مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔اسلامی دنیا کیخلاف یوں تو پہلے دن سے ہی سازشی عناصر نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ ان کی سازشوں کے طریقہ کار بھی جدید ہوتے چلے گئے، لیکن مسلم دنیا کے سیاسی لٹیروں اور مادہ پرست سازشی عناصر نے استعمار کے پلان پر عمل کرتے ہوئے نوجوان نسل کو ہدف قرار دیا اور استعمار کی اس گھنائونی سازش میں شامل ہو گئے جو اس نے نوجوانوں خصوصاً مسلم نوجوانوں کیخلاف شروع کی ہوئی تھیں۔ اسلامی افکار، اقدار اور تعلیم سے دور کرنا اور اخلاقی پستی میں دھکیلنا، استعمار کے اولین اہداف ہیں، نوجوانوں میں دین کے بارے میں عجیب و غریب شبہات و خدشات کو جنم دینا اور ان کو ایک ایسے راستہ کی نشان دہی کرنا جو کسی منزل کی طرف نہیں جاتا ہے بلکہ نوجوان کو ایک ایسے بند کمرے میں پہنچا دیتا ہے جہاں سے نہ واپسی ممکن ہے اور نہ ہی سکون سے جینا ممکن ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ اسلامی دنیا کے نام نہاد سیاسی کٹھ پتلیاں نوجوانوں کی کردار سازی کرنے کے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا نہ سر ہے اور نہ پیر، اوپر سے دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ایک صالح اسلامی معاشرے کے قیام کا موجب بنے گا، فیصلہ کرنے اور راہ کے تعین کرنے کا فقدان ہے، تبھی تو یا تو مادہ پرستی کی طرف جانے والے راستے کو صراط مستقیم قرار دیا جاتا ہے یا پھر اسلام کے شاندار اور لازوال عہد رفتہ کی عظمت اور رفعت کے احیائےنو کے لئے نوجوانوں کو فکری و نظریاتی کردار ادا کرنے کے بجائے مرنے اور گردن اڑا دینے کو ہی اسلام کی اساس قرار دیا جا رہا ہے۔ نوجوان پستی کی طرف گرتا چلا جا رہا ہے، مگر کوئی ان کو سہارا دینے اور سیدھا راستہ دکھانے پر راضی دکھائی نہیں دیتا اور راضی ہو بھی تو کیسے ہو، اگر قوم و ملک کے معماروں کو صحیح راستے کی نشان دہی کر دی، تو پھر سر اٹھا کر چلنے والے نوجوان کے عزم و ارادے کے سامنے کون ٹک پائے گا؟ اسی بات کے خوف نے معاشرے میں ایک گھٹن کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے، مادیت کی راہ میں ایک ایسی دوڑ کا آغاز کیا گیا ہے جو گول دائرے کے اطراف میں جاری ہے اور کبھی اپنے اختتام کو نہیں پہنچے گی۔ جھوٹی اور لادینیت پر قائم رسم و رواج میں سب کو ایسا مشغول کر دیا گیا ہے کہ ان رسموں اور رواجوں کو دین سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، ہر شخص اپنے ہر عمل کی صداقت کو اسلام کی رو سے ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے۔ معاملہ چاہے معصوم اور ناحق خون سے مسجدوں کو لال کیے جانے کا ہو یا لسانیت یا مذہب کے نام پر تعصب کے بیج بونے کا۔۔۔۔۔۔ہر عمل کو اسلام سے درست ثابت کرنے کی دوڑ لگی ہے۔۔۔۔جس کا دل چاہتا ہے اسلام کو وہی شکل دے کر پیش کر دیتا ہے۔ نعوذ باللہ
کسی بھی معاشرے میں سماجی، معاشی، سیاسی معاملات سے اگر نوجوان لا تعلق نظر آئے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ان مسائل کا حل ہونا مشکل ہے۔ طالب علموں اور نوجوانوں کو کسی بھی معاشرے کا سب سے فعال عنصر تصور کیا جاتا ہے، جن پر معاشرے کے مستقبل کا انحصار ہوتا ہے، اگر یہ طبقہ تعمیری فکر اور صحیح سیرت کا حامل ہو گا تو پوری قوم اور معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جا سکتی ہے، لیکن اگر یہ طبقہ فکری اور عملی بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو مستقبل تو دور کی بات ہے یہ اپنے بزرگوں کے کئے کرائے پر بھی پانی پھیر دے گا۔ نوجوان قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ اچھے خیالات کو قبول کرنے کی صلاحیت ان میں زیادہ ہوتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں کو بسا اوقات مصلحتیں اور عصبیتیں کسی فکر کو قبول کرنے سے روک دیتی ہیں۔ نوجوانوں کے مضبوط عزائم ان زنجیروں کو کاٹ سکتے ہیں، جو بڑوں کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہیں۔ ان ہی خصوصیات کی بناء پر نوجوان ہر تحریک کا سرمایہ ہوتے ہیں، ان کو ہر تحریک اپنے ساتھ لینے اور ان سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جب کسی تحریک میں جوانوں کی آمد رک جاتی ہے تو وہ ختم ہو جاتی ہے یا رک جاتی ہے۔ دُنیا میں جو بڑے بڑے انقلاب آئے ہیں، ان میں نوجوانوں کا ہاتھ رہا ہے۔ ان کی قربانیوں ہی نے انہیں کامیابی سے ہمکنار کیا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کے احوال بتاتے ہیں کہ نوجوانوں ہی نے سب سے پہلے ان کا ساتھ دیا۔ دور حاضر میں اٹھنے والی اسلامی تحریکوں کی کامیابی میں نوجوانوں کا کردار کلیدی رہا ہے، تیونس ہو یا مصر، یمن ہو یا بحرین، لبنان ہو یا ایران یا مسئلہ فلسطین ۔۔۔صرف نوجوان ہی ہیں، جنہوں نے اپنی ثابت قدمی اور مضبوط فکری بنیادوں کی بدولت استعمار کو اس طرح پچھاڑا ہے کہ دنیا حیران ہے۔ اس وقت پوری دنیا اخلاقی بحران سے گذر رہی ہے۔ آج کے نوجوان بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔ آج کا نوجوان مادہ پرستی کی راہ میں ”روبوٹ“ بننے پر کمربستہ ہے، لیکن اخلاقی قدروں کےحوالے سے اس قدر خاموش ہے کہ ”لاش“ کا گمان ہوتا ہے۔ اخلاقی قدریں انسان کو بعض اصولوں کا پابند بناتی ہیں اور یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ لیکن موجودہ دور کے انسان کے نزدیک یہ اخلاقی قدریں قدامت پرستی اور جہالت کی دلیل ہے۔ انسان جس اخلاقی قدر کو چاہئے اسے دورِ جاہلیت کی یادگار کہہ کر پامال کر سکتا ہے۔ ہمارے جوان کو کوئی قوم اور زبان کی بنیاد پر تعصب کی عینک پہنا دینا چاہتا ہے تو کوئی مذہبی انتہا پسندی کو اس پر تھوپ دینا چاہتا ہے، کہیں مساجد میں خون کے دریا بہائے جا رہے ہیں تو کہیں مساجد میں کفر کے فتوے سنائے جا رہے ہیں، کہیں نماز اور روزے سے لگائو کی بنیاد پر اسے انتہا پسند قرار دے دیا جاتا ہے تو کہیں مذہب سے دوری کی پاداش میں نوجوان پر جنت کی حوروں کو حرام قرار دے دیا جاتا ہے اور کہیں کسی مسلمان کے قتل کے عوض جنت کی حوروں کا بٹوارہ ہوتا ہے۔ ان تمام ذکر کئے جانے والے مسائل کا حل ولایت سے تعلق جوڑ دینے میں ہے، وہ جوان جو ولایت سے اپنا تعلق استوار کر چکے ہیں انکی منزل بھی واضح ہو چکی ہے اور انکے اہداف بھی، وہ اس کشمکش سے اپنی جان چھڑا چکے ہیں جو ایک لادین معاشرہ انکے اندر پیدا کرتا ہے، وہ استقامت و جرات مندی کے ساتھ اپنی منزل کی طرف رواں ہیں۔ نہ ان پر استعماری سازشیں اثر انداز ہوتی ہیں اور نہ ہی آستین کے سانپوں کے کاٹے کا ان پر اثر ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ولایت سے قربت اختیار کی جائے، ولایت کو تسلیم کیا جائے اور اپنی ضمام ولایت کے سپرد کر دی جائے۔ جب ضمام ولایت کہ ہاتھوں میں ہو گی تو حزب اللہ وجود میں آ جاتی ہے اور نوجوان شجاعت و جوانمردی کا پیکر بن جاتا ہے جو راتوں میں اپنے رب سے راز و نیاز میں مصروف ہوتا ہے اور دن میں باطل سے برسر پیکار رہتا ہے، وہ عرفانیت کی کتنی ہی منازل ایک رات میں طے کر لیتا ہے جس کے لیے سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے۔ اپنی جوانی کو ضائع نہ کریں، استعمار کی متعین کی گئی راہ پر چلنے کے بجائے راہ ولایت کو اختیار کریں اور نصرت دین کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔

Comments are closed.