صدر زرداری کی واپسی ملک میں جاری سیاسی کھیل کا ’’آخری منظر‘‘ ہے، ذرائع

Posted: 19/12/2011 in All News, Articles and Reports, Breaking News, Local News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News

جنوری میں صدر کو دوبارہ دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، اس بار منزل دبئی نہیں لندن ہو گی جہاں سے استعفیٰ آئیگا، 27 دسمبر کو زرداری ’’الوداعی خطاب‘‘ کریں گے، پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا، ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا، اپنی نااہلی سے ڈرتے ہوئے وزیراعظم سوئس حکومت کو صدر کیخلاف خط لکھیں گے، صدر کو عہدہ چھوڑنے پر سوئس کیسز سے بچنے کی رعایت دی جا سکتی ہے ملک کے موجودہ اور مستقبل کے سیاسی منظر نامہ کے حوالے سے مقتدر اور باخبر حلقوں کے حوالے سے ذرائع نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے پاکستان پہنچنے کے باوجود ملک میں جاری افواہوں اور سازشوں کا طوفان دم توڑنے کا نام نہیں لے رہا، اب ایک نئی خفیہ سازش کا حوالہ دیا جا رہا ہے جس کے مطابق زرداری صاحب کا کراچی لوٹنا دراصل اس سیاسی کھیل کا آخری منظر ہے جس کا آغاز جنوری میں شروع ہونے والا ہے۔ اس نئی سازش کے لکھاری کے بقول جو ان حلقوں تک رسائی رکھتے ہیں جہاں اس طرح کی کہانیاں سیاسی حکومتوں کے خلاف سنائی جاتی رہتی ہیں، کے مطابق صدر پاکستان کو دوبارہ جنوری میں ’’دل کا دورہ پڑ سکتا ہے‘‘ اور اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو سکتی ہے جہاں سے وہ خرابی صحت کی بناء پر اپنا استعفیٰ بھی بھیج سکتے ہیں۔ ایک سیاسی پنڈت کے بقول پاکستان میں جب بھی سیاست دان اقتدار میں ہوں تو اس وقت اس طرح کی سازشیں ہر وقت بنتی اور ٹوٹتی رہتی ہیں کیونکہ اس طرح کا کھیل سیاسی حکومتوں کے ساتھ کھیلنا بہت آسان ہو جاتا ہے اور افواہوں اور جوڑ توڑ کی منڈی میں اس طرح کے سودے دستیاب ہوجاتے ہیں جو عام و خاص کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں۔   ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایسی نئی تھیوری کا پتہ چلا ہے جس کے مطابق کہ اگر جنوری میں صدر زرداری کو دوبارہ دل کا دورہ پڑنے کی خبر سامنے آ جائے تو پھر سمجھا جانا چاہیے کہ وہی کچھ ہونے والا ہے جو انہوں نے پاکستانی سیاسی ستاروں کی چالیں دیکھ کر بتایا ہے۔ اس ’’سیاسی نجومی‘‘ کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ باقی ماندہ وقت مشروط طور پر گزارے، بلکہ ایک لکھے ہوئے سکرپٹ پر صرف اداکاری کر ے۔ رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے این آر او کے خلاف دی گئی فائنل ہدایت کے بعد کہ اب وزیراعظم گیلانی کے پاس کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ سوئس حکومت کو اپنے صدر اور پارٹی کے سربراہ کے خلاف دوبارہ مقدمات کے لئے خط لکھیں (اگرچہ وزیراعظم گیلانی کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنی پارٹی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی بجائے سیاست ترک کر دیں گے)۔ اگر وزیراعظم خط نہیں لکھتے تو پھر سپریم کورٹ انہیں توہین عدالت کے الزام میں نااہل قرار دے سکتی ہے جس سے ان کی حکومت ختم ہو سکتی ہے، تاہم زرداری صاحب کو یہ آفر کی جارہی ہے کہ وہ سوئس کیسز دوبارہ کھلوانے سے بچنے کے لیے اگر صدارت چھوڑ دیں تو انہیں رعایت دی جا سکتی ہے۔  رپورٹ کے مطابق وزیراعظم گیلانی کی فوج کے ساتھ صدر زرداری کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں اور ایک ہی مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے کہ صدر زرداری خود صدارت اور سیاست چھوڑ دیں۔ اس کے بدلے میں ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو پاکستان میں سیاست کرنے کی اجازت ہو گئی اور ان کی پارٹی کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ یوں زرداری صاحب بلاول کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی کو انتقامی کارروائیوں سے بچانے کے لیے خود صدارت چھوڑنے پر تیار ہو جائیں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی پس منظر میں موجودہ سیاسی ڈرامے کا آخری ایکٹ جنوری میں شروع ہو گا جس میں آصف علی زرداری صدر نہیں رہیں گے لیکن اس سے پہلے انہیں ستائیس دسمبر کو نوڈیرو میں بے نظیر بھٹو کے چوتھی برسی پر تقریر کرنے کا موقع دیا جائے گا جو ایک لحاظ سے ان کا ’’الوداعی خطاب‘‘ ہو گا۔ اس خطاب کے بعد جنوری میں صدر زرداری کی طبعیت ایک بار پھر ناساز ہو جائے گی، دل کے عارضے کی وجہ سے انہیں ایوان صدر سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے چکلالہ ائیر بیس لے جایا جائے گا جہاں سے انہیں علاج کے لیے ایک خصوصی طیارے پر بیرون ملک روانہ کیا جائے گا، لیکن اس دفعہ ان کی منزل دبئی کی بجائے لندن ہو گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن میں انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا جائے گا جہاں وہ فروری تک رہیں گے۔  فروری کے آخر میں صدر صاحب اپنے صدارتی اور پارٹی کے عہدوں سے خرابی صحت کی بنیاد پر مستعفی ہوجائیں گے۔ ان کی جگہ سندھ سے ہی پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک ایسے شخص کو صدر بنایا جائے گا جس پر’’ سب‘‘ کا اتفاق ہو گا۔ تاہم اس دروان سینیٹ آف پاکستان کے انتخابات ہوں گے اور پیپلز پارٹی کو سینٹ میں اکثریت لینے دی جائے گی جو کہ آخری ایکٹ (اسے ڈیل سمجھیں) کا حصہ ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کو سینیٹ میں اکثریت مل جانے کے بعد وزیراعظم گیلانی خود ہی اپنی حکومت اور پارلیمنٹ کو توڑنے کی سفارش کریں گے اور ساتھ ہی ایک کیئرٹیکر حکومت قائم ہو جائے گی جو کہ ٹیکنو کریٹس پر مشتمل ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی صوبائی اسمبلیاں بھی توڑ دی جائیں گی۔ اس اثناء میں عمران خان ایک پٹیشن لے کر سپریم کورٹ پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک بھر میں نئے ووٹ رجسٹر نہیں ہوتے اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہاب الخیری صاحب بھی ایک پٹیشن لے کر عدالت کے دروازے پر پہنچ جائینگے کہ جب تک ملک سے کرپٹ لوگوں کا احتساب نہیں ہوتا، اس وقت تک نئے انتخابات نہیں ہونے چاہیں۔ ذرائع کے مطابق عدالت یہ دونوں درخواستیں مان کر نگران حکومت کو نوے دن میں انتخابات کرانے کی آئینی شق سے بری کر دے گی اور انتخابات 2013ء کے وسط تک کے لیے ملتوی کر دیئے جائینگے۔ انتخابات کے بعد ایک نئی لیڈرشپ سامنے آئے گی جس پر عوام کے علاوہ عالمی برادری بھی بھروسہ کرے گی، یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ نئی لیڈرشپ کون ہے۔

Comments are closed.