Archive for the ‘Iran / Iraq / Lebnan/ Syria’ Category

اسلام آباد: ایران نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے کیا ہے جس میں جدید ترین میزائل لانچنگ اور خشکی ، فضا اور سمندر میں فائر پاور دکھائی گئی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان اور ایرانی آرمڈ فورسز کے اتاشی کرنل وجہہ اللہ درویشی ایرانی فورسز کے سالانہ دن کے موقع پر ہونے والے استقبالئے میں میزبان تھے۔ چےئرمین سینیٹ سید نیئر علی بخاری اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کو چےئر مین سینیٹ کے ہمراہ پوڈیم پر بٹھایا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ یورپین ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے نمائندوں کی تعداد بھی مایوس کن حد تک کم تھی۔وفاقی وزراء جو یوں تو تقریبات میں شرکت کے بہت شوقین ہیں وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وزیر سردار الحاج محمد عمر گورگیج اس تقریب میں شریک ہوئے ، انہیں ڈائس پر بٹھایا گیا لیکن اپنی جان پہچان کے لوگوں کو نہ پا کر وہ کچھ بدحواس سے لگ رہے تھے۔مہمان خصوصی کی آمد پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر مہمانوں کی اکثریت سانحہ سیاچن کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آئی ۔ لوگ برف اور چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے جوانوں اور سویلین افراد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ لو گ اس امر پر حیرانی کا اظہار کررہے تھے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پاکستان کو اس جگہ جانے میں 12 دن کا عرصہ لگا اور وہ بھی صرف فضائی جائزہ لے کر واپس آگئے ،وہ برفیلی سطح پر اترے اور نہ ہی انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگوں سے ہاتھ ہی ملایا۔ڈوما پوسٹ جہاں سے وہ واپس آئے ، گیاری اس سے محض 5 منٹ کی دوری پر ہے۔تقریب میں عمان اور شام کے سفراء بھی شریک ہوئے

Advertisements

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

غداد… عراق کے 4 صوبوں ميں متعددبم دھماکوں سے 30 افراد ہلاک ہوئے ہيں. وزارت داخلہ حکام کے مطابق دارالحکومت بھي کئي دھماکوں سے لرز آٹھا جس ميں 17 افراد ہلاک ہوئے.کرکوک ميں دو کار بم دھماکوں ميں 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ سمارا بھي دو دھماکوں سے گونج اٹھا، ان دھماکوں سے 3 افراد جان سے گئے. تاجي ميں سڑک کنارے نصب بم پھٹا جبکہ بعقوبہ ميں خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا ليا. دھماکوں کے بعد سيکورٹي فورسز جائے وقوعہ پر پہنچ گئيں .زخميوں کو اسپتال منتقل کياجارہاہے.

خطیب جمعہ تہران نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئی۔ خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں کہا کہ شام کے خلاف مغربی اور بعض عرب ملکوں کی دشمنی اور اس ملک میں بدامنی پھیلانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ ممالک اسلامی بیداری سے شکست کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ آيت اللہ احمد خاتمی نے کہا کہ شام، صیہونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا ایک محاذ ہے اور عالمی سامراج نے بعض عرب اور مغربی ملکوں کو فریب دے کر شام سے انتقام لینے کی سازشیں شروع کر دی ہیں کیونکہ شام علاقے کے عوام کی تحریکوں کی حمایت کر رہا ہے۔خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی بیداری نے علاقے کے بعض ملکوں کو سامراج کے تسلط سے نجات دلائی ہے اور جو ممالک شام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں انہیں جان لینا چاہیے کہ شام میں کسی بھی طرح کی فوجی مداخلت سے علاقے میں جنگ کی آگ بھڑک جائے گی جو انہیں بھی جلا کر خاکستر بنا دے گی۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ آل سعود کی حکومت صیہونی حکومت کے مقابل مزاحمت کے حامل ملک شام میں بڑے پیمانے پر فتنوں کی آگ بھڑکا رہی ہے۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے سعودی عرب کی تفرقہ انگيز پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج سعودی عرب فتنوں کا گڑھ اور دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے کیونکہ اس نے تیونس کے سابق ڈکٹیٹر زین العابدین بن علی، اور عراق کے فراری نائب صدر طارق ہاشمی کو پناہ دے رکھی ہے اور مصر کے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی بھرپور حمایت کر رہا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ سے علاقائی ممالک بالخصوص مسلم ممالک سے تعلقات بڑھانے اور مسلمانوں کو نزدیک لانے کی کوشش کی ہے جبکہ سعودی عرب نے ہمیشہ تفرقہ اور اختلافات پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو ان پالیسیوں سے نقصان اور نابودی کے علاوہ کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو گا۔ خطیب جمعہ تہران نے بعض عرب ملکوں کی جانب سے بحرین کے حالات اور آل خلیفہ کے روز بروز بڑھتے ہوئے مظالم کو نظر انداز کئے جانے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے بحرین پر قبضہ کرلیا ہے اور بحرینی عوام کی سرکوبی میں شریک ہے۔ انہوں نے امریکہ سے تعلقات منقطع کرنے کے دن کی سالگرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے انقلابی طلباء کے ہاتھوں امریکی جاسوسوں کی گرفتاری کے بعد امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی قدس سرہ نے ایران اور امریکہ کے درمیاں تعلقات کے منقطع کئےجانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اگر امریکہ نے کوئی اچھا کام کیا ہے تو تعلقات ختم کرنے کا یہی ایک کام ہے اور ہم بھی یہی چاہتے تھے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔ پاکستان نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی سعودی عرب کی جانب سے مخالفت پرمبنی رپورٹوں کو مسترد کر دیا ہے۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد اس سلسلے میں بیرونی دباؤ برداشت نہيں کرے گا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسلام آباد میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر عمل درآمد کا‏ عزم کئے ہوئے ہے اور اس سلسلےمیں کوئی دباؤ برداشت نہيں ہو گا۔  انھوں نے مزید کہا کہ روس نے بھی اس پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لئے مالی مدد کی پیشکش کی ہے۔ پاکستان کے نائب وزیر تیل اعجاز چودھری نے اٹھائیس مارچ کو کہا تھا کہ روسی کمپنی نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ میں تقریبا ڈیڑہ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ واضح رہے کہ بعض ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکہ کے اصلی اتحادی سعودی عرب نے ایران پاکستان گیس پروجیکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایسا پیکج دینے کا وعدہ کیا ہے جو ایران پاکستان گیس پروجیکٹ معلق ہونے کی صورت میں اس ملک کی انرجی کی ضرورت پوری کرے گا۔

بیجنگ میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عالمی معاشی بحالی کے لئے خطرناک ثابت ہوں گی، چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکا نے اکتیس دسمبر کو ایران کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے جنوری سے ایرانی تیل کی درآمد، خریداری یا ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

لبنان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے۔المنار کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ لبنان کی پارلیمنٹ کے رکن نواف الموسوی نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے شام میں بحران پیدا کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ شام میں اسرائیل نواز اور امریکہ نواز حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی مقاومت کی کامیابی شام کے حالات کو درک کرنے کی اصلی کلید ہے اس نے کہا کہ مقاومت نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو علاقہ میں شکست و ناکامی سے دوچار کیا ہے اور امریکہ اپنی  شکست و ناکامی کی تلافی کے لئے شام میں اسرائيل کی حامی حکومت لانے کی تلاش و کوشش کررہا ہے انھوں نے کہا کہ لبنان اور فلسطین میں اسلامی مقاومت کی کامیابی میں شام کا کلیدی کرداررہا  ہے اور امریکہ نے مقاومت کو شکست دینے کے لئے اب شام کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران نے اپنے متنازعہ جوہری پروگرام پر سمجھوتے کی پیش کش کی ہے۔ تاہم تہران حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کی جائیں گی۔ تہران حکام  کی جانب سے یہ پیش کش ایسے وقت سامنے آئی ہے، جب وہ رواں ہفتے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان اور جرمنی کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے جا رہے ہیں۔ یہ مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں ہو رہے ہیں۔ حکام نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 14 اپریل کے مذاکرات کے موقع پر اس اہم معاملے پر سمجھوتے کے لیے تیار ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ نے پیر کو ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے بتایا کہ بجلی بنانے کے لیے کم سطح پر یورینیئم کی پیداوار جاری رکھتے ہوئے، 20 فیصد تک افزودہ یورینیئم کی پیداوار روکنے پر رضامندی ظاہر کی جا سکتی ہے۔ فریدون عباسی کا کہنا ہے: ’’ضرورت کے مطابق ایندھن دستیاب ہونے پر، ہم پیداوار کم کر دیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اسے تین اعشاریہ پانچ فیصد کی سطح پر لے آئیں۔‘‘ ساتھ ہی عباسی نے مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تبادلے کے معاہدے کا خیال مسترد کر دیا، جو تین سال پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسے دیگر ملکوں سے 20 فیصد ایندھن حاصل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ اس حوالے سے ایران خود سرمایہ لگا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اُمید ظاہر کی ہے کہ ہفتے کے روز ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہو گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران حکومت کسی طرح کی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔ ایرانی پارلیمنٹ کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں صالحی کا کہنا تھا: ’’اجلاس سے پہلے پیشگی شرائط لاگو کرنا مذاکرات سے پہلے نتیجہ اخذ کرنے کی مانند ہے۔ یہ بالکل بے معنی ہے۔ مذاکرات سے پہلے کوئی بھی پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گا۔‘‘ انہوں نے یہ بات امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ردِعمل میں کہی۔ اس رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی یونین کے سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ وہ ان مذاکرات کے ذریعے ایران سے فردو کے زیر زمین نیوکلیئر بنکر کو بند کرنے اور بیس فیصد تک یورینیئم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کریں گے

فرانسیسی وزیر خارجہ آلاں یوپے نے کہا ہے کہ کوفی عنان کے امن منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے شامی حکومت کے وعدے جھوٹ پر مبنی تھے۔ ترکی نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے منگل کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’صدر بشار الاسد نے کوفی عنان سے جھوٹ بولا۔‘ یوپے کے مطابق، ’ نہ ہی بھاری ہتھیاروں سے حملے بند ہوئے ہیں۔ نہ ہی سیاسی قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے۔ نہ صرف دمشق بلکہ دیگر علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے گئے ہیں اور شامی حکومت جسے فوجی دستوں کا انخلا قرار دے رہی ہے وہ اصل میں متاثرہ علاقوں میں مزید فوجیوں کا بھیجا جانا ہے۔‘یوپے نے کہا کہ وہ یہ معاملہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اٹھائیں گے: ’’ہم زور دیں گے کہ 12 اپریل کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس صورتحال سے تمام تر نتائج اخذ کرے اور دیکھے کہ شام میں تشدد کے خاتمے اور وہاں سیاسی مکالمت کے آغاز کے لیے کیا نئے اقدامات کیے جانے ضروری ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ G8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج بدھ کے روز واشنگٹن میں ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیرخارجہ کا یہ بیان کوفی عنان کی جانب سے سلامتی کونسل کو ارسال کیے جانے والے اس خط کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں عنان نے کہا تھا کہ اسد حکومت ’امن کا اشارہ‘ دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ عنان نے شامی حکومت پر زور دیا کہ وہ معاہدہ کے ’بنیادی نکتے‘ کا خیال رکھتے ہوئے 12 اپریل تک مکمل طور پر سیز فائر کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بھی شامی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ 12 اپریل تک ہر حال میں فائربندی کرے اور ایسے واضح اشارے دے کہ وہ جنگ مکمل طور پر بند کر چکی ہے۔ دوسری جانب ترکی نے سلامتی کونسل سے اپیل کی ہے کہ اگر شام جمعرات کی ڈیڈ لائن کا احترام کرتے ہوئے فائربندی نہ کرے تو وہاں عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری کردہ اس بیان کے مطابق، ’’اگر شامی حکومت اگلے 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں مکمل طور پر فائربندی کرنے میں ناکام ہو، تو اقوام متحدہ ایک قرارداد کے ذریعے وہاں عام شہریوں کی جان کی حفاظت کو یقینی بنائے۔‘‘ ترک وزارت خارجہ کے اس بیان میں تاہم یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی شام میں شہریوں کے تحفظ کے لیے سلامتی کونسل سے کس طرح کے اقدامات کی توقع رکھتا ہے

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے ترکی کے توسط سے ایرانی سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کے نام خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام پرامن ثابت کر دے تو امریکا اسے قبول کر لے گا ، خط میں یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں نہیں کرے گا۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کا خط ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچایا۔ ترک وزیر اعظم نے امریکی صدر کا یہ پیغام بھی ایرانی سپریم لیڈر تک پہنچایا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں ایران جوہری تنازع کے پرامن حل کے محدود مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔آن لائن کے مطابق خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اگر حال ہی میں کئے گئے اپنے اس دعوے پر قائم رہیں تو ان کی قوم کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہیں بھاگے گی تو امریکا کو ایران کے سویلین نیوکلیئر پروگرام پراعتراض نہیں ہوگا۔اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کو گناہ عظیم اور یورینیم کی افزودگی کو تباہ کن قرار دیا تھا رپورٹ کے مطابق سیوٴل میں صدر اوباما نے ترک وزیراعظم سے ملاقات میں یہ خط ان کے حوالے کیا

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا: نیا سال ملک کی برق رفتار حرکت کے لئے عزم و ہمت اور امید نشاط کی راہ ہموار کرتا ہے اور ملکی اشیاء کے استعمال پرنشریاتی اور تبلیغاتی اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ اہتمام کرنا چاہیے رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے  کل منگل کی سہ پہر کوملک کی تینوں قوا کےبعض اہلکاروں کے ساتھ ملاقات میں تمام حکام کوقومی پیداوار اور اس کی حمایت کے سلسلے میں سنجیدہ تلاش وکوشش ، ہمدلی،ہمفکری اور باہمی تعاون پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: نیا سال اور عید ملک کی برق رفتار پیشرفت و ترقی، قومی اور اندرونی پیداوار کے سلسلے میں عظیم اور سنجیدہ قدم اٹھانے کا نیا حوصلہ، امید ، نشاط اور ہمت عطا کرتا ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے حکام کے لئے  نئی سال کی خوشی اور مبارک بادی کو اسلام کے راستے پران کے گامزن رہنے اور ذمہ داری کو اچھی طرح انجام دینے سے منسلک قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر حکام اپنی مخلصانہ اور سنجیدہ تلاش و کوشش کے ذریعہ  اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے فضل و کرم کو حاصل کرنے کی راہ ہموار کریں تو یقینی طور پرسال عوام کے لئے بھی مبارک کا باعث  ہوگا۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس سال کو قومی پیداوار،کام اور ایرانی سرمایہ کی حمایت کے عنوان سے موسوم کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملک  کی اعلی اہداف کی جانب موجودہ پیشرفت، موجودہ وسائل و شرائط اور اسی طرح  اقتصادی مسائل پر اسلامی نظام کےدشمنوں کی توجہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی پیداوار کی حمایت موجودہ شرائط میں ایک اہم ضروری امر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی دباؤ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کے دشمنوں اور معاندوں کی وسیع تلاش و کوشش کے باوجود، ملک کے حکام اورجوان اپنے عزم و ایمان و ہوشیاری و شناخت  اور اسی طرح سرعت عمل ، اندرونی توانائیوں و تمام وسائل کو بروی کار لا کرایک بار پھر دشمنوں کی تمام کوششوں کو ناکام بنادیں گے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی  نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: سامراجی محاذ کی کوششوں کے ناکام ہونے کی واضح دلیل  اور گذشتہ 30 برسوں سے اسلامی نظام کے خلاف اقتصادی دباؤ اور پابندیوں کی ناکامی ایران کی روز افزوں  طاقت اور پیشرفت کا مظہر ہے۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی حمایت  اور دشمنوں کے شوم منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان ہمدلی اور تعاون کو ضروری قراردیا اور قوہ مقننہ اور مجریہ کو سفارش کرتے ہوئے فرمایا: آج ملک کو مختلف شعبوں میں تلاش و کوشش، نوآوری اور خلاقیت کی ضرورت ہے اور اس ہدف تک پہنچنے کے لئے حکام بالخصوص حکومت اور پارلیمنٹ کے درمیان تعاون اور ہمفکری  بہت ضروری ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراج، رجعت پسند، بڑے سرمایہ داروں ، مفسدوں، دنیا کے سیاہ چہروں اور ان کے پیچھے چلنے والے سست عناصر کے متحدہ محاذکو اسلامی نظام کے مد مقابل قراردیتے ہوئے فرمایا: اسلامی نظام کو شکست دینے کے لئےگذشتہ 30 برسوں میں کئی بار یہ محاذ تشکیل پاچکا ہے اور ہر بار اس شیطانی محاذ کو شکست ہوئی اور وہ اپنے طے شدہ ہدف تک نہیں پہنچ سکا۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی نظام کے معاندوں اور مخالفوں کی شکست کی ایک بڑی وجہ ملک میں اندرونی سطح پر باہمی اتحاد اور یکجہتی رہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے قومی پیداوار کی عملی حمایت پر تاکید اور اس سلسلے میں حکومت و پارلیمنٹ کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حکومت اور پارلیمنٹ  کو قومی پیداوار کے لئے باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدام اٹھانے چاہییں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے معاشرے میں غیر ملکی اشیاء سے استفادہ کے طریقہ کار کو غلط قراردیا اور داخلی اشیاء کے مصرف کی تبلیغات میں ریڈيواور ٹی وی کے اہم نقش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ملکی  مصنوعات کے استعمال کی ثقافت کو فروغ دینے کے سلسلے میں ریڈیو اور ٹی وی اہم نقش ایفا کرسکتے ہیں اور اس معاملے کے سماجی ، ثقافتی اور دیگر پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے گہرا مطالعہ اور ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور اس سلسلے میں آئی آر آئی بی کے ادارے اور دیگر تبلیغاتی اداروں کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک بار پھر تمام حکام کوشوق و نشاط، امید اور باہمی تعاون کے ہمراہ صبر و استقامت، تلاش وکوشش  اور اللہ تعالی سے امداد طلب کرنے کی سفارش کی۔

تہران: ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے قومی یکجہتی کی تقویت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا تمام راستے بند ہونے کی صورت میں اپنے ایران مخالف موقف سے پسپائی اختیار کرے گا، پاکستان نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ایرانی ٹی وی کو انٹرویومیں ایرانی تیل پر پابندی سے گیارہ ممالک کو مستثنٰی قرار دینے کے امریکہ کے اقدام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مغربی ممالک نے ایران کے سلسلے میں پسپائی نہیں کی ہے اور ہمارے خیال میں مغرب یہ یقین پیدا ہونے تک کہ ایران طاقتور ہے اپنا دباؤ ہمیشہ برقرار رکھے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ نے کہا کہ جب مغرب کو یہ پتہ چلے گا کہ ایران اس کے مقابل ایک چٹان کی طرح کھڑا ہے اور اس کو نقصان پہنچانے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پسپائی اختیار کر لے گا۔ علی اکبر صالحی نے کہا کہ یورپ کے جن بعض بڑے ممالک نے ہتھیاروں کے زور پر دیگر ممالک کو اپنے تسلط میں رکھا اب وہ اقتصاد کے ذریعہ ان ممالک پر اپنا تسلط چاہتے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ پاکستان نے اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایران پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتاہے اورایران کوپاکستان پر پورا بھروسہ ہے۔ علی اکبرصالحی نے کہاکہ ان کا ملک پاکستان میں جاری بحرانوں سے آگاہ ہے اوران بحرانوں کے حل کے لئے پاکستان کی بھرپورمددکرناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان سے آنیوالے وقتوں میں تعلقات مزیدمضبوط ہوں گے

بیجنگ: چین نے ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی بارے امریکی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کو اجتماعی سزا دے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پالیسی بالکل واضح اور موقف ٹھوس ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ چین نے ہمیشہ ایسی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ عمل کریگا جس کے تحت کسی دوسرے ملک کو اجتماعی سزا دی جائے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہمارے قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

لندن: برطانیہ نے شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے مینشن ہاؤس میں اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ برطانیہ شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد کو دوگنا کرتے ہوئے پانچ لاکھ پاؤنڈ دیگا اور یہ امداد سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی معاونت پر بھی خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم شام سے باہر رہنے والے اپوزیشن گروپوں کی معاونت کیلئے بھی استعمال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کو یہ جان لینا چاہئے کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کیلئے کوئی صورتحال نہیں ہے۔

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے ايران پر تيل درآمد کرنے کي نئي پابندياں عائد کرنے کي منظوري دے دي ہے.غيرملکي خبر ايجنسي نے امريکي کانگريس کے حکام کے حوالے سے بتايا کہ صدر اوباما سمجھتے ہيں کہ دنيا ميں ايسے ممالک کي تعداد زيادہ ہے جو ايران سے زيادہ تيل سپلائي کرتے ہيں.صدر اوباما کا خيال ہے کہ ايران پر تيل کي پابنديوں سے تيل کي طلب ميں فرق نہيں پڑے گا.امريکي صدر کا مزيد کہنا ہے کہ تيل پيداکرنے والے ممالک کي جانب سے پيداوار بڑھانے،معاشي صورتحال اور تيل کے موجودہ ذخائر کي روشني ميں ايران پر تيل کي پابنديوں کو فيصلہ کيا گيا ہے.

شامی حکومت صدر بشارلاسد کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد پہلی مرتبہ کسی سمجھوتے پر رضامند دکھائی دی ہے۔ شام کے لیے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے تصدیق کی ہے کہ دمشق حکام نے چھ نکاتی امن منصوبہ تسلیم کر لیا ہے۔ عنان کے بقول یہ شام میں امن کے قیام اور جنگ بندی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ شام میں خونریزی رکوانے کے لیے ایک چھ نکاتی منصوبہ پیش کیا  گیا تھا، جس میں شامی فورسز کی جانب سے جنگ بندی، زخمیوں کو طبی امداد اور انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے لڑائی میں روزانہ دو گھنٹے کا وقفہ اور سیاسی حل کے لیے مذاکرات بھی شامل ہیں۔ اس سے قبل چین اور روس بھی کوفی عنان کی حمایت کر چکے تھے

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد سمیت دیگر بارہ اہلِ خانہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن کے تحت نہ صرف ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں بلکہ ان کے یورپ آنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے جن بارہ افراد پر یہ پابندیاں عائد کی ہیں ان میں صدر بشار الاسد کی والدہ اور بہن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی اہلیہ اسمائ[L:4 R:4] الاسد برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں اس لیے برطانوی شہریوں کو یورپی یونین کی پابندی کے باوجود برطانیہ میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ صدر بشارالاسد کی اہلیہ کے مغرب میں پروان چڑھنے کی وجہ سے مغرب میں یہ تاثر تھا کہ وہ شام میں اصلاحات کی وجہ بن سکتی ہیں۔چھتیس سالہ شامی نڑاد اسمائ[L:4 R:4] الاسد نے زندگی کا بیشتر حصّہ مغربی لندن میں گزارا ہے اور برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے ان کے برطانوی شہری ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسماء الاسد جلد برطانیہ کا دورہ کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں اور برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہے۔واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں بشار الاسدسے شادی سے پہلے اسماء لندن میں انویسٹمینٹ بینکر رہی ہیں اور بشار الاسد کی حکومت میں کبھی پیش پیش نہیں رہیںگزشتہ ہفتے صدر بشار الاسد کے مخالفین نے اسماء الاسدکی تین ہزار ای میلز شائی کی تھیں جن کے مطابق وہ صدر کے خلاف بغاوت کے باوجود بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے قیمتی اشیاء خریدتی رہیں تاہم ان پیغامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی

بغداد : شمالی عراق میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے جبکہ عراقی وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ بھی بال بال بچ گئے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ عراق کے  شمالی صوبہ نائن آئیو کے شہر موصل کے قصبے تلعفر میں معروف ریسٹورنٹ اور مارکیٹ کے نزدیک یکے بعد دیگرے دو کا ر بم دھماکے  ہوئے۔ قصبے کے مئیر عبدالعال عباس کے مطابق دھماکوں سے قریبی ریسٹورنٹس اور دکانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ رپورٹس کے مطابق  وزیر برائے تعمیر نو اور ہائوسنگ محمد الدرا جی کے قافلے پر کار بم حملہ ہوا ہے تاہم اس میں وہ محفوظ رہے۔ پولیس  ذرائع کے مطابق کار بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہو گئے اور متعدد گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ میئر کے مطابق پولیس نے علاقے کا گھیرائو کر لیا ہے۔ ایمبولینسوں اور عام گاڑیوں کی مدد سے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے ۔

تہران: ایران میں انٹرنیٹ کی نگرانی کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام پر کام شروع ہوگیا ہے۔ اس ادارے کے قیام کیلئے ایرانی رہنماٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ہدایات جاری کی ہیں۔ ایرانی میڈیا کیمطابق انٹرنیٹ کی نگرانی کے اس ادارے کے ارکان میں ایرانی صدر، وزیر برائے اطلاعات و ثقافت، پولیس اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر شامل ہوں گے۔ ایران میں انٹرنیٹ کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت کی جانب سے اب تک کیا جانے والا یہ سخت ترین اقدام ہے۔

واشنگٹن: وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی زیر قیادت میں نیٹو افواج شام کے اندر حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکہ میں موجود انٹیلی جنس فرم کیلئے کام کرنے والے تجزیہ نگار کی جانب سے فراہم کردہ ایک خفیہ ای میل جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے گزشتہ سال دسمبر میں پنٹاگون کے اندر فرانس اور برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے متعدد فوجی حکام نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے اس اجلاس کے دوران سنا تھا کہ نیٹو کے زمینی فوجی کافی عرصے سے شام میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق نیٹو افواج کی اس تربیت کا مقصد حکومت کے خلاف لوگوں کو گوریلا جنگ کیلئے تیار کرنا تھا۔

تہران: ایران کا شہر شیراز اعضاء کی پیوند کاری کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کوا مداد فراہم کرنے والی خیراتی تنظیم کے سربراہ نادر معینی نے کہا ہے کہ یہ ان خاندانوں کیلئے اعزاز کی بات ہے جنہوں نے اپنے خاندان کا ایک رکن کھو دیا۔ تاہم انہوں نے اعضاء عطیہ کر کے دیگر افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔ شیراز شہر میں پیوندکاری کے اس عمل میں 200 افراد شریک ہوئے ہیں اور نادر معینی کے مطابق اب 251 افراد کے گردوں کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 341 افراد کے جگر کی پیوندکاری اور 23 افراد کے پتا کی پیوندکاری کی گئی ہے۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

امریکہ شام میں فوجی مداخلت کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ امریکی فوج کے سربراہ مارٹن ڈیمپسی نے کہا کہ اس سلسلے میں نو فلائی زون کا قیام بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی مشنوں، بحری راستوں کی نگرانی اور محدود فضائی حملوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی کوئی مفصل منصوبہ بندی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی مختلف امکانات پر صدر باراک اوباما کے ساتھ تبادلہء خیال کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سرِدست اوباما شامی صدر بشار الاسد کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ ہی کو مناسب طریقہ قرار دے رہے ہیں۔

شام کے نائب وزیر تیل عبدحسام الدین نے حکومت سے علیحٰدہ ہوتے ہوئے باغیوں کے ساتھ شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بیان ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب پر جاری کیا ہے۔عبدحسام الدین شام میں گزشتہ برس سے جاری شورش کے بعد بشار الاسد کا ساتھ چھوڑنے والے پہلے اعلیٰ عہدے دار بن گئے ہیں۔ ان کے اس بیان پر مبنی ویڈیو یو ٹیوب پر بدھ کو اپ لوڈ کی گئی ہے، جسے جمعرات کو دیکھا گیا ہے۔ اس میں ان کا کہنا ہے: ’’میں عبد حسام الدین، نائب وزیر تیل اور معدنی دولت حکومت سے علیحٰدگی، استعفے اور بعث پارٹی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔‘‘ انہوں نے حکام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا: ’’جنہیں تم اپنے لوگ کہتے ہو، تم ان پر مسلط ہو گئے ہو۔ دکھ سے بھرے ایک پورے سال سے تم نے ان پر زندگی تنگ کر رکھی ہے اور شام کو پاتال کی تہہ تک لے جا رہے ہو۔‘‘ دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں حمص کا ضلع بابا عمرو ویران ہو گیا ہے۔ حکومت مخالفین کا مؤقف ہے کہ دمشق انتظامیہ زیادتیوں کے ثبوت چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی سربراہ برائے انسانی ب‍حران ویلاری آموس نے بدھ کو حمص کے ضلع بابا عمرو کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس ضلع کو ویران پایا ہے اور وہاں سے زیادہ تر شہری نقل مکانی کر چکے ہیں۔ حمص کے اس علاقے کو تقریباﹰ ایک ماہ تک شام کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے بدترین کریک ڈاؤن کا سامنا رہا، جس پر عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات بھی سامنے آئے۔ ویلاری آموس اس عرصے میں وہاں پہنچنے والی پہلی غیرجانبدار مبصر ہیں۔ حکومتی فورسز نے یکم مارچ کو اس علاقے کا کنٹرول واپس حاصل کیا ہے اور اس وقت سے اس کے داخلی راستے بند کر رکھے تھے۔ اب امریکی فوج کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ صدر باراک اوباما نے محکمہ دفاع کو شام کے حوالے سے عسکری کارروائی کے امکانات کے ابتدائی جائزے کے لیے کہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی صدر باراک اوباما اور سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا کا تاحال یہ خیال ہے کہ اقتصادی پابندیاں اور دمشق کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کر دینا بشار الاسد کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

امریکہ کے ساتھ 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے ساتھ کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح دوسرے موا زنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔عالمی میڈیا میں ایران پر ممکنہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے مختلف سماجی ویب سائٹس پر حال ہی میں اعداد و شمار پر مبنی ایک تصویری رپورٹ نے بہت مقبولیت حاصل کی ہے، جس میں دنیا کے امن کو حقیقی خطرہ کے عنوان سے اب تک دونوں ملکوں کے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار میں بیان ہو ا ہے کہ امریکہ کے پاس 8500 ایٹمی ہتھیار ہیں جب کہ ایران کے پاس کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں۔ اسی طرح  دوسرے موازنے کی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک دو ممالک میں سویلین یا عام شہریوں پر ایٹم بم بھی برسائے ہیں، جب کہ ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی تیسری لائن میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء کے دوران امریکا کا جنگی و دفاعی بجٹ 687 بلین امریکی ڈالر تھا، جب کہ ایران کا دفاعی بجٹ صرف 7 بلین امریکی ڈالرز ہے۔ اسی طرح موازنے کی چوتھی لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اب تک 16 ممالک پر چڑھائی و جارحیت کرکے حملے اور قبضہ تک کیا ہے  لیکن ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ موازنے کی آخری اور پانچویں لائن میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اب بھی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی اور عالمی تنظیموں کے ذریعے پابندیاں لگانے میں مصروف ہے، جبکہ ایران اس حوالے سے دیگر ممالک پر پابندیاں و دخل انداز ی تو دور کی بات خود ہی پابندیوں کا شکار ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ مختلف سماجی وییب سائٹس پر اس سروے کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔

دمشق : شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے فوجی سربراہوں کو حکم دیا ہے کہ اگر بیرون ملک سے شام میں کوئی فوجی مداخلت کی جاتی ہے تو فوری طور پر اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی جائے اور خاص طور پر اس کے فوجی ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے۔ اردن کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ حکم انہوں نے چند روز قبل ایک خفیہ اجلاس میں دیا جس میں شام کی فوج کے سربراہوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ رپورٹ کے مطابق دمشق میں ایک خصوصی آپریشن روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جو 24 گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے گا اور اس آپریشن روم میں شام کے ساتھ ساتھ ایران کے افسران اور حزب اللہ کے نمائندوں کو بھی رکھا گیا ہے جو کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت کی صورت میں مشترکہ آپریشن کرینگے۔ رپورٹ کے مطابق اسی قسم کا ایک آپریشنز روم تہران میں بھی کھولا گیا ہے جس میں ایرانی حکام اور حزب اللہ کے نمائندوں کو رکھا گیا ہے حزب اللہ نے بھی تمام تر صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے لبنان میں آپریشن روم قائم کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اور حزب اللہ نے شامی حکومت کو یقین دلایا ہے کہ شام کے خلاف کسی بھی مداخلت پر اسرائیل کے خلاف ہرممکن کارروائی کی جائے گی۔ ادھرشام میں بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس حمص شہر کے تباہ حال ضلع بابا عمرو تک رسائی حاصل کرنے میں تیسری مرتبہ بھی ناکام ہو گئی ہے تاہم اس نے وہاں سے باہر آنے والے افراد کو امداد پہنچانا شروع کر دی ہے۔ تنظیم کا کہنا تھا کہ اس نے بابا عمرو سے بھاگے ہوئے افراد میں کھانے پینے کی اشیا اور کمبلوں کی تقسیم شروع کی ہے۔ادھرچین نے شام کی حکومت اور حزبِ مخالف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تشدد ختم کریں اور بحران کا پرامن حل تلاش کریں۔چین کی وزارتِ خارجہ سے جاری ایک بیان میں صدر بشار الاسد کی حکومت اور باغیوں سے کہا ہے کہ وہ بغیر کسی شرائط کے مذاکرات شروع کریں جن کی سربراہی کوفی عنان کر رہے ہیں۔ جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ شام کے شہر حمص سے باغی فورسز کے پیچھے ہٹنے کے بعد حکومتی فورسز شہریوں پر تشدد کر رہی ہیں اور اس حوالے سے انہیں ’ہیبت ناک رپورٹیں‘ موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شام کے متاثرہ شہروں تک امدادی اداروں کو غیرمشروط رسائی دی جائے۔ادھرشام کے جنوبی قصبہ ڈیرا میں خودکش کار بم دھماکے کے نتیجے میں کم سے کم 7 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ شام کی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شام کے جنوبی علاقے میں دہشت گرد خودکش بمبار نے کار کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے کم سے کم 7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق سفید رنگ کی کار ملٹری چیک پوسٹ کے قریب دھماکے سے اڑا دی گئی جس سے اردگرد گھروں اور دفاتر میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔

تہران. . . . .. .. ايران ميں پارليماني انتخابات کے ليے ووٹنگ ہو گي.ايران کے پارليماني انتخابات ميں چار کروڑ 8لاکھ افراد اپنا حق رائے دہي استعمال کريں گے. 31صوبوں ميں پارليماني انتخابات کے لئے تقريبا تين ہزار پانچ سو اميدوار ميدان ميں ہيں جن ميں سے دو سو نوے افراد منتخب ہوکے پارليمنٹ ميں پہنچيں گے.ايران کي اصلاح پسند جماعتوں کي جانب سے بائيکاٹ کا اعلان کيا گيا ہے اور ووٹوں کے شرح ميں کمي کي توقع ہے. ايراني صدر احمدي نژاد نے ووٹ دينے کو قومي فريضہ قرار ديا.ميڈيا کے مطابق پارليماني انتخابات ميں اصل مقابلہ صدر احمدي نژاد اور ملک کے روحاني پيشوا آيت اللہ علي خامنہ اي کے حاميوں کے درميان ہوگا کيونکہ ان دونوں رہنماوں کے درميان کافي عرصے سے چپقلش جاري ہے. پارليماني انتخابات کي کوريج کے لئے 350 غير ملکي نامہ نگار بھي آئے ہوئے ہيں

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے اسرائيل پر زور ديا ہے کہ وہ ايران پر پيشگي حملے کي سوچ کونظرانداز کردے.اسرائيلي وزيراعظم سے ملاقات سے ايک روز قبل اسرائيلي نواز امريکي لابي کے ايک گروپ سے خطاب ميں امريکي صدر کا کہنا تھا کہ امريکہ اور اسرائيل کا خيال ہے کہ ايران کے پاس جوہري ہتھيار نہيں ہيں. اور ہم ان کے جوہري پروگرام کي نگراني ميں حد سے زيادہ چوکس ہيں. واشنگٹن ميں اجلاس سے خطاب ميں بارک اوباما کا کہنا تھا کہ اب بين الاقوامي برادري کي بھي ذمہ داري بڑھ گئي ہے. ايپاک پاليسي کانفرنس سے خطاب ميں انہوں نے کہا کہ ايران پر پابنديوں کو بڑھايا جارہا ہے. امريکي صدر کا کہنا تھا کہ ايراني رہنماو?ں کے پاس اب بھي درست فيصلہ کرنے کا موقع ہے کہ وہ بين الاقوامي برادري ميں واپس آئيں يا اپنے لئے بند گليوں کاانتخاب کر ليں. امريکي صدر نے کہا کہ ايران کي تاريخ ديکھ کر يہ اندازہ ہوتا ہے کہ انہيں يہ يقين نہيں ہے کہ ايرني حکمران صحيح سميت ميں فيصلہ کريگا. انہوں نے کہا کہ ملٹري اسٹرائيک سے تيل کي قيمتوں ميں اضافہ ہوگا.دوسري جانب واشنگٹن ميں ہي ايپاک کو ايک قبضہ گروپ قرار ديتے ہوئے امريکہ اسرائيل پبلک افئير کميٹي کے کردار کے خلاف احتجاج کياگيا. ايپاک مخالف گروپ کے ايک عہديدار نے کہا کہ پہلے ہي ايپاک نے امريکيوں کوعراق کے خلاف جنگ ميں دھکيل ديا ہے اور اب يہ گروپ ايران کے خلاف جنگ ميں دھکيلنا چاہتا ہے

بغداد… عراق ميں مسلح افراد نے سيکورٹي فورسز کي چوکي پر حملہ کرکے 27 پوليس اہلکاروں کو ہلاک کرديا.غيرملکي خبر ايجنسي کے مطابق حديثہ کے علاقے ميں علي الصبح مسلح افراد نے سيکورٹي چيک پوسٹ پر حملہ کرديا.فائرنگ کے واقعے ميں 27 پوليس سيکورٹي اہلکار ہلاک اور 3 زخمي ہوگئے.حملہ اس قدر شديد تھاکہ سيکورٹي اہلکاروں کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا.واقعے ميں ايک حملہ آور بھي مارا گيا.سيکورٹي فورسز نے علاقے ميں کرفيو نافذ کرديا ہے

نیویارک: اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو شامی بحران کے لیے خصوصی مندوب مقرر کر دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی نے مشترکہ طور پر کوفی عنان کے نام کا اعلان کیا۔ کوفی عنان شام کے بحران کو حل کرنے میں عرب لیگ اور اقوام متحدہ دونوں کی جانب سے خصوصی مندوب ہوں گے۔ اس حوالے سے جاری کیے جانے والے اعلان کے مطابق کوفی عنان اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے شام میں ہر طرح کے تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور اس بحران کا دیرپا اور مستقل حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔ اعلامیئے میں مزید کہا گیا کوفی عنان شام میں فعال اور سرگرم تمام جماعتوں اور بیرون ملک کام کرنے والی تمام شامی تنظیموں کے ساتھ رابطہ کرتے ہوئے، انہیں ساتھ ملانے کی کوشش بھی کریں گے۔ اس دوران کوفی عنان کی معاونت کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ عرب ممالک کے ذمے ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق بان کی مون کو خصوصی مندوب کے لیے عرب ممالک سے تعلق رکھنے والی کسی ایسی شخصیت کی تلاش میں مشکلات کا سامنا تھا، جسے تمام فریقوں کی تائید حاصل ہو۔ اس حوالے سے کوفی عنان اور فن لینڈ کے سابق صدر مارتی آہتیساری کے ناموں پر غور کیا گیا۔ یہ دونوں رہنما ماضی میں مصالحت کار رہ چکے ہیں۔ عنان کینیا جبکہ  آہتیساری کوسووو میں ثالث رہے ہیں اور دونوں کو ان کی خدمات کے بدلے میں امن کا نوبل انعام دیا جا چکا ہے۔اسی دوران شام کے رونما ہونے والے واقعات کی تفتیش کرنے والے کمیشن نے ایک رپورٹ اقوام متحدہ کے حوالے کی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک فہرست ترتیب دی ہے، جس میں شام کے ان سرکاری اہلکاروں کے نام درج ہیں، جو مبینہ طور پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب ہیں۔ اطلاعلات کے مطابق حمص شہر میں بشارلاسد کی حامی فوج کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بارے میں تفتیشی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شام کے مختلف شہروں میں ساٹھ سے زائد افراد سرکاری فوج کا نشانہ بنے۔ بین الاقوامی تفتیش کاروں پر مشتمل اس کمیشن نے جنیوا میں بتایا کہ انہوں نے مکمل کوشش کی ہے کہ ان تمام افراد کے نام اور شناخت منظر عام پر لائی جائیں، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ ساتھ ہی اس رپورٹ میں شامی باغیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیشن نے عالمی برادری کو دمشق حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کرنے کی تجویز دی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کو بھی قریب لانے کی کوشش کی جائے

عداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت 3.168 ڈالر کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3.565 ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ایران کی جانب سے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی برآمد روکنے کے اقدام کے نتیجے میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے یومیہ ایندھن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے ماہ فروری میں گذشتہ ماہ کی نسبت گیسولین کی قیمت میں تقریباً ۲۵ سینٹ اوسطاً اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت ۳.۱۶۸ ڈالر کے مقابلے میں ۱۲.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۳.۵۶۵ ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ امریکی شہریوں نے گیسولین کی قیمتوں میں اضافے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کو ماہ اپریل میں خام تیل کی فراہمی میں ۲فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت ۱۰۵.۸ ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے۔ یورپی منڈی میں پرینٹ کروڈ کی قیمتیں ۰.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۲۰.۱۸ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ یورپ کو تیل کی فراہمی بند کرنے کا ایرانی فیصلہ یورپ اور امریکہ کی ایران پر پابندیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف یورپی اور امریکی پابندیاں یکم جولائی ۲۰۱۲ءسے نافذ العمل ہونگی لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

  امریکی16 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظرثانی کا باعث بنے۔امریکی اخبار نے 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی متفقہ طور پر تیار کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جوہری ریسرچ میں ضرور ہے جو اسے ایٹم بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے لیکن ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003ء میں اپنے جوہری بم بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عوامی سطح پر فوجی حملے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک حقیقت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ ایران جوہری بم بنانے میں کوئی فعال سرگرمی کی کوشش میں ہے۔  امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک 2007ء میں تیار کی گئی ایک انتہائی اہم رپورٹ گزشتہ برس پالیسی سازوں کو فراہم کی گئی تھی۔ قومی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق تہران نے 2003ء میں ایٹمی وار ہیڈز بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا جبکہ حال ہی میں 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظر ثانی کا باعث بنے۔  سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بنیادی انٹیلی جنس یا تجزیے سے اختلاف نہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بننے کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔ کچھ اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ایران جوہری پیش رفت میں بہت آگے چلا جائے اس کو روکنے کیلئے فوجی حملے کا امکان ہے۔

معروف سیاسی اور عسکری تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان جیسی شکایات ایران کے خلاف نہیں۔ افغانستان میں پاکستان کی مخالفت زیادہ ہے۔ پاکستان امریکی influence سے خود کو باہر نکالنا چاہتا ہے۔ پاکستان کمزور معیشت کی وجہ سے امریکہ اور مغرب پر انحصار کرتا ہے۔ ایران ضرورت پوری کر دے تو یہ انحصار کم ہو جائے گا۔ امریکہ اس خطے میں اپنا پریشر برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان اگر دباو میں آئے گا تو کچھ نہیں کر پائے گا۔ حکومت کے پاس قوت فیصلہ نہیں۔ کوئی نہ کوئی حکومت کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ امریکہ کے بارے میں اب فوج بھی کوئی فیصلہ نہیں کرتی۔ پاکستان ایران پر امریکی حملے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ خطے میں امریکہ کو چیلنج کرنے والی ایران جیسی قوتوں کی حمایت پاکستان کے مفاد میں ہے

صہیونی حکومت کے اعلی حکام کی لبنان کے خلاف دھمکیوں پر لبنان کے اعلی حکام نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے تاکید کی ہے کہ جب تک مزاحمت و استقامت زندہ ہے صہیونی حکومت لبنان پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ سید حسن نصر اللہ نے گزشتہ روز صہیونیوں کے خلاف مزاحمت و استقامت کے کمانڈروں اور رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرنے کے پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مرتبہ جنوبی لبنان میں صہیونی غاصبوں سے جنگ کے دوران حزب اللہ نے اس حکومت کو سنگین شکست سے دوچار کیا اور اس علاقے میں امن و استحکام بحال کیا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے صہیونی حکومت کی حالیہ دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسرائیلیوں کی دھمکیوں سے ہرگز نہیں ڈرتے اوران دھمکیوں کا ہمارے عزم و ارادے پر کوئي اثر نہیں پڑے گا۔ سید حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ گزشتہ زمانے میں جب ہم تعداد و طاقت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی نہ تھے تب بھی ایریل شیرون اور اسحاق رابین جیسے اسرائیل کے نام نہاد بڑے جنرلوں سے مرعوب نہیں ہوئے تو آج جب ہم طاقت و قوت کے لحاظ سے بہت زیادہ قوی ہیں تو کس طرح ان کی دھمکیوں سے مرعوب ہو جائیں گے۔  صہیونی حکومت لبنان پر بار بار زمینی ، فضائی اور بحری حملے کر کے اس ملک کو ہمیشہ نئے حملوں کی دھمکیاں دیتی رہتی ہے۔ صہیونی حکومت کے لبنان پر متعدد حملوں، لبنان کے بعض علاقوں پر قبضے اور ہمسایہ ممالک کو دی جانے والی مستقل دھمکیوں نے پہلے سے زیادہ اس حکومت کی جنگ پسند اور مہم جو ماہیت کو واضح و آشکار کر دیا ہے۔ جس چیز نے صہیونی حکومت کے تمام منصوبوں اور ارادوں پر پانی پھیر تے ہوئے اسے علاقے میں شکست دی ہے وہ علاقے کے عوام کی مزاحمت و استقامت تھی اور گزشتہ چند سالوں میں لبنان کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست اس حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ سید حسن نصر اللہ کی حقیقت کو برملا کرنے والی تقریر نے ایک بار پھر لوگوں کو لبنان کے خلاف صہیونی حکومت کی مذموم سازشوں کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ صہیونی حکومت اور اس کی حامی مغربی حکومتیں لبنان کی مزاحمت کو لبنان میں اپنی تسلط پسندانہ پالسیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ تصور کرتی ہیں۔ صہیونی حکومت مغربی حکومتوں کی بھرپور حمایت کے باوجود گزشتہ برسوں میں متعدد مرتبہ لبنان کی مزاحمت کے مقابلے میں ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوئی ہے۔ لبنان کی استقامت کے مقابلے میں صہیونی حکومت کی مستقل ناکامیاں، جس نے دو ہزار میں اس حکومت کو لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا اور اسی طرح دوہزار چھ میں لبنان کے خلاف تینتیس روزہ جنگ میں صہیونی حکومت کی ذلت آمیز شکست، لبنان کی مزاحمت و استقامت کی گرانبہا کامیابیاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صہیونی حکومت اور اس کی حامی حکومتیں لبنانی عوام کے درمیان خوف و وحشت اور اختلاف و تفرقہ پھیلا کر انھیں استقامت سے دور کرنا اور لبنان کے خلاف اپنی سازشوں پر عمل کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن لبنان کی عوام نے یہ ثابت کر دکھایا ہے کہ وہ صہیونی حکومت کی سازشوں اور ہتھکنڈ وں سے باخبر اور ہوشیار ہیں۔ لبنانی عوام میں حزب اللہ کی مقبولیت میں روزافزوں اضافہ رہا ہے اور حزب اللہ بھی روزبروز مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان کے عوام صیہونی حکومت اور اس کے حامیوں کی نئی سازشوں کو ناکام بنانے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے کہ جس کی طرف سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں اشارہ کیا ہے۔

لبنان کی عدلیہ نے تین صیہونی جاسوسوں کو موت کی سزا سنائي ہے۔ لبنان کی فوجی عدالت نے گذشتہ روز تین لبنانی شہریوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کر رہے تھے، موت کی سزا سنائي ہے۔ ایک ہفتے پہلے بھی لبنان کی فوجی عدالت نے تین لبنانیوں کو جو صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی میں ملوث تھے، موت کی سزا سنائي تھی۔ لبنان کی سکیورٹی فورسز نے حزب اللہ کی مدد سے صیہونی حکومت کے لئے جاسوسی کرنے والے متعدد نیٹ ورک پکڑے ہیں۔ صیہونی حکومت حزب اللہ اور ملت لبنان کو نقصان پہنچانے کے لئے لبنان میں وسیع پیمانے پر جاسوسی کی کارروائیوں میں مشغول ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیا آمانو نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں جن میں کوئي انحراف موجود نہیں ہے۔ آمانو نے کہا کہ ابھی بعض ابہامات دور کرنے کے لئے باقی ہیں جن کو دور کرنے کے لئے طرفین میں مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے آمانو نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ باقی ماندہ مسائل کو حل کرنے کے لئے پیشگی شرط کے بغیر مذاکرات کا آغاز کردے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی نے ایٹمی شعبہ میں ایران کی پیشرفت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے 20 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی مہارت حاصل کرلی ہے اور اس شعبہ میں ایران کا انحصار اب مغربی ممالک پر ختم ہوگیا ہے، ادھر روس کے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی حکومت کو تبدیل کرنے کے لئے ایران کے ایٹمی مسئلہ کو بہانہ بنا رہا ہے۔

ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں ايران اور یورپی ممالک کے درميان اقتصادی اور تجارتی کشيدگي کي وجہ سے عالمي منڈي ميں خام تيل کي قيمت مسلسل بڑھتي جارہي ہے جس کے نتيجے ميں عالمي معاشي صورتحال مزيد ابتر ہونے کا خدشہ ہے اورایران کےخلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرنے والے ممالک خود اقتصادی بحران کا شکارہوگئے ہیں۔ہفتے کے آخري روز لندن کي مارکيٹ ميں خام تيل کي قيمت ايک ڈالر 85 سينٹس اضافے کے بعد 125 ڈالر في بيرل سے اوپر چلي گئي. اپريل کے بعد سے يہ في بيرل تيل کي سب سے زيادہ قيمت ہے. ہفتے کے دوران برينٹ کروڈ آئل کي قيمت مجموعي طورپر 5 ڈالر 89 سينٹس بڑھي ہے. قيمت ميں اضافے نے ان پريشانيوں کو بھي بڑھا ديا ہے کہ صارفين کي طرف سے طلب ميں کمي عالمي شرح نمو کو بھي متاثر کرے گي. اس سے قبل یورپی ممالک نے ایران کے تیل کی خرید پر جولائي میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ ایران نے یورپی ممالک کے غیر منصفانہ اقدام کے خلاف جوابی  کارروائی کرتے ہوئے یورپی ممالک کو تیل کی فروخت ابھی سے بند کردی ہے اور ایران نے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی فروخت متوقف کردی ہے جس کی وجہ سے یورپی اور مغربی ممالک میں شدید اقتصادی بحران پیدا ہوگیا ہے اور ایران کو اقتصادی محاصرہ کرنے والے خود اقتصادی محاصرے میں آگئے ہیں۔

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیےالیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل اور مصر میں صدارتی انتخاب کے امیدوار عمرو موسی نے تہران کے ساتھ گفتگو پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس نے کہا کہ ایران اور عرب ممالک کے درمیان اختلافات زیادہ ہیں اور ان اختلافات کو دور کرنے کے لئے تعمیری مذاکرات کی ضرورت ہے اور ایران کو ایک دشمن کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے عمرو موسی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ روابط امریکی تقلید پر مبنی نہیں ہونے چاہییں  اس نے کہا کہ ہمیں تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ روابط کی ضرورت ہے

اسلامی جموریہ ایران کے وزیر دفاع نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائيل پہلے کی نسبت بہت کمزور ہوگيا ہے اور حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ شخصیت ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالم اسلام کے شہیدوں کے دوسرے عالمی سمینار سے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ اسرائیلی فوج درمنادہ ، کمزور ، تھکی ہوئی اور شکست خوردہ فوج ہے اور وہ صہیونی جو مقبوضہ فلسطین میں زندگی بسر کررہے ہیں انیھں معلوم نہیں وہ کتنے عرصہ تک فلسطین میں رہ سکتے ہیں انھوں نے کہا کہ آج اسرائيل کا وجود حقیقی معنی میں خطرے میں پڑگیا ہے۔ ایرانی وزیر دفاع نے حزب اللہ کے شہید کمانڈروں کی یاد میں منعقدہ سمینار سے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان واحد عرب ملک ہےجس نے طاقت کے زور پر غاصب اسرائیلیوں کو ملک سے باہر نکال دیا اور یہ اسلامی مقاومت اور حزب اللہ کی استقامت و پائداری اور لبنانی عوام اور فوج کے تعاون سے ممکن ہوا۔ انھوں نے کہا کہ آج حزب الہ کی دفاعی پوزیشن سے اسرائيل پر خوف و ہراس طاری ہے اور حزب اللہ کا نظریہ لبنان تک محدود نہیں بلکہ وہ دیگر مقبوضہ عرب زمین کو بھی آزاد کرانے کی فکر میں ہے انھوں نے کہا کہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ عالم عرب کی سب سے پسندیدہ اور محبوب شخصیت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شیعہ اور سنی ہونا مہم نہیں ہے اہم بات یہ ہے کہ ہم کس طرف ہیں اور کس کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 33 روزہ لبنان کی جنگ میں اسرائيل کی تاریخی شکست اور اس کے بعد غزہ میں 22 روزہ جنگ میں اسرائيلی شکست سے صاف ظاہر ہوگيا ہے کہ اسرائيل بہت ہی کمزور اور شکست پذير ملک ہے اور اس کی طاقت پہلے جیسی نہیں ہے

سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ نے اجلاس سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ رپورٹ کے مطابق تیونس میں شام مخالف اجلاس  کے شرکاء میں شگاف اور اختلاف پیدا ہوگیا ہے ذرائع ابلاغ نے سعودی عرب اور قطرکے وزراء خارجہ اور اعلی حکام کی طرف سے شام کے صدر بشار اسد کے خلاف گہرے کینہ و عناد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تیونس میں شام مخالف اجلاس کی ناکامی پر سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے اجلاس  سے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا ہے سعودی عرب اور قطر کی اسرائیل کے بارے میں نرمی اور شام کے خلاف سختی ان کی منافقانہ روش کا مظہر ہے۔ العربیہ کے مطابق سعودی وفد اجلاس کی ناکامی کے بعد اجلاس ہال سے نکل گيا سعودی وزیر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ وہ شام میں سرگرم دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھیں گے، سعودی وزیر خارجہ کو توقع تھی کہ اس اجلاس میں شام میں فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی جائے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ادھر روس ، چين اور لبنان نے اس اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ سعودی عرب بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں بحران کو چھپانے کے لئے شام کے معاملات میں بے جا مداخلت کررہا ہے

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران حکومت نے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کے لیے یونیفارم پہننا لازمی کر دیا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق خواتین سرکاری اہلکاروں پر اکیس مارچ سے یونیفارم  رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے رنگ کا کورٹ یا چادر اور اسکارف زیب تن کرنے کی شرط لگا دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس یونیفارم کو جامعات کے پروفیسروں اور ایران کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔ ایران کے اسلامی قوانین کی رو سے ملک میں خواتین کو ویسے ہی لمبے کورٹ یا چادر اور اسکارف پہننا پڑتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے حوالے سے پہلے ہی سے سخت شرائط موجود ہیں جبکہ لبرل ایرانی حلقے ویسے ہی اس کے خلاف ہیں۔مدیحہ ایم تہران کے ایک سرکاری دفتر میں کام کرتی ہیں۔ یونیفارم پہننے کی اس نئی شرط کے بارے میں وہ کہتی ہیں: ’’یونیفارم کے جو نمونے میں نے دیکھے ہیں، وہ تقریباً اسی طرح کے ہیں جو ہم اس وقت پہنتے ہیں اور یہ بات مجھے اسکول کے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔ایرانی اسٹیٹ بینک کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے یہ کوشش کی تھی کہ تمام خواتین ایک سی لگیں، مگر وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ تہران حکومت کے مطابق اس نے یونیفارم کی تیاری کے لیے ایک سروے کروایا تھا جس کے بعد یونیفارم کے رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے کورٹ یا چادر اور اسکارف جو کہہ پہلے سے ایرانی معاشرے میں رائج ہیں  رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لباس سے متعلق ایسا ہی ایک لازمی ضابطہ جلد ہی سرکاری دفاتر کے مرد اہلکاروں کے لیے بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے ايران کے ساتھ تازہ ترين مذاکرات بے نتيجہ رہے ہيں۔ تبصرہ نگار کے مطابق يہ ايک سفارتی حل کے ليے اچھی علامت نہيں ہےبين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں نے ايک فوجی اڈے کے اندر واقع ايرانی ايٹمی تنصيب پارشين تک رسائی کے ليے دو روز تک کوشش کی ليکن تہران حکومت اس پر راضی نہ ہوئی۔اس نے کليدی دستاويزات کا معائنہ کرنے اور ايٹمی پروگرام ميں حصہ لينے والے سائنسدانوں سے بات چيت کرنے کی اجازت بھی نہيں دی۔ اس کے بعد ايٹمی توانائی ايجنسی کے سائنسدان اپنے مشن ميں ناکام ہو کر واپس آ گئے۔ ايرانی حکام کی طرف سے کہا گيا کہ بين الاقوامی توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ بات چيت خوشگوار اور پراعتماد ماحول ميں ہوئی۔ ايک ناکام مشن کی اس سے زيادہ غلط تشريح ممکن نہيں تھی۔ چند ہفتوں کے اندر معائنہ کاروں کے دوسرے ناکام مشن کا مطلب اگلے ہفتوں اور مہينوں کے ليے اچھا نہيں ہے۔ خاص طور پر جب اسے سياق و سباق کے حوالے سے ديکھا جائے۔
ايک دوسرے کی اقتصادی ناکہ بندی
ايرانی حکومت مارچ کے پارليمانی انتخابات سے قبل ايک اور زيادہ سخت پاليسی پر مائل نظر آتی ہے۔ ايرانی وزارت تيل نے پچھلے ويک اينڈ پر ہی فرانس اور برطانيہ کو ايرانی تيل کی فراہمی فوراً بند کر دينے کا اعلان کر ديا تھا۔ دونوں ملکوں نے يورپی يونين کی طرف سے ايرانی تيل کی درآمد پر يکم جولائی سے عائد کی جانے والی پابندی کو خاص طور پر سختی سے نافذ کرنے کا اعلان کيا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ايرانی بحريہ نے شام کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے ليے دو جہاز بحيرہء روم پہنچا ديے تھے۔ فوجی لحاظ سے يہ ايک غير اہم کارروائی ہے ليکن شام کی صورتحال کی وجہ سے يہ ايک سوچی سمجھی اشتعال انگيزی تھی۔ يورپی اور امريکی ايرانی تجارت ميں خلل ڈالنے کی کوششوں ميں اچھا خاصا آگے بڑھ چکے ہيں۔ ٹيلی کميونیکيشن سسٹم اوررقوم کی منتقلی کا زيادہ تر کاروبار انجام دينے والا ادارہ Swift ايرانی بينکوں سے روابط منقطع کرنے ميں مصروف معلوم ہوتا ہے۔ اس کے نتيجے ميں ايران کو ان ممالک سے بھی تجارت کرنے ميں شديد مشکلات پيش آئيں گی جنہوں نے ايران پر کوئی پابندی نہيں لگائی۔ ان ميں روس اور چين پيش پيش ہيں۔
اعتماد کے بجائے مخاصمت
درحقيقت فريقين نے آخر ميں نئے مذاکرات کے ليے کوششيں کی تھيں۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی ايرانی مذاکراتی قائد جليلی نے يورپی يونين کی امور خارجہ کی ذمہ دار کیتھرين ايشٹن کو ان کے اکتوبر 2011 کے مکتوب کا جواب ديا تھا اور ايران کے ايٹمی پروگرام پر بات چيت پر آمادگی کا اشارہ ديا تھا۔ ايشٹن نے اپنے خط ميں پرامن مقاصد کے ليے ايٹمی پروگرام کے ايرانی حق کو واضح طور پر تسليم کيا تھا اور اس طرح ايک سازگار فضا پيدا کردی تھی۔بين الاقوامی ایٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کار ايران ميں يہ جانچ پرکھ کرنا چاہتے تھے کہ کيا ایران کا ايٹمی پروگرام واقعی پرامن مقاصد کے ليے ہے، جيسا کہ ايران کا دعوٰی ہے۔ ليکن ايران نے تعاون اور اس طرح رفتہ رفتہ اعتماد کا ماحول پيدا کرنے کے بجائے سختی اور ہٹ دھرمی کا راستہ اختيار کيا۔ اس طرح مذاکرات پر زور دينے والے جرمنی جيسے ممالک بھی يہ تاثر حاصل کر رہے ہيں کہ ايران کے ليے مذاکرات کا واحد مقصد مزيد مہلت حاصل کرنا ہے، جس دوران اسرائيل ايرانی ايٹمی تنصيبات پر حملے سے گريز کرتا رہے اور ايران ايٹمی ہتھياروں کی تياری جاری رکھے۔
اسرائيلی عزائم کی حوصلہ افزائی
اقوام متحدہ کی ويٹو طاقتيں اور جرمنی اب ايران کی نئے مذاکرات کی پيشکش قبول کرنے پر غور کر رہے ہيں۔ بين الاقوامی ايٹمی توانائی ايجنسی کے معائنہ کاروں کے حاليہ مشن کا مقصد يہ بھی آزمانا تھا کہ ايران اپنے ايٹمی پروگرام کے بارے ميں شکوک و شبہات دور کرنے کے ليے کس حد تک معائنے کی اضافی اجازتيں دينے پر تيار ہے۔ يہ آزمائش دوسری بار ناکام رہی ہے۔يہ سب کچھ اسرائيلی حکومت کے عزائم کے لیے اور تقويت کا باعث ہے، جو يہ سمجھتا ہے کہ ايران کو صرف فوجی طاقت کے ذريعے ہی ايٹم بم بنانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسرائيلی وزير اعظم بینجمن نيتن ياہو اگلے ہفتے سياسی مذاکرات کے ليے واشنگٹن جا رہے ہيں۔ اب امريکی صدر کے ليے اسرائيل سے يہ کہنا اور بھی مشکل ہو گيا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔

صاحبزادہ فضل کریم کا کہنا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں، ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائی جائے گی۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے فنانس سیکرٹری پیر محمد اطہر القادری کی رہائش گاہ واقع محافظ ٹاؤن پر ’’سلگتا بلوچستان اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان سے منعقدہ فکری نشست سے خطاب کرتے ہوئے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین و رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ امریکہ، بھارت اور اسرائیل بلوچستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اور دشمنوں کو گوادر بندرگاہ ہضم نہیں ہو رہی ملک دشمن عناصر بیرونی ایجنڈے کے تحت بلوچستان میں بدامنی کے ہر واقعہ کو ایف سی سے منسوب کر کے درحقیقت پاک فوج کو بدنام کرنے کی سازش کر رہے ہیں بلوچستان کے فسادات میں غیر ملکی فنڈڈ چار پاکستانی این جی اوز کا کردار بھی سامنے آ گیا ہے بلوچستان کے 27 اضلاع میں صرف پانچ اضلاع میں سورش برپا ہے۔ اس موقع پر حاجی حنیف طیب، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، محمد نواز کھرل، شیخ اظہر سہیل اور صاحبزادہ صابر گردیزی نے بھی خطاب کیا۔ حاجی فضل کریم نے کہا ہے کہ ناراض بلوچوں کو افغانستان میں فوجی اور کمانڈو تربیت دی جا رہی ہے امریکہ جنداللہ کھڑی کر کے پاکستان ایران تعلقات خراب کرنے کی بھی سازش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی کانگریس میں پیش کی گئی قرارداد کا مقصد ڈارفر اور مشرقی تیمور کی طرز پر آزاد مملکت بنانا ہے امریکہ پاکستان کے الگ الگ حصے کر کے پاکستان کو ختم کرنا چاہتا ہے بلوچستان کے محب وطن عوام کی اکژیت علیحدگی نہیں چاہتی، بلوچ مزاحمت کار اور جنگ جو امریکہ اور بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں یہ وقت سیاست کرنے کا نہیں بلکہ بلوچستان کو بچانے کا ہے اس لیے تمام قومی قیادت باہمی اختلافات بھلا کر بلوچستان کا مسئلہ حل کرنے کی طرف میدانِ عمل میں آئے کانگریس میں قرارداد پیش کرنے والے امریکہ کو مقبوضہ کشمیر، افغانستان اور فلسطین میں ہونے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔ دریں اثناء سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل ملک بھر میں بلوچ بھائیوں کے ساتھ اظہاریکجہتی اور بلوچستان میں غیر ملکی سازشوں کے خلاف ’’بلوچستان بچاؤ تحریک‘‘ چلائے گی، اس تحریک کے دوران چاروں صوبوں میں بلوچستان بچاؤ کانفرنسیں اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی اور پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخواہ سے سینئر علماء و مشائخ کے وفود بلوچستان بھیجے جائیں گے جو بلوچ رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے نیز بلوچستان میں امریکی و بھارتی مداخلت کے خلاف دستخطی مہم چلا کر لاکھوں دستخطوں پر مشتمل خصوصی یادداشت اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں کو بھیجی جائے گی۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچ عوام پاکستان سے نہیں علیحدگی پسند اور امریکہ و بھارت کے ایجنٹ مٹھی بھر بلوچ سرداروں سے آزادی چاہتے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان کی علیحدگی پسند قوتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امریکہ و بھارت کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے قومی یکجہتی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ اور بھارت بلوچستان کو بنگلہ دیش بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان میں شدت پسندوں کے چار گروپ کام کر رہے ہیں جنہیں امریکہ، یورپ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے چودہ قونصل خانے بلوچستان میں مداخلت کر رہے ہیں، صوبے کے خراب حالات کی ذمہ دار بھارتی ایجنسیاں ہیں اور بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی ٹریننگ را اور سی آئی اے کرتی ہے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ پاکستان کی غیرت مند اور دلیر قوم پاکستان توڑنے کی کسی ناپاک سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت اکبر بگٹی کے قاتل جنرل مشرف کو انصاف کے کٹہرے میں لائے تا کہ بلوچ عوام کا غصہ کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی امریکی سازش کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوم حکومت اور فوج متحد ہو جائے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ بلوچستان پر امریکی قرارداد سے امریکہ کے مکروہ عزائم سامنے آ گئے ہیں، امریکی ریشہ دوانیوں کے خلاف بند باندھنے اور بلوچ عوام کی دلجوئی کی ضرورت ہے۔ اجلاس سے حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، صاحبزادہ سید مظہر سعید کاظمی، پیر محمد اطہر القادری، مفتی محمد حسیب قادری، طارق محبوب، شیخ الحدیث علامہ محمد شریف رضوی، محمد نواز کھرل، مولانا وزیر القادری، الحاج سرفراز تارڑ، مفتی محمد سعید رضوی اور دیگر نے شرکت کی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں فرمایا: ایٹمی ہتھیار طاقت و قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں اور ایران کی عظيم قوم ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ طاقتوں کے اقتدارکو ختم کردےگي نیزتسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈہ کا مقصد ایران کی علمی پیشرفت کو روکنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج صبح  اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کےسربراہ ، بعض اہلکاروں اور دانشوروں سے ملاقات میں علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی عظیم ترقیات اور کامیابیوں کے نتائج کوملک میں قومی عزت و وقار، دباؤ کے مقابلے میں ایک قوم کی طرف سے عالمی اورعلاقائی قوموں کے لئے بہترین نمونہ پیش کرنے اور سامراجی طاقتوں کے علمی انحصار کو توڑنے اور استقلال پیدا کرنے کا باعث قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں رہی اور نہ وہ ایٹمی ہتھیارحاصل کرنے کی کوشش کرےگی کیونکہ ایٹمی ہتھیار طاقتور بننے اور قدرت میں اضافہ کا باعث نہیں ہیں بلکہ ایک قوم اپنے عظيم انسانی اور قدرتی وسائل، ظرفیتوں اور صلاحیتوں کے ذریعہ ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینے والی طاقتوں کے اقتدار کو ختم کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک میں تجربہ کار ، کارآمد، ذہین، خوش فکر اور ولولہ انگیز افرادی قوت کو اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر چہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں جوان دانشوروں اور سائنسدانوں کی ترقیات کے مختلف پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس سے ایرانی قوم کے اندر قومی عزت و وقار کا احساس پیدا ہوگيا ہے۔ رہبر معظم انقلاب نے ملک میں عزت نفس کا جذبہ پیدا کرنے کو انقلاب اسلامی کا مرہون منت قراردیتے ہوئے فرمایا: دشمن نے اس بات کے بارے میں وسیع تبلیغات اورپروپیگنڈہ کیا کہ “ایرانی جوان اور ایرانی قوم کچھ نہیں کرسکتے”  ، لیکن ہر عظيم علمی پیشرفت اور علمی محصول اس بات کی بشارت دیتی ہے کہ ایرانی قوم پیشرفت اور ترقی کی عظيم منزلیں طے کرسکتی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی اور سائنسی میدان میں ترقی کو مستقبل میں قومی اور ملکی مفادات سے متعلق قراردیتے ہوئے فرمایا: کچھ ممالک نے ناحق علمی انحصار کو اپنے اختیارمیں  رکھ کردنیا پر تسلط قائم کیا ہوا ہے اور وہ اپنے آپ کو عالمی برادری سے تعبیر کرتے ہیں وہ دیگر اقوام کے ذریعہ اس علمی انحصار کے ختم ہو جانے سے سخت خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور ایرانی قوم کے خلاف ان کے بے بنیاد پروپیگنڈہ  اوروسیع تبلیغات کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے سامراجی طاقتوں کی طرف سےمنہ زوری اور تسلط پسندی کے لئے علم سے استفادہ کو بشریت اور انسانیت کے خلاف سنگين جرم قراردیتے ہوئے فرمایا: اگر قومیں مستقل طور پر سائنس ، و ٹیکنالوجی، ایٹمی اور فضائي اور علمی و صنعتی شعبوں میں پیشرفت حاصل کرلیں تو پھر عالمی منہ زور طاقتوں کے تسلط کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کی طرف سے قائم علمی انحصار کو ایران کے توسط  سے توڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمنوں کے پروپیگنڈے پر توجہ کئے بغیر علم و سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں قدرت اور سنجیدگی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تسلط پسند طاقتوں کے پروپیگنڈے کو ایرانی قوم کی علمی پیشرفت روکنے کے لئے قراردیتے ہوئے فرمایا: اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ہمارے مخالف ممالک  میں ہمارے خلاف منصوبہ بنانے اورفیصلہ کرنے والے اداروں کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران، فکری، نظری اور فقہی لحاظ سے ایٹمی ہتھیاروں کے رکھنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہےاور اس بات پر اعتقاد ہے کہ اس قسم کے ہتھیاروں کی نگہداری بیہودہ، نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کا رکھنا طاقتور ہونے کی علامت نہیں ہے بلکہ ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ اقتدار کو شکست سے دوچار کیا جاسکتا ہے اور ایرانی قوم اس کام کو انجام دےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے دشمن کی طرف سے  دباؤ، دھمکیوں،پابندیوں اور قتل جیسی کارروائیوں کو بے نتیجہ قراردیتے ہوئے فرمایا: ایرانی قوم علمی پیشرفت کی شاہراہ پر گامزن رہےگی اور دباؤ ، دھمکیاں اور ایرانی دانشوروں کا قتل ایک لحاظ سے تسلط پسند طاقتوں اور ایرانی قوم کے دشمنوں کی کمزوری اور ناتوانی کا مظہر ہیں جبکہ ایرانی قوم کے استحکام اور طاقت و قدرت کا آئینہ دار ہیں کیونکہ ایرانی قوم دشمن کے غیظ و غضب سے متوجہ ہوجاتی ہے کہ اس نے صحیح راہ اور صحیح مقصد کا انتحاب کیا ہے اور اس پر وہ گامزن رہےگی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ایٹمی معاملے کو بھی دشمن کا ایک بہانہ قراردیتے ہوئے فرمایا: انقلاب اسلامی کی کامیابی کے آغاز سے ہی ایران کے خلاف پابندیاں جاری ہیں جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام حالیہ برسوں سے متعلق ہے لہذا ان کی اصل مشکل ایران کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ وہ قوم ہے جس نے مستقل رہنے اور ظلم و ظالم کے سامنے تسلیم نہ ہونےکا فیصلہ کیا ہے اور اس نے یہ پیغام تمام اقوام کوبھی دیا ہے کہ اس نے یہ کام انجام دیا ہے اور اس کام کو مزید انجام دےگی۔ رہبرمعظم انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: جب کوئی قوم اللہ تعالی کی نصرت و مدد پر توکل اور اپنی اندرونی طاقت پر اعتماد کرتے ہوئے کھڑا ہونے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کی پیشرفت کو دنیا کی کوئي طاقت روک نہیں سکتی۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے ملک کے ایٹمی سائنسدانوں کو علمی ترقیات کے سلسلے میں اپنی ہمت اور اپناحوصلہ بلند رکھنے کی سفارش کرتے ہوئے فرمایا: ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاملہ ملک کے قومی اور مختلف شعبوں میں استفادہ کرنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ حرکت جوانوں ، دانشوروں اور قوم کوپختہ عزم و ارادہ عطا کرتی ہےکیونکہ قوم میں استقامت و پائداری اور جذبہ و ولولہ کو قائم رکھنا بہت ہی اہم ہے۔ اس ملاقات کے آغاز میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عباسی نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے جدید تجربات اور اس علم و دانش کو مقامی سطح پرانجام دینے کی کوششوں  اور مختلف طبی، صنعتی اور زراعتی شعبوں میں اس سے استفادہ کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونیوں نے مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرکے ایک ارب مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے۔ حزب اللنے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا مجرمانہ اقدام تمام اخلاقی، سیاسی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ امریکی فوجیوں نے کل افغانستان میں قرآن مجید کے کئی نسخوں کو آگ ل‍گا کر جلا دیا تھا جس کے بعد امریکہ کے خلاف افغانستان اور دیگر ممالک میں مظاہرے جاری ہیں ادھر امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ اور امریکی وزیر دفاع پنیٹا نےامریکی فوجیوں کےاس  وحشیانہ اقدام پر معافی مانگی ہے۔

تہران : ایران میں الیکشن کیلئے اہل سمجھے جانے والے امیدواروں کی منظوری دینے والی گارڈین کونسل نے 5/ ہزار میں سے 3/ ہزار 444/ کو 2/ مارچ کے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی ہے۔ جولائی 2009ء میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے پر ہونے والے تنازع کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی عوام 2/ مارچ کو ملک بھر میں اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ دیں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے حامی امیدوار انتخابات جیت جائیں گے۔

ماسکو (ایجنسیاں) روس نے شام میں جاری بحران کے تصفیے کیلئے منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ذرائع ابلاغ نے روسی وزیر خا رجہ کے حوالہ سے بتایا کہ شامی حکومت کو رواں ہفتے منعقد ہونے والے اجلاس میں نمائندگی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف شامی اپوزیشن کو نمائندگی دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شام میں جاری بحران کے حل کیلئے خصوصی طور پر اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنا چاہئے