محرم الحرام، خیبر پختونخوا کے 5 اضلاع حساس ترین قرار، سخت سکیورٹی انتظامات کا فیصلہ

Posted: 23/11/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Local News, Pakistan & Kashmir, Religious / Celebrating News

پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر، ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے اور افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی، وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، اس حوالے سے معاشرہ کے ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ پشاور سمیت صوبہ خیبر پختونخوا 2005ء سے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے، اب تک ہزاروں معصوم شہری دہشتگردوں کے وحشیانہ اور ظالمانہ اقدامات کا نشانہ بن چکے ہیں، مساجد، امام بارگاہوں، بازار، تعلیمی اداروں، سرکاری اور سیکورٹی اداروں سمیت ہر طبقہ ہائے زندگی کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا، صوبہ کے ان مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے 5 اضلاع کو محرم الحرام کے حوالے سے حساس ترین قرار دیا ہے، جس کے مطابق پشاور، کوہاٹ، ہنگو، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے علاوہ صوبے کے باقی 20 اضلاع میں بھی حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے، گزشتہ چند سالوں میں حساس قرار دیئے گئے ان اضلاع میں دہشتگردی کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں جبکہ ایام محرم میں بھی دہشتگردوں نے اپنے روایتی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بے گناہ شہریوں کو بربریت کا نشانہ بنایا، ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء پر حملے کئے گئے۔  صوبہ خیبرپختونخوا میں محرم الحرام کے دوران امن وامان کا قیام یقینی بنانے کیلئے سکیورٹی پلان تشکیل دیدیا گیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر محکمہ پولیس میں ہرقسم کے تبادلوں اور نئی تقرریوں پر پابندی عائد ہو گی، حساس قرار دیئے گئے اضلاع صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت کوہاٹ، ہنگو، بنوں اور ڈی آئی خان میں ڈبل سواری، واک چاکنگ، اشتعال انگیز تقاریر اور ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لیکر چلنے پر پابندی ہو گی جبکہ ان اضلاع میں محرم الحرام کے دوران افغان مہاجرین کے شہر میں داخلہ پر پابندی ہو گی اور اضافی سیکورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے سربراہ اکبر خان ہوتی نے صوبہ بھر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، محرم الحرام کے پیش نظر پولیس جوانوں کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں، خیبرپختونخوا پولیس کی جانب سے تشکیل دیئے گئے سکیورٹی پلان کے مطابق محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کے راستوں کو بند کر دیا جائیگا جبکہ ماتمی جلوسوں کے راستے میں ہر قسم کی گاڑیوں کی پارکنگ پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، ادھر پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے بھی مذہبی بھائی چارے کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے ہیں اور ڈی سی او پشاور سراج احمد خان نے محرم الحرام کے دوران ہر صورت امن عامہ کی فضاء برقرار رکھنے کیلئے متعلقہ محکموں اور حکام کو ضروری ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔  پشاور میں 26 نومبر سے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس امر کا فیصلہ ڈی سی او پشاور سراج احمد کی سربراہی میں انتظامیہ نے کیا، اس سے قبل 25 نومبر سے دفعہ 144 نافذ ہونی تھی لیکن تحریک انصاف کی جانب سے 25 نومبر کو جلسہ کے باعث یہ تاریخ ایک روز کیلئے بڑھا دی گئی، ڈی سی او نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ 26 نومبر سے قبل کسی شہری کو دفعہ 144 کے نام پر بے جا تنگ نہ کیا جائے جبکہ عوام سے اپیل کی کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی شکایت کی صورت میں ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا جائے، انہوں نے محرم الحرام کے سلسلے میں پولیس کو ماتمی جلوسوں اور مجالس عزاء کی بھرپور حفاظت کیلئے ہدایت بھی کی گئی ہے۔ وبائی حکومت نے محرم الحرام میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر صوبے کے 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پشاور، ہنگو، کوہاٹ، ڈیرہ اسماعیل خان سمیت حساس ترین اضلاع میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کو پولیس سیکورٹی کے علاوہ لیویز فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری اہلکار بھی فراہم کئے جائینگے جبکہ صوبے کے بیشتر علما کرام کے پاس پہلے سے ہی سرکاری سیکورٹی موجود ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ 200 سے زائد علماء کو سیکورٹی کی فراہمی کے حوالے سے محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام ڈی آئی جیز اور ڈی پی اوز کو ہدایت جاری کر دی ہیں، ان علماء کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے محرم الحرام کے حوالے سے قبائلی علاقہ کرم ایجنسی کو بھی حساس ترین قرار دیا ہے، اس سلسلے میں کرم ایجنسی کی تینوں تحصیلوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، کرم ایجنسی کو یکم محرم الحرام سے دس محرم الحرام تک سیل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں جبکہ خاصہ دار فورس، لیویز فورس کے علاوہ پیرا ملٹری فورس کی مزید نفری بھی کرم ایجنسی کے داخلی اور خارجی راستوں پر تعینات کی جا رہی ہے، فاٹا سیکرٹریٹ کے ذرائع کے مطابق کرم ایجنسی کو وفاق نے حساس قرار دیا ہے جس کے لئے کمشنر کوہاٹ ڈویژن، ڈی آئی جی کوہاٹ اور پولٹیکل ایجنٹ کرم ایجنسی کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کرم ایجنسی میں محرم الحرام میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر قافلوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کر دی جائیگی۔ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات کے پیش نظر حکومت، سیکورٹی اداروں اور متعلقہ انتظامیہ کیلئے محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال یقینی بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں، ان ایام میں ہر طبقہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا بلخصوص تمام علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں میں شعور پیدا کریں کہ وہ محرم الحرام کے دوران امام حسین ع کی یاد کو اپنے عقائد اور نظریات کے تحت مناتے ہوئے آپس میں محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں تاکہ ملک اور اسلام دشمن عناصر کو اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے، شہریوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں اور مجالس عزاء اور ماتمی جلوسوں کے تحفظ کیلئے انتظامیہ سے بھرپور تعاون کریں، تاکہ سیکورٹی ادارے شہریوں، تاجروں اور مذہبی رہنمائوں کے تعاون سے سیکورٹی کے مکمل انتظامات کر سکیں۔

 

Comments are closed.