گریٹ ریسیشن اور تیسری جنگ عظیم

Posted: 02/01/2012 in All News, Articles and Reports, China / Japan / Koriea & Others, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Russia & Central Asia, USA & Europe

سورچہ فال کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم  پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔ اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” ’’یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔‘‘پہلی جنگ عظیم کے بعد اور دوسری جنگ عظیم سے قبل دنیا کو ایک زبردست معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران 4 ستمبر 1929ء  کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ میں اچانک اسٹاک کی قیمتیں گریں، پھر تو اس معاشی افراتفری اور بحران نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری دنیا کے ہر امیر اور غریب ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بحران تقریباً دس سال تک جاری رہا۔ اس کو بیسویں صدی کا بدترین معاشی بحران کہا جاتا ہے۔ بہرحال قوموں پر آیا ہوا مشکل وقت بھی گذر جاتا ہے۔ John D  Rochefeller نے کہا تھا:۔
“In the 93 years of my life, depressions have come and gone. Prosperity has always returned and come again.” یعنی میری 93 سالہ زندگی میں کئی معاشی بحران آئے اور گئے، خوشحالی آخر کار ضرور واپس لوٹتی ہے اور دوبارہ بھی آئے گی۔ بیسویں صدی کی مذکورہ بالا معاشی بدحالی کو Great Depression کہا گیا لیکن اکیسویں صدی کی موجودہ بگڑتی ہوئی بین الاقوامی معاشی صورتحال کو ماہرین معاشیات گریٹ ڈپریشن کہنے کی بجائے Great Recession کہتے ہیں:۔”یہ گریٹ Recession دسمبر2007ء میں شروع ہوئی اور اس نے بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن جون 2009ء میں امریکہ میں یہ محسوس کیا گیا کہ بین الاقوامی معاشی جمود خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حالات پھر مخدوش ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 2011ء کے موجودہ سال میں پوری دنیا Double Dip Recession کا شکار ہو چکی ہے۔ کہا یہ جار ہا ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی یا جمود جس کی لپیٹ میں خصوصاً امریکہ اور یورپ ہے، کی اصل وجہ امریکی Booming Housing Market کا دیوالیہ ہو جانا ہے۔ جس کی بنیاد وہ بینک بنے جنہوں نے بہت کرپشن کی اور عوام کو لوٹا۔ کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ امریکہ میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ اُن کے عراق اور افغانستان میں ہونے والے بے پناہ جنگی اخراجات ہیں۔ ان نقصانات کو اب امریکہ عراق، لیبیا، کویت اور بحرین کے تیل اور گیس کے ذخیروں پر قابض ہو کر دھڑا دھڑ پورا کر رہا ہے۔ امریکہ کی اب نظر ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے خزانوں پر بھی ہے۔ روس اور چین اب امریکہ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے ایران میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس سے کہا یہ جاتا ہے کہ اب مغرب اور مشرق میں پھر سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ Sorcha Fall کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔  اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔ مشرق اور مغرب کے درمیان موجودہ تناؤ میں اس وقت شدت آئی جب دو ہفتے قبل شام سے واپس آتے ہوئے روسی سفیر Vladimir Titorenkoاور اس کے دو اسٹاف ممبران پر برطانوی MI-6 اور سی آئی اے کی مدد سے قطری سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا اور اُن کو اتنا زخمی کر دیا کہ اُن کو قطر کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ روس اور چین کا خیال ہے کہ  CIA اور برطانوی MI-6 والے سفارتی بیگوں سے خفیہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم کو دیتے ہیں۔ جس کو اُنہوں نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کیا تھا اور اب اس تنظیم کی وجہ سے شام اور ایران میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران اور شام پر مہلک Biological agents کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس سے کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ ہالینڈ اراسمس میڈیکل سنٹر کے Virologist جن کا نام Ton Fouchier ہے، نے کہا ہے کہ مہلک جراثیم دوسرے ممالک پر پھینکنے کے لئے امریکہ کے ڈرون RQ-170 استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب حال ہی میں روس نے اپنے Avtobaza گراؤنڈ بسیڈ انٹیلی جنس اور جیمنگ سسٹم کو استعمال کر کے امریکی CIA کا ڈرون RQ۔170 ایران کے علاقے میں اتار لیا۔ جس میں حساس Aerosal Delivery System نصب تھا۔ جس سے دوسرے ممالک پر   Virus   حملے کئے جا سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر بھی Flu Virus کا استعمال ہوا تھا، جس سے دنیا کی آبادی کا تقریباً 3 فیصدی یا اندازا ً500 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ امریکہ کے ایک Investigativeجرنلسٹ Greg Hunter نے ایک رپورٹ لکھی جس کا عنوان ہے۔”Is the World Spinning out of Control”اس رپورٹ میں امریکی صحافی نے لکھا ہے کہ مغربی معاشی نظام 100ٹریلین ڈالرز کے قرضے کے نیچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ قرضہ کوئی ملک بھی واپس ادا نہیں کر سکتا۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی صحافی نے لکھا ہے۔ “Never in history has the World been this close to total financial choas and nuclear war at the same time” ’’یعنی انسانی تاریخ میں اس سے پہلے دنیا ایک ہی وقت پر معاشی بدحالی کی گرفت اور ایٹمی جنگ کے امکانات کے اتنا قریب نہ تھی جتنی اب ہے‘‘۔  قارئین آج سے تقریباً 200 سال پہلے امریکہ کے ایک بانی قائد تھامس جیفرسن نے کہا تھا:۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بینکوں کے ادارے دشمن افواج سے زیادہ ہماری آزادی کے لئے خطرہ ہیں۔ اگر پرائیوٹ بینکوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ پہلے Inflation اور پھر Deflation کریں تو پھر بینکوں کے سہاروں پر کھڑی ہونے والی کارپوریشنیں لوگوں کو اُن کی تمام جائیدادوں سے اس طرح محروم کر دیں گی کہ اُن کے بچے اپنے اُس براعظم پر بے گھر کھڑے نظر آئیں گے، جس کو اُن کے اباؤ اجداد نے فتح کیا تھا  قارئین یہ یاد رکھا جائے کہ پاکستان اب معاشی بدحالی کے Mine Fieldکی تباہیاں جھیلنے کے بعد مکمل معاشی Collapse کے خوفناک گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکمرانی کمزور ہے، سٹیٹ بینک کا کوئی کنٹرول نہیں، حکومت پرائیویٹ بینکوں سے کھربوں روپے اُدھار لے کر کھا رہی ہے۔ تباہ حال کارپوریشنیوں کے پاس مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لئے بھی کچھ نہیں۔ بنیادی خرابیوں کو دور کئے بغیر ان کارپوریشنوں میں مزید اربوں روپے ڈبوئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کمر توڑ ہے، مالیاتی ٹیم کی بے حسی ناقابلِ فہم ہے، بجٹ خسارے اور Inflation کی صحیح صورتِ حال عوام سے چھپائی جا رہی ہے۔ دولت کی بیرون ملک بے خوف پرواز جاری ہے۔ Run away Inflation اور بیرونی Debt default کے زبردست خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ صنعتوں کی بندش کی وجہ سے ایکسپورٹ رُکی ہوئی ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں۔تیل کی قیمتوں، بجلی اور گیس کے بحران نے زراعت، صنعت اور گھریلوں صارفین کی چیخیں نکال دی ہیں۔ زرِمبادلہ کے ذخائر، جو اب تقریباً 12 ارب ڈالرز ہیں، اگلے سال کے اختتام پر صرف چار یا پانچ ارب ڈالرز رہ جائیں گے۔ جس سے مارکیٹ مزید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر Collapse ہو سکتی ہے ۔ایسی صورتِحال میں صدرِ مملکت فرماتے ہیں کہ اُن کی جماعت کے منشور کے 80 فیصدی حصے پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اب خوف یہ ہے کہ حکمران اتحاد کے منشور کی 100 فیصدی تکمیل کے بعد پاکستان کا کیا بچے گا۔……تحریر:جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

Comments are closed.