Archive for the ‘Advertise Religious’ Category

پیغمبر(ص) اسلام نے فرمایا: فاطمہ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور فاطمہ (س) کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ،فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی اور مجھے اذیت پہنچانے والا جہنمی ہے۔حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ حضرت فاطمہ زہرا (س) کے اوصاف وکمالات اتنے بلند تھے کہ ان کی بنا پر رسول خدا(ص) حضرت فاطمہ زہرا (س) سے محبت بھی کرتے تھے اور عزت بھی کرتے تھے ۔ محبت کا ایک نمونہ یہ ہے کہ جب آپ کسی غزوہ پر تشریف لے جاتے تھے تو سب سے آخر میں فاطمہ زہرا سے رخصت ہوتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تھے تو سب سے پہلے فاطمہ زہرا سے ملنے کے لئے جاتے تھے . اور عزت و احترام کا نمونہ یہ ہے کہ جب فاطمہ(س) ان حضور کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپ تعظیم کے لئے کھڑے ہوجاتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے . رسول کا یہ برتاؤ فاطمہ زہرا کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ نہ تھا۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر(ص) کی نظر میں:
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں آنحضور صلی اللہ علیہ والیہ وسلم سے بیشمار روایات اور احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں چند ایک یہ ہیں۔
فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں۔
آپ بہشت میں جانے والی عورتوں کی سردار ہیں۔
ایما ن لانے والی عوتوں کی سردار ہیں ۔
تما م جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
 آپ کی رضا سے اللہ راضی ہوتا ہے اور آپ کی ناراضگی سےاللہ ناراض ہوتا ہے ۔
 جس نے آپ کو ایذا دی اس نے رسول کو ایذا دی۔

حضرت فاطمہ زہرا(س) کی وصیتیں:
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں ، آپ کی چچی(جعفر طیار(رض) کی بیوہ) اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسما(رض) نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو. اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں۔ اور پیغمبر کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ اپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے . مورخین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی جنازہ جو تابوت میں اٹھا ہے وہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا تھا۔ ا سکے علاوہ آپ نے یہ وصیت بھی فرمائی تھی کہ آپ کا جنازہ شب کی تاریکی میں اٹھایا جائے اور ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جن کے طرزعمل نے میرے دل میں زخم پیدا کر دئے ہیں۔ سیدہ ان لوگوں سے انتہائی ناراضگی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔
شہادت:
حضرت فاطمہ (س) نے اپنے والد بزرگوار رسولِ خدا (ص)کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی سن ۱۱ہجری قمری میں شہادت پائی . آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا . صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی(رض)، مقداد(رض) و عمار(رض) جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا۔ پیغمبر اسلام (ص)کی پارہ جگر حضرت فاطمہ زہرا(س) کی قبر مبارک آج تک مخفی ہے جو ان کے خلاف خلیفہ وقت کے ظلم و ستم کا مظہر ہے۔

Advertisements

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے یومِ شہادت دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین وارث زہراء سلام اللہ علیھا حضرت بقیتہ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور پوری امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا    کہ حضرت سیدہ الزھراء سلام اللہ علیھا جنھوں نے ایک بیٹی، شریکہ حیات اور ماں کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری خواتین اپنے اندر حضرت فاطمہ الزھراء جیسی استقامت پیدا کریں اور تربیت اولاد میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوں جن کی مدد سے معاشرے کو ایسے افراد میسر آ سکیں جن کی رگوں میں حریت حسینی لہو بن کے دوڑتی ہو۔انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع جہاں اہلِ بیت رسول و اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے اور اسے عوام الناس کے لئے کھولا جائے۔

ایس یو سی کے زیراہتمام منعقدہ علماء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ اسلام سلامتی و امن کا درس دیتا ہے، دہشتگردی کو مذہب کے ساتھ نتھی کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، دہشتگرد انسانیت دشمن درندے ہیں، حکومت سخت ایکشن لے۔شیعہ علماء کونسل کے زیراہتمام وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ “علماء کانفرنس” سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب و مسلک نہیں، وہ صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، حکومت دہشتگردی کے خلاف صحیح معنوں میں ایکشن لے کر دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائے۔ اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے، غیر ملکی قوتیں اُمت مسلمہ میں فتنہ ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں، ایم ایم اے اتحاد اُمت کی طرف اچھا اقدام تھا، مستقبل میں ایسی کوششوں کو جاری رکھا جائے، آمدہ الیکشن میں علماء کرام بھرپور کردار ادا کریں اور متحرک ہو جائیں۔ علماء کرام کا کہنا تھا کہ تمام مسالک باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھیں، علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہیں، اس موقع پر تحریک جعفریہ پاکستان سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس میں علامہ سید ساجد علی نقوی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، علامہ شیخ محسن علی نجفی، وزارت حسین نقوی، علامہ شیخ محمد حسین نجفی، علامہ افتخار نقوی، علامہ رمضان توقیر، علامہ افضل حیدری، علامہ تقی نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، علامہ ظفر عباس شہانی، علامہ آغا عباس رضوی، علامہ عبدالجلیل نقوی، علامہ امین شہیدی، علامہ جمعہ اسدی، علامہ مہدی نجفی، علامہ شہنشاہ نقوی، علامہ شبیر میثمی، مفتی کفایت حسین نقوی اور علامہ عارف واحدی، علامہ احسان اتحادی سمیت دیگر علمائے کرام نے بھی خطاب کیا۔  علماء کرام نے کانفرنس سے خطاب کے دوران مقرریں کا کہنا تھا کہ دہشتگرد صرف دہشتگرد ہے، اس کا کسی مذہب و مسلک سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی چاہے بازار میں ہو، سکول میں ہو، تھانہ یا مسجد و امام بارگاہ میں، اس میں معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیائع ہوتا ہے اور اسلام کسی ایک انسان کے قتل کو بھی پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مذموم سازش کے تحت دہشتگردی کو اسلام سے نتھی کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہے، جبکہ اسلام رواداری کا درس دیتا ہے۔
مقررین نے کہا کہ دہشتگرد کی تعریف اتنی ہی کافی ہے کہ وہ صرف اور صرف انسانیت دشمن وحشی درندے ہیں، جن کا کام معصوم لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہے۔ شرکاء نے ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکمران دہشتگردوں کے خلاف موثر کارروائیاں نہیں کر رہے، جبکہ جن دہشتگردوں کو پکڑ کر سزائیں دی جا چکی ہیں انہیں بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا رہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انسانیت دشمن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے، تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ کانفرنس میں کوئٹہ، گلگت، بلتستان، پارہ چنار، کراچی، پشاور،خانپور سمیت پورے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرے۔ اس موقع پر مقررین نے کہا کہ غیر ملکی عناصر بھی ملک میں منافرت پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں، اس سلسلے میں بھی علماء کرام بھی اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اتحاد کا مظاہرہ کریں، کیونکہ جتنی ضرورت اتحاد کی آج ہے اس سے قبل نہ تھی، مقررین نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل ملک میں اتحاد اُمت کی طرف اچھی پیش رفت تھی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی کوششوں کی ضرورت ہے۔ علمائے کرام ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہو جائیں اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر مقررین نے تمام مسالک کے باہمی احترام پر بھی زور دیا کہ باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر آگے کی طرف گامزن ہوا جائے۔  اس موقع پر سیاچن میں دبے فوجی جوانوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ علمائے کرام کے ہزاروں کے اجتماع نے علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ قدم بڑھائیں، ہمیں اپنا ہم رکاب پائیں گے، اس موقع پر علماء کرام نے تحریک جعفریہ پاکستان سے حکومت کی طرف سے عائد پابندی اُٹھانے کا بھی پُر زور مطالبہ کیا۔

دہشتگردی کیخلاف منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ کی طرف جانے والی ریلی علامتی مارچ تھا، حکمران ملک میں جاری دہشت گردی کو روکیں ورنہ اگلے مرحلے میں ایسا مارچ کریں گے جس سے حکومتی ایوان ہل جائیں گے، سانحہ کوہستان ہو یا سانحہ چلاس، کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ ہو یا کراچی و پارا چنار میں قتل عام، یہ گھمبیر صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک ایک قتل گاہ ہے، جہاں جنگل کا قانون ہے اور کوئی پرسان حال نہیں، ہم ذمہ داروں پر حجت تمام کر چکے ہیں۔ ایسی سنگین صورتحال میں کسی بڑے اقدام کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا ۔لہذا ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں جا کر حالات کی سنگینی سے آگاہ کریں اور انہیں متحد و بیدار کریں، تاکہ اس ظلم و نا انصافی کے ازالے کیلئے اقدام کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں علمائے کرام کی احتجاجی ریلی سے قبل منعقدہ علماء کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ مکتب تشیع دین اسلام کی سب سے ارفع و اعلٰی تعبیر و تشریح کا نام ہے۔ ہم تمام مکاتب اور مسالک کے احترام کے قائل ہیں اور اُمت مسلمہ کا ایک باوقار اور طاقتور حصہ ہونے کے ناطے اسلام و مسلمین کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر میدان عمل میں ہیں اور دور حاضر میں غیر اسلامی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اصلاح معاشرہ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر جیسے فریضے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے آگاہ علمائے کرام کی بھر پور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ آخر قاتلوں کو کھلی چھٹی کون دے رہا ہے؟ دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟ یہ کہاں پلتے ہیں؟ رول آف لاء کیوں نہیں قائم ہوسکا؟ ان حالات میں ناگزیر ہے کہ قاتلوں کے خلاف بھر پور آپریشن کیا جائے ہم اس حوالے سے ہر باضمیر شخص، ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان سے رابطے کر کے مکمل بریفنگ دی جائے گی۔

ایم ڈبلیو ایم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سب اس پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں۔ مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ تمام شیعہ گروہ اور تنظیمیں ملکی وقار اور تشیعُ کی سربلندی کیلئے ایک ہو کر آواز بلندکریں، ملی یکجہتی کا اظہار، وقت کی اہم ضرورت ہے، تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مکتب تشیع کے حقوق کی بازیابی کیلئے پیروان ولایت کو ولایت فقیہ کی سرپرستی میں آگے بڑھنا ہو گا، تمام نوجوان علماء کو بزرگ علماء کا احترام کرنا چاہئے اور یہ اُن کا فرض بنتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بزرگ علماء بھی دست شفقت بڑھاتے ہوئے نوجوانوں کی غلطیوں سے درگزر کریں۔ انہوں نے کہا کہ چار سے سال سے ہم میدان عمل میں ہیں، ہم اس وقت میدان میں آئے جب ملت میں جمود تھا، ملت تشیع کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی تھی، لیکن آج الحمداللہ ملی بیداری کا سفر شروع ہو چکا ہے، کراچی میں نشتر پارک کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے عوامی سمندر نے دشمن کو بتا دیا کہ ہم ایک ہیں، علماء کانفرنس میں جس بڑے پن کا مظاہرہ کیا گیا اسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، اب یہ بیداری عمل آگے تیزی سے بڑھ رہا ہے، تمام علماء کو چاہئے کہ وہ اپنی صفوں میں ان افراد پر نظر رکھیں جو ملی اور قومی یکجہتی کو سبوتاژ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ سلیقے اور کام کرنے کا اختلاف ہو سکتا ہے، یہ اختلاف مدارس میں، علماء میں، ہر جگہ موجود ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی کسی کی ضد میں کام کر رہا ہے، ملت تشیع کے وقار کی خاطر جس سے جو ہوپا رہا ہے وہ کر رہا ہے۔ علماء کانفرنس میں شریک تمام علماء کو یکم جولائی کو مینار پاکستان کے سائے تلے قرآن سنت کانفرنس کی دعوت دیتے ہوئے علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ تمام علما کو دعوت دی جاتی ہے کہ یکم جولائی کے پروگرام میں شریک ہوں اور پیروان ولایت کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے اظہار یکجہتی کریں اور دشمن پر ثابت کریں کہ ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک جگہ جمع ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ دشمن نے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش تیار کی اور ہمیں ایک دوسرے کیخلاف کھڑے ہونے کیلئے مختلف ہربے استعمال کئے، لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ یہ قوم ایک بار پھر متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلوں کو صاف کرنا ہو گا، کینے اور بغض کو نکال کر ایک دوسرے کیلئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے احترام کے رشتہ کو مضبو ط بنانا ہو گا۔ جو لوگ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، ہمارے درمیان پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں اُن افراد پر گہری نگاہ رکھنا ہو گی۔ کچھ ناداں دوستوں کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔ ان ناداں دوستوں پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

لندن: مجلس علمائے شیعہ یورپ کے چار رکنی وفد نے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن سے ملاقات کی ہے۔وفد کی قیادت مجلس کے صدر سید علی رضا رضوی نے کی۔ اس موقع پر واجد شمس الحسن نے پاکستان میں ان کی کمیونٹی کے ممبروں کے قتل پر سخت تشویش ظاہر کی۔ وفد نے تین نکاتی سفارشات غور کے لئے حکومت کو پیش کیں۔ حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ گلگت میں کرفیو کی پابندیاں ختم کرے۔سازشی عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے،نشانہ بننے والوں کے اقارب کو معاوضہ ادا کیا جائے۔ واجد شمس الحسن نے کہا کہ حکومت پاکستان شہریوں کی جان، مال اور آبرو کے تحفظ کی پابند ہے۔

کراچی: کاروان آل یٰسین کے زیر انتطام ”عظمت حج و زیارات کانفرنس“ برائے شیعہ زائرین اور حج آرگنائز ر کا انعقاد بھوجانی حال میں کیا گیاجس میں حجاج، زائرین اور حج آرگنائزر کی کثیر تعدا د نے شرکت کی ، گو کہ اس قسم کی کانفرنس کا انعقاد پاکستان اور خاص کر کراچی میں پہلی مرتبہ کیا گیا ہے ، پہلی مرتبہ کے حساب سے کانفرنس متوقع امید سے کئی گناہ زیادہ کامیاب ہوئی جس میں شہر کراچی میں بسنے والے مومنین اور مومنات کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور اس کے ساتھ ساتھ شہر کی مقتدر اورمعزز شخصیات کے علاوہ علماءکی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض پروفیسرر انور زیدی نے انجام دئیے اور مختلف علماءحضرات مولانا محمد علی امینی، مولانا اصغر مشہدی،مولانا عبداللہ رضوانی،، علامہ باقر زیدی، علامہ جعفر رضا نقوی ،زوار صاحب اور کاروان آل یٰسین کے روح روان اورچیف آرگنائزر عابد رضوی صاحب کے علاوہ دیگر نے بھی خطاب کیا اور حج کی اہمیت، مقصد، حج کا فلسفہ، روحانی ثمرات اس کے علاوہ حج کی تیاری ، بکنگ ، قیام گاہ ، حج کے مختلف ارکان کی ادائیگی کے بارے میں مفصل اور سحر انگیز خطاب کیا ۔علماءو مقررین مقصد حج بیان کرتے ہوئے بتایا کہ حج وہ واحد عبادت ہے جو صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے اور اس خواہش کا اظہارخود خدا نے کیا ہے کہ تمام مسلمان اس کے گھر کا حج کریںجو استطاعت رکھتے ہیںنیزحج و زیارات کا ہدف یہ ہے کہ انسان زندگی کے ہر پہلو میں اللہ کی مصلحت پر راضی ر ہےں۔اس موقع پرعلامہ و ذاکریں حضرات نے خطاب میں جنت البقیع مصائب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنت البقیع وہ مقام ہے جہاں نہ دن میںکوئی سایہ ¿ ہے اور نہ رات کی تاریکی میں کوئی اُجالا ہے۔آخر میں کاروان آل یٰسین کے چیف آرگنائزر عابد رضوی خطاب میں کہا نے اس عظمت حج و زیارات کانفرنس میں شرکت کرنے والے حجاج،زائرین اور حج آرگنائز ر کی اس کثیر تعداد میں شرکت کاروان آل یٰسین کی معیاری اور پُر خلوص خدمات پر ان کے اعتماد ثمر ہے جس پر کاروان آل یٰسین اور ان کی پوری ٹیم شکریہ اداکرتی ہے۔اس عظمت حج و زیارات کانفرنس کی مناسبت سے کاروان آل یٰسین نے قرآن و عترت فاﺅنڈیشن کے صدر جناب خاور صاحب کے تعاون سے حج ، عمر و زیارات کے حوالے سے سی ڈی کے اسٹال بھی لگائے تھے جن میں حج کے عنوان سے سی ڈیز وغیرہ حجاج ، مومنین اور حج آ رگنائز ر کے لیے نہایت مناسب ہدیے پر دستیاب تھی جن میں شرکائے کانفرنس نے گہری دلچسپی کا اظہار کیااور کاروان آل یٰسین کی اس کاوش کو ثمر آور قرار دیا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: نیا سال ملک کی برق رفتار حرکت کے لئے عزم و ہمت اور امید نشاط کی راہ ہموار کرتا ہے اور ملکی اشیاء کے استعمال پرنشریاتی اور تبلیغاتی اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  کل منگل کی سہ پہر کوملک کی تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں تمام حکام کوقومی پیداوار اور اس کی حمایت کے سلسلے میں سنجیدہ تلاش وکوشش ، ہمدلی،ہمفکری اور باہمی تعاون پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: نیا سال اور عید ملک کی برق رفتار پیشرفت و ترقی، قومی اور اندرونی پیداوار کے سلسلے میں عظیم اور سنجیدہ قدم اٹھانے کا نیا حوصلہ، امید ، نشاط اور ہمت عطا کرتا ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے حکام کے لئے  نئی سال کی خوشی اور مبارک بادی کو اسلام کے راستے پران کے گامزن رہنے اور ذمہ داری کو اچھی طرح انجام دینے سے منسلک قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر حکام اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ تلاش و کوشش کے ذریعہ  اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کریں تو یقینی طور پرسال عوام کے لئے بھی مبارک کا باعث  ہوگا۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس سال کو قومی پیداوار،کام اور ایرانی سرمایہ کی حمایت کے عنوان سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک  کی اعلی اہداف کی جانب موجودہ پیشرفت، موجودہ وسائل و شرائط اور اسی طرح  اقتصادی مسائل پر اسلامی نظام کےدشمنوں کی توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی پیداوار کی حمایت موجودہ شرائط میں ایک اہم ضروری امر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے دشمنوں اور معاندوں کی وسیع تلاش و کوشش کے باوجود، ملک کے حکام اورجوان اپنے عزم و ایمان و ہوشیاری و شناخت  اور اسی طرح سرعت عمل ، اندرونی توانائیوں و تمام وسائل کو بروی کار لا کرایک بار پھر دشمنوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی  نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی محاذ کی کوششوں کے ناکام ہونے کی واضح دلیل  اور گذشتہ 30 برسوں سے اسلامی نظام کے خلاف اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کی ناکامی ایران کی روز افزوں  طاقت اور پیشرفت کا مظہر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی حمایت  اور دشمنوں کے شوم منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان ہمدلی اور تعاون کو ضروری قراردیا اور قوہ مقننہ اور مجریہ کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: آج ملک کو مختلف شعبوں میں تلاش و کوشش، نوآوری اور خلاقیت کی ضرورت ہے اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے حکام بالخصوص حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان تعاون اور ہمفکری  بہت ضروری ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراج، رجعت پسند، بڑے سرمایہ داروں ، مفسدوں، دنیا کے سیاہ چہروں اور ان کے پیچھے چلنے والے سست عناصر کے متحدہ محاذکو اسلامی نظام کے مد مقابل قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کو شکست دینے کے لئےگذشتہ 30 برسوں میں کئی بار یہ محاذ تشکیل پاچکا ہے اور ہر بار اس شیطانی محاذ کو شکست ہوئی اور وہ اپنے طے شدہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کے معاندوں اور مخالفوں کی شکست کی ایک بڑی وجہ ملک میں اندرونی سطح پر باہمی اتحاد اور یکجہتی رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی عملی حمایت پر تاکید اور اس سلسلے میں حکومت و پارلیمنٹ کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حکومت اور پارلیمنٹ  کو قومی پیداوار کے لئے باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدام اٹھانے چاہییں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں غیر ملکی اشیاء سے استفادہ کے طریقہ کار کو غلط قراردیا اور داخلی اشیاء کے مصرف کی تبلیغات میں ریڈيواور ٹی وی کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملکی  مصنوعات کے استعمال کی ثقافت کو فروغ دینے کے سلسلے میں ریڈیو اور ٹی وی اہم نقش ایفا کرسکتے ہیں اور اس معاملے کے سماجی ، ثقافتی اور دیگر پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے گہرا مطالعہ اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں آئی آر آئی بی کے ادارے اور دیگر تبلیغاتی اداروں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر تمام حکام کوشوق و نشاط، امید اور باہمی تعاون کے ہمراہ صبر و استقامت، تلاش وکوشش  اور اللہ تعالی سے امداد طلب کرنے کی سفارش کی۔

العالم کی رپورٹ کے مطابق الازہر یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ بزرگان اسلام بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔مصر کی الازہر یونیورسٹی کے سربراہ شیخ الازہر نے شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان گفتگو کو مغرب کے ساتھ اسلام کے ڈائیلاگ سے زیادہ اہم قرار دیا ہے۔ العالم نے شیخ الازہر احمدالطیب کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ بزرگان اسلام  بےدین مغرب اور عیسائیوں سے بات چیت کرتے ہیں لیکن کیا یہ مناسب نہيں کہ شیعوں اور سنیّوں کی بزرگ شخصیات ایک دوسرے سے گفتگو کریں۔ شیخ الازہر نے کہا کہ شیعہ، مسلمان ہيں اور ان کا اسلام بھی اہلسنت کا اسلام ہے اور اہلسنت اور شیعہ صرف چند معمولی مسائل میں اختلافات رکھتے ہيں۔ احمدالطیب نے مزید کہا کہ الازہر شیعہ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو کا سلسلہ جاری رکھے گا کیونکہ شیعوں اور سنیوں کا اختلاف اصول دین میں نہيں ہے بلکہ صرف فروع دین میں ہے۔ الطیب نے کہا کہ الازہر کی نظر میں شیعوں اور سنّیوں کے درمیان کوئی فرق نہيں ہے کیونکہ یہ دونوں اسلامی فرقے کلمہ شہادتین کے قائل ہيں۔ دیگر ذرائع نے بھی کہا ہے کہ العالم کی رپورٹ کے مطابق شیخ الازہر احمد محمدالطیب نے انتہا پسندوں کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر بعض الزامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نماز میں شیعوں کی اقتداء کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق احمدالطیب نے شیعہ سنی اختلاف کو مسترد کرتے ہوئے کہ جس کے با‏عث بعض افراد شیعوں کو کافر کہتے ہیں کہا کہ شیعہ سنی اختلافات چندجزئی چيزوں تک محدود ہیں اور بعض افراد کا یہ دعوی کہ شیعوں کا قرآن اہل سنت کے قرآن سے مختلف ہے، یہ باتیں  بےبنیاد ہیں۔ روزنامہ المصریون کے مطابق شیخ الازہر شیعہ اور سنی نظریات کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ حزب اللہ لبنان نے شیعہ مسلمانوں کے بارے ميں شیخ الازہر کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ملت جعفریہ کے قانونی مشیر شہید عسکری رضا کا چہلم پر دفاع تشیع کانفرنس ۱۸ فروری کو امروہہ گراونڈ میں منعقد ہوگی ۔  نامہ نگار کی خبر کے مطابق کانفرنس کا اہتمام شیعان علی پاکستان نے کیا ہے ۔ کانفرنس کا مقصد شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی کی مذمت کرنا ہے ۔ کالعدم سپاہ یزید کے دہشت گردوں شہید عسکری رضا کو ۳۱ دسبر ۲۰۱۱ کی شام گلش چورنگی پر شہید کیا تھا ۔ ان کا چہلم اور کانفرنس سے متعلق سیکڑوں بینرز اور پوسٹر شہر کراچی میں آویزہ کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کے شہر کراچی میں گزشتہ چھ ماہ میں پانچ وکلاء بشمول ایڈوکیٹ مختار بخاری شہید کیے جاچکے ہیں ۔اس موقع پر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ملت شیعان پاکستان اور اس کے تمام ذمہ دار احباب اور مقتدر سیاسی و سماجی شخصیات اور تنطیموں نے اب تک سوائے زبانی کھوکلے نعروں اور اخباری بیانات کے سوا کو بھی خاطر خواہ اقدام نہ کیا کیونکہ ذمہ دار حلقوں کو ملت کی افرادی قوت اس کی فلاح و بہبود اور وسائل کے حقیقی تعمیری استعمال سے کوئی سروکار نہیں۔ انتہائی دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ملت شیعان پاکستاں کے زمہ دار حلقے صرف اور صرف ہر وہ کام انجام دیتے ہیں جس میں نمودو نمائش زیادہ سے زیادہ ہو، ان کے پاس اپنی ملت کی تعمیر و تربیت کے ثمرات کو ملت کے ہر فرد تک پہنچانے کے لیے کوئی خاظر خواہ راہ عمل نہیں ہےحد تو یہ ہے کہ اگر کوئی شیعہ اپنے بچوں کو کسی شیعہ اچھی اسکول میں تعلیم نہیں دلوا سکتا کیوں کہ ان معیاری شیعہ اسکولوں کی فیسیں ہی اتنی زیادہ ہیں کہ عام شعیہ گھرانے کے بس میں نہیں ہے جس کے سبب سے ملت کے بے شمار شیعہ گھرانے اپنے بجوں کو گورنمٹ یا اور دیگر نجی پرائیوٹ (اہلسنت کے) اسکولوں میں تعلیم دلوانے پر مجبور ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے شعبے تنزلی کا شکار ہیں، خدارہ اجتماعیت کو فروغ دیجئے، حقیقت بینی سے کام لیتے ہوئے سوچے، اتحاد قائم کریں، اس کی روشن مثال ہمارے سامنے خوجہ شیعہ عثاء عشری جماعت کی ہے کہ انھوں نے دیکھیے کس طرح اپنے آپ کو تعلیم اور غرض تقریبا” ہر میدان میں اپنے آپ کو اور اپنی جماعت کے وسائل کو کس طرح بہتریں اور عمدہ طریقے سے استعمال کرنے کے لیے اتحاد کیا ہے۔۔۔کیا یہی مثال ہم بھی قائم نہیں کر سکتے ہر شعبہ میں ….ذرا سوچیے۔

حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بعد عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔ تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے فرزند ہیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے ہیں،15 رمضان المبارک سن تین ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے وہ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ کے پہلے فرزند ہیں پیغمبر اسلام نے ان کا نام حسن رکھا اور یہ نام اس سے پہلے کسی کا نہیں تھا۔حضرت امام حسن مجتبی (ع) نے معاویہ کے سیاسی و نفسیاتی دباؤ اور صلح قبول کرنے کے بدع عوام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: معاویہ  یہ تصور کرتا ہے کہ شاید میں اسے خلافت کے لئے سزاوار سمجھتا ہوں اور میں خود اس کا اہل نہیں ہوں معاویہ جھوٹ بولتا ہے ہم کتاب خدا اور پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق خلافت اور حکومت کے سب سے  زيادہ حقدار اور سزاوار ہیں اور پیغمبر اسلام کی رحلت کے بعد سے ہی ہم پر ظلم و ستم کا آغاز ہوگیا۔

امام حسن علیہ اسلام ۔۔۔ ولادت تا شہادت
امام حسن (ع)کی کنیت ؛ ابو محمد، اور سبط اکبر، زکی، مجبتی آپ کے مشہور القاب تھے، پیغمبر اسلام کو حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کے ساتھ خاص محبت اور الفت تھی۔ جب تک پیغمبر اسلام زندہ تھے امام حس ن وامام حسین علیہمالسلام  ان کے ہمراہ تھے۔ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ امام حسن (ع) پیغمبراسلام کے نواسے تھے لیکن قرآن نے انہیں فرزندرسول کادرجہ دیا ہے اوراپنے دامن میں جابجا آپ کے تذکرہ کو جگہ دی ہے خود سرورکائنات نے بے شمار احادیث آپ کے متعلق ارشادفرمائی ہیں ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت نے ارشاد فرمایا کہ میں حسنین کودوست رکھتا ہوں اور جو انہیں دوست رکھے اسے بھی قدرکی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔    ایک صحابی کابیان ہے کہ میں نے رسول کریم کو اس حال میں دیکھاہے کہ وہ ایک کندھے پرامام حسن کو اور ایک کندھے پر امام حسین کو بٹھائے ہوئے لیے جارہے ہیں اورباری باری دونوں کا منہ چومتے جاتے ہیں ایک صحابی کابیان ہے کہ ایک دن آنحضرت نماز پڑھ رہے تھے اور حسنین آپ کی پشت پرسوار ہو گئے کسی نے روکناچاہا تو حضرت نے اشارہ سے منع کردیا(اصابہ جلد ۲ص ۱۲) ۔  ایک صحابی کابیان ہے کہ میں اس دن سے امام حسن کوبہت زیادہ دوست رکھنے لگا ہوں جس دن میں نے رسول کی آغوش میں بیٹھ کر انہیں داڑھی سے کھیلتے دیکھا(نورالابصارص ۱۱۹) ۔  مدینہ میں اس وقت مروان بن حکم والی تھا اسے معاویہ کاحکم تھاکہ جس صورت سے ہوسکے امام حسن کوہلاک کردو مروان نے ایک رومی دلالہ جس کانام ”الیسونیہ“ تھا کوطلب کیااوراس سے کہا کہ تو جعدہ بنت اشعث کے پاس جاکراسے میرایہ پیغام پہنچادے کہ اگرتوامام حسن کوکسی صورت سے شہید کردے گی توتجھے معاویہ ایک ہزاردینارسرخ اورپچاس خلعت مصری عطاکرے گا اوراپنے بیٹے یزیدکے ساتھ تیرا عقد کردے گا اوراس کے ساتھ ساتھ سودینا نقد بھیج دئیے دلالہ نے وعدہ کیا اور جعدہ کے پاس جاکراس سے وعدہ لے لیا، امام حسن اس وقت گھرمیں نہ تھے اوربمقام عقیق گئے ہوئے تھے اس لیے دلالہ کوبات چیت کااچھاخاصا موقع مل گیا اوروہ جعدہ کو راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ۔الغرض مروان نے زہربھیجااورجعدہ نے امام حسن کوشہدمیں ملاکر دیدیا امام علیہ السلام نے اسے کھاتے ہی بیمارہوگیے اورفوراروضہ رسول پرجاکر صحت یاب ہوئے زہرتوآپ نے کھالیا لیکن جعدہ سے بدگمان بھی ہوگئے، آپ کوشبہ ہوگیا جس کی بناپرآپ نے اس کے ہاتھ کاکھاناپیناچھوڑدیااوریہ معمول مقررکرلیاکہ حضرت قاسم کی ماں یاحضرت امام حسین کے گھرسے کھانامنگاکرکھانے لگے ۔ مدینہ منور میں آپ ایام حیات گزاررہے تھے کہ ”ایسونیہ“ دلالہ نے پھرباشارہ مروان جعدہ سے سلسلہ جنبائی شروع کردی اورزہرہلاہل اسے دے کرامام حسن کاکام تمام کرنے کی خواہش کی، امام حسن چونکہ اس سے بدگمان ہوچکے تھے اس لئے اس کی آمدورفت بندتھی اس نے ہرچندکوشش کی لیکن موقع نہ پاسکی بالآخر، شب بست وہشتم صفر ۵۰کووہ اس جگہ جاپہنچی جس مقام پرامام حسن سورہے تھے آپ کے قریب حضرت زینب وام کلثوم سورہی تھیں اورآپ کی پائیتی کنیزیں محوخواب تھیں، جعدہ اس پانی میں زہرہلاہل ملاکرخاموشی سے واپس آئی جوامام حسن کے سرہانے رکھاہواتھا اس کی واپسی کے تھوڑی دیربعدہی امام حسن کی آنکھ کھلی آپ نے جناب زینب کوآوازدی اورکہا ائے بہن، میں نے ابھی ابھی اپنے نانااپنے پدر بزرگوار اور اپنی مادرگرامی کوخواب میں دیکھاہے وہ فرماتے تھے کہ اے حسن تم کل رات ہمارے پاس ہوگے، اس کے بعدآپ نے وضوکے لیے پانی مانگااورخوداپناہاتھ بڑھاکرسرہانے سے پانی لیا اورپی کرفرمایاکہ اے بہن زینب ”این چہ آپ بودکہ ازسرحلقم تابنافم پارہ پارہ شد“ ہائے یہ کیساپانی ہے جس نے میرے حلق سے ناف تک ٹکڑے ٹکڑے کردیاہے اس کے بعدامام حسین کواطلاع دی گئی وہ آئے دونوں بھائی بغل گیرہوکرمحوگریہ ہوگئے، اس کے بعدامام حسین نے چاہاکہ ایک کوزہ پانی خودپی کرامام حسن کے ساتھ ناناکے پاس پہنچیں، امام حسن نے پانی کے برتن کوزمین پرپٹک دیاوہ چورچورہوگیاراوی کابیان ہے کہ جس زمین پرپانی گراتھا وہ ابلنے لگی تھی ۔الغرض تھوڑی دیرکے بعد امام حسن کوخون کی قے آنے لگی آپ کے جگرکے سترٹکڑے طشت میں آگئے آپ زمین پرتڑپنے لگے، جب دن چڑھاتوآپ نے امام حسین سے پوچھاکہ میرے چہرے کارنگ کیساہے ”سبز“ ہے آپ نے فرمایاکہ حدیث معراج کایہی مقتضی ہے، لوگوں نے پوچھاکہ مولاحدیث معراج کیاہے فرمایاکہ شب معراج میرے نانا نے آسمان پر دو قصر ایک زمردکا، ایک یاقوت سرخ کادیکھاتوپوچھاکہ ائے جبرئیل یہ دونوں قصرکس کے لیے ہیں، انہوں نے عرض کی ایک حسن کے لیے اوردوسرا حسین کے لیے پوچھادونوں کے رنگ میں فرق کیوں ہے؟ کہاحسن زہرسے شہیدہوں گے اورحسین تلوارسے شہادت پائیں گے یہ کہہ کرآپ سے لپٹ گئے اوردونوں بھائی رونے لگے اورآپ کے ساتھ درودیواربھی رونے لگے۔اس کے بعدآپ نے جعدہ سے کہا افسوس تونے بڑی بے وفائی کی، لیکن یادرکھ کہ تونے جس مقصد کے لیے ایساکیاہے اس میں کامیاب نہ ہوگی اس کے بعد آپ نے امام حسین اوربہنوں سے کچھ وصیتیں کیں اور آنکھیں بندفرمالیں پھرتھوڑی دیرکے بعدآنکھ کھول کرفرمایاائے حسین میرے بال بچے تمہارے سپرد ہیں پھربند فرما کرناناکی خدمیں پہنچ گئے ”اناللہ واناالیہ راجعون“ ۔ امام حسن کی شہادت کے فورا بعدمروان نے جعدہ کواپنے پاس بلاکردو عورتوں اور ایک مرد کے ساتھ معاویہ کے پاس بھیج دیامعاویہ نے اسے ہاتھ پاؤں بندھواکردریائے نیل میں یہ کہہ کرڈلوادیاکہ تونے جب امام حسن کے ساتھ وفا نہ کی، تویزیدکے ساتھ کیاوفاکرے گی۔(روضة الشہداء ص ۲۲۰تا ۲۳۵طبع بمبئی ۱۲۸۵ءء وذکرالعباس ص ۵۰طبع لاہور ۱۹۵۶ء)

نیو یارک:  پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سرگرم امریکی اور دیگر غیر مسلم ممالک کے فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنٹوں، فوجی کنٹریکٹرز اور سفارت کاروں کی مسلم دشمن کارروائیوں کیخلاف بھی مزاحمت، انتقامی کارروائیاں اور جوابی اقدامات اسلام میں ممنوع ہیں اور صرف مسلح حملہ کرنیوالے غیر مسلم فوجی کے مقابلے میں دفاعی کارروائی کا حق ہے البتہ اپنے نااہل مسلمان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے انقلاب لانا مسلم عوام کا فرض ہے ۔ یہ بات تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری نے اپنے فتویٰ کے اجراء کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانیوں کے اس اجتماع میں امریکی محکمہ انسداد دہشت گردی، ایف بی آئی اور دیگر حکام کی ایک کافی بڑی ٹیم بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے جہاد کی مختلف قسمیں اور قتال ( مسلح جہاد ) کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی غیر مسلم اور غیر ملکی جاسوس اور فوجی کنٹریکٹر کی سرگرمیوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر سکتا وہ صرف اس غیر مسلم مسلح فوجی سے صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے جو اس مسلمان کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ آور ہوا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے عوام منظم تحریک کے ذریعے اپنے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا فریضہ انجام دیں اور مصر میں حالیہ عوامی تحریک کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کی مثال کو اپنائیں۔ انہوں نے ڈرونز حملوں سے سویلین افراد کی ہلاکتوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔انہوں نے معاہدوں کی پابندی کرنا بھی مسلم ممالک کا فریضہ اور ذمہ داری قرار دیا۔ مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی آمر اور عوامی انقلاب کا مستحق قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ مسلح جہاد کا فیصلہ یا حکم کوئی گروپ یا عوام نہیں کر سکتے یہ فیصلہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ خطاب کے بعدپریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے اس فتویٰ کے ذریعے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امریکا اور مغربی ممالک کو ایک علمی اور مذہبی ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس سے موجودہ دور کے مسلمانوں میں مغربی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں احتجاج اور مزاحمت ختم کرکے مسلم دنیا پر امریکی و مغربی بالادستی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنے فتویٰ کے بارے میں کہا کہ میرا مقصد اس نوجوان مسلم نسل کو دہشت گردی اور خودکشی کا ایندھن بننے سے بچانا ہے جو ابھی جو ان ہو رہی ہے میرا مخاطب وہ افراد نہیں جو پہلے ہی برین واشنگ کے ذریعے دہشت گرد اور خودکش بمبار بن چکے ہیں میں امریکا یا کسی کی دنیاوی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنا علمی اور دینی فریضہ ادا کر رہا ہوں جبکہ علامہ طاہر القادری کے اس فتویٰ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کے دس سال بعد علامہ طاہر القادری نے اب یہ فتویٰ جاری کرکے امریکی مفادات کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے اور اس فتویٰ کی بھی وہی کیفیت ہے جو مسلم تاریخ میں بعض مسلم حکمرانوں کے مشیر علماء نے خوشنودی اور مناصب حاصل کرنے کیلئے حکمرانوں کو مشوردے دے کر امام حنبل، امام شافعی اور دیگر محترم شخصیات کو قید کوڑے اور سزائیں دلائیں۔ علامہ طاہر القادری کینیڈا میں شہریت اور سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے اس فتویٰ کے بارے میں امریکی میڈیا ، امریکی تھنک ٹینک، امریکی حکومت کے متعدد محکموں اور یونیورسٹیوں میں خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں کے ایک بڑے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

سکھر رپورٹ کے مطابق سکھر میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی سمیت طالبان ناصبی وہابی دہشت گردوں اور یزید ملعون کی اولادوں نے اپنے آباؤ اجداد کے منحوس نقش قدم پر چلتے ہوئے آل رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے اور فرزند حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والم وسلم آقاامام زمان حضرت امام مہدی عج فرجہ شریف کی شان میں گستاخانہ جملوں کو دیواروں پر لکھاگیا ہے تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیعیان حیدر کرار (ع) کی بڑی تعداد اس وقت سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور مین سڑک پر سیکڑوں شیعہ احتجاج کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے اندرون سندھ میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی یزیدی دہشت گردوں کی جانب سے شیعیان حیدر کرار (ع) کی دل آزاری کا سلسلہ شروع کیا جا شکا ہے جس کے نتیجہ میں متعدد علم حضرت عباس علمدار علیہ السلام کو بھی شہید و توہین کی گئی ہے جبکہ آج سکھر میں انہی ناصبی دہشت گردوں نے اپنے ملعون باپ دادا یزید اور معاویہ کے منحوس نقش قدم پر چلتے ہوئے اولاد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے۔دوسری جانب سندھ انتظامیہ اور مقامی پولیس کی جانب سے تاحال کسی بھی سانحہ کا نوٹس نہیں لیا گیا۔

یو اے ای گورنمنٹ نے عزاداری کی اجازت دینے کی بجائے ایک اعلامیہ جاری کر دیا ہے کہ عزاداری ابوظہبی شہر سے اسی کلومیٹر دور ایک صحرا میں کی جا سکتی ہے تاہم عزاداروں نے حکومت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ متحدہ عرب امارات بھی آل سعود کے نقش قدم پر، ابوظہبی میں مقیم پشتو زبان کی سالہا سال سے جاری مجالس پر پابندی لگا دی۔ متحدہ عرب امارات کے دارالخلافہ ابوظہبی میں مقیم ہزاروں کی تعداد میں پشتو زبان کے مقیم عزادار جن کا تعلق خیبر پختونخوا افغانستان اور فاٹا سے ہے کئی سال سے شہر کے اندر اپنے امام بارگاہ میں مجالس و جلوس عزا منعقد کرتے آ رہے ہیں تاہم اس سال یو اے ای گورنمنٹ نے اجازت نہیں دی بلکہ ایک اعلامیہ جاری کر دیا ہے کہ عزاداری ابوظہبی شہر سے اسی کلومیٹر دور ایک صحرا میں کی جا سکتی ہے تاہم عزاداروں نے حکومت کا یہ فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا اور یکم و دو محرم کو مجلس تو نہ ہو سکی لیکن کئی ہزار عزادار امام بارگاہ کے باہر احتجاجا کھڑے رہے۔ اس کے بعد عزاداروں نے پاکستانی سفیر اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے رابط کیا، مذاکرات جاری ہیں امید کی جاتی ہے کہ متحدہ عرب امارات عربستان کے صحرا کو اپنی محنت و مزدوری سے گلستان بنانے والے اپنے ان محسنوں کو مایوس نہیں کریں گے۔

نوحہ خواں آل محمد علیہ السلام جناب سید ندیم رضا سرور کی والدہ ماجدہ سیدہ نرجس خاتوں بنت سید ظہور الحسن نقوی زوجہ سید اسرار حسین (مرحوم) کے سوئم کے کا انعقاد بتاریخ یکم جنوری 2012 بروز اتوار بوقت 4:00بجے سہ پہر بمقام مسجد و امام بارگاہ خیرالعمل ، بلاک 20، انچولی سوسائٹی، کراچی، پاکستان میں منعقد ہو گا جس میں سوز و مرثیہ جناب حشمت حسین زیدی و ہمنوا، سلام جناب ریحان اعظمٰی اور رضا شاہ، اور خطابت جناب حجت الاسلام مولان سید رضی جعفر نقوی صاحب کریں گے۔ مرحومہ سیدہ نرجس خاتوں کے سوگواران میں وسیم افسر، ندیم رضا سرور، ریحان رضوی، عدنان رضوی و دیگر عزیزو اقارب کی طرف تمام مومنین اور مومنات سے شرکت کی استداء ہے۔ اس سائحہ عظیم پر کنزاہ نیوز انٹرنیشنل(اردو) اپنی تمام ٹیم اور کنزاہ نیوز انٹرنیشنل(اردو) اپنے تمام دنیا میں پھیلے ہوئے صارفین کی طرف سے مرحومہ سیدہ نرجس خاتوں بنت سید ظہور الحسن نقوی زوجہ سید اسرار حسین (مرحوم) کے تمام خانوادے و دیگر عزیز واقارب سے اور خاص کر ان کے ہونہار فرزند، شہنشائے لہن و سخن، نوحہ خوانے آل محمد علیہ السلام, جناب سید ندیم رضا سرور سے دل کی گہرائیوں اور تمام خلوص اور محبت کے ساتھ کنزاہ نیوز انٹرنیشنل(اردو) تعزیت پیش کرتی ہے اور دعا گوء ہےکہ اللہ تبارک و تعالی مرحومہ کے تمام اہلخانہ، لواحقین، عزیز واقاربہ کو صبر جمیل عطا فرمائےنیز مرحومہ کو جوارے معصومیں علیہ السلام میں آباد کرتے ہوئے جوارے سیدہ کونین، جناب بی بی زھراہ سلام اللہ علیھا میں مرحومہ کو خاص قربت عنایت فرمائیں کیونکہ مرحومہ نوحہ خوانے آل محمد علیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں انشااللہ آمیں  

کراچی ،ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے جانب سے جامعہ الامامیہ ڈیفنس کو بند کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہره ہوا جس میں تنظیم امامیہ کے مرکزی رہنما علامہ فیاض حسین نقوی، شیعہ علما کونسل سنده کے نائب صدرعلامہ جعفر سبحانی ،علامہ شبیر میثمی ،علامہ عبّاس کمیلی ،علی مرتضیٰ زیدی،مختار ثقفی ،اوردیگر علما وطلاب کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی . اطلاعات کے مطابق بعد نماز جمہ ڈیفنس  مسجد کے اندر علماے کرام اور طلاب کی بڑی تعداد نے مظاہرے می شرکت کی،،علامہ شبیر میثمی نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ یہ احتجاج صرف ایک جھلک ہے جو ،ڈیفنس ہوسنگ اتھورٹی اور کچھ ہمارے سازشی عناصر کو دہکھانے کے لیے ہے کے وہ یہ نہ سمجھے کہ ہمارے مدرسه تنہا ہیں. نہیں بلکہ پوری ملت جعفریہ ان کے ساتھ ہے اگر نوٹس واپس نہیں لیا تو ہم سخت قسم کا احتجاج کریں گے ، علامہ شبیر میثمی نے مزید کہا کہ  مسجد یثرب کے ٹرسٹیو ں میں جن لوگو ں نے مدرسه کی بجلی اور پانی بند کی  ہے وہ 48 گھنٹے میں بھال کرے ،علامہ عبّاس کمیلی نے خطاب می مسجد انتظامیہ کی بھرپور انداز میں مذمت کی-

 مسجد نور ایمان کے خطیب جمعہ مولانا مرزا یوسف حسین کی اہلیہ نرگس صاحبہ اور آیت اللہ عقیل غروی صاحب کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے جس پر تمام  پاکستان میں بسنے والے شیعیان اہلبیت اور خاص کر کراچی کے مومنین دونوں رہبران ملت سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آیت اللہ عقیل غروی صاحب بھائی کے انتقال کے سبب واپس ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں وہ اپنے بھائی کی تجویر وتدفین شرکت کرین گے۔ نیز آیت اللہ نے کراچی میں اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور پروگراموں کی انتظامیاں سے آیت اللہ عقیل غروی صاحب نے انتہائی معزرت کی ہے، اس موقع پر تمام شیعیان اہلبیت سے مرحومیں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ کی درخواست کی جاتی ہے۔

چند دنوں میں علامہ سید جواد نقوی مختلف یونیورسٹیز، بار کونسلز میں سیمینارز اور مختلف جگہوں پر مجالس عزا سے خطاب کریں گے۔جہان اسلام کے معروف مفسر قرآن و نہج البلاغہ علامہ سید جواد نقوی آنیوالے چند دنوں میں یونیورسٹیز، بار کونسلز اور دیگر مختلف جگہوں پر سیمینارز اور مجالس عزا کے پروگرامز سے خطاب کریں گے۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے استفادے کے لئے انکا پروگرام شیڈول دیا جا رہا ہے۔
دسمبر17, 2011ء مطابق 21 محرام الحرام 1433ھ بروز ہفتہ
بوقت 2:30  بمقام ضلع اٹک  جامعہ امام الصادق ع 7:30
شام امام بارگاہ بلتستانیہ   9:00

دسمبر 2011،18ء مطابق 22 محرام الحرام 1433ھ بروز اتوار
سیمینار اسلامی بیداری “پیغام عاشورہ” رائل پیلس ہوٹل مورگاہ پنڈی
بوقت 10:00 بجے  قائداعظم یونیورسٹی بوقت 3:00
جامعہ امام الصادق ع بوقت 7:30

دسمبر ،19 2011ء مطابق 23 محرام الحرام 1433ھ بروز سوموار
بوقت 10:00 بجے بمقام اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد
جامعہ امام الصادق ع 7:30

20 دسمبر 2011ء مطابق 24 محرام الحرام 1433ھ بروز منگل
بوقت صبح 10:00  بمقام اسلام آباد بار کونسل
بوقت 2:00 بجے بمقام ہمدرد یونیورسٹی، ایف ایٹ، اسلام آباد
جامعہ امام الصادق ع 7:30

21 دسمبر 2011ء مطابق 25 محرام الحرام 1433ھ بروز بدھ
بوقت صبح 10:00 بجے UET ٹیکسلا بوقت 3:00 بجے بمقام ہری پور ہزارہ
جامعہ امام الصادق ع 7:30

22 دسمبر 2011ء مطابق 26 محرام الحرام 1433ھ بروز جمعرات
بوقت صبح 10:00 بجے علامہ اقبال یونیورسٹی ایچ ایٹ، اسلام آباد

شیعہ علماء کونسل کے رہنما کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پر واضح کیا گیا ہے کہ شیعہ قوم نہیں چاہتی کہ پاکستان میں زور زبردستی اور ڈنڈے کی سیاست قائم ہو۔  پاکستان میں کام کرنے والے ادارے نہیں چاہتے کہ دہشتگردی ختم ہو، یہ نادیدہ حکمران پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اگر نمائش چورنگی واقعہ کے مجرم رہا ہوئے تو اس میں عدلیہ کی نااہلی ہو گی۔ ان خیالات کا اظہار شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے ٹیکسلا میں کربلا شاہ فتح حیدر صفدر میں تدفین کی مجلس عزاء سے خطاب کے بعد  بات چیت کرتے ہوئے کیا۔   ان کا کہنا تھا کہ سانحہ نمائش چورنگی کے بعد شیعہ علماء نے حالات کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ شیعہ قوم نہیں چاہتی کہ پاکستان میں زور زبردستی اور ڈنڈے کی سیاست قائم ہو۔ لیکن اگر یہی طے ہے کہ جسکی لاٹھی اسکی بھینس، تو ہم بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ نمائش چورنگی کے مزید مجرم اگر رہا کئے گئے تو ہم انتہائی اقدام سے گریز نہیں کریں گے۔ رہنما شیعہ علماء کونسل کا کہنا تھا کہ منظور وسان نے ان سے ملاقات کے دوران وعدہ کیا ہے کہ ہم 12 نامزد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وزیر داخلہ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ باوردی اسکائوٹس شہداء کے ورثا کو دس دس لاکھ معاوضہ ادا کیا جائے گا۔   شہنشاہ نقوی کا کہنا تھا کہ اگر نمائش چورنگی واقعہ کے مجرم رہا ہو جاتے ہیں تو اس میں عدلیہ کی نااہلی ہو گی، چونکہ مجرموں کے خلاف گواہیاں تک ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کیس کے سلسلے میں تین ایف آئی آر درج کروائی گئیں تھیں، جن میں ایک اہل تشیع، دوسری سنی حضرات کی طرف سے اور تیسری حکومت کی طرف سے درج کروائی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو نمائش چورنگی پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد حساس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران گذری کے علاقے ڈیفنس فیز 4، ڈیفنس فیز 6 اور دیگر پوش علاقوں میں واقع امام بارگاہوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے۔حساس اداروں کی جانب سے نمائش چورنگی واقعے کے بعد محرم الحرام کے دوران شہر کے پوش علاقوں میں قائم امام بارگاہوں پر دہشتگرد حملوں کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس اداروں نے حکومت سندھ کو اطلاع دی ہے کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ محرم الحرام کے دوران دہشتگردوں کے جانب سے شہر کے پوش علاقے ڈیفنس میں قائم امام بارگاہوں پر حملے کا خطرہ ہے، اس مقصد کے لیے دہشتگرد خودکش حملے یا بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے حملہ کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ویو دھماکے کے بعد بھی ڈیفنس اور سی ویو کے اطراف مشکوک افراد کی نقل و حرکت کو مانیٹر کیا گیا تھا جو مختلف اوقات میں مختلف گاڑیوں میں دکھائی دیئے ہیں۔  ذرائع کا کہنا ہے کہ اتوار کو نمائش چورنگی پر ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد حساس اداروں نے خبردار کیا ہے کہ محرم الحرام کے دوران گذری کے علاقے ڈیفنس فیز 4، ڈیفنس فیز 6 اور دیگر پوش علاقوں میں واقع امام بارگاہوں میں دہشتگردوں کی جانب سے حملوں کا خدشہ ہے، لہذا ان علاقوں میں سکیورٹی کے اقدامات کیے جائیں اور امام بارگاہوں کے اطراف سخت خفاظتی انتظامات کیے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں سخت سکیورٹی اقدامات دہشتگردوں کا نشانہ ممکنہ طور پر شہر کے دیگر مقامات پر منعقد ہونے والی مجالس ہو سکتی ہیں۔  واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی دہشتگردوں نے دس محرم کے مرکزی جلوس کے بجائے چہلم امام حسین ع کے موقع پر مرکزی جلوس میں آنے والے عزاداران کی بس کو نشانہ بنایا تھا اور بعد ازاں ہلاک و زخمی افراد کو جناح اسپتال لانے کے بعد جناح اسپتال میں بھی بم دھماکہ کیا تھا۔

محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔عالم انسانیت بالعموم اور عالم اسلام بالخصو ص ماہ محرم کے طلوع ہوتے ہی اپنے اپنے انداز سے نواسہ رسول خدا ص اور ان کے آل و اصحاب کی طرف سے دین خدا، اسلام، شریعت محمدی اور حق کی حفاظت کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم سے نفرت اور مظلوم سے محبت رکھنے والے طبقات سید الشہداء کی یاد مناتے ہیں اور بلا تخصیص مذہب و مسلک حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی والہانہ وابستگی اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تمام شہری بلاتفریق مذہب و مسلک و فرقہ، محرم الحرام میں مجالس و محافل عزاداری مکمل جوش و جذبے، عقیدت اور اتحاد و وحدت کے ذریعے منا رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ چودہ سو سال قبل ریگزار کربلا میں 72 جانثار، حق پرست، دیندار اور وفا شعار اور متقی اصحاب کے ساتھ امام عالی مقام نے جام شہادت نوش کر کے رہتی دنیا تک حق اور باطل میں حد فاصل قائم کرنے کے لئے دائمی اور ابدی کسوٹی فراہم کر دی اور ثابت کر دیا کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے صحرائے کربلا کا سفر اپنی ذات اور مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا کے دین اور الہی نظام کو بندگان خدا پر نافذ کرانے کے لئے ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور مظلوم کو اس کے حق کی فراہمی کے لئے اسلام کی شکل بگاڑنے کی مذموم سازش ناکام بنا کر عالم انسانیت کے سامنے حقیقی اور نبوی اسلام کا تعارف کرانے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ یہ معرکہ صرف چند نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی معیت میں سر کر لیا، جسے بڑی معرکتہ الارا جنگوں سے نہیں جیتا جا سکتا تھا۔
محرم الحرام جہاں ہمیں واقعہ کربلا کی خونیں داستاں کی یاد دلاتا ہے، وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے اعلٰی مشن، ہدف اور مقصد کی ترویج کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور عالم انسانیت کے محروم و مظلوم طبقات کے لئے امید کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ امام حسین ع نے اس وقت اسلام کو درپیش سنگین خطرات سے امت کو آگاہ کیا اور اپنی عظیم قربانی پیش کر کے ہمیں حسینی بن کر اپنے وقت کی صہیونی اور استعماری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سلیقہ عطا کیا۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود ایک تلخ حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ابھارنے کی کوشش ہوتی ہے کہ عشرہ محرم سے ملک میں ایک ہنگامی حالت کا نفاذ ہو جائے گا، کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا اور عوام کی عمومی سرگرمیوں پر پہرہ لگا دیا جائے گا۔ حکومتی اور انتظامی ادارے اپنے غیر سنجیدہ اقدامات سے ماحول کو اس طرح کشیدہ کر دیتے ہیں کہ مشن امام حسین ع اور مقصد عزاداری کی نفی واضح نظر آتی ہے۔ اس سرکاری خودساختہ ماحول نے صورتحال یہاں تک پہنچا دی ہے کہ کل تک جو مسلمان باہمی رواداری، اتحاد بین المسلمین، وحدت و یکجہتی اور امن و آشتی کے ذریعے اپنی مذہبی و شہری آزادیاں استعمال کر رہے تھے، آج وہ باہم تلخی اور تصادم کا شکار ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سرکاری جال میں پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت نہیں بلکہ مٹھی بھر شرپسند عناصر ہی آئے ہیں، جو ہر سال محرم کے ماحول کو تلخ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں مسالک اور مکاتب کی باہمی جنگ اور تصادم موجود ہے۔ 
اس ماحول کے پس پشت مسلمانوں میں تفریق ڈالنے والی ان قوتوں کا ہاتھ بھی ہے جو مسلمانوں میں سے ہی چند ضمیر فروشوں کو خرید کر پہلے تقریری و تحریری مہم کے ذریعے اپنے منفی مقاصد حاصل کرتی رہیں، لیکن جب تمام مسالک اور مکاتب کے علمائے کرام اور انصاف پسند عوام نے باہمی اتحاد کے ذریعے اس مہم کو ناکام بنایا تو انہوں نے اپنا انداز تبدیل کرتے ہوئے اپنے آلہ کاروں کے ہاتھوں میں اسلحہ تھما دیا اور مقتدر قوتوں کو ان کا سرپرست بنا دیا، جس کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بے دریغ خون بہانے کو باعث سعادت اور ذریعہ نجات سمجھنے لگا اس دیوانگی میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ خدا کے گھر (مساجد) اور نبی ع کی آل سے منسوب متبرک مقام (امام بارگاہوں) میں بوڑھوں، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو قتل کر کے نہ صرف ان مقامات کا تقدس پامال کیا بلکہ اپنے لئے جہنم میں دائمی ٹھکانا بنا لیا۔ جدید دور میں خودکش حملوں کا طریقہ اختیار کر کے دہشتگردوں نے ایک ہی وقت میں سینکڑوں لوگوں کا خون بہانے کا گھناؤنا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔محرم کے ماحول میں تلخی و کشیدگی اور پاکستان کی فرقہ وارانہ فضا کی آلودگی بھی در اصل سرکاری اداروں کی غفلت اور مقتدر حلقوں کی مخصوص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان پالیسیوں کے سبب ہی ملک میں مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ، علاقائی فسادات ہوتے رہے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں بننے والے مذہبی اتحادوں بالخصوص ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل نے ملک میں مذہبی فضا کو سازگار بنانے اور باہمی کشیدگی ختم کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں، لیکن طاقت کا سرچشمہ تو ہمیشہ حکومتیں اور سرکاری و انتظامی ادارے رہے ہیں، لہذا مذکورہ مذہبی اتحاد فقط عوامی سطح پر ماحول بہتر بناتے رہے۔
ملک کی عمومی مذہبی فضا کو بہتر رکھنے بالخصوص ایام عزاداری کے دوران حالات کو سازگار بنانے اور کشیدگی سے بچنے کے لئے حکومت کے ساتھ عوام، علمائے کرام، مذہبی جماعتوں، امن کمیٹیوں، مشائخ عظام، طلبہ تنظیموں، رفاعی تنظیموں اور محب وطن سیاسی حلقوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذیل میں چند تجاویز تحریر کی جا رہی ہیں جن سے محرم الحرام کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منعقد کیا جا سکتا ہے اور حکومت کی سہولت و رہنمائی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 

(1) پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنی مذہبی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی، شخصی، ذاتی اور اجتماعی سرگرمیوں کی واضح اجازت دیتا ہے۔ لہذا اس اجازت کا تقاضا ہے کہ عزاداری کے لئے لائسنس، پرمٹ کی شرط ختم کی جائے اور بغیر کسی سرکاری پابندی کے عزاداری کے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔
(2) علمائے کرام، ذاکرین عظام مختلف مکاتب فکر کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نیز عوام کو ایک دوسرے کے عقائد و نظریات، رسوم و عبادات کا احترام کرنے پر آمادہ کریں۔
(3) ذاکرین اور خطباء اپنی تقاریر اور خطابات میں حضرت امام حسین ع کے قیام اور یزیدی عزائم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیں۔
(4) حکومت کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں اور مقامی امن کمیٹیوں میں امن و اتحاد کے فروغ کے لئے کوشاں موثر افراد اور شخصیات کو شامل کرے۔ حکومت مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود اتحاد بین المسلمین بورڈز اور کمیٹیوں میں عوام کے حقیقی نمائندہ افراد کو شامل کرے، کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کمیٹیوں میں سرکاری پسندیدگی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے میرٹ کو نہیں، اس وجہ سے تاحال امن وامان اور فرقہ واریت کی فضا بہتر نہیں ہو سکی۔
(5) مختلف مکاتب فکر کی طرف سے مختلف سطح پر وحدت کانفرنسوں کا انعقاد موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
(6) جلوس ہائے عزاداری، مجالس امام حسین ع اور وحدت کانفرنسوں میں تمام مسالک کے علمائے کرام، مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور انتظامیہ کے افراد کو شریک ہونا چاہیے۔
(7) حکومت عوام الناس اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کو دیگر مکاتب فکر کے شہریوں کے شہری، مذہبی اور آئینی حقوق تسلیم کرنے کا پابند بنانے، کیونکہ اگر وہ دوسروں کی شہری آزادیوں کا احترام کریں گے تو اپنی شہری آزادیوں کو صحیح اور آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ 
(8) جو لوگ اور گروہ کسی مسلک و مکتب کے مذہبی، قانونی اور شہری آزادیوں اور حقوق کا احترام نہیں کرتے اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں حکومت ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہے حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کا سخت محاسبہ کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے، کیونکہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
(9) محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(10) لاؤڈ سپیکر کسی بھی مشن اور نظریے کا نشری ذریعہ ہیں، سارا سال لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہر قسم کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی پروگراموں میں بلادریغ اور بغیر رکاوٹ ہوتا ہے۔ لیکن محرم الحرام کی آمد پر لاؤد سپیکر پر بے جا پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، لہذا مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزاداری میں لاؤڈ سپیکر پر بے جا پابندیاں ختم کی جائیں، البتہ بانیاں مجالس اور ذاکرین و خطباء اس امر کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ سپیکر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر نہ کریں۔
(11) الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی ان ایام میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے،لہذا ٹی وی، ریڈیو، پرائیویٹ چینلز، روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کی طرف سے جاری اور نشر کئے جانے والے پروگراموں، تقاریر، دستاویزی فلموں اور مضامین میں ایسے افراد کو بالکل فراموش کریں، جو ایک دوسرے کی دل آزاری کرتے ہیں اور مذہبی فضا میں کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ اخبارات ایسی تحریروں کو بالکل جگہ نہ دیں جن میں مذہبی اور مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ فسادات پر اکسانے والا مواد موجود ہو۔ بلکہ ایسے افراد سے استفادہ کریں جو غیر متنازعہ، مثبت سوچ و فکر کے حامل اور اتحاد و وحدت کو فروغ دینے کے علمبردار ہوں۔
(12) دہشت گردی کے متوقع واقعات و خطرات سے نمٹنے کے لئے عوام کو انتظامیہ سے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ خود بھی دفاع کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
(13) خواتین کی آمد و رفت کے راستوں پر جلوس اور مجالس کی انتظامیہ خاص نظر رکھے ان کی حفاظت کے لئے خاص اہتمام کرے اور مشکوک سرگرمیوں کی چیکنگ کرے۔
(14) جلوس و مجالس کے بہتر انتظامات اور وحدت کے عملی نمونے کے لئے شیعہ سنی نوجوانوں پر مشتمل انتظامی و حفاظتی دستے تشکیل دیئے جائیں۔
(15) مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام، ذاکرین اور خطباء ایک دوسرے کی مساجد اور امام بارگاہوں میں ایک دوسرے کے پروگراموں میں زور و شور سے شرکت کریں اور عوام کو اپنی عملی وحدت کے ذریعے مثبت اور تعمیری پیغام دیں۔
یقیناً ان تجاویز سے حالات کو پرامن، صورتحال کو خوشگوار اور وحدت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، لیکن امن کے مستقل قیام، دہشتگردی کے مکمل سدباب اور اخوت کے لازوال ماحول کے لئے سب سے بہتر اسلحہ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ اور سرکاری اداروں کی طرف سے ’’توازن کی یک طرفہ پالیسیوں ‘‘ کا خاتمہ ہے…..تحریر:سید اظہار نقوی

محرم الحرام کا چاند نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کی کربلا کے میدان میں عظیم قربانی کی یاد لیکر نمودار ہوگیا ہے نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے کی یاد پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے جس میں لوگ بلا تفریق مذہب و ملت شرکت کرتے ہیں ۔ اس موقع پر اکثر مؤمنین کربلا معلی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کربلا میں محرم الحرام کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محرم الحرام کا چاند نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام کی کربلا کے میدان میں عظیم قربانی کی یاد لیکر نمودار ہوگیا ہے  نبی کریم حضرت محمد مصطفی (ص) کے نواسے کی یاد پورے عالم اسلام میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جاتی ہے جس میں لوگ بلا تفریق مذہب و ملت شرکت کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی (ص) کو ان کے نواسے کی عظیم قربانی پر تعزيت و تسلیت پیش کرتے ہیں حضرت امام حسین علیہ السلام نے یزید جیسے فاسق و فاجرکی بیعت نہ کرکے اسلام کو حیات ابدی  عطا کی ۔محرم الحرام میں ماتمی جلوس ، علم اور تعزیہ نکالے جاتے ہیں۔ محرم الحرام میں اسلامی جمہوریہ ایران ، عراق ، پاکستان ، ہندوستان ، یورپ، امریکہ ، سعودی عرب، خلیجی ممالک ، شام ، اردن ، ترکی اور دیگر ممالک میں مؤمنین عقیدت کے ساتھ عزاداری میں حصہ لیتے ہیں واضح رہے کہ معاویہ کے بیٹے یزيد ملعون نے سن 61 ہجری میں پیغمبر اسلام (ص)کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کو ان کے اہلبیت اور اصحاب کے ہمراہ تین دن کا بھوکا اور پیاسا شہید کردیا تھا مسلمان اس واقعہ کی یاد ہر سال مناتے ہیں اور عقیدت و احترام کے ساتھ مجالس عزا میں شرکت کرتے ہیں اور نواسہ رسول (ص) کے غم میں اشک غم بہاتے ہیں

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، جو ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے محرم الحرام 1433ھ کے آغاز پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ واقعہ کربلا میں اس قدر ہدایت، رہنمائی اور جاذبیت ہے کہ وہ ہر دور کے ہر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ کربلا ایک کیفیت، ایک جذبے، ایک تحریک اور ایک عزم کا نام بن چکی ہے۔ واقعہ کربلا کے پس منظر میں نواسہ رسول اکرم ص حضرت امام حسین علیہ السلام کی جدوجہد آفاقی اصول اور پختہ نظریات شامل ہیں۔ آپ نے واقعہ کربلا سے قبل مدینہ سے مکہ اور مکہ میں حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کر کے کربلا کے سفر کے دوران اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کے بارے میں واشگاف انداز سے اظہار کیا اور دنیا کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا کہ آپ کسی ذاتی اقتدار، جاہ و حشم کے حصول، ذاتی مفادات کے مدنظر یا کسی خاص شخصی مقصد کے تحت عازم سفر ہوئے ہیں اور موت جیسی اٹل حقیقت کے یقینی طور پر رونما ہونے کے باوجود بھی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ حکمرانوں کی طرف سے ہر قسم کی مالی، دنیاوی، حکومتی اور ذاتی پیشکش کو ٹھکرایا اور صرف قرآن و سنت، شریعت محمدی، دینی احکام، اوامر و نواہی اور اسلام کے نظام کے نفاذ کو ترجیح دی۔  علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امام حسین علیہ السلام کے موقف کو سمجھنے کے لئے آپ کے آفاقی خطبات کا مطالعہ ضروری ہے۔ ماضی اور حال میں دنیا کے جس خطے میں ان خطبات کے ذریعے امام عالی مقام کا موقف لوگوں تک پہنچا اور صاحبان بصیرت نے اس کا مطالعہ کیا تو انہیں جہاں امام حسین ع کا موقف جاننے کو ملا، وہاں انہوں نے واقعہ کربلا کے حقائق کا ادراک بھی کیا اور اس واقعے کے حوالے سے تاریخ میں پائی جانے والی منفی اور حقیقت سے دور غلط فہمیوں کا علم بھی حاصل کیا اور امام حسین ع کے موقف کی سچائی تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس طریقے سے ہر دور میں انسانوں نے خطبات امام حسین ع کو جب واقعہ کربلا کے ساتھ تجزیاتی انداز سے دیکھا تو انہیں کربلا کی حقیقتوں سے آشانائی حاصل ہوئی۔ جس طرح ہر دور میں اس حوالے سے کم یا منفی معلومات کے حامل طبقات موجود رہے اسی طرح موجودہ دور میں بھی ایسا طبقہ موجود ہے جو کربلا کا صحیح ادراک یا معلومات نہیں رکھتا، اسے چاہیے کہ وہ خطبات امام حسین ع کا باریک بینی سے مطالعہ کرے اور پھر فیصلہ کرے۔  انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ کربلا فقط ایک واقعہ یا مصائب و آلام کی علامت نہیں، بلکہ ایک تحریک اور نظام کا نام ہے، اس لئے ہمارے لئے مشعل راہ اور رہنمائی کا باعث ہے۔ دنیا میں جو طبقات فرسودہ، غیر اسلامی، لادین، غیر منصفانہ، ظالمانہ، آمرانہ اور بادشاہانہ نظاموں کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں، کربلا ان کے لئے سب سے بڑی مثال اور مینارہ نور ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ معاشروں کے تمام حاکم طبقات اور محروم و مظلوم طبقات امام حسین ع کی جدوجہد سے استفادہ کر سکتے ہیں، کیونکہ آپ نے فقط ایک مذہب یا مسلک یا امت کی فلاح کی بات نہیں کی، بلکہ پوری انسانیت کی نجات کی بات کی ہے۔ البتہ خصوصیت کے ساتھ محروم، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ اس کے ساتھ حکمرانوں کی بے قاعدگیوں، بے اعتدالیوں، بدعنوانیوں، کرپشن، اقرباء پروری، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور شہریوں کے مذہبی، شہری اور قانونی حقوق کی پامالی کی طرف بھی نشاندہی فرمائی۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ چونکہ عزاداری سید الشہداء ع  جبر کے خلاف جہاد کرنے کا جذبہ عطا کرتی ہے اور اس سے انسان کے ذاتی رویے سے لے کر اجتماعی معاملات میں انقلاب رونما ہوتا ہے، اس لئے حکمران طبقات کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر اور شر کے حامی طبقات بھی عزاداری کے مخالف اقدام کرتے ہیں حالانکہ پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق عزاداری منانا ہر شہری کا آئینی، قانونی، مذہبی اور شہری حق ہے، جسے کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔
ان دنوں میں جب ہم پاکستان میں عزاداری سیدالشہداء منا رہے ہیں اور محرم کے ایام کا آغاز ہو رہا ہے۔ حکمرانوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مراسم عزاء کے انعقاد کے لئے لائسنس، اجازت نامے، روٹ پرمٹ یا اس جیسی دیگر پابندیاں لگانے سے گریز کریں اور کرفیو کے عالم یا سنگینوں کے سائے تلے عزاداری منانے کی بجائے کھلے اور آزادانہ ماحول میں عزاداری کی محافل منعقد کرنے کا اہتمام کریں۔   سربراہ شیعہ علماء کونسل نے کہا کہ عزاداران سید الشہداء ع کو مطمئن رہنا چاہیے کہ ان کے حقوق کے حصول کی جدوجہد جاری رہے گی اور عزاداری کے تحفظ کو یقینی بنایا جاتا رہے گا، لیکن عزاداروں، بانیان مجالس، لائسنسداروں اور خطباء و ذاکرین کو ہر قسم کے داخلی انتشار و افتراق سے بچتے ہوئے وحدت و اخوت کو رواج دینا چاہیے اور باہم متحد رہ کر اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں ادا کرنی ہونگی اور جدوجہد کو طاقت بخش بنانا ہو گا، تاکہ دشمنان اسلام کے ساتھ ساتھ فرقہ پرستوں، جنونیوں اور دہشتگردوں کے منفی عزائم ناکام بنائے جا سکیں، پاکستان میں اتحاد بین المومنین اور اتحاد بین المسلمین کی فضا قائم ہو اور اسلام کے عادلانہ نظام کے نفاذ اور اسلامی معاشرے کے قیام کی جدوجہد آسان ہو۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عازمین حج کے نام اپنے پیغام میں حج کے رموز کا ذکر کیا۔ آپ نے سرزمین وحی میں حاجیوں کی موجودگی کو بہترین موقعہ قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے معروضی حالات کے تحت حج سے بھرپور استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پیغام حج میں قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی اور سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اسلام مخالف عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ترین سفارشات کی ہیں۔ پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ربّ العالمين وصلوات الله وتحياته على سيد الأنام محمد المصطفى وآله الطيبين وصحبه المنتجبين
اس وقت حج کی بہار اپنی تمام تر روحانی شادابی و پاکیزگی اور خداداد حشمت و شکوہ کے ساتھ آن پہنچی ہے اور ایمان و شوق سے معمور قلوب، کعبہ توحید اور مرکز اتحاد کے گرد پروانہ وار محو پرواز ہیں۔ مکہ، منا، مشعر اور عرفات ان خوش قسمت انسانوں کی منزل قرار پائے ہیں جنہوں نے “واذن فی الناس بالحج” کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدائے کریم و غفور کی ضیافت میں پہنچ کر سرفراز ہوئے ہیں۔ یہ وہی مبارک مکان اور ہدایت کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے اللہ تعالی کی بین نشانیاں ساطح ہوتی ہیں اور جہاں ہر ایک کے سر پر امن و امان کی چادر کھنچی ہوئی ہے۔ دل کو ذکر و خشوع اور صفاء و پاکیزگي کے زمزم سے غوطہ دیں۔ اپنی بصیرت کی آنکھ کو حضرت حق کی تابندہ آیات پر وا کریں۔ اخلاص و تسلیم پر توجہ مرکوز کریں کہ جو حقیقی بندگی کی علامت ہے۔ اس باپ کی یاد کو جو کمال تسلیم و اطاعت کے ساتھ اپنے اسماعیل کو قربانگاہ تک لے کر گئے، بار بار اپنے دل میں تازہ کیجئے۔ اس طرح اس روشن راستے کو پہچانئے جو رب جلیل کی دوستی کے مقام تک پہنچنے کے لئے ہمارے لئے کھول دیا گیا ہے۔ مومنانہ ہمت اور صادقانہ نیت کے ساتھ اس جادے پر قدم رکھئے۔
مقام ابراہیم انہیں آیات بینات میں سے ایک ہے۔ کعبہ شریف کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی قدم گاہ آپ کے مقام و مرتبے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، مقام ابراہیم در حقیقت مقام اخلاص ہے، مقام ایثار ہے، آپ کا مقام تو خواہشات نفسانی، پدرانہ جذبات اور اسی طرح شرک و کفر اور زمانے کے نمرود کے تسلط کے مقابل استقامت و پائيداری کا مقام ہے۔ نجات کے یہ دونوں راستے امت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہم سب افراد کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی جرئت، بہادری اور محکم ارادہ اسے ان منزلوں کی طرف گامزن کر سکتا ہے جن کی طرف آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیائے الہی نے ہمیں بلایا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں عزت و سعادت کا وعدہ کیا ہے۔ امت مسلمہ کی اس عظیم جلوہ گاہ میں، مناسب ہے کہ حجاج کرام عالم اسلام کے اہم ترین مسائل پر توجہ دیں۔ اس وقت تمام امور میں سرفہرست بعض اہم اسلامی ممالک میں برپا ہونے والا انقلاب اور عوامی قیام ہے۔ گذشتہ سال کے حج اور امسال کے حج کے درمیانی عرصے میں عالم اسلام میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو امت مسلمہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور مادی و روحانی عزت و پیشرفت سے آراستہ ایک روشن مستقبل کی نوید بن سکتے ہیں۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں بد عنوان اور دوسروں پر منحصر ڈکٹیٹر تخت اقتدار سے گر چکے ہیں جبکہ بعض دوسرے ممالک میں عوامی انقلاب کی خروشاں لہریں طاقت و دولت کے محلوں کو نابودی و ویرانی کے خطرے سے دوچار کر چکی ہیں۔
ہماری امت کی تاریخ کے اس تازہ باب نے ایسے حقایق آشکارا کئے ہیں جو اللہ کی روشن نشانیاں ہیں اور ہمیں حیات بخش سبق دینے والے ہیں۔ ان حقایق کو اسلامی امہ کے تمام اندازوں اور منصوبوں میں مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ سب سے پہلی حقیقت تو یہی ہے کہ جو اقوام کئی دہائیوں سے غیروں کے سیاسی تسلط میں جکڑی ہوئی تھیں ان کے اندر سے ایسی نوجوان نسل سامنے آئی ہے جو اپنے تحسین آمیز جذبہ خود اعتمادی کے ساتھ خطرات سے روبرو ہوئی ہے، جو تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے پر آ کھڑی ہوئي ہے اور حالات کو دگرگوں کر دینے پر کمربستہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں میں الحادی فکر کے حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں اور تسلط کے باوجود، دین کو مٹا دینے کی خفیہ و آشکارا کوششوں کے باوجود اسلام اپنے پرشکوہ اور نمایاں نفوذ و رسوخ کے ساتھ دلوں اور زبانوں کا رہنما بن گیا ہے اور دسیوں لاکھ کے مجمعے کی گفتار اور کردار میں چشمے کی مانند جاری ہے اور ان کے اجتماعات و طرز عمل کو تازگی اور گرمی حیات عطا کر رہا ہے۔ گلدستہائے آذان، عبادت گاہیں، اللہ اکبر کی صدائیں اور اسلامی نعرے اس حقیقت کی کھلی ہوئی نشانیاں اور تیونس کے حالیہ انتخابات اس حقیقت کی محکم دلیل ہیں۔ بلاشبہ اسلامی ممالک میں جہاں کہیں بھی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات ہوں گے نتائج وہی سامنے آئيں گے جو تیونس میں سامنے آئے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ اس ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات نے سب پر یہ واضع کر دیا ہے کہ خدائے عزیز و قدیر نے اقوام کے عزم و ارادے میں اتنی طاقت پیدا کر دی ہے کہ کسی دوسری طاقت میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرئت و توانائی نہیں ہے۔ اقوام اسی خداداد طاقت کے سہارے اس بات پر قادر ہیں کہ اپنی تقدیر کو بدل دیں اور نصرت الہی کو اپنا مقدر بنا لیں۔
چوتھی حقیقت یہ ہے کہ استکباری حکومتیں اور ان میں سر فہرست امریکی حکومت، کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور سیکورٹی کے حربوں کے ذریعے خطے کی حکومتوں کو اپنا تابع فرمان بنائے ہوئے تھی اور دنیا کے اس حساس ترین خطے پر بزعم خود اپنے روز افزوں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تسلط کے لئے ہر طرح کی رکاوٹوں سے محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھیں، آج اس خطے کی اقوام کی نفرت و بیزاری کی آماجگاہ بنی ہوئي ہیں۔
ہمیں یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان عوامی انقلابوں کے نتیجے میں تشکیل پانے والے نظام ماضی کی شرمناک صورت حال کو تحمل نہیں کریں گے اور اس خطے کا جیو پولیٹیکل رخ قوموں کے ہاتھوں اور ان کے حقیقی وقار و آزادی کے مطابق طے پائے گا۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کی منافقانہ اور عیارانہ طینت اس خطے کے عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔ امریکا اور یورپ نے جہان تک ممکن تھا مصر، تیونس اور لیبیا میں الگ الگ انداز سے اپنے مہروں کو بچانے کی کوشش کی لیکن جب عوام کا ارادہ ان کی مرضی پر بھاری پڑا تو فتحیاب عوام کے لئے عیارانہ انداز میں اپنے ہوٹوں پر دوستی کی مسکراہٹ سجا لی۔ اللہ تعالی کی روشن نشانیاں اور گراں قدر حقایق جو گذشتہ ایک سال کے عرصے میں اس خطے میں رونما ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں اور صاحبان تدبر و بصیرت کے لئے ان کا مشاہدہ اور ادراک دشوار نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود تمام امت مسلمہ اور خصوصا قیام کرنے والی اقوام کو دو بنیادی عوامل کی ضرورت ہے:
اول: استقامت کا تسلسل اور محکم ارادوں میں کسی طرح کی بھی اضمحلال سے سخت اجتناب۔ قرآن مجید میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اللہ کا فرمان ہے ” فاستقم کما امرت و من تاب معک و لا تطغوا” اور ” فلذلک فادع و استقم کما امرت” اور حضرت موسی علیہ السلام کی زبانی ” و قال موسی لقومہ استعینوا باللہ و اصبروا، ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبتہ للمتقین” قیام کرنے والی اقوام کے لئے موجودہ زمانے میں تقوی کا سب سے بڑا مصداق یہ ہے کہ اپنی مبارک تحریک کو رکنے نہ دیں اور خود کو اس وقت ملنے والی (وقتی) کامیابیوں پر مطمئن نہ ہونے دیں۔ یہ اس تقوی کا وہ اہم حصہ ہے جسے اپنانے والوں کو نیک انجام کے وعدے سے سرفراز کیا گيا ہے۔
دوم: بین الاقوامی مستکبرین اور ان طاقتوں کے حربوں سے ہوشیار رہنا جن پر ان عوامی انقلابوں سے ضرب پڑی ہے۔ وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ اپنے تمام تر سیاسی، مالی اور سیکورٹی سے متعلق وسایل کے ساتھ ان ممالک میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کے لئے میدان میں اتریں گے۔ ان کا ہتھیار لالچ، دھمکی، فریب اور دھوکہ ہے۔ تجربے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خواص کے طبقے میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر یہ ہتھیار کارگر ثابت ہوتے ہیں اور خوف، لالچ اور غفلت انہیں شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کی خدمت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ نوجوانوں، روشنفکر دانشوروں اور علمائے دین کی بیدار آنکھیں پوری توجہ سے اس کا خیال رکھیں۔
اہم ترین خطرہ ان ممالک کے جدید سیاسی نظاموں کی ساخت اور تشکیل میں کفر و استکبار کے محاذ کی مداخلت اوراس کا اثر انداز ہونا ہے۔ وہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ نو تشکیل شدہ نظام، اسلامی اور عوامی تشخص سے عاری رہیں۔ ان ممالک کے تمام مخلص افراد اور وہ تمام لوگ جو اپنے ملک کی عزت و وقار اور پیشرفت و ارتقاء کی آس میں بیٹھے ہیں، اس بات کی کوشش کریں کہ نئے نظام کی عوامی اور اسلامی پہچان پوری طرح یقینی ہو جائے۔ اس پورے مسئلے میں آئین کا کردارسب سے نمایاں ہے۔ قومی اتحاد اور مذہبی، قبایلی و نسلی تنوع کو تسلیم کرنا، آیندہ کامیابیوں کی اہم شرط ہے۔  مصر، تیونس اور لیبیا کی شجاع اور انقلابی قومیں نیز دوسرے ممالک کی بیدار مجاہد اقوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ امریکا اور دیگر مغربی مستکبرین کے مظالم اور مکر و فریب سے ان کی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن ان کے حق میں قائم ہو۔ مسلمانوں کو دنیا کو ہڑپ جانے کے لئے کوشاں ان طاقتوں سے اپنے تمام مسائل سنجیدگي سے طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کریں اور یہ اسلامی ممالک کے اتحاد، ہمدلی اور باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ عظیم الشان امام خمینی کی ناقابل فراموش نصیحت بھی ہے۔
امریکا اور نیٹو، خبیث ڈکٹیٹر قذافی کے بہانے کئی ماہ تک لیبیا اور اس کے عوام پر آگ برساتے رہے جبکہ قذافی وہ شخص تھا جو عوام کے جراتمندانہ قیام سے پہلے تک ان (مغربی طاقتوں) کے قریبی ترین دوستوں میں شمار ہوتا تھا، وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھیں، اس کی مدد سے لیبیا کی دولت لوٹ رہی تھیں اور اسے بے وقوف بنانے کے لئے اس کے ہاتھ گرم جوشی سے دباتی تھیں یا اس کا بوسہ لیتی تھیں۔ عوام کے انقلاب کے بعد اسی کو بہانہ بنا کر لیبیا کے پورے بنیادی ڈھانچے کو ویران کرکے رکھ دیا۔ کون سی حکومت ہے جس نے نیٹو کو عوام کے قتل عام اور لیبیا کی تباہی جیسے المیے سے روکا ہو؟ جب تک وحشی اور خون خوار مغربی طاقتوں کے پنجے مروڑ نہیں دیئے جاتے اس وقت تک اس طرح کے اندیشے قائم رہیں گے۔ ان خطرات سے نجات، عالم اسلام کا طاقتور بلاک تشکیل دیئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مغرب، امریکا اور صیہونیت ہمیشہ کی نسبت آج زیادہ کمزور ہیں۔ اقتصادی مشکلات، افغانستان و عراق میں پے در پے ناکامیاں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں عوام کے گہرے اعتراضات جو روز بروز وسیع تر ہو رہے ہیں، فلسطین و لبنان کے عوام کی جانفشانی و مجاہدت، یمن، بحرین اور بعض دوسرے امریکا کے زیر اثر ممالک کے عوام کا جراتمندانہ قیام، یہ سب کچھ امت مسلمہ اور بالخصوص جدید انقلابی ممالک کے لئے بشارتیں ہیں۔ پورے عالم اسلام اور خصوصا مصر، تیونس اور لیبیا کے باایمان خواتین و حضرات نے بین الاقوامی اسلامی طاقت کو وجود میں لانے کے لئے اس موقعہ کا بنحو احسن استعمال کیا۔ تحریکوں کے قائدین اور اہم شخصیات کو چاہئے کہ خداوند عظیم پر توکل اور اس کے وعدہ نصرت و مدد پر اعتماد کریں اور امت مسلمہ کی تاریخ کے اس نئے باب کو اپنے جاودانہ افتخارات سے مزین کریں جو رضائے پروردگار کا باعث اور نصرت الہی کی تمہید ہے۔
والسلام علی عباد اللہ الصالحین, سید علی حسینی خامنہ ای, 5 آبان 1390
29 ذیقعدہ 1432

اگر اس بات کو ذھن میں رکھا جائے کہ یہ ایک پادشاہت ہے اور سعودی وہابی حکومت درحقیقت پس پردہ یہودی صہیونی ریاست کو مضبوط اور قوی بنانے کے امریکی منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو معاملہ واضع ہو جاتا ہے اور اسکی واضع نشانی عراق، بحرین، ایران اور دوسرے اسلامی ممالک میں مداخلت اور پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدّت پسندی کا پھیلاؤ اور مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کو اختلافی بنانا ہے اور مکہ اور مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیھم السلام کی قبروں کو منہدم کرنا ہے۔  سعودی عرب میں انقلابی جوانوں نے ایک بیان جاری کر کے سعودی عوام سے احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق اس بیان میں آیا ہے کہ آل سعود کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک وپاکیزہ خاندان کے افراد کی قبروں کی مسماری کی برسی پر آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے جائيں۔  ادھر ایک سعودی مبصر فواد ابراہیم نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت ترقیاتی منصوبوں کے بہانے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں تاریخی اسلامی عمارتوں کو مسمار کرنے کے درپے ہے۔  انہوں نے کہا کہ آل سعود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضۂ اطہر کو بھی مسجد النبی سےخارج کرنے اور گنبد خضراء کو منہدم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور یہ مذموم منصوبہ آل سعود کے درباری ملا بن عثیمین نے بنایا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آل سعود نے اٹھاسی برس قبل مکہ اور مدینہ پر قبضہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پاک علیھم السلام کی قبروں کو منہدم کیا تھا۔  ادھر انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں تیس ہزار سیاسی قیدی ہیں۔ العالم ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس ان سعودی عریبیہ نامی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں تیس ہزار ایسے سیاسی قیدی موجود ہیں جن کو نہ تو ان کا جرم بتایا گيا ہے اور نہ ہی ان کی آزادی کی کوئي تاریخ کی جانب کوئي اشارہ کیا گيا ہے۔ اور ان میں بعض افراد ایسے بھی ہیں جو بغیر مقدمے کے سولہ برسوں سے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے زندگي گزار رہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق تمام جیلیں سعودی عرب کے سیکورٹی اور تفتیشی ادارے کے کنٹرول میں ہیں۔ اس لئے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے محقق دینا معمود نے بھی کہا ہے کہ سعودی عرب کے خفیہ ادارے اپنا کام چونکہ بہت زیادہ خفیہ رکھتے ہیں اس لۓ انسانی حقوق کی تنظیموں کا قیدیوں کی صحیح تعداد اور ان کے حالات کے آگاہ ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ مشرق وسطٰی کے امور کے ماہر زاید العیسٰی نے کہا ہےکہ سعودی عرب میں عوام کا ایک بڑا طبقہ غربت کا شکار ہے۔ زاید العیسٰی نے پریس ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ سعودی شہزادی بسما بنت سعود کے ان بیانات کی روشنی میں کہ آل سعود کی حکومت میں وسیع پیمانے پر بدعنوانیاں پائي جاتی ہیں اور اس ملک میں ایک بڑا طبقہ غربت کا شکار ہے، اب کسی طرح کا شک باقی نہیں رہتا کہ سعودی عرب میں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ سعودی عرب کی صرف پانچ فیصد آبادی تیل کی آمدنی سے بہرہ مند ہوتی ہے اور پچانوے فیصد لوگ غربت کا شکار ہیں اور یہ ایک غیر انسانی صورتحال ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ سعودی عرب میں اکثریت غربت کا شکار ہے اور سعودی عرب دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کو ڈرائيونگ کی اجازت نہیں ہے اور حکومت کی نظر میں خواتین دوسرے درجے کی شہری شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت عوام کے حقوق کو پامال کرتی ہے اور انسانی حقوق کو کوئي اہمیت نہیں دیتی۔زاید العیسٰی نے کہا کہ سعودی عرب دینا کے ان کچھ ملکوں میں ہے جہاں پریس کی آزادی، مذہبی آزادی یہان تک کہ انتخابات میں شرکت کرنے کی آزادی کا بھی فقدان ہے۔ زاید العیسی نے کہا کہ آل سعود کی پالیسیوں سے جو اس نے عوام کے مقابل اختیار کر رکھی ہیں یہ ملک بھی مستقبل قریب میں علاقے کے دیگر آمر ملکوں کے انجام سے دوچار ہو گا۔  ادھر بحرین میں چودہ فروری انقلاب کے اتحاد نامی دھڑے نے ایران کے خلاف سعودی عرب کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب سامراج اور صیہونیزم کے فائدے میں عرب ملکوں میں مداخلت کر رہا ہے۔ العالم کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے اس انقلابی دھڑے نے ایک بیان جاری کر کے بحرین میں سعودی عرب کی مداخلت نیز مشرق وسطی میں عرب قوموں کے انقلابوں کو ناکام بنانے کی آل سعود کی کوششوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شام میں آل سعود کی مداخلت اور شام میں بدامنی پھیلانے والوں کی حمایت جو کہ امریکہ اور صیہونی حکومت کے اشاروں پر جاری ہے، قابل مذمت ہے۔ بحرین کے اس انقلابی دھڑے نے سعودی وزیر داخلہ کے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا کہ ایران، سعودی عرب میں مداخلت کر رہا ہے بلکہ تاکید کی ہے کہ سعودی عرب نے بحرین میں اپنے فوجی اور ایجنٹ بھیج کر جنگي جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے اور سعودی عرب دیگر عرب ملکوں میں بھی مداخلت کر رہا ہے۔  چودہ فروری کے انقلاب کے اتحادی نامی بحرینی انقلابی گروہ کے بیان میں آیا ہے کہ سعودی عرب کی ظالم حکومت اسلامی بیداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے اور عرب قوموں کے انقلابوں کو سامراج اور صیہونیزم کے حق میں ہائي جیک کرنا چاہتی ہے، لیکن مصر، تیونس، یمن اور بحرین کی قومیں سعودی عرب کو تاريخی سبق سکھائيں گي۔ عراق کی حکمران پارٹی حزب الدعوۃ نے کہا ہے کہ سعودی عرب، عراق کے عوام کا قتل عام کر رہا ہے۔  العالم کی رپورٹ کے مطابق حزب الدعوۃ کے سینئر رکن علی الادیب نے بغداد میں ایک تقریب میں کہا کہ عراق کے بیشتر علاقوں میں سعودی عرب کے وہابی دہشتگرد سرگرم عمل ہیں اور سعودی عرب نے بار بار تکفیر فتوے جاری کر کے عراقیوں کے قتل عام میں حصہ لیا ہے۔ الادیب نے کہا کہ اس سے قبل بھی سعودی عرب نے اپنی شخصیات کو عراق میں دہشت گردی میں ملوث گروہوں کی مالی مدد و حمایت کرنے کی اجازت دی تھی۔ الادیب نے کہا کہ عراق کی بعض یونیورسٹیوں میں وہابی نظریات کی ترویج کی جاتی ہے۔ ادھر آل سعود نے دنیا کو تعجب میں ڈالتے ہوئے اپنے ملک میں مقیم شامی شہریوں کو اجازت دی ہے وہ دمشق کی حکومت کے خلاف مظاہرے کر سکتے ہیں۔ شام کے خلاف سعودی عرب کا یہ عجیب و غریب ردعمل ایسے عالم میں سامنے آ رہا ہے کہ تیونس اور مصر میں عوامی انقلابوں کی کامیابی کے بعد سعودی عرب میں عوام نے دسیوں مرتبہ مظاہرے کئے ہیں لیکن سعودی عرب نے عوامی مظاہروں کے خوف سے ہر طرح کے جلسے جلوس اور اجتماعات پر کڑی پابندیاں لگا دی ہیں۔  سعودی عرب کے شہزادے ولید بن طلال نے مصر کے معزول صدر حسنی مبارک اور اس کے خاندان والوں کے خلاف مقدمہ نہ چلاۓ جانے کے لۓ مصر کے حکام کو چار ارب ڈالر کی رشوت کی پیشکش کی تھی۔ ارنا نے وطن ویب سائٹ کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ مصر کے معزول صدر حسنی مبارک اور اس کے خاندان والوں سے قریبی تعلقات رکھنے والے سعودی عرب کے ارب پتی شہزادے ولید بن طلال نے مصر کے بعض حکام سے ملاقات میں ان کو تجویز پیش کی ہے کہ وہ چار ارب ڈالر دینے کو تیار ہیں اور اس کے بدلے میں مصر کے حکام کو حسنی مبارک اور اس کے خاندان والوں کے خلاف مقدمہ چلاۓ جانے کی روک تھام کرنا ہو گی۔  عراق، بحرین، ایران، شام اور دوسرے اسلامی ممالک میں مداخلت سے متعلق یہ چند خبریں ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی وہابی حکومت درحقیقت پس پردہ صہیونی ریاست کو مضبوط اور قوی بنانے کے امریکی منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہی ہے، پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدّت پسندی کے پھیلاؤ کے حوالے سے پاکستان بدنام ہے اور مسئلے کا سارا بوجھ اور الزام پاکستان پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 
یہ بات حیران کن ہے کہ مغربی ممالک ایک ایسے ملک پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کا الزام لگاتے ہیں جو کہ درجنوں ممالک اور بین الاقوامی اقتصادی اداروں کا قرضدار ہے، جسکے کروڑوں شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ مگر سعودی عرب کی طرف شک کی نگاہ بھی نہیں ڈالتے۔ سعودی پادشاہت نے ہمیشہ سے شدت پسند اسلامی نظریے کو پروان چڑھانے میں مدد کی ہے، اور تیل کی دولت سے مالا مل یہ ریاست نہ صرف دہشت گردوں کی نظریاتی مدد بلکہ مالی امداد کیلئے تو ضرور مشتبہ ہونی چاہیے۔ سعودی عرب کی ملا شاہی مذہبی جنونیت کی مسلسل پرورش کر رہی ہے۔ جب پاکستان، افغانستان، انڈیا، کینیا، انڈونیشیا میں یا کہیں اور بمب کئی جانیں لیتے ہیں تو ان دہشت گردوں کی مالی امداد کے ذرایع سعودی عرب ہی سے ہوتے ہیں۔ سعودی پادشاہت شدت پسندی کے نظریے کو پھیلانے، انتہا پسندی کی طرف اُکساہٹ اور ترغیب اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے معاملے میں غیر متزلزل طور پر مرکزی کردار ادا کرتی رہی ہے۔  اگر اس بات کی وجہ تلاش کی جاۓ کہ آخر مغربی ممالک کے تمام تر شکوک و شبہات پاکستان پر ہی کیوں ہیں اور وہ سعودی عرب کی طرف بند آنکھوں سے کیوں دیکھتے ہیں تو بہت سے جواب ملیں گے۔ ایک اہم وجہ مغربی ممالک کا تیل کی دولت سے مالا مال سعودی عرب میں ذاتی مفاد بھی ہے۔ سعودی اشراف دنیا کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ خود بھی اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں مگر یہ ایک کھوکھلا دعوی ہے، جسکا مقصد دہشت گردی میں خود ملوث ہونے کو چھپانا ہے۔ اگر اس بات کو ذھن میں رکھا جائے کہ  یہ ایک پادشاہت ہے اور سعودی وہابی حکومت درحقیقت پس پردہ یہودی صہیونی ریاست کو مضبوط اور قوی بنانے کے امریکی منصوبے کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو معاملہ واضع ہو جاتا ہے اور اسکی واضع نشانی عراق، بحرین، ایران اور دوسرے اسلامی ممالک میں مداخلت اور پاکستان اور افغانستان میں اسلامی شدّت پسندی کا پھیلاؤ اور مسلمانوں کے مسلمہ عقائد کو اختلافی بنانا ہے اور مکہ اور مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت علیھم السلام کی قبروں کو منہدم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے ان اقدامات کے خلاف سعودی عرب میں انقلابی جوانوں نے ایک بیان جاری کر کے سعودی عوام سے احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔..,…..تحریر:محمد علی نقوی 

فرانسیسی حکومت نے سڑکوں پر مذہبی اجتماعات منعقد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد جمعے کے دن سے شروع ہو گیا۔فرانسیسی حکومت کے اس فیصلے کے باعث ہزاروں کی تعداد میں فرانسیسی مسلمانوں نے جمعے کی نماز مختلف عمارتوں کے اندر ادا کی۔ فرانس کی وزارت داخلہ نے مسلمان شہریوں کو نماز ادا کرنے کے لیے عارضی عمارات فراہم کی ہیں اور کہا ہے کہ فیصلے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی برتی جائے گی۔ خیال رہے کہ فرانس میں چہرے کے نقاب پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ بعض مسلمان اور بائیں بازو کے حلقے حکومت کے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہیں۔ فرانس میں قریب پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں اور وہاں نماز ادا کرنے اور مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کے لیے عوامی جگہوں کی خاصی کمی ہے۔ اسی باعث فرانس کے بڑے شہروں میں مسلمان سڑک پر یا کھلے مقامات پر جائے نماز بچھا کر بھی نماز پڑھ لیتے ہیں۔ تاہم شدت پسند کرسچین حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ عمل ’فرانس کی اسلامائزیشن‘ کی وجہ بن رہا ہے۔ عورتوں کے نقاب کے حوالے سے بھی ایسے حلقوں کو شدید اعتراضات تھے۔ اس کے باوجود فرانس کے بعض حلقے، بالخصوص سیکولر اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سوشلسٹ افراد یہ کہتے ہیں کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ دوسری جانب بہت سے مسلم حلقوں نے حکومت کے تازہ فیصلے کو پسند بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق نماز اور مذہبی اجتماعات کے لیے سڑک جیسی جگہ ویسے بھی مناسب نہیں ہوتی اور عمارتوں کے اندر اس نوعیت کے اجتماعات احسن ہیں۔

اپنے بیان میں او آئی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک خود مختار ملک کے وزیراعظم کی جانب سے اس قسم کے گمراہ کن بیانات سے بدامنی پھیلے گی اسلام دہشتگردی کی اصطلاع اس طرح غلط ہے جس طرح کہ کرسچن دہشتگردی یا یہودی دہشتگردی، اسلام امن اور رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔  او آئی سی نے کینیڈا کے وزیراعظم سٹیفن ہارپر کی جانب سے حالیہ اسلام مخالف ہرزہ سرائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کینیڈین وزیراعظم جو اسرائیل کے حامی ہیں نے کہا تھا کہ اسلام دہشتگردی عالمی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس کے ردعمل میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو نے کینیڈا کے وزیراعظم کے بیان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے بیان سے صرف مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان غلط فہمیاں اور شکوک و شہبات جنم لیں گے جبکہ اس سے مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان نفرت اور دوریوں کو مٹانے کی عالمی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔ اپنے بیان میں او آئی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک خود مختار ملک کے وزیراعظم کی جانب سے اس قسم کے گمراہ کن بیانات سے بدامنی پھیلے گی اسلام دہشتگردی کی اصطلاح اسی طرح غلط ہے جس طرح کہ کرسچن دہشتگردی یا یہودی دہشتگردی، اسلام امن اور رحم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کو دوہرایا کہ او آئی سی ہر قسم کی دہشتگردی انتہا پسندی کیخلاف ہے اور ہمارا موقف اسلامی تعلیمات کی بنیاد پر ہے جو کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کو مسترد کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی کے رکن ملک دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور ہم نے بھاری مالی و جانی نقصان برداشت کیا ہے۔

انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصی اسرائیل کی جانب سے اسکے نیچے کھدائی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ شیخ حامد البیتاوی نے فلسطینی قوم، مسلمانان عالم اور عرب ممالک سے مسجد اقصی کو درپیش خطرات کا بھرپور انداز میں مقابلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کرانہ باختری میں فلسطینی اتھارٹی سے بھی مطالبہ کیا کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے ساتھ امن مذاکرات اور سکورٹی ہمکاری کو ختم کرے اور اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس کو اسرائیل کا مقابلہ کرنے میں آزاد چھوڑے۔ شیخ حامد البیتاوی نے تاکید کی کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین پر قبضہ کرنے کے بعد سے لیکر اب تک منصوبہ بندی کے ذریعے بیت المقدس کو یہودیانے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور مسجد اقصی کے نیچے کھدائی میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصی کے نیچے کھدائی کے باعث مسجد کی دیواروں اور ستونوں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور شہید ہونے کے قریب ہے۔ انجمن علمائے فلسطین کے سربراہ نے کہا کہ غاصب صہیونیستی رژیم مصنوعی زلزلے کے ذریعے مسجد اقصی کو مسمار کرنے اور اسکی جگہ یہودیوں کا معبد تعمیر کرنے کی مذموم سازش بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے کرانہ باختری میں دیوار بنا کر قدس شریف کو ہر طرف سے گھیر لیا ہے اور اس طرح اس مقدس شہر کو عرب مسلمانوں سے خالی کروا رہا ہے۔ شیخ حامد بیتاوی نے کہا کہ اسرائیل کرانہ باختری کے مسلمانوں کو مسجد اقصی جا کر نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دیتا جبکہ صہیونیست بستی نشینوں کو مسجد اقصی کے صحن تک جانے اور مسجد کی توہین کرنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔ شیخ حامد البیتاوی نے ملت فلسطین اور عرب و اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ سب متحد ہو کر مسجد اقصی کے حق میں مظاہرے کریں اور اپنی حکومتوں کو اسرائیل کے خلاف شجاعانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عرب اور اسلامی ممالک میں اسرائیلی سفارتخانوں کی کوئی گنجائش نہیں۔

ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری شعبہ فلاح و بہبود نثار فیضی کا کہنا ہے کہ کراچی میں فنڈ ریزنگ تحریک شروع کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ کراچی کی مخیر شخصیات اپنی سابقہ شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری فلاح و بہبودو انچارج خیر العمل فائونڈیشن نثار فیضی نے کراچی ڈویژن کا ایک روزہ تنظیمی دورہ کیا، اس دوران انہوں نے ایم ڈبلیو ایم کے کارکنوں اور عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں اور ان سے ایم ڈبلیو ایم کے شعبہ فلاح وو بہبود کی فعالیت اور دیگر تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے کہا کہ ماہ صیام میں دہشت گردوں کے مظالم کا نشانہ بننے والے محصورین پارا چنار کی امداد خصوصی اہمیت کی حامل تھی۔ الحمدللہ اس ضمن میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کام کیا اور قوم کے سامنے سرخرو ہوئی، انہوں نے کہا کہ اب ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے سندھ اور بلوچستان کے شدید بارشوں سے متاثرہ افراد کھلے آسمان تلے ہماری مدد کے منتظر ہیں، انشاء اللہ ایم ڈبلیو ایم امتحان کی اس گھڑی میں انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ نثار فیضی کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے بیس کیمپ کراچی میں تھا اور زندہ دلان کراچی نے اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متاثرین سیلاب کی بحالی کے لیے فلاحی خدمات کی نئی تاریخ رقم کی۔ نثار فیضی نے بتایا کہ امسال بھی طوفانی بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے کراچی میں مرکزی کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے اور انشاء اللہ اس ضمن میں بھر پور اور موثر مہم چلائی جائے گی، انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ علاقوں میں تسلسل کے ساتھ امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے ریلیف کیمپ قائم کیے جارہے ہیں جہاں آئندہ چند دنوں میں ایک ہزار خاندانوں کو خوراک کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ کراچی میں فنڈ ریزنگ تحریک شروع کر دی گئی ہے اور توقع ہے کہ کراچی کی مخیر شخصیات اپنی سابقہ شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری فلاح و بہبود نے اپنے اس دورہ کے دوران کراچی کی ممتاز سماجی شخصیات، اور جید علمائے کرام سے بھی ملاقاتیں کیں۔

آٹھ شوال ١٣٤٤ ؁ہجری کا دن تاریخ اسلام کا وہ سیاہ ترین دن ہے کہ جب ”فرقہ وہابیت ” سے تعلق رکھنے والے” آل سعود”نے مدینۃ النبی ؐپر قبضہ کرنے کے بعد اسلام کے تاریخی قبرستان اوراُ س میں موجود شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کی قبو ر ،بارگاہوں اور مزاروں کو مسمار ومنہد م کیا۔ جنت البقیع وہ قبرستان ہے کہ جس میں رسول اکرمؐکے اجداد ،اہل بیت ؑ ، اُمّہات المومنین ؓ،جلیل القدر اصحاب  ؓ،تابعین ؓ اوردوسرے اہم افراد کی قبور ہیںکہ جنہیں ٨٦ سال قبل آل سعود نے منہدم کر دیا کہ اُن میں سے تو اکثر قبور کی پہچان اور اُن کے صحیح مقام کی شناخت ممکن نہیں! یہ عالم اسلام خصوصاً شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائ، دانشوروں اوراہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اِن قبور کی تعمیرنو کیلئے ایک بین الاقوامی تحریک کی داغ بیل ڈالیںتا کہ یہ روحانی اور معنوی سرمایہ اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے اِس عظیم نوعیت کے قبرستان کی کہ جس کی فضیلت میں روایات موجو دہیں، حفاظت اورتعمیر نوکے ساتھ یہاں مدفون ہستیوںکی خدمات کا ادنیٰ سا حق ادا کرسکیں۔
تاریخ قبرستان جنت البقیع
٨/ شوال تایخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے کہ جب چھیاسی سال قبل ١٣٤٤ ؁ ہجری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کومنہدم و مسمارکر دیا تھا۔یہ دن تاریخ اسلام میں ”یوم الہدم ”کے نام سے معروف ہے ،یعنی وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو ڈھا کر اُسے خا ک میں ملا دیا۔جدّہ کے معروف عرب کالم نویس ”منال حمیدان”لکھتے ہیں: ”بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرم ؐ کے بعد اُن کے بہترین صحابہ کرامؓ دفن ہوئے اورجیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاںدس ہزار سے زیاد اصحاب رسول ؓمدفون ہیں کہ جن میں اُن کے اہل بیت ،اُمّہات المومنین ؓ…..،فرزند ابراہیم،چچا عباس بن المطلب ؓ،پھپھی صفیہ بنت عبدالمطّلب ؓ،اُن کے نواسے حسنؓ،اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمارشہر مدینہ کے اُن مزاروں میںہونے لگا کہ جہاں حجا ج بیت اللہ الحرام اوررسول اللہ ؐکے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاںنماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیا رت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ؐ نے وہاں کی زیارت کی اور وہان مدفو ن افرادپر سلام کیااوراستغفار کی دعا کی۔”(الشر ق الاوسط؛١٥/ ذی الحجہ ١٤٢٦ ؁ ہجری، شمارہ ٩٩٠٩) تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اِس قبرستان ”بقیع،بقیع الغرقد یا جنت البقیع” کی تاریخ، قبل از اسلام زمانے سے مربوط ہے لیکن تاریخی کتابیںاِس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیںلیکن اِس سب کے باوجود جو چیز مسلّم حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بقیع،ہجرت کے بعدشہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں”بنی حرام”اور”بنی سالم”میں دفن کیا کرتے تھے ۔(حجۃ الاسلام محمدصادق نجمی؛تاریخ حرم ائمہ بقیع ،صفحہ ٦١ )
بقیع میں مدفون شخصیات
اِس قبرستان میں اسلام کی اہم شخصیات میں ائمہ اربعہ تشیع(حضرت امام حسن مجتبیٰ ؑ ،حضرت امام زین العابدین ؑ، حضرت امام محمدباقر ؑاورحضرت امام جعفر صادق ؑ )کے علاوہ اور بھی شخصیا ت مدفون ہیں۔ علامہ سید محمد امین ؒ اِس بارے میں لکھتے ہیں: ”بقیع میں رسول اللہ ؐکے چچا حضرت عباس بن المطّلب ؒ بھی مدفون تھے ،اِسی طرح حضرت ختمی مرتبت ؐ کے والد امجد حضرت عبداللہ ؓ ، اُمّہات ُ المومنین ؓ،عثمان بن عفان ؓ، اسماعیل بن جعفر الصادق ؑاورمذہب مالکی کے پیشوا، امام ابو عبداللہ مالک بن انس الاصبحی ؓ (متوفی ١٧٩ ؁ ہجری )کی قبور کو بھی ویران کیا گیا ہے۔” (کشف الارتیاب؛صفحہ ٥٥) خلیفہ سوم عثمان بن عفان کے قتل کے بعدجب اُنہیں بقیع میں دفن ہونے سے روکا گیا تو اُنہیںبقیع سے باہر مشرقی حصے میں ”حش کوکب ” نامی حصے میں دفن کردیا گیالیکن معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں جب مروان بن حکم مدینے کا والی بناتو اُس نے حش کو کب اور بقیع کی درمیانی دیوار کو ہٹا کر اُن کی قبر کو اِسی قبرستان میں داخل کر دیا اورپتھر کا وہ ٹکڑا کہ جسے خود رسو ل اکرم ؐنے اپنے ہاتھوں سے حضرت عثما ن بن مظعون ؓکی قبر پر رکھا تھا،اُٹھا کر حضرت عثمان کی قبر پر رکھتے ہوئے کہا:”واللّٰہ لا یکون علی قبر عثمان بن مظعون حجرٌ یعرف بہ”(خد اکی قسم !عثمان بن مظعون ؓکی قبر پر کوئی نام ونشان نہ ہو کہ وہ اُس کے ذریعے سے پہچانی جائے)۔ (اُسد الغابۃ؛جلد ٣،صفحہ ٣٨٧۔تاریخ المدینہ ابن زبالہ نقل از وفاء الوفاء ؛جلد٣،صفحہ ٩١٤۔٨٩٤) اُمّہات المومنین ؓ میں حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ،حضرت ریحانہ بنت زبیر ؓ،حضرت ماریہ قطبیہ ؓ،حضرت زینب بنت جحش ؓ،اُم ّ حبیبہ بنت ابو سفیانؓ،حضرت سودہ ؓ اورحضرت عائشہؓ بنت ابو بکر مدفون ہیں۔اِس کے علاوہ حضرت ختمی مرتبت ؐکے فرزندابراہیم ؓ، حضرت علی ؑ کی والدہ ماجدہ حضر ت فاطمہ بنت اسد(س)، زوجہ حضرت اُمّ البنین (س)،حلیمہ سعدیہ ؓ، حضرت عاتکہ ؓ،عبداللہ بن جعفرؓ، محمد بن حنفیہ ؓ اورعقیل بن ابو طالب ؑ،نافع مولا عبد اللہ بن عمر شیخ القراء السبعہ ؓ(متوفی ١٦٩ ؁ہجری)کی قبور مبارکہ بھی وہاں موجودہیں۔ (البقیع؛یوسف الہاجری،صفحہ ٣٧۔مرآۃ الحرمین؛ابراہیم رفعت پاشا،صفحہ ٤٢٧۔آثار اسلامی مکہ ومدینہ؛صفحہ ٩٩۔تاریخ المعالم المدنیۃ المنوّرۃ ؛ سید احمد آل یاسین،صفحہ ٢٤٥۔طبقات القرای ؛جلد ٢،صفحہ ٣٣٠۔تہذیب التھذیب؛جلد ١٠ ،صفحہ ٤٠٧) اِس کے علا وہ یہاںمقداد بن الاسود ؓ،مالک بن حارثؓ،مالک اشتر نخعی ؓ،خالد بن سعیدؓ،خزیمہ ذو الشہادتینؓ،زید بن حارثہؓ(پیغمبر اسلام ؐ کا منہ بولا بیٹا)،سعد بن عبادہؓ،جابر بن عبداللہ انصاری ؓ،حسّا ن بن ثابت ؓ،قیس بن سعد بن عبادہؓاسعد بن زارہؓ،عبد اللہ بن مسعودؓاورمعاذبن جبل ؓسمیت دوسر ے جلیل القدر صحابہ اکرام ؓ بھی یہاںمدفون ہیں۔ (مستدرک حاکم؛جلد ٢،صفحہ ٣١٨۔سیرہ ابن ہشام ؛جلد ٣،صفحہ ٢٩٥۔) مؤرّخین او ر معروف سیاحوں کے نزدیک قبرستان بقیع کی تاریخ جنت البقیع ٤٩٥ ؁ہجری یعنی پانچویں صدی ہجری کے اواخر سے صاحب ِگنبد و بارگاہ تھا۔ معروف اہل سنّت اندلسی مؤرّخ ،سیاح،مصنف اورشاعر ابوالحسین محمدبن احمدبن جبیر (٥٤٠۔١٤ ٦ ہجری)جو ساتویں صدی ہجری میں حجاز کے اپنے سفرنامہ (تدوین شدہ ٨٧٥ ؁ ہجری)میں لکھتے ہے ”وہ سربفلک گنبد موجود بقیع کے ساتھ ہی واقع ہے۔” (رحلہ ابن جبیر؛مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ،صفحہ ١٥٣) ابن جبیر کے سفر کے ڈیڑھ سو سال بعد آٹھویںصدی ہجری میں ابن بطولہ نے شہر مدینہ کاسفر کیا اوراپنے مشاہدات کو یوں رقم کیا:”حرم ائمہ بقیع(ائمہ اربعہ اہل تشیع )میں موجود قبور پر دراصل ایک ایسا گنبد ہے جو سر بفلک ہے اور جو اپنے استحکام کی نظر سے فن تعمیر کا بہترین اورحیرت انگیز شاہکار ہے۔” (رحلہ ابن بطولہ؛صفحہ ٨٩) قرن معاصر کے معروف سفر نامہ” مرآۃ الحرمین ”کے مصنف ”ابراہیم رفعت پاشا ”جو ١٣١٨ہجری، ١٣٢٠ہجری، ١٣٢١ہجری اور ١٣٢٥؁ ہجری میںمصری حجاج کے قافلے کے امیر محافظ محمل کی حیثیت سے اپنے پہلے سفر حج اور اُس کے بعد امیر الحجاج کی حیثیت سے اپنے بعد کے سفر حج کے چار سفروں کو”مرآۃ الحرمین ” نامی سفر نامہ میں مفصل طور پر جنت البقیع کے منہدم کےے جانے سے اُنیس سال قبل لکھتے ہیں: ”عباس بن عبد المطّلبؓ،حسن بن علی – اور تین ائمہ (امام علی بن الحسین ؑ،امام محمد بن علی ؑاور امام جعفر بن محمد ؑ)ایک ہی گنبد کے نیچے مدفون ہیں،کا گنبد دوسروں سے بہت زیادہ اونچاہے۔” (مرآۃ الحرمین؛جلد ١،صفحہ ٤٢٦،طبع مصر ١٣٤٤ ؁ ہجر ی مطابق ١٩٢٥ ؁ عیسوی) جابری انصاری ،کتاب ِ”تاریخ اصفہان”میں ١٣٤٤ ؁ہجری کے واقعات کے ضمن میں وہابیوں کے ملک حجاز پر حملہ کرنے اوروہاں موجود اہم اسلامی شخصیات کی قبور اورمزارات کو منہدم کرنے کے بار ے میں لکھتے ہیں: ”حاجی امیر السلطنت کی جانب سے حکم دئیے جانے کے نتیجے میں ١٣١٢؁ ہجری میں د و سال کی مدت میںبنائی جانے والی ضریح کو وہاں (موجود ائمہ بقیع کی قبور)سے اُکھیڑ لیا گیا اورجب وہابیوںنے چاہا کہ وہ (قبرستان بقیع کو منہدم ومسمار کر نے کے بعد) حضرت ختمی مرتبت ؐکے حرم میں داخل ہوںتو اُن میں سے ایک نے ”یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیّ….”(اَے ایمان والو!نبی کے گھر میں داخل نہ ہو…)کی آیت کی تلاوت کی تو وہ اِس جسارت کو انجام دینے سے رُک گئے…..۔”(تاریخ اصفہان؛ صفحہ٩٢ ٣ ) میرزا محمدحسین فراہانی ؒ نے ١٣٠٢ ؁ہجری میں اپنے سفر حج میں بقیع اوراُس میں موجود ائمہ اربعہ کی زیارت کا احوال کچھ یو ں درج کیا ہے: ”قبرستان بقیع ایک بہت بڑا قبرستان ہے جو شہر مدینہ کے مشرق میںدروازہ ئسور سے متصل ہے…..یہ قبرستان حج کے موسم میںحاجیوں کیلئے ہر دن مغرب کے وقت تک کھلا رہتا ہے اورجو بھی اِس کی زیارت کرنا چاہے وہ اِس میں جا سکتاہے لیکن حج کے علاوہ یہ جمعرات کے زوال سے جمعہ کے غروب تک کھلا رہتا ہے۔ ائمہ اثنیٰ عشر کے چار امام ؑایک بڑے سے بقعہ(بارگاہ) میں جو ہشت ضلعی شکل میں بنایا گیا ہے، مدفون ہیں…. اِس بقعہ کی تعمیر کی صحیح تار یخ کا علم نہیںلیکن محمد علی پاشا مصری نے ١٢٣٤؁ ہجری میںسلطان محمود خان عثمانی کے حکم کے مطابق اِسے تعمیر کرا یا ہے اوراِس کے بعد سے تمام عثمانی سلاطین کی جانب سے یہ بقعہ اوراِس قبرستان میں واقع دیگر تمام بقعہ جات ہر سال مرمت و تعمیر کےے جاتے رہے ہیں۔ یہاں کچھ ”مقامات”مشہورہیںجو حضرت فاطمہ صدیقہ طاہرہ(س) کی قبر کے نام سے معروف ہیں،اُن میں سے ایک بقیع میں موجود حجرہ ہے جسے ”بیت الاحزان”کہا جاتا ہے اور اِسی وجہ سے یہاں آنے والے حجاج اور زائرین حضرت فاطمہ زہرا(س)کی زیارت پڑھتے ہیں۔یہاں موجود قبر کے سامنے سونے اورچاندی کے تاروں سے مزین ایک پردے کو گنبد کے چاروں طرف ڈالاہوا ہے اوراُس پر یہ عبارت درج ہے:سلطان احمد بن سلطان محمد بن سلطان ابراہیم(سنۃ اِحدي وثلاثین و مأۃ بعد الف ١١٣١ہجری)۔” (سفر نامہ فراہانی ؛صفحہ ٢٨١،طبع ١٣٦٢؁ شمسی ایرانی ،تدوین:مسعود گلزاری،چاپ چہارم) حاجی فرہاد میرزا ١٢٩٢؁ ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ ”ہَدْیَۃُ السَّبِیْل”میںلکھتے ہیں: ”میں باب ِ جبرئیل ؑسے باہر آکر ائمہ بقیع کی زیارت سے مشرف ہوا….متولّی نے ضریح کا دروازہ کھولااور میں اندر گیااورضریح کے گردچکر لگایا،وہاں پیر کی طرف کی جگہ بہت چھوٹی ہے کہ جہاں صندوق (قبر) اور ضریح کا درمیانی فاصلہ نصف ذراع سے بھی کم ہے۔ ”(ہَدْیَۃُ السَّبِیْل؛صفحہ ١٢٧) نائب الصدر شیرازی ١٣٠٥ ؁ ہجری میں اپنے سفر حج کے مشاہدات کو اپنے سفر نامہ”تُحْفَۃُ الْحَرِمَیْنِ” میں لکھتے ہیں: ”وادی بقیع داہنے ہاتھ پر واقع ہے جو ایک سر پوشیدہ مسجد ہے کہ جس (کے صدر دروازے )پریہ عبارت درج ہے:”ھٰذَامَسْجِدُ اُبَی بْنِ کَعْب وَصَلّیٰ فِیْہِ النَّبِیُّ غَیْرَ مَرَّۃ’ٍ’،(یہ مسجد اُبی بن کعب ہے کہ جس میںرسول اللہ ؐنے کئی مرتبہ نماز پڑھی ہے)۔یہاں امام حسن ؑ،امام زین العابدین ؑ،امام باقر ؑ اور اما م صادق ؑکی قبور مطہر ہ ایک ضریح میں دن دفن ہیں،اُس کے سامنے ایک پردے دار ضریح ہے کہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں حضرت فاطمہ زہر ا(س)مدفون ہیں۔” (تُحْفَۃُ الْحَرِمَیْنِ؛صفحہ ٢٢٧) معروف مدینہ شناس،مؤرّخ،محدث،رجال شناس اورادیب شافعی ابو عبد اللہ محب الدین محمد ”ابن نجار” (٥٧٨۔٤٣ ٦ ہجری)کہتا ہے. ”وَعَلَیْھَا بَابَانِ یَفْتَحُ اَحَدُھُمَا فِی کُلِّ یَوْم لِلزِّیَارَۃِ ”،قبرستان بقیع کے دو دروازے تھے کہ جن میں سے ایک دروازہ ہر دن زائرین کیلئے کھولا جاتا تھا۔(اخبار مدینۃ لرسول؛مکتبۃ دار الثقافۃ ،مکۃ مکرمۃ،صفحہ ١٥٣) قبرستان بقیع کی تعمیر،ضریح اورحرم کی منظر کشی قبرستان بقیع اپنی تاریخ میں تین مرتبہ تعمیر کیا گیا ہے۔معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہےں: ” بقیع پہلی مرتبہ ٥١٩ ؁ہجری میں ”اَلْمُسْتَنْصَر بِاللّٰہِ ”اورتیسری مرتبہ تیرہویں صدی کے اواخر میں ”سلطان محمود غزنوی” کے ذریعے سے تعمیر کیا گیا ہے۔یہاں موجود کُتبوں پر درج عبارتیں کہ جن کوسیاحوں نے اپنے اپنے سفر ناموں میں بیان کیا ہے،اِسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں۔” (رحلہ ابن جبیر؛مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ، صفحہ ١٧٣) ایک حقیقت! ایک نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ ائمہ بقیع پر حرم وبارگا ہ کی تعمیر ٥١٩ ؁ہجری سے قبل ہوئی تھی اوراُس کی اصلاح اور مرمت کا کام بعدمیں انجام دیا گیا تھا۔ مشہور مؤرّخ” سمہودی” ابن جبیر کی بات کے بر خلاف کہتا ہے: ”٥١٩ ؁ ہجری میں تعمیر شدہ بارگاہو گنبد کے وجود میں آنے کے پچاس سال بعد اِس حرم کی پہلی تعمیر عباسی خلیفہ ”مسترشد باللہ”کے حکم سے ہوئی ۔حضرت عباس بن عبد المطّلب ؓ کی قبر کے پاس طاق میں موجود ایک چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے:اِنَّ الْأمْرَ بِعملہ المُسْتَرشِد باللّٰہ تسع و عشرۃ و خمسمأۃ” ۔ (وفاء الوفاء ؛جلد٣ ،صفحہ ٩١٦) یہاں ایک اورنکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ اِس حرم کی اصل عمارت اِس تاریخ سے قبل ہے کہ جسے سمہودی نے بیان کیا ہے اورحرم کی تعمیرکااُس کا حکم اُس کی مرمت اور اصلاح کیلئے تھا۔دوسری بات یہ کہ مسترشد باللہ اُنتیسواں(٢٩)عباسی خلیفہ ہے جو ٥١٢ ؁ہجری میںاپنے باپ” مستظہر باللہ ”کے بعد خلافت کوحاصل کرتا ہے اور ٥٢٩؁ ہجر ی میں قتل کر دیاگیا۔ حرم ائمہ بقیع کی دوسری تعمیر و مرمت عباسی خلیفہ ”مستنصر باللّٰہ”کے حکم سے ٦٢٣؁ ہجری اور ٦٤٠؁ ہجری کے درمیانی عرصے میں انجام پائی ۔ سمہودی اِس بارے میں لکھتا ہے: ”حر م بقیع میں موجود محراب کے اوپر لگے ہوئے چھوٹے سے کُتبے پر یہ عبارت درج ہے:اَمر بعملہ المنصور المستنصر باللّٰہ” (وفاء الوفاء ؛جلد٣ ،صفحہ ٩١٦) مستنصر باللہ کا اصل نام منصور،کنیت ابو جعفرتھی ،وہ ”الظَّاہر باللّٰہ ”کا بیٹا تھااور وہ تیتیسوا ں(٣٣) عباسی خلیفہ ہے اور علامہ سیوطی ؒ کے قول کے مطابق وہ ٦٢٣؁ہجری میں خلافت حاصل کرتا ہے اور ٦٤٠ ؁ ہجری میں دار ِ فانی کووداع کہتا ہے۔(تاریخ الخلفائ؛صفحہ ٤٢٤) اِس حرم کی تیسری تعمیرتیرہوں صدی کے اوائل میںعثمانی خلیفہ سلطان محمود غزنوی کے حکم سے ہوئی ۔ ”فرہاد میزرا” ١٢٩٢ ؁ ہجری میں حج کی سعادت کے حاصل ہونے کے بعدبقیع کا حال کچھ یوں بیان کرتا ہے: ”بقیع میں بقعہ مبارکہ کی تعمیرنوسلطان محمود خان کے حکم سے ایک ہزار دوسو ہجری میں ہوئی،وہ سلطان محمد ثانی ہے جو تیسوواں عثمانی خلیفہ ہے۔سلطان محمود چوبیس سال کی عمر میں١٢٢٣ ؁ ہجری میں خلافت کو پہنچااور ١٢٥٥ ؁ ہجری میں انتقال کر گیا۔” (نامہ فرہاد میرزا؛چاپ مطبوعات علمی ١٣٦٦ شمسی ایرانی،تہران،صفحہ ١٤١)(رجوع کریں:قاموس الاعلام ترکی ؛جلد٦،صفحہ ٤٢٢٥؛فصلنامہ میقات ِ حج؛سال دوم ،شمارہ پنجم صفحہ ١١٨۔شمارہ ششم،زمستان ١٣٧٢ شمسی ایرانی) معروف سیاح اور مؤرّخ ابن جبیر اپنے سفر نامہ میں لکھتے ہےں:”قبرستان بقیع کے دو دروازے ہیں کہ جن میں سے ایک ہمیشہ بند رہتا ہے اور دوسرا درواز صبح سے غروب تک زائرین کیلئے کھلا رہتا ہے۔حرم بقیع” ہشت ضلعی ”ہے اوراِس کی دوسری خصوصیت اِس میںمحراب کا ہونا ہے نیزاِس حرم کے بہت سے خادم تھے ۔ دوسرے تمام حرموں کی مانند حرم ائمہ بقیع میں بھی ضریح ، روپوش،بڑے فانوس، شمعدان اور قالین موجود تھے۔” (رحلہ ابن جبیر؛مطبوع دار الکتاب اللُّبْنَانیہ،صفحہ ١٧٣) محمد لبیب مصری(بتنونی) ١٣٢٧ ؁ ہجری میں حجاز کے اپنے سفرنامہ ”رحلہ بتنونی” کے بارے میں لکھتے ہیں: ”ومقصورۃ سیِّدنا الحسن فیھا فخیمۃ جدّاًو ھی من النّحاس المنقوش بالکتابۃ الفارسیّۃ وأظنّ أنَّّھا من عمل الشّیعۃ الأعاجم”؛وہاں ”قُبَّہُ البین”نامی ایک معروف گنبد موجودہے کہ جس میں ایک حجر ہ موجود ہے اور اُس میں ایک گڑھا ہے کہ جس کے بارے میں یہ بات شہرت رکھتی ہے کہ یہاں آنحضرت ؐ کا دندانِ مبارک گرا تھا، اِس کے علاوہ امام حسن ابن علی کی قبر ایک اورقبہ(بارگاہ)کے نیچے واقع ہے کہ جسے تانبے کی دھات سے بنایا گیا ہے اوراُس پر فارسی رسم الخط کی کوئی عبارت درج ہے کہ جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ یہ عجمی شیعوں کی جانب سے لکھی گئی ہے۔ ” (رحلہ بتنونی؛مطبوعہ ١٣٢٩ ؁ مصر،صفحہ ٢٣٧)
پہلی ضریح:
”بتنونی”اِس بیان کی روشنی میںواضح ہو جاتاہے کہ یہ پہلی ضریح ہے کہ جسے ایرانیوں نے بنایا ہے۔ اگر یہ تقریبی گمان وخیال واقعیت رکھتے ہوںتواِس ضریح کی تقریبی ساخت کی تاریخ اور اِن کے بانیوں کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ائمہ بقیع کے بقعہ جات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ یہ ضریح پانچویں صدی ہجری کے دوسرے نصف میں”مجد الملک براوستانی ‘ ‘ کے حکم سے بنائی گئی ہے۔
دوسری ضریح:
سید اسماعیل مرندی اپنی کتاب”توصیف ِ مدینہ ”کہ جسے اُنہوں نے ١٢٥٥ ؁ ہجر ی میں تالیف کیا ہے، میں لکھتے ہیں: ”یہ پانچوں مطہر تن ایک ضریح میں دفن ہیں جو لکڑی کی جالی دار ضریح ہے اور عباس بن المطّلب ؓاِسی ضریح میںاِن کے سرہانے بالکل جد ادفن ہیں۔” یہ صرف وہ جسارتیں ہیں کہ جن کو صر ف بقیع کے مسمار کےے جانے کے ضمن میں بیان کیا گیاہے جبکہ آل سعود نے وہابی فرقے کی تعلیمات کے مطابق مکہ ،مدینے ،طائف اور دیگر بلاد ِاسلامی کے تمام تاریخی آثا ر ومزار اوربارگاہوں کو نابود کیا ہے کہ جن کا تعلق شیعہ وسنی مکاتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات سے ہے!فرقہ وہابیت کی تعلیمات سے آگاہی اوراُن کے شبہات کا جواب دینے کیلئے ایک الگ کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ عالم اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ کا ایک مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی اسناد و دستاویزات کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اوردورِ حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اِس بات کاسوال رہا ہے کہ وہ اِس تاریخی بے حرمتی پر کیوں خاموش ہیں؟

کراچی: مرکزی مجلس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری خطاب فرمائیں گے، دوران جلوس باجماعت نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کی جائے گی۔  21 رمضان شہادت امیرالمومینن امام علی (ع) کا روز ہے، اس سلسلے میں ملک بھر میں مجالس عزا کے اجتماع و جلوس برآمد کیے جائیں گے، کراچی میں یوم شہادت امام علی (ع) کی مرکزی مجلس نشتر پارک میں 11 بجے دن منعقد ہو گی جس سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکریٹری جنرل حجتہ السلام و المسلمین ناصر عباس جعفری خطاب فرمائیں گے، بعد از مجلس جلوس عزا برآمد کیا جائے گا، دوران جلوس شرکاء کے لئے آئی ایس او کراچی ڈویژن کے زیراہتمام باجماعت نماز ظہرین ایم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علی رضا کے سامنے ادا کی جائے گی، نماز کی امامت شیعہ علماء کونسل کے رہنما مولانا شہنشاہ حسین نقوی کریں گے۔ بعد از نماز گذشتہ برس کراچی میں یوم شہادت امام علی (ع) اور کوئٹہ میں یوم القدس پر ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کی عدم تحقیقات، کراچی میں حالیہ ٹارگٹ کلنگ، پاکستان میں بڑھتی ہوئی غیرملکی مداخلت، امریکی سفیر کمیرون منڑ کی مشکوک سرگرمیوں اور مشرق وسطیٰ بالخصوص بحرین، یمن، لیبیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے احتجاجی مظاہرہ امام بارگاہ علی رضا (ع) کے سامنے کیا جائے گا، جس کے فورا بعد جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان میں اختتام پذیر ہو گا، دوران جلوس اسکاؤٹ رابطہ کونسل میں شامل تمام اسکاؤٹس کے ادارے سیکورٹی و انتظامات سنبھالیں گے۔ درایں اثناء جلوس کی حفاظت کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، اس موقع پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کو تعینات کیا جائے گا، جبکہ جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی، بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ جلوس کے آگے اپنا فریضہ انجام دے گا۔ واضح رہے سال گذشتہ جلوس عزا میں ایمپریس مارکیٹ سے عزاداران پر فائرنگ کی گئی تھی جس کی وجہ سے کئی عزادار شدید زخمی ہو گئے تھے۔ لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کوئی خاطر خواہ کاروائی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، تاہم اس سال بھی ان اداروں کی جانب سے فول پروف سیکوریٹی کے دعوے تو کئے جا رہے ہیں، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں۔

آیت اللہ مکارم شیرازی نے دنیا کے مختلف ممالک میں جاری بحرانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے عالمی بحران رونما ہوتےہیں۔رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی ناصرمکارم شیرازی نے دنیا کے مختلف ممالک میں جاری بحرانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے عالمی بحران رونما ہوتےہیں۔ آیت اللہ مکارم شیرازی نے قم میں نماز گزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گناہ تمام بلاؤں کا سرچشمہ ہے۔ انھوں نے کہا ک مشرق اور مغرب کے حالات کو دیکھ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں بحران ہے امریکہ اور یورپی ممالک جو دنیا کے ثروتمند ممالک تھے وہ آج بحران کا شکار ہیں اور ان ممالک میں جاری بحرانوں کا سرچشمہ گناہ کا ارتکاب ہے۔

مولانا غلام رضا نقوی پر جھوٹے مقدمات کلئیر ہو چکے ہیں جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق پنجاب حکومت کی کوششوں سے رہا ہو جاتا ہے اور پنجاب حکومت دہشتگرد ملک اسحاق کے گھریلو اخراجات بھی برداشت کرتی ہے۔گذشتہ سولہ برس سے شیعہ کالعدم تنظیم سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ مولانا غلام رضا نقوی پولیس کی قید میں ہیں جن کو بھلا دیا گیا ہے جاری کردہ خصوصی رپورٹ کے مطابق مولانا غلام رضا نقوی کو سن 1996ء میں پنجاب سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان پر متعدد وہابی سلفی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ مولانا غلام رضا نقوی جو کہ سپاہ محمد کے سالار اعلیٰ تھے اور متعدد وہابی رہنماؤں کے قتل کے الزام میں پولیس کومطلوب تھے گذشتہ سولہ سال سے پولیس کی حراست میں قید ہیں ،مولانا غلام رضا نقوی ٣٠ قتل کے مقدموں میں مطلوب تھے اور ان کی گرفتاری پر بیس لاکھ روپے کا انعام رکھا گیا تھا۔ واضح رہے کہ سپاہ محمد سن 1993ء میں ضیاء الحق کی باقیات کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ہاتھوں انجام پانے اہل تشیع کے قتل عام کے رد عمل میں قائم ہوئی تھی لیکن علماء کرام، اسکالرز وغیرہ سب سپاہ محمد کی حمایت میں نہیں تھے لہذٰ ا علمائے کرام اور ذاکرین نے شیعہ حلقوں میں واضح طور پر کہا کہ اس تنظیم کا ملت جعفریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سپاہ محمد کا مرکز لاہور کے ایک علاقے ٹھوکر نیاز بیگ کے نام میں تھا، پولیس نے مولانا غلام رضا نقوی کو گرفتار کرنے کے لئے چار مرتبہ آپریشن کئے تاہم پولیس ان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی جبکہ ٹھوکر نیاز بیگ تاحال کالعدم سپاہ محمد کے مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ جب حکومت نے 80 سے زیادہ شیعہ افراد کے قتل میں ملوث اور سرکاری افسران کے قتل میں ملوث کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے سرغنے دہشت گرد اسحق کو رہا کر دیا ہے تو پھر مولانا غلام رضا نقوی کا کیا قصور ہے جنہیں سولہ سال سے قید میں رکھا گیا ہے اور ان پر کوئی کیس بھی ثابت نہیں ہوسکا ہے۔مولانا غلام رضا نقوی پر جو جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے تھے وہ کلئیر ہو چکے ہیں جبکہ کالعدم دہشت گرد تنظیم لشکر جھنگوی کا سربراہ ملک اسحاق پنجاب حکومت کی کوششوں سے رہا ہو جاتا ہے اور پنجاب حکومت دہشتگرد ملک اسحاق کے گھریلو اخراجات بھی برداشت کرتی ہے یقینا یہ پنجاب حکومت کا جو کہ سن 2008میں قائم ہوئی ہے کا دوہرا معیار ہے اور شیعہ و ملک دشمنی کا عملی ثبوت ہے۔واضح رہے کہ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے رہنما ملک اسحاق پر ستر سے زائد مقدمات قائم ہیں جن میں پنجاب حکومت نے براہ راست اسے ضمانت دینے میں مدد فراہم کیہے یہ بات حیرت انگیز ہے کہ پنجاب حکومت نے 80سے زائد قتل میں ملوث اور اغوا برائے تاوان اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنےوالے اس ملک دشمن اور شیعہ دشمن دہشت گرد کو کیوں ضمانت دلوائی ہے ؟یقینایہ سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن کو جھنجھوڑ رہاہے۔

راولپنڈی:ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری س کے یوم وفات پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ جب دین اسلام اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہا تھا، جب پیغمبر اکرم ص تن تنہا حق کی تبلیغ میں مصروف تھے، جب کفار و قریش اپنے مال و طاقت اور افرادی قوت سے نبی اکرم ص کے مقابل آگئے تو ایسے میں جناب خدیجہ الکبری س نے حضور اکرم ص سے اپنا دائمی رشتہ جوڑ کر ایسا غیرمتزلزل سہارا فراہم کیا جس کو خود پیغمبر گرامی ص نے سراہا۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ ملیکۃ العرب، ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری س نے خواتین میں سب سے پہلے اسلام قبول کر کے اور تصدیق رسالت کر کے ایک دانشمند خاتون ہونے کا ثبوت دیا۔ رسالت کی اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے انکے اقدامات، ان کی زیرکی کی بہت بڑی دلیل ہے۔ اپنے اس عمل اور اپنے جذبہ صادق سے اسلام کی بنیادیں استوار کیں۔ آپ نے اپنے پاکیزہ مال سے نبوت کو ایسا سہارا عطا کیا، جس کے بعد اسلام کو اطراف و اکناف عالم میں پھیلنے کا موقع ملا۔ ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری س کے یوم وفات پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جب دین اسلام اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہا تھا، جب پیغمبر اکرم ص تن تنہا حق کی تبلیغ میں مصروف تھے، جب کفار و قریش اپنے مال و طاقت اور افرادی قوت سے نبی اکرم ص کے مقابل آگئے تو ایسے میں جناب خدیجہ الکبری س نے حضور اکرم ص سے اپنا دائمی رشتہ جوڑ کر ایسا غیرمتزلزل سہارا فراہم کیا جس کو خود پیغمبر گرامی ص نے سراہا۔ چونکہ پیغمبر اکرم ص کی ذات اللہ کے راستے اور عبادت و ریاضت سے عبارت تھی جبکہ ام المومنین پیغمبر اکرم ص کے دکھ درد میں برابر شریک رہیں اور زندگی کے تمام فرائض میں بھرپور حصہ لیا۔ اسی لئے اس خاتون اول نے واقعی آنحضرت ص کی رفیقہ حیات ہونے کا ثبوت دیا، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طالب ع نے اپنی حشمت، مقام، قوت اور اپنی اولاد اور حضرت خدیجہ الکبری س نے اپنے پاکیزہ مال و دولت کے ذریعے شجر اسلام کو ایسی توانائی عطا کی کہ اس کا سایہ پوری کائنات پر پھیلا ہوا اور آج تک اسلام کی ترویج و ترقی حضرت خدیجہ الکبری س کی قربانیوں کی مرہون منت ہے۔  قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے تمام طبقات انہی متبرک و مقدس ہستیوں کے اعلٰی و پاکیزہ کردار سے سبق سیکھیں۔ جاگیردار، صنعت کار اور سرمایہ دار اپنے دین اور اپنے وطن کی خدمت کا درس حضرت خدیجہ الکبری س سے حاصل کریں۔ اپنا مال و دولت بھی حقیقی اسلام کی ترویج اور ملک و ملت کی فلاح کے لئے صرف کریں، اسی میں خوشنودی خدا و رسول خدا ص ہے اور اخروی نجات اور ملک کی کامیابی و ترقی کا راز مضمر ہے۔

راولپنڈی: مرکزی ترجمان کے مطابق عالم اسلام کے قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی اور صیہونی تسلط کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور مظلوم فلسطینی، لبنانی، دنیا بھر کے مستضعف مسلمانوں کے ساتھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حسب سابق امسال بھی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں یہ دن انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔  اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی اپیل پر چاروں صوبوں سمیت ملک بھر، آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں 26 اگست 2011ء جمعۃ الوداع کے موقع پر ”عالمی یوم القدس” منایا جائے گا۔ مرکزی ترجمان کے مطابق عالم اسلام کے قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی اور صیہونی تسلط کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے اور مظلوم فلسطینی، لبنانی، دنیا بھر کے مستضعف مسلمانوں کے ساتھ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے حسب سابق امسال بھی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں یہ دن انتہائی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر میں قدس سیمینارز، احتجاجی ریلیاں اور جلوس اور احتجاجی پراگرام منعقد کئے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں بھی القدس کمیٹی اسلام آباد، راولپنڈی اور جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کی طرف سے ایک بڑی احتجاجی ریلی دن 2 بجے میلوڈی چوک سے آبپارہ تک برآمد کی جائے گی، جس میں شیعہ علماء کونسل کے مرکزی و صوبائی عہدیداران، علمائے کرام، سیاسی شخصیات، طلباء تنظیموں کے نمائندگان اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے حضرات شرکت کریں گے۔

لاہور:  مجلس وحدت مسلمین کے وفد سے ملاقات میں سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ اسلام ہمیں اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور اگر تمام مسلمان حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو دہشت گردی سمیت جرائم کے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔  کیپٹل سٹی پولیس چیف احمد رضا طاہر نے کہا ہے کہ علماءِ کرام رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مذہبی منافرت کو ختم کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ سی سی پی او لاہور نے علماء پر زور دیا ہے کہ وہ بھائی چارے اور رواداری کے فروغ کیلئے عوام کو زیادہ سے زیادہ اسلامی تعلیمات سے آگہی کی تلقین کریں۔ احمد رضا طاہر نے کہا کہ اسلام ہمیں اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے اور اگر تمام مسلمان حقیقی معنوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں تو دہشت گردی سمیت جرائم کے واقعات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ سی سی پی او نے کہا کہ لاہور پولیس کے جوانوں نے دہشت گردی اور جرائم کیخلاف جہاد میں نہ صرف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا بلکہ بہادری کی انمٹ مثالیں بھی پیش کی ہیں۔ وہ گزشتہ روز سی سی پی او آفس میں شیعہ علما ء کے 10 رکنی وفد سے بات چیت کر رہے تھے، جنہوں نے ان سے مجلسِ وحدت مسلمین کے رہنما الحاج حیدر علی مرزا کی سربراہی میں ملاقات کی۔  اس موقع پر ایس ایس پی ایڈمن طارق عباس قریشی اور ایس ایس پی ڈسپلن اینڈ انسپکشن شارق کمال جبکہ وفد کے ارکان میں الحاج حیدر علی مرزا، حسنین عارف، ابوذر مہدوی، احمد اقبال رضوی اور دیگر موجود تھے۔ سی سی پی او نے علماء سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ علماء کرام وطنِ عزیز میں مذہبی رواداری، بھائی چارے اور یگانگت کی مثالی فضا کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے اور دہشت گردی او رمنافرت کے خاتمے کیلئے حکومت سے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔  سی سی پی او نے کہا کہ دہشت گرد اور جرائم پیشہ افراد انسانیت کے دشمن ہیں اور معصوم انسانوں کے جان و مال سے کھیلنے والوں کیلئے کوئی رعایت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کو بے نقاب کرنے اور کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے معاشرے کے تمام طبقوں خصوصاً علمائے کرام کو اپنا بھرپور کردا ر ادا کرنا ہو گا اور ہر محب وطن شہری کو ملک میں امن و امان اور بھائی چارے کے فروغ کیلئے ہم آہنگی کا پیغام پہنچانا ہو گا۔  اُنہوں نے کہا کہ علماء کرام نے صوبائی دارالحکومت میں بھائی چارے اور مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے جو گرانقدر خدمات سرانجام دی ہیں وہ انتہائی قابلِ ستائش ہیں۔ اجلاس میں علماء کی جانب سے مذہبی رواداری کے فروغ کیلئے مختلف تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اس موقع پر شیعہ علماء کرام کے وفد نے سی سی پی او احمد رضا طاہر کو یقین دلایا کہ وہ ملک کے استحکام اور دہشت گردی سمیت تمام سنگین جرائم کے خاتمے کیلئے پولیس سے بھرپور تعاون کریں گے اور تمام ایسے مذموم عناصر کے عزائم کو خاک میں ملا دیں گے جو ملک میں بدامنی اور انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔

پاراچنار: ہزاروں عاشقان حسینی کی شرکت خط امام و فکر شہید حسینی پر عمل پیرا ہونے کا عزممقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ قائد شہید پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور نظریہ ولایت فقیہہ کے سفیر تھے۔ قائد شہید نے کربلا کے راستے پر چلتے ہوئے اگر ایک طرف وقت کے ڈکٹیٹر ضیاءالحق اور اس کے سرپرست شیطان بزرگ امریکہ کے عزائم خاک میں ملا دیئے، تو دوسری طرف شہید باقر الصدر کے اس فرمان کہ امام خمینی میں ایسے ضم ہو جاؤ، جس طرح امام خمینی اسلام میں ضم ہو گئے تھے، کی عملی تفسیر تھے  دنیا بھر کے اکثر ممالک اور پاکستان کے مختلف حصوں کی طرح عاشقان شہید حسینی نے پاراچنار میں بھی شہید کی 23 ویں برسی عقیدت و احترام سے منائی۔ مدرسہ خامنہ ای پاراچنار میں شہید کی 23 ویں برسی کی مناسبت سے منعقدہ اجتماع میں کرم ایجنسی کے مختلف حصوں سے ہزاروں عاشقان حسینی نے شرکت کی۔ برسی کے اجتماع سے سابق سینیٹر اور مدرسہ خامنہ ای کے مہتمم علامہ سید عابد حسین الحسینی و دیگر علمائے کرام و مقررین نے خظاب کیا۔  مقررین نے اپنی تقاریر میں کہا کہ قائد شہید پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور نظریہ ولایت فقیہہ کے سفیر تھے۔ قائد شہید نے کربلا کے راستے پر چلتے ہوئے اگر ایک طرف وقت کے ڈکٹیٹر ضیاءالحق اور اس کے سرپرست شیطان بزرگ امریکہ کے عزائم خاک میں ملا دیئے، تو دوسری طرف شہید باقر الصدر کے اس فرمان کہ امام خمینی میں ایسے ضم ہو جاؤ، جس طرح امام خمینی اسلام میں ضم ہو گئے تھے، کی عملی تفسیر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امام امت امام خمینی رہ نے قائد شہید کی شہادت پر جاری اپنے پیغام میں قائد شہید کی شہادت کو اپنے روحانی فرزند سے محروم ہونے سے تعبیر کیا اور شہید عارف الحسینی کو فرزند صادق سید الشہدا قرار دے کر پاکستان کے غیور عوام کو افکار شہید حسینی کو زندہ رکھنے کی تاکید فرمائی۔  علمائے کرام و مقررین نے خط امام خمینی و فکر شہید حسینی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔ برسی کے عظیم اجتماع میں چند قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن کے مطابق امام خمینی کے نمائندے، ولی فقیہہ امر المسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی بابصیرت قیادت و رہبری میں انقلاب امام مہدی عجل کے لئے کوششییں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ پاراچنار کا پانچ سالہ غیر انسانی محاصرہ و ناکہ بندی ختم کرنے اور ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی اور جارحیت کے مرتکب طالبان دہشتگردوں اور اس ظلم میں شریک حکومتی و سیکورٹی فورسز کے افسران کو کڑی سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور قرارداد میں صدہ، جلمئے، چاردیوار، لوئر کرم ایجنسی اور خیوص اپر کرم ایجنسی سے جبری طور پر بے دخل کئے گئے طوری بنگش اقوام کو آئی ڈی پیز کا درجہ دینے اور فاٹا کے دیگر علاقوں میں موجود آئی ڈی پیز کی طرح سہولیات و مراعات دے کر ان کی اپنے آبائی علاقوں میں آباد کاری کے بندوبست کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

بلتستان ڈویژن میں اسد عاشورہ مذہبی عقیدت و احترام اور جوش و جذبے سے منایا گیا، اسکردو میں علم، تعزیہ اور ذوالجناح کے ماتمی جلوس برآمد ہوئے اور گلگت بلتستان کے طول و عرض سے آئے ہوئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد عزاداروں نے امام مظلوم علیہ السلام کی یاد میں ماتم اور سینہ زنی کی

اوسلو … ناروے میں بم دھماکے اور یوتھ کیمپ پر فائرنگ میں مارے جانے والوں کی یاد میں مسجد اور چرچ میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں۔سیکڑوں افراد نے اظہار یکجہتی کے لیے مسجد سے چرچ تک سفر کیا،گزشتہ جمعے کو اسلام مخالف انتہا پسند کے حملوں میں مارے جانے والوں میں دو مسلمان افراد بھی شامل تھے، 18 سالہ بانو راشد اور اسماعیل حاجی احمد کے لیے اوسلو کی مرکزی مسجد میں دعائیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ناروے کے وزیر اعظم جینس اسٹولٹن برگ اور ناروے کے ریاستی چرچ کے بشپ نے بھی شرکت کی۔ بعد ازاں سیکڑوں افراد نے مسجد سے چرچ تک ریلی نکالی اور وہاں یادگار پر پھول چڑھائے۔ اسلامک کونسل آف ناروے کے سیکریٹری جنرل مہتاب افسر کے مطابق ریلی کا مقصد یہ ظاہر کرنا تھا کہ مذہب، ثقافت اور رنگ و نسل کے اختلافات کے باوجود تمام انسان ایک ہیں اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مسلمان اقلیت میں ہونے کے باوجود ناروے کے سماج کا ایک لازمی جزو ہیں۔

دنیا بھر کے اسلامی راہنماوں کو سامنے رکھ کر اگر آیت اللہ خامنہ ای کی پاکستان کے لیے دلسوزی اور ہمدردی کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی اور کو پاکستان سے اتنی دلچسپی نہیں ہے جتنی انھیں ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک حقیقی اسلامی رہبر ہیں اور ان کا دل تمام عالم ِ اسلام کے لیے دھڑکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت بھی ایسی ہی وسعت نظری اپنائے۔ اپنے حقیقی دوستوں اور دشمنوں کو پہچانے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں اکٹھی ہو جائے، نیز سارے عالم ِ اسلام کے درد کو اپنا درد جانے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عالم ِ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کو سمجھے۔ آج کوئی بھی مسلمان ملک اکیلا ایسے دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، جو بیک وقت سارے عالمِ اسلام پر حملہ آور ہیں۔  اسلامی جمہوریہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای عالمِ اسلام کے لیے خاص وژن رکھتے ہیں جس کا اظہار وقتاً فوقتاً ان کے اقدامات اور خطبات سے ہوتا رہتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے حال ہی میں بہت مختصر عرصہ میں ایران کے دو دورے کیے ہیں۔ ان مواقع پر بھی آیت اللہ خامنہ ای نے پاکستان اور عالم ِ اسلام کی مشکلات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بھی ان کا ایک خاص وژن ہے، جو نہایت واضح اور جامع ہے۔ عالم ِ اسلام میں آیت اللہ خامنہ ای کو جو بلند مقام حاصل ہے اس کے پیش نظر ان کے وژن کا جائزہ لینا پاکستانی قوم کے لیے یقیناً مفید اور قابل استفادہ ہے۔ اس کا اظہار پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور پاکستان کے رہنماوں کے مختلف مواقع پر جاری کردہ بیانات اور ردِ عمل سے بھی ہوتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کے نظریات کی اہمیت پاکستان کی مین سٹریم (Mainstream) سیاسی قیادت اور مذہبی رہنماوں کے لیے بہت زیادہ ہے۔ یہ اہمیت اس لیے بھی ہے کہ انقلابی ایران پاکستان کا ہمسایہ ہے۔  پیشِ نظر سطور میں ہم آیت اللہ خانہ ای کے پاکستان کے حوالے سے وژن کے چند پہلووں کا جائزہ لیتے ہیں: آیت اللہ خامنہ ای کے نزدیک بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور حکیم الامت، مصور پاکستان علامہ اقبال کی شخصیات عالم ِ اسلام کی عظیم اور قابل ِ احترام شخصیات میں سے شمار ہوتی ہیں۔ انھوں نے مختلف مواقع پر علامہ اقبال کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے ایک مقالے میں کہا کہ میں اقبال کا مرید ہوں۔ انھوں نے کہا کہ علامہ اقبال عالم ِ مشرق کا بلند ستارہ ہیں۔ 17 جولائی کو حال ہی میں صدر ِ پاکستان آصف علی زرداری سے اپنی ایک ملاقات میں انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کی طویل جدوجہد میں محمد علی جناح اور علامہ اقبال جیسی شخصیات نے اپنے جلوے بکھیرے ہیں اور اس جدوجہد کی نمایاں خصوصیت پاکستانی عوام کی اسلام سے گہری وابستگی ہے۔ انھوں نے اپنی کئی تقریروں میں قائد اعظم محمد علی جناح کو تحریک ِ آزادی کا ایک عظیم ہیرو قرار دیا ہے۔ پاک ایران دوستی کی بنیادوں کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای بہت واضح موقف رکھتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری ہی سے ملاقات میں انھوں نے ایک مرتبہ پھر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کے مابین گہرے دینی، تاریخی اور ثقافتی مشترکات موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ تہران اور اسلام آباد کے مابین تمام پہلووں میں روابط کو قوی بنانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی کوئی بھی ترقی اور پیشرفت اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے باعث مسرت ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای پاک ایران تعلقات کو فقط تاریخی، ثقافتی اور مذہبی اشتراکات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ یہ روابط تمام تر استعداد کے مطابق سیاسی اور اقتصادی حوالے سے بھی ترقی کریں۔ انھوں نے بہت پہلے فروری 2007ء میں صدر ِ پاکستان کے دورہ ایران کے موقع پر ان سے ملاقات میں کہا کہ ایران گیس کے ذخائر سے مالا مال ہے۔ ہم تیار ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں بشمول پاکستانی قوم کو اپنے وسائل فراہم کریں۔  آیت اللہ خامنہ ای پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بارے میں مسلسل اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مئی 2009ء میں پاکستان اور افغانستان کے صدور سے اپنی مشترکہ ملاقات کے موقع پر انھوں نے کہا کہ انتہا پسندی نے نہ صرف خطے کی قوموں اور حکومتوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی تھریٹ (Threat) کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی نظر میں اس انتہا پسندی کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے اور اس بات کا اظہار وہ بے لاگ کرتے رہتے ہیں۔ 6 جون کو صدر آصف علی زرداری سے اپنی ملاقات میں انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں تفرقہ پیدا کر کے اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے، لیکن واشنگٹن کے ناپاک عزائم سے پاکستانی عوام کی آگہی اور بصیرت انھیں ناکام بنا دے گی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کی تسلط پسندی پاکستانی قوم کی زیادہ سے زیادہ استقامت کا باعث بنے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوم کو مسائل اور مشکلات سے نجات دلانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ پاکستان اسلام اور اسلامی تعلیمات سے جڑا رہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور اس ملک کی قومی وحدت کا حقیقی دشمن مغربی ممالک خصوصاً امریکہ ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے جب سے موجودہ منصب سنبھالا ہے کئی مرتبہ کشمیریوں کی مظلومیت کا ذکر کیا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کشمیر کو ہمیشہ عالمِ اسلام کا ایک اہم مسئلہ گردانا ہے۔ یہاں تک کہ انھوں نے گذشتہ حج کے موقع پر عالم ِ اسلام کے نام اپنے ایک پیغام میں عالمِ اسلام کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ کشمیر کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس پیغام پر پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی طرف سے کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت جموں و کشمیر کے بہادر عوام کی جدوجہد کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ ترجمان نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی حمایت بہت واضح اور کشمیری عوام کے لیے ان کا موقف دو ٹوک ہے۔ 
یاد رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے اس پیغام پر بھارتی حکومت نے بہت سخت رد عمل ظاہر کیا اور نئی دہلی میں ایرانی سفیر کو طلب کر کے ان سے سخت احتجاج کیا۔ بھارتی حکومت کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا بیان بھارت کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے۔ بہرحال آیت اللہ خامنہ ای اپنے موقف پر قائم رہے اور ایرانی حکومت نے ان کے موقف کو ان کی اسلامی حیثیت کا تقاضا قرار دیا۔ آیت اللہ خامنہ ای پاکستان کی مشکلات میں پاکستانی عوام کی مدد کے لیے ہمیشہ پیش گام رہے۔ گذشتہ برس کے ہولناک سیلاب کے موقع پر انھوں نے پورے عالم ِ اسلام کے نام اپنے ایک خصوصی پیغام میں پاکستانی عوام کی مدد کے لیے اپیل کی۔ انھوں نے اپنی اپیل میں کہا:
اے عظیم امت اسلامیہ ! سیلاب کے المناک حادثے نے پاکستان کے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کو عظیم اور دردناک مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ سیلاب کی وسعت میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تباہ کن سیلاب میں پاکستان کے شمال سے لے کر جنوب تک بہت سے علاقے زیر ِ آب آ گئے ہیں اور اس سے کئی ملین افراد متاثر اور بے گھر ہوئے ہیں۔ یہ المناک حادثہ اتنا وسیع ہے کہ اس کی وجہ سے امداد رسانی کے کاموں میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ہماری امداد کا حجم جتنا بھی زیادہ ہو وہ پاکستانی عوام کی بے پناہ ضرورت کے پیش نظر بہت ہی کم ہے۔ ان دشوار اور مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم اسلامی اخوت اور برادری کی بنیاد پر اپنی ذمہ داری پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاکستانی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ آیت اللہ خامنہ ای یہ یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کی طرف سے عائد ہونے والی موجودہ مشکلات سے سرخ رُو ہو کر نکلے گا۔ اس کا اظہار انھوں نے اپنے کئی ایک خطبوں میں کیا ہے۔ اکتوبر2008ء میں عید الفطر کے موقع پر انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی عراق کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں، افغانستان میں مشکلات سے دوچار ہیں اور اب پاکستان میں بھی ان کی مداخلت شروع ہو گئی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہمارے ہمسایہ ملک میں ان کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں، لیکن یہاں بھی ہزیمت ہی ان کا مقدر بنے گی۔ دنیا بھر کے اسلامی راہنماوں کو سامنے رکھ کر اگر آیت اللہ خامنہ ای کی پاکستان کے لیے دلسوزی اور ہمدردی کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ کسی اور کو پاکستان سے اتنی دلچسپی نہیں ہے جتنی انھیں ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک حقیقی اسلامی رہبر ہیں اور ان کا دل تمام عالم ِ اسلام کے لیے دھڑکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت بھی ایسی ہی وسعت نظری اپنائے۔ اپنے حقیقی دوستوں اور دشمنوں کو پہچانے اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمنوں کی سازشوں کے مقابلے میں اکٹھی ہو جائے، نیز سارے عالم ِ اسلام کے درد کو اپنا درد جانے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی عالم ِ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں کو سمجھے۔ آج کوئی بھی مسلمان ملک اکیلا ایسے دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، جو بیک وقت سارے عالمِ اسلام پر حملہ آور ہیں۔……تحریر:ثاقب اکبر

ہئیت علمی طلاب جامعۃ النجف” کے زیر اہتمام “نظریہ ولایت فقیہ کا تحقیقی جائزہ اور اس کا پس منظر، پیش منظر اور اثرات” کے حوالے سے سیمینار منعقد کیا گیا۔ منعقدہ سیمنار سے حجۃ الاسلام سید جواد نقوی، مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے سکریٹری جنرل حجۃ الاسلام حافظ نوری و دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔

حضرت امام مہدی (ع) پندرہ شعبان دوسو بچپن ہجرى میں عراق کے شہرسامراء ميں پیدا ہوئے آپ (ع) كى والدہ ماجدہ كا نام نرجس خاتون اور آپ (ع) كے والد امام حسن عسكرى عليہ السلام ہیں آپ (ع) كے والد نے پيغمبر اسلام(ص) كے نام پر آپ (ع) كا نام محمد (ص) ركھا، حضرت امام مہدی (عج) پیغبمر اسلام کے بارہویں جانشین ہیں  تاریخ اسلام کے حوالے سے نقل کیا ہے کہحضرت امام مہدی (ع) پندرہ شعبان دوسو بچپن ہجرى میں عراق کے شہرسامراء ميں پیدا ہوئے آپ (ع) كى والدہ ماجدہ كا نام نرجس خاتون اور آپ (ع) كے والد امام حسن عسكرى عليہ السلام ہیں آپ (ع) كے والد نے پيغمبر اسلام(ص) كے نام پر آپ (ع) كا نام محمد (ص) ركھا۔ حضرت امام مہدى (ع) ، قائم اور امام زمانہ (عج) كے نام سے مشہور ہيں پيغمبر اكرم (ص) بارہويں امام (ع) كے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ امام حسين (ع) كا نواں فرزند میرا ہم نام ہوگا اس كا لقب مہدى ہوگا اس كے آنے كى ميں مسلمانوں كو خوشخبرى سناتا ہوں۔آئمہ علیھم السلام فرماتے ہیں کہ حضرت  امام مہدى (ع) بہت طويل زمانہ تك نظروں سے غائب رہیں گےاور طولانی  غيبت كے بعد اللہ تعالی انھیں ظاہر كرے گا اور وہ دنيا كو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ امام زمانہ (عج)  پيدائش  كے وقت سے ہى ظالموں كى نگاہوں سے غائب تھے خدا وند متعال اور پيغمبر اسلام (ص) كے حكم سے عليحدہ زندگى بسر كرتے تھے صرف بعض قابل اعتماد دوستوں  كے سامنے ظاہر ہوتے تھے اور ان سے گفتگو كرتے تھے حضرت امام حسن عسكرى (ع) نے اللہ تعالى كے حكم اور پيغمبر اكرم (ص) كى وصيّت كے تحت آپ (ع) كو اپنے بعد لوگوں كا امام معيّن فرمايا۔ حضرت مہدی(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے روز قیام کے سلسلے میں مختلف روایتیں پائی جاتیں ہیں بعض میں نو روز کا دن قیام کے آغاز کا دن ہے دیگر روایت میں روز عاشورہ ۔کچھ روایتوں میں سنیچر کا دن اور کچھ  روایات میں قیام  جمعہ کے دن ہے ۔ ایک ہی زمانے میں نو روز اور عاشورا کے درمیان اشکال نہیں ہے اس لئے کہ نو روز شمسی اعتبار سے اور عاشورا قمری لحاظ سے حساب ہو جائے گا۔ لہٰذادو روز کا ایک ہونا ممکن ہے۔اور ان دو روز (عاشورا و نو روز) کا ایک زمانہ میں واقع ہونا ممکن ہے۔  امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ہمارے قائم جمعہ کے دن قیام کریںگے ۔امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ حضر ت قائم عاشور کے دن شنبہ کو رکن و مقام کے درمیان کھڑے ہیں اور جبرئیل (ع) آنحضرت کے سامنے کھڑے لوگوں کو ان کی بیعت کی دعوت دے رہے ہیں۔(۱)امام محمد باقر(علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: روز عاشورہ شنبہ کے دن حضرت قائم(عجل اللہ تعالی فرجہ٘) قیام کریں گے یعنی جس دن امام حسین (علیہ السلام) شہید ہوئے ہیں۔  نیز آنحضرت  ﷺ فرماتے ہیں کہ: کیا جانتے ہو کہ عاشور ہ کون سا دن ہے ؟ یہ وہی دن ہے جس میں خداوند عالم نے آدم و حوا کی توبہ قبول کی۔اسی دن خدا نے بنی اسرائیل کے لئے دریا شگاف کیا اور فرعون اور اس کے ماننے والوں کو غرق کیا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون پر غالب آئے اسی دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے توبہ او ر جناب عیسی (علیہ السلام) کی ولادت اور حضرت قائم (عجل اللہ تعالی فرجہ٘) کے قیام کا دن ہے۔اسی مضمون کی امام محمد باقر (علیہ السلام) سے ایک دوسری روایت بھی نقل ہوئی ہے۔ لیکن اس روایت میں ابن بطائنی کی وثاقت جو سلسلہ سند میں واقع ہوا ہے مورد خدشہ ہے ۔ امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ: تیسوئیں کی شب حضرت مہدی (عجل اللہ  تعالی فرجہ٘) کے نام سے آواز آئے گی اور روز عاشورا حسین بن علی کی شہادت کے دن قیام کریں گے۔ اسی طرح آنحضرت فرماتے ہیں کہ :نوروز کے دن ہم اہل بیت(علیہم السلام )کے قائم ظہور کریں گے۔

اس ہفتہ تہران میں نماز جمعہ کے خطبوں سےقبل انٹیلیجنس کے وزيرعوام سے خطاب کریں گے۔ نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اس ہفتہ تہران میں نماز جمعہ کے خطبوں سےقبل انٹیلیجنس کے وزيرحجۃ الاسلام حیدر مصلحی عوام سے خطاب کریں گے۔ مصلحی اپنے خطاب میں گمنام سپاہی کی خصوصیات کی تشریح کریں گے

گلگت: مقررین نے کہا کہ سیرت حضرت علی اکبر علیہم السلام تمام جوانوں کیلئے نمونہ عمل ہے، جس کو اپناتے ہوئے نوجوان اسلامی نظریات کے تحفظ اور ملک عزیز پاکستان کے استحکام کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کریں۔  مرکزی امامیہ مسجد گلگت میں متحدہ شیعہ طلباء محاذ گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں تمام اراکین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ شیعہ طلباء محاذ کے صدر نے کہا کہ اس پر آشوب دور میں جوانوں کی فکری تربیت کرنا نہایت لازمی ہے۔ 11 شعبان المعظم یوم ولادت باسعادت حضرت شہزادہ علی اکبر ع کی مناسبت سے متحدہ شیعہ طلباء محاذ گلگت بلتستان نے نوجوانوں کی فکری و نظریاتی تربیت کیلئے ایک اہم پروگرام بعنوان “سیرت علی اکبر ع” کنونشن کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع مقررین نے کہا کہ سیرت حضرت علی اکبر علیہم السلام تمام جوانوں کیلئے نمونہ عمل ہے، جس کو اپناتے ہوئے نوجوان اسلامی نظریات کے تحفظ اور ملک عزیز پاکستان کے استحکام کیلئے ہر اول دستے کا کردار ادا کریں، کیونکہ کربلا والوں نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ دین مبین پر مشکل وقت آجائے تو کم سن، جوان اور بوڑھوں کی کیا ذمہ داری بنتی ہے۔

ونزوئلا میں دو افراد نے اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانہ میں پہنچ کراسلام قبول کرلیا ہے ۔

یکم شعبان ولادت با سعادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا تمام عالم اسلام اور  خاص کرمولا علی اور جناب زھراء اور رسول خدا،  امام حسن، امام حسین علیہ السلام اورجناب گلثوم اور زمانے کے امام وارث آل محمد امام زمانہ کی خدمت میں ان کی جدہ گرام جناب ثانی زہراء کی ولادت کی مبارک باد پیش کرتے ہوئےجناب زینب سلام اللہ علیہا ؛ شکوہ صبر و اقتدار اور شخصیت کے دیگر پہلوں کا ایک مقالہ پیش خدمت ہے…..تاریخ اسلام میں ایک ایسی عظیم المرتبت خاتون کا نام افق فضل و کمال پر جگمگا رہا ہے کہ جس کی شخصیت اعلیٰ ترین اخلاقی فضائل کا کامل نمونہ ہے ۔ایسی خاتون جس نے اپنے نرم و مہربان دل کے ساتھ مصائب کے بارگراں کوتحمل کیا ۔لیکن اس بی بی کا عزم محکم حق و حقیقت کے دفاع کی راہ میں ذرّہ برابر متزلزل نہ ہوا ۔جی ہاں گفتگو ثانی زہرا(س) حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے سلسلے میں ہورہی ہے جنہوں نے اپنی گرانقدر حیات طیبہ اسلام اور اس کی حقیقی اقدار کے تحفظ میں گزاردی ۔ خدا کا درود و سلام ہو اس باعظمت خاتون پر جس نے اپنے خطبوں سے اپنے دور میں ناانصافی کی بنیادوں کو ہلاک کررکھ دیا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی تاریخ  ولادت با سعادت یکم شعبان کے موقع پرآپ سب کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہوئے دین اسلام کی اس عظیم خاتون کے سلسلے میں یہ مقالہ قارئین کی نذر ہے ۔
ثانی زہرا (س) حضرت زینب کبریٰ (س) کی شخصیت کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جاسکتا ہے ۔یقینی طور پر جس نے پیغمبر اسلام (ص) حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ زہرا (س) جیسی الہی و آسمانی شخصیات کے دامان فضيلت میں تربیت پائي ہو یقینی طور پر اس کی ذات اعلیٰ ترین اور گرانقدر خصوصیات سے آراستہ ہوگی قطعی طور پر آپ جانتے ہیں کہ حضرت زینب (س) کی حیات طیبہ کی زندگی کا ایک اہم باب کربلا کی جاودانہ تحریک اور قیام عاشورا سے مربوط ہے ۔اموی حکام کے فسق و فجور ، ظلم و ناانصافی اور بدعنوانیوں کے خلاف تحریک کے تمام مراحل میں حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کے ساتھ ساتھ رہیں ۔اپنے بھائی امام حسین (ع) سے حضرت زینب (س) کی محبت اور قلبی لگاؤ کی مثال تاریخ پیش نہیں کرسکی ۔روایتوں میں ملتا ہے کہ جب تک آپ روزانہ اپنے بھائی کا دیدار نہ کرلتیں انہیں سکون میسر نہیں ہوتا ۔لیکن خداوند وحدہ لاشریک سے حضرت زینب (س) کا عشق الہی ناقابل توصیف ہے ۔ایسا عشق الہی جو آپ کو فرامین الہی پر عمل اور اس کے نفاذ کے لئے سعی و کوشش کی دعوت دیتا اسی لئے حضرت زينب (س) نے رفاہ و آسائش کی زندگی اور راحت دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور اپنے بچوں کے ہمراہ ظلم و جہالت کے خلاف جد وجہد کی راہ میں در پیش مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔اسی لئے جب سرزمین کربلا میں طوفان حوادث و بلا کا مقابلہ کیا تو خدا کے حضور تسلیم و رضا کا اعلیٰ ترین نمونہ پیش کیا ۔حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے عزیزوں کی قربانیوں اور بچوں کو راہ خدا میں قربان کردینے جیسے انتہائی مشکل حالات میں خداوند عالم کے لطف و رحمت کے سایہ میں پناہ لیں اور یوں خدا کے حضور سجدہ ریز ہوکر اپنے درد و غم کا مداوا کرتیں ۔آپ نماز و نیایش کے ذریعہ دوبارہ ہمت و حوصلہ پائیں اورانوارالہی اس طرح آپ کے قلب مطہر میں جلوہ افروز ہوئے کہ دنیا کے مصائب و آلام ان انوار الہیہ کے مقابلے میں ہوا ہوجاتے ۔امام حسین علیہ السلام اپنی بہن زینب (س) کے اخلاص و بندگی کے اس درجہ قائل تھے کہ جب آپ عصر عاشورا رخصت آخر کے لئے بہن کے پاس تشریف لائے توفرمایا میری بہن زینب (س) نماز شب میں مجھے فراموش نہ کرنا ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی صبر و شکیبائی کا مرقع ہے ۔حضرت زینب (س) نے کربلا کے میدان میں اپنے بھائي بھتیجوں ، بچوں اور عزیزوں کی شہادت کے بعد صبر کا سہارا لیا البتہ یہ اپنی تسکین کے لئے نہیں بلکہ صبر کا سہارااس لئے لیا کہ اپنے اعلیٰ مقاصد کو عملی جامہ پہنا سکیں ۔ ان کا صبر با مقصد تھا ،چنانچہ تیر وتلوار سے لیس دشمنوں کا ظاہری رعب و دبدبہ خاک میں مل گيا ۔حضرت زینب (س) اس قدر فصیح و بلیغ خطبہ بیان فرماتیں کہ آپ کے ایک ایک جملے لوگوں کے دلوں میں اتر جاتے ۔آپ گھر میں ،مسجد میں اور جہاں بھی ممکن ہوتا لوگوں کے درمیان خطبہ دیتیں تاکہ امام حسین (ع) کا مشن بھلایا نہ جاسکے اور ان کی تحریک ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہوجائے ۔ اسیری کے بعد جب حضرت زينب (س) دیگر اسیران اہل حرم کے ہمراہ دربار یزید میں لائی گئیں تو آپ نے اپنے بے مثال خطبے سے جس سے شجاعت اور پائمردی کا بھر پور اظہار ہورہا تھا سب کو ششدر کرکے رکھ دیا آپ نے اپنے خطبے میں فرمایا : اے یزيد اگر چہ حادثات زمانہ نےہمیں اس موڑ پرلاکھڑا کیا ہے اور مجھے قیدی بنایا گیا ہے لیکن جان لے میرے نزدیک تیری طاقت کچھ بھی نہیں ہے ۔خدا کی قسم ، خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی ہوں اوراس کے سوا ، کسی اور سے گلہ و شکوہ بھی نہیں کروں گی ۔اے یزید مکر و حیلے کے ذریعہ تو ہم لوگوں سے جتنی دشمنی کرسکتا ہے کرلے ۔ ہم اہل بیت پیغمبر (ص) سے دشمنی کے لئے تو جتنی بھی سازشیں کرسکتا ہے کرلے لیکن خدا کی قسم تو ہمارے نام کو لوگوں کے دل و ذہن اورتاریخ سے نہيں مٹاسکتا اورچراغ وحی کو نہیں بجھا سکتا تو ہماری حیات اور ہمارے افتخارات کو نہیں مٹا سکتا اور اسی طرح تو اپنے دامن پر لگے ننگ و عار کے بدنما داغ کو بھی نہیں دھوسکتا ، خدا کی نفرین و لعنت ہوظالموں اور ستمگروں پر حضرت زینب (س) واقعہ کربلا کے بعد زیادہ عرصے حیات نہیں رہیں لیکن اسی مختصر سے عرصے میں کوشش کی کہ لوگوں کے ذہنوں پر پڑے جہالت و گمراہی کے پردے کو ہٹادیں اور انہیں غفلت سے نجات دلادیں اوراسی طرح معاشرے میں اہل بیت پیغمبر (ص) کے محوری کردار کو اجاگر کریں ۔آپ (س) لوگوں کو پیغمبر (ص) کی تعلیمات کے تناظر میں اپنی اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ فرماتیں ۔حضرت زینب (س) نے ایک مضبوط مبلغہ و مدبّرہ کی حیثیت سے اپنی ٹھوس اورسنجیدہ تدبیروں کے ذریعہ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد کے واقعات اورحالات کو اس طرح سے سنبھالا کہ پوری کائنات کے لئے امام حسین (ع) اور ان کے مشن کی حقانیت واضح کردی حضرت زینب (س) اپنے بھائی امام حسین (ع) کی شہادت کے تقریبا” ڈیڑھ سال بعد 15 رجب المرجب 62 ہجری کودرجہ شہادت پر فائز ہوئیں ۔حضرت زینب (س) کی شہادت کی تاریخ کی مناسبت سے آپ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہوئے ایک معروف اسلامی مورخ ابن جاحظ کے ایک قول سے اپنے پروگرام کو پائہ اختتام تک پہنچاتے ہیں ابن جاحظ حضرت زينب (س) کے بارے میں کتاب البیان و التبیین میں لکھتے ہیں ۔زینب (س) لطف و مہربانی کے اعتبار سے اپنی مادر گرامی ، اورعلم و تقویٰ کے لحاظ سے اپنے پدر بزرگوار کی تصور تھیں ۔آپ کا بیت الشرف درس و تدریس کا ایک اہم مرکز تھا جو خواتین علم یا فقہ حاصل کرنا چاہتیں وہ حضرت زينب (س) کے حضور زانوئے تلمّذتہ کرتیں ۔

اٹھائیس رجب بمناسبت روانگی اہل بیت علیہم اسلام از مدینہ تا کربلا کے عنوان سے ملک بھر میں عزاداری کے اجتماعات منعقد کئے جا رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق اٹھائیس رجب المرجب کی مناسبت سے ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں میں سفر کربلا کے آغاز کے عنوان سے مجالس و جلوس ہائے عزاء کے اجتماعات منعقد کئے جا رہے ہیں ۔واضح رہے کہ اٹھائیس رجب سن ساٹھ ہجری کو حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ سے سفر کربلا کا آغاز کیا تھا تا کہ فاسق و فاجر ملعون یذید سے اسلام کی پامالی کو بچایا جائے۔کراچی میں اٹھائیس رجب کی مناسبت سے تمام مساجد و امام بارگاہوں میں مجالس عزاء کا انعقاد کیا گیا ہے جبکہ مرکزی جلوس عزاء جعر طیار سوسائٹی ملیر میں نکالا جا رہاہے جہاں پر شہر بھر سے لاکھوں عزادران امام حسین علیہ السلام شریک ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام کی عظیم قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے نوحہ خوانی و سینہ زنی کر رہے ہی

پاراچنار: دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی شب معراج عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس موقع پر انفرادی عبادات کے علاوہ مساجد و امام بارگاہوں میں مظلومین جہاں بالخصوص فلسطین، کشمیر، بحرین اور پاراچنار کے لئے اجتماعی دعائیں کی گئیں۔   دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی قبائلی علاقہ جات سمیت شب معراج عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ اس حوالے سے پانچ سال سے محصور “پاکستانی غزہ” پاراچنار کی مساجد و امام بارگاہوں کے علاوہ محاذ و مورچوں میں دفاع میں مصروف افراد نے بھی دعا و مناجات کا بھرپور اہتمام کیا۔ جس میں مظلومین جہاں بالخصوص فلسطین، کشمیر، بحرین اور پاراچنار کے لئےاجتماعی دعائیں گی گئیں۔  ملک بھر میں شب معراج انتہائی عقیدت و احترام اور مذہبی جوش وجذبے کے ساتھ منائی گئی، شب معراج کے سلسلے میں پنجاب، سندھ خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں کی مساجد میں عبادات، نوافل، روحانی محافل اور خصوصی دعاوٴں کا اہتمام کیا گیا۔ علمائے کرام و خطیب حضرات نے شب معراج کے سلسلے میں منعقدہ محافل میں معجزہ معراج النبی ص کے واقعات اور نبی آخرالزماں کے اس عظیم المرتبت سفر کے مدارج تفصیل سے بیان کیے۔ اس موقع پر مساجد اور دیگر مقامات پر چراغاں بھی کیا گیا، رجب کی 27 ویں شب کو اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر بلا کر معراج کا شرف عطا کیا تھا۔

اسکردو: بزرگ و معروف عالم دین نے کہا کہ آئی ایس او کے نوجوان دُنیا بھر میں جہاں پر بھی ظلم ہو رہا ہو، مظلوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ظالم کے ساتھ اظہار نفرت کے لئے ہر وقت تیار اور ہر اول دستے کی صورت میں نظر آتے ہیں، اہل تشیع کو جب بھی مشکلات پیش آئی، اپنی جانوں کا نذانہ پیش کرتے ہوئے اس الہی دین کی بقاء کے لئے ہمہ وقت چوکس ہیں   بانی آئی ایس او پاکستان علامہ آغا سید علی الموسوی نے “الموسوی ہاوس حسین آباد” میں آئی ایس او کے کارکنان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس او کے نوجوان میری آنکھون کا نور اور میرے بال و پر ہیں، یہ نوجوانان مجھے میری اولاد سے عزیز ہیں اور نہ صرف مجھے بلکہ تمام علمائے دین حتٰی کہ رہبر جہان آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای کے دل کے اندر بھی ان نوجوانوں کے لئے ایک خاص مقام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صالح، متقی اور منظم نوجوان عزم ولایت کے پرچم تلے اس کٹھن اور دشوار دور میں گرمی ہو یا سردی، امن ہو یا جنگ یعنی ہر میدان چاہے ملکی سرحدوں کا ہو یا نظریاتی سرحدوں کا، یہ نوجوان سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔   اُنہوں نے کہا کہ آئی ایس او کے نوجوان دُنیا بھر میں جہاں پر بھی ظلم ہو رہا ہے، مظلوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ظالم کے ساتھ اظہار نفرت کے لئے ہر وقت تیار اور ہر اول دستے کی صورت میں نظر آتے ہیں، اہل تشیع کو جب بھی مشکلات پیش آئی، اپنی جانوں کا نذانہ پیش کرتے ہوئے اس الہی دین کی بقاء کے لئے ہمہ وقت چوکس ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں آئی ایس او کے نوجوان پوزیشن ہولڈر ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ آئی ایس او کے نوجوانوں سے ہمیں توقع ہے کہ جس طرح، جس دن سے حسینی ع چراغ لے کر وہ اس دنیا کے کٹھن راستے پر رواں ہیں اسی طرح آنے والے کل بھی اسی عزم کے ساتھ رواں دواں رہیں گے۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی کمیٹی برائے “استقلال پاکستان کنونشن” کا اجلاس چئیرمین کنونشن علامہ محمد امین شہیدی کی زیر صدارت مرکزی دفتر اسلام آباد میں منعقد ہوا ،جس میں کمیٹی کے جملہ اراکین نے شرکت کی۔  اجلاس میں قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی 23  ویں برسی کے حوالے سے منعقد کئے جانے والے استقلال پاکستان کنونشن و حمایت مظلومین ریلی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور اس تاریخی اجتماع کو یادگار بنانے کے لیے مختلف تجاویز و آراء کی روشنی میں سفارشات مرتب کی گئیں۔  اجلاس میں بتایا گیا کہ فرزندان اسلام کا یہ عظیم اجتماع 24 جولائی کو منعقد ہو گا جس میں ملک کے طول و عرض سے آنے والے لاکھوں فرزندان ملت جعفریہ اپنے شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کریں کے۔  اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ امین شہیدی نے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی شخصیت و کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ علامہ عارف حسین الحسینی شہید عظیم مذہبی شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی مدبر اور قومی و بین الاقوامی افق پر رونما ہونے والی تبدیلیوں پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز راہنما اور ملت اسلامیہ کا سرمایہ تھے۔  انھوں نے کہا کہ قائد شہید نے ایک محب وطن پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اتحاد بین المسلمین اور جذبۂ حب الوطنی کے فر وغ کے لیے کام کیا۔  انھوں نے کہا کہ ظالم سے نفرت اور مظلوموں کی حمایت ان کا نصب العین تھا اور شہید قائد کی برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے افکار و نظریات کو زندہ رکھا جائے، انشاء اللہ ایم ڈبلیو ایم کی زیر نگرانی منعقد ہونے والا استقلال پاکستان کنونشن قائد شہید کے افکار و نظریات کا آئینہ دار ثابت ہو گا۔