عرب خطے میں مذہبی جنگ کی مغربی سازش

Posted: 28/01/2012 in All News, Articles and Reports, Important News, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائےخطے میں ایک سال قبل جنم لینے والی اسلامی بیداری کی لہر نے امریکہ کے پٹھو حکمرانوں کو سرنگونی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کے سامنے نئے پیدا ہونے والے سیاسی حالات کے مدنظر دو راستے موجود تھے۔ ایک یہ کہ خاموشی سے بیٹھ کر اپنے پٹھووں کی یکے بعد دیگرے سرنگونی کا تماشا کرتے رہے اور دوسرا یہ کہ جس طرح بھی ممکن ہو ان حالات کا مقابلہ کرے اور اپنی پوری کوشش کرے کہ مغرب کے بنیادی اصول یعنی خطے سے سستی انرجی کی ترسیل اور اسرائیل کی قومی سلامتی کی یقین دہانی کو محفوظ بنا سکے۔ اس بیداری کی لہر میں عوام ایسے ڈکٹیٹرز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جنہیں امریکہ نے ان پر زبردستی ٹھونس رکھا تھا۔ ان آمر حکمرانوں کی سرنگونی کا منطقی نتیجہ انقلابی ممالک سے امریکی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ ہے۔ ایسے حالات میں امریکہ چاہتا ہے کہ وہ سیاسی حالات کو ایسے رخ میں لے جائے کہ اسکے مفادات کو کم از کم نقصان پہنچے۔  آج اگر اسرائیلی تھنک ٹینکس سے یہ سوال پوچھا جائے کہ شام میں بدامنی کیوں پھیلا رہے ہیں تو انکی جانب سے دو جواب سامنے آئیں گے۔ پہلا جواب یہ کہ شام پر دباو ڈالنے کا مقصد اسلامی مزاحمت کے مرکز ایران سے مقابلہ کرنا ہے۔ اور دوسرا جواب یہ کہ مغربی مفادات کے حصول کیلئے انہیں چاہئے کہ وہ براہ راست ایران کو اپنے حملے کا نشانہ بنائیں تاکہ خطے میں اسلامی مزاحمت کا مکمل خاتمہ ہو سکے۔
امریکہ کئی عشروں سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ خطے میں اسکی حامی قوتوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہم اس جنگ میں کم از کم اخراجات کے ذریعے اپنے اھداف کو حاصل کر سکیں۔  شام میں صدر بشار اسد کی سرنگونی مغربی دنیا کی آرزو ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل شام میں سرگرم عمل ہے تاکہ اس طریقے سے ایران کو آسانی سے شکست دے سکے۔ بین الاقوامی امن فوجی کی موجودگی کے باوجود حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی دھمکیاں بھی اسی تناظر میں دیکھی جا سکتی ہیں۔  بعض ماہرین کے نزدیک شام میں مغربی قوتوں کی مداخلت ایک بڑے ھدف کا مقدمہ ہے جسکے ذریعے وہ حقیقی خودمختار اور جہادی اسلام کے مقابلے میں امریکی اسلام متعارف کروانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔  پہلا نظریہ رکھنے والے ماہرین شام کو ایران سے مربوط مسائل کے ضمن میں دیکھتے ہیں جبکہ دوسرے نظریئے کے حامل ماہرین کی نگاہ زیادہ جامع ہے اور وہ اس بات کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں کہ ایک تیر میں دو شکار کئے جائیں اور ایران کا مسئلہ بھی حل ہو جائے اور خطے میں اسلامی بیداری کی لہر پر بھی قابو پا لیا جائے۔ انکا خیال ہے کہ ایران کو خطے میں اسلامی بیداری کی امواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے جسکے نتیجے میں خطے سے امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے یا کمی کو ایران کی کامیابی تصور کیا جا سکتا ہے۔  مغربی قوتیں چاہتی ہیں کہ خطے میں آمر حکمرانوں، تکفیری تنظیموں، باسابقہ اسلامی تنظیموں اور بعض شدت پسند عناصر کی مدد سے ایک ایسا نظام ایجاد کرے جو خطے میں مذہبی جنگ کا باعث بن جائے۔ یہ منصوبہ شمالی افریقہ سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے اور اس سازش کا مرکز اسرائیل ہے۔  شام میں مغربی قوتوں کے مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہو سکے اور خانہ جنگی بھی بند گلی سے روبرو ہو گئی۔ شام کی فوج میں بھی وہ تفرقہ نہیں ڈال سکے۔ لہذا انکے پاس واحد راستہ مذہبی جنگ کا آغاز کروانا ہے۔
شام سے مختلف رپورٹس کی روشنی میں اب تک پانچ ہزار افراد قتل کئے جا چکے ہیں جن میں تین ہزار عام شہری جبکہ دو ہزار فوجی شامل ہیں۔ قتل کئے جانے والے افراد میں سات سو ایسے شیعہ افراد بھی شامل ہیں جنکا لڑائی سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شام میں مذہبی فسادات پھیلائے جانے کی سازش ہو رہی ہے۔  حزب اللہ لبنان کی طاقت اب تک شام میں مذہبی فسادات شروع نہ ہونے کا باعث بنی ہے۔ مغربی قوتوں کے پاس شام کی حکومت کو سرنگون کرنے کا واحد راستہ وہاں پر مذہبی فسادات شروع کروانا تھا جبکہ انہیں یہ پریشانی بھی لاحق تھی کہ کہیں حزب اللہ لبنان اپنی توانائی اور اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے لبنان سے بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے شدت پسند افراد کو شام بھیجنے میں رکاوٹ نہ بن جائے۔
اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں شیعہ تنظیمیں ان مسائل سے اچھی طرح آگاہ ہیں اور جانتی ہیں کہ مغرب نے خطے میں جو عظیم سازشیں تیار کر رکھی ہیں یہ انکی شکست اور بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بحرین کی صورتحال بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ وہاں عوامی تحریک کے آغاز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ ایک شیعہ سنی جنگ ہے لیکن شیعہ قوتوں کی ہوشیاری نے انکے اس مذموم پروپیگنڈہ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔  سعودی عرب میں ملک عبداللہ کی موت ایک بڑے سیاسی زلزلے کا باعث بن سکتی ہے۔ اس سال سب کو توقع ہے کہ سعودی عرب میں سیاسی نظام کسی بڑی تبدیلی سے دوچار ہو گا۔ سعودی عرب نہ فقط مشرق وسطی میں ایک خاص جیوپولیٹیکل حیثیت کا حامل ہے بلکہ امریکہ اور مغربی دنیا کی اقتصاد اور معیشت کیلئے دھڑکتے ہوئے دل کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ سعودی عرب سے ہر روز ایک کروڑ بیرل خام تیل مغربی ممالک کی جانب ارسال کیا جاتا ہے جس میں کسی بھی قسم کا خلل مغربی دنیا کیلئے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔  یہ تمام حقائق خطے اور مشرق وسطی میں سیاسی تبدیلیوں کی نسبت مغربی دنیا کی حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اس خطے کے حالات کو اپنے کنٹرول میں لینے سے متعلق انکی کوششوں کی وجوہات کی بھی اچھی طرح وضاحت کرتے ہیں۔ دوسری طرف اسلامی مزاحمتی بلاک بھی ان مغربی چالوں کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے محو تماشا نہیں بلکہ انتہائی ہوشیاری اور سمجھ داری سے ان کا مقابلہ کرنے میں مصروف ہے۔ وہ ان تمام مغربی اقدامات کو نظر میں رکھے ہوئے ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر مناسب اور منطقی موقف اپنا سکے

Comments are closed.