آیت اللہ علی خامنہ ای: عازمین حج کے نام پیغام میں مسلمانوں کے اتحاد,سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اسلام مخالف عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ترین سفارشات

Posted: 24/11/2011 in Advertise Religious, African Region, All News, Articles and Reports, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Religious / Celebrating News, Saudi Arab, Bahrain & Middle East, Survey / Research / Science News

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عازمین حج کے نام اپنے پیغام میں حج کے رموز کا ذکر کیا۔ آپ نے سرزمین وحی میں حاجیوں کی موجودگی کو بہترین موقعہ قرار دیا۔ قائد انقلاب اسلامی نے معروضی حالات کے تحت حج سے بھرپور استفادہ کئے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔ پیغام حج میں قائد انقلاب اسلامی نے مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید کی اور سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور اسلام مخالف عزائم کی نشاندہی کرتے ہوئے اہم ترین سفارشات کی ہیں۔ پیغام کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے؛
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ربّ العالمين وصلوات الله وتحياته على سيد الأنام محمد المصطفى وآله الطيبين وصحبه المنتجبين
اس وقت حج کی بہار اپنی تمام تر روحانی شادابی و پاکیزگی اور خداداد حشمت و شکوہ کے ساتھ آن پہنچی ہے اور ایمان و شوق سے معمور قلوب، کعبہ توحید اور مرکز اتحاد کے گرد پروانہ وار محو پرواز ہیں۔ مکہ، منا، مشعر اور عرفات ان خوش قسمت انسانوں کی منزل قرار پائے ہیں جنہوں نے “واذن فی الناس بالحج” کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے خدائے کریم و غفور کی ضیافت میں پہنچ کر سرفراز ہوئے ہیں۔ یہ وہی مبارک مکان اور ہدایت کا سرچشمہ ہے کہ جہاں سے اللہ تعالی کی بین نشانیاں ساطح ہوتی ہیں اور جہاں ہر ایک کے سر پر امن و امان کی چادر کھنچی ہوئی ہے۔ دل کو ذکر و خشوع اور صفاء و پاکیزگي کے زمزم سے غوطہ دیں۔ اپنی بصیرت کی آنکھ کو حضرت حق کی تابندہ آیات پر وا کریں۔ اخلاص و تسلیم پر توجہ مرکوز کریں کہ جو حقیقی بندگی کی علامت ہے۔ اس باپ کی یاد کو جو کمال تسلیم و اطاعت کے ساتھ اپنے اسماعیل کو قربانگاہ تک لے کر گئے، بار بار اپنے دل میں تازہ کیجئے۔ اس طرح اس روشن راستے کو پہچانئے جو رب جلیل کی دوستی کے مقام تک پہنچنے کے لئے ہمارے لئے کھول دیا گیا ہے۔ مومنانہ ہمت اور صادقانہ نیت کے ساتھ اس جادے پر قدم رکھئے۔
مقام ابراہیم انہیں آیات بینات میں سے ایک ہے۔ کعبہ شریف کے پاس ابراہیم علیہ السلام کی قدم گاہ آپ کے مقام و مرتبے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے، مقام ابراہیم در حقیقت مقام اخلاص ہے، مقام ایثار ہے، آپ کا مقام تو خواہشات نفسانی، پدرانہ جذبات اور اسی طرح شرک و کفر اور زمانے کے نمرود کے تسلط کے مقابل استقامت و پائيداری کا مقام ہے۔ نجات کے یہ دونوں راستے امت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ہم سب افراد کے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کی جرئت، بہادری اور محکم ارادہ اسے ان منزلوں کی طرف گامزن کر سکتا ہے جن کی طرف آدم سے لیکر خاتم تک تمام انبیائے الہی نے ہمیں بلایا ہے اور اس راستے پر چلنے والوں کے لئے دنیا و آخرت میں عزت و سعادت کا وعدہ کیا ہے۔ امت مسلمہ کی اس عظیم جلوہ گاہ میں، مناسب ہے کہ حجاج کرام عالم اسلام کے اہم ترین مسائل پر توجہ دیں۔ اس وقت تمام امور میں سرفہرست بعض اہم اسلامی ممالک میں برپا ہونے والا انقلاب اور عوامی قیام ہے۔ گذشتہ سال کے حج اور امسال کے حج کے درمیانی عرصے میں عالم اسلام میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو امت مسلمہ کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور مادی و روحانی عزت و پیشرفت سے آراستہ ایک روشن مستقبل کی نوید بن سکتے ہیں۔ مصر، تیونس اور لیبیا میں بد عنوان اور دوسروں پر منحصر ڈکٹیٹر تخت اقتدار سے گر چکے ہیں جبکہ بعض دوسرے ممالک میں عوامی انقلاب کی خروشاں لہریں طاقت و دولت کے محلوں کو نابودی و ویرانی کے خطرے سے دوچار کر چکی ہیں۔
ہماری امت کی تاریخ کے اس تازہ باب نے ایسے حقایق آشکارا کئے ہیں جو اللہ کی روشن نشانیاں ہیں اور ہمیں حیات بخش سبق دینے والے ہیں۔ ان حقایق کو اسلامی امہ کے تمام اندازوں اور منصوبوں میں مد نظر رکھا جانا چاہئے۔ سب سے پہلی حقیقت تو یہی ہے کہ جو اقوام کئی دہائیوں سے غیروں کے سیاسی تسلط میں جکڑی ہوئی تھیں ان کے اندر سے ایسی نوجوان نسل سامنے آئی ہے جو اپنے تحسین آمیز جذبہ خود اعتمادی کے ساتھ خطرات سے روبرو ہوئی ہے، جو تسلط پسند طاقتوں کے مقابلے پر آ کھڑی ہوئي ہے اور حالات کو دگرگوں کر دینے پر کمربستہ ہے۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ ان ملکوں میں الحادی فکر کے حکمرانوں کی ریشہ دوانیوں اور تسلط کے باوجود، دین کو مٹا دینے کی خفیہ و آشکارا کوششوں کے باوجود اسلام اپنے پرشکوہ اور نمایاں نفوذ و رسوخ کے ساتھ دلوں اور زبانوں کا رہنما بن گیا ہے اور دسیوں لاکھ کے مجمعے کی گفتار اور کردار میں چشمے کی مانند جاری ہے اور ان کے اجتماعات و طرز عمل کو تازگی اور گرمی حیات عطا کر رہا ہے۔ گلدستہائے آذان، عبادت گاہیں، اللہ اکبر کی صدائیں اور اسلامی نعرے اس حقیقت کی کھلی ہوئی نشانیاں اور تیونس کے حالیہ انتخابات اس حقیقت کی محکم دلیل ہیں۔ بلاشبہ اسلامی ممالک میں جہاں کہیں بھی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات ہوں گے نتائج وہی سامنے آئيں گے جو تیونس میں سامنے آئے۔
تیسری حقیقت یہ ہے کہ اس ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات نے سب پر یہ واضع کر دیا ہے کہ خدائے عزیز و قدیر نے اقوام کے عزم و ارادے میں اتنی طاقت پیدا کر دی ہے کہ کسی دوسری طاقت میں اس کا مقابلہ کرنے کی جرئت و توانائی نہیں ہے۔ اقوام اسی خداداد طاقت کے سہارے اس بات پر قادر ہیں کہ اپنی تقدیر کو بدل دیں اور نصرت الہی کو اپنا مقدر بنا لیں۔
چوتھی حقیقت یہ ہے کہ استکباری حکومتیں اور ان میں سر فہرست امریکی حکومت، کئی دہائیوں سے مختلف سیاسی اور سیکورٹی کے حربوں کے ذریعے خطے کی حکومتوں کو اپنا تابع فرمان بنائے ہوئے تھی اور دنیا کے اس حساس ترین خطے پر بزعم خود اپنے روز افزوں اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی تسلط کے لئے ہر طرح کی رکاوٹوں سے محفوظ راستہ بنانے میں کامیاب ہو گئی تھیں، آج اس خطے کی اقوام کی نفرت و بیزاری کی آماجگاہ بنی ہوئي ہیں۔
ہمیں یہ اطمینان رکھنا چاہئے کہ ان عوامی انقلابوں کے نتیجے میں تشکیل پانے والے نظام ماضی کی شرمناک صورت حال کو تحمل نہیں کریں گے اور اس خطے کا جیو پولیٹیکل رخ قوموں کے ہاتھوں اور ان کے حقیقی وقار و آزادی کے مطابق طے پائے گا۔ ایک اور حقیقت یہ ہے کہ مغربی طاقتوں کی منافقانہ اور عیارانہ طینت اس خطے کے عوام پر آشکارا ہو چکی ہے۔ امریکا اور یورپ نے جہان تک ممکن تھا مصر، تیونس اور لیبیا میں الگ الگ انداز سے اپنے مہروں کو بچانے کی کوشش کی لیکن جب عوام کا ارادہ ان کی مرضی پر بھاری پڑا تو فتحیاب عوام کے لئے عیارانہ انداز میں اپنے ہوٹوں پر دوستی کی مسکراہٹ سجا لی۔ اللہ تعالی کی روشن نشانیاں اور گراں قدر حقایق جو گذشتہ ایک سال کے عرصے میں اس خطے میں رونما ہوئے ہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں اور صاحبان تدبر و بصیرت کے لئے ان کا مشاہدہ اور ادراک دشوار نہیں ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود تمام امت مسلمہ اور خصوصا قیام کرنے والی اقوام کو دو بنیادی عوامل کی ضرورت ہے:
اول: استقامت کا تسلسل اور محکم ارادوں میں کسی طرح کی بھی اضمحلال سے سخت اجتناب۔ قرآن مجید میں اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے اللہ کا فرمان ہے ” فاستقم کما امرت و من تاب معک و لا تطغوا” اور ” فلذلک فادع و استقم کما امرت” اور حضرت موسی علیہ السلام کی زبانی ” و قال موسی لقومہ استعینوا باللہ و اصبروا، ان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبتہ للمتقین” قیام کرنے والی اقوام کے لئے موجودہ زمانے میں تقوی کا سب سے بڑا مصداق یہ ہے کہ اپنی مبارک تحریک کو رکنے نہ دیں اور خود کو اس وقت ملنے والی (وقتی) کامیابیوں پر مطمئن نہ ہونے دیں۔ یہ اس تقوی کا وہ اہم حصہ ہے جسے اپنانے والوں کو نیک انجام کے وعدے سے سرفراز کیا گيا ہے۔
دوم: بین الاقوامی مستکبرین اور ان طاقتوں کے حربوں سے ہوشیار رہنا جن پر ان عوامی انقلابوں سے ضرب پڑی ہے۔ وہ لوگ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ نہیں جائیں گے بلکہ اپنے تمام تر سیاسی، مالی اور سیکورٹی سے متعلق وسایل کے ساتھ ان ممالک میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کے لئے میدان میں اتریں گے۔ ان کا ہتھیار لالچ، دھمکی، فریب اور دھوکہ ہے۔ تجربے سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ خواص کے طبقے میں بعض ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن پر یہ ہتھیار کارگر ثابت ہوتے ہیں اور خوف، لالچ اور غفلت انہیں شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کی خدمت میں لا کھڑا کرتے ہیں۔ نوجوانوں، روشنفکر دانشوروں اور علمائے دین کی بیدار آنکھیں پوری توجہ سے اس کا خیال رکھیں۔
اہم ترین خطرہ ان ممالک کے جدید سیاسی نظاموں کی ساخت اور تشکیل میں کفر و استکبار کے محاذ کی مداخلت اوراس کا اثر انداز ہونا ہے۔ وہ اپنی تمام توانائیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ نو تشکیل شدہ نظام، اسلامی اور عوامی تشخص سے عاری رہیں۔ ان ممالک کے تمام مخلص افراد اور وہ تمام لوگ جو اپنے ملک کی عزت و وقار اور پیشرفت و ارتقاء کی آس میں بیٹھے ہیں، اس بات کی کوشش کریں کہ نئے نظام کی عوامی اور اسلامی پہچان پوری طرح یقینی ہو جائے۔ اس پورے مسئلے میں آئین کا کردارسب سے نمایاں ہے۔ قومی اتحاد اور مذہبی، قبایلی و نسلی تنوع کو تسلیم کرنا، آیندہ کامیابیوں کی اہم شرط ہے۔  مصر، تیونس اور لیبیا کی شجاع اور انقلابی قومیں نیز دوسرے ممالک کی بیدار مجاہد اقوام کو یہ جان لینا چاہئے کہ امریکا اور دیگر مغربی مستکبرین کے مظالم اور مکر و فریب سے ان کی نجات کا انحصار اس پر ہے کہ دنیا میں طاقت کا توازن ان کے حق میں قائم ہو۔ مسلمانوں کو دنیا کو ہڑپ جانے کے لئے کوشاں ان طاقتوں سے اپنے تمام مسائل سنجیدگي سے طے کرنے کے لئے ضروری ہے کہ خود کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کریں اور یہ اسلامی ممالک کے اتحاد، ہمدلی اور باہمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ عظیم الشان امام خمینی کی ناقابل فراموش نصیحت بھی ہے۔
امریکا اور نیٹو، خبیث ڈکٹیٹر قذافی کے بہانے کئی ماہ تک لیبیا اور اس کے عوام پر آگ برساتے رہے جبکہ قذافی وہ شخص تھا جو عوام کے جراتمندانہ قیام سے پہلے تک ان (مغربی طاقتوں) کے قریبی ترین دوستوں میں شمار ہوتا تھا، وہ اسے گلے لگائے ہوئے تھیں، اس کی مدد سے لیبیا کی دولت لوٹ رہی تھیں اور اسے بے وقوف بنانے کے لئے اس کے ہاتھ گرم جوشی سے دباتی تھیں یا اس کا بوسہ لیتی تھیں۔ عوام کے انقلاب کے بعد اسی کو بہانہ بنا کر لیبیا کے پورے بنیادی ڈھانچے کو ویران کرکے رکھ دیا۔ کون سی حکومت ہے جس نے نیٹو کو عوام کے قتل عام اور لیبیا کی تباہی جیسے المیے سے روکا ہو؟ جب تک وحشی اور خون خوار مغربی طاقتوں کے پنجے مروڑ نہیں دیئے جاتے اس وقت تک اس طرح کے اندیشے قائم رہیں گے۔ ان خطرات سے نجات، عالم اسلام کا طاقتور بلاک تشکیل دیئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مغرب، امریکا اور صیہونیت ہمیشہ کی نسبت آج زیادہ کمزور ہیں۔ اقتصادی مشکلات، افغانستان و عراق میں پے در پے ناکامیاں، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک میں عوام کے گہرے اعتراضات جو روز بروز وسیع تر ہو رہے ہیں، فلسطین و لبنان کے عوام کی جانفشانی و مجاہدت، یمن، بحرین اور بعض دوسرے امریکا کے زیر اثر ممالک کے عوام کا جراتمندانہ قیام، یہ سب کچھ امت مسلمہ اور بالخصوص جدید انقلابی ممالک کے لئے بشارتیں ہیں۔ پورے عالم اسلام اور خصوصا مصر، تیونس اور لیبیا کے باایمان خواتین و حضرات نے بین الاقوامی اسلامی طاقت کو وجود میں لانے کے لئے اس موقعہ کا بنحو احسن استعمال کیا۔ تحریکوں کے قائدین اور اہم شخصیات کو چاہئے کہ خداوند عظیم پر توکل اور اس کے وعدہ نصرت و مدد پر اعتماد کریں اور امت مسلمہ کی تاریخ کے اس نئے باب کو اپنے جاودانہ افتخارات سے مزین کریں جو رضائے پروردگار کا باعث اور نصرت الہی کی تمہید ہے۔
والسلام علی عباد اللہ الصالحین, سید علی حسینی خامنہ ای, 5 آبان 1390
29 ذیقعدہ 1432

Comments are closed.