کرپشن کے خاتمے کا عالمی دن اور پاکستان میں اربوں روپے کی کرپشن

Posted: 09/12/2011 in All News, Articles and Reports, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  دنیا بھر میں آج اقوام متحدہ کے ماتحت کرپشن کے خاتمے کا عالمی دن منایا جا رہا ہے لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر میں کرپشن جاری ہے، براعظم ایشیا کے اہم ترین ملک پاکستان میں ایک سال کے اندر قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے جب کہ اس وقت کرپشن کے باعث ملک کے تمام بڑے ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ میں اس وقت حج کرپشن، نیشنل انشورنس کمپنی لمیٹڈ ( این آئی سی ایل ) نیٹو کنٹینرز، رینٹل پاور کرپشن کیس اور ریلوے کیس سمیت متعدد کرپشن کیسز زیر سماعت ہیں جب کہ سپریم کورٹ نے این آر اور کرپشن کیسز سے متعلق کمیشن بنایا ہوا ہے، دوسری جانب کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے باعث ملک کے بڑے ادارے پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، یوٹیلٹی اسٹورز اور اسٹیل ملز سمیت کئی اہم ادارے تباہی کے کنارے پر پہنچ چکے ہیں۔  کرپشن کے خاتمے کے عالمی دن کے حوالے سے اسلام ٹائمز کی خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس قومی خزانے سے 35 ارب روپے خرد برد کئے گئے، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سال 2010-2011 کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارتوں اور مختلف وفاقی شعبوں کے اخراجات کی مد میں قومی خزانے سے 35ارب روپے خرد برد کئے گئے یا بےقائدگی سے خرچ یا پھر بہت سارے اخراجات کا سرکاری ریکارڈ ہی موجود نہیں ہے۔  رپورٹ کے مطابق 11 کیسز میں 2 ارب 40 کروڑ 77 لاکھ سے زائد کی رقم غبن کی گئی جبکہ 27 کیسز میں سرکاری قومی خزانےکی رقم کو بےقائدگی سے خرچ کیا گیا اور ان تمام کیسز میں 6 ارب 9 کروڑ 86 لاکھ روپے خرد برد کئے گئے۔ قومی خزانے سے خرچ کی گئی رقم کی تین مثالیں ایسی بھی موجود ہیں جن میں ایک ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے غبن کئے گئے اور ان کا ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے جبکہ 17 کیسز میں مالی کنٹرول کمزور ہونے کی وجہ سے ان میں 9 ارب 35 کروڑ 82 لاکھ روپے کی ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ مالی سال 2010-2011 میں قومی خزانے سے 11 ارب 94 کروڑ 96 لاکھ روپے 38 مختلف کیسز میں غبن کئے گئے جبکہ 6 اثاثوں میں غیر محفوظ انتظامات کی وجہ سے ایک ارب 34 کروڑ 25 لاکھ روپے کی رقم ہڑپ کی گئی۔  کرپشن کے حوالے سے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی 2010-2011 کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن میں 55 ایسے واقعات ہیں جو 15 ارب روپے کے نقصان کا سبب بنے جبکہ مختلف ایئر لائنز سے بھی 3 ارب روپے سے زائد کی رقم نہیں لی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سول ایوی ایشن کے شعبہ خزانے نے نومبر 2010 میں مختلف ایئر لائنز سے ایرو ناٹیکل رقم کے 3.318 ارب روپے وصول نہیں کئے جبکہ صرف پی آئی اے سے 42 کروڑ 30 لاکھ روپے کی رقم وصول کی گئی۔ سول ایوی ایشن نے آگ پہ قابو پانے کیلئے 1.367 ارب روپے کی 124 گاڑیاں جبکہ 1.24 ارب روپے کی دیگر 19 گاڑیاں سرکاری منظوری کے بغیر ہی خریدی جبکہ ان گاڑیوں کی کل رقم 2.608 ارب روپے بنتی ہے۔  سول ایوی ایشن نے ستمبر 2010 میں ایک ارب 24 کروڑ روپے کا کنٹریکٹ ٹینڈر کے بغیر ہی دے دیا، دسمبر 2009 میں آگ بجھانے والی 24 گاڑیوں کا 1.367 ارب روپے کا کنٹریکٹ بھی اسی طریقے سے دیا گیا جبکہ جون 2010 میں اسی سپلائر کو ریسکیو ایئر کرافٹ آگ بجھانے والی گاڑیوں کا 1.24 ارب روپے کا ایک اور کنٹریکٹ دیا گیا۔ کرپشن کے حوالے سے ہی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی خصوصی کمیٹی کے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ 10 برسوں کے دوران غربت کے خاتمے کیلئے قائم فنڈ کے ذریعے عالمی بنک کی مدد سے ایک کھرب روپے قرضوں کی صورت میں غیر سرکاری این جی اوز میں تقسیم کئے گئے جبکہ اس سلسلے میں فنانس ڈویژن کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں یہ شق رکھی گئی ہے کہ اس کو آڈٹ نہیں کیا جائیگا۔  پبلک اکائونٹس کمیٹی نے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلی چھان بین کیلئے بیرونی فنڈنگ سے چلنے والے تمام منصوبوں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے، پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ایک این جی او کو رولر سپورٹ پروگرام کے ساتھ 1 ارب 69 کروڑ روپے کا دیا ہوا غیر قانونی معاہدہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ این جی او لوگوں کو 20 سے 25 فیصد شرح پر قرضے دیتی رہی لیکن اپنا آڈٹ کرانے کو تیار نہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بدعنوانی کی روک تھام اور قومی خزانے سے رقم لوٹنے والے افراد کو گرفتار کرنے والے ادارے نیشنل اکائونٹبلٹی بیورو نیب نے گزشتہ 9 برسوں میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل نہیں کی اور اب تک صرف 13 افراد سے لوٹی ہوئی رقم قومی خزانے میں واپس کرائی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق 1999-2000 سے 2007-2008 تک نیب کو 47038 شکایات ملیں جن میں سے 28717 سرکاری افسران، 3685 کاروباری افراد، 1169 سیاستدانوں، 375 ریٹائرڈ فوجیوں اور 13105 درخواستیں دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف ملیں۔ نیب نے ملنے والی درخواستوں میں سے صرف 1495 مقدمات داخل کئے جن میں سے 818 مقدمات کا فیصلہ ہوا جبکہ باقی 677 مقدمات لٹکے رہے اور 818 مقدمات میں سے 137 مقدمات عدالتوں میں واپس لئے گئے جبکہ مزید مقدمات میں سے 181 لوگ بری ہونے میں کامیاب رہے اور گذشتہ 9 برس میں صرف 500 بدعنوانوں کو سزا ملی ہے

Comments are closed.