اسلامی جمہوری نظام سے مقابلے کے لۓ امریکہ کی نئي حکمت عملی

Posted: 11/12/2011 in African Region, All News, Articles and Reports, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, USA & Europe

ان دنوں امریکہ کے ایران مخالف اقدامات میں وسعت آگئی ہے ۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے  بی بی سی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوۓ اس سلسلے میں ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے اور ایران کے داخلی مسائل کا ذکر کرتے ہوۓ دعوی کیا ہےکہ امریکی حکومت ایرانی عوام کی حمایت کرتی ہے۔ ہلیری کلنٹن نے کہا کہ واشنگٹن بقول ان کے ایرانیوں کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کے لۓ  ایک آن لائن سفارت خانہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ ایرانیوں کے لۓ امریکی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے اور امریکہ آنے کے لۓ ویزہ حاصل کرنے سے متعلق معلومات فراہم کرنےکا آسان راستہ ہموار کرسکے۔ امریکی وزارت خارجہ نے دوسرے ممالک کے امور میں مداخلت کا یہ نیا دروازہ کھول کر منگل کے دن اعلان کیا کہ ویب سائٹ پر ایران میں امریکہ کا آن لائن سفارت خانہ قائم کردیا گيا ہے جو ایران اور امریکہ کے درمیان اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد  براہ راست تعلقات کے منقطع ہونے کے بعد اب ایرانی عوام اور امریکہ کے درمیان ایک پل کا کام دے سکتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے امریکہ کے اس اقدام کے خلاف اپنا ردعمل ظاہرکیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے اس طرح کے اقدامات کو پرفریب قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ان اقدامات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ امریکی حکومت اس بات کی معترف ہے کہ اس نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرکے اور ملت ایران سے روگردانی کر کے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ اس کے ساتھ رامین مہمان پرست نے یہ بھی کہا ہےکہ امریکی حکومت کے اس طرح کے اقدامات سے نہ تو اس غلطی کا ازالہ ہوگا اور نہ ہی جیسا کہ کہا گیا ہے امریکہ کا پیغام ملت ایران تک منتقل ہوگا۔ رامین مہمان پرست نے امریکی حکومت کو نصیحت کی کہ وہ ماضی سے سبق سیکھ کر ایران کی عظیم ملت کے سلسلے میں نیک نیتی کے ساتھ اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں لاۓ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے گزشتہ بتیس برسوں کے دوران اسلامی بیداری کے مرکز اسلامی جمہوری نظام کو نقصان پہنچانےکی بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ امریکی حکام ایسی حالت میں اپنے آپ کو ایرانی عوام کا ہمدرد ظاہر کرنے اور اپنے خیال باطل کےمطابق اسلامی نظام اور عوام کے درمیان فاصلہ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ جب وہ ملت ایران کے خلاف کی جانے والی بہت سی سازشوں اور دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہیں۔ اب بھی امریکی وزارت خارجہ نے آئن لائن سفارت خانے کے قیام اور اس کے جواز کے سلسلے میں کہا ہے کہ تمام اعتراضات اور مخالفتوں کے باوجود امریکہ بقول ان کے ایرانی عوام اور ایرانی معاشرے کے ساتھ رابطہ برقرار کرنے کی اپنی کوشش جاری رکھے گا۔ حقیقت یہ ہےکہ ملت ایران کے ساتھ براہ راست مقابلے میں ناکامی کے بعد امریکی حکام اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ان کو ایران کے عوام اور نظام کے درمیان اختلافات ڈال کر ایران کو اندر سے کھوکھلا اور کمزور کرنے کے نظریۓ پر عمل کرنا چاہۓ۔ واضح رہے کہ امریکہ پہلے بھی اپنی اس طرح کی کوششوں میں ناکام ہوچکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام کہ جسے امریکی وزارت خارجہ کے حکام آن لائن سفارت خانے سے تعبیر کررہے ہیں بین الاقوامی تعلقات اور حقوق میں غیر قانونی اقدام شمار ہوتا ہے اور واضح سی بات ہےکہ  ایران اس کے خلاف قانونی کارروائی پر مبنی اپنا حق محفوظ سمجھتا ہے۔

Comments are closed.