باحجاب خواتین پر کھیل کے میدان بھی بند

Posted: 14/02/2012 in All News, Articles and Reports, Health & Sports News, Survey / Research / Science News

یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشن بورڈ (IFAB) جو اولمپک کے مقابلوں کے لیے فٹبال کے کھیل کی گورنر باڈی ہے، نے کھیل کے میدان میں سر پر حجاب رکھنے کی وجہ سے اردن، فلسطین اور بحرین کی خواتین کھلاڑیوں پر اس بنا پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ ادارہ ایرانی خواتین پر پہلے ہی پابندی عائد کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت ساری نوجوان باصلاحیت مسلمان لڑکیاں عالمی سطح کے مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوانے سے محروم رہ جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہ لڑکیاں اس انداز سے سر پر اسکارف باندھ کر کھیلتی ہیں کہ جس سے کسی قسم کا کوئی خطرہ پیدا نہیں ہوتا اور نہ کھیل میں انھیں دقت یا مشکل پیش آتی ہے۔  قبل ازیں مسلمان خواتین پر حجاب کے حوالے سے مختلف نوعیت کی پابندیاں مختلف ملکوں میں عائد کی جا چکی ہیں۔ بعض ممالک میں انھیں سرکاری ملازمتوں کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سے باحجاب خواتین پر روزگار کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔ بعض تعلیمی اداروں نے پابندی عائد کر رکھی ہے کہ کوئی طالبہ سر پر حجاب پہن کر کالج یا سکول میں نہیں آ سکتی۔ ایسے اقدامات ان مسلمان لڑکیوں کے مستقبل کو تاریک بنانے کے مترادف ہیں جو اپنے مذہبی احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ حجاب کے خلاف مغربی تہذیب کے علمبرداروں نے یہاں تک نفرت انگیز فضا ہموار کی ہے کہ 2009ء میں جرمنی کی ایک عدالت میں ایک مصری خاتون مروہ الشربینی کو فقط حجاب پہننے کے جرم میں ایک جرمن شدت پسند نے قتل کر دیا تھا، جسے عالم اسلام میں شہیدہ حجاب کا نام دیا گیا ہے۔  یوں معلوم ہوتا ہے کہ مغرب میں تمام تر دینی اور مذہبی علامتوں اور اقدار کے خلاف ایک شعوری تہذیبی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔ یہاں تک کہ اب مسلمان خواتین پر کھیل کے دروازے بھی بند کیے جا رہے ہیں۔ اردن کی ایک کھلاڑی راہاف اویس نے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن میں ایک فیصلے کے خلاف ایک اپیل دائر کی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اُس کی اس اپیل پر اگر عالمی بیداری پیدا نہ ہوئی تو صدا بہ صحرا ثابت ہو گی کیونکہ یہ فیصلے اردن کی فٹبال ایسوسی ایشن کے ہاتھ میں نہیں ہیں۔ جن لوگوں نے مسلمان کھلاڑی لڑکیوں پر یہ پابندی عائد کی ہے، اُن کا ایجنڈا عالمی اور تہذیبی ہے۔  مسلمانوں کے خلاف مختلف توہین آمیز، اذیت ناک اور سماجی و اقتصادی مقاطعے کے حوالے سے جو اقدامات عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں، اگرچہ وہ حکمران طبقوں کی طرف سے ہیں اور پراپیگنڈہ کی عالمی قوت سے متاثر افراد ان کے حامی بھی ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ مشرق و مغرب کے تمام غیر مسلم ان اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر مختلف اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو دکھائی دیتا ہے کہ بہت سے عیسائی اور یہودی راہنماﺅں نے مساجد کے میناروں کی تعمیر کے خلاف سوئٹزرلینڈ میں کیے جانے والے اقدامات کے خلاف بیانات دیئے تھے۔  ایسے عیسائی اور یہودی راہنما بھی موجود ہیں جنھوں نے قرآن حکیم کو نذرآتش (نعوذباللہ) کے سنگین اقدام کی شدید مذمت کی تھی۔ حجاب پر پابندیوں کے فیصلوں کی مخالفت کرنے میں بھی کئی غیر مسلم راہنما نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حامی امریکہ کے کئی اداروں اور کارکنوں نے واشنگٹن میں زیرو گراﺅنڈ کے پاس مسجد کی تعمیر کے مسلمانوں کے مطالبے کی کھلے بندوں حمایت کی ہے۔ اس وقت یہی صورتحال ہمیں کھیلوں کی دنیا میں باحجاب خواتین پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے ضمن میں بھی دکھائی دیتی ہے۔  خواتین کی کھیلوں کی مختلف انجمنوں نے مسلمان خواتین پر حجاب پہن کر کھیلنے پر عائد کی جانے والی پابندیوں کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مسلمان خواتین کو حجاب پہن کر کھیلنے کی اجازت دی جائے اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے خلاف کوئی پابندی عائد نہ کی جائے۔ ان تنظیموں نے اس فیصلے کو ایک امتیازی فیصلہ قرار دیا ہے۔ بعض خواتین نے اس فیصلے کی بنیاد اسلامو فوبیا کو قرار دیا ہے۔ جن خواتین ٹیموں کی کپتانوں نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے ان میں اٹھارہ ممالک کی ٹیمیں اب تک شامل ہو چکی ہیں۔ اس وقت انٹرنیٹ پر change.org نامی سائٹ پر اس حوالے سے متعدد پٹیشنز موجود ہیں جن کی عالمی سطح پر حمایت کا سلسلہ جاری ہے۔ اس مضمون کے لکھتے وقت اب تک 15 ہزار سے زیادہ افراد اس کی حمایت اور حجاب کی بنیاد پر امتیازی فیصلے کی مخالفت میں اپنی رائے دے چکے ہیں۔  یہ امر باعث افسوس ہے کہ مغرب میں مقتدر حلقوں نے سیکولرازم کی انتہا پسندانہ تعبیر کو پوری شدت سے اپنا مذہب بنا لیا ہے۔ وہ سیکولرازم کے نام پر آج دنیا کو اسی استبداد زدہ کیفیت کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کے خلاف اہل مغرب نے کبھی قیام کیا تھا اور مذہبی و فکری آزادی کا پرچم بلند کیا تھا۔ آج سیکولرزم کے شدت پسند اور رجعت پسند حلقے اسی مذہبی و فکری آزادی کے خلاف سیکولرزم کی تلوار استعمال کر رہے ہیں۔ انسانی آزادیوں کی عالمی تحریک کے لیے یہ انتہائی خوفناک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ شاید اسی کو عصر حاضر کی منافقت قرار دیا جا سکتا ہے۔  البتہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ مشرق و مغرب میں مختلف ادیان و مذاہب میں ایک وسیع حلقہ اس منافقت کی حقیقت کو سمجھ چکا ہے۔ عالمی سطح پر موجود بیداری اس حقیقت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور سیکولرازم کے نعروں کی اوٹ میں انسانی وسائل پر قبضہ جمانے اور عالمی سلطنت قائم کرنے کی مکروہ خواہشیں اب بے نقاب ہو چکی ہیں۔ پسماندہ اور محروم عوام نے اپنے حقوق اور حقیقی آزادی کے حصول کے لیے عزم کر لیا ہے۔ اب اس طرح کی پابندیاں تار عنکبوت سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں۔تحریر: ثاقب اکبر

Comments are closed.