شام کے خلاف سعودی عرب کا اقدام اسرائیل کی خوش خدمتی

Posted: 28/11/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel, Saudi Arab, Bahrain & Middle East

عرب لیگ میں شام کی رکنیت کوم معطل اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پرمبنی اچانک اور جلدبازی میں کئے گئے فیصلے کے خلاف شامی عوام اور بعض دیگر عرب ملکوں کی طرف سے ردعمل کا سلسلہ جاری ہے اس فیصلے کو جو سعودی عرب اور قطر کے دباؤ میں کیا گيا اور جس پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہے غیر قانونی اور غیراصولی قراردیا جارہا ہے چنانچہ اس فیصلے کے بعد شام کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں عوام نے بڑے بڑے مظاہرے کرکے عرب لیگ کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور شام کے صدر بشار اسد کے لئے اپنی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے ۔ اس فیصلے کے مخالف عرب ملکوں اور حلقوں کا کہنا ہےکہ عرب ملکوں نے اپنے یہاں اسرائيلی سفارتخانے کو بند کرنے کے بجائے اب خود میں آپس میں جھگڑنا شروع کردیا ہے اور انہیں اپنے آس پاس ميں جو خطرات لاحق ہيں ان پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہيں گذشتہ سنیچر کو عرب ليگ نے سعودی عرب کی سربراہی میں اپنے ایک متنازعہ فیصلے کے تحت جس کا خلیج فارس کے عرب ملکوں نے بھی ساتھ دیا شام کی رکنیت معطل کردی اور دمشق سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا مبصرین کا کہنا ہے کہ عرب لیگ کا یہ اجلاس اور پھر شام کے خلاف کیا جانےوالا فیصلہ اسی ڈرامے کا حصہ ہے جو امریکا اور مغرب نے شام کے سلسلے میں تیار کررکھا ہے اور اس ڈرامے پرعلاقے کی امریکا اور مغرب نواز حکومتيں کام کررہی ہيں اسی لئے عرب لیگ میں شام کے مندوب یوسف احمد نے کہا کہ عرب لیگ کا یہ فیصلہ امریکا اور مغرب کی ایماء پر کیا گیا ہے ۔اس میں شک نہيں کہ مغرب کی اس وقت پوری کوشش ہے کہ وہ شام کو عرب ملکوں سے کاٹ کر رکھ دے کیونکہ شام علاقے میں ان چند ایک ملکوں میں شامل ہے جو صہیونی حکومت کا سخت ترین مخالف اور فلسطین کے مظلوم عوام کا حامی ہے اسی لئے عرب ليگ کے اس فیصلے پر امریکا اور اسرائیل کو سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے عرب لیگ کے اس فیصلے کے بعد اب مغرب کی کوشش ہے کہ وہ شام کے معاملے کو سلامتی کونسل میں لے جاکر دمشق پر پابندیاں عائد کرے ۔ اب جبکہ مغرب کو لیبیا پر حملے سے فرصت مل گئی ہے تو اس کی کوشش ہے کہ وہ شام پر دباؤ ڈالے اور اگر ممکن ہو تو نیٹو کے ذریعے کاروائي بھی کرے اور اس کے لئے عرب ليگ نے اپنے زعم میں نیٹو اور مغرب کے لئے راستہ بھی ہموار کردیا ہے مگر شاید عرب ليگ کو اپنے ہی اس طرح کے اقدامات کے انجام کی خبر نہيں ہے کہ اس سے علاقے کے امن و استحکام کو کتنا نقصان پہنچے گا ۔ ان تمام باتوں کے باوجود شام نے عرب ملکوں کے ایک ہنگامی اجلاس کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جیسے بھی اس بحران سے نکلا جائے جو بعض عرب ملکوں کی تفرقہ انگيزپالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے کیونکہ شام کے حکام کے ساتھ ساتھ علاقے کے بیشتر مبصرین کا یہی کہنا ہے کہ اگر علاقےمیں کوئی بحران پیدا ہوتا ہے تو خشک و تر سب ایک ساتھ جل کر راکھ ہوجائيں گے اور پورا علاقہ امریکا اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی خطرناک جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آجائے گا اور پھر جنگ کا یہ شعلہ صرف شام کی حدود تک محدود نہيں رہے گا جیسا کہ حزب اللہ لبنان کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ جنگ کا دائرہ پورے علاقے تک پھیل جائے گا اور علاقے کاکوئي بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا اس لئے بہتریہی ہوگا کہ عرب ممالک خاص طورپر وہ حکومتيں جو امریکا اور اسرائیل کی مکمل تابع فرمان ہيں ہوش کے ناخن لیں اور اس سے زیادہ امریکا اور اسرائیل کو آگ لگانے کا موقع نہ دیں۔

Comments are closed.