ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔گزشتہ ایک ہفتہ سے اسرائیل ایران کو دھمکی دے رہا ہے کہ وہ ایک موثر کارروائی کر کے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو ختم کر دے گا کیونکہ اگر ایران نیوکلیئر بم بنانے میں کامیاب ہو گیا تو مشرق وسطٰی کا امن خطرے میں پڑ جائے گا۔ امریکہ نے ہر چند اسرائیل کی ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کے خلاف فوجی جارحیت کی فی الوقت حمایت نہیں کی ہے لیکن اس کا خیال ہے کہ ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں، جن میں وہ ایرانی بینک بھی شامل ہیں جو نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں ایرانی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔  واضح رہے کہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران خفیہ طریقے سے ایٹم بم بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور وہ اٹامک انرجی ایجنسی سے اپنے نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں بعض معلومات انتہائی خفیہ رکھ رہا ہے اور ایجنسی سے مکمل تعاون نہیں کر رہا ہے، ایرانی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ سیاسی پہلو ہے جس کی کوئی اہمیت یا حیثیت نہیں ہے۔ ایران کا نیوکلیئر پروگرام انتہائی پرامن ہے اور وہ اپنے اس پروگرام سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دوسری طرف ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو اس کے جواب میں اسرائیل کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایران نے اب تلک اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس کے پاس 200 کے قریب ایٹم بم موجود ہیں۔ تاہم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی رپورٹ سے متعلق روس کا موقف بالکل واضح ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیوں کی حمایت نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی بھی ملک کی جانب سے ایران پر حملہ کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں تو ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات کھٹائی میں پڑ جائیں گے اور ماضی میں ایران کی نیوکلیئر پروگرام کے سلسلے میں جو مذاکرات ہو چکے ہیں، ان کے نتائج بھی بے ثمر ثابت ہوں گے۔ چین نے بھی ایران پر کسی بھی جانب سے حملے کو مشرق وسطٰی میں آگ سے کھیلنے سے تعبیر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائی کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔ اٹامک انرجی ایجنسی سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے چین کی وزارت خارجہ کے نمائندے نے کہا کہ وہ اس کا مطالعہ کر رہے ہیں لیکن فی الحال اس میں کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی ہے۔ فرانس کے صدر نے ایران پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا ہے، اسی طرح بعض عرب ممالک بھی ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگانے کی حمایت کر رہے ہیں۔لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا امریکہ اسرائیل کو ایران کے نیوکلیئر اثاثوں کو تباہ کرنے کی اجازت دے سکتا ہے یا پھر وہ اس کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے؟ بارک اوباما اس سلسلے میں خاصے پریشان نظر آ رہے ہیں اور ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں، کیا اسرائیل کو خفیہ طور پر ایران پر حملہ کرنے کے سلسلے میں Go head دے دیں یا پھر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں، تاکہ ایران اپنے نیوکلیئر پروگرام کو کامیابی کے ساتھ پایہٴ تکمیل تک نہ پہنچا سکے، لیکن اس سلسلے میں امریکہ کو روس اور چین کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے اور یہ ممکن ہے کہ سکیورٹی کونسل میں ایران کے خلاف سخت پابندیوں کی قرارداد منظور نہ ہو سکے۔ اس صورت میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ ملکر ایران پر فوجی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ امریکہ قطر اور بحرین میں موجود اپنے بحری بیڑوں کو پہلے ہی حرکت میں لا چکا ہے اور یہ بیڑے آہستہ آہستہ خلیج فارس میں داخل ہو رہے ہیں، یقیناً امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ان فوجی نقل و حمل کی وجہ سے ایران کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے اور پاکستان کے لئے بھی کیونکہ پاکستان اور ایران کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ موجودہ حکومت کی کوششوں سے ایران اور پاکستان کے تعلقات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس میں گیس پائپ لائن کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو تیزی سے مکمل ہونے جا رہا ہے۔  اگر ایران پر اسرائیل نے حملہ کیا تو پاکستان کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ یقیناً پاکستان کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہوں گی اور ہونی بھی چاہئیں، لیکن کیا پاکستان ایران کی کوئی فوجی مدد کر سکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ شاید پاکستان ایسا نہیں کر سکے۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو عالمی سطح پر صرف روس اور چین ایران کی حمایت کر رہے ہیں اور کسی بھی ملک کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور مشرق وسطٰی جنگ کی آگ میں بھسم ہو جائے گا، جس کا سب سے زیادہ نقصان اسرائیل اور امریکہ کو پہنچے گا۔ مزید برآں دنیا کی معیشت جو پہلے ہی مندی کا شکار ہے، مزید دباؤ میں آ جائے گی اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کی معیشت تباہ و برباد ہو سکتی ہے، اس صورت میں معاشرتی افراتفری کا دور دورہ ہو گا اور زندگی کا سفر انتہائی مشکل اور کٹھن ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے بارک حسین اوباما کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کر کے اس دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیں

Comments are closed.