Archive for the ‘Advertise General’ Category

اسلام آباد… سپريم کورٹ ميں انساني اعضا کي پيوند کاري سے متعلق قانون مجريہ 2010 کي خلاف ورزي روکنے سے متعلق انساني حقوق کي کارکن عاصمہ جہانگير اور ديگر کے مقدمے کي سماعت ہوئي. عدالت نے اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي کي قوم کيلئے خدمات پر ان کا شکريہ ادا کيا. سپريم کورٹ ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري کي سربراہي ميں بنچ نے درخواست کي سماعت کي ،اس موقع پر جسٹس خلجي عارف نے ڈاکٹر اديب رضوي کا ان کي خدمات پر شکريہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کيلئے دعاگو ہے . چيف جسٹس نے بھي ڈاکٹر اديب رضوي کي خدمات کي تعريف کي. اس موقع پر ڈاکٹر اديب رضوي عدالت ميں موجود تھے ،درخواست ميں کہا گيا کہ 1994کے بعد سے پاکستان انساني اعضا کي خريدوفروخت کا سب سے بڑا بازار بن گيا ہے، ملک ميں سال 2007تک ڈھائي ہزار گردے ٹرانسپلانٹ کيے گئے ليکن ان ميں تقريبا ڈيڑھ ہزار غير ملکيوں نے فائدہ اٹھايا، ايک اندازے کے مطابق اسي فيصدکيسز ميں گردے لينے اور دينے والے ميں کوئي تعلق نہيں تھا ، گردے لينے والے نے اس کيلئے رقم اد اکي . درخواست کے مطابق گردے کي پيوند کاري کيلئے بھارت ،يورپ اور مشرق وسطي سے امير مريض پاکستان کا رخ کرتے ہيں اور دس ہزار ڈالرز سے تيس ہزار ڈالرز ميں گردہ خريدليتے ہيں. عدالت نيانساني اعضا کي پيوند کاري اور گردوں کيامراض سے متعلق عوام کيلئے خدمات پر ڈاکٹر اديب رضوي کا شکريہ ادا کرتے ہوئے پنجاب ،سندھ اور بلوچستان حکومت کو اس بارے ميں جواب 29مئي تک جمع کرانے کي ہدايت کي ،،خيبر پختونخو ا حکومت پہلے ہي اپنا جواب جمع کراچکي ہے

Advertisements

 لندن……ٹوئٹر پر پیغام لکھتے ہو ئے احتیا ط برتیں،امریکی ادارہ برائے ہو م لینڈ سیکیو رٹی نے بلا گس اور ٹو ئٹر اکا وئنٹس پر نگا ہ رکھنی شر وع کر دی۔برطا نوی اخبا ر ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آ پ اپنے فیس بک اور ٹو ئٹر اکا ؤنٹ پر کیا پیغا ما ت لکھتے ہیں اس پر امریکی ادارے بر ائے ہو م لینڈ سکیورٹی کی نظر ہے لہذا پیغا ما ت پو سٹ کرنے میں احتیا ط سے کا م لینا ضر وری ہے ۔ Drill, Strain,Collapse, Outbreak اور وائرس جیسے الفاظ آ پ کے پیغا ما ت کو مشکو ک بنا سکتے ہیں کیو نکہ یہ الفا ظ محکمہ ہو م لینڈ سیکیورٹی کی واچ لسٹ میں شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق اگر آ پ اپنے بلا گ یا اکا ؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے پیغا م میں ایسے الفا ظ استعمال کرتے ہیں جواس واچ لسٹ کا حصہ ہیں تو ممکن ہے کہ آ ٓ پ کے اکا ؤ نٹ پر خفیہ ادار وں کی نظر ہو اور آ پ کی جا سو سی بھی کی جا رہی ہو۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف ایک آ ن لا ئن پرائیوئیسی گر وپ کی جا نب سے کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد امریکی حکو مت کی جا نب سے اس دعوے کی تر دید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔

سا ئنسدانوں نے بالوں کو سفید ہونے سے روکنے والا پر وٹین دریا فت کر لیا ہے.بالوں کا جلدی سفید ہو جا نادنیا بھر کے افراد کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے لو گ ہیر کلرزکا استعما ل کرتے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق امریکی سا ئنسدانوں نے اس مسئلے کا حل ڈھونڈ لیاہے اور بالوں کو سفید ہونے سے روکنے والا پر وٹین دریا فت کر لیا ہے ،اس دریافت کی مدد سے ایسی دوائیں اور شیمپو بنا نا ممکن ہو گا جو با لوں میں اس پر وٹین کی افزائش کو بڑھا کر انہیں سفید ہو نے سے روک سکیں گےاوراس پروٹین کی افزا ئش بڑھا کربالوں کوگرنے سے بھی روکاجاسکے گا ۔

کراچی:   یوتھ آف پاراچنار کے رہنماؤں ضامن عباس، عباس علی طوری اور دیگر نے کراچی پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی اداروں اور حقوق انسانی کی عالمگیر تنظیموں کی کرم ایجنسی پاراچنار کے 8 لاکھ انسانوں کی طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں محصوریت پر خاموشی سوالیہ نشان ہے، حکومت پشاور تا پاراچنار سڑک پر طالبان دہشت گردوں کا قبضہ ختم کروانے میں فوری اور مثبت کردار ادا کرے  پاکستانی غزہ پاراچنار کی طالبان دہشت گردوں کے محاصرے سے آزادی کے لئے حکومت جامع حکمت عملی وضع کرے، عالمی اداروں اور حقوق انسانی کی عالمگیر تنظیموں کی کرم ایجنسی پاراچنار کے 8 لاکھ انسانوں کی طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں محصوریت پر خاموشی سوالیہ نشان ہے، حکومت پشاور تا پاراچنار سڑک پر طالبان دہشت گردوں کا قبضہ ختم کروانے میں فوری اور مثبت کردار ادا کرے۔ ان خیالات کا اظہار یوتھ آف پاراچنار کے مرکزی رہنماؤں ضامن عباس، عباس علی طوری اور دیگر نے کراچی پریس کلب کے باہر کرم ایجنسی پاراچنار کے چار سالہ محاصرے کے خاتمہ کے لئے منعقدہ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مظاہرے میں پاراچنار اور کرم ایجنسی کے سینکڑوں نوجوانوں نے بزرگوں سمیت شرکت کی، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاکستانی غزہ ۔۔۔پاراچنار، پاراچنار سے طالبان دہشت گردوں کا محاصرہ ختم کروایا جائے، حکومت طالبان دہشت گردوں سے مذاکرات کی بجائے فوجی آپریشن کرے، عالمی اداروں کی خاموشی سوالیہ نشان سمیت امریکہ مردہ باد اور اسرائیل نامنظور کے نعرے درج تھے۔   مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور عالمی ادارے پاکستانی غزہ کرم ایجنسی پاراچنار سے طالبان دہشت گردوں کا محاصرہ ختم کروائے اور طالبان دہشت گردوں کا قلع قمع کرے، ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چار برس سے پاراچنار اور کرم ایجنسی کے آٹھ لاکھ سے زائد معصوم اور نہتے عوام طالبان دہشت گردوں کے محاصرے میں ہیں اور خوراک و ادوایات جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے زندگی کی امیدیں ختم کر چکے ہیں، انکا کہنا تھا کہ فلسطینی غزہ کے محصورین کی مانند پاکستان میں بھی صہیونی آلہ کار طالبان دہشت گردوں نے کرم ایجنسی پاراچنار کو غزہ پاکستان بنا دیا ہے۔   یوتھ آف پاراچنار کے مرکزی رہنماؤں ضامن عباس اور عباس علی طوری نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے قائد الطاف حسین، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر پاکستان آصف علی زرداری، وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی، چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری، پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نواز شریف، پاکستان مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر، جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن، عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان سے اپیل کی کہ وہ پاراچنار کے آٹھ لاکھ سے زائد معصوم اور نہتے عوام کی جانوں کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں اور امریکی و صہیونی آلہ کار طالبان دہشت گردوں سے کرم ایجنسی کے عوام کو نجات دلانے میں اپنا حق ادا کریں۔  رہنماؤں نے واضح کیا کہ کرم ایجنسی پاراچنار میں نہ صرف زندگی تنگ ہو گئی ہے بلکہ طالبان دہشت گرد لوگوں کو مختلف مقامات سے اغوا کر کے بھاری تاوان بھی حاصل کر رہے ہیں جبکہ تاوان نہ ملنے کی صورت میں انسانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کر دیا جاتا ہے۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برس کے محاصرے کے دوران اب تک طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ اور معصوم جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے۔ لیکن حکومت تاحال طالبان دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی مؤثر کاروائی سے گریز کر رہی ہے جو کہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کرم ایجنسی پاراچنار کے عوام محب وطن ہیں اور ان مشکل ترین حالات میں بھی مملکت پاکستان کی حفاظت کی خاطر طالبان دہشت گردوں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اور مستقبل میں بھی پاکستان کی حفاظت کی خاطر قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے، اس موقع پر مظاہرین نے امریکہ مردہ باد،اسرائیل نامنظور ،پاراچنار کا محاصرہ ختم کرو، طالبان دہشت گردوں کا قلع قمع کرو سمیت دیگر نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ پاراچنار روڈ جلد از جلد کھلوائی جائے اور امن و امان قائم کرنے کے لئے ایف سی اہلکاروں کو تعینات کیا جائے۔

عام طور سے پارٹنرز کی تلاش کے لئے بروکر کا کام انجام دینے والے نیٹ ورکس خاص قسم کے گاہکوں کی ضروریات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اسی طرح کی جرمن زبان کی ایک ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے نام سے 2007 میں قائم کی گئی دنیا بھر میں اس وقت سوشل نیٹ ورکنگ عروج پر ہے۔ ’میرج بروکرز‘ مختلف معاشروں میں ایک ایسا اہم فورم بن چکے ہیں، جن کی مدد سے انسانوں کو ایک دوسرے کو جاننے اور قریب آنے میں بہت آسانی ہو گئی ہے۔ امریکہ اور جرمنی میں تیار کی جانے والی متعدد مطالعاتی رپورٹوں سے پتہ چلا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال معاشرتی زندگی میں نمایاں تبدیلیوں کا موجب بن رہا ہے۔ عام طور سے پارٹنرز کی تلاش کے لئے بروکر کا کام انجام دینے والے نیٹ ورکس خاص قسم کے گاہکوں کی ضروریات پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ اسی طرح کی جرمن زبان کی ایک ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے نام سے 2007 میں قائم کی گئی۔ دریں اثناء اس کے رجسٹررڈ صارفین کی تعداد 90 ہزار ہو چُکی ہے۔ یہ ویب سائٹ یورپ کے شادی کے خواہشمند مسلمانوں کے لیے نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ اسلامی اقدار کے مطابق پارٹنر کی تلاش میں مددگار ثابت ہوتی ہے ویب سائٹ ’مسلم لائف‘ کے صارفین کی اکثریت کا تعلق جرمنی، ہالینڈ، آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ سے ہے، تاہم اس پر سعودی عرب اور شمالی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے ’سنگلز‘ کا پروفائل بھی پایا جاتا ہے۔ بہت ہی کم وقت میں اس ویب سائٹ نے پارٹنر کے متلاشی مسلمانوں کے لئے مواقع فراہم کرنے والے دیگر نیٹ ورکس کی یورپی منڈی میں ایک نمایاں مقام بنا لیا۔ 34 سالہ جمیلے اُوکر کا تعلق شہر کولون سے ہے۔ یہ ایک با عقیدہ مسلمان خاتون ہے جو پُر کشش اور خوش شکل ہے۔ اس کی اپنے شوہر سے غلیٰحدگی ہو گئی ہے اور اب وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لئے ایک مسلمان پارٹنر کی تلاش کوئی آسان کام نہیں ہے۔ وہ کہتی ہے، ’میرا سابق شوہر تھا تو مسلمان مگر فقط نام کا اور کاغذی اعتبار سے۔ اُسے دین سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا اور یہ میرے لئے کافی نہیں تھا۔اب میں ایک ایسے شخص کی تلاش میں ہوں جسے یہ پتہ ہو کہ وہ اپنے مسلم عقیدے کے تحت زندگی کس طرح گزار سکتا ہے۔ مسلم لائف کا ہر صارف مذہبی طور طریقوں کے بارے میں اپنے خیالات اس ویب سائٹ کی مدد سے دوسروں تک پہنچا سکتا ہے۔ جمیلے کہتی ہے کہ وہ کسی لادین یا مسیحی پارٹنر کا تصور بھی نہیں کر سکتی بلکہ ان کی جگہ  کسی ایسے مسلمان کو فوقیت دے گی جو بیشک اسلامی طرز زندگی پر بہت زیادہ عمل نہ بھی کرتا ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ ’مسلم لائف‘ دیکھتے دیکھتے یورپ کی سب سے بڑی پارٹنر بروکر ویب سائٹ بن گئی ہے۔ قدیر یوجل اور جنید ترگل کمپیوٹر ایکسپرٹس ہیں اور انہوں نے اس ویب سائٹ کی پروگرامنگ کی ہے۔ 2007 میں جس وقت انہوں نے یہ ویب سائٹ بنائی تھی اُس وقت یہ دونوں اسٹوڈنٹ تھے۔ پھر ان کی دوستی ایک اہم تجارتی شراکت داری میں تبدیل ہو گئی۔ شروع شروع میں اس ویب سائٹ کا استعمال مفت تھا تاہم جب عجیب و غریب قسم کے تبصرے اس پر شائع ہونے لگے تو قدیر اور جنید نے اس کی ممبرشپ ماہانہ 19.90 یورو مختص کر دی۔ تاہم یہ ممبرشپ مردوں کے لئے ہے۔ خواتین محض 10 یورو ادا کرتی ہیں۔ اس ویب سائٹ پر ڈالے جانے والے ہر پروفائل کو  پہلے یہ دونوں دوست اچھی طرح پرکھ لیتے ہیں۔ یعنی کسی قسم کے تعصب کا تاثر دینے والے یا غیر اخلاقی  متن کو شائع نہیں کیا جاتا ہے۔ جنید کے بقول، ’کچھ مرد دوسری شادی کے لئے خاتوں کی تلاش میں ہوتے ہیں تاہم ہم انہیں اپنے پلیٹ فارم پر جگہ نہیں دیتے۔ ہم غیر شادی شدہ، جن کی علیٰحدگی ہو چکی ہو یا جو بیوہ ہوں، کی پیشکش کو اپنی اس ویب سائٹ پر شائع کرتے ہیں۔ اس ویب سائٹ کی طرف اب تک پارٹنر کے متلاشی انتہا پسند مسلمانوں نے رجوع نہیں کیا ہے۔ تاہم ’مسلم لائف‘ ویب سائٹ کا مقصد لبرل سے لیکر مذہب پر سختی سے عمل پیرا مسلمانوں کو شریک حیات ڈھونڈنے کے مواقع فراہم کرنا ہے