محرم الحرام۔۔۔حکومت، علماء اور عوام کی ذمہ داریاں

Posted: 29/11/2011 in Advertise Religious, All News, Articles and Reports, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔عالم انسانیت بالعموم اور عالم اسلام بالخصو ص ماہ محرم کے طلوع ہوتے ہی اپنے اپنے انداز سے نواسہ رسول خدا ص اور ان کے آل و اصحاب کی طرف سے دین خدا، اسلام، شریعت محمدی اور حق کی حفاظت کے لئے دی گئی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم سے نفرت اور مظلوم سے محبت رکھنے والے طبقات سید الشہداء کی یاد مناتے ہیں اور بلا تخصیص مذہب و مسلک حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی والہانہ وابستگی اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔قیام پاکستان سے قبل برصغیر میں اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں تمام شہری بلاتفریق مذہب و مسلک و فرقہ، محرم الحرام میں مجالس و محافل عزاداری مکمل جوش و جذبے، عقیدت اور اتحاد و وحدت کے ذریعے منا رہے ہیں اور دنیا کو بتا رہے ہیں کہ چودہ سو سال قبل ریگزار کربلا میں 72 جانثار، حق پرست، دیندار اور وفا شعار اور متقی اصحاب کے ساتھ امام عالی مقام نے جام شہادت نوش کر کے رہتی دنیا تک حق اور باطل میں حد فاصل قائم کرنے کے لئے دائمی اور ابدی کسوٹی فراہم کر دی اور ثابت کر دیا کہ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے صحرائے کربلا کا سفر اپنی ذات اور مفاد کے لئے نہیں بلکہ خدا کے دین اور الہی نظام کو بندگان خدا پر نافذ کرانے کے لئے ہے۔ ظالم کو اس کے ظلم سے باز رکھنے اور مظلوم کو اس کے حق کی فراہمی کے لئے اسلام کی شکل بگاڑنے کی مذموم سازش ناکام بنا کر عالم انسانیت کے سامنے حقیقی اور نبوی اسلام کا تعارف کرانے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ یہ معرکہ صرف چند نوجوانوں، بچوں، بوڑھوں اور خواتین کی معیت میں سر کر لیا، جسے بڑی معرکتہ الارا جنگوں سے نہیں جیتا جا سکتا تھا۔
محرم الحرام جہاں ہمیں واقعہ کربلا کی خونیں داستاں کی یاد دلاتا ہے، وہاں حضرت امام حسین علیہ السلام کے اعلٰی مشن، ہدف اور مقصد کی ترویج کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے اور عالم انسانیت کے محروم و مظلوم طبقات کے لئے امید کی کرنیں بکھیرتا ہے۔ امام حسین ع نے اس وقت اسلام کو درپیش سنگین خطرات سے امت کو آگاہ کیا اور اپنی عظیم قربانی پیش کر کے ہمیں حسینی بن کر اپنے وقت کی صہیونی اور استعماری سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا سلیقہ عطا کیا۔ ان تمام تر حقائق کے باوجود ایک تلخ حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں محرم الحرام کی آمد سے قبل ہی ایسا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے جس سے یہ تاثر ابھارنے کی کوشش ہوتی ہے کہ عشرہ محرم سے ملک میں ایک ہنگامی حالت کا نفاذ ہو جائے گا، کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ جائے گا اور عوام کی عمومی سرگرمیوں پر پہرہ لگا دیا جائے گا۔ حکومتی اور انتظامی ادارے اپنے غیر سنجیدہ اقدامات سے ماحول کو اس طرح کشیدہ کر دیتے ہیں کہ مشن امام حسین ع اور مقصد عزاداری کی نفی واضح نظر آتی ہے۔ اس سرکاری خودساختہ ماحول نے صورتحال یہاں تک پہنچا دی ہے کہ کل تک جو مسلمان باہمی رواداری، اتحاد بین المسلمین، وحدت و یکجہتی اور امن و آشتی کے ذریعے اپنی مذہبی و شہری آزادیاں استعمال کر رہے تھے، آج وہ باہم تلخی اور تصادم کا شکار ہوئے نظر آتے ہیں، حالانکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سرکاری جال میں پاکستانی مسلمانوں کی غالب اکثریت نہیں بلکہ مٹھی بھر شرپسند عناصر ہی آئے ہیں، جو ہر سال محرم کے ماحول کو تلخ بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں مسالک اور مکاتب کی باہمی جنگ اور تصادم موجود ہے۔ 
اس ماحول کے پس پشت مسلمانوں میں تفریق ڈالنے والی ان قوتوں کا ہاتھ بھی ہے جو مسلمانوں میں سے ہی چند ضمیر فروشوں کو خرید کر پہلے تقریری و تحریری مہم کے ذریعے اپنے منفی مقاصد حاصل کرتی رہیں، لیکن جب تمام مسالک اور مکاتب کے علمائے کرام اور انصاف پسند عوام نے باہمی اتحاد کے ذریعے اس مہم کو ناکام بنایا تو انہوں نے اپنا انداز تبدیل کرتے ہوئے اپنے آلہ کاروں کے ہاتھوں میں اسلحہ تھما دیا اور مقتدر قوتوں کو ان کا سرپرست بنا دیا، جس کے بعد صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بے دریغ خون بہانے کو باعث سعادت اور ذریعہ نجات سمجھنے لگا اس دیوانگی میں وہ اس قدر آگے بڑھے کہ خدا کے گھر (مساجد) اور نبی ع کی آل سے منسوب متبرک مقام (امام بارگاہوں) میں بوڑھوں، بچوں، جوانوں اور عورتوں کو قتل کر کے نہ صرف ان مقامات کا تقدس پامال کیا بلکہ اپنے لئے جہنم میں دائمی ٹھکانا بنا لیا۔ جدید دور میں خودکش حملوں کا طریقہ اختیار کر کے دہشتگردوں نے ایک ہی وقت میں سینکڑوں لوگوں کا خون بہانے کا گھناؤنا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔محرم کے ماحول میں تلخی و کشیدگی اور پاکستان کی فرقہ وارانہ فضا کی آلودگی بھی در اصل سرکاری اداروں کی غفلت اور مقتدر حلقوں کی مخصوص پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان پالیسیوں کے سبب ہی ملک میں مذہبی، لسانی، فرقہ وارانہ، علاقائی فسادات ہوتے رہے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں بننے والے مذہبی اتحادوں بالخصوص ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ مجلس عمل نے ملک میں مذہبی فضا کو سازگار بنانے اور باہمی کشیدگی ختم کرنے کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں، لیکن طاقت کا سرچشمہ تو ہمیشہ حکومتیں اور سرکاری و انتظامی ادارے رہے ہیں، لہذا مذکورہ مذہبی اتحاد فقط عوامی سطح پر ماحول بہتر بناتے رہے۔
ملک کی عمومی مذہبی فضا کو بہتر رکھنے بالخصوص ایام عزاداری کے دوران حالات کو سازگار بنانے اور کشیدگی سے بچنے کے لئے حکومت کے ساتھ عوام، علمائے کرام، مذہبی جماعتوں، امن کمیٹیوں، مشائخ عظام، طلبہ تنظیموں، رفاعی تنظیموں اور محب وطن سیاسی حلقوں کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ذیل میں چند تجاویز تحریر کی جا رہی ہیں جن سے محرم الحرام کی تقریبات کو شایان شان طریقے سے منعقد کیا جا سکتا ہے اور حکومت کی سہولت و رہنمائی اور امن و امان کے قیام کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ 

(1) پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنی مذہبی، سیاسی، معاشرتی، ثقافتی، شخصی، ذاتی اور اجتماعی سرگرمیوں کی واضح اجازت دیتا ہے۔ لہذا اس اجازت کا تقاضا ہے کہ عزاداری کے لئے لائسنس، پرمٹ کی شرط ختم کی جائے اور بغیر کسی سرکاری پابندی کے عزاداری کے پروگرام منعقد کرنے کی اجازت دی جائے۔
(2) علمائے کرام، ذاکرین عظام مختلف مکاتب فکر کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ نیز عوام کو ایک دوسرے کے عقائد و نظریات، رسوم و عبادات کا احترام کرنے پر آمادہ کریں۔
(3) ذاکرین اور خطباء اپنی تقاریر اور خطابات میں حضرت امام حسین ع کے قیام اور یزیدی عزائم کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر زور دیں۔
(4) حکومت کو چاہیے کہ اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں اور مقامی امن کمیٹیوں میں امن و اتحاد کے فروغ کے لئے کوشاں موثر افراد اور شخصیات کو شامل کرے۔ حکومت مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود اتحاد بین المسلمین بورڈز اور کمیٹیوں میں عوام کے حقیقی نمائندہ افراد کو شامل کرے، کیونکہ گذشتہ کئی سالوں سے ان کمیٹیوں میں سرکاری پسندیدگی کو ملحوظ رکھا جاتا ہے میرٹ کو نہیں، اس وجہ سے تاحال امن وامان اور فرقہ واریت کی فضا بہتر نہیں ہو سکی۔
(5) مختلف مکاتب فکر کی طرف سے مختلف سطح پر وحدت کانفرنسوں کا انعقاد موثر ثابت ہو سکتا ہے۔
(6) جلوس ہائے عزاداری، مجالس امام حسین ع اور وحدت کانفرنسوں میں تمام مسالک کے علمائے کرام، مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی شخصیات اور انتظامیہ کے افراد کو شریک ہونا چاہیے۔
(7) حکومت عوام الناس اور مختلف مکاتب فکر کے افراد کو دیگر مکاتب فکر کے شہریوں کے شہری، مذہبی اور آئینی حقوق تسلیم کرنے کا پابند بنانے، کیونکہ اگر وہ دوسروں کی شہری آزادیوں کا احترام کریں گے تو اپنی شہری آزادیوں کو صحیح اور آزادانہ طریقے سے استعمال کر سکیں گے۔ 
(8) جو لوگ اور گروہ کسی مسلک و مکتب کے مذہبی، قانونی اور شہری آزادیوں اور حقوق کا احترام نہیں کرتے اور رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں حکومت ایسے عناصر سے بخوبی آگاہ ہے حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کا سخت محاسبہ کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے، کیونکہ قانون کا نفاذ ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
(9) محرم الحرام کے دوران خوف و ہراس اور کرفیو کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ سنگینوں کے سائے تلے مراسم عزاداری کا انعقاد انتہائی ناروا ہے، اس سے دہشتگردوں اور فتنہ پرست گروہوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں، جس سے وہ قانون کے راستے میں رخنہ ڈالتے ہیں۔ لہذا مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ ان مراسم کا انعقاد حکومت کی ذمہ داری ہے۔
(10) لاؤڈ سپیکر کسی بھی مشن اور نظریے کا نشری ذریعہ ہیں، سارا سال لاؤڈ سپیکر کا استعمال ہر قسم کے مذہبی، سیاسی اور ثقافتی پروگراموں میں بلادریغ اور بغیر رکاوٹ ہوتا ہے۔ لیکن محرم الحرام کی آمد پر لاؤد سپیکر پر بے جا پابندیاں لگا دی جاتی ہیں، لہذا مجالس عزاء اور جلوس ہائے عزاداری میں لاؤڈ سپیکر پر بے جا پابندیاں ختم کی جائیں، البتہ بانیاں مجالس اور ذاکرین و خطباء اس امر کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ سپیکر کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اشتعال انگیز تقاریر نہ کریں۔
(11) الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی ان ایام میں اپنا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے،لہذا ٹی وی، ریڈیو، پرائیویٹ چینلز، روزناموں، ہفت روزوں اور ماہناموں کی طرف سے جاری اور نشر کئے جانے والے پروگراموں، تقاریر، دستاویزی فلموں اور مضامین میں ایسے افراد کو بالکل فراموش کریں، جو ایک دوسرے کی دل آزاری کرتے ہیں اور مذہبی فضا میں کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ اخبارات ایسی تحریروں کو بالکل جگہ نہ دیں جن میں مذہبی اور مسلکی اختلافات اور فرقہ وارانہ فسادات پر اکسانے والا مواد موجود ہو۔ بلکہ ایسے افراد سے استفادہ کریں جو غیر متنازعہ، مثبت سوچ و فکر کے حامل اور اتحاد و وحدت کو فروغ دینے کے علمبردار ہوں۔
(12) دہشت گردی کے متوقع واقعات و خطرات سے نمٹنے کے لئے عوام کو انتظامیہ سے بھرپور تعاون کے ساتھ ساتھ خود بھی دفاع کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
(13) خواتین کی آمد و رفت کے راستوں پر جلوس اور مجالس کی انتظامیہ خاص نظر رکھے ان کی حفاظت کے لئے خاص اہتمام کرے اور مشکوک سرگرمیوں کی چیکنگ کرے۔
(14) جلوس و مجالس کے بہتر انتظامات اور وحدت کے عملی نمونے کے لئے شیعہ سنی نوجوانوں پر مشتمل انتظامی و حفاظتی دستے تشکیل دیئے جائیں۔
(15) مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام اور مشائخ عظام، ذاکرین اور خطباء ایک دوسرے کی مساجد اور امام بارگاہوں میں ایک دوسرے کے پروگراموں میں زور و شور سے شرکت کریں اور عوام کو اپنی عملی وحدت کے ذریعے مثبت اور تعمیری پیغام دیں۔
یقیناً ان تجاویز سے حالات کو پرامن، صورتحال کو خوشگوار اور وحدت کو فروغ دیا جا سکتا ہے، لیکن امن کے مستقل قیام، دہشتگردی کے مکمل سدباب اور اخوت کے لازوال ماحول کے لئے سب سے بہتر اسلحہ ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ اور سرکاری اداروں کی طرف سے ’’توازن کی یک طرفہ پالیسیوں ‘‘ کا خاتمہ ہے…..تحریر:سید اظہار نقوی

Comments are closed.