Archive for the ‘Tunis / Egypt / Yemen / Libya’ Category

واشنگٹن …ايک ا مريکي شہر ي نے اپني نو کري اورتما م دولت چھو ڑ چھا ڑ کر پہاڑو ں ميں مو جو د غا ر کو اپنے گھر ميں تبديل کر ليا ہے . ڈينيل سوئلوپيشے کے لحا ظ سے ايک با ورچي تھا ليکن سن 2000 ء ميں امريکہ ميں آنے والے معا شي بحران کے بعد اس نے پيسے اور نو کري پر انحصا ر ختم کر کے رياست Utah کے غاروں ميں رہا ئش اختيار کر لي ہے .ڈينيل سوئلو کا نہ تو کو ئي بينک اکا ؤ نٹ ہے اور نہ ہي وہ حکو مت سے کسي قسم کي کوئي مالي امدا د وصول کر تا ہے . غار ميں رہنے وا لا ڈينيل سوئلو پہاڑوں ميں اگنے والي گھا س پھونس اور سڑ ک کے کنا رے ہلا ک ہو جانے والے جانوروں پر گزراکر تا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اسے زندگي گز ارنے کے ليے رقم کي کو ئي ضر ورت نہيں رہي .

Advertisements

تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ لیلٰی بن علی نے اپنی آپ بیتی مکمل کر لی ہے۔ امید ہے کہ ’مائی ٹرتھ‘ یعنی ’میرا سچ‘ کے عنوان سے یہ کتاب اگلے ماہ سے دستیاب ہو گی۔تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کی اہلیہ کی یہ کتاب ابھی صرف فرانسیسی زبان میں شائع ہو گی۔ فرانسیسی ناشرLes Editions du Moment نے اسے شائع کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تناظر میں جب خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناشر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ادارے کی جانب سے ابتدائی طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ تیونس کی ایک ویب سائٹ Tunisia live کےمطابق ناشر نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ یہ کتاب اشاعتی مراحل سے گزر رہی ہے۔ لیلٰی بن علی کے بقول انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ان الزامات کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے، جو زین العابدین کے دور حکومت میں ان پر اور ان کے خاندان کے افراد پر لگائے گئے تھے۔لیلٰی بن علی کا تعلق طرابلیسی خاندن سے ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے ہیر ڈریسر تھیں۔ ان کے انتہائی پر تعیش طرز زندگی اور امیر خاندان کی وجہ سے تیونس کے بہت سے شہری ان پر بدعنوانی کے الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ بن علی کے دور حکومت میں کی جانے والی بدعنوانی کا واضح ثبوت ہے۔ تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف کرپشن، بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی شرح اور آزادیء اظہار پر پابندی کی وجہ سے تحریک شروع ہوئی تھی۔ اس طرح بن علی عرب دنیا کے وہ پہلے رہنما تھے، جنہیں عوامی بغاوت کی وجہ سے اقتدار سے الگ ہونا پڑا تھا۔ گزشتہ برس جنوری میں جب احتجاجی مظاہرے تیونس کے دارالحکومت تک پہنچ گئے تو لیلٰی اپنے شوہر کے ساتھ سعودی عرب فرار ہو گئی تھیں۔ جون میں تیونس کی ایک عدالت نے زین العابدین اور ان کی اہلیہ کو چوری اور غیر قانونی طور پر جواہرات اپنے قبضے میں رکھنے کے جرم میں قصور وار قرار دے دیا تھا۔ عدالت نے ان دنوں کو پینتیس پینتیس برس قید کی سزا سنائی تھی۔ روئٹرز کے مطابق بن علی کے دور میں طرابلیسی خاندان نے بڑے پیمانے پرفوائد حاصل کیے۔ مختلف حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپ بیتی کے منظر عام پر آنے کے بعد تیونس میں پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے سماجی ویب سائٹس پر چند افراد نے ابھی سے ’مائی ٹرتھ‘ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ بن علی نے اپنے 23 سالہ دور حکومت میں متعدد تصانیف پر پابندی عائد کی تھی تو اس کتاب کا بھی بائیکاٹ ہونا چاہیے۔ امید کی جا رہی ہے کہ فرانسیسی زبان میں Ma Verite کے ٹائٹل والے یہ کتاب 24 مئی کو فروخت کے لیے جاری کر دی جائے گی اور اس کی قیمت تقریباً 16 یورو ہو گی۔

طرابلس: لیبیا میں مسلح قبائل کے درمیان گزشتہ چھ روز سے جاری جھڑپوں میں ایک سو سینتالیس افراد ہلاک اور تین سو پچانوے زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لیبین وزیر صحت فاطمہ المروشی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک سو اسی شدید زخمیوں کو طرابلس منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جنوبی ریجن میں یہ جھڑپیں عرب ابوسیف اور افریقین تبسو قبائل کے درمیان ایک ہفتہ قبل اس وقت شروع ہوئیں تھیں جب تبسو قبائل کی فائرنگ سے ابو سیف قبائل کا ایک رکن ہلاک ہوا۔ ابو لیف سابق صدر قذافی کا حامی جبکہ تبسو مخالف ہے۔ ان دونوں قبائل کے درمیان اس سے قبل فروری میں بھی جھڑپیں ہوئیں تھیں جن میں دو اطراف سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

میلان: اٹلی میں ٹیکس پولیس نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی ہدایت پر لیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے خاندان کے ارکان کے ایک ارب 10 کروڑ یورو(ایک ارب46کروڑڈالر) کے اثاثے، بشمول اٹلی کی نمایاں کمپنیوں کے حصص ،بینک ڈپازٹس اور موٹر بائیک ہارلے ڈیوڈسن ، ضبط کرلئے ہیں۔برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق گذشتہ روز ایک بیان میں پولیس کا کہنا ہے کہ ضبط کئے گئے اثاثوں میں اٹلی کے سب سے بڑے بینک یونی کریڈٹ میں حصص،تیل وگیس کے بڑے ادارے ای این آئی ،دفاعی ادارے فن میکانیکا ،کاربنانے والی کمپنی فیٹ،ٹرک بنانے والے ادارے فیٹ انڈسٹریل اورتورین میں قائم فٹبال کلب جوینٹس میں حصص شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان تمام متعلقہ کمپنیوں اوراداروں کو نوٹس بھیج دیئے گئے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل گاوینوپٹوزونے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ تمام ضبط کئے گئے اثاثے لیبیا کے خودمختارفنڈ،لیبین انوسٹمنٹ اتھارٹی ،میں قذافی خاندان کی طرف سے رکھے گئے تھے

ذرائع انرجی اور قدرتی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کے ذریعے آنے والی مصری ایندھن کی وصولی اور استعمال کے لیے تمام تکنیکی امور پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ مصر کے ساتھ معاہدے کے بعد کئی ہفتوں سے ایندھن اور بجلی کی کمی کے شکار غزہ کے بجلی گھر کا دوبارہ کام شروع کر دے گیا۔ محکمہ انرجی کے میڈیا ڈائریکٹر احمد ابو العمرین نے بدھ کے روز اپنے بیان میں بتایا کہ مصر کے ساتھ واقع رفح کی سرحدات پر واقع کراسنگ سے آنے والے وفد کے استقبال کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مصری حکومت قیدیوں کے مسائل کا مداوا جلد از جلد کریں گع۔ ابوالعمرین نے مصر سے آنے والے ایندھن کی آمد میں تاخیر کی وجہ کے متعلق پوچھے گئے سوال پر بتایا کہ اس بارے میں ان کے پاس معلومات نہیں، یہ سوال مصر سے کیا جانا چاہیے جس کے متعلق ہمیں امید ہے کہ وہ اب سرعت رفتاری سے غزہ کو ایندھن فراہم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ غزہ کے بجلی گھر میں ایک جنریٹر چل رہا ہے اس کو انتہائی قلیل مقدار میں ایندھن فراہم کیا جاتا رہے گا تاہم جیسے ہی مصر سے کیے گئے معاہدے تکے تحت تیل غزہ پہنچے گا غزہ میں بجلی کا بحران ختم ہو جائے گا۔ قبل ازیں پیر کی شام غزہ میں محکمہ برقیات نے اعلان کیا تھا کہ اس کا مصر کے ساتھ بجلی گھروں میں استعمال کے لیے مصر سے پٹرول کی درآمد کا معاہدہ ہو گیا ہے۔ خیال رہے کہ غزہ میں گزشتہ کئی ہفتوں سے آئل کی کمی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں کمی کے سبب شدید بحران کی کیفیت ہے۔

نامعلوم مسلح افراد نے مصر کے جزیرہ نما سیناء سے اسرائیل اور اردن کے لیے گیس سپلائی کرنے والی پائپ لائن کو ایک سال میں تیرہویں مرتبہ تباہ کر دیا ہے۔ مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مصری ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ گیس پائپ لائن میں دھماکہ اسرائیل اور مصرکے درمیان سرحد پر طبل کے مقام پرپیش آیا، جہاں کچھ ہی روزقبل ایک دھماکے میں گیس پائپ لائن کو اڑایا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شب ہونے والے اس دھماکے کے نتیجے میں آگ کے پچاس میٹر بلند شعلے اٹھتے دیکھے گئےہیں۔ واقعے کے فوری بعد گیس فراہم کرنے والی کمپنی “گیسکو” شہری دفاع،فائربرگیڈ اور سیکیورٹی فورسزکے اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور کئی گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ خیال رہے کہ مصر سے اسرائیل کو فراہم کردہ گیس کی پائپ لائن کو گذشتہ ایک سال کے دوران کئی مرتبہ دھماکوں سے تباہ کیا جاتا رہا ہے۔ گذشتہ پانچ فروری کو اسی مقام پر ہونے والے دھماکےکے بعد پائپ لائن کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم سخت سیکیورٹی کے باوجو دنامعلوم مسلح افراد پائپ لائن کو دھماکوں سے اڑا رہے ہیں۔

جینیوا: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں قائم امریکی نواز حکومت شام میں حکومت مخالف باغیوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب و ٹیلی چرکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہیں کہ لیبیا میں شامی باغیوں کے لئے خصوصی طور پر ایک تربیت گاہ قائم کی گئی ہے جہاں لوگوں کو تربیت فراہم کر کے شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جانا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران کو واضح کیا کہ روس اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتا ہے چونکہ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے بھی مترادف ہے۔ چرکین نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

تیونسیہ: حکومت تیونس نے سابق جلا وطن صدر زین العابدین بن علی کو ٹرائل کے لیے وطن واپس لانے بارے ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کبھی بھی بن علی کو ملک بدر نہیں کرے گا تاہم کوشش جاری رہے گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق تیونس میں عوامی انقلاب کے بعد منتخب ہونے والے صدر تیونس منصف قرزوقی نے کہا کہ سابق صدر زین العابدین کو ٹرائل کے لیے واپس وطن لانے بارے حکومت تمام تر کوششیں کر رہی ہے اور سعودی عرب حکومت پر اس حوالے سے دبائو ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سابق صدر کو اپنے ملک کے حوالے کرے تاکہ ان کا ٹرائل کیا جائے تاہم اس امید کا اظہار نہیں کیا جاسکتا کہ سعودی عرب انہیں ملک بدر کرے گا چونکہ وہاں کی اپنی روایات اور قوانین ہیں۔ واضح رہے کہ زین العابدین کو تیونس کی عدالت نے گزشتہ سال کرپشن سمیت مختلف جرائم کے الزام میں پینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

صنعاء… يمن ميں زين جيبار کے نزديک القاعدہ کے ساتھ جھڑپ ميں 78 فوجي ہلاک ہوگئے.جوابي کارروائي ميں 25 شدت پسند بھي مارے گئے . غير ملکي خبر ايجنسي کے مطابق زين جيبار کے نزديک فوجي چيک پوسٹ پر القاعدہ کے جنگجووں نے اچانک غير متوقع حملہ کرديا.حملہ آور چيک پوسٹ پر قبضہ کرکے فوجي تنصيبات اور سازوسامان حاصل کرنا چاہتے تھے.فوجي اہلکاروں کي جانب سے جوابي کارروائي ميں 25 شدت پسند بھي مارے گئے.واقعے ميں متعدد فوجي زخمي بھي ہوئے

العالم کی رپورٹ کے مطابق الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگان اسلام بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الازہر نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان گفتگو کو مغرب کے ساتھ اسلام کے ڈائیلاگ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ العالم نے شیخ الازہر احمدالطیب کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بزرگان اسلام  بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ شیخ الازہر نے کہا کہ شیعہ، مسلمان ہيں اور ان کا اسلام بھی اہلسنت کا اسلام ہے اور اہلسنت اور شیعہ صرف چند معمولی مسائل میں اختلافات رکھتے ہيں۔ احمدالطیب نے مزید کہا کہ الازہر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ شیعوں اور سنیوں کا اختلاف اصول دین میں نہيں ہے بلکہ صرف فروع دین میں ہے۔ الطیب نے کہا کہ الازہر کی نظر میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی فرقے کلمہ شہادتین کے قائل ہيں۔ دیگر ذرائع نے بھی کہا ہے کہ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر احمد محمدالطیب نے انتہا پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر بعض الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز میں شیعوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احمدالطیب نے شیعہ سنی اختلاف کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس کے با‏عث بعض افراد شیعوں کو کافر کہتے ہیں کہا کہ شیعہ سنی اختلافات چندجزئی چيزوں تک محدود ہیں اور بعض افراد کا یہ دعوی کہ شیعوں کا قرآن اہل سنت کے قرآن سے مختلف ہے، یہ باتیں  بےبنیاد ہیں۔ روزنامہ المصریون کے مطابق شیخ الازہر شیعہ اور سنی نظریات کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے شیعہ مسلمانوں کے بارے ميں شیخ الازہر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

قاہرہ: مصر کے سابق صدر حسنی مبارک پھانسی کے قریب تر ہونے لگے، حکومتی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا قتل عام کرنے والے حسنی مبارک کو سزائے موت ملنی چاہیئے۔ قاہرہ میں عدالت میں دلائل دیتے ہوئے حکومتی وکیل مصطفی سلیمان نے کہا کہ سابق مصری صدر نے سیکڑوں شہریوں کا قتل عام کیا۔ حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران گولی مارنے کا حکم دیا، جس میں پچیس جنوری سے گیارہ فروری کے درمیان صرف اٹھارہ دنوں میں آٹھ سو پچاس افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انسانی جانوں کے ضیاع میں سابق مصری صدر کا ساتھ دینے والے سابق وزیر داخلہ حبیب الایڈلے اور چار اہم سیکورٹی افسران کو بھی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیئے۔

مصر کے ا یک مشہور مصنف اور صحافی جلال عامر نے کہا ہےکہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔ جلال عامر نے لکھا ہے کہ سعودی عرب مصر کے لئے صیہونی حکومت سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ صیہونی حکومت ایک جارح حکومت ہے جبکہ سعودی عرب اپنے نظریات مسلط کرکے اپنے آلہ کاروں کو برسرکار لانا چاہتا ہے۔ اس معروف مصری صحافی نے لکھا ہے کہ عرب ليگ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ملکوں کے ہاتھوں میں کھلونہ بن چکی ہے اور عمرو موسی کے زمانےمیں بھی عرب لیگ کا یہی حال تھا۔ انہوں نے خبردار کیا ہے آل سعود مصر میں اپنی ثقافت پھیلاناچاہتی ہے تاکہ اس ملک کے امور پر مسلط ہوسکے۔ یاد رہے مصر کے عوام نے گذشتہ برس کے آغاز میں تحریک چلائي تھی جس کے نتیجے میں سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئي اور پارلیمانی انتخابات ہوئے۔

صیہونی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک سے وہ تین سو میلن ڈالر واپس دینے کا مطالبہ کیا ہے جو انہیں مصر میں نصاب تعلیم بدلنے کے لئے دئے گئےتھے۔اسلام الیوم ویب سائٹ نےنابلس ٹی وی کےحوالے سے لکھا ہے کہ صیہونی پارلیمنٹ کےرکن بنیامین الیعازر نے مصر کےسابق ڈکٹیٹر سے وہ تین سو ملین ڈالر واپس مانگ لئے ہيں جو انہیں مصر کے نصاب تعلیم بدلنے کے لئے رشوت کے طور پر دئے گئے تھے۔قابل ذکر ہے حسنی مبارک کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی ایما پر مصر کا نصاب تعلیم بدلنے کے لئے صیہونی ماہرین سے مذاکرات کئے تھے جن میں قاہرہ میں صیہونی سفیر بھی شامل تھا۔ ادھر صیہونی اخبار روز الیوسف نے لکھا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر کی اہلیہ سوزان مبارک نے صیہونی حکومت کی منشاء کے مطابق مصر کے نصاب میں تبدیلیاں لانے نیز مصر کے وزیر تعلیم و اوقاف پر دباؤ ڈالنے کے لئے صیہونی حکام سے مذاکرات کئے تھے۔ اس اخبار کے مطابق سوزان مبارک کو ان مذاکرات کے بعد تین سو ملین ڈالر کی رشوت دی گئي تھی تاکہ مصر کے تعلیمی نصاب میں شامل قرآن کی آیات اور یہودیوں کے خلاف مواد کو نکال دیا جائے۔ یاد رہے عالم اسلام کے مبصرین کا کہنا ہے کہ مصر کا سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک جس نے تیس برسوں تک مصر پر حکومت کی تھی صیہونی حکومت کا بے چون و چراغلام تھا اور اس نے مصر کے تمام امور صیہونیوں کےمطابق چلانا شروع کردئے تھے۔ عوامی انقلاب کے نتیجے میں حسنی مبارک کو اقتدار سے ہٹنا پڑا۔

تیونس کے اسلام پسند رہنما نے تاکید کی ہے کہ  تیونس اسرائیل کی غاصب حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کرےگا۔ الشرق الاوسط کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تیونس کی اسلام پسند تنظیم النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے تاکید کی ہے کہ تیونس اسرائیل کی غاصب حکومت کو ہرگز تسلیم نہیں کرےگا۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین تمام اسلام پسند تنظیموں کا مشترکہ مسئلہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تیونس کا دشمن نہیں ہے۔ الغنوشی نے کہا کہ تیونس میں اب ڈکٹیٹرشپ واپس نہیں آئے گی اورقومی بیداری جمہوریت کی پشتپناہ ہے۔ الغنوشی نے کہا کہ ایران ہمارا دشمن نہیں ، ایران کے  ساتھ بعض مسائل میں ہمارا اتفاق ہے اور بعض مسائل میں اختلاف ہے۔ واضح رہے کہ تیونس کے فراری صدر کے بعد اسلام پسند تنظيم النہضہ کو تیونس میںزبردست کامیابی ملی ہے تیونس کے فراری اور ڈگٹیٹر صدر بن علی نے سعودی عرب کے ڈکٹیٹروں کی آغوش میں پناہ لےرکھی ہے

رياض … سعودي فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزيز نے طاقتور مذہبي پوليس کے سربراہ کو برطرف کرديا ہے.ايک شاہي فرمان کے ذريعے شاہ عبداللہ نے ھيئة الامر بالمعروف والنہي عن المنکر کے سربراہ شيخ عبدالعزيز بن حمين کو فوري طور پر برطرف کرکے انکي جگہ شيخ عبدالعزيز بن عبدالرحمن آل الشيخ کو نيا سربراہ مقرر کيا ہے، شاہي فرمان ميں وجوہات عام طور پر بيان نہيں کي جاتيں، ليکن محسوس یہ ہی کیا جا رہا ہے کہ ملک میں جاری شیعہ مسلمانوں کی انقلابی تحریک کو دبانے اور روکنے میں ناکامی , آل سعود اور مذہبی ادارے کے درمیان میں شدید اختلافات اور دیگر اختیارات کے بارے میں  کافي عرصے سے مذکورہ اتھارٹي( جسکے پاس پوليس کے برابر اختيارات ہيں)کے امور متنازعہ چل رہے تھے، اور چند لوگوں کے علاوہ يہ طاقتور ادارہ عوم ميں تيزي سے اپني مقبوليت اور ساکھ کھو رہا تھا.    

موریطانیہ کے ذرائع کے مطابق قطر کے امیر کو اس کے نامناسب مؤقف اور مداخلت کی بنا پر موریطانیہ سے نکال دیا گيا ہے۔ ذرائع نے میڈل ایسٹ آن لائن سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قطر کے امیر کو اس کے نامناسب مؤقف اور مداخلت کی بنا پر موریطانیہ سے نکال دیا گيا ہے۔ ذرائع کے مطابق امیر قطر نے موریطانیہ کے صدر کو ملک میں اصلاحات کی سفارش کی جس کے بعد دونوں رہنماؤں میں تلخ کلامی ہوئی اور موریطانیہ کے صدر محمد ولد بن عبد العزيز نے قطر کے امیر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کو ملک سے اخراج کرنے کا حکم دیدیا۔اور صرف موریطانیہ کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے قطر کے امیر اور اس کے ہمراہ وفد کو خدا حافظ کیا۔ محمد ولد عبد العزیز نے امیر قطر کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قطر مغربی ممالک کی پالیسیوں کو عرب ممالک پر تھونپے کی کوشش کررہا ہے۔

قاہرہ میں شام کے سفیر نے قطر کے وزير اعظم کے شام کے خلاف اظہارات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تخریب کاری فوری طور پر بند کردے۔ ذرائع نے شام کی خبررساں ایجنسی سانا کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قاہرہ میں شام کے سفیر یوسف احمد نے قطر کے وزير اعظم کے شام کے خلاف اظہارات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور تخریب کاری فوری طور پر بند کردے۔ انھوں نے کہا کہ عربی کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے قطر کے وزیر اعظم کا بیان اس کے عہدے کے بالکل منافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ قطر کے وزیر اعظم نے شام کے عوام کا ترجمان بننے کی کوشش کی ہے جبکہ شامی عوام کی واضح اکثریت بیرونی مداخلت کے خلاف ہیں اور شامی عوام نے حالیہ مظاہروں میں عملی طور پر اس بات کو ثابت کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شام کے کس گروپ نے قطر کو شام کے عوام کا ترجمان بننے کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ قطر امریکی اور اسرائيل کی سرپرستی میں شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لئے دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔

قاہرہ سے موصولہ رپورٹ کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں عرب لیگ کے زیر انتظام شام کی صورت حال کی نگراں وزارتی کمیٹی نے شامی صدر بشار الاسد اور مسلح مخالفين سے ایک مرتبہ پھر پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ ملک ميں تشدد کا سلسلہ بند کريں ۔اس رپورٹ کے مطابق قطر کے وزير اعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني کي سربراہي ميں بلائے جانے والے اس اجلاس ميں شام کے حالات سے متعلق عرب ليگ کے مبصرين کي رپورٹ کا جائزہ ليا- قطر کے وزير اعظم نے اس اجلاس ميں شام کے حکام سے اپيل کي کہ وہ ملک ميں بدامني کے خاتمے کے لئے اپني پوري توانائياں بروئے کار لائيں-حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني نے شام ميں عرب ليگ کے مبصرين کے آزادانہ کام کرنے کي ضرورت پر تاکيد کرتے ہوئے کہا کہ عرب ليگ کے مبصرين کا مشن خاص مدت تک کے لئے نہيں ہے اور يہ مبصرين شام کي صورتحال کا جائزہ لينے کے لئے نگراني کا کام جاري رکھيں گے عرب ليگ کي وزارتي کميٹي نے اعلان کيا ہے کہ اقوام متحدہ کو اپنے مبصرين شام بھيجنے کي ضرورت نہيں ہےـ  عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں شامی حکومت سے کہا گیا کہ “کمیٹی شامی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ عرب مبصرین کے پروٹوکول کے تحت شہریوں کو تحفظ دینے کے تمام وعدوں کی مکمل طور پر پاسداری کرے۔ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیا جائے اور ان پرتشدد فوری طور پر بند کیا جائے۔ کمیٹی نے شامی اپوزیشن کے دھڑوں سے کہا کہ وہ آپس میں متحد ہو جائیں اور شام کے مستقبل اور کسی سیاسی تبدیلی کی صورت میں کوئی متفقہ لائحہ عمل مرتب کریں، تاکہ شام میں کسی عبوری حکومت کے قیام میں عالمی مصالحت کاروں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عرب لیگ نے شام میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور ان کے مرتکبین کو شام دشمن عناصر قرار دیا۔ عرب لیگ کے مبصرین کو آزادی کے ساتھ اپنا مشن جاری رکھنے کا موقع فراہم کیا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ شام میں خراب حالات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ عرب وزارتی کمیٹی نے شام میں مبصر مشن کے نگران محمد احمد مصطفیٰ الدابی سے کہا کہ کہ وہ انیس جنوری تک شام کی صورت حال کے بارے میں ایک جامع اور مفصل رپورٹ عرب لیگ میں پیش کریں تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ شامی حکومت تشدد روکنے کے اپنے وعدوں پر کتنا عمل درامد کر رہی ہے۔واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف نے عرب لیگ کی جانب سے صدر بشارالاسد کے خلاف سخت موقف اختیار نہ کرنے پر تنقید کی ہے ۔

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہےکہ عراق علاقے کے کسی بھی ملک کے خلاف فوجی اقدامات میں شریک نہیں ہوگا اور شام کے مسائل کو مذاکرت سے حل کیا جانا چاہیے۔ سومریہ نیوز کے مطابق نوری المالکی نے کہا ہےکہ ان کی حکومت شام کی حکومت اور مخالفین کے مذاکرات کی میزبانی کرنے کو تیار ہے اور عراق نے بھی شام کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغداد حکومت شام کےبارے میں عرب لیگ کے فیصلے کی مخالف ہے کیونکہ شام کے عوام کا یہ حق ہے کہ وہ جمہوریت اور آزادی سےبہرہ مند رہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ بغداد کسی بھی ملک پر پابندیاں لگانے کا مخالف ہے اور فوجی مداخلت کو بھی مسترد کرتا ہے کیونکہ اس سے ملک میں تباہی پھیل جاتی ہے۔ ادھر اطلاعات ہیں کہ عراق کے نائب صدر طارق ہاشمی نے کردستان عراق میں اپنا دفتر کھول لیا ہے۔ طارق عزیز کا یہ دفتر شمالی عراق کے سلیمانیہ علاقے میں ہے۔ النخيل ویب سائٹ کے مطابق طارق ہاشمی نے اردن سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ طارق ہاشمی پر دہشتگردوں کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے اور اسی الزام کے تحت عراقی عدلیہ نے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں۔ نوری المالکی نے کہا کہ طارق ہاشمی پر ملک سے باہر جانے پر پابندی ہے ۔ انہوں نے کردستان انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ طارق ہاشمی کو عدلیہ کے حوالے کردے۔ یاد رہے طارق ہاشمی کے محافظوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے طارق ہاشمی کے ایماء پر دہشتگردوں کےساتھ تعاون کیا تھا اور طارق ہاشمی نے انہیں پیسہ بھی دیا ہے۔

آل سعود کی ایک معزز فرد شہزادی بسمہ بنت سعود نے برطانوی ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا ہےکہ سعودی عرب میں وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی مخالفت ہورہی ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بسمۃ بنت سعود نے جو سعودی شاہ کی بہن ہیں کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت میں وسیع پیمانے پربدعنوانیاں ہیں اور نہایت بربریت سے انسانی حقوق کی پامالی بھی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ساری دولت اور تیل کی آمدنی پر آل سعود قابض ہے اور عوام کو اس کا بہت ہی کم حصہ ملتا ہے ۔ شہزادی بسمہ بنت سعود نے کہا کہ وہ آل سعود کی بدعنوانیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں گي۔ انہوں نے کہا کہ آل سعود کے دوہزار شہزادوں نے ملک کی دولت اور اقتدار پر قبضہ کررکھا ہےاور ان کی انٹلجنس کی گھٹن سے کسی میں دم مارنے کا یارا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ملک میں حکومت کے کاموں پر کسی طرح کی نگرانی نہیں ہوتی۔ یاد رہے انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بارہا سعودی عرب میں انسانی حقوق کی پامالی پر آواز اٹھائي ہے ۔ سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتیں کو ووٹ دینے اور گاڑی چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

مصر میں وکیل استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے فرعون اورسابق ڈکٹیٹرصدر حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جائے۔الیوم السابع سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر میں وکیل استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ مصر کے فرعون اورسابق ڈکٹیٹرصدر حسنی مبارک کو مظاہرین کو ہلاک کرنے کے احکامات جاری کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا دی جائے۔سابق  مصرکے امریکہ اور اسرائیل نواز سابق ڈکٹیٹر صدر حسنی مبارک پر بدعنوانی کا الزام ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو مارنے کے احکامات جاری کیے تھے۔سابق صدر کے دو بیٹے اعلی اور جمال، سابق وزیرِ داخلہ اور چھ سینیئر اہلکار بھی کٹہرے میں موجود تھے۔ تمام ملزمان نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے

لیبیا کے سابق مقتول رہ نما معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے اسرائیلی حکومت سے سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ایک عربی ویب سائٹ نے اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے حوالے سیانکشاف کیا ہے کہ عائشہ قذافی نے تل ابیب کے اعلی سیاسی عہدیداران سے انہیں اسرائیل میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی اپیل کی ہے۔ عائشہ قذافی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ الجزائر کی حکومت انہیں کسی بھی وقت نئی لیبیائی حکومت کے سپرد کر سکتی ہے جہاں ان کا عدالتی ٹرائل کیا جائے گا۔ اسرائیلی سیٹلائٹ چینل کے مطابق عائشہ قذافی نیاسرائیل سے سیاسی پناہ طلب کرنے کے لیے سابق امریکی اٹارنی نک کا فمین کی خدمات حاصل کی ہیں۔ عائشہ قذافی کا کہنا ہے کہن وہ اس وقت اسرائیل کو اپنے لیے سب سے محفوظ ملک سمجھتی ہیں

مقبوضہ بیت المقدس…اسرائیل نے مصرمیں آئندہ آنے والی اسلام پسند حکومت کا مقابلہ کرنے کی تیاری شروع کر دی، اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اس کا مصر سے تعلقات ویسے نہیں رہینگے جیسے سادات اور مبارک کے دور حکومت میں تہے۔ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق مصر میں دینی جماعتوں کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد اسرائیل کو سخت تشویش لاحق ہے اور ان کی حکومت کے قیام کے امکانات کے بعد قاہرہ کے ساتھ نئے انداز میں تعلقات کے لیے پیش بندی شروع کر دی ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ اسرائیلی فوج کا ایک بڑا حصہ جسے انتہا پسند یہودی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے ،مصر کے ساتھ “ٹرننگ پوائنٹ” کی تیاری کا حامی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں فوج کا دوسرا گروپ فوری طور پر مصر کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی کا حامی نہیں بلکہ اسکا موقف ہے کہ فی الحال مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پائے سابقہ معاہدوں پر عملدرآمد تک انتظار کیا جائے۔ نئے منصوبے کے تحت صہیونی فوج کی بڑی تعداد کو جزیرہ نماء سینا میں حالت جنگ میں تعینات کیا جائیگا۔ حالانکہ مصر اسرائیل امن معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی اسرائیل اور مصر دونوں اپنے اپنے زیرانتظام جزیرہ سینا میں فوج کو مسلح حالت میں نہیں رکھیں گے۔ تاہم اس شرط کے باوجود اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد کو اسلحہ سمیت جزیرہ نما سیناء میں تعینات کیا گیا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف کسی بیرونی حملے کی صورت میں لبنانی حزب اللہ کے ارکان جزیرہ نما سینا کے راستے اسرائیل میں داخل ہو کرصہیونی مفادات کو نقصان پہنچا سکتے۔

یمن کے صدرعلی عبداللہ صالح صدارتی اختیارات نائب صدر کو منتقل کر چکے ہیں، اب وہ امریکہ جانے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن امریکی حکام نے ان کے لیے ویزہ جاری کرنے پر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح برسوں تک اپنے ملک کے اقتدار پر براجمان رہے ہیں۔ ان کی منصب صدارت سے رخصتی پرزور عوامی تحریک کے باعث ممکن ہوئی۔ خلیجی تعاون کونسل کے پیش کردہ پلان کے تحت انہوں نے صدر کے اختیارات اپنے نائب صدر کو منتقل کر دیے ہیں۔ وہ نئے صدر کے انتخاب تک یمن کے صدر ضرور رہیں گے۔ اپنے اقتدار کے دور میں وہ دہشت گردی کی جنگ میں امریکی حلیف بھی تھے۔ اپنے ملک میں سرگرم انتہاپسندوں کی سرکوبی کے لیے وہ امریکی معاونت بھی حاصل کیے رہے۔ اس وقت یمن کے عوام شدت کے ساتھ ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ان کو خلیجی تعاون کونسل کے منتقلی ِاقتدار کے فارمولے کے تحت مقدموں سے استثنیٰ حاصل ہے۔علی عبداللہ صالح امریکہ بظاہر علاج کی غرض سے جانا چاہتے ہیں۔ امریکہ ان کی درخواست پر غور تو ضرور کر رہا ہے لیکن اس کا امکان کم ہے کہ یمنی عوام کے دباؤ کے تحت صنعاء حکومت ان کو جب مستقبل میں طلب کرتی ہے تو امریکہ ان کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکے گا۔ خلیجی ریاست قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم امریکی تھنک ٹینک بروکنگز کی برانچ کے تنازعات کے ایکسپرٹ ابراہیم شرقیہ کا خیال ہے کہ صالح صورت حال کا احساس کرتے ہوئے اب ملک سے جلد روانہ ہونے کی فکر میں ہیں۔ امریکہ جانے کی خواہش کا اظہار علی عبداللہ صالح کی جانب سے گزشتہ ہفتے کے دوران سامنے آیا تھا، جب ان کے مخالف مظاہرین کو ان کے حامیوں کی فائرنگ کا سامنا کرنا پڑا اور اس میں کم از کم نو مظاہرین کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ مظاہرین صالح کو حاصل عدالتی استثنیٰ  کے خلاف متحرک تھے۔صالح کے خلاف مقدمہ چلانے کی تحریک کا آغاز تعِز شہر سے ہوا ہے اور یمن میں اس تحریک کو ایک اور انقلاب کا نام دیا گیا ہے۔ تعِز سے ہزاروں افراد نے دارالحکومت صنعا کی جانب مارچ کیا اور اس دوران ان کے ساتھ بے شمار دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے گئے۔ یہ لوگ حکومت میں ہر سطح پر صالح کے حامی ملازمین کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں فارغ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان مظاہرین کا خیال ہے کہ مختلف مقامات پر براجمان صالح کے حامی افراد اپنے دوست احباب کو بچانے کی فکر میں صالح مخالفین کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کر رہے۔ مبصرین کے خیال میں موجودہ صورتحال میں صالح کو اب امریکہ روانہ ہونے کی جلدی ہے۔ صالح کی امریکی ویزے کی درخواست پر امریکی حلقوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی دارالحکومت کے اخبار واشنگٹن پوسٹ کے ادارتی بورڈ نے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس صورت حال میں امریکی حکام نے ویزہ دینے میں غور و فکر کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ دوسری جانب صالح کے رشتہ داروں نے ابو ظہبی میں سکونت کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ یمن میں صدارتی انتخابات اگلے سال اکیس فروری کے روز ہوں گے۔

قاہرہ… مصری پولیس نے دارالحکومت قاہرہ میں سترہ غیر سرکاری تنظیموں این جی او کے دفاتر پر چھاپے مارکر دستاویزات اور دوسرا سامان ضبط کر لیا۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے بتایا کہ پولیس نے دوامریکی تنظیموں نیشنل ڈیمو کریٹک انسٹی ٹیوٹ اورانٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ سمیت سترہ این جی اوز کے دفاتر پرچھاپے مارے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکا مصر کو دی جانے والی ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی سالانہ فوجی امداد پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل کہہ چکی ہے کہ وہ جمہوریت نوازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ملنے والے فنڈز کی تحقیقات کرے گی اور ملکی امور میں غیر ملکی مداخلت برداشت نہیں کرے گی۔مصر کی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیمیں حکمراں فوجی کونسل سے اقتدار جلد سے جلد سول حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں

 

تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب نے اسلامی بیدار کے ایک سال مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی بیداری کے بابرکت نتائج کی بدولت بہت سے امریکی و اسرائيلی عرب ڈکٹیٹر اقتدار سے محروم اور نابود ہوگئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں آج نماز جمعہ آیت اللہ جنتی کی امامت میں منعقد ہوئی جس میں لاکھوں مؤمنین نے شرکت کی۔ تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے عارضی خطیب آیت جنتی نے اسلامی بیدار کے ایک سال مکمل ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی بیداری کے بابرکت نتائج  کی بدولت بہت سے امریکی و اسرائيلی عرب ڈکٹیٹر اقتدار سے محروم اور نابود ہوگئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تیونس ، مصر اور لیبیا میں عوام نے اپنی قدرت اور طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ نواز عرب حکمرانوں کو نابود کردیا ہے اور امید ہے کہ یمن، بحرین اور دیگرعرب ممالک میں بھی امریکہ نواز عرب حکمراں جلد ہی نابود ہوجائیں گے انھوں نے کہا کہ عرب حکمراں اسلام اور مسلمانوں کے ماتھے پر بدنما داغ ہیں عرب حکمراں در حقیقت امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے بنائے ہوئے ہیں انھیں عرب عوام کی حمایت حاصل نہیں وہ صرف امریکی سہارے پر چل رہے ہیں ، آیت اللہ جنتی نے عراق سے  امریکی فوج کے انخلاء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی عرب ریاستوں نے عراق پر چڑھائی کے لئے امریکہ کا راستہ ہموار کیا اور عراق میں امریکہ کے تمام سنگين جرائم میں خلیجی عرب حکمراں  ملوث ہیں۔ خطیب جمعہ نے کہا کہ امریکہ نے آٹھ ، نو سال تک عراق میں ہولناک جرائم کا ارتکاب کیا جس میں عرب ڈکٹیر امریکہ کے ساتھ شامل ہیں

مصری حکام نے غزہ کی مصر سے محلق گیارہ کلومیٹر سرحد پر قائم واحد راہداری کو بند کر دیا جہاں سے اب کسی فلسطینی کو مصر داخل ہونے یا واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مصری حکام نے یہ فیصلہ فلسطینی حکام کی جانب سے مسافروں کو لانے لیجانے والی بس کمپنی کو تبدیل کرنے پر احتجاجا کیا۔  سرحدات اور کراسنگز کی بنائی گئی جنرل کمیٹی نے مسافروں کو غزہ سے مصر لجانے والی بسوں کی ’’غزہ کمپنی‘‘ کو تبدیل کر دیا جس کے بعد کراسنگ کی مصری انتظامیہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور ’’غزہ کمپنی‘‘ کو دوبارہ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی حکام کو اچانک بتایا گیا کہ مصریوں نے ان کی بسوں کو مصر داخل ہونے سے روک دیا ہے جس کی وجہ بس کی کمپنی بدلنا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ آج غزہ سے کوئی مسافر مصر نہیں جا سکے گا تاہم اس مشکل پر قابو پانے کے لیے کام جاری ہے۔

مصر کے سیاسی رہنماؤں اور خواتین نے مصری فوج کی طرف سے مصری خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک اور عورتوں کو بے پردہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل امریکی آلہ کار ہے اور مصر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ گھناؤنی سازش اور ناپاک عزائم کا شکار ہے۔  نہرین نیٹ کے حوالے سے نقل کیا ہےکہ مصر کے سیاسی رہنماؤں  اور خواتین نے مصری فوج کی طرف سے مصری خواتین کے ساتھ نازیبا سلوک اور عورتوں کو بے پردہ کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل امریکی آلہ کار ہے اور مصر امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ گھناؤنی سازش اور ناپاک عزائم کا شکار ہے۔  مصرکے صدارتی انتخابات کی ممکنہ امیدوار بثینہ کامل نے کہا ہے کہ ہم ان عورتوں کی حمایت میں مظاہرہ کررہے ہیں جن کی فوج نے عصمت دری اور جن کو بے پردہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مصری خواتین مصری انقلاب کی دل وجان سے حفاظت کریں گی۔  ایک اور مصری فعال ابراہیم مدحت شکری نے کہا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل نے اسرائیلی فوجیوں کو اجیر کررکھا ہے تاکہ وہ مصر کی جوان لڑکیوں کو بے پردہ کریں۔ واضح رہے کہ مصر کی فوجی انتظآمی کونسل سے وابستہ فوجیوں نے کچھ مصری خواتین کو بے پردہ کرکے زمین پر گھسیٹا تھا جس کے بعد مصری عوام کے احتجاج میں شدت آگئی ہے اور مصری عوام فوجی کونسل کو امریکی آلہ کار اورسابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی باقی ماندہ عناصر میں قراردے رہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصر میں مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کے برتاؤ کو ’شرمناک‘ اور ’دھچکے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ کلنٹن کا یہ بیان ان ویڈیوز اور تصاویر کے منظر عام پر آنے کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز کو خواتین مظاہرین کے کپڑے پھاڑتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ عموماﹰ اس انداز کا سخت رویہ اختیار نہ کرنے والی ہلیری کلنٹن نے کہا کہ مصر میں انقلاب اور حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدہ ہو جانے کے بعد وہاں حکومت خواتین کو سیاسی نمائندگی دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور سڑکوں پر خواتین کی تذلیل کی جا رہی ہے۔جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا، ’ایک مربوط انداز سے خواتین کو بے عزت کرنا، ریاست اور اس کے یونیفارم کی ذلت ہوتی ہے۔ یہ عظیم لوگوں کا خاصا ہر گز نہیں ہوتی۔‘ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر نظر آنے والی ایک ویڈیو میں ہیلمٹ پہنے ایک سرکاری فوجی ایک خاتون کو بری طرح پیٹ رہا تھا جبکہ اس مار پیٹ کے دوران اس خاتون کے کپڑے پھٹ گئے تھے اور وہ نیم برہنہ ہو چکی تھی۔ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹس پر نظر آنے والی تصاویر میں ایک فوجی بڑی عمر کی ایک روتی ہوئی خاتون کو پیٹ رہا تھا۔ کلنٹن نے کہا کہ مصر میں حالیہ واقعات کسی دھچکے سے کم نہیں۔ ’خواتین انہی سڑکوں پر پیٹی اور بے عزت کی جا رہی ہیں، جن سڑکوں پر چند ماہ قبل انہوں نے اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انقلاب کے لیے آواز اٹھائی تھی۔‘ انہوں نے ملکی فیصلہ سازی میں عورتوں کو درست نمائندگی نہ دینے پر مصر کی فوجی انتظامیہ اور سیاسی جماعتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ’اب ان خواتین کو انتہاپسندوں اور سکیورٹی فورسز دونوں کا سامنا ہے۔ خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ جنسی زیادتیاں کی گئی ہیں اور خواتین کو سڑکوں پر پیٹا جا رہا ہے۔‘ ہلیری کلنٹن نے ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں کہا، ’سڑکوں پر خواتین کو پیٹنا، ثقافت کا حصہ نہیں ایک جرم ہے اور مجرم کو قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔‘

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تحریر اسکوائر پر جمع مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا تازہ سلسلہ پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے منگل کو بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تحریر اسکوائر پر جھڑپیں پیر کی شب بھی جاری رہیں۔ منگل کی صبح بھی مظاہرین وہاں موجود تھے، جن کے خلاف فوج اور پولیس نے ہتھیاروں کے ساتھ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل بھی استعمال کیے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق تحریر اسکوائر اور اس کے قریبی علاقوں میں جمعے کو شروع والے پرتشدد مظاہروں کے دوارن ہلاکتوں کی تعداد تیرہ ہو چکی ہے  جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔ فوجی جنرلز اور ان کے مشیروں نے جمہوریت نوازوں کی جانب  سے جاری مظاہروں کی مذمت کی ہے۔ بعض نے بہت ہی سخت الفاظ میں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے مصری حکام کی جانب سے طاقت کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے ہتھیار مہیا کرنے والوں پر زور دیا ہے کہ مصر کو چھوٹے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دیں۔ مصر میں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپوں کے دوران ہزاروں تاریخی اور نایاب دستاویزات بھی تباہ ہو گئی ہیں۔ ان میں مخطوطے بھی شامل ہیں۔ یہ دستاویزات قاہرہ میں قائم Institute d’Egypte میں ویک اینڈ پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں جل کر راکھ ہو گئیں۔ یہ آگ سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کےد رمیان ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں لگی۔ بعدازاں شہریوں اور ماہرین تعلیم پر مشتمل رضاکاروں نے اس مرکز میں بچ جانے والی کتابوں اور دستاویزات کو نکالنے پر دو دِن صَرف کیے۔یہ انسٹی ٹیوٹ نپولین بونا پارٹ نے اٹھارویں صدی کے آخر میں مصر پر فرانس کی جانب سے چڑھائی کے دوران قائم کیا تھا۔ وہاں موجود کتابوں، جرنلز اور دیگر دستاویزات کی تعداد ایک لاکھ بانوے ہزار تھی۔ ریٹائرڈ جنرل اور عسکری مشیر عبدالمنعم کاتو نے اس مرکز پر لگنے والی آگ سے متعلق بات کرے ہوئے کہا: ’’جب آپ مصر اور اس کی تاریخ کو اپنے آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ پھر بھی آپ ان آوارہ گردوں کےلیے پریشان ہیں جنہیں ہٹلر کی بھٹیوں میں جلا دیا جانا چاہیے۔‘‘ ان ہنگاموں کی وجہ سے پارلیمانی انتخاب کا عمل بھی متاثر ہے، جو اٹھائیس نومبر کو شروع ہوئے اور گیارہ جنوری تک جاری رہیں گے۔ تاہم فوج کا کہنا ہے کہ اقتدار کی سویلین حکمرانوں کو منتقلی کے جس عمل کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ نبھایا جائے گا۔ ان انتخابات کے اب تک سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ا‌خوان المسلمین سمیت کٹر النور کو برتری حاصل کر سکتی ہیں۔

قاہرہ…مصر سے اسرائیل کو گیس فراہم کرنے والی مصری پائپ لائن کو نامعلوم افراد نے دھماکے سے اڑا دیا ہے۔ اس سال کے آغاز سے اب تک اس پائپ لائن کو دسویں مرتبہ تباہ کیا گیا ہے۔مصری سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد کے ایک گروہ نے السیل کے علاقے سے گزرنے والی اس پائپ لائن کے نیچے دھماکہ خیز مواد نصب کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔ یہ مقام مصری صحرائے سینا کے شمالی شہر العریش سے اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دھماکے سے پائپ لائن تباہ ہو گئی تاہم بڑا مالی نقصان نہیں ہوا، تین ہفتے قبل ایسے ہی ایک دھماکے کے بعد اس پائپ لائن کو دوبارہ یہاں نصب کیا گیا تھا

مصر کے وزیر زراعت نے کہا ہے کہ وہ صہیونی ریاست کے زرعی ماہرین کو ملک سے نکال باہر کریں گے۔محمد رضا اسماعیل نے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوجائے کہ صہیونی ریاست کے زرعی ماہرین مصر میں کام کر رہے ہیں تو وہ انہیں نکال کر مصری شہریوں کو رکھیں گے کیونکہ مصر کے ماہرین کسی سے کم نہيں ہیں۔قابل ذکر ہے کہ مصر کے عوام کی تحریک کے نتیجے میں صہیونیت نواز سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت سرنگوں ہوگئی اور اب مصری عوام صہیونی ریاست سے تعلقات ختم کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

شمالی یمن میں شیعہ مسلمانوں نے سعودی وہابی ناصبی گروہ کے ایک مدرسہ پر حملہ کر کے بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ قبائلی ذرائع کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 70 افراد زخمی بھی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ دارالہدایت نامی اس مدرسے میں یمن کے علاوہ دیگر ممالک کے افراد بھی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ ابھی تک اس حملے کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان کاظم جلالی نے کہا ہے کہ مصری فوج بھی مستقبل میں عوام کے سامنےگھٹنےٹیک دےگی۔ کاظم جلالی نے مہرنیوزایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے مصر کی تازہ ترین صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مصر میں امریکہ اور مغرب پہلے یہ خیال کرتے تھے کہ صرف ایک شخص کو ہٹانا پڑے گا یعنی عملی طور پر صرف حسنی مبارک کو ہٹا کر اقتدار فوج کےحوالے کرنا پڑےگا۔ کاظم جلالی نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ملت مصر یہ محسوس کرتی ہے کہ موجودہ صورت حال حسنی مبارک کے زمانے سےمختلف نہيں ہے، کہاکہ مصر کی موجودہ صورت حال سے پتہ چلتاہے کہ مصر کے عوام میدان میں ہیں اور حالات پر پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہيں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ مصری عوام کا انقلاب آگے کی جانب بڑھ رہا ہے،کہا کہ اس ملک کی قوم نےثابت کر دیا ہے کہ وہ میدان میں ڈٹی رہے گی ۔

مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ جنرل حسین طنطاوی نے مصر کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدواروں محمد البرادعی اور عمرو موسی کے ساتھ مصر کے حالات پر خصوصی ملاقات کی ہے طنطاوی کو مصری عوام کی سخت نفرت کا سامناہے۔جرمن خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کی فوجی کونسل کے سربراہ جنرل حسین طنطاوی نے مصر کے صدارتی انتخاب کے ممکنہ امیدواروں محمد البرادعی اور عمرو موسی کے ساتھ مصر کے حالات پر خصوصی ملاقات کی ہے۔طنطاوی کو مصری عوام کی سخت نفرت کا سامنا ہے برادعی نے کل رات  مصرکے انقلابی جوانوں اور 6 اپریل تحریک کے نمائندوں سے  مصر کی سیاسی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا مصری جوانوں نے اس ملاقات میں جنرل طنطاوی کے نامزد وزیر اعظم کمال الجنزوری کی واضح الفاظ میں مخالفت کی مصر کے صدارتی انتخاب کے امید وار محمد البرادی نے کہا ہے کہ اگر انہیں ملک کی عبوری حکومت میں وزیر اعظم کے عہدے کی پیشکش کی جاتی ہے تو وہ صدارتی عہدے کی دوڑ سے باہر نکلنے کو تیار ہیں۔ مصر پر فوجی حاکمیت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین البرادی کی حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے فوجی کونسل کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے لیے کمال الجنزوری کی نامزدگی مسترد کردی ہے کیونکہ وہ سابق صدر حسنی مبارک کے ماتحت کام کر چکے ہیں۔ مصر میں عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

مصر میں فوج کے اقتدار کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مظاہرین نے فوج کی جانب سے نئے وزیر اعظم کے انتخاب کو بھی ردّ کر دیا ہے۔سینکڑوں مظاہرین نے تحریر اسکوائر کے قریب واقع کابینہ کے دفاتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ انہوں نے الجنزوری کو دفاتر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ وہ اس موقع پر ’انقلاب‘ اور الجنزوری کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ انہوں نے الجنزوری کو گزشتہ حکومت کے باقیات میں سے قرار دیا۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ تحریر اسکوائر پر موجود مظاہرین نے الجنزوری کی تقرری مسترد کر دی ہے۔ وہاں موجود عمر عبدالمنصور نامی شخص نے کہا: ’’ہم کسی ایسے شخص کو نہیں چاہتے جسے عسکری کونسل نے منتخب کیا ہو۔ ہم کسی سویلین کا انتخاب چاہتے ہیں جو انقلاب کے وقت تحریر اسکوائر پر ہمارے ساتھ موجود رہا ہو۔ تیس سالہ محمد خطاب نے کہا: ’’تحریر کے نوجوانوں نے بہت سے نام تجویز کیے ہیں۔ ان میں سے کسی کو منتخب نہیں کیا گیا۔ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ حسنی مبارک کے جانے کے بعد کچھ نہیں بدلا۔‘‘تحریر اسکوائر پر عبادت کی امامت کرنے والے شیخ مظہر شاہین نے کہا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، مظاہرین تحریر اسکوائر نہیں چھوڑیں گےمصر کی سپریم کونسل آف دی آرمڈ فورسز (ایس سی اے ایف) نے پیر کے انتخابات اور سیاسی بحران کے باوجود 78 سالہ کمال  الجنزوری کو کابینہ کی قیادت کا فریضہ سونپا ہے۔اپنی تقرری کے بعد میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے الجنزوری نے کہا کہ قبل ازیں کابینہ کو صدر کی جانب سے بہت سے اختیارات دیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سابق وزرائے اعظم کے مقابلے میں زیادہ اختیارات ملے ہیں۔الجنزوری سابق صدر حسنی مبارک کے دَور میں انیس سو چھیانوے سے انیس سو ننانوے تک کے عرصے کے لیے بھی مصر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔انہوں نے نشریاتی خطاب میں کہا کہ وہ آئندہ ہفتے کے آخر تک اپنی حکومت تشکیل دیں گے اور کچھ وزارتیں نوجوانوں کو  بھی دیں گے۔

لیبیا میں جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والی عبوری حکومت کی اہم ترین شخصیت نے نئی ملکی قیادت کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منتخب اشرافیہ کا نام دیا ہے۔یہ بہت سخت بیان لیبیا کے سابق عبوری سربراہ حکومت علی ترہونی نے دیا ہے جن کی سربراہی میں کام کرنے والی انتظامیہ کل جمعرات کو اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئی تھی۔ معمر قذافی کے چار عشروں سے بھی زیادہ طویل دور حکومت کے بعد اس شمالی افریقی ملک میں جو نئے لیڈر اقتدار میں آئے ہیں، انہی میں سے علی ترہونی وہ سب سے نمایاں سیاستدان ہیں جنہوں نے قومی عبوری کونسل اور اس کی قیادت کو اس طرح تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔طرابلس سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق لیبیا میں ایک نئی کابینہ کی تشکیل کے چند ہی گھنٹے بعد علی ترہونی نے ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ نئی لیڈرشپ سرمائے، ہتھیاروں اور تعلقات عامہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کی یہ نئی قیادت لیبیا کے سارے عوام کی نمائندہ نہیں ہے۔ ترہونی نے خبردار کرتے ہوئے کہا، ’اس وقت لیبیا کے 90 فیصد باشندے سیاسی طور پر بے آواز ہیں۔‘خبر ایجنسی روئٹرز نے طرابلس سے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ لیبیا میں وزیر اعظم عبدالرحیم الکائب کی سربراہی میں قائم ہونے والی نئی عبوری حکومت کی تشکیل میں بھی قومی عبوری کونسل کو کافی اثر و رسوخ حاصل رہا۔ اس نئی عبوری حکومت کا اعلان منگل کے روز کیا گیا تھا۔ اس کی ذمہ داریوں میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ اسے لیبیا میں ابتدائی تبدیلیاں لاتے ہوئے اس ملک کو عملی جمہوریت کے راستے پر لانا ہے۔اس نئی حکومت کے بارے میں علی ترہونی نے کہا، ’جو چہرے ہم دیکھ رہے ہیں اور جو آوازیں ہم سن رہے ہیں، وہ آوازیں اشرافیہ اور قومی عبوری کونسل NTC کی آوازیں ہیں۔ ایسے غیر منتخب لوگوں کی آوازیں، جن میں وہ بھی شامل ہیں جن کی باہر سے نقد رقوم، ہتھیاروں اور پبلک ریلیشنز کے ذریعے مدد کی جا رہی ہے۔‘علی ترہونی قذافی حکومت کی مخالف قومی عبوری کونسل کی طرف سے عبوری وزیر اعظم بنائے جانے سے پہلے کچھ عرصہ قبل تک لیبیا کے خزانے اور تیل کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے طرابلس میں صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ لیبیا کے عوام کی اکثریت کی آواز بھی سنی جائے۔کل جمعرات کے دن نئی کابینہ کی حلف برداری تک بہت مختصر عرصے کے لیے عبوری حکومتی سربراہ کے عہدے پر فائز ترہونی نے کہا کہ لیبیا میں اب ایک ایسی تحریک شروع کیے جانے کی ضرورت ہے، جو ملک میں جمہوری آئینی اہداف کے حصول کو یقینی بنانے میں مدد دے سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ این ٹی سی ملک میں ہر طرف دندناتے مسلح ملیشیا گروہوں کو ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیںالجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں مظاہرین فوجی حکومت سے  استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ فوجی حکومت نے طاقت کے استعمال پر عوام سے معافی بھی مانگ لی ہے لیکن عوام قاتلوں کو معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں لاکھوں افراد جمع ہیں اور حالیہ مظاہروں میں 30 سے زائد افراد کی ہلاکت اور فوج کی ریفرنڈم کی تجویز پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مصر کے وزیر داخلہ منصور العیسوی نے 28 نومبر کو ہونے والے انتخابات ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ ایک اور پیشرفت میں قاہرہ کے پراسیکیوٹر جنرل نے مظاہروں میں حصہ لینے پر تین امریکی طلبہ کو تفتیش کی غرض سے چار روز تک زیر حراست رکھنے کا حکم دیا ہے۔ تینوں طلبہ قاہرہ کی امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں۔ انہیں پیر کو تحریر اسکوائر میں دیگر مظاہرین کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ دریں اثناء اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر ناوی پلے نے مصر کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کے واقعات سے متعلق تحقیقات کی جائے۔  ذرائع کے مطابق مصری عوام کو اب فوجی انتظامی کونسل پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ فوجی انتظآمی کون سل امریکہ اور سعودی عرب کے زیر سایہ آگئی ہے اور مصری عوام کے انقلاب کو منحرف کرنے کی تلاش و وکشش کررہی ہے

ریاض … یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ منتقلی اقتدار کے فارمولے کو تسلیم کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں اور اقتدار چھوڑنے کے بعدعلاج کیلئے امریکہ فرار ہوں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی دارالحکومت ریاض میں یمنی صدر نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے پیش کردہ معاہدے پر دستخط کر دئیے۔ اس معاہدے کو امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔ معاہدے پر دستخط کے بعد صدر صالح کا کہنا تھا کہ اب خلوص کے ساتھ یمن کی تعمیرنو کا عمل شروع ہونا ضروری ہے کیونکہ گزشتہ دس ماہ سے ملک ایک بحران سے گزر رہا ہے۔ معاہدے کے تحت اگلے 90 دنوں کے دوران یمن میں عام پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح اقتدار چھوڑنے کے بعدعلاج کیلئے امریکہ فرار ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ علی عبداللہ صالح سے ان کی بات چیت ہوئی ہے، صدر صالح نے بتایا کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد علاج کیلئے امریکہ فرار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نیویارک میں علی عبداللہ صالح سے ملاقات ان کیلئے خوشی کا باعث بنے گی۔

اقوام متحدہ…:…لیبیا کے سابق باغیوں نے اب تک سات ہزار کے قریب افراد کو قید کر رکھا ہے جن میں سے بیشتر کا تعلق افریقی ملکوں سے ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں سیکرٹری جنرل بان کی مون کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان میں سے بعض افراد پر تشدد بھی کیا گیا ہے اور خواتین اور بچوں کو بھی مردوں کے ساتھ زیرحراست رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس بات کی اطلاعات ملی ہیں کہ سرت شہر میں باغیوں اور سابق حکومتی فورسز دونوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ یہ رپورٹ پیر کو سلامتی کونسل میں لیبیا سے متعلق ہونے والی ایک بحث کیلئے تیار کی گئی ہے۔

یروشلم: اسرائیلی سابق وزیر دفاع بنیامن بن الیگڈور کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور مصر کے درمیان کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حالیہ ابتر صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا چھڑ جانا کسی طرح بھی بعید از امکان نہیں۔ بن الیگڈور کا یہ بیان اسرائیلی چیف آف جنرل سٹاف کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوجی سربراہ نے مصر کے اسرائیل سے ملحق علاقے صحرائے سینا میں مسلح سرگرمیوں کے تناظر میں اسرائیل کی اسٹریٹجی ہونے کا عندیہ دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ آج اسرائیل چاروں اطراف سے زلزلے اور طوفان کی زد میں آچکا ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق سابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بھی کہنا تھا کہ مصر میں اسلام پسند جماعت اخوان المسلمین کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات رون ہیں۔ ان کے مطابق اخوان المسلمین پہلی مرتبہ مصری پارلیمان میں کم از کم ایک تہائی نشستیں حاصل کر لے گی جس کے بعد مصری نظام حکومت کیسا ہوگا اس کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم اسرائیل کو سمجھ لینا چاہیے کہ عنقریب اسے مصر کے ساتھ جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے صحرائے سینا کو دہشت گردی کا اڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاقے نے ہمیشہ اسرائیل کو خطرات سے دو چار کیا ہے

مصر میں گزشتہ تین روز  کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 35 تک پہنچ گئی ہے۔ طبی ذرائع کے دارالحکومت قاہرہ، اسکندریہ اور سوئز میں ہونے والی پر تشدد جھڑپوں میں سینکڑوں دیگر افراد زخمی بھی ہیں۔ مظاہرین مصر کے فوجی حکمرانوں کی جانب سے بنائے گئے آئینی مسودے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس سے نئی منتخب حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد فوج کو بہت زیادہ اختیارا ت حاصل رہیں گے۔شمال افریقی ریاست مصر میں نیا عوامی احتجاجی سلسلہ تیسرے روز میں داخل ہو چکا ہے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں 30 سے زائد انسانی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے والے عوامی احتجاج کا رخ اب بظاہر ملکی فوج کی جانب ہو چکا ہے۔ انقلابِ مصر کے مرکز، قاہرہ کے التحریر چوک میں ہزاروں مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ قاہرہ میں برسر اقتدار فوج فوری طور پر حکومتی ذمہ داریاں سویلین حکومت کے حوالے کرے۔ ملکی فوج اور پولیس ان مظاہرین کو التحریر اسکوائر سے بے دخل کرنے کے لیے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور ہوائی فائرنگ کا استعمال کر چکی ہے۔ اس کے باوجود پیر کو تیسرے روز بھی التحریر چوک پر مظاہرین کے جُھنڈ نظر آئے۔تازہ مظاہروں کا سلسلہ ہفتے کے روز شروع ہوا جب مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے التحریر چوک پر ملکی فوج کے خلاف پر امن مظاہرہ کیا جسے اتوار اور پھر آج پیر تک دوام دیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نمائندے نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے پولیس اور فوج پر پتھراؤ کرنے کے علاوہ  پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔ اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جانب سے جوابی کارروائی میں شارٹ گن اور ربر کی گولیوں کا استعمال بھی دیکھنے میں آیا۔مصر کی تازہ صورتحال پر بین الاقوامی برادری نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کا کہنا ہے کہ وہ مصر میں انسانی حقوق کے احترام کی ضمانت چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا احتساب بھی شامل ہے۔ مصر ی محکمہء صحت نے مظاہروں کے نئے سلسلے میں ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی مینا کے مطابق یہ ہلاکتیں التحریر چوک اور بعض دیگر شہروں میں ہفتے کے دن اور اس کے بعد ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ اور سوئز جیسے شہروں میں بھی سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔مصر کی فوجی انتظامیہ نے 28 نومبر کو پارلیمانی انتخابات کا وعدہ کر رکھا ہے مگر موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ تشدد کا نیا سلسلہ انتخابات کے انعقاد پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یہ انتخابات حسنی مبارک کے 30 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد مصر میں ہونے والے پہلے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔ مصر میں عبوری مدت کے لیے برسر اقتدار کابینہ نے گزشتہ روز ایک ہنگامی اجلاس کے بعد یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ پارلیمانی انتخابات وقت پر ہوں گے۔ ملکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی انتخاب کے بعد اقتدار سویلین حکومت کو منتقل کر دے گی۔ یاد رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے فی الحال کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔

لیبیا میں قومی عبوری کونسل کے حکام کے مطابق سابق انٹیلی جنس چیف عبداللہ السنوسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کی گرفتاری سے ایک روز قبل لیبیا کے سابق رہنما معمر القذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو بھی گرفتار کرلیا گیا تھا۔سابق انٹیلی جنس سربراہ کو الغویرا ریجن سے ان کی بہن کے گھر سے حراست میں لیا گیا اور حکام کے مطابق گرفتاری کے دوران انہوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔ حکومتی ترجمان عبدالحفیظ غوگا نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔ لیبیا کے سابق رہنما معمر القذافی، ان کے بیٹے سیف الاسلام اورسابق انٹیلی جنس سربراہ عبداللہ السنوسی کے خلاف عالمی فوجداری عدالت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں رواں برس 27 جون کو وارنٹ جاری کیے تھے۔ عالمی فوجداری عدالت نے السنوسی کو قذافی کے ظلم وجبرکے دور میں سب سے اہم مہرہ قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ فرانس کو بھی مطلوب ہیں جہاں پیرس کی ایک عدالت نے انہیں سن 1999 میں فرانس کے ایک ہوائی جہاز پر حملے کے الزام میں ان کی غیر موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس حملے کے نتیجے میں 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔دوسری طرف لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے عالمی دباؤ کو نظرانداز کرتے ہوئے سیف الاسلام پر لیبیا میں ہی میں مقدمہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے عالمی فوجداری عدالت آئی سی سی نے زور دیا ہے کہ لیبیا کے حکام سیف الاسلام کواس کے حوالے کر دیں۔عالمی طاقتوں کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ سیف الاسلام کو لیبیا میں ٹرائل کے ذریعے انصاف کی فراہمی شاید ممکن نہ ہو اور اسی لیے لیبیا پرعالمی فوجداری عدالت سے تعاون کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ قومی عبوری کونسل کے چیئرمین اور حکومتی ترجمان عبدالحفیظ غوگا نے اس حوالے سے رپورٹرز کو بتایا کہ کونسل نے سیف الاسلام کا مقدمہ لیبیا کی عدالت میں ہی چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ ان کے ملک کی قومی سالمیت کا معاملہ ہے۔ اس سے قبل عبوری کونسل کے وزیر قانون محمدالعلاقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ وہ اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ سیف الاسلام کا ٹرائل شفاف ہو گا اور اس معاملے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ عالمی فوجداری عدالت کے ترجمان فادی العبداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لیبیا کے حکام کواقوام متحدہ کی لیبیا کے حوالے سے منظور کی جانے والی قراداد کی پاسداری کرتے ہوئے سیف الاسلام کو عالمی ادارے کے حوالے کر دینا چاہیے۔

لیبیا کی عبوری انقلابی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے منفور و معدوم ڈکٹیٹر کرنل معمر قذافی کے خونخوار بیٹے سیف الاسلام کولیبیا کے جنوب سے گرفتار کرلیا گيا ہے۔لیبیا کی عبوری انقلابی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا کے منفور و معدوم ڈکٹیٹر کرنل معمر قذافی کے خونخوار بیٹے سیف الاسلام کولیبیا کے جنوب سے گرفتار کرلیا گيا ہے۔ لیبیا کے وزیر انصاف نے کہا ہے کہ صحرائی شہر   اوباری سے سیف الاسلام کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور اب اسے ہیلی کاپٹر کے ذریعہ لیبیا کے شمال میں منتقل کیا جارہا ہے۔

لیبیا میں سابق باغیوں نے نئی عبوری حکومت میں کردار کا مطالبہ شروع کر دیا ہے۔ سابق کمانڈر عبد الکریم بالحاج نے جمعرات کو بتایا کہ حکمران قومی عبوری کونسل کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت سویلین سابق باغیوں کو نئی کابینہ میں جگہ دی جائے گی۔ قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ عبوری وزیر اعظم عبدالرحیم الکیب کی زیر قیادت ایک نئی حکومت کا اعلان اتوار کو متوقع ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ نئی حکومت ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہو گی تاہم ان پر لیبیا کے مختلف قبائل اور مسلح دھڑوں کی جانب سے حکومت میں شامل ہونے کے لیے سخت دباؤ ہے۔

مصر میں پچاس ہزار سے زائد افراد نے جمعے کو قاہرہ کے تحریر اسکوائر میں جمع ہو کر فوجی حکومت سے اقتدار کو منتخب عوامی حکومت کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ نماز جمعہ سے قبل جمع ہونے والے مظاہرین میں سے بیشتر مذہبی جماعتوں کے افراد تھے۔ بعض افراد نے مظاہرین میں کتابچے بھی تقسیم کیے، جس میں آئینی تجویز کو واپس لینے اور اپریل 2012ء سے قبل صدارتی انتخابات کرانے کے مطالبات درج تھے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنت میں خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیش کے رکن نے کہا ہے کہ تیونس میں اسلامی پارٹی النہضۃ کی کامیابی سے اس ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کا امکان بڑھ گيا ہے۔ سید علی آقا زادہ نے تیونس میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی کے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت تیونس نے اس ملک کے ڈکٹیٹر کے خلاف قیام کرکے اپنا کھویا ہوا اسلامی تشخص دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔ درایں اثنا اسلامی جمہوریہ ایران کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی نے کہا ہے کہ تیونس کے انتخابات میں اسلام پسندوں کی کامیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ملت تیونس اسلام کی طرف رجحان رکھتی ہے۔ڈاکٹر لاریجانی نے تیونس کے عام انتخابات میں اسلامی پارٹیوں کی کامیابی پر انہیں مبارک باد پیش کی اور کہا کہ گذشتہ ایک برس میں اسلامی ملکوں کے حالات اسلامی بیداری کا ثبوت ہیں۔ ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ ان حالات کے آغاز سے ہی رہبرانقلاب اسلامی نے عصر حاضر میں اسلامی بیداری کی بات کی تھی اور تیونس کے عام انتخابات کے نتائج بھی بعض مغربی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے نظریئے کے باطل ہونے پر مہر تائید ثبت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں ملت تیونس کی نوے فیصد شرکت اور اسلامی پارٹیوں کی کامیابی ملت تیونس کی جانب سے اپنے اسلامی حقوق کے احیاء پر تاکید ہے ۔ تیونس کے عام انتخابات کے غیر رسمی نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اسلامی پارٹیوں کو کامیابی ملی ہے اسلامی پارٹی النہضہ کو پینتالیس فیصد ووٹ ملے ہیں۔ شمالی افریقہ اور عرب دنیا میں بیداری کی لہر میں اسلامی عنصر جس سے مغربی دنیا انکاری رہی ہے اب نمایاں ہوکر سامنے آگیاہے لیبیا میں بھی انقلاب کونسل نے کھل کر کہا کہ ملک کا نیا آئین اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر وضع کیا جائےگا۔لیبیا میں تو انقلابی عوام نے اپنی کامیابی کے جشن کے موقع آج لیبیا کل فلسطین کے نعرے لگاکر مغرب ملکوں کی راتوں کی نیند چھین لی ہے اور فرانس نے اس معاملے پر اپنی گہری تشویش بھی ظاہر کی ہے۔ قیصر لیبیا اور تیونس میں اسلامی بنیادوں پر آئین اور حکومتوں کی تشکیل پر سامراجی طاقتوں کے عزائم کو کتنا نقصان پہنچےگا؟ اس کا اندازہ مغربی ملکوں کے حکام کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔  ادہر تیونس کے عام انتخابات پر نگرانی کرنے والے مبصر اور افریقی یونین کے نمائندے احمد ولد سید احمد نے کہا ہےکہ انتخابات کے کارکنوں نے بڑی محنت سے عوام کے ووٹوں کو مفید اور فیصلہ کن بنانے کی کوشش کی ہے، اور صاف و شفاف انتخابات کروانے میں کارکنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔جبکہ یورپی یونین نے تونس کے انتخاباتی عمل کےآزاد اور شفاف ہونے کا اعتراف کرتے کہا کہ یورپی یونین، سابق صدر بن علی کے سوئیس بنکوں میں موجود اثاثوں کو واپس لوٹانے کے لئے اپنا اثر رسوخ استعمال کریگی۔واضح رہے کہ سابق صدر بن علی نے تقریبا تیس سالوں پر محیط اپنی حکومت کے دوران بڑے پیمانے پر قومی دولت کو اپنے ذاتی اکاؤنٹس میں منتقل کیا ہے۔

عراق کی مجلس اعلائے اسلامی  کے سربراہ سید عمار حکیم نے لیبیا کے حکام سے کہا ہےکہ امام موسی صدر کے لاپتہ ہونے کے مسئلے کا سنجیدگي سے جائزہ لیاجائے۔ بغداد سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق سید عمار حکیم نے لیبیاکےعوام کو قذافی کی حکومت کی سرنگونی کی مبارک باد دی اورلیبیا میں عوامی حکومت کی تشکیل کا خیرمقدم کیا۔سیدعمارحکیم نےاپنےبیان میں لیبیاکےحکام سےکہاکہ وہ امام موسی صدر کاپتہ لگائيں اور اس کےنتائج سے اس عظیم شخصیت کے عقیدت مندوں کو آگاہ کریں۔ سید عمار حکیم نے عراق کے مختلف صوبوں میں بعثیوں کی گرفتار کا خیرمقدم کرتےہوئےکہا کہ جن لوگوں کے ہاتھ بےگناہ عوام کے خون میں رنگے ہوئے ہیں انہیں عراق کی حکومت میں شامل ہونے کی اجازت نہ دی جائے ۔ سید عمار حکیم نے کہا کہ عراقی قوم کا اتحاد وہ واحد عامل ہے جس سے بیرونی مداخلت کا سد باب ہوسکتا ہے۔ سید عمار حکیم نے پی کے کے گروہ اور ترک فوج کے درمیان جھڑپوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عراق سے تمام دہشتگرد گروہوں کے اخراج کی ضرورت پرتاکید کی ۔ انہوں نے کہا کہ عراق نہیں چاہتا کہ اس کی سرزمین پر دہشتگرد گروہ موجود رہیں۔

یمن کے نائب صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اعتراف کیا ہےکہ موجودہ بحران کو فوجی طریقے سے حل نہیں کیاجاسکتا۔ یمن کے نائب صدر نے صنعا میں یورپی یونین کے نمائندے سے ملاقات میں کہا کہ یمن کے بحران کو فوجی طریقے سے حل کرنے کی کوشش ناکام ہوکر رہے گي۔ عبدربہ ہادی منصور نے کہا کہ قومی مذاکرت، اور قومی اتحاد اورامن قائم کرنے کی غرض سے فوج کو بیرکوں میں واپس بھیجنے سے ملک کو سخت حالات سے نجاد دی جاسکتی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یمن کے نائب صدر کا یہ بیان ایسے حالات میں سامنے آیا ہےکہ ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کے حکم سے فوجیں بدستور مظاہرین کو کچل رہی ہیں۔ ملت یمن نے رواں برس سے علی عبداللہ صالح کی بتیس سالہ حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ یمن کے ڈکٹیٹر کو امریکہ اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔

تیونس، جو خواتین کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کے معاملے میں شمالی افریقہ کے سب سے آزاد خیال ممالک میں شامل ہے، آج بھی خواتین کی سیاسی نمائندگی سے متعلقہ مسائل سے دو چار ہے۔ تیونس میں گزشتہ ویک اینڈ پر ہونے والے تاریخی انتخابات کے بعد بننے والی نئی آئین ساز اسمبلی میں متوقع طور پر مشرق وسطیٰ کی کسی بھی دوسری قومی پارلیمنٹ کے مقابلے میں خواتین ارکان کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔ لیکن تیونس میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکنوں کے لیے یہ بھی کافی نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے خود کو اپنی ترقی پسندانہ پالیسیوں کی بنا پر عرب دنیا کے باقی حصوں سے ہمیشہ ہی ممتاز سمجھا ہے۔ ملک کے پہلے آزادانہ انتخابات کے لیے حکومت نے امیدواروں کی انتخابی فہرست میں عورتیں کی تعداد کم از کم نصف رکھنا لازمی قرار دیا تھا۔ تاہم مختلف انتخابی حلقوں کی اُن ایک ہزار سے زائد انتخابی فہرستوں میں سے صرف چھ فیصد میں ہی خواتین کو اعلیٰ ترین سیاسی امیدواروں کی حیثیت حاصل رہی۔ چونکہ معمول کے مطابق ہر فہرست میں پہلی پوزیشن والے امیدوار کو ہی سیٹ ملنے کا امکان سب سے زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ممکنہ طور پر نئی آئین ساز اسمبلی میں حالیہ الیکشن کے بعد بھی مرد اراکین کی تعداد خواتین سے زیادہ ہی ہوگی۔  تیونس میں ڈیموکریٹ خواتین کی ملکی ایسوسی ایشن کی چند اراکین نےاس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ملک میں خواتین سیاستدانوں کی کمی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اس ایسوسی ایشن کی رہنما ثنا بن عاشور نے، جو ایک جج ہیں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘‘سیاسی معاشرہ ابھی تک ہمارے عزائم کی سطح پر نہیں پہنچا ہے۔’’ تیونس عرب دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں خواتین عدلیہ سے لے کر طب، تعلیم، حکومتی امور اور سکیورٹی فورسز سمیت بہت سے شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ملک کی یونیورسٹیوں میں طالبات کی شرح پچپن فیصد ہے جبکہ آئین ساز اسمبلی میں یہ شرح اگر 20 اور 30 فیصد کے درمیان بھی رہی، تو بھی یہ شرح مصر، اردن، مراکش اور دیگر عرب ممالک میں خواتین کوحاصل پارلیمانی نمائندگی سے کہیںزیادہ ہو گی۔ اس صورتحال پر اظہارخیال کرتے ہوئے پروگریسو ڈیموکریٹکپارٹی کی رہنما میہ الجریبی نے کہا کہ “اس خلا کو پُر کرنے کے لئے ابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔فی الحال ہمارا سب سے بڑا مقصد انتخابات میں نمایاں فتح حاصل کرنا ہے۔” ملک کے قدامت پسند علاقوں میں اب بھی خواتین امیدواروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ قصرین کے شہر میں بائیں بازو کی ڈیموکریٹکموومنٹپارٹیسے تعلق رکھنے والی اُمیدوار مُنیرہ علاوی کا کہنا ہے کہ “ان علاقوں میں سماجی اور سیاسی شعبوں میں خواتین کی کافی کمی ہے کیونکہ صرف خواتین کی اقلیت ان کاموں میں حصہ لینا چاہتی ہے اور اکثریت کو دلچسپی نہیں۔” ورکرز کمیونسٹ پارٹی کے حما حمامی کا کہنا ہے کہ “معاشرے میں ایسے مردوں کی کمی نہیں ہے جو اعلیٰ ترین عہدوں پر خواتین کو برداشت نہیں کر سکتے۔”