Archive for the ‘Afghanistan & India’ Category

کارخانو بازار پشاور میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحہ کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔پشاور اور خیبر ایجنسی کی سرحدی حدود پر واقع مشہور کارخانو بازار میں موبائل فون سے مشابہت رکھنے والے پستول  صرف تیس ہزار روپے میں سر عام دستیاب ہیں۔ یاد رہے کہ کارخانو بازار میں افغانستان جانے والے نیٹو کنٹینرز کی اشیاء اور اسلحے کی بلیک میں خرید و فروخت بھی ہوتی ہے۔ انتہائی مہارت سے بنائے جانے والے موبائل نماء اس یورپی ساختہ پستول میں چار کارتوس راونڈز کے علاوہ اس کا اینٹنا فائر کرنے کے لئے پستول کی نالی اور موبائل فون کے کی پیڈ پر 5 تا 8 کے ہندسے ٹرایگر کا کام کرتے ہیں۔  ٹیم  نے کارخانو مارکیٹ کا دورہ کرکے اس مہلک ہتھیار کے بارے میں مختلف دکانداروں سے بات چیت کی۔ اسلحہ ڈیلرز و دکانداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ موبائل کی شکل و صورت والا پستول تو معمولی بات ہے یہاں تو ہر قسم کے ہتھیار مل جاتے ہیں، ہمیں جو بھی شخص یا گاہک پیسے دے ہم اسے یہ ہتھیار فروخت کرتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہیں یہ ہتھیار کون فروخت کرتے ہے تو ان کا جواب تھا کہ نیٹو کے کنٹینرز سے چھیننے والے اس اسلحہ اور دیگر سامان کو عام لوگوں سے لے کر انہیں بلیک میں فروخت کرتے ہیں۔  جب ان سے سوال کیا گیا کہ یہ مہلک اسلحہ کسی کی جان لے سکتا ہے اور اس سے ملک میں پہلے سے جاری ٹارگٹ کلنگ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے بال بچوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے۔ اسلئے وہ یہ کاروبار کر رہے ہیں۔ کارخانو مارکیٹ میں پنجاب اور سندھ سے آنے والے بعض خریداروں سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ہم یہاں یہ پستول تیس ہزار میں خرید کر پھر اسے لاہور اور کراچی میں پچاس تا ساٹھ ہزار میں فروخت کرکے اچھا خاصا منافع کما لیتے ہیں۔   جب ان سے پوچھا گیا کہ راستے میں پولیس یا سیکورٹی پر مامور اہلکار انہیں روک کر تلاشی نہیں لیتے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ موبائل کی شکل سے مشابہہ ہونے کی وجہ سے کسی کو شک تک نہیں ہوتا اور ہم اپنا کام آسانی سے کر لیتے ہیں۔

Advertisements

حزب وحدت کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی اداروں ہی نے افغانستان میں طالبان کا فتنہ بو کر طالبان دور حکومت میں بامیان اور مزار شریف میں ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کی۔حزب وحدت افغانستان کے سربراہ استاد محقق نے کوئٹہ میں اہل تشیع ہزاراہ قبیلے کے قتل عام کو پاکستانی ادارون کی ناکامی قرار دیا ہے۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے استاد محقق کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں اہل تشیع ہزارہ کا قتل عام روکنے کے لئے پاکستانی حکومت زبانی جمع خرچ کی بجائے عملی اقدام کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں نے چند ماہ قبل اپنے دورہ پاکستان میں پاکستان کے اعلی حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا تھا، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی ادارے اس قتل عام میں برابر کے شریک ہیں۔  انہوں نے کہا کہ پاکستانی اداروں ہی نے افغانستان میں طالبان کا فتنہ بو کر طالبان دور حکومت میں بامیان اور مزار شریف میں ہزارہ شیعہ کی نسل کشی کی، لیکن بعد میں وہی طالبان انہی اداروں کے دشمن بن کر پاکستان کے قومی سلامتی ادروں تک کو نشانہ بنا چکے ہیں، اسلئے ظالم کی سرپرستی کرنا آستین کے سانپ پالنے کے مترادف ہے۔

بھارتی عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقرر کردہ ایک تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ اسے دس برس قبل مسلمانوں کے خلاف ہونے والے بلووں میں بھارتی وزیراعلیٰ نریندر مودی کے ملوث ہونے سے متعلق شواہد نہیں ملے۔ منگل کے روز یہ بات بھارتی عدالت نے کہی۔ اس سے قبل حقوق انسانی کے کارکنان یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ سن 2002ء میں بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں کے خلاف خونریز حملے کیے گئے لیکن وزیراعلیٰ مودی نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اور مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام کے لیے مناسب انتظامات نہیں کیے۔ سن 2002ء میں ہونے والے ان حملوں میں تقریبا دو ہزار افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔ مودی پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر ان مسلمانوں کے خلاف حملے کرنے والے افراد کو گرفتار کر کے انصاف کے کٹہرے میں نہیں پہنچایا۔ بھارتی خبر رساں ادارے PTI نے بھارتی مجسٹیریل کورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ان حملوں میں مودی یا شکایت میں شامل دیگر 57 افراد کے خلاف ایسے ثبوت یا شواہد نہیں ملے، جن سے یہ ظاہر ہو کہ یہ افراد ان حملوں میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث تھے۔نریندر مودی ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے سن 2014ء کے انتخابات میں وزارت عظمیٰ کے ممکنہ امیدوار بھی قرار دیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق اس اعلان سے مودی کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان افراد کے خلاف شکایت گزار ذکیہ جعفری تھیں، جو کانگریس سے تعلق رکھنے والے سابقہ رکن پارلیمان احسان جعفری کی اہلیہ ہیں۔ احسان جعفری سن 2002ء میں ہونے والے ایک حملے میں مسلح گروہ کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں گجرات کی ایک ہاؤسنگ کالونی میں دیگر 68 افراد کے ہمراہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے قبل مودی کے وکلا ان الزامات کو ’بدنیتی‘ پر مبنی قرار دیتے آئے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب نریندر مودی ریاستی انتخابات میں چوتھی مرتبہ وزرات اعلیٰ کے لیے کھڑے ہونے والے ہیں۔ گجرات بھارت کی صنعتوں کی تعداد کے اعتبار سے دیگر ریاستوں سے اوپر ہے۔ اس ریاست میں رواں برس انتخابات ہوں گے۔ اس سے قبل پیر کے روز ایک بھارتی عدالت نے سن 2002ء کے حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 23 افراد پر فرد جرم عائد کی تھی۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ان حملوں میں شرکت کرتے ہوئے تقریبا دو درجن افراد کو ہلاک کیا تھا۔

واشنگٹن (آئی این پی) امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہاہے کہ امریکا کے پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں یہ ہمیشہ رہے اور مجھے خدشہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے، پاکستان اب بھی بھارت کو خطرہ سمجھتاہے جبکہ ہمیں اس موقف سے اختلاف ہے ، پاکستانی حکام اور اسامہ بن لادن کی محفوظ پناہ گاہ کے درمیان کسی رابطے کے کوئی شواہد نہیں لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کس طرح اس کمپاوٴنڈکے بارے میں لاعلم رہی؟ یہ معاملہ تشویش کاباعث ہے ،اسامہ کی ہلاکت کے بعددنیامحفوظ ہوگئی ہے۔ امریکی ٹی وی سی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیاکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی پیچیدہ ہیں یہ ہمیشہ رہے اورمجھے خدشہ ہے کہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بعض حوالوں سے ہمیں مشترکہ تشویش اور مشترکہ خطرہ درپیش ہیں۔ دہشت گردی سے پاکستان اوراس کے عوام کوبھی اسی طرح خطرہ لاحق ہے جس طرح کہ امریکا اور افغانستان کے عوام کو خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان خطرے کے تصور پراختلاف ہے مسئلہ ہے کہ پاکستان بھارت کوبڑاخطرہ سمجھتاہے جس کے نتیجے میں بعض اوقات ہمیں پاکستان سے مبہم پیغامات ملتے ہیں۔ اسامہ کے خلاف ایبٹ آبادآپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ہم نے پاکستان کواس کی اطلاع نہیں فراہم کی کیونکہ ہمیں خدشہ تھاکہ وہ یہ معلومات افشاء کردیں گے جس سے ہم اپنامشن پورانہیں کرپائیں گے۔

پشاور – علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔ پار ہوتی، مردان کے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ خودکش بمبار روئے زمین پر سب سے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ مرنے کے بعد انہیں نہ تو عام مسلمانوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہوتی ہے۔ مردان کے علاقہ پار ہوتی کے محلہ نیو اسلام آباد میں امام کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ انہیں رحمان اللہ کی حالت پر افسوس ہے جسے نماز جنازہ پڑھائے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔ 17 سالہ رحمان اللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں افغان اور اتحادی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا۔ رحمان اللہ کے والد غفران خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا اب تک غم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے رحمان اللہ کو اغوا کر کے اس کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے تھے۔ انہیں اپنے بیٹے کی لاش یا اس کی تدفین کا عمل دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا تاحال یقین نہیں ہے۔
عسکریت پسندوں کی گرفت سے آزاد ہونے والے بعض افراد
اسی علاقے کے ایک اور لڑکے سیف اللہ کو اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا جب طالبان نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مئی 2005 میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو فراج اللبی کی مردان سے گرفتاری سے پہلے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔اس کے والد نے بتایا کہ طالبان سیف اللہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے اور وہ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ دیگر افراد نے اس کے والد کو اپنے بیٹے کے بحفاظت جرمنی پہنچ جانے پر مبارک باد دی ہے۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر طالبان میرے بیٹے کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر لیتے تو وہ غسل، نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہ جاتا، جو کہ مسلمانوں کے لئے موت کے بعد اہم رسومات ہیں۔ پشاور کے علاقے داؤد زئی کے ایک امام اجمل شاہ نے واضح لفظوں میں ان رسومات کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے طالبان کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دینے کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بم دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو دھماکے سے اڑا کر بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے افراد کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ان کے تربیت کاروں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔
طالبان کے ذہنی خیالات بدلنے کے طریقے
طالبان کے بھرتی کار نیم خواندہ، بے روزگار نوجوانوں کو اغوا کرنے یا ہلانے پھسلانے کے بعد انہیں پراپیگنڈا مواد پڑھنے کو دیتے ہیں اور جہادی وڈیوز دکھاتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی پر کاربند ہو جائیں۔ وہ ان نوجوانوں کو یہ بات کبھی نہیں بتاتے کہ خودکش حملہ کرنے سے وہ اسلامی طریقے سے تدفین اور نماز جنازہ کی رسومات کے پیدائشی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ وہ قرآن میں جنت میں جانے کی آیات کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں۔ شاہ نے جذباتی انداز میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے کہ خودکش حملے کرنے والے نوجوانوں کے خیال میں وہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں انہیں خدا کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں۔ خدائی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے خودکش بمبار بننے کا انتخاب کرنے والے افراد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ بھرتی کار نوجوانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے ہدف بنائے جانے والے افراد کو “کافر” قرار دیتے ہیں اور انہیں موت کی سزا سنانے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ تربیت کار اپنے لڑکوں کی گمشدگی پر غمگین خاندانوں کو بتاتے ہیں کہ وہ “شہید” ہو چکے ہیں۔
خودکش بمباروں کا شرمناک انجام
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ حادثات و ہنگامی صورت حال کے سربراہ ڈاکٹر شراق قیوم نے بتایا کہ حکام خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بننے والے افراد کی جسمانی باقیات کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی کارکن ڈی این اے کے ذریعے ناموں کی شناخت ہونے کے بعد پہلے دفنائے گئے افراد کو قبر سے نکال کر دوبارہ دفن کرتے ہیں۔ تاہم خودکش بمباروں کی جسمانی باقیات کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پورے پاکستان میں جاری رواج کے حوالے سے کہا کہ ہم خودکش بمباروں کی باقیات کو کبھی دفن نہیں کرتے، انہیں فورنزک معائنوں کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر قیوم نے کہا کہ خودکش بمبار جنازے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کی کارروائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خودکش بمباروں کی باقیات کی یہ توہین اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ پاکستان میں تو ایسے افراد کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو بیرون ملک انتقال کر گئے تھے اور ان کی لاشیں وطن واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ شبقدر کے رہائشی رحیم اللہ نے کہا کہ خودکش بمبار کا کردار اختیار کرنا اسلام چھوڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ رحیم اللہ کا 19 سالہ بیٹا قاری نقیب اللہ ایک خودکش بمبار تھا جس نے مارچ 2011 میں افغانستان کے شہر قندھار میں اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 10 فوجی جاں بحق ہو گئے تھے۔ چار سدہ کے علاقے سرخ ڈھیری کا رہائشی واحد اللہ جنوری 2008 میں لاپتہ ہو گیا۔ دو ماہ بعد طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس کے بزرگ والد جمعہ گل کو مطلع کیا کہ ان کا “شہید” بیٹا جنت میں چلا گیا ہے۔ والد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ایک دن علی الصبح طالبان نے جب مسجد میں داخل ہو کر مجھے یہ خبر سنائی تو پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میری ناپسندیدگی کے باوجود وہ مجھے مبارک بادیں دیتے رہے مگر میں اپنے بیٹے کے اس اقدام پر اب بھی لعنت ملامت کر رہا ہوں۔ واحد اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کا سوگ تنہا ہی منایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنا رحم دلی کی ایک اہم نشانی ہے جس کا اظہار نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں نے بھی کیا تھا مگر میں انتہائی بدقسمت ہوں کہ میرے اکلوتے بیٹے کی موت پر کسی شخص نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لوگ خودکش حملوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی نے بھی میرے ساتھ تعزیت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اموات والدین کے لئے تکلیف کا باعث ہیں اور انہیں بالکل یہ امید نہیں ہے کہ اللہ خود کو دھماکے سے اڑانے اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے بیٹوں پر کوئی رحم کرے گا۔ جمعہ گل نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آوروں کے لئے کوئی شخص بھی “اللہ اس پر رحمت نازل کرے” یا “اس کی روح کو سکون پہنچائے” جیسے رحم دلانہ الفاظ نہیں کہتا جس سے ان کے اہل خانہ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں خود کشی حرام ہونے کے باوجود وہ لوگ جو خود کشی کرتے ہیں رشتہ داروں سے رسم غسل، نماز جنازہ اور دفن ہوتے ہیں- لیکن خود کش بمبار جو دوسروں کو مارتے ہیں ان کو کویئ قبول نہي کرتا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رسومات کی تردید ہوتی ہے، شاہ نے کہا خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو تمام زندگی ایک اور دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے اور وہ ان کی قبر کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دوست رشتہ دار مغفرت کی دعا کرنے کے لئے نہیں جا سکتے

نئی دہلی: بھارتی قومی سلامتی کے سابق مشیر برجیش مشرا نے کہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اپنا ذہنی تواز ن کھو چکے ہیں اور انہیں ریٹائرمنٹ تک جبری رخصت پر بھیج دینا چاہیے۔ برجیش مشرا سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر تھے۔ آرمی چیف کے حالیہ تنازع پر ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں برجیش مشرا نے کہا کہ جنرل وی کے سنگھ اب تک کے سب سے برے آرمی چیف ہیں، جس طرح کا  رویہ انھوں نے رکھا وہ کوئی آرمی چیف نہیں رکھ سکتا۔ انھوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اگر جنرل وی کے سنگھ کو برخاست نہیں کیا جاتا ہے تو اس سے دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں اکتیس مئی تک جبری رخصت پر بھیج دینا چاہیے۔ جنرل وی کے سنگھ اکتیس مئی کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔ جنرل وی کے سنگھ کے فوجی گاڑیاں کلیر کرنے پر چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کے انکشاف اور وزیراعظم کو دفاعی سازو سامان کی کمی سے متعلق لکھے گئے خط نے بھارت میں ہلچل مچادی تھی جس میں انہوں نے فوج کے پاس ہتھیاروں اور ساز و سامان کی کمی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ مسٹر سنگھ کا کہنا ہے کہ خط افشا کرنے میں ان کا ہاتھ نہیں ہے اور اس طرح کے خط کو ظاہر کرنا ملک کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔ تاہم برجیش مشرا نے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ایسی حساس نوعیت کی دستاویزات افشا نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کے دفتر کا کوئی افسر ایسا کرنے کی جرات کر سکتا ہے۔ اس لیے اگر خود جنرل وی کے سنگھ نے ایسا نہیں کیا تو پھر ان کے کسی دوست نے ایسا کیا ہوگا۔ چند روز پہلے ہی فوج کے سربراہ نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ انہیں ہتھیاروں کے سودے بازی میں چودہ کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس کی تصدیق وزیر دفاع اے کے انتھونی نے بھی کی تھی لیکن بعض وجوہات کی بنا پر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس پر برجیش مشرا نے کہا کہ کارروائی نہ کرنے کے لیے وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ دونوں ذمہ دار ہیں۔

لندن: لکشمی میتھل اور اس کا خاندان 13.5 بلین پاؤنڈ کے ساتھ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں دوسری بار بھی پہلے نمبر پر برقرار رہے۔ ایشیئن میڈیا اینڈ مارکیٹنگ گروپ کی جانب سے جاری کردہ ایشیاء کے امیر ترین شخصیات کی فہرست میں لکشمی میتھل اور ان کا خاندان اپنی مجموعی آمدنی میں دو بلین پاؤنڈ کمی کے باوجود بھی ایشیاء کا پہلا امیر ترین شخص برقرار رہے ہیں۔ فہرست کے مطابق ہنذو جیس دوسرا اور ویدانت گروپ کے چیئرمین انیل اگروال بالترتیب تیسرے نمبر پر رہے۔

کراچی: بھارتی فوج میں رشوت اسکینڈل نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکمراں پارٹیوں کے ارکان لوک سبھا اور ارکان راجیہ سبھا نے اپنی قیادت سے سوالات شروع کردیئے ہیں جبکہ وزیردفاع نے بھی اس معاملے پرصدرپرتیبھاپاٹل سے ملاقات کی ہے، خصوصی ذرائع سے معلوم ہواہے کہ آرمی چیف وی کے سنگھ کی صدر جمہوریہ آفس میں جمعہ کے روز طلبی ہوگئی ہے جبکہ ہفتہ کے روز پرائم منسٹر نے بھی آرمی چیف کو طلب کیا ہے۔ ادھر اپوزیشن نے آرمی چیف کی تقرری پر اپنے اعتراضات کو حکمراں پارٹی کے سامنے دہرایا ہے،کہا جارہا ہے کہ جب سونیا گاندھی کی طرف سے وی کے سنگھ کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو اپوزیشن رہنما ایل کے ایڈوانی نے اس پر اعتراض کیاتھا اورکہا تھاکہ وہ بھارتی فوج کیلئے بدنما داغ ثابت ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر جمہوریہ پرتیبھاپاٹل نے وزیر دفاع کو بھی جمعرات کے روز بلایا تھا اور طویل دورانئے کی ملاقات میں آرمی چیف کے رشوت معاملہ پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ادھر سی بی آئی کے سربراہ نے جمعرات کے روز صدر جمہوریہ کو بھارتی آرمی چیف کی طرف سے ملنے والی دستاویز دکھائی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کے آئے دن کے بیانات نے وزارت دفاع اور وزیر دفاع کو مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کیلئے اتوار کے روز پرائم منسٹر نے نامزد آرمی چیف کو پرائم منسٹر ہاؤس بلایا ہے تاکہ اس معاملے میں درست دستاویز پارلیمنٹ میں لاکر ایوان کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔

نئی دہلی: بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں غیر معیاری فوجی گاڑیوں کو کلیرکرنے پر 14کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ لابسٹ جو حال ہی میں فوج سے ریٹائر ہو چکا ہے اس نے انہیں کہا کہ اگر وہ فوج کے کچھ سامان کی خرید کو کلئیر کردیں تو وہ انہیں 14کروڑ روپے رشوت کے طور پر دے گا، جنرل سنگھ نے مزید بتایا کہ فوجی سامان میں 600غیر معیاری گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی کلئیرنس کے لئے انہیں معاوضہ کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے استعمال میں 7ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں جن کی خرید و فروخت کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔جنرل سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی اطلاع وزیر دفاع اے کے انتھونی کو بھی دے دی تھی

کنساس: افغانستان کے شہر قندھار میں 17 معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجی پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں۔امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز پر 11 مارچ کو قندھار میں اندھا دھند فائرنگ کرکے افغان شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت فورٹ لیون ورتھ بیس کنساس میں زیر حراست ہے۔ لیکن اب یہ کیس لوئس میک کورڈ بیس منتقل کردیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی امریکی فوجی پر مقدمہ چلانے کے مقام کا تعین کرنے کے اس عمل میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں جس کے بعد کورٹ مارشل کی اصل کارروائی شروع ہوگی

کابل : قندھار میں امریکی فوجی کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے افراد کے ورثا کو کو معاوضے دیے گئے ہیں۔برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق قبائلی بزرگوں کے مطابق امریکی فوج نے جان سے جانے والے ہر فرد کے وارث کو چھیالیس ہزار ڈالر اور زخمی ہونے والے فرد یا اس کے وارث کو دس ہزار ڈالر کے مساوی رقم ادا کی ہے۔مقتولوں اور زخمی ہونے والوں کے عزیزوں نے قندھار کے گورنر کے دفتر میں امریکی فوج اور نیٹو کی قیادت میں کام کرنے والی ایساف افواج کے اہلکاروں سے ایک نجی اجلاس میں ملاقات کی۔ان لوگوں کو بتایا گیا کہ جب11 مارچ کو ہونے والے اس سانحے کے ذمہ دار سارجنٹ بیلز کے خلاف کارروائی شروع ہو گی تو کچھ لوگوں کو گواہی دینے کے لیے امریکہ جانا پڑے گا جب کہ باقی گواہ ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شریک ہوں گے۔اس واقعے میں امریکی فوجی سارجنٹ بیلز نے گھروں میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں نو بچوں سمیت سولہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔صوبہ قندھار کے ڈسٹرکٹ پنجوان میں سارجنٹ بلاس کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی قبروں پر عام لوگ بھی فا تحہکے لیے آتے ہیں

واشنگٹن: بھارت نے رشوت سکینڈل میں اسرائیل کی اسلحہ ساز فرم ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ سمیت چھ فرموں پر دس سال کیلئے پابندی عائد کر دی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت نے اسرائیل کی سرفہرست اسلحہ بنانے والی فرم اسرائیل ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ کو دس سال کیلئے بلیک لسٹ کر دیا۔ بھارتی وزارت دفاع کی اسرئیلی فرم پر دس سال کے پابندی کے فیصلے پر اسرائیل ششدر اور پریشان ہوگیا ہے۔ بھارت نے اپنے ملک کے علاوہ سوئٹزر لینڈ، روس اور سنگاپور کی پانچ فرموں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بھارت نے ان فرموں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے معاہدہ حاصل کرنے کیلئے بھارتی اہلکار کو رشوت دی۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے بھارتی الزامات کے خلاف اپنی فرم کے موقف کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی پابندی کا جواب دینے کیلئے وہ فرم سے مشاورت کرے گا۔ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کیلئے بھارت ایک اہم ترین مارکیٹ ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دو ہزار نو میں رشوت اسکینڈل میں ملوث ہونے پر بھارت نے چھ فرموں پر دس برس کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارت نے اپنی دو فرموں پر بھی پابندی عائد کی ہے، ان فرموں پر پابندی سی بی آئی کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے بعد بھارتی وزارت دفاع نے عائد کی۔ بھارت نے دو ہزار نو میں سات فرموں سے 1.5 ارب ڈالر کا معاہدے کو اس وقت روک دیا تھا جب پولیس نے وزارت دفاع کے اہم عہدے دار کو ان فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے مطابق بن لادن کے آخری ایام کے دوران اس کی بیویوں کے باہمی شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ وہ تیسری منزل پر اپنی چہیتی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ مسئلہ اس کی پہلی بیوی کے آنے کے شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر شوکت قادر نے اپنی ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کی منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ تک اس موضوع پر تحقیق کی اور انہیں وہ دستاویزات دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، جو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے پوچھ گچھ کے بعد تیار کی تھیں۔ دو مئی کے واقعے کے بعد شوکت قادر کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی آخری رہائش گاہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔ یہ تصاویر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی دکھائی گئیں۔ اس میں ایک تصویر میں مرکزی سیڑھیوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک اور تصویر میں کھڑکیاں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں لوہے کی باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔
گھر کا نقشہ
لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا۔ خاندان کے بقیہ افراد اس عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے، جس میں 2 مئی2011ء کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے اس رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی تفتیشی دستاویزات کے علاوہ القاعدہ کے زیر حراست ارکان کے انٹرویوز سے بھی مدد حاصل کی ہے۔ بن لادن 2005ء سے ایبٹ آباد کے اس تین منزلہ مکان میں رہ رہا تھا۔ اس گھر میں کل 28 افراد تھے، ان میں اسامہ بن لادن، اس کی تین بیویاں، آٹھ بچے اور پانچ پوتے پوتیاں تھے۔ بن لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے کم عمر اہلیہ امل احمد عبدالفتح السدا کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ اس کے بچوں کی عمریں 24 سے تین سال کے درمیان تھیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا خالد ( 24) دو مئی کے آپریشن میں مارا گیا تھا۔ اس آپریشن میں بن لادن کا پیغام رساں اور اس کا بھائی بھی مارے گئے تھے اور اُن کی بیویاں اور بچے بھی اس مکان میں رہائش پذیر تھے۔ 54 سالہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے معدے یا گردے کی شکایت تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ عمر سے بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات موجود تھے۔
بن لادن، امل اور خیرہ
یمنی نژاد امل کی شادی 1999ء میں بن لادن سے ہوئی تھی اور شادی کے وقت وہ 19برس کی تھی۔ بن لادن کی ایک اور اہلیہ سہام صابر بھی اسی منزل پر ایک الگ کمرے میں رہتی تھی اور یہ کمرہ کمپیوٹر روم کے طور بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول امل نے آئی ایس آئی کو بتایا کہ 2011ء میں بن لادن کی سب سے بڑی سعودی نژاد اہلیہ خیرہ صابر کی آمد کے بعد سے گھریلو معاملات میں گڑ بڑ پیدا ہونا شروع ہوئی۔ خیرہ صابر نے دورانِ تفتیش خود بھی تسیلم کیا کہ اس کا اپنا رویہ بھی بہت جارحانہ تھا۔ 2001ء میں خیرہ اپنے شوہر بن لادن کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ افغانستان سے ایران چلی گئی تھی۔ ایران میں اسے نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں تہران حکومت نے پاکستان سے ایک ایرانی سفارت کار کی رہائی کے بدلے اُسے سفر کی اجازت دے دی تھی۔ اس ایرانی سفارت کار کو شمالی علاقہ جات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امل نے دوران تفتیش بتایا کہ خیرہ فروری اور مارچ 2011ء کے درمیانی عرصے میں ایبٹ آباد پہنچی تھی۔ اس دوران بن لادن کا بڑا بیٹا خالد خیرہ سے بار بار پوچھتا رہا کہ وہ وہاں کیوں آئی ہے۔ امل کے بقول خیرہ نے جواب دیا کہ اسے اپنے شوہر کے لیے ایک آخری خدمت انجام دینی ہے۔ اس پر خالد نے فوراً ہی اپنے باپ کو بتا دیا کہ خیرہ اسے دھوکہ دینا یا چھوڑنا چاہتی ہے۔ شوکت قادر کے بقول ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ خیرہ صابر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا۔بن لادن کہاں کہاں روپوش رہا امل نے بتایا ہے کہ بن لادن افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں زیادہ عرصہ قیام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ 2002ء میں وہ کچھ عرصہ کوہاٹ کے قریب ایک علاقے میں روپوش رہا۔ اس دوران گیارہ ستمبر کا منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنے آیا تھا، جسے 2003 ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 2004 ء میں وہ اور خاندان کے کچھ افراد سوات کے قریب شانگلہ منتقل ہو گئے تھے۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 2004ء کے آخر میں یہ لوگ ہری پور اور 2005ء کے موسم گرما میں ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان میں آ گئے، جس کی تیسری منزل پر بن لادن امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ اسامہ کے کچھ اہل خانہ کا خیال ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔
آئی ایس آئی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول فوج میں ان کے ایک دوست نے انہیں بن لادن کی زیر حراست اہلیہ امل سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ تک رسائی دی تھی۔ قادر کے بقول انہوں نے بن لادن کے مکان کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے بقول اس گھر میں فرار ہونے کا کوئی خفیہ راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کوئی انتباہی نظام نصب نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تہہ خانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول ’’یہ گھر اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں وہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘‘۔

خانقاہ غوثیہ سرائے بالا میں زائرین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ہم ایک عرصہ دراز سے اپنی آزادی کی جدوجہد میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس راہ عزیمت میں ہم نے بیش بہا قربانیاں رقم کی ہیں۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے یکسوئی، اتحاد و اتفاق اور مکمل نظم و ضبط قائم رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ممبر و محراب، مساجد اور خانقاہوں کو منافرت اور تفرقہ بازی کا ذریعہ یا مرکز نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری چار نسلیں جدوجہد کی راہ میں قربان ہو چکی ہیں اور تحریک کے تئیں یکسوئی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق خانقاہ غوثیہ سرائے بالا میں زائرین کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس نے ہمیں روحانی قدروں کے ساتھ زندگی گزارنے کا سبق دیا ہے۔ یہ دین ایک عملی دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے اور گوشے میں ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔حضرت پیر کامل شیخ عبدالقادر جیلانی رہ نے ہمیں دکھا دیا کہ اللہ کا ہو کر کس طرح اور کیسے زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ حضرت شیخ کامل کی پاک زندگی سے ہمیں یہی درس ملتا ہے اور آج ہمیں بھی یہاں یہ عہد کرنا ہو گا کہ چاہے کچھ بھی ہو ہم اپنے ان روحانی پیروں کے فرمودات سے منہ نہیں موڑیں گے۔محمد یاسین ملک نے جملہ مسالک کے ذمہ داروں اور جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب ہمارا اللہ ایک، ہمارا نبی  ایک، ہمارا کعبہ ایک، ہمارا قرآن ایک ہے تو ہم کیونکر ایک دوسرے کے خلاف ہرزہ سرائیاں کرتے پھرتے ہیں۔ کیا ہم سب کو اپنے نبی آخر زمان (ص)  کا وہ حکم یاد نہیں ہے جو اپنے آخری خطبے میں آپ (ص) نے ہمیں دیا تھا۔ کیا آپ (ص) نے نہیں فرمایا تھا کہ نمازوں، روزوں اور حج جیسی اعلیٰ ترین عملوں سے بھی بڑھ کر آپس میں اتحاد و اتفاق کا عمل بہتر اور ضروری ہے

بھارت کی ایک عدالت نے قتل کے مقدمے میں ملوث دو اطالوی فوجیوں کو جیل بھیجنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے جیل میں مراعات کے لیے ان کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ اس مقدمے کی سماعت پیر کو بھارت کی جنوبی ریاست کیرالہ کی ایک عدالت میں ہوئی۔ اطالوی فوجیوں نے انہی مراعات کی درخواست کی تھی، جو اٹلی میں ملٹری کو جیل میں حاصل ہوتی ہیں، تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ بھارتی قانون کے مطابق جیل میں ایسی سہولتیں نہیں دی جا سکتیں۔ دونوں فوجیوں پر دو مچھیروں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا الزام ہے، جنہیں دراصل قزاق سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا تھا۔ اطالوی فوجی گزشتہ ماہ تیل بردار ایک جہاز کی سکیورٹی پر تھے، جس وقت انہوں نے مچھیروں کی کشتی پر فائرنگ کی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس واقعے نے بھارت اور اٹلی کے سفارتی تعلقات کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔ روم حکومت کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا جبکہ نئی دہلی حکومت کا اصرار ہے کہ اس مقدمے کا فیصلہ بھارت قانون کے تحت ہونا چاہیے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ Guilio Terzi نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے بھارت کا دورہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فوجیوں پر اطالوی عدالت میں مقدمہ چلنا چاہیے۔تاہم نئی دہلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ہلاکتیں ایک بھارتی کشتی پر ہوئی ہیں اس لیے مقدمہ بھی بھارت میں چلنا چاہیے۔ اٹلی نے کیرالہ ہائی کورٹ میں بھی ایک علیحٰدہ پٹیشن دائر کی ہے، جس میں دونوں فوجیوں Massimiliano Latorre اورSalvatore Girone کے خلاف مقدمہ فوری طور پر خارج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ پیر کو چیف جیوڈیشل مجسٹریٹ اے کے گوپا کمار نے کہا کہ دونوں اطالوی شہریوں کو کیرالہ کے ریاستی دارالحکومت تھیرو انت پورم کی سینٹرل جیل بھیج دیا جائے۔ اعلیٰ پولیس اہلکار اجیت کمار نے اے ایف پی کو بتایا: ’’اطالوی شہریوں کو جیل میں دوسرے قیدیوں سے الگ رکھا گیا ہے اور انہیں ہر روز ایک گھنٹے کے لیے ملاقاتوں کی اجازت بھی دی گئی ہے۔‘‘ آئندہ دو ہفتوں میں ان کی عدالت میں پھر سے پیشی متوقع ہے۔ پولیس اہلکار الیگزینڈر جیکب نے کہا کہ ان اطالوی فوجیوں نے جیل میں ایئرکنڈیشنڈ کمرے اور چوبیس گھنٹے سکیورٹی کا مطالبہ کیا تھا۔ جیکب نے کہا: ’’عدالت نے ان کی یہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں لیکن انہیں ایک خصوصی کمرہ دیا گیا ہے۔ بھارتی جیلوں میں کسی کو دی جانے زیادہ سے زیادہ لگژری سہولت یہی ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ جنرل اسمبلی میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے مختلف آپریشنز کے دوران آٹھ ہزار کشمیریوں کو ماورائے قانون مختلف عقوبت خانوں میں قید کررکھا ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں 2700 گمنام قبریں دریافت ہوئی ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق ان قبروں میں مدفون افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے جس سے ثابت ہوا کہ یہ تمام افراد مقامی تھے جن کو بھارت کی سیکورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کا لیبل لگاکر قتل کیا۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اس رپورٹ نے جمہوریت کے دعویدار بھارت کا مکروہ چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب کر دیا ہے۔قیام پاکستان سے لے کر اب تک کشمیری قوم چکی کے دو پاٹوں میں پس رہی ہے ۔ بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور 58 برس تک پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دلوانے کے لئے ہر بین الاقوامی فورم پر آواز بلند کرتا رہا لیکن سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے دوسرا ، تیسرا ، چوتھا ، پانچواں اور چھٹا آپشن سامنے لاکر پاکستان کے 58 برسوں سے قائم استصواب رائے کے اصولی موقف کو دھندلا کر رکھ دیا۔ رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے ،،دانشوروں،، نے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دے کر پوری کر دی۔ سابق صدر پرویز مشرف اگر ایک فون کال پر امریکہ کے آگے ڈھیر ہوگیا تھا تو آج جمہوریت کی چھتری تلے کشمیر کے مستقبل سے کھلواڑ کرنے والے ،،زعمائ،، نے بغیر فون کال کے ہی بھارت کے سابقہ تمام گناہ معاف کرتے ہوئے اسے دنیا کے تقریباً دوسو ممالک میں سے پسندیدہ ترین ملک قرار دے دیا ہےاقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے جنرل اسمبلی میں پیش کردہ حالیہ رپورٹ ،،دیگ کے چند دانوں،، کی طرح ہیں جس سے پوری دیگ کی حالت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایسی ہسٹری شیٹ کے حامل ملک کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کا عمل پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخ کا سب سے بڑا یوٹرن قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ اشارے بھی موجودہیں کہ بھارت کو پسندیدہ ملک امریکی دبائو پر قرار دیا جارہا ہے اگر اس بات میں ذرہ بھر بھی صداقت ہے تو یہ اور بھی افسوسناک اور شرمناک فعل ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے والے دانشور کہتے ہیں کہ یہ اقدام تجارت کو فروغ دینے کے لئے اٹھایا گیا ہے اگر ان دانشوروں کی یہ منطق مان بھی لیا جائے تو اس میں کیا شبہ ہے کہ یقینا بھارت اور پاکستان کے مابین ہونے والی کسی بھی قسم کی تجارت کا توازن ہمیشہ بھارت کی ہم سے کئی گنا بڑی معیشت اور انڈسٹری کے حق میں ہی رہے گا۔ دریں اثناء بھارت تجارت کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو غیر محسوس طریقے سے سردخانے میں ڈال کر پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے اوپر گرفت کو مزید کمزور کر دینا چاہتا ہے حکومت پاکستان کو چاہیے کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی پالیسی پر نظرثانی کرے اور برابری کی سطح پر تجارت کو یقینی بنائے۔ مزید برآں حکومت پاکستان کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کی طرف سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر بھی سیاسی او ر سفارتی سطح پر پُرزور آواز احتجاج بلند کرے

واشنگٹن . .. . . .. . گزشتہ برس مئي ميں سي آئي اے کے خفيہ آپريشن ميں مارے جانے والے القاعدہ چيف اسامہ بن لادن کے سمندر برد کيے جانے کي اطلاع پر سواليہ نشان لگ گيا ہے.امريکي سيکورٹي ايجنسي اسٹارفورٹ کي خفيہ انٹيلي جنس فائلوں سے حاصل کردہ اي ميل انکشافات کے مطابق القاعدہ چيف کو مارے جانے کے بعد اسلامي طريقے سے سمندر برد کرنے کي خبروں ميں صداقت نہيں بلکہ اسامہ کي لاش کو امريکي رياست ڈيلويئر کے فوجي ائير بيس بھجواديا گيا تھاجہاں سے بعد ميں لاش کو معائنے اور رپورٹ کے ليے مير لينڈ کے امريکي افواج کے ميڈيکل انسٹيوٹ لايا گيا تھا.اي ميل سے يہ بھي معلوم ہو اہے کہ لاش کو سي آئي اے نے خصوصي طيارے سے امريکا پہنچايا

رباط : اسلامی تعاون تنظیم کے زیراہتمام تنظیم برائے سائنس وثقافت“آئیسیسکو” نے افغانستان میں قابض امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذرآتش کرنے کی جسارت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے نسخوں کو آگ لگانا ایک غلیظ اور گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے افغانستان میں قابض امریکی فوج عالم اسلام اور مسلمانوں سے نظریاتی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق “آئی سیسکو” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اڈے میں قرآن پاک کا نذرآتش کیا جانا پرلے درجے کی اسلام دشمنی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے گستاخ امریکی فوجیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو فوجیوں پرعائد ہوتی ہے، جو تواتر کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر حملوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسلامی تنظیم برائے سائنس وثقافت نے امریکی حکومت، صدر براک اوباما، اقوام متحدہ، او آئی سی اورعرب لیگ سمیت انسانی حقوق کی تمام عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ قران پاک کی توہین کے مرتکب گستاخ امریکی فوجیوں کیخلاف ٹھوس تحقیقات شروع کریں اور صحائف کو جلانے کی پاداش میں ایسے قومی جنگی مجرموں کیخلاف عالمی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے ایک فوجی اڈے پرامریکی فوجیوں کی اس غلیظ حرکت پربھی امریکیوں کو ذرا شرمندگی نہیں ہے اور وہ ان گستاخان اسلام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو بچانے والوں کا بھی وہی بدترین انجام ہو گا جو قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کی مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔امریکی فوج اس سے قبل اسی طرح کی گھناؤنی حرکات عراق اور دیگرملکوں میں کرتی رہی ہے اور وہ اسرائیلی فوجیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے جوفلسطین میں اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں میں ملوث ہیں

سربراہ شیعہ علماء کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں۔اپنے ایک  بیان میں علامہ سید ساجد علی نقوی کے مرکزی ترجمان نے نیٹو فورسز کی جانب سے افغان دارالحکومت کابل میں قرآن مجید نذر آتش کئے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک واقعہ سے امت مسلمہ کے مذہبی جذبات کو سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ اہل مغرب کی جانب سے اس سے قبل بھی ایسی شرمناک حرکات کا ارتکاب کیا جا چکا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ امت مسلمہ کے مذہبی جذبات اور مقدسات کی توہین کے عادی ہیں جبکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور آزادیوں کے نام نہاد علمبردار بنے پھرتے ہیں ان کے قول و فعل کا تضاد درحقیقت عالم اسلام کے خلاف ان کے تعصب اور تنگ نظری کا عکاس ہے یہی وجہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کے جذبات کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ ایک اخباری بیان میں ترجما ن نے گذشتہ روز پشاور میں کوہاٹ اڈے پر بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد کے جاں بحق ہونے‘ پشاور کے تھانے پر خودکش حملے کے نتیجے میں متعدد ہلاکتوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثنا مرکزی ترجما ن نے علی پور مظفر گڑھ میں ممتاز عالم دین علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوی پر قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبائی حکومت کو خبردار کیا کہ صوبہ بھر بالخصوص جنوبی پنجاب میں شرپسندوں اور دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور سانحہ خان پور کے بعد علی پور کا یہ واقعہ صوبہ میں بدامنی‘ افراتفری‘ شرانگیزی اور فتنہ و فساد کی نئی لہر کا آغاز ہے جس پر قابو پانے میں کسی قسم کی سستی اور غفلت ملک کی داخلی سلامتی کے لئے انتہائی مضر اور مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ سربراہ شیعہ علماء کونسل کے ترجمان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ پاراچنار کے دلخراش سانحہ کے بعد ملک کی تقدیر کے مالک و مختار عوام کی مایوسی اور بے چینی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کراچی ہو یا کوئٹہ‘ ڈیرہ اسماعیل خان ہو یا ہری پور‘ پاراچنار ہو یا خان پور عوام اپنے دکھوں کے مداوا اور جانی و مالی تحفظ کے لئے جائے امن اور پناہ کی تلاش میں ہیں اور صوبائی و مرکزی حکومتوں اور امن و امان کے ضامن اداروں سمیت اعلی عدلیہ کی جانب امید بھری نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور اپنے اندرونی کرب کو پرامن احتجاج اور سوگ کے انداز میں ظاہر کرکے یہ سوال کر رہے ہیں کہ آخر ملک کب تک مزید ایسے سانحات کا متحمل ہوسکتا ہے۔

افغانستان میں قرآن مجید کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی اور امریکہ کے خلاف احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔الجزیرہ کے حوالے  سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں قرآن مجید کی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں بے حرمتی  اور امریکہ کے خلاف احتجاج میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 27 ہوگئی ہے۔پورے افغانستان ميں قرآن پاک کي بے حرمتي کے خلاف آج پانچويں روز بھي مظاہرے جاری ہيں جبکہ مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کي تعداد27 ہوگئي ہے. مشرقي صوبوں لوگر، ننگرہار، وسطي صوبوں سري پل اور کئي دوسرے علاقوں ميں احتجاجي ريلياں نکالي جارہي ہيں ،قندوز ميں مظاہرين نے اقوام متحدہ کے دفتر کا گھيراؤ کرليا اس موقع پر پوليس اورمظاہرين ميں جھڑپيں بھي ہوئي ہیں

مرکزی دفتر سے جاری بیان میں مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دینے والوں کے چہروں سے نقاب اتر چکا ہے، اب مسئلے کا واحد حل نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا ہے۔مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ امین شہیدی نے بگرام ائیر بیس میں امریکی اور دیگر غیر ملکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک اور دیگر اسلامی کتب نذر آتش کرنے کے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک مکروہ ترین فعل اور ناقابل معافی جرم قرار دیا ہے۔ مرکزی دفتر سے جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ  امریکی اور دیگر مغربی ملکوں کے فوجیوں نے قرآن پاک کے نسخوں سمیت دیگر اسلامی کتب کو نذر آتش کر کے تمام عالم اسلام کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوس اور رنج کی بات یہ ہے کہ اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر گولے برسائے گئے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگرچہ کچھ قرآنی نسخوں کو مکمل طور پر جلنے سے بچا لیا گیا ہے لیکن مغربی افواج کے اس گھناؤنے جرم کو کسی طور بھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کو مذہبی اخوت اور رواداری کا سبق سکھانے والوں اور نام نہاد مہذب معاشروں سے تعلق رکھنے والوں کے چہروں سے نقاب اٹھ چکا ہے اور ان کی اصل شکل اور رنگ سب کے سامنے آ چکا ہے۔ دراصل اسی طرح کے لوگ انتہا پسند اور دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ انھوں نے کہا یہ فوجی تو دور جاہلیت سے بھی بدتر تہذیب کی نمائندگی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی مغربی ممالک ساری دنیا کو انتہا پسندی کے خاتمے کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف ان کا اصل چہرہ یہ ہے کہ یہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی دینی کتب کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ایم ڈبلیو ایم کے رہنما کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں نیٹو افواج کے سربراہ امریکی جنرل جان ایلن کی محض معافی کافی نہیں۔ اب مسئلے کا واحد حل صرف یہ ہے کہ نیٹو افواج فوری طور پر افغانستان سے نکل جائیں، تاکہ یہاں پر افغان عوام اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکیں۔

حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔الیوم السابع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ لبنان نےایک بیان میں افغانستان میں امریکہ کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے تقاضا کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اس مجرمانہ اقدام کے خلاف احتجاج کریں ۔ حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اور صہیونیوں نے مسلمانوں کے مقدسات کی توہین کرکے ایک ارب مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا ہے۔ حزب اللنے کہا ہے کہ امریکی فوجیوں کا مجرمانہ اقدام تمام اخلاقی، سیاسی اور بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے۔ واضح رہے کہ امریکی فوجیوں نے کل افغانستان میں قرآن مجید کے کئی نسخوں کو آگ ل‍گا کر جلا دیا تھا جس کے بعد امریکہ کے خلاف افغانستان اور دیگر ممالک میں مظاہرے جاری ہیں ادھر امریکی فوج کے افغانستان میں سربراہ اور امریکی وزیر دفاع پنیٹا نےامریکی فوجیوں کےاس  وحشیانہ اقدام پر معافی مانگی ہے۔

افغان جنگ ميں عبد الحکيم کو طالبان کمانڈروں ،افغان حکومت اور اتحادي افواج ميں يکساں قابل احترام شخصيت کے طور پر جانا جاتا ہے.وہ کسي بھي سانحے،دھماکے ،يا جنگي جھڑپ کے بعد فوراً جائے وقوعہ پر پہنچ کرعسکريت پسندوں کي لاشيں اٹھاتاہے ،مناسب ضابطے کي کارروائي کے بعد لاشوں کولواحقين تک پہنچاتا ہے، لاوارث لاشوں کو اسلامي طريقے سے دفن کرديتا ہے ،قندھار ميں اس نے عسکريت پسندوں کے لئے قبرستان بنايا ،گزشتہ چھ برس ميں وہ127لاشوں کو ان کے خاندانوں يا ساتھيوں کے حوالے کرچکاہے.طالبان کمانڈر کسي بھي دھماکے فوراًبعد اسي سے رابطہ کرتے ہيں. قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں ہر لاش کے کوائف ميں’طالب‘ لکھا جاتا ہے،گزشتہ برس ہر ماہ وہاں150لاشيں لائي جاتي تھي.امريکي اخبار’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق ہزاروں افرادافغان جنگ کا نشانہ بن چکے ،ان ميں کئي افراد حملوں اور دھماکوں کا شکار ہوئے، عبد الحکيم عسکريت پسندوں ،جنگ جوو?ں کي لاشوں،دھماکے کے بعد بکھري باقيات کو لواحقين تک پہچانے کے کام سے پہچانا جاتا ہے . ايسا کوئي واقعہ پيش آئے تو طالبان کمانڈ ان سے رابطہ کرتے ہيں تو حکيم کي طرف سے ايک ہي جواب ہوتا ہے کہ ہم لاشيں تلاش کر رہے ہيں. جنوبي افغانستان ميں جنگ کے دوران سب سے زيادہ ہلاکتيں ہوئيں . وہ امريکي حکام،افغان حکومت اور طالبان سے اجازت نامے کے بعد وہ ٹرنکوں،لکڑي کے بکسوں والے تھيلوں ميں ڈال کر اپني پيلي ٹيکسي ميں رکھ کر پہنچاتا ہے .خودکش بمبار کي باقيات کے لئے وہ چھوٹے ڈبوں کو استعمال کرتا ہے.حکيم کے مطابق اسے اس سے کوئي غرض نہيں کہ وہ کون ہے ليکن وہ ہر لاش کو اسلامي طريقے سے دفن کرتے ہيں .قندھار کے ميرويس مردہ خانے ميں نيٹو کے فوجيوں کي لاشوں کوا مريکي جھنڈے جب کہ عسکريت پسندوں کي لاشوں کو لکڑي کے تابوت ميں ساتھ ساتھ رکھا جاتا ہے. ريڈ کراس نے اس مردہ خانے ميں ان لاشوں کي باقيات کے تمام کوائف رکھنے کيلئے ايک رجسٹر رکھا ہوا ہيجس ميں ہر عسکريت پسند کے لئے صرف ’طالب‘ استعمال کيا جاتا ہے، حکومت اور عسکريت پسندوں دونوں ميں حکيم عزت کي نگاہ سے ديکھے جاتے ہيں.

کابل: افغانستان میں اتحادی افواج کی جانب سے قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کی ناپاک جسارت کیخلاف امریکی فوجی اڈے کے باہر زبردست احتجاج کیا گیا ہے جبکہ نیٹو نے معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم جاری کرتے ہوئے معافی مانگ لی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان پولیس نے بتایا ہے کہ منگل کو کابل کے نزدیک بگرام امریکی فوجی اڈے کے باہر ہزاروں کی تعداد میں افغان شہری جمع ہوگئے جنہوں نے فوجی اڈے کو گھیرے میں لے لیا اور پٹرول بم داغے جس کے نتیجے میں داخلی دروازے پر آگ بھڑک اٹھی مظاہرین اتحادی افواج کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف سخت احتجاج  کر رہے تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔ ایک مقامی پولیس اہلکار کے مطابق دو ہزار سے زائد افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بھی مظاہرے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اضافی نفری علاقے میں ممکنہ پرتشدد واقعات سے نمٹنے کیلئے اضافی نفری بھجوادی گئی ہے جو کہ کابل سے تقریباً ساٹھ کلو میٹر دور واقع ہے۔ ادھر جلال آباد روڈ پر ضلع پل چرخی میں واقع بڑے نیٹو فوجی اڈے کے نزدیک بھی  پانچ سو کے قریب افراد کا ایک ہجوم نکل آیا اور واقعہ کی مذمت اور نعرے بازی کی۔ پولیس ترجمان اشمت استاتکزئی کے مطابق مظاہرین کنٹرول میں ہیں اور تشدد کا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ماضی میں بھی افغانستان میں اس قسم کے مظاہرے رونما ہوچکے ہیں گزشتہ سال اپریل میں ایک امریکی پادری سے فلوریڈا میں قرآن پاک کے نسخے نذر آتش کرنے کیخلاف پرتشدد مظاہروں کے دوران اٹھارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسری جانب نیٹو نے اس واقعہ پر معافی مانگ لی ہے۔ نیٹو افغانستان میں نیٹو کے امریکی کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے واقعہ کی مکمل تحقیقات کا حکم  دیدیا ہے۔ ان کا کہنا  تھا کہ جب بھی ہم اس قسم کی کارروائیوں کا سنیں گے تو ہم اس کیخلاف فوری کارروائی کرینگے۔ انہوں نے ان رپورٹس کی جامع تحقیقات کرائی جائیں گی کہ آیا بگرام ائر بیس پر فوجیوں نے ایسی کوئی حرکت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کسی بھی کارروائی پر میں افغان صدر اور افغان حکومت اور سب سے اہم افغان عوام سے معافی مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں مجھے یقین ہے کہ ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہوگا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے افغانستان میں دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران اپنے 1883 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے، گزشتہ روز جاری کی گئی فہرست میں افغانستان میں جاری جنگ کے دوران تازہ ترین ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تفصیلات جو جاری کی گئی ہیں ان میں انٹیلی جنس، آرٹلری اور دیگر یونٹوں سے تعلق رکھنے والے فوجی شامل ہیں، امریکہ کی قیادت میں ایک لاکھ 30 ہزار غیر ملکی فوجی دس سال سے افغانستان میں طالبان عسکریت پسندی کیخلاف لڑ رہے ہیں اور فوجی ذریعے سے مسائل حل نہ ہونے پر اب طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔

افغانستان میں پڑنے والی شدید ترین سردی کی لہر کے باعث چالیس بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔مرنے والے زیادہ تر بچے کابل شہر کے ان کیمپوں میں رہ رہے تھے جو طالبان اور نیٹو فورسز میں لڑائی کے باعث نقل مکانی کرکے آنے والوں کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔ رات کے وقت انتہائی کم درجہ حرارت میں یہ بچے سردی سے بچا ئوکے لیے مناسب سہولیات نہ ہونے کے باعث ٹھٹھرتے رہے۔ اب ان کیمپوں تک کچھ مدد پہنچائی جا رہی ہے تاہم سرد موسم میں خیموں میں رہنے والے ان پناہ گزینوں کے لیے افغان حکومت کی جانب سے مدد کے سست اقدامات پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ کابل شہر کے اطراف میں ایسی چالیس خیمہ بستیاں موجود ہیں۔ کابل میں برف کے بوجھ سے خمیے جھکے ہوئے ہیں اور کئی بچے شدید سردی میں بری طرح ٹھٹھر رہے ہیں۔ زیادہ تر بچے بخار اور سانس کی تکالیف میں مبتلا ہیں۔ مہاجرین کے لیے حکومتی وزیر نے کہا کہ جو ہوا مجھے اس کا بہت افسوس ہے، خاص طور پر بچوں کے ساتھ۔ وہ افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ایک آزاد افغان رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ غیر ذمہ دارانہ رویہ عام ہو گیا ہے اور ایسا ہر سال ہو رہا ہے۔ حکومتی اداروں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔ یہ سب منصوبہ بندی کی کمی کے باعث ہوا ہے۔ ہم قدرتی آفات کے سامنے ناکارہ ثابت ہو رہے ہیں۔ فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کے مطابق رواں ہفتے کے اوائل میں سردی کی شدید لہر کے باعث اٹھائیس بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ سرد موسم سے متاثر ہونے والے بچوں میں زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر کے بچے ہیں جو شدید سردی کے باعث خطرے میں ہیں۔

ہندوستان کی ایک تیل کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدتی رہے گي۔ایسار آئيل کمپنی کے ایگزیکیٹوی ڈائرکٹر للت کمار گپتا نے کہا کہ ان کی کمپنی بدستور اسلامی جمہوریہ ایران سے تیل خریدتی رہے گي۔ للت کمار گپتا کے مطابق ایران سے خریدا ہوا تیل گجرات میں واقع ایسار آئيل کی ریفائنری کی ضرورتیں پوری کرنے کےلئے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایران کے ساتھ تیل خریدنے کا معاہدہ کیا ہے اور دوہزار تیرہ تک ایران سے تیل خریدتے رہیں گے

لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس کا کہنا ہے کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں، افغان فورسز طالبان کیخلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کیساتھ تعلقات ہیں۔امریکی فوج کے ایک آفیسر نے امریکہ کے افغان مشن کے حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے اسے شرمناک قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس افغانستان میں جاری نام نہاد جنگ سے متعلق امریکی شہریوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈینیل ڈیوس جو افغانستان میں ایک سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں انہوں نے باضابطہ طور پر افغانستان میں امریکی جنگ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور امریکی مشن کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ امریکی مسلح افواج کے ایک جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ڈیوس نے کہا کہ میں نے امریکی فوجی قیادت کی طرف سے افغانستان میں زمینی صورتحال سے متعلق کوئی باضابطہ بیانات نہیں دیکھے کہ جس سے اصل تصویر سامنے آتی ہو۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے سینیٹرز جنگ کے اصل حقائق کی پردہ پوشی کرتے رہے ہیں اور افغانستان میں اتحادی افواج کو درپیش مشکلات کے حوالے سے کوئی بات سامنے نہیں لائی جاتی۔ 
انہوں نے کہا کہ ہر ایک سطح پر ناکامی دیکھی ہے۔ ان کے بقول ہمارے مزید کتنے فوجی اس مشن میں ہلاک ہونگے یہ کامیابی نہیں جبکہ ہماری فوجی قیادت سات سالوں سے زائد عرصہ سے امید افزاء بیانات دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکام عوام کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہیں، ملک کے بڑے حصے پر طالبان کا قبضہ ہے۔ انہوں نے افغان فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ طالبان کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے ہیں یا ان کے طالبان کے ساتھ تعلقات ہیں۔

پاکستان میں افغانستان سفارتخانہ کے ایک اہلکار کا کہنا ہےکہ افغانستان کے سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث دو افراد کو پاکستان نے گرفتار کرلیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں افغانستان سفارتخانہ کےایک اہلکار نے کابل میں نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں کہا ہےکہ افغانستان کے سابق صدر اور افغان امن کونسل کے سربراہ برہان الدین ربانی کے قتل میں ملوث دو افراد کو پاکستان نے گرفتار کرلیا ہے۔ اس نے کہا کہ افغانستان نے ربانی کے قتل میں ملوث 5 افراد کی فہرست پاکستان کو دی تھی جس میں پاکستان نے دو افراد کو گرفتار کرلیا ہے اس نے کہا کہ ان افراد کی نشاندہی ربانی کے قتل میں گرفتار ایک افغانی بنام حمید اللہ نے فراہم کی تھی اس نے کہا کہ جب تک تین باقی ماندہ افراد گرفتار نہ ہوجائیں اس وقت تک ان کے نام نہیں بتائے جاسکتے

متنازعہ بھارتی مصنف سلمان رشدی کو گزشتہ ہفتے جےپور ميں منعقدہ ادبی ميلے ميں حصہ لينے سے روک ديا گيا تھا۔ تاہم اب اس واقعہ کو بھارت ميں سياسی پہلو سے ديکھا جا رہا ہے۔بھارت ميں جاری تنازع اس وقت شروع ہوا جب جے پور ميں منعقدہ ساتويں ادبی ميلے ميں متنازعہ مصنف سلمان رشدی کی شرکت کی خبريں سامنے آئيں۔ وہاں مقيم مسلمانوں نے اس پر احتجاج کيا۔ اس حوالے سے رشدی نے اپنی جان کو لاحق خطرے کے باعث ادبی ميلے ميں شرکت سے انکار کرديا۔ ليکن بعد ميں انہوں نے خطرے کو علاقائی پوليس کی جانب سے من گھڑت کہانی ٹھہراتے ہوئے اپنے خلاف سازش قرار ديا۔ اطلاعات کے مطابق، رشدی اس ميلے ميں ويڈيو کے ذريعے ايک خطاب بھی کرنے والے تھے جسے بعد ميں سيکورٹی خدشات کے باعث ميلے کی انتظاميہ نے پروگرام سے خارج کر ديا تھا۔ بھارت ميں موجود تجزیہ کار اس پورے معاملے کو سياسی نقطہ نظر سے ديکھ رہے ہيں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ رشدی کو جان بوجھ کر ادبی ميلے سے دور رکھنا، آزادی رائے اور آزادی خيال کے خلاف ہے تو کچھ لوگ اس اقدام کو محض ايک سياسی چال بتا رہے ہيںٹائمز آف انڈيا کے ايک بلاگ ميں مصنف پرشنت پانڈے نے سلمان رشدی کے معاملے کو کانگريس کی بزدلی قرار ديتے ہوئے اسے بھارت کے ليے دنيا بھر ميں شرمناک بھی کہا۔ ان کا خیال ہے کہ چند قدامت پسند مسلمان گروہوں کی دھمکيوں کے پيش نظر، کانگريس حکومت کا يہ اقدام يوپی ميں ہونے والے انتخابات ميں مسلمان طبقوں کے ووٹ حاصل کرنے کے ليے تھا۔ اپنے بلاگ ميں پرشنت پانڈے نے بھارتی عوام کو مجموعی طور پر قدامت پسند قرار ديا۔ ان کا يہ بھی خیال ہے کہ رشدی کا معاملہ اپنی نوعيت کا آخری معاملہ نہيں، مستقبل ميں بھی جب کبھی مذہب سے جڑا مسئلہ سامنے آئے گا، بھارتی حکومتيں اسی قسم کے فيصلے کريں گی۔ ٹائمز آف انڈيا کے ايسوسی ايٹ ايڈيٹر جَگ سوريا نے لکھا ہے کہ يہ معاملہ سلمان رشدی کے ليے تو ايک معمولی رکاوٹ کی مانند ہے، ليکن يہ ان تمام لوگوں کے ليے بہت بڑی جيت ہے جو اس قسم کے معمولی جرائم ميں ملوث ہيں۔ ان کے بلاگ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے يہ سوال اٹھايا کہ اگر سلمان رشدی کی کتاب متنازعہ ہے اور اس سے کسی کی مذہبی دل آزاری ہوتی ہے تو کتاب يا شخصيت کو پزيرائی دينا کيوں ضروری ہے۔ ايک اور بلاگر منہاز مرچنٹ نے بھی کانگريس حکومت کو قصور وار ٹھہرايا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ حاصل کرنے کے ليے حکومت نے سيکولرازم پر سمجھوتہ کيا۔ ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کے چند نمائندگان اور حکومتی اہلکاروں کے اس باہمی تعاون والے سمجھوتے کے نتيجے ميں اسلام کا نام خراب ہوتا ہے جبکہ دراصل اسلام ايک آزاد خيال مذہب ہے۔دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کی ويب سائٹ پر شائع ہونے والے ايک بلاگ ميں لکھا گیا ہے کہ رشدی کے حوالے سے پيدا ہونے والی صورتحال سے عالمی طور پر، ايک ابھرتی ہوئی جمہوری طاقت کی بھارتی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ بلاگر کا ماننا ہے کہ اس طرح جعلی انٹيلیجنس رپورٹوں کی من گھڑت کہانی بنانے سے علاقائی اور ملکی حکومت کی بدنامی ہوئی ہے۔ برطانيہ ميں مقيم بھارتی مصنف سلمان رشدی اپنی 1988ء ميں شائع ہونے والی کتاب The Satanic Verses کے بعد دنيا بھر کے مسلمانوں کے غصے اور تنقيد کا شکار بنے۔ مسلمانوں کے مختلف دھڑوں کے مطابق، اس کتاب ميں لکھی باتيں اسلام اور نبی کے ليے توہين آميز ہيں۔ اس حوالے سے ايران کے آیت اللہ خمینی نے 1989ء ميں سلمان رشدی کے قتل کا ايک فتوی بھی جاری کيا۔ 1991ء ميں اس کتاب کا جاپانی زبان ميں ترجمہ کرنے والے ہٹوشی اگراشی اور اطالوی ترجمہ کرنے والے ايٹورے کيپريولے، دونوں افراد تشدد کا شکار بنے اور ان پر حملے ہوئے۔ سلمان رشدی کا کہنا ہے کہ انہيں آج تک دھمکيوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھارت کو آمادہ کر لیا ہے کہ وہ پاکستان کو ایران کی نسبت سستی گیس فراہم کرے گا جبکہ امریکہ نے اپنی طرف سے بھی گیس دینے کی پیش کش کر دی ہے۔امریکہ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو روکنے کیلئے پاکستان کو سستی گیس فراہم کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ ایران سے گیس حاصل کرنے کی بجائے ترکمانستان سے گیس حاصل کرنے کے منصوبے پر توجہ دی جائے۔ ذرائع کے مطابق پاک ایران گیس منصوبہ رکوانے کیلئے پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر اور دیگر سفارتکار سرگرم ہو گئے ہیں اور انھوں نے بجلی و توانائی کے شعبے سے متعلق پاکستانی حکام سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتکار پاکستانی حکام کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایرانی گیس پاکستان کیلئے بہت مہنگی ہے، کیونکہ ایرانی گیس کی قیمت فی ایم ایم بی ٹی یو 12 ڈالر ہے، جبکہ ایل این جی 18ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے، اس کے مقابلے میں امریکی حکام پاکستان کو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن منصوبے پر کام کیلئے دباو ڈال رہے ہیں، اس منصوبے پر بات چیت کیلئے ہی پاکستانی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اس وقت بھارت میں موجود ہیں۔ امریکی حکام نے پاکستان میں گیس کے موجودہ بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مدد فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی ادارے یو ایس ایڈ کے حکام نے وزارت پیٹرولیم کے عہدیداران سے ملاقات کرتے عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو ساڑھے 4 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ایل این جی فراہم کر سکتے ہیں، یہ وہ قیمت ہے جو 4 یا 5 سال پہلے عالمی مارکیٹ میں تھی۔ امریکی سفارتکاروں نے پاکستان کو اپنے پاس سے بھی گیس فروخت کرنے کی پیشکش کی ہے اور اس کی قیمت 4 ڈالر ایم ایم بی ٹی یو اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات 3 سے 4 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو کا عندیہ دیا ہے۔ ادھر بھارت سے بھی اطلاعات ہیں کہ بھارت نے پاکستان کو ایران کی نسبت سستی گیس فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے اس حوالے سے پاکستانی وزیر توانائی ڈاکٹر عاصم حسین اور ان کے بھارتی ہم منصب نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان ایران سے گیس نہ لے تو بھارت اس کی مدد کر سکتا ہے اس حوالے سے آئندہ ہفتے تمام معاملات بھی طے کر لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے متعلق بلیو پرنٹ پاکستان کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے طالبان نے کسی دوسرے ملک کو آگاہ کیا ہے۔افغان طالبان نے امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے باضابطہ مذاکرات کی تفصیلات سے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے حکام طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں نظرانداز کیے جانے پر امریکا سے ناراض ہیں، دونوں ممالک نے پروفیسر برہان الدین کے قتل کے بعد تعطل کا شکار ہونے والی مشترکہ امن کوششوں کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے، جبکہ پاکستان میں طالبان دور کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی حمایت جبکہ پڑوسی ممالک کی اس عمل میں شمولیت کی شدید مخالفت کی ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ایک افغان عہدیدار نے بتایا کہ افغان طالبان نے قطر میں امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے متعلق بلیو پرنٹ پاکستان کو فراہم کر دیا ہے۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اپنے مذاکرات سے طالبان نے کسی دوسرے ملک کو آگاہ کیا ہے۔ افغان رہنما کے مطابق طالبان نے مذاکرات کی تمام تر معلومات کی فراہمی کے بعد پاکستان سے پوچھا ہے کہ اس کو کسی چیز پر اعتراض ہے؟ اس کی کیا ترجیحات ہیں؟ اس کے علاوہ افغان طالبان نے ان مذاکرات اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں حقانی نیٹ ورک کو مطلع کیا ہے۔ دوسری جانب ایک افغان سفارتکار نے بتایا کہ مذاکراتی عمل میں نظرانداز کئے جانے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے رہنمائوں نے مشترکہ امن کوششیں بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ سفارتکار کے مطابق افغان حکومت چاہتی ہے کہ صدر زرداری یا وزیر اعظم گیلانی کابل کا دورہ کریں

جماعت اسلامی کے امير کا منصورہ ميں مختلف وفود سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پانچ فروری کو کشميريوں کے ساتھ اظہار يکجہتی پورے جوش و خروش کے ساتھ منايا جائے گا۔جماعت اسلامی کے امير سيد منور حسن نے کہا ہے کہ پاکستان امريکی مفادات کے ليے اس کی ڈکٹيشن قبول نہ کرے۔ ان خيالات کا اظہار سيد منور حسن نے لاہور ميں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ ميں مختلف وفود سے گفتگو ميں کيا، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو انتہائی پسنديدہ ملک قرار دے کر اور قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر ايران کے بجائے بھارت سے ڈيزل اور پٹرول خريدنے کی تيارياں کی جا رہی ہيں۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ فروری کو کشميريوں کے ساتھ اظہار يکجہتی پورے جوش و خروش کے ساتھ منايا جائے گا۔

پیرس: فرانسیسی وزیر دفاع جیرار لونگ نے کہا ہے کہ افغانستان میں چار غیر مسلح فرانسیسی فوجیوں کا قاتل افغان سپاہی ماضی میں فوج سے فرار ہوگیا تھا اور وہ طالبان کے ایک درپردہ کارندے کے طور پر افغان فوج میں دوبارہ بھرتی ہوا تھا۔ اس اکیس سالہ افغان فوجی نے جمعے کے روز فائرنگ کر کے چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاک اور پندرہ کو زخمی کر دیا تھا۔ اس ملزم کے طالبان کا کارندہ ہونے سے متعلق فرانسیسی وزیر دفاع نے اپنا بیان اس واقعے کے ایک روز بعد کابل میں اپنے دورے کے دوران ایک افغان جنرل کی طرف سے بریفنگ کے بعد دیا۔ اس حملے کے بعد افغانستان میں فرانسیسی فوجیوں کی طرف سے افغان دستوں کی تربیت اور ان کے ساتھ مشترکہ عسکری کارروائیاں معطل کی جا چکی ہیں۔

لندن: سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے اور اس کی سالمیت کو دائو پر لگانے کیلئے منصوبہ بند سازشیں کر رہا ہے۔ برطانیہ میں ایک موقر روز نامہ سے انٹرویو کے دوران پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرنے کیلئے در پردہ سازشیں کر رہا ہے اور ان کا مقصد ہے کہ پاکستان کو کمزور کر کے اس پر غلبہ پایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں غلبہ اور تسلط کی جو تشویش سامنے آتی ہے اسکا مطلب ہیں کہ کوئی ملک دوسرے ملک پر چڑھائی کر کے اس ملک پر قبضہ کرے۔ پرویز مشرف نے کہا کہ بھارت اگر اسی طرح کی پالیسی پر گامزن رہا تو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کبھی بہتری نہیں آسکتی۔ پرویز مشرف نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور اقتدار کے دوران بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے تھے جبکہ پاکستان نے اپنی پالیسی میں لچک دکھا کر بھارت کو اشارہ دیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ تمام حل طلب مسائل کے حل کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا بھارت اور پاکستان اگرچہ نزدیکی ہمسایہ ہیں تاہم اس کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تلخیوں میں کمی آنے کے بجائے روز بہ روز ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی سب سے بڑی وجہ بھارت کی ہٹ دھرمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا خواہشمند نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس مسئلے پر اپنی پالیسی پاکستان پر واضح کر رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھول کر بھارت اور پاکستان کو مستقبل کے بارے میں سوچنا چاہئے اور تمام حل طلب مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے ایک دوسرے کے قریب تر آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو بر صغیر میں قیام امن کی فضاء قائم ہونے کے ساتھ ساتھ دونوں ملک عالمی سطح پر ایک کلیدی رول ادا کرنے کے اہل ہونگے۔

جے پور (آن لائن)بھارت کے شہر جے پور میں سالانہ ادبی میلے میں معلون سلمان رشدی کی شرکت کا پروگرام بظاہر حکومت کے دباوٴ میں منسوخ کر دیا گیا ہے۔ سلمان رشدی کی آمد کے خلاف بعض مذہبی مسلم تنظیمیں احتجاج کر رہی تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت سلمان رشدی کو بھارت نہ آنے دے۔جے پور ادبی میلے کی ویب سائٹ پر نیا شیڈو ل جاری کیا گیا ہے اس میں سلمان رشدی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

بھوپال… بھارتي رياست مدھيہ پرديش ميں امام حسين کے چہلم کے سلسلے ميں نکالے جانے والے جلوس ميں بھگدڑ مچنے سے 12 افراد جاں بحق ہوگئے. جْواراٹاو?ن کے علاقے حسين ٹيکري کے مقام پررات کے وقت چہلم کے جلوس کے داخلي راستے پر بڑي تعدادميں لوگ اندر داخل ہونے کے لئے جمع تھے..پوليس نے ان لوگوں کے پيچھے دھکيلنے کي کوشش کي جس سے بھگدڑ مچ گئي اور حادثہ پيش آيا. 6 خواتين سميت 10 افراد ہلاک قدموں تلے آکرہلاک ہوگئے..ايڈيشنل سپريٹنڈنٹ آف پوليس کے مطابق دو مزيد افراد کي لاشيں حادثے سے کچھ فاصلے پر ملي ہيں جو ممکنہ طور پرسردي سے ٹھٹھر کرہلاک ہوئے ہيں.

کلکتہ…بھارت کے شہر کلکتہ ميں سرکاري اسپتالوں کے طبي امداد دينے سے انکار کے بعد ايک خاتون سڑک پر دو بچوں کي پيدائش کے بعد چل بسي ، بھارتي ميڈيا رپورٹس کے مطابق خاتون کے شوہر کا کہنا ہے کہ اس کي بيوي نے اسپتال لے جا نے کے دوران ہي ٹيکسي ميں جڑواں بچوں کو جنم ديا،وہ بچوں اوربيوي کو تشويشناک حالت ميں لے کر سرکاري اسپتالChittaranjan sishu seva sadan پہنچا ،جہاں ڈيليوري کيلئے بيوي کا نام لکھوايا تھا ،ليکن اسپتال عملے نے يہ کہہ کرانکار کرديا کہ ايسے کيسز کيلئے ان کے پاس سہولتيں موجود نہيں جس پر وہ اپني بيوي کو لے کردوسرے سرکاري اسپتال پہنچا،ليکن اسپتال عملے نے کہا کہ يہاں اس کي بيوي زيرعلاج نہيں رہي اس ليے وہ اُسے داخل نہيں کرسکتے،شوہر کا کہنا ہے کہ اس صورتحال ميں اُس کي بيوي دم توڑ گئي جبکہ بعد ميں بچوں کوسرکاري اسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں داخل کرليا گيا ،واقعے کيخلاف اُس نے مقامي پوليس اسٹيشن ميں رپورٹ درج کرادي ہے، جس پررياستي حکومت نے تحقيقات کا حکم ديديا ہے .

روس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔ایٹارٹاس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔روسی ذرائع کے مطابق اس رائے کا اظہار افغانستان کی قومی اسمبلی کے ساتھ تعاون سے متعلق روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے گروپ کے سیکرٹری ویاچیسلاو نِکراسوو نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پورے خطے پر کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے اوراس مقصد کیلئے وہ افغانستان میں دلچسپی رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روس  افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں کے قیام کا مخالف ہے۔

سرینگر; اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس انصاری نے اسکندر پورہ میں منعقد ہونے والی ایک مجلس حسینی ؑ سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ کربلا کے شہیدوں کے آفاقی پیغام اور تحریک حسینیت کو کسی خاص مکتب یا فرقہ تک محدود نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ پیغام کربلا ایک عالمگیر حیثیت رکھتا ہے اور جو بھی کوتاہ اندیش افراد حسینیت کو ایک خاص اور تنگ دائرے تک محدود رکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل خود بھی اس عظیم پیغام سے ناواقف ہیں۔ جعفریہ پریس کی رپورٹ کے مطابق اسکندرپورہ میں مجلس حسینی ؑ کا انعقاد کیا گیا تھاجس میں ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی اور شہدائے کربلا کی عظیم الشان قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے انہیں شاندار خراج عقیدت ادا کیا۔ اس موقعہ پر مولانا مسرور عباس نے مقامی آبادی خصوصاً اسکندرپورہ کے جوانوں کے جوش و جذبہ کو سراہتے ہوئے نظام ولایت کے تئیں ان کی عقیدت اور والہانہ وابستگی کو سلام پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ ان جوانوں کی تقلید میں علاقہ کے دیگر دیہات کے پڑھے لکھے جوان بھی آگے آکر اسی جذبہ کو پروان چڑھائیں گے اور طاغوت وقت کے مقابلے میں نظام ولایت کو تقویت بخشیں گے۔

بھارت میں شدید احتجاج کے بعد ایک روسی عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے ایک ترجمے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا کا روسی زبان میں ایک مشہور ترجمہ دراصل انتہا پسندانہ لٹریچر ہے، جو اس کے ماننے والوں کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کی مقدس ترین کتاب کے اس ترجمے کو بھی ممنوعہ کتابوں کی اُسی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جس میں اڈولف ہٹلر کی تحریر کردہ کتاب ’میری جدوجہد‘ شامل ہے۔  روس میں بھگود گیتا کا ترجمہ سن 1968 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں گیتا کے اصلی متن کے علاوہ اس پر سوامی پربھو پادا کی طرف سے کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔ سوامی پربھو پادا ’انٹر نیشنل ہرے کرشنا تحریک‘ ISKCON کے بانی تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اس کتاب کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ جون میں سائبیریا کے علاقے میں ہرے کرشنا تحریک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے سن 2004 اور 2005 میں اس تحریک پر ’نیشنل چیک‘ رکھنے کا کہا تھا۔ روس کے اخبار The Izvestia daily کے مطابق جس وقت عدالت نے فیصلہ سنایا،کمرہ عدالت ہرے کرشنا تحریک کے کارکنوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس تحریک کے ایک مقامی رہنما کا کہنا تھا، ’’ہم بغیر کسی بُغض کے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں‘‘۔ اس مقدمے کے آغاز سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں اتحادی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے مابین تعلقات ایک بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ’’ایسے جاہل اور غلط سمت میں جانے والے افراد کی کارروائی ہے، جو خاص طرح کے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مذہبی کتاب پر حملہ ہے، جو بھارت کی ’عظیم تہذیب کی اصل روح کی وضاحت‘ کرتی ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمان کا ایک اجلاس اس لیے معطل کرنا پڑ گیا تھا کہ اس بارے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی مظاہرین نے کولکتہ کے قریب روسی قونصل خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ سن 1997 میں بنایا جانے والا روس کا ایک متنازعہ قانون نہ صرف فعال مذہبی گروپوں کی رجسٹریشن بلکہ غیر ملکی مشنری کام کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

القاعدہ کی اعلیٰ قیادت ان کوششوں میں ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقے میں مختلف انتہاپسندوں کے گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کر کے امریکہ کے خلاف افغانستان میں جاری جنگ میں شدت پیدا کی جائے۔ اسامہ بن لادن کے بعد خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے نئے سربراہ ایمن الظواہری متاثر کن پروفائل کے حامل نہیں اور  اس تناظر میں دہشت گرد تنظیم القاعدہ ایک خلا کے ساتھ باقی رہے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اڑتالیس سالہ ابُو یحییٰ اللبی کی صورت میں ایک اعلیٰ لیڈر سامنے آیا ہے جو القاعدہ میں اسامہ بن لادن کی جگہ لے سکتا ہے۔ اللبی ان دنوں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں متحرک اور گروہوں میں منقسم طالبان کو متحد کرنے کی کوششوں میں ہے۔ابو یحییٰ اللبی نے سن 2005 میں بگرام کی انتہائی سکیورٹی والی امریکی جیل سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ابھی تک وہ امریکی ڈرون حملوں سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ وہ لیبیا میں بھی سن 1990 کی دہائی میں مقتول لیڈر معمر القذافی کے خلاف مسلح تحریک شروع کرنے کی ناکام کوشش کر چکا ہے۔اللبی نے 27 نومبر کے روز جنوبی وزیرستان کے مرکزی شہر وانا سے 15 کلو میٹر کی دوری پر واقع بڑے قصبے اعظم وارسک میں قبائلی علاقوں کے مختلف گروہوں کے ایک اجلاس کی صدارت کی تھی۔ اس اجلاس میں قبائلی انتہاپسند کم از کم اس پر راضی دکھائی دیتے ہیں کہ وہ متحد ہو کر ایک بینر کے تحت مسلح سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں۔ اس کے بعد محسود اور حقانی گروپ کے درمیان پانچ دسمبر کو بھی ایک اجلاس بلایا گیا لیکن اس میں کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آ سکی ہے۔اس میٹنگ میں اللبی نے قبائلی جنگی سرداروں پر زور دیا کہ وہ اپنے نظریاتی اور دوسرے اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہوتے ہوئے اپنی سرگرمیوں پر فوکس کریں تا کہ لادین قوتوں پر ضرب لگائی جا سکے۔ میٹنگ کا مقام پاکستان کے حامی جنگی سردار مولوی نذیر احمد کے کمانڈر شمس اللہ کا کمپاؤنڈ تھا۔ اس میٹنگ میں حقانی نیٹ ورک کے سراج الدین حقانی کے علاوہ شمالی وزیرستان کے طالبان کے اہم کمانڈر حافظ گُل بہادر بھی موجود تھے۔قبائلی علاقوں میں انتہاپسندوں کو دو زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک اچھے طالبان اور دوسرے برے طالبان کہلاتے ہیں۔ اچھے طالبان سے مراد وہ جنگی سردار اور ان کے لشکری ہیں جو افغانستان میں غیر ملکی فوجوں کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ برے طالبان میں تحریک طالبان پاکستان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اس تحریک نے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ حقانی گروپ اور حافظ گل بہادر کے انتہاپسندوں کے ساتھ بھی پنجہ آزمائی سے گریز نہیں کیا۔ اللبی اچھے اور برے طالبان کو ایک کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ نئی تنظیم میں دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک مسلمان عسکریت پسندوں کے گروپوں کو شامل کر کے ان کی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں پلان کیا جائے گا۔ شریک گروپوں نے افغان طالبان کے لیڈر ملا عمر کو اپنا سربراہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

 مسجد نور ایمان کے خطیب جمعہ مولانا مرزا یوسف حسین کی اہلیہ نرگس صاحبہ اور آیت اللہ عقیل غروی صاحب کے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے جس پر تمام  پاکستان میں بسنے والے شیعیان اہلبیت اور خاص کر کراچی کے مومنین دونوں رہبران ملت سے دل کی گہرائیوں سے تعزیت پیش کرتے ہیں۔ آیت اللہ عقیل غروی صاحب بھائی کے انتقال کے سبب واپس ہندوستان روانہ ہو گئے ہیں۔ جہاں وہ اپنے بھائی کی تجویر وتدفین شرکت کرین گے۔ نیز آیت اللہ نے کراچی میں اپنی تمام مصروفیات منسوخ کردی ہیں اور پروگراموں کی انتظامیاں سے آیت اللہ عقیل غروی صاحب نے انتہائی معزرت کی ہے، اس موقع پر تمام شیعیان اہلبیت سے مرحومیں کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ کی درخواست کی جاتی ہے۔

سرینگر;پولیس نے حریت کے دو لیڈران شبیر احمد شاہ اور آغا سید حسن کو سنیچر کے روز اُس وقت حراست میں لیا جب وہ  نصراللہ پورہ بڈگام کی طرف جارہے تھے جہاں ایک فحش ویڈیو فلم منظر عام پر آنے کے بعد صورتحال کشیدہ بنی ہوئی ہے۔اطلاعات کے مطابق شبیر شاہ سنیچر کو بڈگام گئے جہاں انہوں نے انجمن شرعی شیعان کے صدر آ غا سید حسن الموسوی سے ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے حالات پر کڑ ی نظر رکھنے اور شرپسندوں کے عزائم کو ناکام بنانے کی ضرورت پر زور دیااور دونوں فرقوں کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ مشترکہ طور پر شیعہ سنی برادری کومستحکم بنانے کی طرف دھیان دیںتا کہ شرپسندوں کی ریشہ دیوانیاں کامیاب نہ ہو نے پا ئیں ۔بعد ازں آ غاسید حسن اور شبیراحمد شاہ نصراللہ پورہ کیلئے روانہ ہو ئے تا کہ وہاں جا کر حالات کا صحیح جائزہ لے سکیں لیکن ٹکی پورہ بڈگام میں ہی ریاستی پو لیس نے دونوں رہنمائوں کو گر فتار کر لیا تا کہ وہ نصراللہ پورہ نہ جاسکیں ۔اس سلسلے میں ٹکی پورہ کے مقام پر پہلے سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور دونوں لیڈران جونہی وہاں پہنچے تو پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی اور دونوں کو گرفتار کرلیا۔اس دوران شبیر شاہ نے بڈگام میں ایک فحش ویڈ یو فلم کے منظر عام پر آ نے کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال پر اپنی گہر ی تشویش ظاہر کر تے ہو ئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ تحریک کے وسیع تر مفاد میں ریاست کی شیعہ سنی برادری کی عظیم روایت کو زک پہنچانے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہ ہو نے دیں ۔شاہ نے کہا کسی ایک برادری کے کسی بدکردارشخص کی بدکرداری کی سزا بدکردارشخص کو ملنی چا ہئے نہ کہ اس برادری کو جس کی طرف اسے منسوب کیا گیا ہو ۔شبیرشاہ نے عوام کو یاد دلایا کہ ماضی میں بھی تحریک دشمن عناصر نے شیعہ سنی فساد بر پا کر نے کی کئی بار کوششیں کی تھیں لیکن کشمیر کے حریت پسند مسلمانوں نے ہر بار انکی مزموم کوششوں کو ناکام بنا دیا تھا ،اسی طرح ّآ ج کی اس تحریک دشمن سازش کو بھی ناکام کیا جا نا چا ہئے ۔انہوںنے کہا کہ اسلام میں جس طرح فحاشی اور عریانیت جرم ہے ،اسی طرح اس کی تشہیرکرنا بھی جرم ہے ۔ادھر فریڈم پارٹی کا ایک وفدرنگہ حمام نو ہٹہ گیا جہاں طارق احمد بٹ جسے نو ہٹہ چوک میں زخمی کیا گیا تھا اور جو بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیاتھا ،کے لو احقین سے تعزیت کی

 

سرینگر; جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے سرپرست مولانا عباس انصاری نے کہا کہ اسکندرپورہ بیروہ میں پرامن عزاداری پر پابندی اور طاقت کا استعمال کرنے پر وزیرا علیٰ عمر عبداللہ اورانتظامیہ کی خاموشی کو معنی خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کو عملی طور پر پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں پولیس اپنے طور پر ہر قسم کے فیصلے لینے کی عادی بن چکی ہے۔ عباس انصاری نے سرکار پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ ریاست میں شیعہ سنی اتحاد ہوجبکہ یہی افراد کشمیر میں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عزاداری کی مجالس اور جلوسوں پر بعض ناعاقبت اندیش افراد اور قوم و ملت کا استحصال کرنے والوں کی شہہ پر پابندی عائد کرنا سراسر مداخلت فی الدین ہے جس کا مقابلہ ہر صورت میں کیا جائے ۔ مولانا عباس انصار ی نے پولیس اور انتظامیہ پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مجالس منعقد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور دوسری طرف مختلف بہانے بناکر انہیں ناکام بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکندر پورہ بیروہ میں ڈویژنل کمشنر کشمیر کے علاوہ ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام نے بھی مجلس کو منعقد کرنے کی اجازت دی تھی تاہم انہیں ایک دن قبل ہی اپنی ہی گھر میں نظر بند کیا گیا جبکہ اتحادا لمسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس جب وہاں پہنچے تو انہیں مجلس میں نہ صرف جانے سے روکا گیا بلکہ طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرکے درجنوں پرامن عزاداروں کو زخمی کیا گیا اور بعد میں مسرور عباس کو حراست میںلیا گیا۔ انہوںنے مزید کہا کہ اس طرح کی صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ انتظامیہ میںآپسی تال میل کی کمی ہے اورخالص مذہبی و دینی مجالس کو سیاسی جلسے قلمداد کرکے سیاسی کھیل کھیلے جارہے ہیں۔

کوئٹہ: پاکستان سے نیٹو کی سپلائی بند ہوجانے کے اثرات افغانستان میں ظاہر ہونے لگے ہیں افغان حکومت نے سرکاری افسروں اور پولیس کیلئے پٹرول کا ماہانہ کوٹہ مخصوص کردیا ہے افغان فوجیوں کی نقل وحرکت بذریعہ ٹرانسپورٹ محدود کردی گئی ہے ہنگامی حالات میں پٹرول کا اسپیشل کوٹہ جاری کیاجاتا ہے نیٹو نے اعلیٰ حکومتی شخصیات کو بھی پٹرول دینا بند کردیا ہے ہرات میں ایرانی ڈیزل کی قیمت میں سو فیصداضافہ ہوگیا ہے ڈیزل سرحد پار ایران سے اسمگل کیاجاتا ہے ایرانی حکومت سرحد پرآباد معتبرین کو ہر ماہ ڈیزل کا کوٹہ جاری کرتی ہے جو سرحد پار کرکے افغانستان سے آتے ہیں نیٹو حکام نے افغان فوجیوں اور اعلیٰ افسران کوراشن دینا بند کردیا ہے کیونکہ اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہورہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں، لیکن ان کا بہتر اور ٹھوس ہونا امریکا اور پاکستان کے مفاد میں ہے، انکا کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں۔امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان میں بھی استحکام ضروری ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افغان جنگ میں پیش رفت کے ساتھ پاک امریکا تعلقات کی اہمیت بھی بڑھی ہے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ تعلقات مشکل اور پیچیدہ ہیں مگر دونوں ملک اپنے اختلافات دور کر سکتے ہیں۔ امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات ضروری ہیں، جس کے بغیر افغان جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ خطے میں امن صرف افغانستان سے مشروط نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایک حد تک استحکام ضروری ہے۔  لیون پنیٹا نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کے ساتھ اہم تعاون کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ فاٹا اور سرحدی علاقے میں بعض آپریشنز پر اختلافات بھی ہیں۔ انہوں نے مہمند حملے کا حوالہ دیئے بغیر کہا کہ ابھی انہیں تحقیقات میں پیش رفت کا علم نہیں ہے، لیکن رپورٹ سامنے آنے کے بعد واضح ہو جائے گا کہ وہاں درحقیقت کیا ہوا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ نیٹو کی سپلائی لائن بحال کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ افغانستان میں آپریشنز کے لئے اِس وقت نیٹو فورسز کو جتنا ضروری سامان درکار ہے اس کی سپلائی مسلسل جاری ہے۔  دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ کے سیکرٹری دفاع لیون پنیٹا نے افغانستان میں کامیابی کو پاکستان سے تعلقات کی بحالی سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں جنگ نہیں جیت سکتا جب تک کہ وہ پاکستان سے بہتر تعلقات کو نہیں جیتے گا۔ لیون پنیٹا کا کہنا تھا کہ تعلقات کی بحالی افغانستان میں لانگ ٹرم ترقی کے لئے ضروری ہے اور اگر انہیں اپنی کوششوں کو عملی جامہ پہنانا ہے تو یہ پاکستان کے ساتھ کے سوا ممکن نہیں، اگر اس خطے میں امن مقصود ہے تو وہ نہ صرف افغانستان میں بلکہ پاکستان میں استحکام پر بھی منحصر ہے۔ سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ماضی میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، اس وقت ہمیں فاٹا اور قبائلی علاقوں میں چند آپریشن مکمل کرنے چند مشکلات کا سامنا ہے، جو دونوں ممالک کے مابین 2 مئی اسامہ کی ہلاکت کے بعد سے پیدا ہونے والے خلا کا نتیجہ ہے۔ جس نے نومبر 26 کو 24 پاکستانی سپاہیوں کی شہادت تک کے عرصے میں دونوں ممالک کے تعلقات کو کافی گزند پہنچائی ہے۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ محض 1 نکتے یعنی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی بنیاد پر دونوں ممالک اپنے تعلقات کو بحال کریں گے اور سپلائی روٹس بحال ہونگے۔

پی این ایس مہران پر حملہ پنجابی مجاہد گروپ نے کیا، پانچ دہشتگرد وزیرستان سے آئے، حملے سے پہلے پی اے ایف میوزیم کی ریکی ہوئی، ہلاک دہشتگرد شاہد کی بیوہ کے سنسنی خیز انکشافات۔کراچی میں نو محرم الحرام کی شب شہر کے معروف تاجر ریاض چنائے کی بازیابی کے لیے سی پی ایل سی اور اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی جانب سے کورنگی میں کارروائی کی گئی، اس دوران مقابلے میں تین اغواء کار ہلاک ہوئے، جن میں سے ایک کی شناخت شاہد خان عرف قاری شاہد کے نام سے کی گئی۔ جس کے کچھ ہی دیر بعد پتہ چلا کہ ہلاک ہونے والا ملزم کالعدم تحریک طالبان پنجابی مجاہد گروہ کراچی کا امیر تھا اور ملک بھر میں ہونے والی دہشتگردی کی کارروائیوں میں مطلوب تھا۔   کارروائی کے دوران شاہد خان کی بیوی صبیحہ کو بھی گرفتار کیا گیا، جس نے دوران تفتیش انتہائی سنسنی خیز انکشافات کئے ہیں، ملزمہ کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر شاہد خان پی این ایس مہران پر حملے کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا، اس حملے کے لیے سہیل نامی مفرور دہشتگرد پانچ انتہائی تربیت یافتہ دہشتگردوں کو وزیرستان سے کراچی لایا تھا۔ ملزمہ نے اعتراف کیا کہ اس حملے سے قبل وہ اپنے شوہر اور سہیل نامی دہشتگرد کے ساتھ پی اے ایف میوزیم ریکی کرنے بھی گئی تھی۔  ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں مزید انکشاف کیا کہ جامعہ کراچی بم دھماکے کے لیے وہ اپنے شوہر کے ہمراہ بم لے کر ملزم عمر کو فراہم کرنے گئی تھی، ملزمہ کا کہنا ہے کہ سی آئی ڈی سول لائنز پر دھماکے کے لیے دو خودکش حملہ آوروں کو وزیرستان سے لایا گیا تھا، جن کے کھانے پینے کا انتظام ملزمہ نے خود کیا، ملزمہ نے بتایا کہ ملیر میں پولیس موبائل پر کئے گئے دھماکے کے لیے موٹر سائیکل پر بم نصب کر کے اس کا شوہر اور کالعدم جنداللہ کا ایک دہشتگرد گئے، ملزمہ صبیحہ کے انکشافات کے بعد مزید تفتیش کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے

کابل : امریکا کے وزیر دفاع لیون پینیٹا افغان صدر حامد کرزئی اور وزیردفاع عبدالرحیم وردک سے آج کابل میں ملاقات کریں گے۔لیون پینیٹا منگل کو کابل پہنچے تھے جہاں انہوں نے امریکی فوج کے کمانڈڑ جنرل ایلن سے ملاقات کی تھی۔ اب صدر کرزئی اور وزیردفاع وردک سے بات چیت میں سیکیورٹی افغان حکام کے حوالے کرنے سے متعلق امور پر بات چیت کی جائیگی۔ جنرل ایلن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوج محض مشاورتی کردار ادا کرنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔پینیٹا کا دورہ ایسے وقت ہے جب پڑوسی ملک پاکستان سے امریکا کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

اسلام آباد: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے آئندہ فضائی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون طیاروں کو مار گرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی ٹی وی ایم ایس این بی سی نے پاکستانی فوجی حکام کے حوالے سے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بندش کے بعد پاکستان اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی تبدیلی لاچکا ہے اور اسی تبدیلی کے حوالے سے آئندہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون طیاروں کو بھی مار گرایا جائیگا۔ رپورٹ کیمطابق پاکستانی حدود میں داخل ہونیوالے ڈرون سمیت کسی بھی طیارے کو نہ صرف مار گرایا جائے گا بلکہ پاکستان فضائی حدود کی خلاف ورزی کو دشمنی خیال کریگا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی نے نیٹو حملے کے بعد  دفاعی پالیسی کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں جن میں ڈرون طیاروں کو مارگرانے کی ہدایات بھی شامل ہیں۔