجود ابھی تک گوانتاناموبے اور ابوغریب جیلوں کو بند نہیں کیا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنے ناجائز سیاسی مفادات کے تحفظ کے لۓ بحرین اور یمن میں ہونے والے عوام کے قتل عام پر آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ امریکہ اور چند دوسرے ممالک نیز صیہونی حکومت انسانی حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے درپے ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل یورپ کے پیدا کردہ خاص ماحول میں یورپی حکومتوں کے مقاصد کی آلۂ کار بن کر رہ گئي ہے اور اس نے ان یورپی ممالک کے مفادات کے لۓ دنیا کی بعض اقوام کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی بے بنیاد دعوی بھی اسی سیاسی رویۓ سے مستثنی نہیں ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ حالیہ دو برسوں کے دوران ایران کے امور میں یورپ کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کو جائز ظاہر کرنے کے لۓ ایسے ہی دعوے کۓ جاتے رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ اقوام کے منصفانہ حقوق کا خیال نہ رکھے جانے اور ان کو سیاسی رنگ دینے کے بہت ہی ناگوار نتائج برآمد ہوں گے ۔ اور ان میں سب سے معمولی نتیجہ یہ برآمد ہوگا کہ اقوام متحدہ کی ساکھ ختم ہو کر رہ جاۓ گی۔

جنیوا (اے ایف پی) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے ہم جنس پرستوں کے حقوق سے متعلق ایک تاریخی قرارداد منظور کر لی ہے اگرچہ اس قراداد کی عرب اور افریقی ممالک نے شدید مخالفت کی ہے

واشنگٹن … اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان میں طالبان کو مذاکرات پر رضامند کرنے کے لیے دہشت گرد وں پر پابندی کی لسٹ کو القاعدہ اور طالبان کی دو الگ الگ کیٹیگریز میں تقسیم کرنیکی منظوری دیدی۔امریکا نے سلامتی کونسل میں دو قراردادیں پیش کیں جنھیں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پہلی قرارداد کے مطابق القاعدہ اور طالبان رہنماؤں کی الگ الگ بلیک لسٹ بنائی جائے گی، پہلی فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پر القاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام ہوگا۔ جب کہ دوسری فہرست ان لوگوں اور تنظیموں کی بنائی جائے گی جن پرطالبان کیساتھ تعلق کا شبہ ہوگا۔اس فہرست کی تیاری کے ذریعے مغربی ممالک یہ واضح کرنا چاہتے تھے کہ القاعدہ اور طالبان کے ایجنڈے ایک دوسرے سے مختلف ہیں ،دہشت گردی کیخلاف پابندی سے متعلق سلامتی کونسل کی کمیٹی کے سربراہ جرمن سفیر پیٹر وٹیگ نے کہا کہ اس کا ایک مقصد افغان حکومت کی مفاہمت کی پالیسی کیلئے حمایت کا اظہار کرنا بھی ہے

جیساکہ  خبروں میں بتایا گیا ہے سلامتی کونسل میں شام کی مذمت میں فرانس کی مجوزہ قرارداد ناکام ہوگئي ۔ یادرہے کہ فرانس اور برطانیہ نے شام کے خلاف سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی ہے لیکن روس اور چین اس قرارداد کے مخالف ہيں۔ فرانس کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں شام کی مذمت کی قرارداد کو منظور کروانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ابھی تک اس کاکوئي نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ فرانس اور برطانیہ نے گذشتہ ہفتے شام کے خلاف ایک سخت قراراداد پیش کی ہے لیکن روس اور چین نے اس قرارداد کی مخالفت کی ہے۔ مغربی ممالک سلامتی کونسل کے سہارے شام پر دباو ڈالنے کی کوشش کررہےہیں۔ سلامتی کونسل میں نو ملکوں نے شام کے خلاف قرارداد کی حمایت کی ہےجبکہ روس، چین ،لبنان اور جنوبی افریقہ و برازیل اس قرارداد کے مخالفیں میں شامل ہیں۔شام کے خلاف بعض کے مغربی ملکوں اور علاقے چند ایک عرب ممالک مسلسل سازشوں میں لگے ہوئے ہیں اور فرانس کی مجوزہ قرارداد بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاہم سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والے دوملکوں روس اور چین کی مخالفت کی بنا پر یہ قرارداد منظور ہونے سے رہ گئی۔ علاقے کے حالت سے باخبر مبصرین اور خود شام کے سیاسی حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ بدامنی اور گڑ بڑ پھیلانے کے لئے بیرونی سازشیں ممکن ہے کہ ایک دفعہ پھر زور شور سے شروع ہوسکتی ہیں ۔شام کی پارلمنٹ کے رکن محمد حبش پہلےہی یہ بات کہہ چکے ہیبں کہ امریکہ اور مغربی ممالک شام میں بدامنی کو ہوادے رہےہيں۔ محمد حبش کا کہناہے کہ شام کے ہنگاموں میں امریکہ اور مغربی ملکوں کا ہاتھ ہے اوربڑی طاقتیں شام میں گڑ بڑ کو ہوا دے کر اس ملک پرقبضہ کرنا چاہتی ہیں۔ محمد حبش کا یہ بھی کہنا تھا کہ بڑی طاقتیں شام کی جانب سے حزب اللہ اور ملت فلسطین کی حمایت پر خوش نہیں ہیں اور اسی وجہ سے وہ دباؤ ڈال کر مسئلہ فلسطین کے بارےمیں شام کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا چاہتی ہیں۔ یادرہے شام کے عوام گذشتہ ہفتوں سے احتجاجی مظاہرے کرکے بظاہرمعیشتی اصلاحات کا مطالبہ کررہےہیں ۔ادہر شام کے شمالی شہر جسر الشغور پر جہاں مسلح افراد نے حملہ کرکے ایک سو بیس سکیورٹی اھلکاروں کو ہلاک کردیا تھا، فوج نے دوبارہ قبضہ کرلیا ہے۔ فوج نے پلوں اور سڑکوں پر نصب کئے گئے متعدد بموں کو ناکارہ بناکر شہر کو سازشی عناصر اور دہشت گردوں سے پاک کردیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جسر الشغور سٹی پر شام کی سرکاری فورسز کا دوبارہ کنٹرول مغرب ملکوں کے دشمق سے مزید سیخ پا ہونے کا باعث بنا ہے اور قرارداد کی منظوری میں ان کی ناکامی ممکن ہے کہ شام کے خلاف جاری بین القوامی اور علاقائی سازشوں میں مزید شدت لانےکا باعث بنے۔بہرحال شام کے خلاف فرانس کی مجوزہ قرارداد کی ناکامی سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ مغربی ممالک جو بحرین اور سعودی عرب میں جاری عوامی اور انقلابی تحریکوں پر خاموش ہیں، غاصب صہیونی حکومت کے خلاف فرنٹ لائن کے ملک میں ایک ایسی حکومت کو لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو اس خطے کے دیگر ممالک طرح صہیونی حکومت کے ساتھ ساز باز کرلے۔ لیکن علاقے کی اسلامی انقلابی اور عوامی تحریکوں میں امریکہ مخالف جذبات اور احساسات کے پیش نظر ان کی یہ خواہش بظاہر پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی

روس اور چین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے مسودے کی مخالفت کی ہے، جس کے تحت شام میں جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی ہے  اقوام متحدہ کے سفارتکاروں کے مطابق چین اور روس شام میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی خونریز کارروائیوں کی براہ راست مخالفت سے کترا رہے ہیں۔ ایک سفارتکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہا ،’روس اور چین نہیں سمجھتے کہ ایسی کسی قرارداد کی ضرورت ہے۔ یہ ایک واضح پیغام ہے۔‘‘  سلامتی کونسل میں یورپی ممالک کی طرف سے تیارکردہ اس قرارداد میں شام پر اس کریک ڈاؤن کی وجہ سے پابندیاں عائد کرنے کے بجائے اس کریک ڈاؤن کی مذمت کی گئی ہے جبکہ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ شام کی سکیورٹی فورسز ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی مرتکب ہو رہی ہیں  سفارتکاروں کے مطابق سلامتی کونسل کے تیرہ میں سے نو اراکین نے اس قرارداد کے مسودے کے حوالے سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں اس مسودے کے تیارکرنے والے ممالک برطانیہ، فرانس، پرتگال اور جرمنی بھی شامل تھے۔ امریکہ اس قرارداد کے مسودے کی تیاری میں شریک نہیں ہے تاہم امریکہ کی طرف سے واضح طور پر اس مسودے کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ امریکہ کا موقف ہے کہ وہ شام میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہفتہ کے روز ایک بیان میں شامی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنے عوام کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے وہاں انسانی المیے جیسی صورتحال پیدا کرنے کی مرتکب ہو رہی ہے۔  امریکہ نے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن فوری طور پر بند کردے۔ روس اور چین سلامتی کونسل میں شام کے حوالے سے بحث پر راضی نہیں جبکہ ان کی طرف سے عندیہ دیا گیا ہے کہ شام کے خلاف کوئی قرارداد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی، تو وہ اسے ممکنہ طور پر ویٹو کر دیں گے۔  سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین لبنان، بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ نے بھی قرارداد کے مسودے پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کے جوہری نگرانی کے ادارے نے جمعرات کو سلامتی کونسل میں شام کے مبینہ خفیہ جوہری پروگرام کے بارے میں ایک رپورٹ پیش کی۔ روس اور چین نے شام کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کے خلاف ووٹ دیا ہے۔  ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوئی قرار داد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ہے۔ ایسی ہی ایک قرار داد پانچ سال قبل ایران کے خلاف پیش کی گئی تھی۔  بین الاقوامی جوہری ایجنسی کے 35 رکن ممالک میں سے 17 بورڈ ممبران نے مغربی ممالک کی حمایت یافتہ اس قرار داد کے حق میں جبکہ چھ ممالک نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ 2007ء میں شام کے علاقے  Dair Alzou  میں واقع ایک مبینہ جوہری کمپلیکس کو اسرائیل نے حملہ کرتے ہوئے تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ شام کے خلاف جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے تھا۔  اسرائیلی بمباری کے بعد ایک امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گہا تھا کہ شمالی کوریائی ڈیزائن کا حامل یہ ری ایکٹر ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں تھا اور اس کا مقصد پلوٹونیم پیدا کرنا تھا۔ آئی اے ای اے نے بھی اس امریکی رپورٹ کی تصدیق کی ہے۔ جوہری ایجنسی کے مطابق ’زیادہ امکان‘ یہ ہے کہ یہ ایک ری ایکٹر تھا۔ شام کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر جوہری ملٹری بیس تھی۔  اقوام متحدہ کے لیے شامی سفیر باسم الصباغ کا کہنا تھا کہ ووٹنگ کے نتائج ’افسوسناک‘ ہیں تاہم کوئی بھی جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا، ’’شام نے ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو پورا کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہم ہمیشہ ایسا ہی کریں گے‘‘۔  اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر گلین ڈیوس کا کہنا تھا کہ شام کی طرف سے جوہری سرگرمیوں کو ’چھپانا‘ ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایک ری ایکٹر کی تعمیر اور پلوٹونیم کی پیداوار کا مقصد صرف ہتھیار تیار کرنا ہی ہو سکتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ شام کا جوہری پروگرام بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔  اس قرار داد سے ایک روز پہلے برطانیہ، فرانس ، جرمنی اور پرتگال نے شام میں مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیاں کرنے کے حوالے سے بھی ایک قرار داد سلامتی کونسل میں پیش کی تھی۔ تاہم اس پر اتفاق نہیں ہوا تھا اور روس نے اس کی مخالفت کی تھی

ویانا میں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس آج ہورہا ہے ۔ اس اجلاس میں زیربحث آنے والے موضوعات میں ایران کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ کا جائزہ بھی شامل ہے ۔ اس اجلاس کے موقع پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے یوکیا آمانو کے خط کے جواب میں ایران کی ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی کی جانب سے خط ارسال کۓ جانے کی خبر دی ہے  ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی نے گزشتہ مہینے کے آخری دنوں میں یوکیا آمانو کے نام ایک خط میں ایران پر لگاۓ جانے والے الزامات کے بے بنیاد ہونے پر تاکید کی۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے دو ہفتے قبل جاری کی جانے والی اپنی رپورٹ میں بے بنیاد مفروضوں کی بنا پر دعوی کیا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بعض ایسی ممکنہ معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کو ایجنسی کے علم میں نہیں لایا گیا تھا اور اب ان معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آٹھ برسوں سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں مخاصمانہ رویہ اختیار کیا گيا جو سراسر سیاسی ہے۔ اسی سیاسی رویۓ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے امریکہ اور چند جانے پہچانے ممالک سے متاثر ہونے کی وجہ سےایران کے ایٹمی پروگرام کو اس کے معمول کے راستے سے ہٹا کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا گيا۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اپنی ستائیس سے زیادہ رپورٹوں میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے پرامن ہونے کی تصدیق کرچکی ہے۔ لیکن اس سے پہلی والی تقریبا تمام رپورٹوں اور یوکیا آمانو کے اس ایجنسی کے سربراہ بننے کے بعد جاری ہونے والی چند رپورٹوں میں بھی بعض ایسے مبہم نکات بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے ایران کے ایٹمی پروگرام کے سلسلے میں سیاسی رویۂ اختیار کۓ جانے کا راستہ ہموار ہوا ہے۔ یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ میں بھی بعض مبہم شقیں شامل کی گئي ہیں جن میں دعوی کیا گيا ہےکہ ایران نے اپنی بعض ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں ایجنسی کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر یہ تاثر قائم ہوجاۓ کہ ایٹمی توانا‏ئي کی عالمی ایجنسی کا بورڈ آف گورنر یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چند منہ زور طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئي ہے تو اس صورت میں موجودہ صورتحال میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔ واضح سی بات ہے کہ اسرائيل کی جانب سے لاحق ایٹمی خطرے جیسے مسائل کو بھی نظر انداز کردیا جاۓ گا۔ اور یہ چيز عالمی برادری کے لۓ قابل قبول نہیں ہے۔ کیونکہ عالمی برادری ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اور اقوام متحدہ سے یہ توقع وابستہ کۓ ہوۓ ہے کہ ایٹمی توانائي سب کے لۓ ہو اور ایٹمی ہتھیار کسی کے لۓ بھی نہیں ۔ یہ ایک واضح اور روش مطالبہ ہے جو امریکہ کی مخالفت اور دباؤ کے باوجود این پی ٹی جائزہ کانفرنس میں منظور کیا جا چکا ہے

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق لیبیا کی حکومت نے جنگي جرائم کا ارتکاب کیا ہےاقوام متحدہ کوجرائم کے ایسےشواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔  اقوام متحدہ کے مطابق لیبیا کی حکومت نے جنگي جرائم کا ارتکاب کیا ہےاقوام متحدہ کوجرائم کے ایسےشواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے لیبیا میں حکومتی سکیورٹی فورسز پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنگی جرائم کے علاوہ انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ انہیں ان جرائم کے شواہد ملے ہیں جن میں قتل، تشدد اور شہریوں پر بلاامتیاز حملے شامل ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی منصوبہ بندی کے تحت عوام کو قتل کررہے ہیں۔