پاکستان، ایران و افغانستان امریکی نشانے پر

Posted: 22/02/2012 in All News, Articles and Reports, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

برطانیہ اور بیرون ملک مقیم پاکستانی جو امریکہ کیلئے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتے تھے، اس امریکی کانگریس میں کیلی فورنیا کے ڈینا روہراباکو کی طرف سے پہلے تو ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے تحت بلوچستان پر عوامی سماعت کرانے اور بعدازاں قرارداد پیش کرنے پر سخت صدمہ پہنچا ہے، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلوچ جو ایک قوم ہیں، پاکستان افغانستان اور ایران میں منقسم ہیں ان کو اپنا حق خودارادیت اور علیحدہ ملک بنانے کا اختیار ملنا چاہئے، اگرچہ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد حکومت کی پالیسی نہیں اور وہ پاکستان کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، لیکن اہل نظر بخوبی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر ہورہاہے، جو بیک وقت اس مسئلے کے ذریعے پاکستان، ایران اور افغانستان کو اپنا نشانہ بنارہی ہے، بلوچستان اور خصوصاً گوادر کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی طور پر اہم مقام کی حامل ہے، میاں امریکہ نے اپنے مستقبل کے حریف چین کے اثر و نفوذ سے بھی نہایت خوفزدہ ہے اب وہ بلوچستان کو ایک آزاد ملک بنواکر یہاں اپنا اڈہ بنانے کا خواہاں ہے، چین کی پیش قدمی کو روکنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ چین کے دوستوں کو کمزور کیاجائے اور اس کے دشمنوں کو مضبوط بنایاجائے، اس پالیسی کے تحت پاکستان کو توڑنے اور بھارت کو ہر قسم کی سہولیات مثلاً انرجی اور ہائی ٹیکنالوجی دے کر طاقتور بنانے کی کوشش کی جارہی ہیں، اسی پالیسی کے تحت امریکی دانشور پاکستان کے ٹوٹنے کی پیش گوئیاں کرتے رہے ہیں، ان پیش گوئیوں کا مطلب یہ ہوتاہے کہ اب یہ لوگ کسی ملک کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں اور وارننگ دی جارہی ہے کہ ہماری باتوں کو بلا چوں چراں تسلیم کرلیاجائے، بصورت دیگر ہم تمہارا یہ حشر بھی کرسکتے ہیں، اس سازش میں بھارت اور اسرائیل پوری طرح امریکہ کے ساتھ ہیں، بلوچستان میں جو کچھ ہورہا ہے یقیناً اس میں ہماری اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں بھی شامل ہیں، 58, 73, ء کی بغاوتوں کے اسباب کا سدباب نہ کیاگیا اور اب حال ہی میں سابق صدر مشرف نے قبر میں ٹانگیں لٹکائے اکبر بگٹی کو جس طرح ہلاک کیا، اس سے پاکستان دشمن قوتوں کو جلتی پر تیل ڈالنے کا موقع ملا ہے، پاکستانسیٹو اورسینٹو میں صرف بھارت کے خوف اور جارحانہ ارادوں کے باعث شامل ہوا تھا، لیکن 65ء اور71ء کی جنگوں میں امریکہ کا جو کردار رہا، اس سے دوستی کے تمام دعووں کی قلعی کھل گئی، 9/11 کے بعد کی جنگ جو بیشتر حلقوں کے نزدیک پاکستان کے مفادات کے خلاف تھی، اس میں ہمیں پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکیاں دے کر زبردستی شامل ہونے پر مجبور کیاگیا، اس بارے میں دونوں ممالک کے مفادات مختلف تھے، جس پر دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ٹکراؤ ناگزیر تھا، اب جب کہ امریکہ ایک طرح سے ناکام ہوکر اس علاقے سے واپسی تیاریوں میں مصروف ہیں، اپنا تمام ترغصہ پاکستان پر نکال رہاہے، مختلف طریقوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے اور وسیع تر آزاد بلوچستان کی آڑ میں ایران کو بھی نقصان پہنچانا چاہتاہے، ایرانی قوم کو امریکی چالوں کو عرصے دراز جانتی ہے اور امریکہ کو شیطان بزرگ کے نام سے پکارتی ہے وہ اسے دنیا کا پولیس مین نہیں بلکہ بدمعاش کہتے ہیں، امریکہ دنیا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹم بم چلاکر بے تحاشا تباہی پھیلائی، بعد میں کوریا، ویت نام، عراق اور افغانستان اور دنیا کے دیگر کوئی ممالک میں لاکھوں بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، اپنے حامی ڈکٹیٹروں کو تحفظ دیتا رہا اور مخالفین کی حکومتوں کو سی آئی اے کے ذریعے گرایا، اس کو بلوچستان کے عوام کا حق خودارادیت تو واضح طرز پر نظر آگیا ہے،مطالبہ اگرچہ بلوچستان کی جمہوری طور پر منتخب اسمبلی نے بھی نہیں کیا، امریکہ کو بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر راتو کو نیند نہیں آرہی، لیکن اس کو نہ تو ایک لاکھ سے زیادہ افراد کی قربانیاں دینے والے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مسئلہ نظرآیا اور نہ ہی اسے فلسطین میں انسانی حقوق کی کسی خلاف ورزی کا علم ہے اور انسانی حقوق کی بات وہ ملک کررہاہے، جسکے فوجیوں نے حال ہی میں افغانستان میں مردہ افغانیوں کی لاشوں پر پیشاب کیا، عراق کی ابو غریب جیل میں عراقیوں پر کتے چھوڑے اور لاشوں کی بے حرمتی کی اور گوانتاناموبے میں جو کچھ کیا اس پر خود امریکہ میں انسانی حقوق کی تنظیمیں ماتم کررہی ہیں۔

Comments are closed.