آئندہ الیکشن میں علماء بھرپور کردار ادا کریں، علماء کانفرنس سے مقررین کا خطاب

Posted: 20/04/2012 in Advertise Religious, All News, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

ایس یو سی کے زیراہتمام منعقدہ علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی و امن کا درس دیتا ہے، دہشتگردی کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، دہشتگرد انسانیت دشمن درندے ہیں، حکومت سخت ایکشن لے۔شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ “علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں، وہ صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، حکومت دہشتگردی کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لے کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی قوتیں اُمت مسلمہ میں فتنہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں، ایم ایم اے اتحاد اُمت کی طرف اچھا اقدام تھا، مستقبل میں ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے، آمدہ الیکشن میں علماء کرام بھرپور کردار ادا کریں اور متحرک ہو جائیں۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اس موقع پر تحریک جعفریہ پاکستان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ محسن علی نجفی، وزارت حسین نقوی، علامہ شیخ محمد حسین نجفی، علامہ افتخار نقوی، علامہ رمضان توقیر، علامہ افضل حیدری، علامہ تقی نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ ظفر عباس شہانی، علامہ آغا عباس رضوی، علامہ عبدالجلیل نقوی، علامہ امین شہیدی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر میثمی، مفتی کفایت حسین نقوی اور علامہ عارف واحدی، علامہ احسان اتحادی سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔  علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کے دوران مقرریں کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہے، اس کا کسی مذہب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی چاہے بازار میں ہو، سکول میں ہو، تھانہ یا مسجد و امام بارگاہ میں، اس میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوتا ہے اور اسلام کسی ایک انسان کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم سازش کے تحت دہشتگردی کو اسلام سے نتھی کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگرد کی تعریف اتنی ہی کافی ہے کہ وہ صرف اور صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، جن کا کام معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ شرکاء نے ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہے، جبکہ جن دہشتگردوں کو پکڑ کر سزائیں دی جا چکی ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانیت دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں کوئٹہ، گلگت، بلتستان، پارہ چنار، کراچی، پشاور،خانپور سمیت پورے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ غیر ملکی عناصر بھی ملک میں منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں، اس سلسلے میں بھی علماء کرام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اتحاد کا مظاہرہ کریں، کیونکہ جتنی ضرورت اتحاد کی آج ہے اس سے قبل نہ تھی، مقررین نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اتحاد اُمت کی طرف اچھی پیش رفت تھی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مقررین نے تمام مسالک کے باہمی احترام پر بھی زور دیا کہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے کی طرف گامزن ہوا جائے۔  اس موقع پر سیاچن میں دبے فوجی جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ علمائے کرام کے ہزاروں کے اجتماع نے علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قدم بڑھائیں، ہمیں اپنا ہم رکاب پائیں گے، اس موقع پر علماء کرام نے تحریک جعفریہ پاکستان سے حکومت کی طرف سے عائد پابندی اُٹھانے کا بھی پُر زور مطالبہ کیا۔

Comments are closed.