فرقہ واریت، لسانیت اور دیگر مسائل سے نجات کے لئے پاکستان سے امریکہ کو بھگانا ہونا، علامہ حسن ظفر نقوی

Posted: 27/11/2011 in All News, Articles and Reports, Educational News, Important News, Local News, Religious / Celebrating News

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں کا نشانہ صرف شیعہ نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا۔ ہمیشہ سامراجی قوتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے، جمہوری اسلامی ایران میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب اس کے اثرات پاکستان میں نمودار ہونا شروع ہوئے اور پاکستان کے شیعہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور خدا عزوجل کا ہم پر کرم ہوا کہ ہمیں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ جیسی قیادت نصیب ہوئی جس نے ملت جعفریہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ سرزمین پاکستان میں شیعہ سنی وحدت کا نعرہ لگایا، اس قیادت کے خلوص، امام حسین ؑ سے بے پناہ عشق اور امام خمینی ؒ سے عقیدت کی وجہ سے پاکستان میں شیعہ اور سنی اپنے مشترکات پر اکھٹا ہونا شروع ہوئے تو سامراجی طاقتوں نے اس انقلاب کے راستے کو روکنے کے لئے اس وقت کے آمر حکمران کا سہارا کے لر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت کو عام کیا، اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کو شہید کیا، لہٰذا ہم نے دیکھا کہ اس ملک میں شیعہ سنی کے درمیان تفریق کو عام کیا، دیوبندی بریلوی کے درمیان تفریق کو عام کیا، غرض اس طرح اس ملک کے عوام کو توڑ دیا گیا، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی ملک کی ایجنسیاں انہیں سامراجی ایجنٹوں کو اپنی گود میں پال کر ان کی پرورش کررہی ہیں، آج ملک میں اس طرح کا ماحول پیدا کردیا گیا ہے کہ ہر شخص ان سامراجی ایجنٹوں کے ہاتھوں ہراساں دکھائی دیتا ہے، لیکن یہ کھیل زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، پاکستان کے شیعوں نے امام خمینی کے فرمان پر لبیک کہتے ہوئے شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی ؒ کے وحدت کے نعرے کو پھر سے بلند کردیا ہے اور ملک کے گوشے گوشے میں رابطوں کا آغاز کردیا ہے، انشاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ جب سامراجی طاقتوں کا یہ کھیل جلد نابود ہوگا اور ملک خداداد پاکستان کے شیعہ اور سنی متحد ہوکر ان دہشت گردوں کا اس ملک سے سفایا کریں گے۔سامراجی طاقتوں نے یہاں یہ کھیل کھیلا ہے، کچھ لوگ ان کا آلہ کار ضرور بنے ہیں لیکن اس سارے مسئلے کی اصل وجہ عالمی استعمار امریکہ ہے، لہٰذا پاکستان کی شیعہ اور سنی عوام کو متحد ہوکر امریکہ کے خلاف قیام کرنا ہوگا اور اس ملک کو امریکہ کے ناپاک قدموں سے پاک کرنا ہوگا، جس دن ایسا ہوگا اس دن پاکستان کے عوام حقیقی معنوں میں جشن آزادی منائیں گے اور اپنے ان عظیم بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کریں گے جنہوں نے اس پاکستان کو بنانے کے لئے اپنی جان، سرمایہ اور حتیٰ کہ ناموس تک کی قربانی پیش کی۔ لہٰذا پاکستان کے عوام کو فرقہ واریت، لسانیت، علاقائیت، صوبائیت، قوم پرستی اور دیگر مسائل سے نجات حاصل کرنے کے لئے اس سرزمین سے امریکہ کو بھگانا ہوگا۔یہ بات درست ہے اور اس ملک کا المیہ ہی یہی ہے کہ سیکیوریٹی ایجنسیاں ان کالعدم تنظیموں کی سرپرستی کرتی ہیں، ہم بارہا یہ مطالبہ کرچکے ہیں کہ ان کی سرگرمیوں پر پابندی لگائی جائے، دوسرا قابل مذمت امر یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حکمران بھی اس سارے کھیل میں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، کچھ تازہ حقائق آپ کے گوش گزار کروں کہ گزشتہ تین ماہ کے عرصے کے اندر اب تک 22 سے زیادہ شیعہ عمائدین، کاروباری حضرات اور نوجوانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاچکا ہے لیکن تاحال کسی بھی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا گیا، وہیں دوسری جانب ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کا عمل جاری ہے اور شیعہ نوجوانوں کو بے قصور گرفتار کیا جارہا ہے، سعودی قونصل خانے پر حملے کے نام پر گزشتہ پانچ ماہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کئی شیعہ نوجوانوں کو گرفتار کیا اور ملت جعفریہ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا گیا اور ان نوجوانوں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے اقرار جرم کروانے کی کوشش کی گئی جسکا ثبوت منتظر امام کیس بھی ہے اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ نے منتظر امام پر جھوٹے کیسوں کو مسترد کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے، مزید یہ کہ 16 نومبر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کراچی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر شیعہ نوجوانوں محمد علی، محسن، زکی اور شہید تابش کو گرفتار کیا، جن کی گرفتاری بیس نومبر کو بتائی گئی جبکہ شہید تابش حسین کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا جوکہ انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔ یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ ان کا نشانہ صرف شیعہ ہی نہیں ہیں، ہمارے اہلسنت بھائی بھی ان کی بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں، داتا دربار پر حملہ، علامہ سرفراز نعیمی کی شہادت، رحمان بابا کے مزار پر حملہ اور دیگر واقعات سب کے سامنے ہیں، یہ دہشت گرد شیعہ اور سنی دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں، لہٰذا اس ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینے والے امریکہ اور اس کے ایجنٹوں کے خاتمے کے لئے شیعہ اور سنی کو ایک جگہ جمع ہونا پڑے گا اور اس ملک کی ایجنسیوں کو اب یہ جان لینا چاہیئے کہ ظلم کا دور ختم ہونے والا ہے کہیں ایسا نہ ہو مظلوموں کی آہ ان کے گھرانوں میں لرزہ طاری کردے۔ علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہہ پیغام یہی ہے کہ اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیں، کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہ دیں کہ ملت کے درمیان اختلاف کی بات کرے، کوشش کریں کہ مجالس امام حسین ؑ میں اہلسنت برادری کو بھی دعوت دیں، یاد رکھیں کہ آج کے دور میں کہ جب ہر طرف ناامنی ہے، دہشت گردی ہے، غربت ہے، زبوں حالی ہے، اقدار کی پامالی ہے، نفرت، جھوٹ، رشوت غرض معاشرے کی ہر برائی عام ہے، ایسے حالات میں ہر شخص کی نگاہیں حسین ؑ کی طرف ہیں، لہٰذا ہمیں بھی حسینی کردار کو اپناتے ہوئے اس سرزمین پاکستان میں اپنے عمل کے ذریعے وحدت کی مؤثر آواز کو بلند کرنا ہے۔ انشاء اللہ خدا سے امید ہے کہ وہ اس عظیم کام میں ہماری مدد فرمائے۔

Comments are closed.