Archive for the ‘China / Japan / Koriea & Others’ Category

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

Advertisements

بیجنگ میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عالمی معاشی بحالی کے لئے خطرناک ثابت ہوں گی، چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکا نے اکتیس دسمبر کو ایران کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے جنوری سے ایرانی تیل کی درآمد، خریداری یا ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ چین کا دوست پاکستان کا دوست ہے  چین کی سلامتی ہماری سلامتی ہے  پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں چینی تعاون کا خیر مقدم کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چین کے شہربائو میں چین کے نائب وزیراعظم لی کیکیانگ سے ایک ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر پاکستان میں چینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے اقدامات کی خودنگرانی کررہے ہیں  پاکستان چین کے ساتھ صنعت و تجارت  توانائی و زراعت  اور گیس کی تلاش کی تلاش کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان میں بے نظیر بھٹو میڈیا یونیورسٹی کے قیام کے لئے تعاون کرے۔ عالمی اور علاقائی امور کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات پالیسی احترام اور مفاد پر مبنی ہوں گے اور اس حوالے سے پاکستان کی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ چین کے ایگزیکٹو وزیراعظم نے عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالات کچھ بھی ہوں چین پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا۔

بیجنگ: چین نے ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی بارے امریکی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کو اجتماعی سزا دے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پالیسی بالکل واضح اور موقف ٹھوس ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ چین نے ہمیشہ ایسی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ عمل کریگا جس کے تحت کسی دوسرے ملک کو اجتماعی سزا دی جائے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہمارے قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

جنوبی کوریا میں آج ختم ہونے والی ایٹمی سلامتی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے آخری دن شرکاء نے مطالبہ کیا کہ جوہری دہشت گردی کے خطرات پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر زیادہ تعاون کیا جانا چاہیے۔ جنوبی کوریا کے دارالحکومت میں اپنی نوعیت کی اس دوسری بین الاقوامی سربراہی کانفرنس میں 53 ملکوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔  کانفرنس کے مندوبین سے خطاب کرنے والوں میں امریکی صدر باراک اوباما بھی شامل تھے۔ امریکی صدر نے اپنے خطاب میں کہا،’ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ آج بھی موجود ہے۔ دنیا میں ابھی بھی بہت سے برے عناصر خطرناک ایٹمی مادوں کی تلاش میں ہیں۔ اس کے علاوہ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں سے جوہری مادے ایسے عناصر کے ہاتھوں میں پہنچ سکتے ہیں۔‘امریکی صدر کے بقول کسی ایٹمی تباہی کے لیے بہت سے جوہری ہتھیار یا مادے درکار نہیں ہوں گے بلکہ ایسے تھوڑے سے مادے بھی لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت کا باعث بن سکتے ہیں۔ جس کی روشن مثال ہیرو شیما اور ناگاساکی ہیں دو سال پہلے باراک اوباما کی تحریک پر اس طرح کی پہلی کانفرنس واشنگٹن میں ہوئی تھی۔ سیول میں آج ختم ہونے والی کانفنرس میں مندوبین کی توجہ کا مرکز اس بارے میں تبادلہ خیال رہا کہ ایٹمی تنصیبات اور جوہری مادوں کو دہشت گردوں کی پہنچ سے زیادہ سے زیادہ محفوظ کیسے رکھا جا سکتا ہے۔خاص کر اسرائیل اور امریکہ مین آج ہی اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک جنوبی کوریا کے صدر لی میونگ بک نے کہا کہ ایٹمی مادوں کے استعمال کو ختم کرنے یا کم سے کم کرنے کے لیے بڑی پیش رفت لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری مادوں کی اسمگلنگ کا پتہ چلانے اور اسے روکنے کے لیے زیادہ بین لاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔سیول کانفرنس میں مرکزی ایجنڈے سے ہٹتے ہوئے شمالی کوریا کے متنازعہ راکٹ منصوبے پر سخت تنقید بھی کی گئی۔ شمالی کوریا یہ اعلان کر چکا ہے کہ وہ اپریل میں ایک دور مار راکٹ کے ذریعے اپنا ایک سیٹلائٹ زمین کے مدار میں چھوڑے گا۔ کمیونسٹ کوریا کے ہمسایہ ملکوں کے علاوہ کئی دوسری ریاستوں کو بھی اس منصوبے پر شدید اعتراض ہے۔ سیول کانفرنس کی دوسرے دن کی کارروائی کچھ دیر کے تعطل کا شکار بھی ہو گئی۔ اس کی وجہ برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان جزائر فاک لینڈز کی وجہ سے پایا جانے والا تنازعہ بنا۔ اس حوالے سے ارجنٹائن کے وزیر خارجہ نے لندن حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس نے ایک ایسی برطانوی آبدوز مبینہ طور پر جنوبی بحر اوقیانوس کے علاقے میں بھیج دی ہے، جو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کی جا سکتی ہے۔سیول کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا اسے مختلف خبر ایجنسیوں نے اپنے لب و لہجے میں کافی نرم قرار دیا ہے۔ اس میں ایسے اقدامات کی کوئی ٹھوس وضاحت نہیں کی گئی کہ ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مادوں کو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے ہاتھ لگنے سے کس طرح بچایا جائے گا۔ اس اعلامیے میں کانفرنس میں شریک ملکوں نے عہد کیا کہ وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کو محفوظ تر بنائیں گے۔ ساتھ ہی وہ اپنے ہاں انتہائی افزودہ یورینیم اور پلوٹونیم کے ذخائر میں بھی زیادہ سے زیادہ کمی کی کوشش کریں گے۔ اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شمالی کوریا اور ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام شامل نہیں تھے۔ ان دونوں ملکوں کو اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ چند ناقدین کے مطابق یہ دو روزہ کانفرنس ایک ‘ٹاک شاپ‘ سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی جس میں محض وقت اور پیسے کا ضائع کیا  اور کوئی ٹھوس فیصلے نظر نہ آئے۔

بیجنگ :  چین نے کہا ہے کہ اسکی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، کشمیر پاکستان اور بھارت ونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ آزادکشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں۔۔ چینی وزارت خارجہ میں ایشین ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل سن ویڈونگ نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ’’جنوب چینی سمندرکومتنازعہ علاقہ قرار دیتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کیلئے معدنیات سے مالامال ویت نامی خطوں سے تیل نکالنے کی کوشش نہ کریںانہوں نے کہا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہے لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کیلئے یہ ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس علاقے سے تیل نکالنے کی کوشش کرے‘‘۔ جب اْن سے پوچھاگیا کہ بھارت متنازعہ معاملات کا حصہ نہیں بننا چاہتا تو اْن کا کہنا تھا ’’خطے میں موجودجزیروں کی خودمختاری ایک بہت بڑا معاملہ ہے اور بھارت کو یہ معاملہ طے ہونے تک تیل نکالنے کی کارروائیاں نہیں کرنی چاہئیں‘‘۔ چینی عہدیدار نے کہا ’’ہم خطے میں یکساں تعمیر و ترقی چاہتے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ بھارت ان متنازعہ معاملات کا حصہ نہ بنے اور اس بات کی امید بھی کرتے ہیں کہ خطے کی حفاظت اور امن قائم کرنے کیلئے بھارت مزید اقدامات اٹھائے‘‘۔ جب اْن کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرائی گئی کہ بھارت میں تیل نکالنے کیلئے وسیع ذخائر ہیں تو اْن کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے اور چین اس بات کی حتی الامکان کوشش کر رہا ہے کہ پرامن ذرائع سے اس معاملے کا حل نکالا جاسکے۔جب اْن سے پوچھا گیا کہ چین ویتنامی تیل بلاکوںمیں بھارت کے منصوبوں کی مخالفت کیوں کر رہا ہے جبکہ چین آزادکشمیر میں بنیادی ڈھانچوں کے منصوبے تعمیر کر رہا ہے تو مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے الگ ہیں۔اْن کا کہنا تھا ’’یہ دونوں معاملات بالکل جداگانہ ہیں،جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ یہ دونوں ملکوں کے مابین باہمی معاملہ ہے اور بھارت اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ باہمی گفت و شنید کیساتھ اس معاملے کو حل کریں‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر میں کام کر رہی چینی کمپنیاں مقامی طور پر وہاں کی تعمیر وترقی اور اقتصادی حالت کو بہتر بنانے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہوئی ہیں اور چین کی کشمیر پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔انہوں نے کہا ’’میں سمجھتا ہوں کہ چینی کمپنیاں وہاں اپنی توجہ تعمیر وترقی کے ڈھانچے پر مرکوز کر رہی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ یہ کسی کے بھی خلاف ہیںجبکہ جنوب چینی سمندر کا معاملہ بالکل ہے اور یہ انتہائی پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں بہت ساری پارٹیاں ملوث ہیں‘‘۔ چین جنوب چینی سمندری خطے میں تیل نکالنے کیلئے نہ صرف بھارت کی مخالفت کرتا ہے بلکہ وہاں ہورہی کسی بھی سرگرمی کا مخالف ہے۔ کیونکہ چین کی آسیان ممالک کیساتھ تنازعات چل رہے ہیں جس میں ویتنام اور فلپائن بھی شامل ہیں۔ چینی مخالفت کے باوجود بھارت نے اکتوبر میں ویتنام کیساتھ ایک معاہدہ کر کے جنوب چینی سمندر میں تیل نکالنے کیلئے اپنا دائرہ وسیع کر دیا۔ بھارت اور ویتنام کی سرکاری آئل کمپنیوں کیساتھ بھی اِسی طرح کی مفاہمت ہوئی ۔چین کی جانب سے جنوب چینی سمندر پردعویٰ کرنے کا معاملہ بھارت اور ویتنام نے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق یہ سارے علاقے ویتنام کی ملکیت ہیں۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ سرکاری کمپنیاں اس علاقے میں اپنے مواقع تلاش کرتی رہیں گی۔بھارت کا یہ موقف ہے کہ سارا بحیرہ عرب کا خطہ مشرقی افریقہ ساحل سے لیکر جنوب چینی سمندر تک بین الاقوامی تجارت ،توانائی اور قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے

چین کے نائب وزير خارجہ نے شام میں جاری اصلاحات کے سلسلے میں عوامی ریفرینڈم کی مکمل حمایت کی ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین کے نائب وزير خارجہ شای جون نے شام میں جاری اصلاحات کے سلسلے میں عوامی ریفرینڈم کی مکمل حمایت کی ہے۔ چین کے نائب وزير خارجہ نے کہا کہ چين ، شام میں صدر بشار اسد کی اصلاحات کی مکمل حمایت کرتا ہے چین کے نائب وزير خارجہ نے کہا کہ امیدہے کہ شام میں ریفرینڈم اس ملک میں امن و ثبات کا باعث بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم شامی حکومت کے مخالفین سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ شام کے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ ادھر امریکہ نے مخالفین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے  شام میں اصلاحات کو مضحکہ خیز قراردیا ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس کا کہنا ہے کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں، افغان فورسز طالبان کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کیساتھ تعلقات ہیں۔امریکی فوج کے ایک آفیسر نے امریکہ کے افغان مشن کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان میں جاری نام نہاد جنگ سے متعلق امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس جو افغانستان میں ایک سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں انہوں نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور امریکی مشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی مسلح افواج کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈیوس نے کہا کہ میں نے امریکی فوجی قیادت کی طرف سے افغانستان میں زمینی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیانات نہیں دیکھے کہ جس سے اصل تصویر سامنے آتی ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سینیٹرز جنگ کے اصل حقائق کی پردہ پوشی کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں اتحادی افواج کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ 
انہوں نے کہا کہ ہر ایک سطح پر ناکامی دیکھی ہے۔ ان کے بقول ہمارے مزید کتنے فوجی اس مشن میں ہلاک ہونگے یہ کامیابی نہیں جبکہ ہماری فوجی قیادت سات سالوں سے زائد عرصہ سے امید افزاء بیانات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ملک کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے افغان فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔

بیجنگ : چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ چین ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے اپنے ایک سینئر عہدیدار کو ایران بھیجے گا تا کہ ایران اور مغرب کے درمیان تنائو کم ہو اور ایران پر لگائی گئی پابندیوں کا حل نکالا جا سکے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیووی فن نے غیر ملکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام بات چیت کے لیے نائب وزیر خارجہ  مازائو ول اتوار کو ایران روانہ ہونگے اور وہاں جمہوریت کی بقاء اور پابندیوں کے خاتمے کے حل بارے تبادلہ خیال کرینگے۔ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا کئی بار اظہار کر چکے ہیں کہ مذاکرات اور تعاون ہی ایران کے جوہری پروگرام کا واحد حل ہے واضح رہے کہ ایران پر امریکہ و مغرب کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کے فیصلے کے بعد ایران اور مغرب کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی ہے ۔

سنگاپور نے امریکی سیاستدانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ چین کیخلاف بے بنیاد بیان بازی کا سلسلہ ترک کریں ورنہ انتخابات تو ختم ہوجائیں گے لیکن خطے میں نئے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سنگاپور میں وزیر خارجہ کے شان لگام نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کے چین کے بارے میں خیالات اور بیانات کا انداز انتہائی محتاط ہے لیکن کچھ امریکی سیاستدان انتخابی ایشو کے طور پر چین کیخلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ صدارتی انتخابات رواں سال ختم ہوجائیں گے لیکن ان بیانات کے الزامات طویل ہونگے چین کے خطے کے لیے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کی نوعیت انتہائی اہم ہے لیکن سنگاپور کی معیشت کا دارومدار چین سمیت اپنے پڑوسی ممالک پر ہے۔ سنگاپور چین کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا

امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے کہا کہ یہ ایام ہمارے لئے خوفناک ایام ہیں شام کے حق میں ویٹو سکیورٹی  کونسل کا پسندیدہ اقدام نہیں تھا جو واقعہ رونما ہوا وہ اچھی خبر نہیں تھی کیونکہ اس  سے پوری دنیا کا اعتماد سکیورٹی کونسل پر متزلزل ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی منفور اور منحوس بادشاہ نے فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جرائم پر کبھی بھی اظہار افسوس نہیں کیا لیکن شام کے خلاف وہ اپنے دل کی بات کہنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائيل کا خادم ہے۔ سعودی بادشاہ کا اعتماد اللہ تعالی پر ختم ہوگیا اور اس کا اعتماد امریکہ اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے سعودی عرب، اللہ تعالی سے  مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد طلب کرتا ہےاور اس ملک کے حکام کفر کی جانب بڑھ گئے ہیں

تہران(اے ایف پی) تیل کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمزبندکرنے کی دھمکی پرامریکانے ایران کوایک خط بھیجا ہے ،ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنانے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست کے حوالے سے بتایاہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزان رائس نے سوئس سفیرکے ذریعے ایک خط ایرانی سفیر محمد خازئی کوبھیجاہے ، ترجمان کے مطابق خط کے مندرجات کاجائزہ لیاجارہاہے ،اگرضرورت پڑی تواس کا جواب دیاجائے گا،واضح رہے کہ آبنائے ہرمزکی ممکنہ بندش روکنے کے لئے امریکاعلاقے میں اپنی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ کررہاہے،ایرانی فورسزکے ڈپٹی چیف مسعود جزائری نے اتوارکوکہاہے کہ تمام ترپروپیگنڈے کے باوجودامریکی جارحیت ناکام رہے گی،واشنگٹن کواچھی طرح معلوم ہے کہ وہ علاقے میں ایران کی کسی کارروائی کوروکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ہماری پالیسی کشیدگی دور کرناہے تاہم اگرایران یاامت مسلمہ کوکوئی خطرہ لاحق ہوا تو ہماری افواج خطے میں پریشانیاں پیداکرنے کے خواہشمندوں سے ٹکرانے کی قابلیت رکھتی ہیں،ادھر ایرانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب الله سیاری نے کاکہناہے کہ آبنائے ہرمزبندکرناہمارے لئے پانی پینے جیسا آسان کام ہے ۔

واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل نے آئندہ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رواں سال آسٹر چیلنج بارہ نامی سب سے بڑی مشترکہ فضائی مشقیں ہونا تھیں تاہم دونوں ممالک نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نیوی کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بعض لاجسٹک وجوہات کی بناء پر رواں سال کے آخر تک ملتوی کر دی گئی ہیں جو کہ میزبان ملک اسرائیل کو درپیش ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایسی رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ہم یہ مشقیں ایران ساتھ کشیدگی کے باعث ملتوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنمائوں نے لاجسٹک وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں سال کے آخر تک مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ مشقیں بہار میں ہونا تھی تاہم اب دسمبر تک متوقع ہیں۔

چینی وزیر اعظم وین جیا باؤ نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کے دوران تیل و گیس کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اسے ایران کے توانائی کے شعبے پر ممکنہ پابندیوں اور وہاں سے بیجنگ کے لیے خام تیل کی برآمد کی ممکنہ بندش کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے شینہوا کے مطابق وزیر اعظم وین جیا باؤ نے خلیجی ریاستوں کے اپنے دورے میں ہفتے کو ولی عہد شہزادہ نائف سے ملاقات کی۔  وزیر اعظم جیا باؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے، ’’ چین اور سعودی عرب ترقی کے اہم مرحلے میں ہیں اور اس موقع پر تعاون بڑھانے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔  سعودی عرب خام تیل کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کا سر فہرست ملک ہے۔ خام تیل اور گیس کے ذخائر تک رسائی اور ان کی پروسیسنگ سے متعلق اپنی خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے چینی وزیر اعظم نے مزید کہا، ’’  تجارت اور تعاون کو وسعت دینے کے لیے دونوں اطراف کو مل کر کوششیں کرنی چاہیں، گیس اور خام تیل کی اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم میں۔شینہوا کی رپورٹ میں ایران کا کوئی حوالہ نہیں دیا گیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نئی ایران مخالف پابندیوں سے چین بھی متاثر ہوسکتا ہے کہ کیونکہ وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ چین کو خام تیل کی برآمد کے حوالے سے سعودی عرب اور انگولا دو سرفہرست ممالک ہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز اس امریکی فیصلے کی بھی مذمت کی، جس کے تحت ایران سے لین دین کرنے والی چین کی سرکاری کمپنی زھوہائی زھینرونگ کو پابندیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بیجنگ کا البتہ مؤقف ہے کہ امریکہ نے اپنے قومی قوانین کا نفاذ ایک چینی کمپنی پر کیا ہے اور یہ اقدام ایران مخالف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لندن میں مقیم چینی امور کے ماہر مائیکل مائیڈن کے بقول چین کو ایران اور شام کی صورتحال کی وجہ سے کچھ خدشات لاحق ہیں۔ مائیکل مائیڈن کے بقول یہ خدشات بالخصوص عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت سے متعلق بھی ہیں۔ چینی وزیر اعظم متحدہ عرب امارات اور قطر بھی جائیں گے۔

چینی حکام نے ملک میں شدید خشک سالی کے باعث بھوک کے ہاتھوں ہلاکت کے خطرے سے دوچار لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے خوراک گرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ سی میں پویانگ جھیل ملک میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اور وہاں ہر سال سردیوں میں دیگر علاقوں اور ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے لاکھوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر بہت کم بارشوں کی وجہ سے یہ جھیل بڑی تیزی سے خشک ہوتی جا رہی ہے۔ پویانگ جھیل میں اب ایسی مچھلیاں، آبی جڑی بوٹیاں اور پانی میں تیرتے ہوئے plankton کہلانے والے چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت کم ہو چکے ہیں جن پر نقل مکانی کرنے والے ایسے لاکھوں پرندے زیادہ تر گزارہ کرتے ہیں۔ پویانگ جھیل ایک محفوظ قدرتی خطہ بھی ہے۔اس جھیل اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں جانوروں اور نباتات کے تحفظ کے محکمے کے سربراہ ژاؤ جِن شَینگ کے بقول پچھلے سال نومبر سے دوسرے ملکوں اور خطوں سے نقل مکانی کر کے وہاں آنے والے پرندوں کو زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہیں ہے۔ عام طور پر یہ پرندے مارچ کے مہینے تک وہاں قیام کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی گرمائی منزلوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق علاقائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پرندوں کو پویانگ جھیل کے ماحولیاتی نظام میں قیام کے دوران بھوک کے ہاتھو‌ں مرنے سے بچانے کے لیے اب انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک مہیا کی جائے گی۔حکام کے مطابق اس مقصد کے تحت ان لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے جھینگے، مکئی کے دانے اور ان کی پسندیدہ غذا کے طور پر دیگر اشیاء پھینکنے کا سلسلہ 23 جنوری سے پہلے شروع کر دیا جائے گا، جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ پویانگ جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے نگران محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار وُو ہیپِنگ نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس جھیل کا رخ کرنے والے لاکھوں پرندوں کو مقامی حکام کی طرف سے خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔ لیکن کئی سال پہلے ایسا شدید برفانی طوفانوں کے دنوں میں کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ تاہم اس اقدام کی ضرورت مسلسل خشک سالی کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ جیانگ سی میں حیوانی اور نباتاتی حیات کے تحفظ کے محکمے کا کہنا ہے کہ پویانگ جھیل میں پانی اتنا کم ہو چکا ہے کہ اب وہاں کا رخ کرنے والے لاکھوں موسمی پرندوں میں سے بہت سے اس جھیل کے نواح میں واقع نو دوسری چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا رخ بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے ان کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک کی فراہمی اور بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ پویانگ کی چینی جھیل کا مجموعی رقبہ پچھلے ہفتے تک سکڑ کو صرف 183 مربع کلومیٹر یا 71 مربع میل رہ گیا تھا۔ معمول کی بارشوں کے بعد عام طور پر تازہ پانی کی اس جھیل کا کُل رقبہ ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے، جو ایشیائی ملک سنگاپور کے مجموعی رقبے کے چھ گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

ٹوکیو ( ایجنسیاں) جاپان میں زلزلے کے باعث فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور گزشتہ روز چوتھا ری ایکٹر بھی دھماکے سے پھٹ گیا جس سے تابکاری کے اخراج میں مزید اضافہ ہوگیا، جاپانی حکام نے 30 کلومیٹر کے اطراف سے لوگوں کو نکل جانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ تابکاری کے اثرات اب فوکوشیما سے نکل کر ایباراکی ، سائی تامہ اور ٹوکیو تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جاپانی ایٹمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اور اطراف کے علاقوں میں پہنچنے والی تابکاری تاحال انسانی صحت کیلئے خطرے کا باعث نہیں۔ زلزلے ، سونامی اور ایٹمی بحران سے جاپان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے اور گزشتہ تین دنوں میں ایک ہزار پوائنٹ کم ہوگئے اور حکومت نے عوام سے نقد امداد کی درخواست کردی ہے اور سرکاری ٹی وی پر امداد کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز زلزلے کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے ان جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے 120 کلو میٹر دور شیزو کا میں ماوٴنٹ فیوجی کے نزدیک تھا۔ دوسری جانب آئی اے ای اے نے صورتحال کو سنگین قراردیاہے تاہم چرنوبل جیسے حادثہ کے امکان کو ردکردیاہے۔ جاپانی حکام ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کو روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں جس میں انہیں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سمیت امریکا اور برطانیہ کے ماہرین کی خدمات حاصل ہیں ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی معیشت کو زلزلے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے تین سے چار سال درکارہوں گے۔ جبکہ ایٹمی تابکاری کے اخراج کے بعد ایک بار پھر جاپان سے پاکستانیوں کے انخلا کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان جانے والی تمام ایئر لائنوں میں سیٹیں ختم ہوچکی ہیں جس کے باعث زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ایٹمی تابکاری کے اثرات کے زیر اثر علاقوں میں ابھی تک ہزاروں پاکستانی موجود ہیں جن کے اخراج کا تاحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔علاوہ ازیں جاپانی وزیراعظم نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر چار میں آگ لگی ہے جس کی وجہ سے تابکاری کی سطح انسانی صحت کیلئے خطرناک حدتک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل پرویز کیانی نے بیجنگ میں چین کے وزیراعظم ون جیابائو اور وزیر دفاع لیانگ گوانگ لیہ سے ملاقات کی ہے۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات جمعرات کی رات انجام پائي اور پاکستان اور چین کے رہنماوں نے دوطرفہ فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ چین کے وزیر اعظم نے اس ملاقات میں کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ کی طرح پاکستان کی ارضی سالمیت اور اقتدار اعلی کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مشکلات کو حل کرنے اور ترقی کی سمت بڑھنے کے لئے پاکستانی عوام اور فوج کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ ون جیابائو نے کہا کہ چین، پاکستان کے ساتھ فوجی تعاون بڑھانے میں کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گا۔ پاکستان کی فوج کے سربراہ نے گذشتہ روز سے چين کے چھے روزہ دورے کا آغار کیا ہے ۔ جنرل پرویز کیانی نے کہا کہ پاکستان اور چین کے اسٹراٹیجیک تعلقات میں وسعت لانا دونوں ملکوں کے تعاون کی بنیاد ہے۔

چین نے امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین نے امریکہ کی طرف سے ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے کی ایک بار پھر مخالفت کی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے ایران کے سینٹرل بینک کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا مخآلف ہے۔ چين کے علاوہ جاپان، ترکی، جنوبی کوریا اور اٹلی نے بھی امریکہ کی طرف سے یکجانبہ پابندیوں کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے ایران کی سینٹرل بینک کے خلاف بھی پابندی عائد کی ہےجبکہ ایران کی سینٹرل بینک کا امریکہ کے ساتھ کوئي لین دین نہیں ہےاس سے قبل بھی امریکہ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی تھیں جو ناکام ہوگئی ہیں البتہ ایران نے امریکی پابندیوں کے سائے میں تمام شعبوں میں خاطر خواہ ترقی حاصل کی ہے۔

واشنگٹن: چین نے پاکستان کوفضائی نگرانی کے لیے ڈرون طیارے فراہم کردیے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پاکستان چین سے میزائل حملوں کی صلاحیت والے ڈرونز بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اخبار کے مطابق دنیا کے پچاس سے زائد ممالک فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز حاصل کرچکے ہیں جبکہ دنیا میں امریکا کے بعد اسرائیل ڈرون بنانے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔

سورچہ فال کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم  پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔ اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” ’’یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔‘‘پہلی جنگ عظیم کے بعد اور دوسری جنگ عظیم سے قبل دنیا کو ایک زبردست معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران 4 ستمبر 1929ء  کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ میں اچانک اسٹاک کی قیمتیں گریں، پھر تو اس معاشی افراتفری اور بحران نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری دنیا کے ہر امیر اور غریب ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بحران تقریباً دس سال تک جاری رہا۔ اس کو بیسویں صدی کا بدترین معاشی بحران کہا جاتا ہے۔ بہرحال قوموں پر آیا ہوا مشکل وقت بھی گذر جاتا ہے۔ John D  Rochefeller نے کہا تھا:۔
“In the 93 years of my life, depressions have come and gone. Prosperity has always returned and come again.” یعنی میری 93 سالہ زندگی میں کئی معاشی بحران آئے اور گئے، خوشحالی آخر کار ضرور واپس لوٹتی ہے اور دوبارہ بھی آئے گی۔ بیسویں صدی کی مذکورہ بالا معاشی بدحالی کو Great Depression کہا گیا لیکن اکیسویں صدی کی موجودہ بگڑتی ہوئی بین الاقوامی معاشی صورتحال کو ماہرین معاشیات گریٹ ڈپریشن کہنے کی بجائے Great Recession کہتے ہیں:۔”یہ گریٹ Recession دسمبر2007ء میں شروع ہوئی اور اس نے بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن جون 2009ء میں امریکہ میں یہ محسوس کیا گیا کہ بین الاقوامی معاشی جمود خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حالات پھر مخدوش ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 2011ء کے موجودہ سال میں پوری دنیا Double Dip Recession کا شکار ہو چکی ہے۔ کہا یہ جار ہا ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی یا جمود جس کی لپیٹ میں خصوصاً امریکہ اور یورپ ہے، کی اصل وجہ امریکی Booming Housing Market کا دیوالیہ ہو جانا ہے۔ جس کی بنیاد وہ بینک بنے جنہوں نے بہت کرپشن کی اور عوام کو لوٹا۔ کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ امریکہ میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ اُن کے عراق اور افغانستان میں ہونے والے بے پناہ جنگی اخراجات ہیں۔ ان نقصانات کو اب امریکہ عراق، لیبیا، کویت اور بحرین کے تیل اور گیس کے ذخیروں پر قابض ہو کر دھڑا دھڑ پورا کر رہا ہے۔ امریکہ کی اب نظر ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے خزانوں پر بھی ہے۔ روس اور چین اب امریکہ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے ایران میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس سے کہا یہ جاتا ہے کہ اب مغرب اور مشرق میں پھر سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ Sorcha Fall کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔  اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔ مشرق اور مغرب کے درمیان موجودہ تناؤ میں اس وقت شدت آئی جب دو ہفتے قبل شام سے واپس آتے ہوئے روسی سفیر Vladimir Titorenkoاور اس کے دو اسٹاف ممبران پر برطانوی MI-6 اور سی آئی اے کی مدد سے قطری سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا اور اُن کو اتنا زخمی کر دیا کہ اُن کو قطر کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ روس اور چین کا خیال ہے کہ  CIA اور برطانوی MI-6 والے سفارتی بیگوں سے خفیہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم کو دیتے ہیں۔ جس کو اُنہوں نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کیا تھا اور اب اس تنظیم کی وجہ سے شام اور ایران میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران اور شام پر مہلک Biological agents کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس سے کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ ہالینڈ اراسمس میڈیکل سنٹر کے Virologist جن کا نام Ton Fouchier ہے، نے کہا ہے کہ مہلک جراثیم دوسرے ممالک پر پھینکنے کے لئے امریکہ کے ڈرون RQ-170 استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب حال ہی میں روس نے اپنے Avtobaza گراؤنڈ بسیڈ انٹیلی جنس اور جیمنگ سسٹم کو استعمال کر کے امریکی CIA کا ڈرون RQ۔170 ایران کے علاقے میں اتار لیا۔ جس میں حساس Aerosal Delivery System نصب تھا۔ جس سے دوسرے ممالک پر   Virus   حملے کئے جا سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر بھی Flu Virus کا استعمال ہوا تھا، جس سے دنیا کی آبادی کا تقریباً 3 فیصدی یا اندازا ً500 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ امریکہ کے ایک Investigativeجرنلسٹ Greg Hunter نے ایک رپورٹ لکھی جس کا عنوان ہے۔”Is the World Spinning out of Control”اس رپورٹ میں امریکی صحافی نے لکھا ہے کہ مغربی معاشی نظام 100ٹریلین ڈالرز کے قرضے کے نیچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ قرضہ کوئی ملک بھی واپس ادا نہیں کر سکتا۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی صحافی نے لکھا ہے۔ “Never in history has the World been this close to total financial choas and nuclear war at the same time” ’’یعنی انسانی تاریخ میں اس سے پہلے دنیا ایک ہی وقت پر معاشی بدحالی کی گرفت اور ایٹمی جنگ کے امکانات کے اتنا قریب نہ تھی جتنی اب ہے‘‘۔  قارئین آج سے تقریباً 200 سال پہلے امریکہ کے ایک بانی قائد تھامس جیفرسن نے کہا تھا:۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بینکوں کے ادارے دشمن افواج سے زیادہ ہماری آزادی کے لئے خطرہ ہیں۔ اگر پرائیوٹ بینکوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ پہلے Inflation اور پھر Deflation کریں تو پھر بینکوں کے سہاروں پر کھڑی ہونے والی کارپوریشنیں لوگوں کو اُن کی تمام جائیدادوں سے اس طرح محروم کر دیں گی کہ اُن کے بچے اپنے اُس براعظم پر بے گھر کھڑے نظر آئیں گے، جس کو اُن کے اباؤ اجداد نے فتح کیا تھا  قارئین یہ یاد رکھا جائے کہ پاکستان اب معاشی بدحالی کے Mine Fieldکی تباہیاں جھیلنے کے بعد مکمل معاشی Collapse کے خوفناک گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکمرانی کمزور ہے، سٹیٹ بینک کا کوئی کنٹرول نہیں، حکومت پرائیویٹ بینکوں سے کھربوں روپے اُدھار لے کر کھا رہی ہے۔ تباہ حال کارپوریشنیوں کے پاس مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لئے بھی کچھ نہیں۔ بنیادی خرابیوں کو دور کئے بغیر ان کارپوریشنوں میں مزید اربوں روپے ڈبوئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کمر توڑ ہے، مالیاتی ٹیم کی بے حسی ناقابلِ فہم ہے، بجٹ خسارے اور Inflation کی صحیح صورتِ حال عوام سے چھپائی جا رہی ہے۔ دولت کی بیرون ملک بے خوف پرواز جاری ہے۔ Run away Inflation اور بیرونی Debt default کے زبردست خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ صنعتوں کی بندش کی وجہ سے ایکسپورٹ رُکی ہوئی ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں۔تیل کی قیمتوں، بجلی اور گیس کے بحران نے زراعت، صنعت اور گھریلوں صارفین کی چیخیں نکال دی ہیں۔ زرِمبادلہ کے ذخائر، جو اب تقریباً 12 ارب ڈالرز ہیں، اگلے سال کے اختتام پر صرف چار یا پانچ ارب ڈالرز رہ جائیں گے۔ جس سے مارکیٹ مزید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر Collapse ہو سکتی ہے ۔ایسی صورتِحال میں صدرِ مملکت فرماتے ہیں کہ اُن کی جماعت کے منشور کے 80 فیصدی حصے پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اب خوف یہ ہے کہ حکمران اتحاد کے منشور کی 100 فیصدی تکمیل کے بعد پاکستان کا کیا بچے گا۔……تحریر:جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

ٹوکیو … جاپان نے ایرانی تیل کی درآمد بند کرنے کے امریکی مطالبے کومستردکردیا۔واشنگٹن کے دورے پرآئے جاپانی وزیرخارجہ کوئشیروگیمبا نے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات کی۔ جس کے بعدمیڈیا سے گفت گومیں ان کا کہناتھا کہ جاپان ایران سے تیل کی درآمد بند نہیں کرے گا۔ایرانی اداروں پرپابندی اس کے جوہری پروگرام پرخدشات کے سبب لگائی گئی ہے ،لیکن تیل کی خریداری الگ معاملہ ہے۔جاپانی وزیرخارجہ نے واضح کیاکہ ان کاموقف ہے کہ اگرایران سے خام تیل کی درآمد روک دی گئی تویہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہوگا۔اس لیے جاپان نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے خام تیل کی خریداری جاری رکھے گا

واشنگٹن: پاکستانی چوکیوں پر حملے کے بعد نیٹو سپلائی لائن کٹ گئی۔ پاکستان کی طرف سے مزید ممکنہ اقدامات پر امریکی دفاعی حکام سخت پریشان ہیں جبکہ امریکہ نے نیٹو حملے کی تحقیقات کا بھی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں امریکی حکام جلد ایک اعلی عہدیدار کو تحقیقات کی ذمہ داریاں سونپیں گے۔ وال سٹریٹ جرنل میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے شدید  ردعمل اورنیٹو فورسزکی سپلائی لائن کی بندش پر امریکی حکام خاصے پریشان ہوگئے ہیں اورحکومتی ایوانوں میں اس حوالے سے غوروفکر شروع ہوگیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ نیٹو کی سپلائی لائن کی بندش ایک سنگین مسئلہ ہے اور آنیوالے دنوں میں اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہونیکا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان سے نیٹو سپلائی بند ہونے پر پینٹاگون افغانستان میں موجود افواج کو رسد کی فراہمی کیلئے وسط ایشیائی ریاستوں کے روٹ استعمال کریگا۔ زیادہ تر سپلائی وہیں سے کی جائے گی۔ امریکی دفاعی حکام کیمطابق اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا اگر پاکستان نے فضائی پابندی لگاتے ہوئے امریکا اور اتحادی ممالک کو ائیرکوریڈور کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی دفاعی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ اس فیصلے کے بعد فورسز کو سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دوسری جانب پینٹاگون حکام نے مسئلے سے نمٹنے کیلئے ممکنہ اقدامات پر سوچ و بچار بھی شروع کر دی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے پاکستان کو ملنے والی امداد روک کر پاکستان پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ دریں اثناء امریکا نے پاکستان میں نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا، تحقیقات کیلئے جلد اعلیٰ افسر تعینات کیا جائے گا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان کی جانب سے نیٹو کی سپلائی لائن بند کئے جانے اور شمسی ایئر بیس خالی کرنے کے اعلان کے بعد امریکا نے نیٹو کے فضائی حملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی اخبار نے دفاعی حکام کے ذرائع سے بتایا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے جنرل جیمز میٹیس  تحقیقاتی افسر تعینات کر سکتے ہیں۔ تحقیقات کا مقصد اس بات کا تعین کرنا ہے کہ پاکستان کی چیک پوسٹ پر حملے کے احکامات کس نے اور کیوں صادر کئے۔

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو حملوں میں پاک فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید ہوچکے ہیں۔ نیٹو حملے کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے سرحدی علاقے میں نیٹو کے حالیہ حملے میں پاکستان کے چوبیس فوجی جوان شہید ہوئے جس پر پاک فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں نیٹو افواج پاکستانی سرحدوں پر سات سے آٹھ حملے کرچکی ہیں جس میں فوج کے افسران سمیت بہتر فوجی جوان شہید اور ڈھائی سو زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ تعزیت اور افسوس سے کام نہیں چلے گا کیونکہ ایسی کاروائیاں ماضی میں بھی ہوچکی ہیں۔ قیادت فیصلہ کرئے گی کہ اس معاملے پر ہمارا مزید ردعمل کیا ہوگا۔ واضح رہے کہ نیٹو کے ہیلی کاپٹروں نے جمعہ اور ہفتے کی درمیابی شب مہمند ایجنسی میں پاکستان کی دو سرحدی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کی تھی جس میں دو فوجی افسران سمیت چوبیس سکیورٹی اہلکار شہید اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

چین نے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو افواج کے سرحد پار حملے میں چوبیس پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر اسے شددید دکھ اور تشویش ہے۔ پیر کو وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ لی نے ایک بیان میں اس حملے کا نشانہ بننے والوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیئے اور اس واقعہ کی مفصل تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ اس سے نمٹنے میں احتیاط برتی جائے۔ پاکستان نے نیٹو کے حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور اس پیش رفت سے افغانستان میں جاری جنگ کو سمٹنے کی امریکہ کی کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ نیٹو نے اس حملے کو ایک غیر ارادی سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے نیٹو کے اس دعوے کو مسترد کیا ہے کہ اتحادی افواج نے سرحد پار سے ان پر ہونے والی فائرنگ کے جواب میں یہ کارروائی کی تھی۔ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ چین نیٹو حملے کو پاکستان کی سالمیت پر حملہ تصور کرتا ہے اور اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔

پاکستان نے آج ان رپورٹوں کی تردید کی ہے کہ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی وہ فضائی کارروائی پاکستان کی جانب سے کسی اشتعال انگیزی کا نتیجہ تھی، جس میں چوبیس پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس سے پہلے تین افغان اہلکاروں اور ایک مغربی عہدیدار کے حوالے سے یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ متعلقہ پاکستانی چوکی سے نیٹو اور افغان فورسز پر فائرنگ کی گئی تھی اور یہ کہ یہ فضائی کارروائی جواب میں کی گئی تھی۔ دریں اثناء افغانستان میں نیٹو فورسز کو ایندھن فراہم کرنے والی بڑی پاکستانی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ اس فضائی حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر نیٹو کو ایندھن کی فراہمی جلد بحال نہیں کی جائے گی۔ تازہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی کمانڈروں کی جانب سے اتحادی افواج کو حملہ روکنے کی درخواست کے باوجود نیٹو کا یہ حملہ لگ بھگ دو گھنٹے تک جاری رہا۔

ایران اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے 12 سی آئی اے ایجنٹس کی گرفتاری پر مبنی خبر نے عالمی میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی نیوز چینل اے بی سی نیوز نے کل شام اعلان کیا کہ ایران اور لبنان میں 12 امریکی جاسوس انٹیلی جنس ایجنسیز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے ہیں جنہیں سزائے موت دیئے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔ اس خبر نے امریکہ میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے اور عالمی میڈیا میں ہلچل مچا کر رکھ دی ہے۔ ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری اس وقت انجام نہیں پائی بلکہ گذشتہ مدت میں وقتا فوقتا انجام پائی ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کی نظر میں اس وقت مغربی میڈیا کا اس خبر کو بڑے پیمانے پر کوریج دینا اور پھیلانا کچھ مشکوک نظر آتا ہے۔
گارڈین: برطانوی روزنامہ ڈیلی گارڈین اس خبر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سی آئی اے کی جانب سے واضح غلطیاں باعث بنی ہیں کہ اسکے جاسوس پھانسی کے تختے تک جا پہنچیں۔
ڈیلی میل: برطانوی اخبار ڈیلی میل اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ کی صورت میں لکھتا ہے: ہم نہیں سمجھتے ان ایجنٹس کو دوبارہ زندہ دیکھ سکیں گے۔ ایران اور لبنان میں گرفتار ہونے والے دسیوں جاسوسوں کو سزائے موت ملنے کا قوی امکان موجود ہے۔ ڈیلی میل اس رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ایران اور حزب اللہ لبنان کی جانب سے ان جاسوسوں کی گرفتاری نے امریکہ کی جانب سے ایران اور حزب اللہ کے خلاف اقدامات کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس:ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی ان افراد کی گرفتاری کو ایران اور حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں سی آئی اے کیلئے بڑی ناکامی قرار دیا اور لبنان میں امریکہ کی شکست کا اعتراف کیا۔
یو ایس اے ٹوڈے:امریکی اخبار یو ایس ٹوڈے لکھتا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد لبنان میں سی آئی اے کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
فرانس نیوز ایجنسی:فرانس نیوز ایجنسی نے بھی ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سی آئی اے کو پہلے ہی خبردار کیا جا چکا تھا کہ انکے جاسوس خطرے میں ہیں۔
نیوز 24:نیوز 24 چینل نے بھی اس خبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری نے لبنان میں سی آئی اے کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے، گذشتہ چند ماہ کے دوران سی آئی اے کے اعلی اہلکاروں نے بیرونی ممالک میں اپنے جاسوسوں کی دستگیری کو روکنے کیلئے خفیہ طور پر شدید قسم کی احتیاطی تدابیر لاگو کر رکھی تھیں۔ یہ احتیاطی تدابیر حزب اللہ لبنان کی جانب سے ان جاسوسوں کی گرفتاری سے پہلے عمل میں لائی جا چکی تھیں۔
اسرائیل نیشنل نیوز:اسرائیلی میڈیا نے بھی اپنے مخصوص انداز میں اس خبر پر ردعمل ظاہر کیا۔ اسرائیل نیشنل نیوز نے 12 امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں ممکنہ سزائے دیئے جانے پر پریشانی کا اظہار کیا۔
یدیعوت آحارنوٹ: اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارنوٹ “سی آئی اے وحشت زدہ، حزب اللہ کا انٹی جاسوسی سیل” کے عنوان سے لکھتا ہے کہ حزب اللہ نے ایران کی مدد سے وطن کے غداروں کو شناخت کر کے گرفتار کر لیا ہے۔
یہ اخبار مزید لکھتا ہے کہ حزب اللہ لبنان جدیدترین ٹیلی کمیونیکیشن آلات کے ذریعے سی آئی اے کے جاسوسوں کو پکڑنے میں کامیاب رہا ہے۔
ہارٹز:ایک اور اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ان جاسوسوں کی گرفتاری کو سی آئی اے کیلئے شدید نقصان قرار دیا اور لکھا کہ حزب اللہ لبنان ایران کی مدد اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان جاسوسوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
رشیا ٹوڈے:روسی نیوز چینل رشیا ٹوڈے نے “ایران اور لبنان میں سی آئی اے کے نیٹ ورک کی نابودی” کے عنوان سے اس خبر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ فی الحال ان جاسوسوں کا انجام واضح نہیں ہے لیکن جو چیز یقینی ہے وہ یہ کہ امریکی جاسوسی ادارے کیلئے اسکے اثرات انتہائی منفی ہوں گے۔
رویٹرز:رویٹرز نیوز ایجنسی نے بھی اس خبر کو ایران اور حزب اللہ لبنان کے مقابلے میں سی آئی اے کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ امریکی جاسوسی نیٹ ورک خود امریکہ کی جانب سے لبنان کو دیئے گئے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے ذریعے ہی فاش ہوا۔
ٹائم:امریکی مجلے ٹائم نے اس واقعے کو امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کی شکست قرار دیتے ہوئے ان امریکی جاسوسوں کی گرفتاری میں ایران کے اہم کردار پر تاکید کی۔
سی این این:امریکی نیوز چینل سی این این نے بھی دوسرے نیوز چینلز کی طرح ان جاسوسوں کی گرفتاری کو سی آئی اے کی شکست قرار دیا۔
یونائٹڈ انٹرنیشنل:امریکی نیوز ویب سائت یونائٹڈ انٹرنیشنل نے اس خبر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان جاسوسوں کو سزائے ملنے کے امکان پر اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
لاس اینجلس ٹائمز:امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد گذشتہ سال گرمیوں سے لبنان میں سی آئی اے کے تمام آپریشنز روکے جا چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ تھائی لینڈ میں کئی دہائیوں کا بدترین سیلاب بتدریج ختم ہو جائے گا مگر اس کے مختلف کمپنیوں اور صارفین پر پڑنے والے منفی اثرات دیر تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ تھائی لینڈ بہت سی کمپنیوں کا پیداواری مرکز ہے اور اکتوبر کے بعد آنے والے سیلاب میں سینکڑوں افراد کی ہلاکت کے ساتھ ساتھ بہت سی کمپنیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ ان میں کمپیوٹر  ساز کمپنی ڈیل، ہارڈ ڈسک ڈرائیو بنانے والی توشیبا اور ویسٹرن ڈیجیٹل کے علاوہ گاڑیوں کی صنعت کے بڑے نام ٹویوٹا اور فورڈ بھی شامل ہیں۔مارچ میں جاپان میں آنے والے زلزلے اور اب تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد یہ سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں کہ کمپنیاں اپنے بنیادی پرزوں کی سپلائی کے نیٹ ورکس سے کتنی اچھی طرح آگاہ ہیں اور آیا ان خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔ٹوکیو کے ایم ایم ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کار ماساکی ناکامورا نے کہا، ’’کمپنیوں کے پاس اس حوالے سے محدود انتخاب ہےکیونکہ اضافی سامان رکھنے سے تجارتی منافع پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور اس سے خطرے میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔‘‘ خاص طور پر جاپان میں متعارف کرائے جانے والے ’عین وقت پر فراہمی‘ کے تصور کے تحت اہم پرزوں اور خام مال کو صرف ضرورت پڑنے پر ہی فراہم کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح کے حادثوں سے نقصان پہنچتا ہے۔ڈائی اچی لائف ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ایک سینئر ماہر اقتصادیات تورو نشی ہاما نے کہا کہ اس تصور کو تبدیل نہیں کیا جائے گا مگر اب کمپنیاں دیگر مقامات پر پیداواری مراکز قائم کر کے اس خطرے میں مزید کمی لائیں گی۔تھائی فیکٹریاں ہارڈ ڈرائیوز کی 40 فیصد سپلائی فراہم کرتی ہیں۔ فیکٹریوں کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد نئی ہارڈ ڈرائیوز کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔اکتوبر کے اواخر میں 400 سے زائد جاپانی کمپنیوں نے تھائی لینڈ میں سیلاب کے بعد اپنا کام بند کر دیا تھا۔ تھائی لینڈ میں سب سے زیادہ سرمایہ کاری جاپان نے کر رکھی ہے۔ جاپانی کمپنیاں ٹیکسوں کی کم شرح، ارزاں افرادی قوت اور معیاری سہولیات کی وجہ سے تھائی لینڈ میں اپنی پیداوار کرتی ہیں۔تھائی لینڈ کے سیلاب سے متاثر ہونے کے بعد جاپانی کمپنیاں آئندہ برس انڈونیشیا، ویت نام اور بھارت میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ستمبر میں ٹویوٹا کمپنی نے کہا تھا کہ جاپان میں مارچ کے زلزلے کے بعد اس کی گاڑیوں کی پیداوار کا عمل دوبارہ معمول کی سطح پر آ گیا ہے تاہم تھائی لینڈ میں سیلاب کے باعث اسے اپنے تین اسمبلی پلانٹ بند کرنا پڑے، جو نومبر کے اواخر تک ہی کھل سکتے ہیں۔ ٹویوٹا اور ہونڈا نے نقصان کا تخمینہ لگانے کے دوران اپنی سالانہ آمدنی کی پیش گوئی پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔گاڑیاں تیار کرنے والی دیگر جاپانی کمپنیوں یعنی نسان اور متسوبشی اور برقی آلات کے معروف ناموں پائیونیئر، سونی، کینن اور نائیکون کی پیداواری سہولیات کو بھی تھائی لینڈ کے سیلاب سے نقصان پہنچا ہے۔اگرچہ بعض فیکٹریوں میں محدود پیمانے پر پیداوار کا دوبارہ آغاز ہو گیا ہے تاہم تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے اثرات جاپان کے زلزلے اور سونامی سے کہیں زیادہ دوررس ہو سکتے ہیں۔

اگر سب سے زيادہ آبادی والا ملک چين خاندانی منصوبہ بندی کے سخت اقدامات نہ کرتا تو آج عالمی آبادی يقيناً کئی سو ملين زيادہ ہوتی۔ ليکن چين کی فی گھرانہ ايک بچے کی سرکاری پاليسی نے بہت سے سماجی مسائل بھی پيدا کيے ہيں۔ اقوام متحدہ کے ايک اندازے کے مطابق اس ماہ کے آخر تک عالمی آبادی سات ارب تک پہنچ جائے گی۔ سن 1970 کے عشرے کے آخر ميں چين کے 10 سالہ ’ثقافتی انقلاب‘ کے بعد چينی معيشت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی۔ غربت کا راج تھا، رہائشی مکانات کی قلت اور افرادی قوت کی زيادتی تھی۔ چينی حکومت کو خدشہ تھا کہ اگر آبادی اتنی ہی تيز رفتاری سے بڑھتی رہی تو عوام کی غذائی ضروريات پوری نہيں ہو سکيں گی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے ليے حکومت نے سن 1979 ميں پيدائش پر رياستی کنٹرول کا ضابطہ جاری کيا۔ بيجنگ کی رينمن يونيورسٹی کے سماجی علوم کے پروفيسرجو سياؤ جينگ نے کہا: ’’ماؤزے تنگ کا اس پر پورا يقين تھا کہ آبادی جتنی زيادہ ہو گی اتنا ہی ملک طاقتور ہو گا۔ ليکن ثقافتی انقلاب کے خاتمے اور ماؤ کی وفات کے بعد چين نے اس کے بالکل مخالف پاليسی اپنا لی۔‘‘  اب نئے جاری کردہ ضابطے کے تحت شہروں ميں رہنے والا ہر گھرانہ صرف ايک بچہ پيدا کر سکتا تھا۔ چين کے بڑے شہروں ميں فی گھرانہ صرف ايک بچے کی پيدائش کے ضابطے کی آج بھی بڑی حد تک پابندی کی جا رہی ہے۔ پہلے بچے کے معذور ہونے يا مر جانے کی صورت ہی ميں دوسرے بچے کو جنم دينے کی اجازت ہے۔ ديہی علاقوں ميں بھی صرف وہی گھرانے دو بچے پيدا کر سکتے ہيں، جن کی پہلی اولاد لڑکی ہو کيونکہ ديہی آبادی روايتی طور پر خاندان کے سربراہ کی حيثيت سے مرد کو ترجيح ديتی ہے۔ چين کی اقليتوں پر بچوں کی پيدائش کے سلسلے ميں کسی قسم کی پابندی نہيں ہے۔ چينی حکام فی گھرانہ ايک بچے کی پاليسی پر عمل کرانے کے سلسلے ميں جبری اسقاط حمل کا طريقہ بھی اختيار کرتے ہيں۔ اخبار ’ چائنا ڈيلی ‘ کے مطابق جبری اسقاط حمل کے واقعات کی تعداد کئی ملين تک پہنچتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظيم ویمينز رائٹس ودآؤٹ بارڈرز کی بانی ريگی لٹل جون نے کہا: ’’انسانوں کو آبادی کم کرنے کی تعليم دينا ايک الگ بات ہے ليکن عورتوں کو حمل گرانے اور رحم مادر ميں بچوں کو ہلاک کرنے پر مجبور کرنا اس سے بالکل مختلف بات ہے۔ چينی حکومت کی ايک بچے کی پاليسی ايک جبر اور عورتوں کے حقوق کی شديد خلاف ورزی ہے۔‘‘لٹل جون نے کہا کہ جبری اسقاط حمل نجی زندگی کے دائرے اور عورتوں کے حقوق ميں زبردست مداخلت ہے۔ پروفيسر سياؤ جينگ نے ايک بچے کی پاليسی کے خاتمے کی اپيل کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پورے چينی معاشرے پر برے اثرات پڑ رہے ہيں۔ بہن بھائيوں کے ساتھ مل جل کر بڑا ہونے کے مقابلے ميں بہت سے اکلوتے بچوں ميں معاشرتی ميل جول کی صلاحيت بہت کم ہوتی ہے۔

چین کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود امریکی سینیٹ نے سامراجی ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے چین پر پابندیاں لگانے کی قرار داد منظور کر لی ہے۔امریکی سنیٹ نے دعوی کیا ہے کہ چين کے خلاف قرارداد چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر منظور کی گئي ہے۔ دوسری طرف امریکی کانگریس نے فی الحال اس قرارداد کا جائزہ لینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ اس سے امریکہ اور چین کے درمیاں تجارت کی جنگ شروع ہوسکتی ہے۔اس رپورٹ کے مطابق چين کے خلاف پابندیوں کے طرفدار امریکی سینیٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی بیشتر اقتصادی مشکلات چین کی مالیاتی پالیسیوں کی بنا پر ہیں۔امریکی سینیٹ اس قرارداد کو منظوری دے کر وزارت خزانہ کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ چین پر دباو ڈالے اور چین کو اپنی کرنسی یوان کی قدر میں کمی لانے پر مجبور کرے۔ادھر چین نے امریکی کانگریس سے کہا ہے کہ وہ سینیٹ کی اس قرارداد کو مسترد کردے۔ چین کی وزات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کو اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ نہيں دینا چاہیے اور واشنگٹن اور بیجنگ کے صحت مند اقتصادی تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کرنا چاہیے۔دوسری جانب چین کی وزارت اقتصاد کے ترجمان نے بھی امریکی سینیٹ میں چین کےخلاف قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے یہ قرارداد منظور کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ چین کےخلاف امریکی سینیٹ میں قرارداد کی منظوری سے اسلامی جمہوریہ ایران کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کے لئے اپنے دوستوں کو بھی قربان کر دیتا ہے۔

تائیوان میں مختلف وجوہات کی بنا پر عام خواتین میں شرح پیدائش دنیا بھر میں سب سے کم ہو چکی ہے اور گزشتہ برس وہاں ایک عام خاتون کی طرف سے پوری زندگی میں جنم دیے جانے والے بچوں کی اوسط شرح صرف 0.9 بچے فی خاتون رہی۔ تائی پے میں حکام نے بتایا کہ عام خواتین میں افزائش نسل کی اس انتہائی کم شرح کی وجوہات بہت متنوع ہیں۔ اس امر کے اسباب اقتصادی نوعیت کے بھی ہیں اور توہم پرستانہ بھی۔ سن 2010 کے دوران اس بہت کم شرح پیدائش پر تائی پے میں پالیسی سازوں کو اس لیے بہت تشویش ہے کہ اگر سالانہ بنیادوں پر اس شرح میں قابل ذکر اضافہ نہ ہوا تو مستقبل قریب میں تائیوان کے لیے اپنی ہمسایہ دیگر برآمدی معیشتوں مثلاﹰ ہانگ کانگ، سنگا پور اور جنوبی کوریا کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ تائیوان 23 ملین کی آبادی والا ایک جزیرہ ہے، جو خود کو چینی جمہوریہ قرار دیتا ہے لیکن بیجنگ کا دعویٰ ہے کہ تائیوان اس کا ایک باغی صوبہ ہے، جسے ضرورت پڑنے پر جبری طور پر بھی باقی ماندہ چین کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ سن 2010 میں تائیوان میں اس سے پہلے کے سالوں کے مقابلے میں اور بھی کم بچے پیدا ہوئے، جس کی ماہرین کے نزدیک جزوی طور پر ایک وجہ یہ بھی رہی کہ عالمی مالیاتی بحران کے باعث وہاں بہت سے جوڑوں کے پاس اتنے اضافی مالی وسائل ہی نہیں تھے کہ وہ بچے پیدا کرنے کا سوچتے اور یہ رقوم ان بچوں کی پرورش پر خرچ کرتے۔ تائی پے میں وزارت داخلہ کے شعبہ تعلقات عامہ کی خاتون سربراہ لیو لی فانگ کا کہنا ہے کہ سن 2010 میں تائیوان میں اس لیے بھی بہت کم بچے پیدا ہوئے کہ چینی کیلنڈر کی رو سے گزشتہ برس بچوں کی پیدائش کے لیے کوئی مبارک سال نہیں تھا۔ لیو لی فانگ کے بقول یہ ہے تو توہم پرستانہ سوچ کا نتیجہ لیکن اس حقیقت نے بھی پچھلے سال شرح پیدائش کو واضح طور پر متاثر کیا۔ کئی ماہرین سماجیات کے مطابق تائیوان میں ان دنوں یہ رجحان بھی بہت زیادہ ہے کہ وہاں اکثر خواتین یا تو سرے سے شادی کرتی ہی نہیں یا پھر ایسا بہت دیر سے کرتی ہیں۔ اس کے بڑے اسباب یہ ہیں کہ ان پر یا تو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں مزید آگے بڑھنے کا جوش و جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے یا پھر وہ ان روایتی ساسوں سے بچنا چاہتی ہیں، جو عام طور پر شادی کے بعد بھی اپنے بیٹوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں اور جن کے ان کی بہوؤں  سے خاندانی زندگی میں مطالبات ہمیشہ ہی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ وزارت داخلہ کی اعلیٰ اہلکار لیو لی فانگ کا کہنا ہے کہ تائیوان میں بچوں کی کم تر شرح پیدائش ایک بہت پیچیدہ معاملہ ہے، جس کا تعلق اس بات سے بھی بہت زیادہ ہے کہ وہا‌ں کی آبادی کا معاشرتی ماحول کیسا ہوتا ہے اور چینی لوگوں کی جذباتی ترجیحات کیا ہیں۔ تائی پے میں سرکاری اہلکاروں کے مطابق اگر تائیوان میں بچوں کی انتہائی کم شرح پیدائش آئندہ بھی دیکھنے میں آتی رہی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ حکومت کو یا تو بیرون ملک مقیم شہریوں سے وطن واپسی کی درخواست کرنا پڑے گی یا پھر زیادہ سے زیادہ تعداد میں بزرگ شہریوں کو اس بات پر آمادہ کرنا پڑے گا کہ وہ پینشن پر جانے کی بجائے مسلسل کام کرتے رہیں۔ گزشتہ برس تائیوان میں بچوں کی مجموعی شرح پیدائش صرف 7.21 بچے فی ایک ہزار خواتین رہی تھی اور یہ شرح دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک یا خطے کے مقابلے میں سب سے کم بنتی ہے۔

عالمی معاشی منظر پر امریکی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی کو بعض ماہرین بڑے اقتصادی بحران سے تعبیر کر رہے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ آسٹریلیا، فرانس اور جاپان نے اس صورت حال میں بھی امریکی معیشت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ نے ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پُورز کی جانب سے امریکی کریڈٹ کی سطح میں کمی کے فیصلے پر امریکی حکومت اور اس کی معاشی پالیسیوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے بھاری دفاعی اخراجات کا خاص طور پر حوالہ دیا ہے۔ چینی خبر رساں ادارے زِنہوا کے مطابق امریکی اقتصادیات اس وقت تک بھاری بوجھ تلے رہے گی جب تک واشنگٹن  حکومت بھاری فوجی اخراجات کے ساتھ ساتھ اپنے بڑے فلاحی بجٹ پر نظرثانی کرتے ہوئے اس میں واضح کمی نہیں لاتی۔ امریکی کریڈٹ ریٹنگ میں کمی واقع ہو چکی ہے۔ ٹرپل اے کے سنہرے دور سے اب امریکی کریڈٹ کو ڈبل اے پلس کی سطح پر رکھا گیا ہے۔ ایسا پہلی بار دیکھا گیا کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ کی سطح میں ایک درجہ کی کمی واقع ہوئی ہے۔  واشنگٹن حکومت نے بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی اسٹینڈرڈ اینڈ پُورز کے اس فیصلے پر خاصی تنقید بھی کی ہے۔ بین الاقوامی رد عمل میں امریکی اقتصادیات پر نئی ابھرتی معاشی قوت چین کی جانب سے کڑی نکتہ چینی کی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے ریٹنگ ایجنسی کے اقتصادی تجزیے کو غلط قرار دیا ہے۔ چین نے اس صورت حال کا ذمہ دار امریکی حکومت کو ٹھہرایا ہے۔ بیجنگ کی جانب سے استحکام سے عبارت ایک نئی عالمی ریزرو کرنسی کے مطالبے کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔ چین کی سرکاری نیوز ایجنسی زنہوا کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں امریکی اقتصادیات کے حوالے سے کہا گیا کہ اس کے اچھے دن اب ختم ہو گئے ہیں چین کی تنقید کے باوجود امریکہ کے سیاسی ، معاشی اور عسکری حلیف ممالک میں سے آسٹریلیا، فرانس اور جاپان  نے امریکی بانڈز پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس دوران امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ری پبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کی جانب سے ملکی اقتصادیات کو بہتر خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اقتصادی  مبصرین کے مطابق کریڈٹ ریٹنگ میں کمی سے امریکی معیشت پر عالمی سرمایہ کاروں کے تحفظات بڑھیں گے اور یہ کسی طور بھی سود مند نہیں ہو سکتا۔ مبصرین کے نزدیک اس باعث بین الاقوامی مالی منڈیوں میں کمی کے رجحان سے اگلے دنوں میں سرمایہ کاروں کو مزید نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے۔  امریکہ کو شرح بے روزگاری کی بڑی سطح کا بھی سامنا ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار امریکی اقتصادیات کے لیے کسی طور حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے دوران امریکی معاشی صورت حال کی وجہ سے عالمی سطح پر اربوں ڈالر کا نقصان، بازار حصص میں دیکھا گیا۔ بلُوم برگ کے مطابق گزشتہ ہفتے بل گیٹس کے علاوہ امریکی کاروباری ٹائیکون وارن ایڈورڈ بوفٹ کے لیے مالی پریشانیوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کے علاوہ بھارتی نژاد بزنس مین لکشمی متل اور میکسیکو کے ارب پتی کارلوس سلِم کو تقریباً دس ارب ڈالر کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔

لاہور :  ہرآزمائش پر پورا اترنے والی پاک چین دوستی کو اس وقت دھچکا لگا جب بیجنگ نے یکم اگست کو یہ دعویٰ کیا کہ سنکیانگ کے شہر کاشغر کے 30 اور 31 جولائی کے بم دھماکوں میں ملوث یوغر کے مسلمان عسکریت پسندوں نے پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تربیت حاصل کی۔ ان دھماکوں میں 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حالیہ برسوں میں چینی حکام کی طرف سے سرکاری طور پر کہا گیا یہ پہلا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے القاعدہ سے منسلک مشرقی ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) کے پاکستان میں قائم کیمپوں میں تربیت حاصل کی۔ چین کے اس دعویٰ نے پاک چین دوستی کیلئے سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ اگرچہ ای ٹی آئی ایم کا پاک افغان سرحد پر نیٹ ورک امریکی ڈرون حملوں کے ذریعے ان کی اعلیٰ قیادت کی ہلاکتوں کے باعث کمزور ہو چکا ہے لیکن سخت جان اوغر عسکریت پسند پاکستان کی سرحد سے ملحقہ صوبے سنکیانگ کے ذریعے پاکستان اور چین کی سرحد کے آر پار جاتے رہتے ہیں۔ چینی حکام نے یکم اگست کو دعویٰ کیا کہ کاشغر میں بم دھماکے کرنے والے دہشت گرد گروپ کے لیڈر نے پاک افغان سرحد پر پاکستانی قبائلی علاقے میں قائم دہشت گرد تربیتی کیمپوں میں دھماکا خیز مواد بنانے اور انہیں استعمال کرنے کی تربیت حاصل کی۔ ای ٹی آئی ایم تنظیم کو صوبہ سنکیانگ کے مقامی باشندے چلاتے ہیں جو کہ اپنے الگ ملک کے قیام کیلئے چینی ان کی آبادکاری کیخلاف لڑ رہے ہیں اور انہوں نے اپنی اس تحریک کو تحریک آزادی کا نام دیا ہوا ہے۔ سنکیانگ میں نئے چینی آبادکاروں کیخلاف مقامی لوگوں کی لڑائی نئی نہیں ہے کیونکہ 2009ء میں یوغر اور چینی پن کے مابین نسلی فسادات میں تقریباً 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اگرچہ سنکیانگ میں نسلی تنازعہ نیا نہیں ہے اور چین کے پاکستان پر براہ راست الزامات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گرفتار اوغر عسکریت پسندوں کے اعتراف کے بعد چین نے یہ دعویٰ کیا کہ حالیہ حملوں میں ملوث دہشت گرد گروپ نے پاکستان میں موجود تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ لی اور ان عسکریت پسندوں کے اعتراف کو بنیاد بنایا ہے۔ پاکستانی حکومت نے فوری طور پر چین کو ہرممکن تعاون کی پیشکش کی جس کے ذریعے ای ٹی آئی ایم کیخلاف کارروائی کی جا سکے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے یکم اگست کو اپنے جاری بیان میں کہا تھا کہ سنکیانگ میں دہشت گرد انتہاپسند اور علیحدگی پسند بدی کی قوتیں ہیں۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب چین کے صدر ہوجن تاؤ نے صدر آصف علی زرداری کو ٹیلی فون کیا اور صوبہ سنکیانگ میں ای ٹی آئی ایم کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ فون ایک ماہ پہلے یعنی یکم سے 5 ستمبر 2011ء کے دوران سنکیانگ کے دارالحکومت ارومچی میں بین الاقوامی نمائش منعقد ہونے سے پہلے کیا گیا ہے۔ بعدازاں چینی تشویش کے حوالے سے بات چیت کرنے کے لئے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا چین کے دورے پر روانہ ہو گئے۔ راولپنڈی میں موجود انتہائی باخبر انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق پاکستان کے فوجی حکام کو بیجنگ کی طرف سے قبائلی علاقوں میں فوجی بیس قائم کرنے کی اجازت دینے کیلئے شدید دباؤ کا سامنا ہے تاکہ پاکستان کی سرزمین پر سرگرم چینی باغیوں کو کچلا جا سکے۔ 

اسلام آباد (اے پی پی) آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی مشرقی ترکستان موومنٹ کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے انتہائی مطلوب دہشت گرد حسن معصوم کو اکتوبر 2003ء میں فاٹا میں ہلاک کیا گیا جبکہ ایک اور دہشت گرد عبدالحق ترکستانی جو مشرقی ترکستان تحریک کا لیڈر بن گیا تھا، کو پاکستانی فورسز نے فروری 2011ء میں ہلاک کیا۔ میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ دہشت گردی کے مشترکہ خطرے کے خلاف آپریشن اور انٹیلی جنس کے شعبہ میں تعاون جاری رہے گا۔

یہ إِس لیے مضطرب کرنے والی خبر ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور مغربی حلیفوں کے ساتھ کشیدہ ہیں اور آڑے وقت میں ہمیشہ پاکستان نے چین کا رُخ کیا ہے، جِس کے ساتھ پاکستان کی ایک پرانی وابستگی ہے اور جِن کے تعلقات ہمیشہ عمدہ رہے ہیں ‘ پاکستان کوئی ایسی بات نہیں ہونے دے گاجِس سے ایسے واقعات کو یا اِس طرح کی تحریک کو مدد ملے: جاوید حسین….گذشتہ روز چین کے صوبے سنکیانگ میں مبینہ مسلم شدت پسندوں نے شہریوں کو نشانہ بنایا جِس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔ چین کے اِس الزام کے جواب میں کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ(ای ٹی آئی ایم)سے منسلک انتہا پسندوں نے پاکستان میں ایک کالعدم تنظیم سے تربیت حاصل کی تھی۔پاکستان نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف چین کے ساتھ بھرپور تعاون کا عزم رکھتا ہے۔پاکستان کے ایک سابق سفیر جاوید حسین نے موجودہ صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ چین میں دہشت گرد عناصر کے خلاف اپنی مدد کا یقین دلایا ہے اور اِس امید کا اظہار کیا  کہ پاکستان اپنی یہ پالیسی جاری رکھے گا۔ پیر کو’وائس آف امریکہ‘ سے بات چیت میں جاوید حسین نے کہا کہ  کافی عرصے سے کچھ لوگ چین کے صوبہٴ سنکیانگ میں چینی حکومت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں’ جِس کی پاکستان  بالکل حمایت نہیں کرتا، اور پاکستان نے ہمیشہ بھرپور طور پر چین کو اپنی مدد کا یقین دلایا ہے‘۔اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان یہ پالیسی جاری رکھے گا۔ جاوید حسین کے بقول، پاکستان کوئی ایسی بات نہیں ہونے دے گاجِس سے ایسے واقعات کو یا اِس طرح کی تحریک کو مدد ملے۔ مبینہ طور پر پاکستان میں تربیت  کے معاملے پر سوال کے جواب میں، اُنھوں نے کہا کہ ’پاکستانی حکومت کو چاہیئے کہ اِن الزامات یا واقعات کی اچھی طرح تحقیقات کی جائے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان سرحد پر کافی ایسے علاقے ہیں جہاں پر نہ افغانستان نہ ہی پاکستان کا کوئی کنٹرول ہے۔ ’ہو سکتا ہے  کوئی ایسی بات ہوئی ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہوئی بھی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ وہ  حکومتِ پاکستان  کے  علم  کے بغیر ہوئی ہے ۔ پاکستان حکومت کے بیان سے لگتا ہے کہ وہ اِس قسم کی چیزوں کو برداشت نہیں کرے گی اور نہ کرنا چاہیئے۔ ایسے تمام اقدامات لینے چاہئیں کہ آئندہ ایسا نہ ہو۔ سیاسی تجزیہ کار پروفیسر رسول بخش رئیس کی نظر میں یہ واقعہ پاکستان کے لیے کچھ اچھی خبر نہیں ہے۔ اُن کے بقول، ’یہ إِس لیے مضطرب کرنے والی خبر ہے کہ پاکستان کے تعلقات امریکہ کے ساتھ اور مغربی حلیفوں کے ساتھ کشیدہ ہیں اور آڑے وقت میں ہمیشہ پاکستان نے چین کا رُخ کیا ہے، جِس کے ساتھ پاکستان کی ایک پرانی وابستگی ہے، اور جِن کے تعلقات ہمیشہ عمدہ رہے ہیں۔ رسول بخش رئیس کے خیال میں یہ کام پاکستان کے دشمنوں کا ہے۔ اِس سلسلے میں اُنھوں نے یاد دلایا کہ  چین کی کمپنیوں اور چین کے شہری جو پاکستان میں بڑے بڑے منصوبوں پر کام کر رہے تھے اُن کو بھی ماضی میں ہدف بنایا جا چکا ہے۔  اُن کے بقول، یہ بھی غالباً   وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو پاکستان اور چین کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کےخلاف جنگ میں  پاکستان نے ہمیشہ چین سے کافی تعاون جاری رکھا ہے اور مستقبل میں بھی رکھے گا۔اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل جنرل پاشا چین کے دورے پرروانہ ہو گئے ہیں۔ اِس استفسار پر کہ اِس  واقعے یا الزام کے پاک چین دوستی  پرکیا نتائج برآمد ہوں گے، رسول بخش رئیس نے کہا کہ منفی اثرات نہیں پڑیں گے، کیونکہ چین کی حکومت اورعوام سمجھتے ہیں کہ پاکستان اِس وقت کافی مشکل صورتِ حال سے گزر رہا ہے اور جہاں پاکستان اپنی جانیں قربان کر رہا ہےوہاں چین کے لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو تاریخ کا ایک مشکل مرحلہ درپیش ہے۔ جِس کے پیشِ نظر ، اُن کے خیال میں، چین کی حکومت تعلقات کو ختم کرنے یا اُن کو نچلی سطح پر لے جانے کا کوئی اقدام کرے گی۔ 

بیجنگ: چین کے مغربی خطے سینکیانگ کے علاقے کاشغر میں تشدد کے مختلف واقعات میں کم از کم15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔تشدد کے حالیہ واقعات اس وقت شروع ہوئے جب دو افراد نے ٹریفک سگنل پر کھڑے ایک ٹرک کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا اور اس کے بعد قریب موجود لوگوں پر چاقوں سے حملہ کر کے مزید6 افراد کو ہلاک کر دیا۔چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس واقعہ میں ایک حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا ہے۔چین کے سرکاری خبر رساں ادارے’’ ژنہوا ‘‘ کے مطابق اس سے پہلے ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک ہو گئے جب کہ پولیس نے فائرنگ کر کے چار مشتبہ افراد کو ہلاک کر دیا۔واضح رہے کہ سینکیانگ میں مسلم آبادی اقلیت میں ہے اور یہاں پر شدید نسلی فسادات بھی ہو چکے ہیں۔ ایک مقامی اہلکار کے مطابق حملہ کرنے والے دونوں افراد اوغر تھے۔سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے ٹریفک سگنل پر کھڑے ٹرک کو اغواء کیا اور اس کے ڈرائیور کو ہلاک کرنے کے بعد ٹرک کو قریب میں کھڑے افراد پر چڑھا دیا اور اس کے بعد ٹرک سے اتر کر لوگوں پر حملے کرنا شروع کر دیے۔خبر رساں ادارے کے مطابق اس موقع پر ہجوم نے حملہ آوروں پر دھاو بول دیا اور ان میں سے ایک کو ہلاک اور ایک کو پکڑ لیا۔سرکاری خبر رساں ایجنسی’’ژنہوا ‘‘ کے مطابق حملہ دو دھماکوں کے بعد ہوا ہے

سائنسی فکشن فلموں اور کہانیوں میں بعض کرداروں کے موجودہ وقت سے سینکڑوں برس قبل کے یا مستقبل کے دور میں جانے کے بارے میں تو آپ نے دیکھا اور پڑھا ہی ہوگا۔ مگر ہانگ کانگ کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایسا ناممکن ہے سائنسی کہانیوں میں کافی عرصے سے وقت میں سفر کا تصور پیش کیا جا رہا ہے اور اس موضوع پر ہالی ووڈ میں تو کافی فلمیں بھی بنائی جا چکی ہیں۔ ایسی ہی فلموں میں سے ایک مشہور ومعروف سیریز اسٹار ٹریک ہے، جس کے کرداروں کو ایک خاص مشین کے ذریعے موجودہ وقت سے آگے یا پیچھے مطلوبہ دور میں بھیجا جا سکتا ہے۔ بیک ٹو دی فیوچر اور کئی دیگر فلموں اور کہانیوں میں اسی طرز کی مشین کو ’ٹائم مشین‘ کا نام دیا جاتا ہے اور موجودہ دور سے پہلے یا بعد کے دور میں جانے کے اس عمل کو ٹائم ٹریول۔ ہانگ کانگ کے ماہرین طبیعیات نے ایک تازہ تحقیق کے بعد کہا ہےکہ واحد فوٹان ذرہ آئن اسٹائن کے اس نظریے کو ثابت کرتا ہے کہ روشنی کی رفتار سے تیز رفتار کوئی اور چیز نہیں ہو سکتی لہذا سائنسی کہانیوں میں پیش کیا جانے والا وقت میں سفر کا تصور ناممکن ہے۔ ایک سائنسی نظریے کے مطابق روشنی پیکٹوں کی صورت میں سفر کرتی ہے اور روشنی کے اس ہر ایک پیکٹ کو فوٹان کا نام دیا گیا تھا۔ ماہر طبیعات ڈو شینگ وانگ کی زیر قیادت ہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تحقیقی ٹیم نے کہا کہ آئن اسٹائن کا دعوٰی تھا کہ روشنی کی رفتار کائنات کی ٹریفک کا قانون ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کوئی چیز روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتی۔ ’’روشنی کا بنیادی ماخذ ایک واحد فوٹان ذرہ کلاسیکی برقی مقناطیسی لہروں کی مانند کائنات کے ٹریفک قانون کی پابندی کرتا ہے۔‘‘ تحقیقی ٹیم نے کہا کہ سائنس دانوں نے دس برس قبل اعلان کیا تھا کہ وقت میں سفر ممکن ہوسکتا ہے۔ یہ سائنسدان اس نتیجے پر اس وقت پہنچے جب انہوں نے کسی مخصوص ذریعے میں بصری لہروں کی روشنی سے تیز رفتار کو دریافت کیا تھا، تاہم بعد میں یہ صرف نظر کا دھوکا ثابت ہوا۔ یونیورسٹی نے کہا:’’تحقیق جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واحد فوٹان ذرات بھی رفتار کی حد کی پابندی کرتے ہیں آئن اسٹائن کے اس نظریے کی تصدیق کرتی ہے کہ کسی سبب سے قبل اس کا اثر ممکن نہیں ہو سکتا۔’’ ٹیم کی تحقیق امریکہ کے سائنسی جریدے فزیکل ریویو لیٹرز میں شائع ہو چکی ہے۔ طبیعیات کے پروفیسر ڈو شینگ وانگ نے کہا کہ ان نتائج سے واحد فوٹان کی معلومات کی حقیقی رفتار پر بحث کا اب خاتمہ ہو جانا چاہیے۔تاہم انسان کے دل میں وقت میں سفر کرنے کی خواہش موجود رہے گی اور سائنسی کہانیوں اور فلموں میں بھی اس موضوع میں کمی نہیں آئے گی۔

ہندوستان نے چین کے ساتھ مشترکہ سرحد پر فوجی تنصیبات میں اضافہ کرنے کافیصلہ کیاہے ۔ ارنا کی رپورٹ کے مطابق اس اسٹرانجیجک پروگرام کےتحت ہندوستان کے شمال مشرقی حصے میں ایس یو تھرٹی طیاروں کے دو اسکواڈرن تعینات کئےجائيں گے اور چھے ہوائي اڈے بھی تعمیر کئےجائيں گے۔ اس وقت ہندوستان کے چوبوا اور تزپور علاقوں میں سوخوئی جیٹ طیاروں کے کئي اسکواڈران تعینات ہیں۔ ہندوستانی فضائيہ کے نائب سربراہ نے کہاکہ چین کے ساتھ ملی سرحدوں کے علاقوں میں فوجی تنصیبات بنانے کا مقصد مستقبل کے خطروں سے مقابلہ کرنا ہے اور یہ کسی ملک کےخلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ہندوستان آئيندہ برسوں میں ڈرون طیارے بھی استعمال میں لائےگا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرداخلہ نے کہا ہےکہ افغانستان اور امریکہ کے اسٹریٹیجیک معاہدے سے افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کو خطرہ لاحق ہے۔ مصطفی محمد نجار نے آج ایران اور افغانستان کی پارلمانوں کے مشترکہ کمیشنوں کے سربراہوں کے اجلاس میں کہا کہ ایران اور افغانستان کے درمیاں دینی اور تاریخی اشتراکات ہیں نیز دونون ملکون کےتعلقات دوستانہ ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایران ، افغانستان میں قیام امن اور استحکام لانے کی غرض سے ہرطرح کی مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران افغانستان کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحدوں کو کنٹرول کرنے کےلئے خطیر رقم خرچ کررہا ہے اور ایران نے مشترکہ سرحدوں پرتقریبا ایک سو چوکیاں قائم کی ہیں۔

عراقي وزير اعظم نوري مالکي نے منگل کے دن بيجنگ ميں چين کے صدر ہوجن تاؤ سے ملاقات کي -دونوں سربراہوں نے اس ملاقات ميں تيل کے شعبے ميں مشترکہ سرگرميوں اور عراق سے چين کو گيس برآمد کئے جانے کے بارے ميں مذاکرات کئے جس کے بعد باہمي تعاون کے دو سمجھوتوں پر دستخط بھي کئے گئے- عراقي وزير اعظم نے چيني وزير اعظم سےبھي ملاقات کي – چيني وزير اعظم نے نوري مالکي سے وعدہ کيا کہ چين عراق کي بنيادي تنصيبات کي تعمير نو کے سلسلے ميں مدد دے گا- واضح رہے کہ عراقي وزير اعظم نوري مالکي اپنے دورہ چين کے دوران شنگھائي بھي جائيں گے- گزشتہ پچاس برسوں کے دوران عراق کے کسي بھي اعلي عہديدارکا يہ پہلا دورہ چين ہے –

امریکہ میں ریپبلیکنز اسرائیل کے ہمسایہ ممالک کے لیے واشنگٹن کی امداد کم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کو ملنے والی امداد کا کنٹرول بھی سخت بنانا چاہتے ہیں۔ ہاؤس کی کمیٹی برائے امور خارجہ نے اکتوبر سے شروع ہونے والے مالی سال کے لیے اخراجات کے بِل میں متعدد نکات اٹھائے ہیں، جن میں اقوام متحدہ کے لیے امریکی معاونت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اسقاطِ حمل کے لیے فنڈنگ پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔ اس کمیٹی پر ریپبلیکنز کا کنٹرول ہے۔ تاہم ان نکات کو قابل عمل بنانے کے لیے ریپبلیکن سینیٹروں کو سینیٹ میں اتفاق رائے تک پہنچنا ہو گا، جہاں صدر باراک اوباما کی ڈیموکریٹک پارٹی کا کنٹرول ہے جبکہ حکمران جماعت اپنی انتظامیہ کے بین الاقوامی منصوبوں کی حمایت بھی کرتی ہے۔ اخراجات کے اس بِل کے تحت مصر میں نئے حکمرانوں نے اخوان المسلمین کو خارج کرنے کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو مکمل طور پر نافذ نہ کیا تو قاہرہ حکومت کو گزشتہ کئی دہائیوں سے ملنے والی سکیورٹی امداد بھی بند ہو جائے گی۔ لبنان، فلسطینی اتھارٹی اور یمن میں حزب اللہ اور حماس جیسی اسلامی شدت پسند تنظیموں کو حکومت بھی کوئی عہدہ ملا تو ریپبلیکنز ان ملکوں کے لیے بھی سکیورٹی معاونت کم کر دیں گے۔ اس بل میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ یروشلم میں منتقل کر لے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے متعدد ممالک کی طرح امریکہ نے بھی وہاں اپنا سفارت خانہ تل ابیب میں قائم کر رکھا ہے۔ ریپبلیکنز کے اس بل کے تحت پاکستان کو دی جانی مالی امداد کا کنٹرول بھی سخت کیا جائے گا۔ ایسا دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے تناظر میں کیا جائے گا۔ اوباما انتظامیہ نے ابھی حال ہی میں پاکستان کو دی جانے والی دو ارب ستّر کروڑ ڈالر کی سالانہ دفاعی امداد کا ایک تہائی حصہ روکنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم واشنگٹن نے پاکستان کو یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ دوہزار نو میں ساڑھے سات ارب ڈالر کے پانچ سالہ سویلین پیکیج پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

چین میں دوسابق نائب میئرز کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ ان دونوں پراختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت لینے کے الزامات ثابت ہو گئے تھے۔چینی عدالت عظٰمی اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں میئر حضرات نے مشرقی چین میں تیزی سے ترقی کرتے ہوئے دو شہروں میں تعمیراتی اور مختلف قسم کے دیگر منصوبوں میں دخل اندازی کی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ٹھیکے اپنے من پسند افراد کو دلانے کے لیے انہوں نے لاکھوں ڈالر رشوت لی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت اس اقدام سے یہ دکھانا چاہتی ہےکہ بدعنوانی کوکسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی  اس طرح کے معاملات میں ملوث کسی بھی شخص کو معاف کیا جائے گا۔عدالت عظٰمی کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کے مطابق شنگ ژو شہرکے سابق نائب میئر Xu Maiyong اور سوجو شہرکے نائب میئرJiang Renjie کو منگل کی صبح پھانسی دی گئی۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے بتایا کہ Xu Maiyong  نے سرکاری منصوبوں میں مداخلت کی اور مختلف افراد اورکمپنیوں کو فائدے پہنچائے، جس کے عوض انہیں تقریباً 22 ملین ڈالر رشوت کے طور دیے گئے۔ اسی طرح دوسرے نائب میئر Jiang نے جائیداد کا کام کرنے والوں سے 108 ملین یوآن رشوت لی۔چین کی کمیونسٹ حکومت ملک سے جرائم اور بدعنوانی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔ اس سلسلے میں وہ سخت سے سخت اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔ چین میں2007ء میں بیجنگ حکام نے شنگھائی میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کو برطرف کر دیا تھا۔ ان کا شمار پارٹی کے طاقت ور ترین افراد میں ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ رواں سال بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے ریلوے کے وزیر کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

چین کے نسلی لحاظ سے تناؤ کے شکار شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں اقلیتی ایغور نسل کے کم از کم 20 مظاہرین کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ بات ایک ایغور جلاوطن گروپ نے منگل کو بتائی۔سرکاری ذرائع ابلاغ نے ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دور افتادہ شہر ہوتان میں ایک ہجوم نے پولیس اسٹیشن پر ہلہ بول دیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔تاہم ایغور سرگرم کارکنوں نے اسے مسلم اقلیت کے عام افراد کی جانب سے غصے کا مظاہرہ قرار دیا اور حکام پر الزام لگایا کہ وہ اس ہلاکت خیز واقعے کی معلومات تک رسائی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جرمنی میں قائم عالمی ایغور کانگریس نے سنکیانگ میں ‌اپنے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بدامنی کے دوران سیکورٹی فورسز نے 14 افراد کو تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دیا، جبکہ مزید چھ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔گروپ کے ایک ترجمان دلکست راکست نے بتایا کہ چینی حکام کو چاہیے کہ وہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے بچانے کے لئے منظم جبر کو فوری طور پر روک دیں۔حالیہ برسوں میں سنکیانگ کا صوبہ تشدد کی لپیٹ میں رہا ہے اور جولائی 2009 میں ایغور باشندوں نے صوبائی دارالحکومت ارمچی میں چین کی اکثریتی ہان نسل کے افراد پر مشتمل گروپ پر پرتشدد حملے کیے تھے۔
راکست نے کہا کہ تازہ ترین واقعے میں ایغور باشندوں کے ایک گروپ نے ماضی میں گرفتار کیے جانے والے اپنے خاندان کے اراکین کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لیے متعدد پولیس افسران کو یرغمال بنانے کی کوشش کی۔اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے شہر کے بارونق بازار کے نزدیک واقع پولیس اسٹیشن کو بھی نذر آتش کر دیا۔ ای میل کی صورت میں بھیجے گئے اپنے بیان میں راکست نے کہا کہ معروف شاہراہ ریشم پر واقع قدیم تجارتی مرکز ہوتان میں صورت حال اس وقت بھی تناؤ کا شکار ہے اور پولیس نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا ہے اور چین مخالف اشتہارات گردش میں ہیں۔وسطی ایشیا سے نزدیک وسیع، بنجر لیکن قدرتی وسائل سے مالا مال سنکیانگ میں اسی لاکھ ترکی زبان بولنے والے ایغور باشندے آباد ہیں۔راکست نے کہا کہ سوموار کے واقعے کے بعد ہوتان میں کم از کم 70 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور حکام دیگر مشتبہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جاپانی وزیراعظم ناؤتوکان نےکہا ہے کہ جوہری توانائی کے استعمال پر انحصار کو سلسلہ وار کم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے جوہری توانائی کا مکمل طور پر خاتمہ ان کا ہدف ہے۔تقریباً چار ماہ گزر چکے ہیں ، جب جاپان میں شدید زلزلے اور سونامی لہروں نے فوکوشیما کے جوہری بجلی گھرکو تباہ کیا تھا۔ تاہم اب جاپانی حکومت نے کہا ہے کہ جوہری توانائی کے بجائے اب قابل تجدید ذرائع سے حاصل کی جانے والی توانائی کے استعمال  پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ٹیلی وژن پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیراعظم ناؤتو کان نے کہا، ’میرا خواب ہےکہ ہم ایک ایسا ملک بن جائیں، جہاں جوہری توانائی کا استعمال  سرے سے ہی نہ ہو‘۔ناؤتوکان نے مزید کہا کہ فوکوشیما کے جوہری پلانٹ کا  حادثہ پوری جاپانی قوم کوایک سبق سیکھا گیا ہے،’ہم صرف حفاظتی انتظامات ہی کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی ایسے حادثات کے رونما ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے‘۔اس سے قبل ناؤتوکان نے جاپان میں توانائی کے منصوبوں کی مکمل جائزہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیراعظم نےکہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجلی کو قدرتی ذرائع اور جیو تھرمل طریقے سے حاصل کیا جائے۔ ان کے بقول کہ اگر سب معاملات طے شدہ پروگرام کے تحت انجام پائے توجلد ہی اس حوالے سے تیار کردہ بل پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔فوکوشیما کے جوہری حادثے کے بعد ناؤتوکان پر ماحول دوست تنظیموں کی جانب سے جوہری توانائی سے دستبرداری کے حوالے سے شدید دباؤ تھا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کان کو اب اپنی جماعت کے ان اراکین کی جانب سے بھی تنقید برداشت کرنا پڑے گی، جو نیوکلیئر پلانٹس کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ جاپان میں ایسے بہت سے حلقے ہیں، جو جوہری توانائی کو اقتصادی شعبے کے لیے اہم سمجھتے ہیں۔ فوکوشیما کے جوہری حادثے کے بعد جاپان کے 54 میں سے 19 نیوکلیئر پاور پلانٹس کو حفاظتی اقدامات کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

کراچی…کون کہتا ہے کہ انگریزی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے؟؟؟ اعداد و شمار تو کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔وکی پیڈیا اور سی آئی اے فیکٹ بک کے مطابق دنیا بھر میں آبادی کے لحآظ سے مقبول ترین دس زبانوں کی لسٹ تیار کی گئی ہے۔جس کے مطابق چینی زبان ،دنیا میں سب سے زیادہ بولی جاتی ہے، دوسرے نمبر پر موسٹ رومینٹک لینگویج اسپینش ہے، اور انگلش زبان، جس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے،ٹاپ ٹین لینگوجز میں تیسرے نمبر پر کھڑی ہے۔خوبصورت زبان،، عربی چوتھے اور اردو الفاظ سے سجی ہندی پانچویں نمبر پر ہے۔بنگالی کا نمبر چھٹا اور پرتگالی کا ساتواں ہے۔روسی آٹھویں ، جاپانی نویں اور جرمن،دنیا بھر میں دسویں نمبر پر سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔

بیجنگ. . . . . . .چین نے کہا ہے کہ پاکستان کے استحکام اورمعاشی ترقی کیلئے اس کی مددکرتے رہیں گے۔ امریکا کی جانب سے پاکستان کی 80 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد کے خاتمے کے بعد چین نے پاکستان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا اور کہا ہے کہ پاکستان چین کا قریبی دوست ملک ہے اسے کسی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہونگ ڑئی نے معمول کی پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان خطے کا انتہائی اہم ملک ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام پاکستان کی ترقی و استحکام سے جڑا ہوا ہے اس لیے چین اس کی ا مدد کررہاہے۔ انھوں نے کہا کہ چین پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے مستقبل میں بھی پاکستان کی مدد کرتا رہے گا۔

کوالالمپور…ملائیشیا میں احتجاجی ریلی سے گرفتار1600مظاہرین کو آج رہا کردیاگیا۔پولیس کی آنسوگیس شیلنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ گزشتہ روزملائیشیا کی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی میں 20 ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے جووزیراعظم نجیب رزاق سے 2012 تک صاف شفاف انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کررہے تھے۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین کوروکنے کیلیے ٹرکوں اور واٹر کینن کے ذریعے سڑکوں کوبلاک کردیاگیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس ، اورکیمیائی پانی کا استعمال بھی کیاگیا جس سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔حکام کے مطابق حراست میں لیے گئے تمام ایک ہزار6سوسرسٹھ افراد کورہا کردیاگیاہے

ٹوکیو . .. . . . . . جاپان میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے جن کی ریکٹر اسکیل پر شدت 7.3 ریکارڈ کی گئی،زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کردی گئی ۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شمالی جاپان میں زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد سونامی وارننگ جاری کردی گئی۔زلزلے کے فوکو شیما ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والے ورکرز کو وہاں سے نکل جانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔مزید تفصیلات موصول ہورہی ہیں

چین میں تین روز سے مسلسل بارش اورسیلاب کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 10 ہوار مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔چین میں تین روز سے مسلسل بارش اورسیلاب کے ساتھ ساتھ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 10 ہوار مکانات تباہ ہوگئے ہیں چین میں تین روز سے مسلسل بارش اورسیلاب سے لوگوں کا جینا مشکل ہوگيا ہے جنوب مغربی صوبے سی چوان میں کا بیسن مسلسل تین دن سے بارش کی لپیٹ میں ہے،جہاں اب تک 3سو ملی میٹر بارش ہوچکی ہے ۔پانی کی سطح الارم لیول سے تجاوزکرگئی ہے۔