پارلیمنٹ ہاوس پر”گہرے سیاہ بادل“ چھائے ہوئے ہیں

Posted: 23/12/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir

وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔قومی اسمبلی کا اجلاس سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کی تقریبات کے باعث ایک ہفتے کے لئے ملتوی ہو گیا ہے۔ جمعرات کے اجلاس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا خطاب معمول کا خطاب نہیں تھا۔ قبل ازیں وہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں قائداعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے تقریب سے خطاب کر کے آئے تھے وہ اس تقریب میں بین السطور بہت کچھ یہ کہہ کر آئے تھے۔ لیکن انہوں نے رہی سہی کسر قومی اسمبلی کے اجلاس میں نکال دی، انہوں نے پہلی بار کھل کر حکومت کو لاحق خطرات کا ذکر کیا ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت کو ختم کرنے (pack up) پیک اپ کی سازش کی جا رہی ہے، اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ انہیں منتخب لوگ چاہئیں یا آمریت۔   جب وزیراعظم گیلانی ایوان میں آئے تو انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں اسٹیبلشمنٹ کو للکارا، حکومتی ارکان کو جو پچھلے کئی روز سے میمو گیٹ سکینڈل سے پیدا ہونے والی صورتحال سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں وزیراعظم کے طرز کلام پر حیران و ششدر تھے ان کو جمہوری نظام کی بساط لپٹتے دکھائی دے رہی تھی جبکہ اپوزیشن، مسلم لیگ (ن) حکومت کی بے بسی کو انجوائے کر رہی تھی، لیکن اس مشکل صورتحال قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان جمہوری نظام کے استحکام کے لئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور ان کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔  انہوں نے جمعرات کو ہی وزیراعظم کی پارلیمانی قوت بڑھا دی اور کہا کہ وہ ایک بار پھر حکومت کو اس بات کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ ملک میں ایسے غیر جمہوری اقدام کی حمایت نہیں کرتے، اگر حکومت کو غیر مستحکم کرنے اور گھر بھجوانے کے لئے غیر جمہوری اقدام کی حمایت کرنا ہوتی تو تین سال قبل کرتے، جب آصف علی زرداری ہم سے اور ایسٹبلشمنٹ سے وعدہ خلافی کر کے خود صدارتی امیدوار بن گئے۔ وزیراعظم گیلانی پچھلے چند دنوں سے حکومت اور ایسٹبلشمنٹ کے باہم شیر و شکر ہونے کی نوید دے رہے تھے، لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے وہ دباو کی صورت میں پھٹ پڑے ہیں، وہ محسوس کر رہے ہیں کہ موجودہ حکومت شاید ہی 2012ء کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکے۔   یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے بجائے ایک ہفتہ کی چھٹی دے دی اور 29 دسمبر کی شام پانچ بجے اجلاس بلا لیا وزیراعظم ایوان میں گویا ہوئے، پارلیمنٹ ہاوس کی غلام گردشوں میں وزیراعظم گیلانی کا جارحانہ انداز میں خطاب اور اس کے تناظر میں حکومت کا مستقبل موضوع گفتگو تھا حکومتی ارکان کے چہروں سے ان کی پریشانی نمایاں نظر آتی تھی۔تحریر:نواز رضا

Comments are closed.