القاعدہ نیٹ ورک، اسلام کا نام لیوا اور مغربی مفادات کا ضامن

Posted: 04/01/2012 in All News, Articles and Reports, Educational News, Important News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News, USA & Europe

دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔خوف اور وحشت کی فضا قائم کر کے افراد کی آزادی اور نجی زندگی میں دخل اندازی کرنا امریکی معاشرے میں دوسرے استعماری معاشروں کی طرح سیاستدانوں اور طاقتور لابیز کا مقبول طرز عمل بن چکا ہے۔ جب عام حالات شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت میں مانع ہو جاتے ہیں تو ایک بحرانی صورتحال کو وجود میں لا کر اور لوگوں میں خوف پھیلا کر اس کام کا بہانہ فراہم کر دیا جاتا ہے اور پھر عوام کی پرائیویٹ زندگی میں مداخلت کی کوئی کسر باقی نہیں رہ جاتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی امریکہ اپنی ملکی یا بین الاقوامی پالیسیوں میں ناکامی کا شکار ہوا ہے اس نے یہی ہتھکنڈہ اپنایا ہے اور ہمیشہ اسے اپنی بنیادی دہشت گردانہ پالیسی کے طور پر محفوظ رکھا ہے۔ جب نیویارک کے ٹوئن ٹاورز سے دو ہوائی جہاز ٹکرائے اور اسکے بعد پنٹاگون کی عمارت میں دھماکہ ہوا تو شائد ہی کوئی شخص یہ سمجھ سکا ہو کہ یہ واقعات امریکہ کی اس طویل المیعاد منصوبہ بندی کا حصہ ہیں جنکے تحت 17 ممالک پر فوجی حملے کا جواز فراہم کرنا ہے اور جسے نیو کنزرویٹو امریکی صدر جرج بش نے اپنی سیکورٹی اسٹریٹجی کے طور پر پیش کیا ہے۔
امریکی اور مغربی مفادات کے راستا میں القاعدہ کی تشکیل:
القاعدہ بھی ایسے ہی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہے جو امریکہ اور برطانیہ کی براہ راست مداخلت سے مشرق وسطی کے سیاسی مقدر پر مسلط ہونے کی غرض سے معرض وجود میں آئی۔ 1970 کی دہائی کے آخر میں روسی فوج کی افغانستان میں موجودگی کو القاعدہ کی تشکیل کا ابتدائی سبب قرار دیا جا سکتا ہے۔ امریکہ جو افغانستان میں روس کے ساتھ براہ راست مقابلہ کرنا نہیں چاہتا تھا، نے کوشش کی کہ اسلامی ممالک سے چند شدت پسند سلفی افراد کو جمع کر کے انکے اسلامی جذبات سے سوء استفادہ کرتے ہوئے ایک منحرف گروہ کو تشکیل دیا جائے تاکہ یہ گروہ اپنے بظاہر دینی اعتقادات کے زیر اثر امریکی مفادات کو انتہائی کم وقت میں اور پوری دقت کے ساتھ جامہ عمل پہنائے۔ اس گروہ کی تشکیل بہت جلد نتیجہ بخش ثابت ہوئی اور روسی فوج 1980 کی دہائی کے آغاز میں ہی افغانستان سے عقب نشینی پر مجبور ہو گئی۔ لیکن یہ القاعدہ کا اختتام نہیں تھا۔ اپنے منصوبے میں کامیابی نے مغربی پالیسی میکرز کو ترغیب دلائی کہ وہ اس پراجیکٹ کو خطے میں ہمیشہ کیلئے باقی رکھنے اور اسے اپنے مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں۔ لہذا اگرچہ اس گروہ کے اکثر جنگجو افراد افغانستان سے روسی فوج کے انخلاء کے بعد اپنے اپنے ممالک میں واپس لوٹ گئے تھے لیکن سعودی شہریت کے حامل دہشت گرد اسامہ بن لادن کی کوششوں سے ایک نئی تنظیم “القاعدہ” کے نام سے 1998 میں رسمی طور پر منظر عام پر آ گئی۔
القاعدہ کے بانی کے طور پر بن لادن کے مغرب سے تعلقات:
القاعدہ کا بانی ہونے کے ناطے اسامہ بن لادن کی شخصیت اور خصوصیات پر ایک نظر ڈالنے سے اسکی حقیقت کا تھوڑا بہت علم حاصل کیا جا سکتا ہے۔ “اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن” ریاض میں پیدا ہوئے اور بن لادن خاندان کا ایک فرد اور سعودی عرب کے مالدار ترین افراد میں شمار کئے جاتے تھے۔ انکے سابق امریکی صدر جرج بش کے ساتھ انتہائی قریبی تجارتی تعلقات تھے۔ بش خاندان ایک تیل کی کمپنی کا مالک جبکہ لادن کا خاندان بھی ایک معروف سعودی خاندان تھا جو کنسٹرکشن کمپنی کا مالک تھا۔ لہذا انکے درمیان گہرے تعلقات پائے جاتے تھے۔ چند سال قبل نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان پر امریکی حملے کے کچھ دیر بعد ہی سی آئی اے کے اہلکار پاکستان میں اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے ہی والے تھے کہ امریکی وزیر دفاع ڈونلڈ رمسفیلڈ نے آپریش کو فوری طور پر رکوا دیا۔ وکی لیکس نے بھی ایسے کئی اسناد و مدارک فاش کئے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسامہ بن لادن سی آئی اے کا ہی ایجنٹ تھا۔
برطانوی روزنامہ ڈیلی ٹیلیگراف القاعدہ کی تشکیل سے کئی سال قبل سی آئی اے اور ایم آئی 6 کی جانب سے اسامہ بن لادن کی حمایت کئے جانے کے بارے میں لکھتا ہے:
“افغان مجاہدین کے ایک گروہ نے جو برطانیہ کی حمایت سے برخوردار تھا اور سی آئی اے سے بھی خفیہ طور پر مالی امداد وصول کرتا تھا، چند سال بعد دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔ اس رپورٹ کے مطابق 15 جنوری 1980 کو برطانیہ کے ایک وزیر “رابرٹ آرمسٹرنگ” نے پیرس میں امریکی صدر کے سیکورٹی مشیر “زبیگنیو برجنسکی” اور فرانس اور مغربی جرمنی کے نمائندوں سے ملاقات کرنے کے بعد لندن بھیجے گئے اپنے پیغام میں لکھا “امریکیوں نے مشورہ دیا ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپس کی اس طرح حمایت کی جائے کہ یہ کیمپس روس کے خلاف مزاحمت کے مراکز میں تبدیل ہو جائیں”۔  رپورٹ کے مطابق اس میٹنگ میں اس موضوع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ کس طرح افغان مجاہدین تک جنگی سازوسامان جیسے انٹی ایئر میزائل پہنچائے جائیں اور کس طرح عالم اسلام کو روس کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے آپس میں طے کیا کہ افغان مجاہدین کی مدد کی جائے اور انہیں اسلحہ فراہم کیا جائے۔ یہ برطانوی اخبار مزید لکھتا ہے “ان سالوں کے دوران افغانستان جانے والے ایک شخص جو مغربی ممالک کی جانب سے ٹریننگ اور اسلحے سے بھی برخوردار تھا، کا نام اسامہ بن لادن تھا جس نے بعد میں القاعدہ کی بنیاد رکھی”۔
القاعدہ کی تشکیل میں مغربی مفادات:
صحیح ہے کہ القاعدہ تنظیم ابتدا میں جنوب مشرقی ایشیا میں سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو روکنے کیلئے بنائی گئی لیکن بعد میں زیادہ وسیع اھداف کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغرب نے اس تنظیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ ان میں سے بعض مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔ 1. ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسکے نتیجے میں ایک متحرک اور فعال اسلامی تحریک کے معرض وجود میں آنے کے باعث مغربی قوتیں اسکے مقابلے میں سیاسی اسلام کے ایک ایسے غیرحقیقی ماڈل کی تلاش میں مصروف ہو گئیں جو شدت پسندی اور خطے میں رعب و وحشت کی فضا قائم کرنے کا مظہر ہو تاکہ اسکی تشہیر کے ذریعے انقلاب اسلامی ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کر کے رائے عامہ کو اس سے متنفر کیا جا سکے۔ دوسری طرف القاعدہ میں شامل عناصر کی شیعہ مذہب سے دشمنی اس بات کا سبب بن سکتی تھی کہ یہ تنظیم ایران کی قومی سلامتی کیلئے خطرہ بن کر سامنے آ سکے۔ 2. تیل سے مالامال مشرق وسطی کے خطے میں خوف اور وحشت کی منطق کا ایجاد ہونا امریکہ کی جانب سے اس اسٹریٹجک خطے کی سیکورٹی کو بحال کرنے کے بہانے تھانیدار کی حیثیت سے یہاں موجودگی کا بہترین جواز فراہم کر سکتا تھا۔ القاعدہ جیسی تنظیم ہی وہ اہم ہتھکنڈہ تھا جو مغربی قوتوں کو ان مقاصد کے حصول میں مرکزی کردار ادا کر سکتا تھا اور ایک ایسی دہشت گرد تنظیم ہونے کے ناطے جسکی لاتعداد شاخیں پورے خطے میں پھیلی ہوئی تھیں، خطے کے ممالک کو خوفزدہ کرنے کا باعث بن سکتی تھی۔ افغانستان پر امریکہ کی فوجی یلغار بھی اس سازش کا حصہ تھا جسکا مقصد مشرق وسطی میں امریکی موجودگی اور اثر و رسوخ کو بڑھانا تھا۔ 3. یورپی ممالک میں روز بروز بڑھتی ہوئی اسلامی سوچ اور تفکر سے مقابلے کی ضرورت اور دین مبین اسلام کے تیزی سے پھیلاو پر مغرب کی پریشانی باعث بنے کہ مغربی قوتیں بین الاقوامی سطح پر اسلام کو بدنام کرنے کے منصوبے بنانے لگیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی القاعدہ تنظیم تھی جو اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا ذریعہ بن گئی۔ اسلام کے نام پر القاعدہ کی جانب سے دہشت گردانہ اقدامات باعث بنے کہ ایک طرف مغربی دنیا میں مسلمانوں کے خلاف دباو اور سختی میں شدید اضافہ ہو جائے اور دوسری طرف عالمی رائے عامہ کے نزدیک اسلام کا چہرہ بگاڑ کر پیش کیا جائے۔ 4. خطے کے ممالک میں القاعدہ کی موجودگی نہ فقط باعث بنی کہ خطہ امریکی فوجی مراکز کی جانب سے جدید ترین اسلحہ کے تجربات کی لیبارٹری میں تبدیل ہو جائے بلکہ خود خطہ بھی دنیا میں اسلحہ کی بڑی مارکیٹ بن گیا۔ امریکہ میں اسلحہ ساز کمپنیوں کا اثر و رسوخ اور اہم امریکی سیاسی مراکز پر اسلحہ ساز کمپنی مالکین کا کنٹرول باعث بنا کہ امریکہ خطے میں جنگ کی آگ بھڑکانے اور ممالک کو القاعدہ سے ڈرانے دھمکانے کے ذریعے انہیں زیادہ سے زیادہ امریکی اسلحہ خریدنے کی ترغیب دلائے اور اس طرح امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو عظیم مالی فائدے سے سرشار کر دے جو خطے کی عوام کے خون کے بدلے حاصل ہوا ہے۔ ان مقاصد کا حصول بھی خطے میں القاعدہ جیسی تنظیموں کی موجودگی کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس طرح سے القاعدہ امریکہ اور مغربی دنیا کے ہاتھ میں ایک کارڈ کے طور پر ظاہر ہوئی تاکہ یہ ممالک جب چاہیں اس کارڈ کو چل کر خطے میں اپنے مفادات کو حاصل کر سکیں۔ البتہ امریکہ ہمیشہ اس تنظیم کی خدمت کرنے میں بھی مصروف ہے جو انتہائی خفیہ انداز میں انجام پاتی ہے۔ عراق میں امریکہ کی جانب سے القاعدہ جنگجووں کی حمایت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حال ہی میں عراق کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ بصرہ کے جنوب میں واقع جیل سے القاعدہ کے 12 دہشت گردوں کو فرار کروانے میں امریکی فوجیوں کا بنیادی کردار تھا۔ یہ کمیٹی عراقی پارلیمنٹ کی جانب سے تشکیل پائی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں نے ان 12 القاعدہ دہشت گردوں کو جیل سے فرار کروانے کیلئے جو 2011 کے آغاز میں عراقی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ افراد کئی دہشت گردانہ اقدامات میں ملوث تھے جن میں 2010 میں بصرہ میں ہونے والا بم دھماکہ بھی شامل تھا۔
کیوں القاعدہ نے اسرائیل کے خلاف ایک حملہ بھی نہیں کیا؟
کسی بھی تنظیم یا تحریک کی امریکہ سے وابستگی کو جانچنے کا ایک بہترین معیار اسرائیل کے بارے میں اسکا موقف ہے۔ اسکی مزید وضاحت کیلئے نائن الیون کے واقعات میں امریکہ کے کردار کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر نیویارک کے جڑواں ٹاورز میں کام کرنے والے ہزاروں یہودیوں کا 11 ستمبر کے دن غیرحاضر ہونا اور اسکے نتیجے میں انکی جان بچ جانے کا واقعہ نہ ہوتا تو شائد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ خود امریکہ اس حادثے ملوث ہو سکتا ہے۔ یہ امر امریکہ میں پبلیکیشنز کی آزادی میں بھی قابل مشاہدہ ہے۔ امریکی اخبار اگرچہ اپنے حکام کے خلاف بڑی سے بڑی توہین آمیز بات لکھ سکتے ہیں لیکن اسرائیل یا امریکہ میں موجود صہیونیستی لابی کے خلاف ایک لفظ بھی لکھنے کی جرات نہیں کر سکتے۔ عراقی مصنف اور تجزیہ کار “منھل المرشدی” کے خیال میں القاعدہ خطے اور دنیا میں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کی محافظ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی وجہ سے القاعدہ نے اب تک مقبوضہ فلسطین میں ایک حملہ بھی نہیں کیا ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور القاعدہ کا آپس میں اسٹریٹجک تعاون:
اسرائیل اور القاعدہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ان دو دہشت گرد گروہوں کے درمیان کسی قسم کی کوئی دشمنی موجود نہیں اور دونوں امریکی حمایت سے برخوردار ہیں۔ بلکہ یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم اور القاعدہ نیٹ ورک کے درمیان کئی علاقائی اور عالمی ایشوز پر بہت عمدہ تعاون پایا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں ان ایشوز کی ایک بہترین مثال “شام” کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ لبنان کے سابق صدر جناب امیل لحود نے شام میں سیاسی تبدیلی لانے کیلئے اسرائیل اور القاعدہ کی مشترکہ کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے “القاعدہ کے نئے قائد ایمن الظواہری، اسرائیل صدر شیمون پرز اور امریکی نائب وزیر خارجہ جفری فلٹمین کا مشترکہ موقف یہ ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کو معزول ہو جانا چاہئے”۔ اس تین جانبہ تعاون کا بہترین نمونہ چند ہفتے قبل جمعہ کے روز دمشق میں شام کی سیکورٹی مراکز میں ہونے والے کئی بم دھماکے ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ دھماکے القاعدہ دہشت گردون نے لبنان سے شام میں داخل ہو کر انجام دیئے لیکن یہ دہشت گردانہ اقدامات غیرملکی انٹیلی جنس ایجنسیز کے تعاون کے بغیر ممکن نہ تھے۔ دہشت گرد تنظیم القاعدہ کی سرگرمیوں کا بغور جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تنظیم نے اپنی پوری تاریخ میں امت مسلمہ کی سربلندی اور عالمی استعماری قوتوں سے مقابلہ کرنے کیلئے ایک معمولی سا اقدام بھی انجام نہیں دیا۔ بلکہ برعکس، مغربی اور اسرائیلی مفادات کے حصول کیلئے خطے کے مسلمانوں کی قتل و غارت میں مصروف ہے۔

Comments are closed.