ایران کے خلاف مغربی دنیا کی پابندیوں کے ممکنہ اثرات

Posted: 04/01/2012 in All News, Articles and Reports, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

ایران نے خلیج فارس میں اپنی حالیہ فوجی مشقوں کے ذریعے اپنے غیر لچکدار موقف کا اعادہ کیا ہے۔ ادھر مغربی طاقتیں ایران کے ایٹمی پروگرام کو مفلوج کرنے کے لیے اُس کے خلاف اور زیادہ سخت پابندیوں کی وکالت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایران نے اپنی تیل کی صنعت اور معیشت کے خلاف پابندیاں سخت تر کیے جانے کی صورت میں آئل ٹینکرز کے لیے کلیدی اہمیت کے حامل آبی راستے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان تناؤ ایرانی فوج کے سربراہ جنرل عطاء اللہ صالحی کے اس بیان کے بعد اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ خلیج فارس سے ہٹا لیے جانے والے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو واپس نہیں آنا چاہیے ورنہ ایران کارروائی کرے گا۔ اِدھر پیرس میں فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے کے مطابق اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی جانب پیشرفت کر رہا ہے اور امریکہ ہی کی طرح یورپ کو بھی ایران پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنی چاہئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن نئی ممکنہ پابندیوں کا ہدف ایران کے مرکزی بینک اور ایران کی تیل کی صنعت کو بنایا جا سکتا ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک جائزے کے مطابق مغربی دُنیا نے ایران سے تیل درآمد کرنا بند بھی کر دیا تو ایران اپنا تیل چین اور بھارت جیسے ان ملکوں کو بیچ سکتا ہے، جہاں تیل کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ ایران اور مغربی دُنیا کے درمیان تناؤ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ دوسری طرف ایرانی کرنسی پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کی قدر و قیمت میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں حال ہی میں ریکارڈ کمی دیکھی گئی ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ اُس کا ایٹمی پروگرام محض پر امن مقاصد کے لیے ہے اور اِسی لیے اب اُس نے پھر سے اس پروگرام سے متعلق بین الاقوامی مذاکرات میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس آمادگی کو اس بات کی بھی ایک علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ غالباً مغربی دنیا کی عائد کردہ پابندیوں سے ایران کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایران مذاکرات کے احیاء کے لیے اقتصادی پابندیوں میں نرمی کی شرط رکھے۔ ایسا ہوا تو امکان ہے کہ واشنگٹن اور مغربی دُنیا کے دیگر ملک اس کی سخت مخالفت کریں گے۔امریکی صدر باراک اوباما نے جن تازہ ترین پابندیوں پر دستخط کیے ہیں، اُن میں ایران کے مرکزی بینک کے ساتھ روابط رکھنے والے غیر ملکی مالیاتی اداروں کے امریکہ میں سرگرم عمل ہونے کی پابندی بھی شامل ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کے خیال میں یہ پابندیاں ایرانی معیشت پر زیادہ منفی اثرات مرتب نہیں کریں گی تاہم پہلے سے بیروزگاری اور افراطِ زر کی بلند شرحوں کا سامنا کرنے والی ایرانی معیشت ملک کی اندرونی سیاسی صورتِ حال اور مارچ میں مجوزہ پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں آگے چل کر زیادہ دباؤ کا بھی شکار ہو سکتی ہے۔

Comments are closed.