Archive for the ‘Amazing / Miscellaneous News’ Category

واشنگٹن …ايک ا مريکي شہر ي نے اپني نو کري اورتما م دولت چھو ڑ چھا ڑ کر پہاڑو ں ميں مو جو د غا ر کو اپنے گھر ميں تبديل کر ليا ہے . ڈينيل سوئلوپيشے کے لحا ظ سے ايک با ورچي تھا ليکن سن 2000 ء ميں امريکہ ميں آنے والے معا شي بحران کے بعد اس نے پيسے اور نو کري پر انحصا ر ختم کر کے رياست Utah کے غاروں ميں رہا ئش اختيار کر لي ہے .ڈينيل سوئلو کا نہ تو کو ئي بينک اکا ؤ نٹ ہے اور نہ ہي وہ حکو مت سے کسي قسم کي کوئي مالي امدا د وصول کر تا ہے . غار ميں رہنے وا لا ڈينيل سوئلو پہاڑوں ميں اگنے والي گھا س پھونس اور سڑ ک کے کنا رے ہلا ک ہو جانے والے جانوروں پر گزراکر تا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اب اسے زندگي گز ارنے کے ليے رقم کي کو ئي ضر ورت نہيں رہي .

Advertisements

کارخانو بازار پشاور میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحہ کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحدی حدود پر واقع مشہور کارخانو بازار میں موبائل فون سے مشابہت رکھنے والے پستول  صرف تیس ہزار روپے میں سر عام دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ کارخانو بازار میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحے کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔  ٹیم  نے کارخانو مارکیٹ کا دورہ کرکے اس مہلک ہتھیار کے بارے میں مختلف دکانداروں سے بات چیت کی۔ اسلحہ ڈیلرز و دکانداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ موبائل کی شکل و صورت والا پستول تو معمولی بات ہے یہاں تو ہر قسم کے ہتھیار مل جاتے ہیں، ہمیں جو بھی شخص یا گاہک پیسے دے ہم اسے یہ ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ ہتھیار کون فروخت کرتے ہے تو ان کا جواب تھا کہ نیٹو کے کنٹینرز سے چھیننے والے اس اسلحہ اور دیگر سامان کو عام لوگوں سے لے کر انہیں بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔  جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ مہلک اسلحہ کسی کی جان لے سکتا ہے اور اس سے ملک میں پہلے سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بال بچوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ اسلئے وہ یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ کارخانو مارکیٹ میں پنجاب اور سندھ سے آنے والے بعض خریداروں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ پستول تیس ہزار میں خرید کر پھر اسے لاہور اور کراچی میں پچاس تا ساٹھ ہزار میں فروخت کرکے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔   جب ان سے پوچھا گیا کہ راستے میں پولیس یا سیکورٹی پر مامور اہلکار انہیں روک کر تلاشی نہیں لیتے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ موبائل کی شکل سے مشابہہ ہونے کی وجہ سے کسی کو شک تک نہیں ہوتا اور ہم اپنا کام آسانی سے کر لیتے ہیں۔

لندن یورپ میں قرضوں کے بحران اور معیشت میں سست روی کے باوجود سال 2011ء میں انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ کی مد میں ”برانڈز“ کی مشہوری کیلئے 5 ارب پونڈ (8 ارب ڈالر) خرچ کر دیئے گئے۔ اس وجہ سے گزشتہ 5 سال کے دوران ویڈیو ایڈز اور مارکیٹنگ نے سماجی میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ کر لیا ہے۔ یورپ کے انٹرنیٹ ایڈورٹائزنگ بیورو نے سال 2011ء کے اعدادوشمار جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس دوڑ میں برطانیہ سرفہرست رہا۔ روایتی ایڈورٹائزنگ کی بجائے انٹرنیٹ پر ایڈورٹائزنگ زور پکڑ رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر آن لائن ایڈورٹائزنگ کی شرح نمو 14.4 فیصد رہی۔ توقع ہے کہ رواں سال بھی اس شرح نمو میں اضافہ ہوگا

سراجيوو…بو سنيا کے دارلحکومت سر ا جيووميں بيس سال قبل جنگ ميں مر نے والوں کو ايک انو کھے انداز ميں يا د کياگيا اور شہر کي سڑ ک کو ہزاروں خالي کرسيوں بھر ديا. انيس سو بيا نو ے ميں بو سينيااور سر بيا کے درميان ہو نے والي جنگ ميں ہلا ک ہو نے والے افراد کي يا د ميں شہر کي مر کزي شاہر ا ہ پر گيارہ ہزار پا نچ سو اکتا ليس سر خ کر سياں رکھي گئيں جو مر نے والوں کو يا دکرنے کي علامت تھيں . ان کر سيوں کي آ ٹھ سو پچيس قطاروں کي ترتيب ديکھ کر يو ں محسوس ہو رہا تھا جيسے شہر کي سڑ ک پر لہو بہہ رہا ہو.واضح رہے کہ اس جنگ کے دوران سر بيين فو جو ں نے چواليس ما ہ تک سراجيوو کا محا صر ہ جاري رکھا تھا جس کے دوران تقريبا ً چاليس لاکھ افراد کھانے پينے اور بجلي سے محر وم ہو گئے تھے جبکہ يہ دو سري جنگ عظيم ميں کيے جانے والے روسي شہر لينن گراڈ کے محا صرے سے بھي طويل ترين محا صر ہ تھا

لندن : ایک چیرٹی سیف ایگزٹ کے سربراہ ٹوئن بی ہال نے لندن اولمپکس سے قبل ایسٹ لندن میں جسم فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم فروشی کے خلاف مہم کے نتیجے میں سنگین جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویش ناک بات ہے کہ جنوری سے اب تک ٹاور ہیملیٹس سے 48 اور گذشتہ 2 ماہ کے دوران نیوہیم سے 21 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ سٹی ہال کے مطابق نیوہیم میں گذشتہ 18 ماہ کے دوران جسم فروشی کے 80 اڈے بند کئے جاکے ہیں۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کمیونٹی کی شکایت پر کارروائی کی ہے اولمپک کی وجہ سے نہیں. برطانیہ کی سب سے کم عمر ماں کی بیٹی ساشا نے جو اب 15 سال کی ہوچکی ہے کہا ہے کہ میں اپنی ماں کی غلطی نہیں دہراؤں گی اور 18 سال تک کنواری رہوں گی۔ اس نے کہا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری ماں نے صرف 12 سال کی عمر میں مجھے جنم دیا تھا تو میں ششدر رہ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک ماں نہیں بننا چاہتی جب تک مالی طور پر خودکفیل نہ ہوجاؤں۔ اس نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات مجھ پر جنسی تعلق قائم کرنے کیلئے دباؤ ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود لڑکوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میں اب تک کنواری ہوں اور 18 سال کی عمر تک کنواری رہنا چاہتی ہوں۔ میرے خیال میں کمسنی میں جنسی تعلق قائم کرنا خطرناک ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر انتظار کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی ماں سے محبت کرتی ہوں اور ماں بھی مجھے چاہتی ہے لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں اس وقت پیدا ہوئی جب ماں کی عمر صرف 12 برس کی تھی تو مجھے دھچکا لگا کیونکہ اس عمر میں تو میں باربی سے کھیل رہی تھی۔ میری ماں کے پاس کبھی بھی وافر رقم نہیں رہی، میں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی کی خواہاں ہوں.لندن جنسی جرائم کا ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ بچوں کے خلاف جرائم پر مشتمل ہے۔گزشتہ سال ہر 20 منٹ کے بعد ایک بچے کو مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا جاتا تھا جب کہ روزانہ 60 بچوں پر جنسی حملوں کی رپورٹ پولیس کو دی جاتی تھی۔ انگلینڈ اور ویلز میں 2010-11 ء میں 23,000 بچوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے 20 فیصد اتنے چھوٹے تھے کہ سیکنڈری سکول میں داخلے کے قابل بھی نہیں تھے۔ ان بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرموں میں 10 فیصد سے بھی کم کو سزائیں ہو سکیں۔جرائم کے ان اعداد و شمار میں زنا بالجبر، اور بچوں کو قحبہ گری پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔گزشتہ سال مجموعی طور پر 54,982 جنسی جرائم ہوئے جن میں سے 23,097 بچوں کے خلاف تھے۔ 14,819 بچے 11۔17 سال عمر اور 8749 بچے 13-15 سال عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

لندن: لکشمی میتھل اور اس کا خاندان 13.5 بلین پاؤنڈ کے ساتھ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں دوسری بار بھی پہلے نمبر پر برقرار رہے۔ ایشیئن میڈیا اینڈ مارکیٹنگ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں لکشمی میتھل اور ان کا خاندان اپنی مجموعی آمدنی میں دو بلین پاؤنڈ کمی کے باوجود بھی ایشیاء کا پہلا امیر ترین شخص برقرار رہے ہیں۔ فہرست کے مطابق ہنذو جیس دوسرا اور ویدانت گروپ کے چیئرمین انیل اگروال بالترتیب تیسرے نمبر پر رہے۔

ریاض:  سعودی عرب کی حکومت نے نوجوانوں کے اکیلے شاپنگ مالز اور مارکیٹوں میں جانے پر عائد پابندی ختم کردی ۔ سعودی میڈیا کے مطابق ریاض کے گورنر شہزادہ شیطام بن عبدالعزیز نے اعلان کیا ہے کہ اکیلے مردوں پر شاپنگ مارکیٹوں میں خریداری پرعائد پابندی ختم کی جا رہی ہے اور اب مرد اکیلے بھی خریداری کرسکیں گے۔ اس سے قبل سعودی حکومت نے شام کے وقت اور تعطیلات کے دوران مارکیٹوں اور شاپنگ مالز میں اکیلے مردوں کا داخلہ ممنوع قرار دیا تھا کیونکہ زیادہ تر نوجوان لڑکے خریداری کے دوران مارکیٹوں میں خواتین کوہراساں کرتے اور ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے جس کی وجہ سے حکومت نے اکیلے مردوں پر جن کے ساتھ اہل خانہ موجود نہ ہوں پابندی عائد کررکھی تھی۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس پابندی کی وجہ سے منفی ردعمل ہوا اور اب نوجوان مارکیٹوں کے باہر جمع ہوکر خواتین کو ہراساں کرتے تھے پابندی اٹھانے کا یہ فیصلہ مقامی حکام اور مذہبی پولیس کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی نے کیا ہے جس کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب جہاں پر تفریحی مواقع کی عدم موجودگی کی وجہ سے مقامی نوجوان زیادہ تر مارکیٹوں میں گھوم پھر کر تفریح طبع کا سامان کا سامان کر لیتے تھے

واشنگٹن: امریکہ کے قانون سازوں نے فلسطین کے لیے چھ ماہ سے بند کی گئی8 کروڑ80 لاکھ ڈالر سے زائد کی ترقیاتی امداد جاری کر دی ہے۔یہ اقدام امریکی ایوانِ نمائنداگان کے دو سینیئر ریپبلیکن ارکان کی جانب سے امداد کی بحالی پر مخالفت واپس لینے کے بعد کیا گیا ہے۔ان میں سے ایک الیانا روز لیہٹینن کا کہنا تھا کہ یہ رقم غزہ کی پٹی کا جانب نہیں جانی چاہئیے، جس کا انتظام حماس کے پاس ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ باقی پانچ کروڑ اسی لاکھ کی امداد بند رکھیں گی۔ایک خط میں انہوں نے کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ امداد عسکریت پسندوں کے ہاتھوں استعمال ہو سکتی ہے۔الیانا روز لیہٹینن امریکی امورِ خارجہ کی کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ آٹھ کروڑ اسی لاکھ ڈالر سے زائد کی یہ امداد اس اتفاقِ رائے کے ساتھ جاری کر رہی ہیں کہ فلسطینی حکومت اسے مغربی کنارے میں سڑک کی تعمیر، تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے استعمال کرے گی۔یہ امداد فلسطین میں صحت، پانی کے منصوبے اور خوراک کی فراہمی کے لیے استعمال کی جانی ہے۔امریکی قانون سازوں نے فلسطین کی امداد اس وقت بند کر دی تھی جب فلسطین نے گذشتہ سال ستمبر میں اقوامِ متحدہ میں مستقل رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی درخواست پر کوئی معاہدہ نہیں ہوسکا تھا۔امریکہ نے اعتراض کیا تھا کہ فلسطینی درخواست کی باعث امریکی قیادت میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے امداد روکے جانے پر تنقید کی تھی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی مرکزی ریسرچ ایجنسی نے زمین پر دوڑنے والا اب تک کا تیز رفتار ترین روبوٹ تیار کیا ہے، جسے چیتا کا نام دیا گیا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ روبوٹ 29 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ پینٹاگون کی’ڈیفنس ایڈوانسڈ ریسرچ پراجیکٹ ایجنسی‘ (DARPA)کی طرف سے پیر پانچ مارچ کو جاری کی جانے والی تصاویر اور ویڈیو میں بغیر سر کے ایک چھوٹے کتے کے برابر اس روبوٹ کو ٹریڈ مِل پر دوڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ DARPA کی طرف سے جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق: ’’اس روبوٹ کے دوڑنے کا انداز تیز رفتار جانوروں کی طرز پر رکھا گیا ہے۔ ہر قدم پر اپنی کمر کی حرکت کے ذریعے یہ روبوٹ اپنی رفتار بڑھاتا جاتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ایک چیتا کرتا ہے۔‘‘ اس روبوٹ چیتے نے ٹانگوں کے ذریعے چلنے اور دوڑنے والے روبوٹس کا رفتار کے حوالے سے اب تک کا ریکارڈ بھی توڑا ہے۔ ریسرچ ایجنسی کے مطابق اس سے قبل یہ ریکارڈ میساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) کے سائنسدانوں کے تیار کردہ ایک روبوٹ کے پاس تھا، جو 21.1 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتا تھا۔ یہ روبوٹ 1989ء میں تیار کیا گیا تھا۔ ’چیتا‘ نامی یہ روبوٹ ایک عام انسان کے مقابلے میں زیادہ تیز دوڑ سکتا ہے، تاہم یہ ابھی تک اولمپک چیمپئن یوسین بولٹ کی رفتار تک نہیں پہنچ سکا، جو 45 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں۔ یہ روبوٹ والٹہام Waltham میساچیوسٹس میں قائم بوسٹن ڈائنامکس میں DARPA کے ایک پروگرام ’میکسیمم موبیلٹی اینڈ مینیپولیشن‘ (MP3) کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد روبوٹ ٹیکنالوجی میں بہتری لانا ہے۔پینٹاگون کی اس ریسرچ ایجنسی کو امید ہے کہ امریکی فوج جلد اس طرح کے روبوٹس کو نہ صرف سڑک کنارے نصب بموں کو ناکارہ بنانے بلکہ میدان جنگ کی صورتحال معلوم کرنے اور وہاں موجود خطرات کا پتہ لگانے کے لیے بھی استعمال کر سکے گی۔ DARPA کے بقول بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے پہلے ہی روبوٹس سے مدد لی جا رہی ہے، جس سے انسانی ہلاکتوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم ان روبوٹس کے دوڑنے اور رفتار سے متعلق صلاحیت میں مزید بہتری کی صورت میں اس طرح کے کام زیادہ بہتر انداز سے ادا کیے جا سکتے ہیں۔یہ روبوٹ تیار کرنے والے ادارے بوسٹن ڈائنامکس کے چیف روبوٹکس سائنٹسٹ الفریڈ رِیزی کے مطابق دوڑنے والے اس روبوٹ کی قدرتی حالات میں آزمائش رواں برس کے اختتام تک کی جائے گی۔

نیویارک……صبح سویر ے نیند سے بیداری کے فوری بعد سگریٹ نوشیپھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این ‘ کے مطابق صبح سویرے تمباکو نوشی کرنے سے کینسر کے خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایسے افراد جو نیند سے بیدار ہوتے ہی سگریٹ سلگا لیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں، سر اور گردن کے کینسر کے میں مبتلا ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ تحقیق سے ان تمباکو نوشوں کی نشاندہی کی جا سکے گی جن میں کینسر کے زیادہ امکانات ہیں۔ دن کے باقی اوقات میں سگریٹ نوشی سے نکو ٹین اور تمباکو کے دیگر مضر رساں اجزاء اس حد تک جسم میں سرایت نہیں کرتے، جتنے صبح بیداری کے بعد پہلی سگریٹ سے انسان کے جسم میں اترتے ہیں۔ وہ لوگ جو بیداری کے بعد31 سے 60منٹ کے دوران سگریٹ پیتے ہیں ان میں پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہونے کے تیس فیصد زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ جو بیداری کے پہلے نصف گھنٹے میں سگریٹ سلگاتے ہیں ان میں80فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ پہلے نصف گھنٹے میں سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا ہونے کے 60فیصد جبکہ بیداری کے 31سے60منٹ کے دوران 40فیصد خطرات ہوتے ہیں۔ یہ انکشاف امریکاکے کینسر سوسائٹی کے جریدے میں شائع دو مختلف تحقیقات میں کیا گیا۔

میکسیکوسٹی…میکسیکو کا رہائشی ایک 16سالہ لڑکا دنیا کا کم عمر ترین ماہرِنفسیات بن گیاہے۔Almazan Anaya میکسیکو کی ایک مقامی یونیورسٹی میں نفسیات کا شاگرد ہے اوراس ماہ اپنا گریجویشن مکمل کر کے ایک ماہرنفسیات کی حیثیت سے ڈگری بھی حاصل کر لے گا۔Almazanبچپن سے ہی میڈیکل اور نفسیات میں بے حد دلچسپی رکھتا تھا اور اسی لگن نے اسے اس شعبے میں مزید تعلیم حاصل کر نے کیلئے 12سال کی عمر میں کالج پہنچا دیا اور اب اس ماہ وہ صرف 16سال کی عمر میں نفسیات کے مضمون میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر لے گا۔Almazanکے مطابق وہ ڈگری حاصل کر نے کے بعدپر یکٹس شروع کر نے کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہNeuroscience اور Neurologyکے شعبوں میں مزید تعلیم حاصل کر نا چاہتا ہے۔

نیویارک……امریکہ میں ایک ڈولفن کو مصنوعی دُم نصب کی گئی ہے جس کے بعد اسے مصنوعی دُم کے ساتھ تیرنے والی دنیا کی پہلی ڈولفن کا اعزاز بھی حاصل ہو گیاہے۔ Winterنا می یہ ڈولفن جب صرف دو ماہ کی تھی کہ زیرآب ایک حادثے میں اپنی دُ م اور ماں سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئی تھی۔ما ہرین کی ایک ٹیم نے اس ڈولفن کو دوبارہ سے تیرنے اور ایک آزاد زندگی فراہم کر نے کیلئے دوسال کے طویل عرصے میں اس کیلئے خصوصی طور پر ایک مصنو عی دُم تیارکی اور پھر اسے ایک طویل آپریشن کے بعد ڈولفن کے جسم کے ساتھ منسلک کر دیا گیا۔ Winterاس مصنوعی دُم کے ساتھ بغیر کسی مشکل کے عام ڈولفنز کی طرح پانی میں تیرنے کے قابل ہو گئی ہے ۔اس ڈولفن کی مصنوعی دُم نصب ہو نے تک کے سفر کی کہانی پر ہالی ووڈ میں ایک تھری ڈی فلم بھی بنائی جائے گی جس میں دیگر اداکاروں کے ساتھ Winter نا می یہ دولفن مرکزی کر دار میں جلوہ گر ہوگی۔

نیویارک .  . مچھلی کے تیل میں موجودقدرتی غذائیت نہ صرف بینائی تیز کرتی ہے بلکہ قوتِ حافظہ بہتر بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مچھلی کے تیل کااستعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے ۔ اس میں موجود Omega-3 Fatty Acids قدرتی طور پر خون پتلا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے نہ صرف بلڈ پریشرکی سطح ہموار ہوجاتی ہے بلکہ یہ ہائپر ٹینشن سمیت امراضِ قلب سے حفاظت کا بھی موثر ذریعہ ہے ۔ ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر کی ناہموار سطح ہائپر ٹینشن کا سبب بنتی ہے جبکہ مچھلی کے تیل کا استعمال اس بیماری سے لڑنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔

دہلی…فارن ڈیسک…بچے کی اعصابی و دماغی نشونما کے لیے مچھلی کا استعمال بہت ضروری ہے۔بھارتی اخبار’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق ماں کے دودھ کے بعد بچے کے اعصاب ،دماغ اور آنکھوں کی نشونما کے لیے ’اومیگا 3ایسڈ‘ کی اشد ضرورت ہوتی ہے جو صرف مچھلی میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ سائنسی جرنل کے مطابق مچھلی کے بہت سے فوائد ہیں اور یہ دماغی بیماریوں کو روکنے میں بھی کا م آتی ہے۔

یروشلم کی دیواروں پر’مسیحیوں کی موت‘ یا ’ تمہیں صلیب پر چڑھا دیں گے‘ کی طرح کی تحریریں نظر آنا شروع ہو گئی ہیں۔ انتہاپسند یہودیوں کی جانب سے کلیساؤں، قبرستانوں اور دیگر مقامات پر حملوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ ا س سے قبل اسرائیل میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے یہودیی یا تو مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے یا ان کا ہدف بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد ہوا کرتے تھے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیل اور غرب اردن میں دس مساجد کو نذز آتش کیا گیا۔ امن کے لیے سرگرم ’پیس ناؤ‘ نامی تنظیم کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ کر انہیں ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ تاہم اب یہ تمام حربے اسرائیل میں آباد مسیحی برادری کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں نے فروری کے وسط میں مغربی یروم شلم میں ایک بیپٹسٹ چرچ، شہر کے قدیم یہودی علاقے کے ایک کرسچن قبرستان اور اسی طرح فروری میں ہی ایک اورتھوڈوکس کلوسٹر کی دیواروں پر اسپرے پینٹ کے ذریعے مسیحیت کے خلاف نعرے درج کیے۔پولیس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ عام سی غنڈہ گردی ہےاور ان کارروائیوں کا نظریات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کے بقول نہ ہی ان واقعات کا محرک قوم پرستی ہے۔ اسرائیل کے صدر شمعون پیریز کا اس حوالے سے کہنا تھا ’’ میں تینوں توحیدی مذاہب سے کہنا چاہتا ہو کہ اسرائیل میں مسلمانوں، کرسچنز اور یہودیوں کے مذہبی مقامات اور ان کے رسم و رواج کا احترام کیا جائے۔ Temple Mount یعنی الحرم القدسی الشریف کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس ہے‘‘۔ پیریز نے مزید کہا ’’جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے، وہ ہمارے لیے مقدس ہے، جو مقام کرسچنز کے لیے مقدس ہیں، وہ ہمارے لیے بھی ہیں اور جو کچھ ہمارے لیے مقدس ہے وہ یقینی طور پر سب کے لیے مقدس ہےلیکن اس طرح کے بیانات یروشلم میں آباد مسیحیوں کے لیے کافی نہیں ہیں۔ اسرائیل کے دارالحکومت میں انہیں آئے دن امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قوم پرست اورانتہائی قدامت پسند یہودیوں کی جانب سےشہر کے قدیم حصے کے تنگ گلیوں میں مسیحی مذہبی شخصیات پر تھوکنا ایک عام سی بات ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے پادریوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں۔ انسانی حقوق کی ایک امریکی تنظیم ’ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ نے رابیوں کے سربراہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھوکنے کے ان حملوں کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تاہم ابھی تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہےاس دوران رابی شلومو آمار اور یونا میٹزگر یروشلم میں مسیحی باشندوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیے ان سے ملاقات بھی کر چکے ہیں۔ دو سال قبل غرب اردن کے ایک گاؤں یوسف میں مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا تھا، جس کے بعد میٹزگر نے اس علاقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا، ’’وہ اپنے پڑوسیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہر مقدس جگہ، جہاں انسان عبادت کرتے ہیں، چاہے وہ مسجد ہو، چرچ ہو یا سینیگوگ ہو، وہ اسے نذر آتش کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔‘‘ تاہم دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند اور انتہا پسند یہودیوں نے ابھی تک رابی یونا میٹزگر کی اپیل پر کان نہیں دھرے

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق تہران حکومت نے سرکاری ملازمتیں کرنے والی خواتین کے لیے یونیفارم پہننا لازمی کر دیا ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق خواتین سرکاری اہلکاروں پر اکیس مارچ سے یونیفارم  رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے رنگ کا کورٹ یا چادر اور اسکارف زیب تن کرنے کی شرط لگا دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس یونیفارم کو جامعات کے پروفیسروں اور ایران کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کی مناسبت سے تیار کیا گیا ہے۔ ایران کے اسلامی قوانین کی رو سے ملک میں خواتین کو ویسے ہی لمبے کورٹ یا چادر اور اسکارف پہننا پڑتے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کے لیے لباس کے حوالے سے پہلے ہی سے سخت شرائط موجود ہیں جبکہ لبرل ایرانی حلقے ویسے ہی اس کے خلاف ہیں۔مدیحہ ایم تہران کے ایک سرکاری دفتر میں کام کرتی ہیں۔ یونیفارم پہننے کی اس نئی شرط کے بارے میں وہ کہتی ہیں: ’’یونیفارم کے جو نمونے میں نے دیکھے ہیں، وہ تقریباً اسی طرح کے ہیں جو ہم اس وقت پہنتے ہیں اور یہ بات مجھے اسکول کے زمانے کی یاد دلاتی ہے۔ایرانی اسٹیٹ بینک کی ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت نے یہ کوشش کی تھی کہ تمام خواتین ایک سی لگیں، مگر وہ کوشش ناکام ہو گئی تھی۔ تہران حکومت کے مطابق اس نے یونیفارم کی تیاری کے لیے ایک سروے کروایا تھا جس کے بعد یونیفارم کے رنگ گہرا نیلا اور ہلکا کالے کورٹ یا چادر اور اسکارف جو کہہ پہلے سے ایرانی معاشرے میں رائج ہیں  رکھے گئے ہیں۔ حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ لباس سے متعلق ایسا ہی ایک لازمی ضابطہ جلد ہی سرکاری دفاتر کے مرد اہلکاروں کے لیے بھی نافذ کر دیا جائے گا۔

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس نے پاکستان کو مسلسل دوسرے سال صحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک قرار دیاہے،نیویارک میں قائم تنظیم کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں 46صحافی ماریگئے جس میں سے پاکستان میں سات جبکہ عراق اورلیبیامیں پانچ ،پانچ صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے،مرنیوالوں میں 40فیصد فوٹوگرافرز اور کیمراآریٹرزتھے۔تنظیم کے مطابق 2010ء میں مرنیوالے صحافیوں کی تعداد44تھی۔

برطانوي اورامريکي دفاعي سازوسامان ميں نصب کمپيوٹر ٹيکنالوجي 40برس پراني ہے،برطانيہ کے جوہري پروگرام،امريکي بحريہ کے راڈار نظام اور فرانسيسي ہوائي جہازوں کي کمپيوٹر ٹيکنالوجي 1970کي ہے.ايف15اور ايف18لڑاکا طيارے،ہاک ميزائل، امريکي آبدوزيں،بحري بيڑے، بحريہ کا فائٹر سسٹم اور بين البراعظمي بيلسٹک ميزائلوں ميں 1980کے ويکس مني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں.برطانوي جوہري نظام ميں منسلک کمپيوٹر ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دورکي ہے جو فرانسيسي طيارہ ساز کمپني اپنے ہوائي جہازوں ميں استعمال کرتي ہے.ان کو جديد ٹيکنالوجي سے ليس کرنے ميں کروڑوں ڈالر لاگت اور قومي سيکورٹي ميں خلل کا خدشہ ہے .امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کے مطابق يہ انکشاف حال ہي ميں شائع مضمون ميں سامنے آيا کہ دفاعي ميدان ميں منسلک ٹيکنالوجي قديم ہے اورجديد تقاضوں کے مطابق نہيں ہے. عام طور پر يہ خيال کيا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ميں ريموٹ کنٹرول سے فوجي انٹيلي جنس اکھٹي کرنے اور دشمنوں کو ہدف بنانے کے لئے ڈرونز استعمال کيے جاتے ہيں ڈرونز کي طرح تمام فوجي سازوسامان بھي جديد ترين ٹيکنالوجي سے ليس ہوگا جب کہ ايسا حقيقت ميں نہيں ہے.تاہم کچھ دفاعي ضروريات جديد ٹيکنالوجي سے ليس ہيں جن پر فوج کا انحصار ہے. ليکن زيادہ ترفوجي سازو سامان ميں نصب ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دور کي ہے،يہي ٹيکنالوجي دنيا کا سب بڑا ہوائي جہاز A-380بنانے والے بھي اپني ائر بسوں ميں استعمال کرتے ہيں. اخبار لکھتا ہے کہ يہ صورت حال مشکل اورپريشان کن ہے.بحري جہازوں کا راڈار نظام اور برطانيہ کے جوہري ہتھياروں کي اسٹيبلشمنٹ بھي 1970کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کي طرف سے تيار کردہ پي ڈي پي مني کمپيوٹرز استعمال کرتے ہيں جب کہ فرانسيسي طيارہ ساز بھي اپني ايئر بس ميں اسي نظام کو استعمال کرتے ہيں.F-15اورF-18 لڑاکا طيارے، ہاک ميزائل نظام، امريکي بحريہ کي سب ميرينز اور امريکي بحري بيڑے کے مختلف حصوں، طيارہ بردار بحري جہاز اور بحريہ کا فائٹر سسٹم ان سب ميں 1980 کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کے VAXمني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں. اخبار کے مطابق حسا س اہميت کے پيش نظر ان نظاموں پر مستقبل ميں بھي انحصار کيا جائے گا شايد آئندہ وسط صدي تک يہ نظام اسي طرح کام کرتے رہيں گے.امريکي بين البراعظمي ميزائلوں کا انحصار DEC VAXنامي ٹيکنالوجي پر ہے اور حال ہي ميں اس کو اپ گريڈ کے ليے فنڈز مہيا کيے گئے اور يہ عمل2030تک مکمل ہوگا.رپورٹ کے مطابق دفاعي سازو سامان کي تمام ٹيکنالوجي کي تنصيب ميں کئي اربوں ڈالر کے اخراجات کيے گئے . اس کي تبديلي کے لئے کروڑوں ڈالر کي لاگت آئے گي اور اس عمل کے دوران قومي سلامتي ميں خلل پڑ سکتا ہے.

واشنگٹن: امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ روزے دماغی بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ امریکی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تحقیق کے مطابق مختلف دورانیے کے روزے رکھنے سے انسانی دماغ کی قوت بڑھتی ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہفتے میں دو یا تین دن کھانے سے گریز کرنے سے دماغ الزائمر، پارکنسن اور دوسری بیماریوں کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ قوت مدافعت کا مظاہرہ کرتا ہے۔

میکسیکو سٹی: میکسیکو کے شہر مونیٹری کی جیل میں تشدد کے واقعات میں چوالیس افراد ہلاک ہوگئے۔ اتوار کی صبح جیل کے محافظوں اور قیدیوں کے درمیان اس وقت لڑائی شروع ہوگئی جب قیدیوں نے بستروں کو آگ لگانا شروع کر دی، منشیات فروشوں کے گروہوں میں میکسیکو اور امریکا کے درمیان سرحدی علاقوں میں راستوں پر قبضے کے لیے لڑائی جاری ہے، یہ دشمنی جیل میں بھی پھیل جاتی ہے جہاں منشیات کے جرائم میں ملوث مجرم قید ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی ایک جیل میں دو گروہوں کے درمیان لڑائی میں اکتیس قیدی ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے تھے۔

گزشتہ دنوں ٹھٹھہ کے قریب سمندر سے ملنے والی چالیس فٹ طویل وہیل شارک مچھلی عوام کے علاوہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ چند ماہ قبل ہی ایک اور دیو ہیکل مچھلی کراچی کے ساحل پر مردہ پائی گئی تھی۔ کراچی کے عوام اس وقت دنگ رہ گئے جب ماہی گیروں کا ایک گروہ چالیس فٹ سے زائد لمبی وہیل شارک مچھلی کو رسیوں کی مدد سے باندھ کر لانچ کے ذریعے کراچی کے فشریز ہاربر تک لے آیا۔ دو بڑی تجارتی کرینوں کی مدد سے ہزاروں کلوگرام وزنی اس مچھلی کو پانی سے نکالا گیا۔ ماہی گیروں کو یہ دیو ہیکل مچھلی مردہ حالت میں ملی تھی یا اس کو باقاعدہ شکار گیا گیا؟ اس حوالے سے پاکستان میں تحفظ آبی و جنگلی حیات کی تنظیم WWF کے سیکریٹری فشریز اور سابق ڈائریکٹر برائے WWF میرین بائیولوجسٹ محمد معظم کا کہنا ہے کہ ماہی گیروں کے مطابق جس وقت مچھلی پکڑی گئی وہ مردہ حالت میں تھی تاہم حقیقت اس کے برعکس لگتی ہے:’’میری اطلات کے مطابق یہ ماہی گیری کے دوران کانٹے میں پھنس گئی تھی جسے مچھیروں نے پکڑ لیا، لیکن ماہی گیر کہتے ہیں کہ انہیں یہ مردہ حالت میں ملی تھی۔ تاہم جب یہ ساحل پر لائی گئی تو تازہ تھی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ زندہ حالت میں پکڑی گئی۔‘‘محمد معظم کے مطابق پاکستان کے ساحل آبی حیات کی افزائش کے لیے نہایت موزوں ہیں اور یہاں ان وہیل شارکس کی باقاعدہ افزائش ہوتی ہے: ”دنیا کے بعض ممالک میں یہ وہیل شارکس پائی جاتی ہیں۔ پاکستان کے ساحلوں کی ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ یہاں ان کی باقاعدہ افزائش ہوتی ہے۔ یہاں اس کے دو سے ڈھائی بلکہ تین فٹ تک کے بچے بھی ملے ہیں جو اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ پاکستانی ساحل ان کی افزائش کے لیے نہایت مناسب ہیں۔  کراچی کے ساحلوں کو سیاحتی نقطہ نظر سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں لوگ یہاں کا رخ کرتے ہیں، تاہم ساحل کی صفائی کا خیال نہیں رکھا جاتا اور آلودگی کے حوالے سے ان کی صورتحال ناگفتہ بہ ہے۔ دوسری طرف محمد معظم کے مطابق یہاں ماہی گیری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جس سے سمندری حیات کو خطرات لاحق ہیں: ’کراچی کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں مچھلیاں پکڑنے والی کشتیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مچھیرے بھی ماہی گیری کے دوران دھیان نہیں رکھتے جس کے باعث بہت سی ایسی مچھلیاں بھی پکڑ لی جاتی ہیں جو بائی کیچ ہوتی ہیں یعنی ان کا کوئی استعمال نہیں ہوتا۔ ان کی تعداد میں بہت اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی میں پکڑی جانے والی چالیس فٹ سے لمبی شارک وہیل اس وقت فشریز ہاربر پر ہی موجود ہے اور اسے ماہی گیروں کے ایک گروہ نے خرید لیا ہے جو اسے فش فوڈ کے طور پر تیار کریں گے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق اب اسے حکومت نے اپنی تحویل میں لے کر اس کی وجہ موت جاننے کے لیے جامعہ کراچی اور ورلڈ وائلڈ لائف سمیت برطانیہ سے تحقیقاتی ٹیموں کو مدعو کیا ہے اور اس کی عوامی نمائش پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیں۔برطانوی اخبار ٹيلي گراف کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہيڈ کوارٹر سے 20لاکھ ڈالرکي کوکين کے دو تھيلے برآمد ہوئے ہیںاخبار کےمطابق دو ملين ڈالر ماليت کي منشيات کتابوں کے بيگ ميں چھپائي گئي تھيں جس پر عالمي ادارے کا لوگو چسپاں تھا. پوليس کے مطابق يہ تھيلے ميکسيکو سے بھيجے گئے ليکن جب اوہائيو ميں پارسل کي جانچ پڑتال کي گئي توان کا پتہ تلاش نہيں کيا جاسکا جس پر اسے اقوام متحدہ کو بھيج ديا گيا. نيويارک پوليس ڈيپارٹمنٹ کے ڈپٹي کمشنر پال براؤن کے مطابق مکتوب اليہ کا نام نہ ہونے پر کورئير سروس نے يہ سوچا کہ اقوام متحدہ کي علامت چسپاں ہے لہذاا نہوں نے وہاں بھيج ديا

غیرقانونی و غیر اخلاقی پالیسیوں کے باعث پوری دنیا میں امریکہ کی ساکھ میں منفی تاثر کا اضافہ ہوا، امریکہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا، کئی محاذوں پر ایران سے منہ کی کھانا پڑیں۔سال 2011 دنیا کیلئے تبدیلیوں کا سال ثابت ہوا، عرب ممالک میں ہونیوالے مظاہروں کے باعث مصر کے صدر حسنی مبارک، لبیا کے معمر قذافی اور تیونس کے علی زین العابدین کو اقتدار چھوڑنا پڑا جبکہ مختلف ممالک کے 90 سے زائد شہروں میں سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف وال اسٹریٹ تحریک کے نام سے مظاہرے سال بھر جاری رہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق 2 جنوری 2011 کو ایران نے جاسوسی کرنے والے 2 امریکی ڈرون مار گرائے، 9 جنوری کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس امریکی جہاز جاپانی سمندری حدود میں تعینات کر دیا گیا، 9 جنوری کو ہی سوڈان کی تقسیم کیلئے شہریوں نے ریفرنڈم کے ذریعے نیا ملک بنانے کا فیصلہ سنایا، 16 جنوری کو تیونس میں عبوری صدر نے حلف اٹھایا۔  مصر میں 40 لاکھ افراد نے 2 فروری کو اقتدار چھوڑنے کیلئے صدر حسنی مبارک کے خلاف تاریخی مظاہرہ کیا، 11 فروری کو حسنی مبارک مستعفی ہوئے اور اقتدار فوج کے حوالے کیا، 22 فروری کو لبیا کے صدر معمر قذافی نے ملک چھوڑنے سے انکار کر دیا، 10 مارچ کو جاپان میں زلزلے اور سونامی سے شدید تباہی آئی اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، 14 مارچ کو تیسرے ری ایکٹر میں دھماکا ہوا ہزاروں لاشیں برآمد ہوئی جبکہ جاپان میں زلزلے سے تباہیوں اور ایٹمی تابکاری کا سلسلہ 20 مارچ تک جاری رہا، یکم اپریل کو بھارت کی آبادی ایک ارب 21 کروڑ تک پہنچ گئی جبکہ رواں سال دنیا کی آبادی 7 ارب سے تجاوز کر گئی۔  برطانیہ کے شہزادے ولیم اور کیٹ مڈلٹن کی شادی 29 اپریل کو ہوئی جسے دنیا بھر میں ٹی وی چینلز کے ذریعے براہ راست دکھایا گیا، 2 مئی کو پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے ذریعے اسامہ بن لادن کی ہلاکت ہوئی، 15 مئی کو آئی ایم ایف کا سربراہ ڈومینک اسٹراس ہوٹل ملازمہ کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا، 31 مئی کو یوکرائن میں مقابلہ حسن میں حصہ لینے کی وجہ سے 19 سالہ مسلم لڑکی کاتیہ کورن کو سنگسار کیا گیا۔ بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے کو 23 جون کو عدالت نے 6 سال قید کی سزا سنائی، 27 جون کو عالمی عدالت نے لبیا کے صدر معمر قذافی اور ان کے بیٹے کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے، 28 جون کو کرسٹائن لاگارڈ آئی ایم ایف کی پہلی خاتون سربراہ بن گئی، 9 جولائی جنوبی سوڈان کے نام سے ایک نیا ملک بنایا گیا، 13 جولائی کو بھارتی شہر ممبئی میں 3 بم دھماکوں میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔  ایران نے ایک بار پھر جاسوسی کرنے والے امریکی ڈورن کو 20 جولائی کو مار گرایا، 29 جولائی کو ترکی کے 3 فوجی سربراہوں کو مستعفی کیا گیا، یکم اگست کو دنیا بھر سے 25 لاکھ زائرین حج ادا کرنے کیلئے مدینہ پہنچے، 3 اگست کو حسنی مبارک لوہے کے پنجرے میں عدالت پیش ہوئے، 7 اگست کو لندن میں پولیس کے خلاف ہونے والے مظاہرے ہنگاموں میں تبدیل ہوئے، 22 اگست کو لبیا کے صدر معمر قذافی کے 2 بیٹے گرفتار کئے گئے، 4 ستمبر کو 4 لاکھ اسرائیلی شہری مہنگائی کیخلاف سڑکوں پر نکل آئے، 13 ستمبر کو افغانستان میں امریکی سفارتخانے اور نیٹو ہیڈکوارٹر پر کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے حملے میں 11 افراد ہلاک ہوئے۔ سپین میں 16 ستمبر کو سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف 3 لاکھ لوگوں نے احتجاج کیا، 20 ستمبر کو سابق افغان صدر برہان الدین ربانی خودکش حملے میں ہلاک ہوئے، 5 اکتوبر کو بھارت نے دنیا کا سستا ترین ٹیبلیٹ کمپیوٹر متعارف کرایا۔  15 اکتوبر کو دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں افراد نے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مظاہرے کئے، 20 اکتوبر کو لبیا کے صدر معمر قذافی کی ہلاکت سے لبیا پر 42 سالہ حکمرانی کا دور ختم ہوا۔ 27 اکتوبر کو یمن میں پہلی بار پرامن احتجاج کی اجازت دی گئی، 4 نومبر کو غزہ جانے والے امدادی جہاز پر اسرائیلی فوجیوں کا حملہ ہوا، 25 نومبر کو ایران میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے 12 جاسوس گرفتار کئے گئے، 4 دسمبر کو ایک بار پھر ایران نے امریکی جاسوس ڈرون مار گرایا، 14 دسمبر کو یہودیوں نے 700 سال پرانی مسجد شہید کرنے کی کوشش کی اور 18 دسمبر کو عراق میں 9 سالہ امریکی جنگ کا خاتمہ ہوا اور امریکی فوجیوں کا آخری دستہ بغداد سے روانہ ہوا۔

واضح رہے کہ 2006ء سے امریکی فوج میں جنسی جرائم اور گھریلو تشدد میں 30 فیصد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا۔امریکی فوج میں پہلے کی نسبت خودکشیوں کی تعداد میں کمی اور گھریلو تشدد اور جنسی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2011ء میں 278 امریکی فوجیوں نے خودکشی کی اور یہ تعداد 2010ء میں سامنے آنے والی تعداد سے 9 فیصد کم ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 4 سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ امریکی فوج میں خودکشیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے، خودکشیوں کے علاوہ اس رپورٹ میں فوجیوں میں حادثات کے بعد سامنے آنے والے ذہنی دباو کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس مرض میں فوجیوں کی تعداد 4 لاکھ 72 ہزار سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔   پینٹاگون میں نیوز کانفرنس کے دوران جنرل پیٹر چارلی نے صحافیوں کو بتایا، اگرچہ اس رپورٹ میں بہت سی اچھی خبریں ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ بری خبریں بھی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں اس صورتِحال کو سلجھانے کے لیے ابھی بہت کام کرنا ہے۔ واضح رہے کہ 2006ء سے امریکی فوج میں جنسی جرائم اور گھریلو تشدد میں 30 فیصد اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں میں 43فیصد اضافہ ہوا، منظرِ عام پر آنے والی اس رپورٹ میں ایک 2010ء کی رپورٹ کا بھی تذکرہ ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج یا تو خودکشی کے بارے میں سوچنے والے فوجیوں کی حالت پر دھیان نہیں دے رہی یا پھر فوج ان کی طبیعت سے ناآشنا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتِحال کی وجہ امریکی فوجیوں کی عراق اور افغانستان میں تعیناتی بھی بتائی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے فوجی سپاہیوں میں خودکشی اور جنسی تشدد کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2011ء میں 164 فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس میں سے 6 جنسی تشدد کے واقعات میں ذمہ داروں نے شراب نوشی کی ہوئی تھی۔ جنسی تشدد کے زیادہ تر واقعات خاتون فوجی اہلکاروں کے خلاف وقوع پذیر ہوئے۔

واشنگٹن: جدید ارضیاتی تاریخ میں سال 2011 نواں گرم ترین سال تھا۔ اس بات کا انکشاف خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا  کے سائنس دانوں نے کیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق جدید ارضیاتی ریکارڈ کے مطابق 1880 سے اب تک 9 گرم ترین سال ریکارڈ کئے گئے جن میں سال 2011ء نواں گرم ترین سال تھا۔ ایک اور امریکی ادارے ”این او اے اے” کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں اوسطاً درجہ حرارت کے  حساب سے 2011ء 23واں گرم ترین سال تھا۔ ناسا کے ایک ادارے ”گوڈیرڈ انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈی” کے مطابق سال 2011ء میں اوسطاً درجہ حرارت کی سطح 0.92 ڈگری فارن ہائیٹ (0.5سینٹی گریڈ) تھی۔ بیسویں صدی عیسوی وسط میں درجہ حرارت مناسب درجوں پر رہا اور انسٹی ٹیوٹ نے 1880ء سے درجہ حرارت کو ریکارڈ کرنا شروع کیا تھا۔

واشنگٹن(اے پی پی /آن لائن) وال سٹریٹ قبضہ کرو مہم کے شرکا نے وائٹ ہاوٴس کے احاطے میں دھواں پھیلانے والا بم پھینک دیا۔ جس کے باعث وائٹ ہاؤس کی عمارت عارضی طو ر پر بند کر دی گئی جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاوٴس کا کہنا ہے کہ سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرین بیرونی گیٹ کے سامنے احتجاج کر رہے تھے جہاں انہوں نے وائٹ ہاوٴس کے اندر دھواں پھیلانے والا بم پھینک دیا۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ امریکہ کی خفیہ سروے کے ترجمان جارج اوگیلوی نے کہا ہے کہ نامعلوم فرد نے اس وقت وائٹ ہاؤس کے ایگزیکٹو کمپاؤنڈ کی باڑ کے قریب اندر دھواں اگلنے والا بم پھینکا جب وائٹ ہاؤس کے سامنے ”اکوپائے واشنگٹن“ کے ہزار سے پندرہ سو مظاہرین مظاہرے میں مصروف تھے۔ ترجمان نے بتایاکہ بم کے پھینکے جانے کی اطلاع کے فوری بعد وائٹ ہاؤس کو مختصر وقت کیلئے مکمل طور پر بند کرتے ہوئے داخلی اور خارجی گزر گاہوں سمیت تمام دروازے بند کر دیئے گئے تھے تاہم اس وقت صدر اوباما خاتون اول مچل کی سالگرہ کے اعزاز میں ان کو برتھ ڈے ڈنر دینے کیلئے باہر جا چکے تھے تاہم وائٹ ہاؤس میں معاملے کی تحقیقات ہو رہی تھیں کہ وہ واپس آگئے۔ خفیہ ادارے نے تحقیقات کیلئے وائٹ ہاؤس کے پریس سٹاف کو 45 منٹ تک باہر جانے سے روکے رکھا اور بعدازاں انہیں ایجنٹوں کے ساتھ باہر تک چھوڑا گیا۔ ترجمان نے بتایاکہ معاملے کی تحقیقات کیلئے وائٹ ہاؤس کے سامنے پنسلوانیا ایونیو بند کر دیا گیا تھا۔

واشنگٹن: امریکی ریپبلکن صدارتی امیدوار رک پیری نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے طالبان کی لاشوں کی بے حرمتی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ درست ہے کہ جو فوجیوں سے غلطی ہوئی تاہم یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں رک پیری نے کہا کہ یقیناً  اٹھارہ انیس سالہ فوجیوں سے اس طرح کی احمقانہ حرکت سرزد ہونا کوئی بڑی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران اس طرح کی غلطیاں ہو جایا کرتی ہیں اور ایسا کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ انیس سو پینتالیس کی جنگ کے دوران بھی کچھ اس طرح کے  واقعات  ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ماننے والی ہے کہ ہمارے فوجیوں سے غلطی ہوئی تاہم انہیں مجرم قرار دینا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انتظامیہ کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہیے اور اپنے فوجیوں سے مجرموں جیسا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔

سمندروں کے اندر کئی کلومیٹر کی گہرائیوں میں موجود آتش فشانی دہانوں میں زندگی کی شکلوں کا پتہ چلا ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ بات تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں بغیر آنکھوں والے جھینگے اور سفید شکنجوں والے چھوٹے جاندار سمندری مخلوق کی ان چند قسموں میں شامل ہیں جو معدنیات سے بھرپور پانی میں 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی قائم و دائم ہیں۔ ان دہانوں کے گرد زندگی کا سراغ کیمین جزائر کے جنوب میں Cayman Trough کہلانے والے علاقے میں بحیرہ کیریبیئن کی تہہ میں ملا ہے۔ سمندر کی سطح سے پانچ کلومیٹر نیچے واقع یہ جگہ دنیا کے سب سے گہرے ’سیاہ دھواں اگلنے والے‘ دہانوں کا مرکز ہے۔سن 2010ء میں سر انجام دی جانے والی ایک مہم کے دوران برطانیہ کے National Oceanography Centre کے  میرین جیو کیمسٹ Doug Connelly اور University of Southampton کے ماہر حیاتیات جون کوپلے نے اس جگہ کو چھاننے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی ایک آبدوز استعمال کی۔ محققین نے قریب واقع ماؤنٹ ڈینٹ میں ماضی میں نہ دریافت ہونے والے آتش فشانی دہانوں کا بھی کھوج لگایا۔ ماؤنٹ ڈینٹ پہاڑی سلسلہ سمندر کی تہہ سے شروع ہو کر تین کلومیٹر تک اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ Connelly نے ایک بیان میں کہا: ’’ماؤنٹ ڈینٹ پر سیاہ دھواں اگلنے والے دہانے دریافت کرنا بالکل حیران کن تجربہ تھا۔ اس علاقے میں ماضی میں اس طرح کے گرم اور تیزابیت والے دہانے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں موجود آتش فشاں کے دہانے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آبدوز پر نصب کیمروں سے کھینچی گئی تصویروں میں انتہائی زرد رنگ کے جھینگوں کا سراغ ملا جن کی آنکھوں کے بجائے پشت پر روشنی کو محسوس کرنے والے اعضاء تھے تاکہ وہ سمندر کی گہرائیوں میں انتہائی مدہم روشنی میں راستہ تلاش کر سکیں۔ اس سے ملتی جلتی ایک نوع چار ہزار کلومیٹر دور بحر اوقیانوس کے وسط میں بھی پائی گئی ہیں۔کوپلے نے کہا: ’’ان دہانوں کے گرد پائی جانے والی مخلوق پر تحقیق اور ان کا دنیا کے دیگر آبی دہانوں میں پائی جانے والی انواع کا موازنہ کرنے سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ جانور کس طرح گہرے سمندروں میں منتشر اور ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ ماؤنٹ ڈینٹ کے دہانوں میں جھینگے کی ایک اور قسم کے علاوہ سانپ کی شکل کی ایک مچھلی کا بھی سراغ ملا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہیں۔

چینی حکام نے ملک میں شدید خشک سالی کے باعث بھوک کے ہاتھوں ہلاکت کے خطرے سے دوچار لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے خوراک گرانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چین کے مشرقی صوبے جیانگ سی میں پویانگ جھیل ملک میں تازہ پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اور وہاں ہر سال سردیوں میں دیگر علاقوں اور ملکوں سے ہجرت کر کے آنے والے پرندے لاکھوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر بہت کم بارشوں کی وجہ سے یہ جھیل بڑی تیزی سے خشک ہوتی جا رہی ہے۔ پویانگ جھیل میں اب ایسی مچھلیاں، آبی جڑی بوٹیاں اور پانی میں تیرتے ہوئے plankton کہلانے والے چھوٹے چھوٹے پودے بھی بہت کم ہو چکے ہیں جن پر نقل مکانی کرنے والے ایسے لاکھوں پرندے زیادہ تر گزارہ کرتے ہیں۔ پویانگ جھیل ایک محفوظ قدرتی خطہ بھی ہے۔اس جھیل اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں جانوروں اور نباتات کے تحفظ کے محکمے کے سربراہ ژاؤ جِن شَینگ کے بقول پچھلے سال نومبر سے دوسرے ملکوں اور خطوں سے نقل مکانی کر کے وہاں آنے والے پرندوں کو زندہ رہنے کے لیے کافی خوراک دستیاب نہیں ہے۔ عام طور پر یہ پرندے مارچ کے مہینے تک وہاں قیام کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپنی گرمائی منزلوں کی طرف پرواز کر جاتے ہیں۔ چینی حکام کے مطابق علاقائی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان پرندوں کو پویانگ جھیل کے ماحولیاتی نظام میں قیام کے دوران بھوک کے ہاتھو‌ں مرنے سے بچانے کے لیے اب انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک مہیا کی جائے گی۔حکام کے مطابق اس مقصد کے تحت ان لاکھوں پرندوں کے لیے فضا سے جھینگے، مکئی کے دانے اور ان کی پسندیدہ غذا کے طور پر دیگر اشیاء پھینکنے کا سلسلہ 23 جنوری سے پہلے شروع کر دیا جائے گا، جب چین میں نئے قمری سال کا آغاز ہوتا ہے۔ پویانگ جھیل کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے نگران محکمے کے ایک اعلیٰ اہلکار وُو ہیپِنگ نے بتایا کہ ماضی میں بھی اس جھیل کا رخ کرنے والے لاکھوں پرندوں کو مقامی حکام کی طرف سے خوراک فراہم کی جا چکی ہے۔ لیکن کئی سال پہلے ایسا شدید برفانی طوفانوں کے دنوں میں کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ تاہم اس اقدام کی ضرورت مسلسل خشک سالی کی وجہ سے پیش آئی ہے۔ جیانگ سی میں حیوانی اور نباتاتی حیات کے تحفظ کے محکمے کا کہنا ہے کہ پویانگ جھیل میں پانی اتنا کم ہو چکا ہے کہ اب وہاں کا رخ کرنے والے لاکھوں موسمی پرندوں میں سے بہت سے اس جھیل کے نواح میں واقع نو دوسری چھوٹی چھوٹی جھیلوں کا رخ بھی کر چکے ہیں۔ اس لیے ان کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے خوراک کی فراہمی اور بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ پویانگ کی چینی جھیل کا مجموعی رقبہ پچھلے ہفتے تک سکڑ کو صرف 183 مربع کلومیٹر یا 71 مربع میل رہ گیا تھا۔ معمول کی بارشوں کے بعد عام طور پر تازہ پانی کی اس جھیل کا کُل رقبہ ساڑھے چار ہزار مربع کلومیٹر تک ہوتا ہے، جو ایشیائی ملک سنگاپور کے مجموعی رقبے کے چھ گنا سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

کراچی : العباس اسکاؤٹس گروپ کے سرپرست اعلیٰ سید ایاز امام رضوی کی ہدایت پر چہلم امام حسین علیہ اسلام کے موقع پر اتوار 20 صفر کو نشتر پارک سے نکلنے والے مرکزی ماتمی جلوس کے شرکاء کو طبی امداد فراہم کرنے کے لئے مرکزی طبی امدادی کیمپ نمائش چورنگی ایم اے جناح روڈ پر لگایا جائے گا جس میں ماہر ڈاکٹرز و نرسنگ عملہ اور اسکاؤٹس موجود ہوں گے۔ اسکاؤٹس لیڈر عابد علی نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام تر انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ 

اوسلو : ناروے کی ایک عدالت نے درجنوں افراد کے قتل میں ملوث شدت پسند اینڈرزبیرنگ بریویک کے نئے نفسیاتی معائنہ کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ہونیوالے معائنہ میں مذکورہ شدت پسندکو فاتر العقل پایا گیا تھا۔ اینڈرز بیرنگ بریوک گذشتہ سال 22 جولائی کو ہونیوالے دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم کر چکا ہے۔ اس بدقسمت واقعہ میں بیرنگ بریوک نے پہلے اوسلو میں حکومتی عمارت میں بم دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسکے بعد وہ ایک مقامی جزیرہ اوٹایا گئے جہاں پر پولیس افسر کا بھیس بدل کر اپنی شناخت چھپائی او ر وہاں گرمیوں میں قائم ہونیوالے نوجوانوں کے کیمپ پر فائرنگ کرکے 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کیخلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالتوں کی طرف سے مقرر شدہ نفسیاتی ڈاکٹروں نے بیرنگ بریوک کو فاتر العقل ثابت کرکے انہیں اپنے جرائم کے حساب دینے سے مبرا ثابت قرار دیااور اسے جیل جانے کے بجائے نفسیاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں دیدیا تاہم وکلا کی جانب سے دوبارہ بیرنگ بریوک کی نفسیاتی معائنہ کرنے کے حوالے سے پٹیشنز دائر کی گئی جس میں بیرنگ بریوک کی نفسیاتی بیماری کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی

کلکتہ…بھارت کے شہر کلکتہ ميں سرکاري اسپتالوں کے طبي امداد دينے سے انکار کے بعد ايک خاتون سڑک پر دو بچوں کي پيدائش کے بعد چل بسي ، بھارتي ميڈيا رپورٹس کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ اس کي بيوي نے اسپتال لے جا نے کے دوران ہي ٹيکسي ميں جڑواں بچوں کو جنم ديا،وہ بچوں اوربيوي کو تشويشناک حالت ميں لے کر سرکاري اسپتالChittaranjan sishu seva sadan پہنچا ،جہاں ڈيليوري کيلئے بيوي کا نام لکھوايا تھا ،ليکن اسپتال عملے نے يہ کہہ کرانکار کرديا کہ ايسے کيسز کيلئے ان کے پاس سہولتيں موجود نہيں جس پر وہ اپني بيوي کو لے کردوسرے سرکاري اسپتال پہنچا،ليکن اسپتال عملے نے کہا کہ يہاں اس کي بيوي زيرعلاج نہيں رہي اس ليے وہ اُسے داخل نہيں کرسکتے،شوہر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال ميں اُس کي بيوي دم توڑ گئي جبکہ بعد ميں بچوں کوسرکاري اسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں داخل کرليا گيا ،واقعے کيخلاف اُس نے مقامي پوليس اسٹيشن ميں رپورٹ درج کرادي ہے، جس پررياستي حکومت نے تحقيقات کا حکم ديديا ہے .

لندن ……مو بائل فو ن کو ہر وقت چارج کر نا بھي بعض افرا دکو ايک جھنجٹ لگتا ہے جن کے ليے اب ايسامو با ئل فون بنا ليا گيا ہے جسے پندرہ سال تک چار ج کر نے کي ضر ورت نہيں ہو گي . SpareOneنامي اس مو بائل فو ن ميں بيٹري کے بجائے ايک عام پينسل سيل نصب ہے جس کي بدولت پندرہ سال تک اس فون کو چارج کرنے کي ضر ور ت نہيں ہو گي. اس انوکھے مو بائل فون ميں صرف ايک سيل لگا نے کے بعد اس سے مستقل دس گھنٹے تک با ت کي جاسکتي ہے جبکہ اس کي قيمت صرف پچا س ڈالرہے .

امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نیتجے میں دنیا کے پہلے بندر کی پیدائش کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بندر کی پیدائش چھ مختلف جنین کے خلیات کو ملانے سے ممکن ہوئی ہے۔ امریکی محققین نے جینیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بندر کی پیدائش کا اعلان نئے سال کے پہلے ہفتے کے دوران پانچ جنوری کو کیا۔  اس پیش رفت کو طبی تحقیق میں ممکنہ بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اب تک اس نوعیت کے تحقیق کے لیے بنیادی طور پر چوہے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ لیبارٹری میں دو یا اس سے زائد ابتدائی جنین کو ملانے کے نتیجے میں ایک عجیب الخلقت جانور وجود میں آتا تھا۔ سائنسدان بہت عرصہ پہلے ہی جینیاتی تبدیلیوں کے حامل چوہے کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے تھے۔ ان چوہوں میں بعض جینز کم رکھے جاتے تھے تاکہ بیماریوں اور طریقہ علاج کا مطالعہ کیا جا سکے جن میں موٹاپا، امراض دِل، بے چینی، ذیابیطس اور پارکنسن جیسی بیماریاں شامل ہیں۔اس کے برعکس دیگر جانوروں پر کیے گئے تجربات ماضی میں ناکام رہے تھے، لیکن امریکہ کی مغربی ریاست اوریگون میں سائنسدان جینیاتی چوہے کی پیدائش کے لیے استعمال کیے گئے طریقہ کار کو بدلتے ہوئے بندر کی پیدائش میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ بریک تھرو اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے انتہائی ابتدائی مرحلے کے جنین کے خلیوں کو آپس میں ملایا، جس کا اگلا مرحلہ زندگی کو ممکن بنانے والے خلیوں کی نمو کے ساتھ پورے جانور کے وجود کی تشکیل تھی۔ قبل ازیں جینیاتی چوہے جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے ذریعے بنائے گئے تھے، جنہیں لیبارٹری میں پروان چڑھاتے ہوئے چوہے کے جنین میں بدلا گیا، لیکن یہ طریقہ کار جینیاتی بندر کی پیدائش کے لیے کامیاب نہیں رہا تھا۔ کیونکہ چوہوں کے برعکس بندروں کے جنین، جنین کے ابتدائی مرحلے کے خلیوں کے انضمام کے لیے موزوں نہیں۔ اوریگون ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی میں قائم اوریگون نیشنل پرائمیٹ ریسرچ سینٹر کے محققِ اعلیٰ شوکھرات میٹالیپو کہتے ہیں کہ جینیاتی بندروں کی پیدائش چوہوں کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔ان کے اس تجربے کے نتیجے میں تین صحت مند جینیاتی بندر پیدا ہوئے ہیں، جنہیں انہوں نے روکُو، ہیکس اور کیمیرو کے نام دیے ہیں۔ میٹالیپو کہتے ہیں کہ خلیے باہم ملے رہتے ہیں اور ٹشوز اور اعضا کی تشکیل کے لیے مل کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سائنس کے لیے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ یہ تحقیق بیس جنوری کو جاری ہونے والے سائنسی جریدے ’سیل‘ کی اشاعت سے پہلے ہی انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی ہے۔ اس تحقیق کے لیے شمالی بھارت کا سرخ منہ والا بندر استعمال کیا گیا جسے سائنسدان ایچ آئی وی / ایڈز کی دواؤں، پاگل کتے کے کاٹے کے لیے تحقیقی ویکسین، چیچک اور پولیو کے مطالعے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ روس اور امریکہ ان بندروں کو تجرباتی طور پر خلائی مشنز کے لیے استعمال کر چکے ہیں۔

عراق کے اسلامی اعلی کونسل کے صدر چهلم امام حسین علیہ السلام کی مناسبت سے پیدل کربلا کی طرف جانے والے قافلے میں شریک ہو کر ان کے ساتھ کربلا کی طرف روانہ ہو ئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق زائرین حسینی جو نجف اشرف سےکربلا کی طرف پیدل جا رہے تھے عراق کےاسلامی اعلی کونسل کے صدر حجت الاسلام سید عمار حکیم نے ان کے پروگرام میں شرکت کی اور ان کے ھمراه نجف اشرف سے حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضہ اطہر کی طرف کربلا پیدل روانہ ہوئے ہیں ۔ذرائع کے مطابق سید عمار حکیم راستہ میں زائروں اور امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں کی خدمت کرنے والے بعض انجمنوں کے کیمپوں میں جاکران کی حوصلہ افزائی فرمارہے ہیں کیمپوں میں موجود انجمنوں والے  گرمجوشی سے ان کا استقبال کررہے ہیں۔ ہرسال کی طرح اس سال بهی خاندان عصمت و طهارت کے چاہنے والے عراق کے تمام گوشہ وکنار اور بعض بیرون ممالک سے اس پروگرام میں شرکت اور اربعین حسینی کی مناسبت سے پیدل کربلا تک سفر کرنے کے لئے نجف اشرف حاضر ہوئے ہیں ۔ ادهرکاظمین کے خطیب جمعہ حجت الاسلام شیخ جلال الدین صغیرکے آفس نے بھی اس سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام کے زائرین کے لئے کربلااورنجف کے درمیان کمبل کے تقسیم کرنے کا انتظام  کیا ہے ۔ان کے اس آفس نے اعلان کیا ہے کہ ایک جدید ہال کا افتتاح کیا گیا ہے کہ جس میں ۴۵۰۰ سے بھی زیادہ امام حسین کے زائرین مقیم ہو سکتے ہیں یہ عمارت کربلا اور نجف کے راستہ میں شہداء کربلا کے عاشقوں اور ان کے غمخواروں کے لئے آمادہ کی گئی ہے ۔

خلیج فارس میں ایران کی طاقتورولایت نامی فوجی مشقوں کے رد عمل میں اسرائيل نے امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ خلیج فارس میں ایران کی طاقتورولایت نامی  فوجی مشقوں کے رد عمل میں اسرائيل نے امریکہ  کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ مشقیں بڑے پیمانے پر ہوں گی۔ تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مشقیں کب شروع کی جائیں گے۔ آئسٹر چیلنج 12 نامی ان مشقوں سے متعلق یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب خطے میں ایران نے حال ہی میں ولایت نامی فوجی مشقیں منعقد کی ہیں البتہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کے ساتھ اْن کی یہ فوجی مشقیں پہلے سے طے تھیں اور ان کا کسی واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ ایران کی دس روزہ مشقوں سے امریکہ اور اس کے اتحادی سخت وحشت میں مبتلا ہوگئے ہیں

نیو یارک:  پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں سرگرم امریکی اور دیگر غیر مسلم ممالک کے فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنٹوں، فوجی کنٹریکٹرز اور سفارت کاروں کی مسلم دشمن کارروائیوں کیخلاف بھی مزاحمت، انتقامی کارروائیاں اور جوابی اقدامات اسلام میں ممنوع ہیں اور صرف مسلح حملہ کرنیوالے غیر مسلم فوجی کے مقابلے میں دفاعی کارروائی کا حق ہے البتہ اپنے نااہل مسلمان حکمرانوں کو ہٹانے کیلئے انقلاب لانا مسلم عوام کا فرض ہے ۔ یہ بات تحریک منہاج القرآن کے بانی علامہ طاہر القادری نے اپنے فتویٰ کے اجراء کے موقع پر ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ پاکستانیوں کے اس اجتماع میں امریکی محکمہ انسداد دہشت گردی، ایف بی آئی اور دیگر حکام کی ایک کافی بڑی ٹیم بھی موجود تھی۔ پاکستانیوں کے اجتماع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے جہاد کی مختلف قسمیں اور قتال ( مسلح جہاد ) کی شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی غیر مسلم اور غیر ملکی جاسوس اور فوجی کنٹریکٹر کی سرگرمیوں کے باوجود اس کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کر سکتا وہ صرف اس غیر مسلم مسلح فوجی سے صرف دفاعی جنگ لڑ سکتا ہے جو اس مسلمان کو قتل کرنے کی نیت سے حملہ آور ہوا ہو۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پاکستان کے عوام منظم تحریک کے ذریعے اپنے نااہل اور کٹھ پتلی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کا فریضہ انجام دیں اور مصر میں حالیہ عوامی تحریک کے ذریعے حکمرانوں کی تبدیلی کی مثال کو اپنائیں۔ انہوں نے ڈرونز حملوں سے سویلین افراد کی ہلاکتوں کو جرم قرار دیتے ہوئے اس کا ذمہ دار بھی ان مسلم حکمرانوں کو قرار دیا جنہوں نے امریکا سے معاہدوں کے ذریعے ایسے حملوں کی اجازت دے رکھی ہے۔انہوں نے معاہدوں کی پابندی کرنا بھی مسلم ممالک کا فریضہ اور ذمہ داری قرار دیا۔ مسلم حکمرانوں کو کٹھ پتلی آمر اور عوامی انقلاب کا مستحق قرار دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے یہ بھی کہا کہ مسلح جہاد کا فیصلہ یا حکم کوئی گروپ یا عوام نہیں کر سکتے یہ فیصلہ صرف حکومت ہی کر سکتی ہے ۔ خطاب کے بعدپریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علامہ طاہر القادری نے اس تاثر کی تردید کی کہ انہوں نے اپنے اس فتویٰ کے ذریعے امریکی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے امریکا اور مغربی ممالک کو ایک علمی اور مذہبی ہتھیار فراہم کر دیا ہے جس سے موجودہ دور کے مسلمانوں میں مغربی سازشوں کے خلاف مسلمانوں میں احتجاج اور مزاحمت ختم کرکے مسلم دنیا پر امریکی و مغربی بالادستی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اپنے فتویٰ کے بارے میں کہا کہ میرا مقصد اس نوجوان مسلم نسل کو دہشت گردی اور خودکشی کا ایندھن بننے سے بچانا ہے جو ابھی جو ان ہو رہی ہے میرا مخاطب وہ افراد نہیں جو پہلے ہی برین واشنگ کے ذریعے دہشت گرد اور خودکش بمبار بن چکے ہیں میں امریکا یا کسی کی دنیاوی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے نہیں بلکہ اپنا علمی اور دینی فریضہ ادا کر رہا ہوں جبکہ علامہ طاہر القادری کے اس فتویٰ پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی جنگ اور افغانستان و عراق پر امریکی حملوں کے دس سال بعد علامہ طاہر القادری نے اب یہ فتویٰ جاری کرکے امریکی مفادات کی بالادستی کی راہ ہموار کی ہے اور اس فتویٰ کی بھی وہی کیفیت ہے جو مسلم تاریخ میں بعض مسلم حکمرانوں کے مشیر علماء نے خوشنودی اور مناصب حاصل کرنے کیلئے حکمرانوں کو مشوردے دے کر امام حنبل، امام شافعی اور دیگر محترم شخصیات کو قید کوڑے اور سزائیں دلائیں۔ علامہ طاہر القادری کینیڈا میں شہریت اور سکونت اختیار کرنے کے بعد اپنے اس فتویٰ کے بارے میں امریکی میڈیا ، امریکی تھنک ٹینک، امریکی حکومت کے متعدد محکموں اور یونیورسٹیوں میں خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں کے ایک بڑے کنونشن سے بھی خطاب کیا۔

کراکس: دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنمائوں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنمائوں کو سرطان کا مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔ ہوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔ گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ان کے علاوہ پیرا گوئے کے صدر فرناندو لوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔ تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقینا، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے۔

یونان میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک انتہائی مالدار اور مضبوط اثر و رسوخ کی حامل خانقاہ کے ایبٹ کو زمین کی فروخت کے اسکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔ ماسکو اور ایتھنز کے قدامت پسند حلقوں نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک ہزار برس پرانی مقدس واتو پیدی خانقاہ ماؤنٹ ایتھوس کے علاقے میں واقع ہے جو کہ آرتھوڈوکس مسیحیت کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔ بدھ کے روز جیل بھیجے جانے والے ایبٹ افرائیم کی گرفتاری سے روس کے ساتھ بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قبرصی نژاد  56 سالہ افرائیم پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ برس قبل ایک اسکیم کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مسیحی راہبوں نے سرکاری عہدیداروں کو سستی زرعی اراضی کو ایتھنز کی پرکشش رہائشی املاک کے عوض تبادلے پر آمادہ کر لیا تھا۔ اس اراضی میں جھیلیں بھی شامل تھیں۔ وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے یونانی ریاست کو کروڑوں یورو کا نقصان پہنچا تھا۔افرائیم جن کا اصلی نام واسیلیوس کوتسو ہے، نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں یونان کی سب سے بڑی جیل کوری ڈالوس میں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔ وکلائے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات کی سنگینی کے باعث انہیں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی جیل میں رکھا جائے۔ یونانی قانون سازوں نے اس اسکینڈل پر تین سابق حکومتی وزراء کے بارے میں بھی تحقیقات کی تھیں مگر انہیں حاصل استثناء کی بناء پر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ان وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادنٰی درجے کے سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر اس منصوبے کی توثیق کی تھی تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے اعلٰی افسران نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔بہت سے یونانی شہریوں کے نزدیک ملک کے اقتصادی مسائل کے لیے پادریوں کی بجائے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت لاؤس پارٹی کے رہنما جارج کارات زافیرس نے کہا، ’’انہوں نے افرائیم کو تو جیل بھیجنے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جبکہ یونانی عوام کے پیسے خورد برد کرنے والے لوگ اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘ کئی سرکاری عہدیداروں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی بھی اعلٰی سیاست دان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ ادھر سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں راہبوں نے جیل کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ افرائیم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے عقیدت مندوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ان کے حق میں حمایت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ اس معاملے پر روس اور یونان کی خارجہ امور کی وزارتوں میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی سفارشات کے باوجود  یونانی عدالت کی جانب سے انہیں مقدمہ چلنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کے  فیصلے پر سخت تشویش لاحق ہے۔‘‘ یونان کی وزارت خارجہ نے روسی تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں۔

لندن(پی اے) عراق کے نیوکلےئر ری ایکٹر پر 1981ء میں فضائی حملے کے اسرائیلی فیصلے سے امریکی حیرت زدہ اور ششدر رہ گئے تھے، یہ انکشاف نیشنل آر کائیوز کی جاری کردہ دستاویزات سے ہوا جو گزشتہ روز منظر عام پر آئیں ،اسرائیل کا قریبی اتحادی ہونے کے باوجود امریکہ کو اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر حملے کے بارے میں پیشگی متنبہ نہیں کیا تھا، اسرائیل نے جون 1981 ء میں عراق کے اوسیرک ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا تھا اس حملے کا حکم اس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم بیگن نے جاری کیا تھا۔ دستاویزات کے مطابق جب عراقی ری ایکٹر پر حملے کی اطلاع آئی تو اس وقت واشنگٹن میں برطانوی سفیر سرنکولس ہینڈرسن امریکی ڈیفنس سیکرٹری کیسپر وائن برگر کے ساتھ تھے اور برگر نے کہا کہ ان کے خیال میں بیگن حواس کھو بیٹھے ہیں سرنکولس نے لندن کو کیبل کیا اس وقت عراق میں برطانیہ کے سفیر سرسٹیفن ایگرٹن نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے ایف 15 فائٹرز طیاروں کو فضا میں دیکھ کر عراق میں حیرت زدہ ہوگئے تھے، اطالوی نیشنل ڈے پر استقبالیہ کے اجتماع میں ڈپلومیٹک کور نے اس حملے کے میزائل ری ایکشن پر غور کیا تھا۔

 لندن……ٹوئٹر پر پیغام لکھتے ہو ئے احتیا ط برتیں،امریکی ادارہ برائے ہو م لینڈ سیکیو رٹی نے بلا گس اور ٹو ئٹر اکا وئنٹس پر نگا ہ رکھنی شر وع کر دی۔برطا نوی اخبا ر ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق آ پ اپنے فیس بک اور ٹو ئٹر اکا ؤنٹ پر کیا پیغا ما ت لکھتے ہیں اس پر امریکی ادارے بر ائے ہو م لینڈ سکیورٹی کی نظر ہے لہذا پیغا ما ت پو سٹ کرنے میں احتیا ط سے کا م لینا ضر وری ہے ۔ Drill, Strain,Collapse, Outbreak اور وائرس جیسے الفاظ آ پ کے پیغا ما ت کو مشکو ک بنا سکتے ہیں کیو نکہ یہ الفا ظ محکمہ ہو م لینڈ سیکیورٹی کی واچ لسٹ میں شامل ہیں ۔ رپورٹ کے مطا بق اگر آ پ اپنے بلا گ یا اکا ؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے پیغا م میں ایسے الفا ظ استعمال کرتے ہیں جواس واچ لسٹ کا حصہ ہیں تو ممکن ہے کہ آ ٓ پ کے اکا ؤ نٹ پر خفیہ ادار وں کی نظر ہو اور آ پ کی جا سو سی بھی کی جا رہی ہو۔ واضح رہے کہ یہ انکشاف ایک آ ن لا ئن پرائیوئیسی گر وپ کی جا نب سے کیا گیا ہے لیکن اس کے بعد امریکی حکو مت کی جا نب سے اس دعوے کی تر دید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے ۔

ملکہ برطانیہ ایلزبتھ ٹو نے ایران سے اپیل کی ہے کہ وہ برطانیہ کے ساتھ اپنے تعلقات قائم رکھے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کی ہیومن رائٹس سب کمیٹی کی سربراہ ذویرا الہیان نے انکشاف کیا ہے کہ جب ایران کی پارلیمنٹ نے برطانیہ سے تعلقات ختم کرنے کی منظوری دی تھی تو ملکہ برطانیہ نے دفتر سے ایران کی حکومت کے بعض اعلیٰ عہدیداروں سے کئی بار رابطے کئے اور ان سے کہا گیا کہ ایران کی حکومت برطانیہ سے تعلقات ختم نہ کرے۔

اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ثقافتی، تعلیمی اور سائنسی ادارے یونیسکو میں فلسطین کی رکنیت تسلیم کیے جانے کے بعد پہلی بار اقوام متحدہ کے ادارے کے دفتر کے باہر دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچموں میں فلسطینی پرچم بھی نصب کردیا گیا ہے۔فلسطینی پرچم لہرانے کی یہ تقریب فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہوئی۔امریکہ نے فلسطین کو رکنیت دینے پر یونیسکو کو دی جانے والی مالی امداد میں زبردست کٹوتی کر دی ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ فلسطینی قیادت کو کسی بھی عالمی ادارے کی رکنیت کا اہل بننے سے پہلے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنا چاہیے۔ اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا کہ ’آج ہم یونیسکو کے رکن ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مستقبل میں ہماری خودمختار ریاست ہوگی۔

سابق وزیر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر رہنما بیرسٹر سلطان محمود نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر احمد کا میرپور میں آمد پر بھر پور استقبال کیا جائے گا۔برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی نے برطانوی پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد رکن لارڈ نذیر احمد کی شہریت ختم کرنے کے بارے میں آزاد کشمیر کابینہ کے فیصلے اور مانچسٹر میں اُن پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ لارڈ نذیر احمد کو برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا پاکستانی نژاد رکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آزاد کشمیر کابینہ میں ان کی شہریت منسوخ کرنے کی قرارداد منظور ہونے پر پاکستانی اور کشمیری برادری نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ لندن میں مقیم پاکستانیوں نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر کی شہریت کوئی منسوخ نہیں کرسکتا۔ سابق وزیر اور پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر رہنما بیرسٹر سلطان محمود نے کہا ہے کہ لارڈ نذیر احمد کا میرپور میں آمد پر بھر پور استقبال کیا جائے گا۔ وہ پاکستانی اور کشمیری شہری ہیں ان کی شہریت منسوخ کی گئی تو عوام یہ فیصلہ مسترد کرکے اُن کے شانہ بشانہ کھڑے ہوجائیں گے۔ لارڈ نذیر احمد کو بیرون ملک پاکستان کا وکیل بھی قرار دیا جاتا ہے۔ لندن میں پاکستانی اور کشمیری شہریوں نے ان کی شہریت منسوخ کرنے کے خلاف جمعے کو یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے

حسنی مبارک کی بیوی کی جانب سے عرب حکمرانوں کو جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی کے بعد اب شام کے صدر بشار اسد کی مشیر نے عرب رہنماؤں کو انکی جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دی ہے۔النخیل سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حسنی مبارک کی بیوی کی جانب سے عرب حکمرانوں کو جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دینے کے بعد اب شام کے صدر بشار اسد کی مشیر بثنیہ شعبان نے عرب رہنماؤں کو انکی جنسی فلم شائع کرنے کی دھمکی دی ہے۔  بثنیہ نے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے عرب رہنماؤں کو دھمکی دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ان کی سیکسی فلموں کو شائع کردیا جائے گا۔ انھوں نے کویت میں ایک شامی وفد کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ خلیج فارس کے تمام عرب حکمرانوں پر ثابت کریں گے ہمارے پاس  آپ کی رسوائی کے لئے کافی مواد موجود ہے اور ان کے جنسی اور سیکسی اسکینڈل کو انٹرنیٹ پر شائع کریں گے۔  اس سے قبل مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کی بیوی سوزان مبارک نے قطر، سعودی عرب  اور بحرین کے حکمرانوں کو دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے حسنی مبارک کو بچآنے کے لئے کوئی اقدام نہ کیا تو وہ ان کی غیر اخلاقی جنسی فلمیں شائع کرےگی ذرائ‏ کے مطابق بحرین کے بادشاہ شیخ حمد بن آل خلیفہ نے  سوزان کی دھمکی کے بعد فوری طورپر مصر میں حسنی مبارک کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی۔

کربلائے معلی میں عاشورا کے دن 65 لاکھ سے زائد عزاداران امام مظلوم نے مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ عاشور منایا۔  نومحرم کی شام تک 35 لاکھ سے زائد عزادار اور زائرین عراق کے دوسرے شہروں سے پیدل جل کے ماتمی دستوں کی شکل میں کربلائے معلی پہنچ چکے تھے۔ اگر چہ اس درمیاں راستے میں دہشت گردوں نے حملے کئے ان کے راستے میں بم دھماکے کئے لیکن کوئي بھی چیز عزاداران حضرت سید الشہدا علیہ السلام کے عزم میں رکاوٹ نہ بن سکی اور کئي دن کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد وہ کربلائے معلی پہنچ گئے جہاں انہوں نے شب عاشور حضرت امام حسین اور علمدار کربلا حضرت ابو الفضل العباس علیھماالسلام کے روضوں اور بین الحرمین میں عزاداری اور سینہ زنی کرتے ہوئے گزاری، کربلاے معلی سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عاشورا کی ظہر تک مزید 12 لاکھ زائرین کربلائے معلی پہنچ چکے تھے۔ شہر کربلائے معلی کی انتظامیہ کے مطابق اس وقت پچاس لاکھ سے زائد زائرین اور عزادار موجود ہے۔ روضہ ہائے مبارک اور بین الحرمین میں نماز صبح کے بعد ہی سے عزاداری کےجلوس اور ماتمی دستے آنا شروع ہوگئے اور یہ سلسلہ پورے دن جاری رہا۔ کربلائے معلی میں عراق کے دوسرے علاقوں سے آنے والے 50 لاکھ عزاداروں کےعلاوہ ایران، ہندوستان، اور پاکستان سمیت دنیا کے پچيس سے زائد ملکوں کے 15 لاکھ زائر بھی عاشور میں شرکت کرنے کے لئے کربلا معلی پہنچے ہیں۔ نجف اشرف، کاظمین، سامرا اور بغداد سمیت عراق کے دیگر شہروں اور قریوں میں بھی عاشورا عقیدت و احترام کےساتھ منایا جارہا ہے۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی لاکھوں سوگواروں نے عاشورا کی مناسبت سے ثانی زہرا حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے روضہ مبارک میں عاشور کا دن عزاداری اور نوحہ و ماتم میں بسرکیا۔ عاشور کی مناسبت سے لبنان اور دیگر عرب ملکوں میں بھی عزاداری کے جلوس نکالے گئے۔ رپورٹ کے مطابق بحرین اور سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں سختیوں اور سرکاری افواج کے تشدد کے باوجود عاشقان محمد و آل محمد علیھم السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کا سوگ منایا اور مجالس عزا منعقد کیں۔

واشنگٹن: امریکہ میں کتے کی طرح بھونکنے اور کاٹنے والی مچھلی دریافت کرلی گئی ۔ امریکی ماہرین کے مطابق امریکہ میں ایک منفرد مچھلی پائی جاتی ہے جو کتے جیسی صفات رکھتی ہے۔ ماہرین پرینہا نامی مچھلی پر مختلف تجربات کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ یہ مچھلی دیگر مچھلیوں کی نسبت تین طرح کی مختلف آوازیں نکالتی ہے پہلی آواز اس وقت نکالتی ہے جب وہ ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتی ہے دوسری آواز یہ اس وقت نکالتی ہے جب یہ گول دائرے میں تیرنا شروع کر تی ہے اور یہ آواز پہلی کی نسبت باریک مگر تیز ہوتی ہے اور آخری آواز سب سے زیادہ تیز ہوتی ہے جب وہ شکار پر وار کرنے لگتی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوران وہ کتے کی طرح بھونکتی اور کاٹتی ہے

اسلام آباد :رواں سال کا آخری اور دوسرا چاند گرہن آج شام 7 بج کر 32 منٹ کو عروج پر ہوگا۔ علم بروج کے مطابق یہ چاند گرہن 8 درجہ اور 8 دقیقہ برج جواز میں لگے گا جو مکمل چاند گرہن ہوگا۔ یہ گرہن شام 5 بج کر 45 منٹ پر لگنا شروع ہوگا اور 7 بج کر 31 منٹ 49 سیکنڈ پر مکمل ہوگا۔ یہ وقت گرہن کا وسطی حصہ ہوگا۔ چاند گرہن رات 9 بج کر 17 منٹ پر مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ ماہرین نجوم کے مطابق یہ گرہن بحرالکاہل کے علاقے ”گوعام”اور شمالی میرنیا آلینڈ سے شروع ہوگا۔ امریکہ ، افریقہ اور یورپ میں چاند طلوع نہ ہونے کی وجہ سے یہ گرہن نظر نہیں آئے گا۔ البتہ ایشیاکے ممالک اور آسٹریلیا میں بہت واضح نظر آئے گا۔ یاد رہے اس سے قبل رواں سال 16 جون کو پہلا چاند گرہن لگا جبکہ دوسرا آج لگے گا۔

لاس اینجلس: بالی ووڈبگ بی امیتابھ بچن دل کے سکون اوراچھائی کی تلاش میں قرآن پاک پڑھنے لگے۔ پوری دنیا کے دلوں میں گھر کرنے والے بالی ووڈبگ بی امیتابھ بچن کا دل خود بے چین ہے۔ انہیں سکون دل اور حالات پْرامن رکھنے کے لئے کسی نے مشورہ دیا کہ قرآن پاک پڑھیں۔ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے جب امیتابھ بچن نے قرآن پاک کا مطالعہ شروع کیا تو حیرت انگیز طور پر انہیں قرار آیا۔ بگ بی نے سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئیٹر پر قرآن پاک کی اسپیلنگ ٹھیک کی اورآیتوں کا ترجمہ بھی لکھا کہ جو قسمت میں ہوتا ہے مل کر رہتا ہے۔ ملکی بقاء اور سلامتی کے لئے قرآن پاک پڑھناایک اچھا نسخہ ہے۔اس لئے اس پر عمل پیرا ہیں۔