Archive for the ‘Breaking News’ Category

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے یومِ شہادت دخترِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت سیدہ فاطمہ الزھراء سلام اللہ علیھا کے موقع پر اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ مجلس وحدت مسلمین وارث زہراء سلام اللہ علیھا حضرت بقیتہ اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف، رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای اور پوری امت مسلمہ کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا    کہ حضرت سیدہ الزھراء سلام اللہ علیھا جنھوں نے ایک بیٹی، شریکہ حیات اور ماں کے طور پر جو کردار ادا کیا وہ خواتین کے لئے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری خواتین اپنے اندر حضرت فاطمہ الزھراء جیسی استقامت پیدا کریں اور تربیت اولاد میں ان اصولوں پر عمل پیرا ہوں جن کی مدد سے معاشرے کو ایسے افراد میسر آ سکیں جن کی رگوں میں حریت حسینی لہو بن کے دوڑتی ہو۔انہوں نے سعودی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنت البقیع جہاں اہلِ بیت رسول و اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دفن ہیں کو نئے سرے سے تعمیر کیا جائے اور اسے عوام الناس کے لئے کھولا جائے۔

Advertisements

کراچي… پاکستان کي فضائي حدود ميں غير قانوني طور پر داخل ہو نے والے غير ملکي فوجي جہاز کو پاکستان ايئر فورس نے  کراچي ايئر پورٹ پر لينڈ کراديا ہے جس کے بعد طيارے کي چيکنگ جا ري ہے،جيو ٹي وي کے نمائندے طارق ابو الحسن کے مطابق فوجي طيارہ بگرام ايئربيس سے يواے اي کے المکتوم ايئرپورٹ جارہاتھا،ايئر پورٹ ذرائع کے مطابق طيارہ انتانوف124اورپروازنمبروي ڈي اے1455ہے.ذرائع کے مطابق بگرام سے المکتوم ايئرپورٹ جانيوالے طيارے نيٹورسد کيلئے استعمال ہوتے ہيں مذکورہ غيرملکي فوجي مال بردارطيارے کو بعض خفيہ اطلاعات پرکراچي ميں اتاراگيا جس کي چيکنگ جاري ہے.

دہشتگردی کیخلاف منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کے طول و عرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ کی طرف جانے والی ریلی علامتی مارچ تھا، حکمران ملک میں جاری دہشت گردی کو روکیں ورنہ اگلے مرحلے میں ایسا مارچ کریں گے جس سے حکومتی ایوان ہل جائیں گے، سانحہ کوہستان ہو یا سانحہ چلاس، کوئٹہ میں جاری ٹارگٹ کلنگ ہو یا کراچی و پارا چنار میں قتل عام، یہ گھمبیر صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ملک ایک قتل گاہ ہے، جہاں جنگل کا قانون ہے اور کوئی پرسان حال نہیں، ہم ذمہ داروں پر حجت تمام کر چکے ہیں۔ ایسی سنگین صورتحال میں کسی بڑے اقدام کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رہتا ۔لہذا ملک بھر سے آئے ہوئے علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں جا کر حالات کی سنگینی سے آگاہ کریں اور انہیں متحد و بیدار کریں، تاکہ اس ظلم و نا انصافی کے ازالے کیلئے اقدام کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں علمائے کرام کی احتجاجی ریلی سے قبل منعقدہ علماء کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے علامہ ساجد علی نقوی نے کہا کہ مکتب تشیع دین اسلام کی سب سے ارفع و اعلٰی تعبیر و تشریح کا نام ہے۔ ہم تمام مکاتب اور مسالک کے احترام کے قائل ہیں اور اُمت مسلمہ کا ایک باوقار اور طاقتور حصہ ہونے کے ناطے اسلام و مسلمین کے خلاف ہونے والی سازشوں کے خلاف ہراول دستہ کے طور پر میدان عمل میں ہیں اور دور حاضر میں غیر اسلامی تہذیبی یلغار کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش ہیں۔ اصلاح معاشرہ، امر بالمعروف، نہی عن المنکر جیسے فریضے اور اجتماعی ذمہ داریوں سے آگاہ علمائے کرام کی بھر پور شرکت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ملک کے مسائل سے غافل نہیں ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی، قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ کسی بھی قاتل اور دہشتگرد کو تختہ دار پر نہیں لٹکایا گیا۔ آخر قاتلوں کو کھلی چھٹی کون دے رہا ہے؟ دہشتگردوں کی فیکٹریاں کہاں ہیں؟ یہ کہاں پلتے ہیں؟ رول آف لاء کیوں نہیں قائم ہوسکا؟ ان حالات میں ناگزیر ہے کہ قاتلوں کے خلاف بھر پور آپریشن کیا جائے ہم اس حوالے سے ہر باضمیر شخص، ادارے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندگان سے رابطے کر کے مکمل بریفنگ دی جائے گی۔

اسلام آباد: ایران نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ ایک دستاویزی فلم کے ذریعے کیا ہے جس میں جدید ترین میزائل لانچنگ اور خشکی ، فضا اور سمندر میں فائر پاور دکھائی گئی ہے۔ پاکستان میں ایرانی سفیر علی رضا حقیقیان اور ایرانی آرمڈ فورسز کے اتاشی کرنل وجہہ اللہ درویشی ایرانی فورسز کے سالانہ دن کے موقع پر ہونے والے استقبالئے میں میزبان تھے۔ چےئرمین سینیٹ سید نیئر علی بخاری اس موقع پر مہمان خصوصی تھے جبکہ پاکستانی مسلح افواج کے سینئر افسران اور ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کے وائس ایڈمرل شفقت جاوید بھی اس موقع پر موجود تھے۔ ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف کو چےئر مین سینیٹ کے ہمراہ پوڈیم پر بٹھایا گیا، دلچسپ امریہ ہے کہ یورپین ممالک کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے نمائندوں کی تعداد بھی مایوس کن حد تک کم تھی۔وفاقی وزراء جو یوں تو تقریبات میں شرکت کے بہت شوقین ہیں وہ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے صرف ایک وزیر سردار الحاج محمد عمر گورگیج اس تقریب میں شریک ہوئے ، انہیں ڈائس پر بٹھایا گیا لیکن اپنی جان پہچان کے لوگوں کو نہ پا کر وہ کچھ بدحواس سے لگ رہے تھے۔مہمان خصوصی کی آمد پر دونوں برادر ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔اس موقع پر مہمانوں کی اکثریت سانحہ سیاچن کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آئی ۔ لوگ برف اور چٹانوں کے نیچے دبے ہوئے جوانوں اور سویلین افراد کیلئے دعائیں کر رہے تھے۔ لو گ اس امر پر حیرانی کا اظہار کررہے تھے کہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر اور صدر پاکستان کو اس جگہ جانے میں 12 دن کا عرصہ لگا اور وہ بھی صرف فضائی جائزہ لے کر واپس آگئے ،وہ برفیلی سطح پر اترے اور نہ ہی انہوں نے امدادی کارروائیوں میں مصروف لوگوں سے ہاتھ ہی ملایا۔ڈوما پوسٹ جہاں سے وہ واپس آئے ، گیاری اس سے محض 5 منٹ کی دوری پر ہے۔تقریب میں عمان اور شام کے سفراء بھی شریک ہوئے

کویت کے ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم ص کی شان میں گستاخانہ بیان دینے کی شدید مذمت کی ہے۔العالم نیوز چینل کے مطابق کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے اور ممتاز شیعہ عالم دین آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی اور ان پر نعوذ باللہ شراب کی خرید و فروش کی تہمت لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ قرار دیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ ہفتے سعودی عرب کے وہابی مفتی محمد العریفی نے یہ دعوا کیا تھا کہ : “خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے سے قبل بعض افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شراب تحفے میں پیش کرتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسے یا تو فروخت کر دیتے تھے اور یا پھر دوسروں کو تحفے کے طور پر پیش کر دیتے تھے”۔  اس سعودی وہابی مفتی نے اس تہمت اور جھوٹے دعوے کی بنیاد پر یہ فتوا بھی جاری کیا تھا کہ : “شراب نجس نہیں کیونکہ خدا کی جانب سے شراب کو حرام قرار دیئے جانے کے بعد افراد نے اپنی شراب کی بوتلوں کو باہر گلی میں خالی کر دیا اور صحابہ کرام کے پاوں مسجد میں جاتے ہوئے شراب سے گیلے ہو گئے تھے اور انہوں نے اسی حالت میں نماز ادا کی”۔  آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے اس فتوے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ قرآن کریم میں واضح طور پر شراب کا نام لے کر اسے نجس قرار دیا گیا ہے لہذا تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ شراب ویسے ہی نجس ہے جیسے خون اور پیشاب نجس ہے۔ انہوں نے مزید تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اہلسنت کے چاروں فرقوں کے امام نے شراب کو نجس قرار دیا ہے اور قرآن کریم کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 90 میں بھی شراب کو صراحت سے نجس قرار دیا گیا ہے۔  کویت میں شیعہ مراجع تقلید کے نمائندے آیت اللہ سید محمد باقر المہری نے سعودی وہابی مفتی محمد العریفی کی جانب سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے اور بے بنیاد فتوا جاری کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ محمد العریفی خدا کے حضور توبہ کرے اور تمام مسلمانان عالم سے معذرت خواہی کرے۔

بیجنگ میں چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے۔ چین نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں عالمی معاشی بحالی کے لئے خطرناک ثابت ہوں گی، چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ایران پر مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے باعث تجارتی پابندیوں سے بین الاقوامی انرجی مارکیٹس میں بڑے پیمانے پر اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جو عالمی معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ امریکا نے اکتیس دسمبر کو ایران کے مرکزی بینک سے لین دین پر پابندی عائد کی تھی، جبکہ یورپی یونین نے جنوری سے ایرانی تیل کی درآمد، خریداری یا ٹرانسپورٹ بند کر رکھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ عرب سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی مقصد کیلئے ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔گذشتہ دنوں سعودی عرب کے بوڑھے وزیر اطلاعات پاکستان کے دورے پر تشریف لائے، انتہائی شرمناک بات یہ ہے کہ انہیں خوش کرنے کے لئے پاکستانی وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے ایک ڈانس پارٹی کا انعقاد کیا، جس میں پاکستانی لڑکیاں انتہائی شرمناک لباس میں بوڑھے سعودی وزیر کے سامنے کافی دیر تک ناچتی رہیں اور اس دوران پاکستانی اعلٰی حکام اور خود وزیر اطلاعات فردوش عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔ اس پارٹی کے بعد کی کہانی معلوم نہ ہوسکی۔ وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی میزبانی میں اس تقریب کے مہمان خصوصی خادمین حرمین شریفین کنگ عبداللہ کے وزیر اطلاعات و کلچر منسٹر عزت ماب عبدالعزیز بن محی الدین تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان میڈیا اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے اور یہ پارٹی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سعودی عرب کے وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین کے دورہ پاکستان سے دنیا میں اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کے حوالے سے مشترکہ میڈیا حکمت عملی تشکیل دینے میں مدد ملے گیواضح رہے کہ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز بن محی الدین نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردس عاشق اعوان کی دعوت پر پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سعودی وزیر اطلاعات کے دورے سے نہ صرف ایک دوسرے کی ثقافتوں کو سمجھنے کا موقع ملے گا بلکہ اس سے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دراصل پاکستان سرکاری میڈیا کے شعبے میں سعودیہ سے مالی مدد چاہتا ہے اور اسی سلسلے میں وزیر مذکور کو پاکستان بلایا گیا تھا اور اسی باعث ناچ کی محفل کا انتظام بھی پی ٹی وی نے ہی کیا۔پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الغدیر، وفاقی سیکریٹری اطلاعات تیمور عظمت عثمان اور وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے سینئر افسران بھی ان پارٹیوں میں شریک ہوئے۔ سعودی وزیر اطلاعات کے پاکستان کے لئے پرجوش جذبات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگرچہ حال ہی میں ان کا ایک آپریشن ہوا ہے اس کے باوجود انہوں نے اپنے پاکستان کے دورے کو مؤخر نہیں کیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے دورے سے جو توقع تھی وہ پوری نہ ہوئی اور انہوں نے پی ٹی وی کے لئے فوری طور پر کسی گرانٹ یا رقم کا اعلان نہیں کیا اور پی ٹی وی کی طرف سے ڈانس پارٹی بھی ضائع گئی۔

 

    واشنگٹن : امریکی خفیہ ادارے کے11 اہلکاروں کو سکینڈل میں ملوث ہونے کے شبے میں عارضی رخصت پر بھیج دیا گیا۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے صدر باراک اوباما کے کولمبیا کے دورے سے قبل جسم فروش خواتین کو اپنے ہوٹل کے کمروں میں بلایا تھا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔ کولمبیا کی پولیس نے بھی اس حوالے سے انکشافات کئے تھے۔ حکام کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور کہا ہے کہ جب تک تمام حقائق سامنے نہیں آتے یہ اہلکار انتظامی چھٹیوں پر یہ رہیں گے۔ امریکی صدر امریکی ریاستوں کی تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جمعہ کو کولمبیا پہنچے تھے

کراچي کے علاقے نارتھ ناظم آباد ميں مسلح متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے جناح پولي ٹيکنک انسٹيٹيوٹ کے وائس پرنسپل عمران ذيدي کو شہید کرديا.پوليس کے مطابق نارتھ ناظم آباد ميں ميٹرک بورڈ آفس کے قريب مسلح موٹر سائيکل سواروں متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے کار نمبر ٹي 8473 پر فائرنگ کرکے عمران زیدی کو شديد زخمي کرديا جنہيں عباسي شہيد اسپتال منتقل کيا گيا جہاں وہ زخموں کي تاب نہ لاتے ہوئے سفیر امام حسین حضرت مسلم بن عقیل کی مانند جام شہادت سے سرفراز ہوئے.شہید عمران ذيدي نارتھ کراچي سيکٹر اليون اے کے رہائشي تھے.ڈي ايس پي نارتھ ناظم آباد عبدالرشيد نے بتايا کہ عمران ذيدي جناح پولي ٹيکنک انسٹيٹيوٹ فار مين کے وائس پرنسپل تھے اور ابتدائي تفتيش کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا نتيجہ ہے تاہم مزيد تحقيقات کررہے جبکہ دوسری طرف نمائند کی رپوٹ کے  مطابق نارتھ ناظم آباد کے علاقے بورڈ آفس کے قریب گھات لگائے امریکی سعودیہ نواز کالعدم تنظیم کے متحدہ ناصبی وہابی العدم دہشت گردوں نے گاڑی نمبر ( 8473 ،مہران )پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجہ میں جناح کالج کے وائس پرنسپل  عمران زیدی ولد امام  زید ی موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ رپوٹ کے مطابق شہید کے سر اور جسم میں گولیا ں لگی ۔ واضح رہے کے کراچی کے صرف ڈسٹرکٹ سینٹرل میں گزشتہ ماہ میں 23شیعان علی ابن ابی طالب کو شہید کیا جا چکا ہے ڈسٹرکٹ سینٹرل امریکی اور سعودی وہابیت نواز کالعدم جماعتوں کی آماج گاہ بن چکا ہے ۔جبکہ ایس ایس پی سینٹرل عاصم قائم خانی نے تاحال کسی دہشت گرد کو گرفتار نہیں کیا اس بدترین صورت حال پر ایس ایس پی نہ ہی معطل کیا گیا اور نہ ہی اس کی خلاف کو ئی کاروائی کی گئی جبکہ مجلس وحدت مسلین جعفریہ الائینس ،سیعہ علماء کونسل نے عمران زیدی کی شہادت کی شدید مذمت اور رہنماوں کا کہنا تھا حکومت ملت جعفریہ کو تحفظ دینے میں نا کام ہوچکی ہے

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر فائرنگ سے زخمي 12 ميں سے  6 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے، شہد ہونےوالے افراد کي تعداد 6 ہوگئي ہے مزید اطلاعات کے مطابق فائرنگ پرنس روڈ پر واقع السادات شوز میکر کی دکان پر کی گئی۔ السادات شوز میکر کے مالک محمد موقع پر ہی شھید ہوگئے تھے۔تمام زخمیوں اور شھیدوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہیں۔ پوليس کے مطابق کوئٹہ کے علاقے پرنس روڈ پر جوتے کي دکان پر نامعلوم موٹر سائيکل سواروں کي فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق اور  6 سے زیادہ زخمي ہوگئے تھے جن ميں سے مزيد 2 افراد زخموں کي تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال ميں جاں بحق ہوگئے ہيں، زخميوں کو سول اسپتال کوئٹہ ميں طبي امداد دي جارہي ہے. اطلاعات کے مطابق کوئٹہ پرنس روڈ پر کالعدم ملک دشمن سپاہ صحابہ سعودیہ نواز مسلمان دشمن گروہ  کے درندہ صفت دھشتگردوں کی فائرنگ سے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھنے والے متعدد شیعہ مسلمانوں کو شھید اور کئی کو زخمی کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شھید ہونے والوں کی تعداد6  جبکہ 6 سے زائد افراد شدید زخمی۔یاد رہیں کوئٹہ میں ایک خاض مقصد کے تحت شیعہ نسل کشی جاری ہیں، جس میں صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ مکمل ملوث ہیں۔ اور کوئٹہ کے جہادی گروپ جو شیعان علی کے قتل عام میں ملوث ہیں انہیں ملک کی خفیہ ایجنسیوں اور مقامی اتظامیہ کی مکمل پشت پناھی حاصل ھے۔  جبکہ دوسری جانب سول اسپتال کوئٹہ کے باہر اور پرنس روڈ پر نامعلوم افراد کي جانب سے ہنگامہ آرائي کي گئي ہے.جس پر پوليس کي بھاري نفري دونوں مقامات پر پہنچ گئي ہے اور حالات قابو ميں کرنے کي کوشش کي جارہي ہے اور وزیر اعلی بلوجستان نے صرف دیکھاوے کے لیے  پرنس روڈ تھانے کے ڈیوٹی پر معامور پولیس افسران کو عارضی طور پر معطل کردیا ہے تا کہ وہ اس حادثہ کے بعد تھوڑا آرام کر لیں۔

امریکی صدر بارک حسین اوباما نے ترکی کے توسط سے ایرانی سپریم لیڈر آیت خامنہ ای کے نام خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تہران اپنا جوہری پروگرام پرامن ثابت کر دے تو امریکا اسے قبول کر لے گا ، خط میں یقین دہانی کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں نہیں کرے گا۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکی صدر بارک اوباما کا خط ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک پہنچایا۔ ترک وزیر اعظم نے امریکی صدر کا یہ پیغام بھی ایرانی سپریم لیڈر تک پہنچایا کہ آئندہ ہفتے ہونے والے عالمی طاقتوں سے مذاکرات میں ایران جوہری تنازع کے پرامن حل کے محدود مواقع سے بھرپور استفادہ کرے۔آن لائن کے مطابق خط میں واضح کیا گیا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اگر حال ہی میں کئے گئے اپنے اس دعوے پر قائم رہیں تو ان کی قوم کبھی ایٹمی ہتھیاروں کے پیچھے نہیں بھاگے گی تو امریکا کو ایران کے سویلین نیوکلیئر پروگرام پراعتراض نہیں ہوگا۔اس سے قبل آیت اللہ خامنہ ای نے جوہری ہتھیاروں کو گناہ عظیم اور یورینیم کی افزودگی کو تباہ کن قرار دیا تھا رپورٹ کے مطابق سیوٴل میں صدر اوباما نے ترک وزیراعظم سے ملاقات میں یہ خط ان کے حوالے کیا

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے گلگت میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کے ردعمل میں چلاس کے قریب گونر فارم میں 19 معصوم اور بے گناہ افراد کی شہادت کی اطلاع اور متعدد افراد کے شدید زخمی ہونے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تین روزہ سوگ اور آئندہ جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں پرامن احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور گہری سازش کے تحت پہلے سانحہ کوہستان کا رونما ہونا اور اس کے فوراً بعد اتنا بڑا سانحہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے عناصر اور قوتیں کارفرما ہیں جو انتہائی طاقتور ہیں ۔اس سانحہ کے پس پردہ حقائق منظر عام پر لانے کے لئے اعلی سطحی عدالتی کمیشن کا قیام قاتلوں اور انکے سرپرستوں کو بے نقاب کرے۔سیکریٹری اطلاعاتعلامہ ساجد نقوی نے کہا کہ اگر ذمہ داران سانحہ کوہستان کے مجرموں اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچاتے اور متاثرہ عوام کے جائز اور اصولی مطالبات پر عمل درآمد کیا جاتا تو سانحہ چلاس رونما نہ ہوتا۔انہوں نے اس سانحہ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین و پسماندگان سے دلی دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی اوراسلامیان پاکستان سے اپیل کی کہ اس سانحہ پر ہر سطح پر قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر صدائے احتجاج بلند کریں اور باہم متحد ہوکر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحاد و وحدت کے دشمن ملک کے بدخواہوں کو واضح پیغام دیں کہ وہ مٹھی بھر شرپسندوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گےاس موقع پر جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اس سانحہ چلاس پر علامہ ساجد نقوی سے اظہار افسوس کرتے ہوئے بعض سازشی عناصر گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں اورفرقہ وارانہ فسادات اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعہ ملک بھر اور گلگت کے داخلی امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچانا چاہتے ہیں

گلگت شہر کے دو تھانوں اور سٹي کي حدود ميں کرفيو نافذ ہے. گلگت ميں گزشتہ روز ہڑتال کے دوران پرتشدد واقعات ميں ہلاکتوں اور چلاس ميں ٹارگٹ کلنگ کے بعدآج بھي صورتحال کشيدہ ہے اورگلگت ميں کرفيو نافذ ہے. گلگت ميں کرفيو کے دوران چند علاقوں ميں فائرنگ کے اکا دکا واقعات ہوئے ہيں.ذرائع کا کہنا ہے کہ آج شام يا دن ميں کسي بھي وقت کرفيو ميں نرمي کي جاسکتي ہے.چلاس ميں گزشتہ روز ٹارگٹ کلنگ ميں جاں بحق ہونے والے افراد کي ميتيں چلاس ميں ہي موجود ہيں.شہر بھر ميں موبائل سروس بھي بند ہے.چلاس ميں ٹارگٹ کلنگ کے خلاف اسکردو ميں ہڑتال ہے.تمام اسکول بند ہيں سرکاري دفاتر ميں حاظري نہ ہونے کے برابر ہے. ٹريفک بھي معمول سے کم ہے.چلاس ميں جاں بحق ہونے والے 2افراد کي ميتيں اسکردو لائي جائيں گي.استور ميں بھي گلگت کي صورتحال کے باعث حالات کشيدہ ہيں.سرکاري ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام نجي ٹي وي چينلز بند کرديئے گئے ہيں ،ڈپٹي کمشنير استور شہباز طاہر نديم نے تمام داخلي و خارجي راستوں پر آمد و رفت پر پابندي عائد کردي ہے.  گلگت اور چلاس ميں گزشتہ روز کے فسادات کي ابتدائي رپورٹ ،وفاقي حکومت کو بھجوادي گئي ہے ، وفاقي وزارت داخلہ نے کہاہے کہ سکيورٹي وجوہات پر گلگت ميں موبائل فون کي تمام سروسز معطل کردي گئي ہيں گزشتہ روز کے فائرنگ اور حملوں کے واقعات کي اطلاعات گلگت بلتستان کي انتظاميہ، پوليس و اسکاو?ٹس کي طرف سے بھيجي گئي ہيں. ان ميں کہاگياہے کہ مولاناعطاء اللہ کي 3 روز قبل گرفتاري کے خلاف گلگت ميں گزشتہ روز احتجاجي ريلي نکالي گئي،اہلسنت والجماعت کي ريلي پر ہينڈ گرينيڈ سے حملہ ہوا اور فائرنگ بھي کي گئي، 6 افراد ہلاک ہوئے، اس کے بعد پوليس نگراني ميں چلاس جانے والي 4 بسوں کا تقريبا 40 موٹرسائيکل سواروں نے گھيراو کرليا،موٹرسائيکل سواروں کے حملہ سے 9 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 4 مسافر جان بچاتے دريا ميں کود کر ڈوب گئے، حملہ آوروں نے بسوں ميں سوار خواتين کو کچھ نہيں کہا ، رپورٹ کے مطابق حملہ آور موٹرسائيکل سواروں سے تصادم ميں 5 پوليس اہلکار زخمي بھي ہوئے ، ادھر وزارت داخلہ نے بتاياہے کہ وزيرداخلہ رحمان نے گلگت ميں تمام موبائل فون کے آپريشنز معطل کرنے کا حکم دے ديا ہے جس پر عمل درآمد بھي شروع ہوگيا ہے

موغا ديشو … صوماليہ کے ايک تھيٹر ميں خود کش حملے ميں قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور حکومتي وزير سميت 7 افراد ہلاک ہوگئے ہيں. دار الحکومت موغاديشو ميں پوليس اہلکاروں کے مطابق ايک خود کش حملہ آور نے تقريب کے دوران خود کو تھيٹر کي عمارت کے اندر دھماکے سے اڑا ديا. صومالہ ميں سرکاري ٹيلي ويژن کے ذرائع کے مطابق قومي اولمپک کميٹي کے سربراہ اور ايک حکومتي وزير ہلاک ہونے والوں ميں شامل ہيں. يہ تھيٹر 1990 ميں خانہ جنگي کے آغاز کے بعد بند کر ديا گيا تھا اور گزشتہ ماہ ہي دوبارہ کھولا گيا تھا.

سانحہ کوہستان کا زخم ابھی تازہ تھا کہ چلاس میں پھر بربریت کی انتہا کر دی گئی۔گلگت میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں جانی نقصان اور زخمیوںکے واقعہ کے بعد چلاس میں سانحہ کوہستان کو دہرایا گیا۔17شیعہ مومنین کو بسوں سے اُتار کر شہید کردیا گیا ہے جبکہ بہت سے اسکول اورکالجوں کے طلبہ، طلبات اور اساتذہ اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں کے محاصرے میں ہیں۔6بسوں کو جلانے کے علاوہ 2بسوں کو دریائے سندھ میں گرادیا گیا ہے۔گلگت میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اور وزیر اعلی گلگت مہدی شاہ بھی اپنی زمہ داریوں سے کنارہ کشی کرتے ہوئے غیر ضروری دورے پر سندھ کے شہر گھڑی خدا بخش پہنچے ہوئے ہین، وہ بروز بدھ کو گلگت واپس آئین گے،اس کے بعد کوئی لائے عمل طے کریں گے، جب تک اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں کو مکمل آزادی ہے، یہاں ایک بات قابلے غور ہے کہ وزیر اعلی کا تعلق بھی شیعہ فرقہ سے ہے، اس کے باوجود اتنی لاپروائی۔ جبکہ دوسری طرف  دہشتگردوں کا دن دیہاڑے کھلے عام معصوم لوگوں کو اس طرح تشدد کر کے شہید کرنا حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔حکومت فوری طور پر اہلسنت و الجماعت سپاہ صحابہ، لشکرے جھنگوی کے اُن دہشتگردوں   کیخلاف ایکشن لین سے کترارہی ہے، ان دہشتگردوں،قاتلوں، شرپسندوں اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرنے مین ناکام ہو چکی ہے  امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے گلگت بلتستان کے تمام راستوں کی سیکورٹی کو مکمل یقینی بنایا جائے۔ سانحہ کوہستان میں معصوم لوگوں کو شہید کیے جانے کے بعد وزیرداخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم نے شاہراہ قراقرم روڈ پر سیکورٹی تعینات کر دی ہے۔ سیکورٹی کی تعینات کے باوجود ایسا واقعہ دوبارہ پیش آنا حیران کن ہے۔ امن وامان کے قیام کے ذمہ دار ادارے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ رپوٹ کے مطابق گلگت کے مظلوم شیعہ مومنین نے کہا کہ تسلسل سے گلگت کے امن کو خراب کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ سازشی عناصر گلگت میں مذہبی فسادات چاہتے ہیں۔سانحہ کوہستان بھی اسی عنصر کی ایک کڑی ہے۔ حکومت آج سانحہ کوہستان میں ملوث ملزموں اور ان کے سرپرستوںکو بے نقاب کرتی تو گلگت کے امن کو خراب کرنے کی کسی میں ہمت نہ ہوتی۔امن قائم نہ کر سکنا ذمہ داران کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ شرپسندوں کوفوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلائیں۔

اطلاعات کے مطابق گلگت کے علاقے چلاس میں کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگردوں نے بس میں فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 12 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہے۔ مزید اطلاعات کے مطابق کالعدم ملک دشمن جماعت کے دہشتگردوں نے آج پورے گلگت میں ہڑتال کی کال دی تھی۔ آج صبح سے ہی کالعدم سپاہ صحابہ کے دہشتگرد پورے شہر میں دندناتے نطر آرہے تھے البتہ سکیورٹی اداروں کی دہشتگردوں کی لگام دینے کی تمام تر کوشش ناکام نطر آئی۔ واضع رہے کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے اسکاوٹس کا شیعہ اہلکار بھی شہید ہوچُکا تھا۔ کالعدم سپاہ صحابہ کی حالیہ دہشتگردی میں مزید 12 شیعہ مومنین شہید ہوچُکے ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتحاد چوک گلگت میں لشکر یزید نے گرنیڈ سے حملہ کردیا۔ جس کے نتیجہ میں دو عزادار زخمی ہوگئے۔جبکہ لالی محلہ میں فائرنگ سے شیراز ولد شیر افضل بھی زخمی ہوگئے۔جنہیں ڈی-ایچ-کیو اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزید اطلاعات کے مطابق لشکر یزید نے گلگت کے امن کو خراب کرنے کیلئے گلگت مین پر تشدد ہرتال کا اعلان کیا۔ جس کے بعد یزیدیوں نے کھلے عام فائرنگ اور حملوں کا سلسہ شروع کردیا۔ اور کرفیوں کے نفاذ کے باوجود شدید فائرنگ اور ھنگامہ آرائی کرکے گلگت کے امن کو سبو تاش کردیا۔جبکہ اتہائی افسوس ناک بات یہ ہیں کہ گلگت کے مسلح یزیدیوں نے فائرنگ کرکے تین سیکیورٹی ادارے کے اھلکاروں کو بھی زخمی کردیا۔ جو لشکر یزید کی درندگی اور وحشی ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ افسوس کہ رحمان ملک سانحہ کوہستان کے بعد شیعہ قوم سے کئیے جانے والے وعدوں کو تو آج تک پورا نہ کرسکا جس کے نتیجہ میں آج تک گلگت کا امن بحال نہ ہوسکا۔ دوسری طرف اس بات کا بھی قوی امکان ہےکہ ان دہشت گرد گروپس مین سعوی حمایت بافتہ طالباں کے افراد کثیر تعداد میں شامل ہیں جو کہ امریکی اور سعودی اشارہ پر یہ تمام دہشت گردی کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں جین کے ساتھ معاملات کو خراب کیا جائے اور ایران پر حملہ کرنے کے لیے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کرنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مانے والے شیعہ مسلمانوں پر دباو بڑھایا جائے تاک کہ مستقبل میں ہونے والی ایران کے خلاف کسی بھی کاروائی میں سعودی اور امریکی مفادات کو نقصان نہ بہنچا سکیں

کالعدم اھلسنت والجمائت (سپاہ صحابہ) کے دھشتگردوں نے سید اصغر حسین جعفری ولد احمد جعفری پر حملہ کر دیا۔ جس کے نتیجہ میں آپ شھید ہوگئے اور آپ کو عباسی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ مزید اطلاعات کے مطابق اصغر جعفری ولد احمد جعفری کو کالعدم سپاہ صحابہ کے دھشتگردوں نے ناظم آباد پر نشانہ بنایا اور آپ کے سینہ میں چار گولیاں ماری جبکہ آپ کی گاڑی کا نمنر ASS 510 ہیں۔ شھید سرجانی ٹاون کے رھائشی تھے۔ اور اپنی گاڑی میں اکیلے جارہے تھے۔ شھید ڈائیمنڈ سی-این-جی اسٹیشن میں بطور مینیجر اپنی خدمات انجام دے رہے تھے تھے۔ اور آپ پر حملہ تشیع کی اقتصادی طاقت پر حملہ تھا کراچی کے مومنوں:ملت کا مستقبل اب تمھارے حوالے  اگر شیعہ کلنگ نے ابھی تک آپ کی نظر میں کچھ اچھا کام کیا ہو تو اُس کے بدلےمیں آج آپ سے شیعہ کلنگ ایک چیز مانگتا ہے۔ وہ یہ کہ آج بعد نماز ظہرین انچولی امام بارگاہ میں شہید اصغر حسین کی نماز جنازہ میں ضرور شرکت کریں۔  سمجھدار کے لیے اشارہ کافی ہے کہ اگر کل جنازہ افرادی قوت کے لحاظ سے ناکام رہا تو شاید اب کبھی انچولی میں کسی شہید کا جنازہ نہیں آئے گا علماء کرام، ملت کے عہدیدار، انجمن اراکین، تنظیمی رہنما،شیعہ اداروں کے نمائندگان اور محترم خواص سے پرزور اپیل ہے کہ انچولی کے حالات کا نوٹس لے۔ آپ کی عدم شرکت سے “احساس لاوارث” ملت کے درمیان پیدا نہ ہوجائے

رياض. . . .خليج تعاون کونسل نے رکن ممالک کے داخلي امورميں ممکنہ ايراني مداخلت کيپيش نظر ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي تجويز کا جائزہ لينے کے لئے خليجي ممالک اور امريکا کي مشترکہ سيکيورٹي کميٹي قائم کردي ہے.سعودي اخبار کے مطابق يہ فيصلہ خليجي ممالک کے تحفظ کے لئے کيا گيا ہے. مشترکہ کميٹي امن و سلامتي کے ماہرين پر مشتمل ہوگي جو ميزائل شکن نظام نصب کرنے کي ضرورت اور اہميت کا فيصلہ کريں گے. امريکا نے يقين دہاني کرائي ہے کہ خليجي ممالک سے متعلق اس کے وعدے ٹھوس نوعيت کے ہيں. امريکا کسي بھي خطرے کے مقابلے کے لئے خليجي ممالک کي مشترکہ دفاعي تنصيبات کے استحکام ميں بھرپور تعاون کرے گا.

تازہ ترین صورتحال کے مظابق گلگت ميں کالعدم اہل سنت والجماعت کي حکومتي اقدامات کے خلاف شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے، شہر کے مختلف علاقوں ميں ہوائي فائرنگ اور دستي بم کے حملے  کیے جس میں 5افراد جاں بحق اور 45 زخمي ہو گئے جبکہ علاقے ميں کرفيو نافذ کر ديا گيا ہے.اس کے علاوہ بسوں سے اتار کر 6 افراد کو ہلاک کردیا اور شہر کي مختلف سڑکوں کو ٹائر جلائے اور شدید فائرنگ کی ہے،، لوگوں کا کہنا ہے کہ ضلعي انتظاميہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکارسڑکوں سے غائب ہيں اور جبکہ کالعدم اہل سنت والجماعت سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے مسلح دہشت گردوں کے گروہوں شہر کے مختلف شیعہ آبادی والے علاقوں پر ہوائي فائرنگ کررہے ہيں جس سے لوگوں ميں سخت خوف و حراس پھيل گيا ہے،اور گلگت میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو گئے ہیں اور نظام زندگي بري طرح مفلوج ہے،اس دوران کالعدم اہل سنت والجماعت سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے مسلح دہشت گردوں  نے اتحاد چوک پر دستي بم بھي پھينک ديا . فائرنگ، دستي بم اور پتھروں سے کئے گئے حملوں ميں 5افراد ہلاک اور 45 زخمي بتائے جا رہے ہيں.اس کے علاوہ بسوں سے اتار کر 6 افراد کو ہلاک کردیا ہے علاقے ميں کرفيو نافذ کر ديا گيا ہے اور لوگوں سے گھروں ميں رہنے کا کہا جا رہا ہے تاہم کرفيو کے نفاذ کے باوجود بعض جگہوں سے کالعدم اہل سنت والجماعت سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی کے مسلح دہشت گرد تاحال فائرنگ کر رہے ہیں جس  کي آوازيں سنائي دے رہي ہيں.

کراچي کے علاقوں پاک کالوني اور رضويہ ميں نامعلوم افراد نے فائرنگ کي ہے جس کے بعد علاقے ميں خوف و ہراس پھيل گيا ہے اور دکانيں بند ہو گئي ہيں. ادھر اورنگي ٹاو?ن ميں فائرنگ کا ايک زخمي بھي چل بسا. گوليمار چورنگي پر نامعلوم افراد نے پتھراو? کر کے ٹريفک معطل کر ديا ہے.

کراچی – اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام بینکوں کو غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے اکاؤنٹس کا جائزہ لینے کے لئے 30 جون تک کی مہلت دی ہے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں ان گروپوں کے دہشت گردی کی مالی امداد اور منی لانڈرنگ سے کوئی روابط تو نہیں۔ یہ بات مرکزی بینک کے ترجمان سید وسیم الدین نے 15 مارچ کو سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہیانہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بعض کالعدم عسکریت پسند تنظیموں نے نام بدل کر نئے اکاؤنٹس کھول لیے ہیں اور وہ مطبوعہ ذرائع ابلاغ میں اشتہارات دے کر چندے جمع کر رہی ہیں۔ وسیم الدین نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے بینکاری نظام کے غلط استعمال کے خلاف تحفظ کے لئے مرکزی بینک نے تمام تجارتی بینکوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور دیگر خیراتی اداروں کے موجودہ اکاؤنٹس کی چھان بین کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بینکوں کو عسکریت پسند تنظیموں کے اکاؤنٹس کا سراغ ملے تو ان کا کام ہے کہ وہ ان اکاؤنٹس کی اطلاع مالیاتی نگرانی یونٹ (ایف ایم یو) کو دیں تاکہ ان کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی چھان بین کے بعد مالیاتی نگرانی یونٹ ان معاملات کو وفاقی تحقیقاتی ادارے یا پولیس کے سپرد کر سکتا ہے تاکہ کالعدم عسکریت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ مارچ کے دوسرے ہفتے میں مرکزی بینک نے بینکوں کے چیف ایگزیکیٹو افسران کے لئے تازہ رہنما اصول جاری کیے ہیں جن میں انہیں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ کالعدم تنظیموں کو بینکاری نظام سے دور رکھنے کے لئے نئی ہدایات پر عمل درآمد کیا جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک ہدایت نامے کے مطابق مرکزی بینک نے ان رہنما اصولوں میں کہا ہے کہ بینک اور ترقیاتی مالیاتی ادارے غیر سرکاری تنظیموں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرتے وقت قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ بینک اکاؤنٹس صرف قانونی مقاصد کے لئے ہیں۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا کہ کسی غیر سرکاری تنظیم یا غیر منافع بخش تنظیم کے نام پر اکاؤنٹس کھولنے والے صارفین کو اس کے اندراجی دستاویزات میں دیے گئے نام کو استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے والے مجاز افراد کو قواعد و ضوابط کی پاسداری کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان افراد کا کسی بھی کالعدم ادارے سے تعلق نہ ہو۔ غیر سرکاری تنظیموں/غیر منافع بخش تنظیموں کی جانب سے چندوں کے لئے دیے گئے اشتہارات میں بینکوں کو اکاؤنٹس اور اکاؤنٹ نمبروں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ مالی امداد یا عطیات جمع کرنے کی غرض سے کسی بھی شخص کو اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اس ہدایت نامے کے مطابق بینکوں کو نئے اکاؤنٹس کھولتے وقت غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں سے مندرجہ ذیل دستاویزات طلب کرنا ہوں گی  اندراج کی دستاویزات/اسناد، ذیلی قوانین/قواعد و ضوابط کی مصدقہ نقول؛   نئے اکاؤنٹس کھولنے اور افراد کو ان اکاؤنٹس کو استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لئے گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کی قرارداد؛   مجاز افراد اور گورننگ باڈی/انتظامی کمیٹی کے اراکین کے مؤثر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈز، سالانہ کھاتوں/مالی گوشواروں یا اقرار ناموں کی مصدقہ نقول تا کہ بینکوں کو متوقع صارفین کے خطرے کا تخمینہ لگانے کے لئے ان کی سرگرمیوں، فنڈز کے ذرائع اور استعمال کو جاننے کے بارے میں مدد مل سکے۔ ہدایت نامے میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ بینکاروں کو اے ایم ایل/سی ایف ٹی کی آن لائن تربیت دی جائے تا کہ نگرانی کا نظام سخت کیا جا سکے۔ اس میں بینکوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 15 اپریل 2012 تک اپنے تربیتی پروگراموں کے بارے میں آگاہ کریں۔ شراکتی ترقی کے منصوبے نامی کراچی کی ایک غیر سرکاری تنظیم کے رابطہ کار فہیم رضا نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ نئے قواعد کے ذریعے عسکریت پسندوں کی کسی غیر سرکاری تنظیم/غیر منافع بخش تنظیم کی آڑ میں بینک اکاؤنٹس کھولنے یا بینکوں کے ذریعے عطیات جمع کرنے کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں 20 ہزار سے زائد غیر سرکاری تنظیمیں/غیر منافع بخش تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام غیر سرکاری تنظیموں کو شہری، ضلعی اور صوبائی سطح پر اندراج کرانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں نہ تو حکومت اور نہ ہی کوئی نگران ادارہ غیر سرکاری تنظیموں اور غیر منافع بخش تنظیموں کے مالی ذرائع کی نگرانی کر رہا ہے مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی ہدایات سے یہ تنظیمیں اپنے مالی لین دین کو زیادہ محتاط انداز میں سر انجام دیں گی۔ پاکستان نے 20 سے زائد عسکریت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ بڑی کالعدم تنظیموں میں شامل ہیں: القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، سپاہ صحابہ، سپاہ محمد، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، جماعت الدعوتہ، تحریک نفاذ شریعت محمدی، لشکر اسلام، حزب التحریر، خدام اسلام، جمعیت الانصار اور بلوچستان لبریشن آرمی۔

پشاور – علماء کا کہنا ہے کہ خودکش بمبار اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ مرنے کے بعد جنت میں داخل ہوں گے۔ پار ہوتی، مردان کے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ خودکش بمبار روئے زمین پر سب سے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ مرنے کے بعد انہیں نہ تو عام مسلمانوں کی طرح غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی ان کی اسلامی طریقے سے تدفین ہوتی ہے۔ مردان کے علاقہ پار ہوتی کے محلہ نیو اسلام آباد میں امام کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے والے مولانا امین اللہ شاہ نے کہا کہ انہیں رحمان اللہ کی حالت پر افسوس ہے جسے نماز جنازہ پڑھائے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔ 17 سالہ رحمان اللہ نے گزشتہ سال ستمبر میں افغان اور اتحادی فورسز پر خودکش حملہ کیا تھا۔ رحمان اللہ کے والد غفران خان ایک دیہاڑی دار مزدور ہیں اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا اب تک غم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے رحمان اللہ کو اغوا کر کے اس کے ذہنی خیالات تبدیل کر دیے تھے۔ انہیں اپنے بیٹے کی لاش یا اس کی تدفین کا عمل دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور انہیں اپنے بیٹے کی موت کا تاحال یقین نہیں ہے۔
عسکریت پسندوں کی گرفت سے آزاد ہونے والے بعض افراد
اسی علاقے کے ایک اور لڑکے سیف اللہ کو اس وقت اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونا پڑا جب طالبان نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے مئی 2005 میں القاعدہ کے سینئر رہنما ابو فراج اللبی کی مردان سے گرفتاری سے پہلے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو معلومات فراہم کی تھیں۔اس کے والد نے بتایا کہ طالبان سیف اللہ کو اغوا کرنے میں ناکام رہے اور وہ بالآخر جرمنی پہنچ گیا۔ دیگر افراد نے اس کے والد کو اپنے بیٹے کے بحفاظت جرمنی پہنچ جانے پر مبارک باد دی ہے۔ سیف اللہ کے والد نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ اگر طالبان میرے بیٹے کو خودکش بمبار کے طور پر استعمال کر لیتے تو وہ غسل، نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہ جاتا، جو کہ مسلمانوں کے لئے موت کے بعد اہم رسومات ہیں۔ پشاور کے علاقے داؤد زئی کے ایک امام اجمل شاہ نے واضح لفظوں میں ان رسومات کی اہمیت کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے طالبان کی جانب سے نوعمر لڑکوں کو خودکش بمبار بننے کی ترغیب دینے کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خودکش بم دھماکے قابل مذمت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو دھماکے سے اڑا کر بے گناہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے والے افراد کے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں جیسا کہ ان کے تربیت کاروں نے ان سے وعدہ کیا تھا۔
طالبان کے ذہنی خیالات بدلنے کے طریقے
طالبان کے بھرتی کار نیم خواندہ، بے روزگار نوجوانوں کو اغوا کرنے یا ہلانے پھسلانے کے بعد انہیں پراپیگنڈا مواد پڑھنے کو دیتے ہیں اور جہادی وڈیوز دکھاتے ہیں تاکہ وہ دہشت گردی پر کاربند ہو جائیں۔ وہ ان نوجوانوں کو یہ بات کبھی نہیں بتاتے کہ خودکش حملہ کرنے سے وہ اسلامی طریقے سے تدفین اور نماز جنازہ کی رسومات کے پیدائشی حق سے محروم ہو جائیں گے۔ وہ قرآن میں جنت میں جانے کی آیات کی غلط تشریح بھی کرتے ہیں۔ شاہ نے جذباتی انداز میں سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا کہ یہ انتہائی المناک بات ہے کہ خودکش حملے کرنے والے نوجوانوں کے خیال میں وہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔ حقیقت میں انہیں خدا کے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اسلام میں خودکش حملے حرام ہیں۔ خدائی احکامات کی نافرمانی کرتے ہوئے خودکش بمبار بننے کا انتخاب کرنے والے افراد کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ بھرتی کار نوجوانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہوئے ہدف بنائے جانے والے افراد کو “کافر” قرار دیتے ہیں اور انہیں موت کی سزا سنانے کے فتوے جاری کرتے ہیں۔ یہ تربیت کار اپنے لڑکوں کی گمشدگی پر غمگین خاندانوں کو بتاتے ہیں کہ وہ “شہید” ہو چکے ہیں۔
خودکش بمباروں کا شرمناک انجام
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے شعبہ حادثات و ہنگامی صورت حال کے سربراہ ڈاکٹر شراق قیوم نے بتایا کہ حکام خودکش بم دھماکوں کا نشانہ بننے والے افراد کی جسمانی باقیات کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی کارکن ڈی این اے کے ذریعے ناموں کی شناخت ہونے کے بعد پہلے دفنائے گئے افراد کو قبر سے نکال کر دوبارہ دفن کرتے ہیں۔ تاہم خودکش بمباروں کی جسمانی باقیات کے ساتھ مختلف سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے پورے پاکستان میں جاری رواج کے حوالے سے کہا کہ ہم خودکش بمباروں کی باقیات کو کبھی دفن نہیں کرتے، انہیں فورنزک معائنوں کے مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر قیوم نے کہا کہ خودکش بمبار جنازے کے مستحق نہیں ہیں کیونکہ عوام ان کی کارروائیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ خودکش بمباروں کی باقیات کی یہ توہین اس لحاظ سے انتہائی غیر معمولی ہے کہ پاکستان میں تو ایسے افراد کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے جو بیرون ملک انتقال کر گئے تھے اور ان کی لاشیں وطن واپس نہیں لائی جا سکتیں۔ شبقدر کے رہائشی رحیم اللہ نے کہا کہ خودکش بمبار کا کردار اختیار کرنا اسلام چھوڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے۔ رحیم اللہ کا 19 سالہ بیٹا قاری نقیب اللہ ایک خودکش بمبار تھا جس نے مارچ 2011 میں افغانستان کے شہر قندھار میں اتحادی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں 10 فوجی جاں بحق ہو گئے تھے۔ چار سدہ کے علاقے سرخ ڈھیری کا رہائشی واحد اللہ جنوری 2008 میں لاپتہ ہو گیا۔ دو ماہ بعد طالبان عسکریت پسندوں کے ایک گروپ نے اس کے بزرگ والد جمعہ گل کو مطلع کیا کہ ان کا “شہید” بیٹا جنت میں چلا گیا ہے۔ والد نے سینٹرل ایشیا آن لائن سے گفتگو میں کہا کہ ایک دن علی الصبح طالبان نے جب مسجد میں داخل ہو کر مجھے یہ خبر سنائی تو پہلے مجھے یقین ہی نہیں آیا۔ میری ناپسندیدگی کے باوجود وہ مجھے مبارک بادیں دیتے رہے مگر میں اپنے بیٹے کے اس اقدام پر اب بھی لعنت ملامت کر رہا ہوں۔ واحد اللہ کے والد نے اپنے بیٹے کا سوگ تنہا ہی منایا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی موت پر تعزیت کرنا رحم دلی کی ایک اہم نشانی ہے جس کا اظہار نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے پیروکاروں نے بھی کیا تھا مگر میں انتہائی بدقسمت ہوں کہ میرے اکلوتے بیٹے کی موت پر کسی شخص نے بھی تعزیت نہیں کی۔ لوگ خودکش حملوں کو ناپسند کرتے ہیں اور اسی وجہ سے کسی نے بھی میرے ساتھ تعزیت نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی اموات والدین کے لئے تکلیف کا باعث ہیں اور انہیں بالکل یہ امید نہیں ہے کہ اللہ خود کو دھماکے سے اڑانے اور اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے ان کے بیٹوں پر کوئی رحم کرے گا۔ جمعہ گل نے مزید کہا کہ خودکش حملہ آوروں کے لئے کوئی شخص بھی “اللہ اس پر رحمت نازل کرے” یا “اس کی روح کو سکون پہنچائے” جیسے رحم دلانہ الفاظ نہیں کہتا جس سے ان کے اہل خانہ کی تکلیف میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسلام میں خود کشی حرام ہونے کے باوجود وہ لوگ جو خود کشی کرتے ہیں رشتہ داروں سے رسم غسل، نماز جنازہ اور دفن ہوتے ہیں- لیکن خود کش بمبار جو دوسروں کو مارتے ہیں ان کو کویئ قبول نہي کرتا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رسومات کی تردید ہوتی ہے، شاہ نے کہا خودکش بمباروں کے اہل خانہ کو تمام زندگی ایک اور دکھ بھی جھیلنا پڑتا ہے اور وہ ان کی قبر کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے دوست رشتہ دار مغفرت کی دعا کرنے کے لئے نہیں جا سکتے

گزشتہ اتوار سے بحیرہ شمالی میں معدنی گیس کے ایک پلیٹ فارم سے گیس کی بھاری مقدار خارج ہو رہی ہے۔ ابھی اس زہریلی گیس کی اصل نوعیت معلوم نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ پتہ چل رہا ہے کہ اس سے ماحول کو کس قدر نقصان پہنچے گا۔ سکاٹ لینڈ کے ساحلوں سے 240 کلومیٹر دور سمندر کے بیچوں بیچ واقع Elgin نامی یہ پلیٹ فارم فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی ملکیت ہے۔ گیس کا اخراج شروع ہونے پر یہ پلیٹ فارم بند کیا جا چکا ہے۔ چونکہ اس پلیٹ فارم سے تیزابی گیس کے ساتھ ساتھ مائع شکل میں معدنی گیس بھی نکالی جاتی ہے، اس لیے ماہرین کے خیال میں زیادہ امکان یہی ہے کہ اخراج بھی انہی گیسوں کا ہو رہا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے اردگرد 4.8 مربع کلومیٹر کے علاقے میں تیل کی پتلی سی تہہ پانی کی سطح پر نظر آ رہی ہے، جو غالباً مائع معدنی گیس کے مرکب ہی کا نتیجہ ہے۔ تیزابی گیس میں زیادہ مقدار معدنی گیس کی ہوتی ہے جبکہ اس میں کچھ فیصد ہائیڈروجن سلفائیڈ نامی مادہ بھی شامل ہوتا ہے، جس کی بُو خراب انڈوں کی سی ہوتی ہے اور جو بہت زیادہ زہریلا ہوتا ہے۔ یہ گیس انسانی خون میں موجود اُس سرخ مادے کو تباہ کرتی ہے، جو جسم میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کم مقدار میں بھی یہ گیس انسانوں اور دیگر جانداروں کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔تحفظ ماحول کے علمبردار حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ فضا اور پانی میں اس گیس کی زیادہ مقدار میں آمیزش کے نتیجے میں اردگرد کے علاقے کا پورا ماحولیاتی نظام تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ آکسیجن کی مخصوص مقدار کے ساتھ مل کر یہ گیس بہت تیزی سے آگ پکڑ سکتی ہے اور یوں گیس کے دھماکے سے پورا پلیٹ فارم تباہ بھی ہو سکتا ہے۔ اِسی طرح کے خطرات کی وجہ سے اس پلیٹ فارم کی مالک کمپنی Total نے اپنے عملے کے تمام 238 ارکان کو وہاں سے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نکال کر خشکی پر پہنچا دیا ہے۔ معدنی تیل اور گیس نکالنے والے دو قریبی پلیٹ فارم بھی، جو Shell کمپنی کی ملکیت ہیں، خالی کروا لیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پولیس نے اس پلیٹ فارم کے اردگرد تین میل کے علاقے میں طیاروں کے اور دو میل کے علاقے میں بحری جہازوں کے داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ معدنی گیس کے کاروبار پر نظر رکھنے والے ایک ماہر اسٹوآرٹ جوائنر نے، جن کا تعلق Investec-Bank سے ہے، بتایا:’’خراب ترین صورت یہ ہو سکتی ہے کہ پائپ لائن میں گیس کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اضافی کنواں کھودا جانا پڑے۔ تاہم ابھی یہ بہت دور کی بات لگتی ہے۔ اگر اضافی کنواں کھودنا پڑ گیا تو اس میں چھ مہینے یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔‘‘دریں اثناء یہ پتہ چلا لیا گیا ہے کہ یہ گیس چار ہزار میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی ایک پائپ لائن سے خارج ہو رہی ہے۔ ٹوٹل کمپنی نے شگاف کا سراغ لگانے اور حالات کو قابو میں لانے کے لیے ایک آبدوز اور آگ بجھانے والے دو بحری جہاز اس پلیٹ فارم کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے نتیجے میں بازارِ حصص میں ٹوٹل کے شیئرز کی قدر و قیمت میں بڑے پیمانے پر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بیجنگ: چین نے ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی بارے امریکی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کو اجتماعی سزا دے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پالیسی بالکل واضح اور موقف ٹھوس ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ چین نے ہمیشہ ایسی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ عمل کریگا جس کے تحت کسی دوسرے ملک کو اجتماعی سزا دی جائے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہمارے قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

اسلام آباد: اوگرا میں گیس چوری میں معاونت اور غیر قانونی سی این جی لائسنس  اور 52 ارب روپے کے فراڈ کے انکشاف ہوا ہے اور نیب نے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کے دور میں 52 ارب روپے کا فراڈ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اوگرا نے 860 لائسنس جاری کئے اور 30 سے 40 لاکھ روپے فی لائسنس وصول کیا ہے۔ اس کے علاوہ 55 غیر قانونی   بھرتیاں کی گئیں اور وکلاء کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد رقم فیس کی مد میں ادا کی گئی، اس کے علاوہ گیس چوری کی اجازت دی گئی۔

طرابلس: لیبیا میں مسلح قبائل کے درمیان گزشتہ چھ روز سے جاری جھڑپوں میں ایک سو سینتالیس افراد ہلاک اور تین سو پچانوے زخمی ہوگئے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لیبین وزیر صحت فاطمہ المروشی نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک سو اسی شدید زخمیوں کو طرابلس منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ جنوبی ریجن میں یہ جھڑپیں عرب ابوسیف اور افریقین تبسو قبائل کے درمیان ایک ہفتہ قبل اس وقت شروع ہوئیں تھیں جب تبسو قبائل کی فائرنگ سے ابو سیف قبائل کا ایک رکن ہلاک ہوا۔ ابو لیف سابق صدر قذافی کا حامی جبکہ تبسو مخالف ہے۔ ان دونوں قبائل کے درمیان اس سے قبل فروری میں بھی جھڑپیں ہوئیں تھیں جن میں دو اطراف سے متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

لندن: برطانیہ نے شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے مینشن ہاؤس میں اپنے سالانہ خطاب میں کہا کہ برطانیہ شام میں اپوزیشن گروپوں کیلئے امداد کو دوگنا کرتے ہوئے پانچ لاکھ پاؤنڈ دیگا اور یہ امداد سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی معاونت پر بھی خرچ کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ رقم شام سے باہر رہنے والے اپوزیشن گروپوں کی معاونت کیلئے بھی استعمال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار الاسد کو یہ جان لینا چاہئے کہ اب ان کے اقتدار میں رہنے کیلئے کوئی صورتحال نہیں ہے۔

حیدرآباد : سندھ ترقی پسند پارٹی کے وائس چیئرمین حیدر شاہانی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ میں حالات خراب کرکے نیا صوبہ بنانے کا جواز پیدا کررہی ہے۔ پریس کلب میں ایس ٹی پی کے مرکزی رہنماؤں ہوت خان گاڈھی و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹنڈوالہیار میں مسلح افراد نے ایس ٹی پی آفس پر حملہ کرکے ایک کارکن کو شہید جبکہ دس سے زائد کارکنوں کو زخمی کردیا‘ اس موقع پر صورتحال خراب ہونے کے باوجود پولیس غائب تھی‘ بعد ازاں رینجرز پہنچی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعہ کسی پلاٹ کا تنازعہ نہیں تھا وہاں پارٹی کا دفتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام سندھ کی وحدت پر وار کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اردو بولنے والے ہمارے بھائی ہیں‘ ان کا جینا مرنا سندھ کے ساتھ ہے‘ لسانی تنظیم اردو بولنے والوں کو بدنام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹنڈوالہیار اور کراچی میں دو کارکنوں کی شہادت کے بعد بھی ایس ٹی پی اپنے کارکنوں کو پرامن رہنے کی تلقین کررہی ہے‘ ہمارے لئے سندھ کی یک جہتی و امن اہم ہے

کراچی: بھارتی فوج میں رشوت اسکینڈل نے بھارتی ایوانوں میں کھلبلی مچادی ہے۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حکمراں پارٹیوں کے ارکان لوک سبھا اور ارکان راجیہ سبھا نے اپنی قیادت سے سوالات شروع کردیئے ہیں جبکہ وزیردفاع نے بھی اس معاملے پرصدرپرتیبھاپاٹل سے ملاقات کی ہے، خصوصی ذرائع سے معلوم ہواہے کہ آرمی چیف وی کے سنگھ کی صدر جمہوریہ آفس میں جمعہ کے روز طلبی ہوگئی ہے جبکہ ہفتہ کے روز پرائم منسٹر نے بھی آرمی چیف کو طلب کیا ہے۔ ادھر اپوزیشن نے آرمی چیف کی تقرری پر اپنے اعتراضات کو حکمراں پارٹی کے سامنے دہرایا ہے،کہا جارہا ہے کہ جب سونیا گاندھی کی طرف سے وی کے سنگھ کو آرمی چیف بنانے کی بات چل رہی تھی تو اپوزیشن رہنما ایل کے ایڈوانی نے اس پر اعتراض کیاتھا اورکہا تھاکہ وہ بھارتی فوج کیلئے بدنما داغ ثابت ہوں گے۔ معلوم ہوا ہے کہ صدر جمہوریہ پرتیبھاپاٹل نے وزیر دفاع کو بھی جمعرات کے روز بلایا تھا اور طویل دورانئے کی ملاقات میں آرمی چیف کے رشوت معاملہ پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ ادھر سی بی آئی کے سربراہ نے جمعرات کے روز صدر جمہوریہ کو بھارتی آرمی چیف کی طرف سے ملنے والی دستاویز دکھائی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بھارتی آرمی چیف کے آئے دن کے بیانات نے وزارت دفاع اور وزیر دفاع کو مشکل سے دوچار کردیا ہے۔ اس معاملے کو کنٹرول کرنے کیلئے اتوار کے روز پرائم منسٹر نے نامزد آرمی چیف کو پرائم منسٹر ہاؤس بلایا ہے تاکہ اس معاملے میں درست دستاویز پارلیمنٹ میں لاکر ایوان کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

واشنگٹن … امريکي صدر بارک اوباما نے ايران پر تيل درآمد کرنے کي نئي پابندياں عائد کرنے کي منظوري دے دي ہے.غيرملکي خبر ايجنسي نے امريکي کانگريس کے حکام کے حوالے سے بتايا کہ صدر اوباما سمجھتے ہيں کہ دنيا ميں ايسے ممالک کي تعداد زيادہ ہے جو ايران سے زيادہ تيل سپلائي کرتے ہيں.صدر اوباما کا خيال ہے کہ ايران پر تيل کي پابنديوں سے تيل کي طلب ميں فرق نہيں پڑے گا.امريکي صدر کا مزيد کہنا ہے کہ تيل پيداکرنے والے ممالک کي جانب سے پيداوار بڑھانے،معاشي صورتحال اور تيل کے موجودہ ذخائر کي روشني ميں ايران پر تيل کي پابنديوں کو فيصلہ کيا گيا ہے.

کراچي ميں پر تشدد کارروائيوں ميں گذشتہ چوبيس گھنٹوں کے دوران فائرنگ کے نتيجے ميں مرنے والوں کي تعداد 14 ہوگئي. ايم کيو ايم رابطہ کميٹي کي جانب سے آج پرامن يوم سوگ کي اپيل کي گئي. تازہ ترين ہلاکت اورنگي ٹاو?ن سے رپورٹ ہوئي جہاں پوليس کے مطابق 40سالہ صلاح الدين کي گوليوں سے چھلني لاش ملي. اس کے علاوہ کورنگي کراسنگ پر نامعلوم شرپسندوں نے واٹر ٹينکر کو آگ لگانے کي کوشش کي جس کے دوران ڈرائيور جھلس گيا. علي الصبح فائرنگ کے واقعات کورنگي نمبر 6، اورنگي ٹاو?ن علي گڑھ بازار اور گلبہار ميں پيش آئے . واضح رہے کہ گذشتہ رات اورنگي ٹاو ن کے علاقے بنارس پل کے قريب موٹر سائيکل اور کار سوار افراد پر مسلح افراد نے فائرنگ کردي جسکے نتيجے ميں پانچ افراد زخمي ہوگئے، جنہيں فوري طور پر عباسي شہيد اسپتال منتقل کرديا گيا. دوران علاج چار افراد دم توڑ گئے جن ميں باپ وسيم اور بيٹا احسن بھي شامل ہيں. بنارس واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں ميں حالات کشيدہ ہوگئے وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگيا جسکے نتيجے ميں اورنگي دس نمبر ميں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ايک شخص کو ہلاک کرديا. يوپي موڑ پر نامعلوم مسلح افراد نے خان کوچ کے ڈرائيور کو قتل کرديا. ڈيفنس فيز ٹو ميں پيٹرول پمپ پر مسلح ملزمان نے گاڑي نمبراے ايل اے097 پر فائرنگ کردي جسکے نتيجے ميں کار کا ڈرائيورذوہيب ہلاک ہوگيا جبکہ اسکا ايک ساتھي زخمي ہوگيا. ايم کيو ايم رابطہ کميٹي کي جانب سے آج پرامن يوم سوگ ، اور دکانداروں اور تاجروں سے کاروبار بند رکھنے کي اپيل کي گئي ہے

کوئٹہ ميں گزشتہ روزاسپني روڈ پر فائرنگ اور بعد ميں ہنگامہ آرائي کے دوران آٹھ افراد کي ہلاکت کے واقعات کے خلاف شٹر ڈاون ہڑتال کي جارہي ہے،دوسري جانب واقعہ ميں جاں بحق افراد کي تدفين آج سہ پہر ہزارہ قبرستان ميں کردي گئي . اسپني روڈ پرفائرنگ کے واقعہ ميں چھ افراد اور بعد ميں احتجاج اور ہنگامہ آرائي کے دوران دو مزيد افراد کي ہلاکت کے خلاف شہر ميں ہزارہ ڈيموکريٹک پارٹي اورپشتونخواملي عوامي پارٹي کي جانب سے شٹر ڈاون ہڑتال کي کال دي گئي تھي، ہڑتال کي حمايت اے اين پي، بي اين پي، جے ڈبليو پي اور مرکزي انجمن تاجران نے بھي کي تھي، جس کے نتيجے ميں آج لياقت بازار،عبدالستارروڈ،جناح روڈ،قندہاري بازار،طوغي روڈ، مري آباد،مسجدروڈ،بروري،پشتون آباد،نواں کلي اوراس سے ملحقہ علاقوں ميں اہم کاروباري مراکز بندہيں اور ٹريف بھي معمول سے کم ہے، اس موقع پر اسکولوں و دفاترميں حاضري بھي کم رہي،کوئٹہ شہر ميں کسي بھي ناخوشگوارواقعہ سے نمنٹنے کيلئے پوليس کي بھاري نفري بھي تعينات کي گئي ہے اور مساجد اور امام بارگاہوں کے باہر بھي خصوصي انتظامات کئے گئے تھے، تاہم شہر کے کسي حصے سے اب تک کسي ناخوشگوارواقعہ کي اطلاع موصول نہيں ہوئي، دوسري جانب سپني روڈ کے واقعہ ميں چھ افراد کي ہلاکت کے حوالے سے علمدارروڈ،ہزارہ ٹاون،مري آباد، نيچاري اور ملحقہ علاقوں ميں سوگ کي کيفيت ہے اور واقعہ ميں جاں بحق ہونے، دوسري جانب واقعہ ميں جاں بحق ہونے والے پانچ افراد کي تدفين ہزارہ قبرستان ميں کردي گئي،تدفين ميں لواحقين کے علاوہ لوگوں کي بڑي تعداد نے شرکت ک

پاکستانی سياستدان عمران خان اور متنازعہ برطانوی مصنف سلمان رشدی کے مابين تنازعہ گزشتہ دنوں سوشل ميڈيا پر عوام اور بلاگرز کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ پاکستانی کرکٹ کے سابق ستارے اور حاليہ سياستدان عمران خان نے رواں ماہ بھارت ميں ايک کانفرنس ميں شرکت سے انکار کر ديا تھا۔ اطلاعات کے مطابق عمران خان نے اس تقريب کا حصہ بننے سے انکار اس ليے کيا کيونکہ اس ميں بھارتی نژاد برطانوی مصنف سلمان رشدی کی شرکت بھی متوقع تھی۔ عمران کا کہنا تھا کہ رشدی اپنی متنازعہ کتاب کے باعث دنيا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنے۔ بس يہی وجہ تھی کہ عمران ان کا سامنا نہيں کرنا چاہتے تھے۔ ادھر عمران خان کی يہ بات سلمان رشدی کے دل کو لگ گئی۔ انہوں نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں عمران خان کو سخت تنقيد کا نشانہ ہی نہيں بنايا بلکہ ذاتيات کی ايک نئی جنگ چھيڑ دی۔ اب ادھر رشدی پاکستانی سياستدان کو ’عِم دا ڈم‘ کے نام سے پکارتے ہيں تو دوسری طرف عمران اس متنازعہ مصنف کو ’چھوٹی ذہنيت‘ کا حامل قرار ديتے ہيں۔ اطلاعات کے مطابق رشدی تو اب يہ بھی اعلان کر چکے ہيں کہ وہ عمران خان کے بارے میں ايک کتاب بھی لکھيں گے۔ يہ معاملہ گزشتہ دنوں بھارت اور پاکستان ميں فيس بک اور ٹوئٹر استعمال کرنے والے صارفین کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ دونوں ممالک اور مغربی دنيا ميں بھی اس موضوع پر بلاگرز نے اپنے خيالات کا اظہار کيا۔ دی انڈیپينڈنٹ بلاگ ويب سائٹ پر اپنے خيالات کا اظہار کرتے ہوئے جان ايليٹ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی نے نئی دہلی ميں منعقدہ تقريب ميں تقرير کے ليے اپنے مقررہ وقت کو بطور مصنف اپنے آپ کو مزيد منوانے کے بجائے محض عمران خان کے خلاف باتیں کرنے کے ليے استعمال کيا۔ بلاگر کے بقول وہ اس اقدام کے ذريعے شہرت حاصل کرنے ميں کامياب ضرور ہوئے ہيں جس کی بدولت ان کی کتاب کی فروخت بڑھے گی۔پاکستان سے روزنامہ ڈان کے آن لائن ايڈيشن کے ليے لکھتے ہوئے نديم فاروق پراچہ کا کہنا ہے کہ يہ معاملہ ابھی ختم نہيں ہوا ہے اور اگر رشدی عمران خان پر واقعی کوئی کتاب لکھتے ہیں تو يہ تنازعہ پھر سے ابھر کر سامنے آ جائے گا۔ ڈان کے انٹرنيٹ ايڈيشن پر شائع ہونے والے اس بلاگ ميں نعيم اللہ شاہ لکھتے ہيں کہ سلمان رشدی، عمران خان کا نام استعمال کرتے ہوئے ميڈيا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہيں تاکہ وہ مزيد مشہور ہو سکيں۔ دوسری جانب دی نيو يارک ٹائمز کے بھارتی ايڈيشن ميں انٹرنيٹ پر شائع بلاگ ميں ہيدر ٹمنز لکھتی ہيں کہ سلمان رشدی بھارت ميں تيزی سے ایک آزاد خيال رہنما کے طور پر اپنی شناخت بناتے جا رہے ہيں۔ فيس بک اور ٹوئٹر پر ان دنوں بھی عوام کی ايک بڑی تعداد اس معاملے پر کھل کے اپنے خيالات کا اظہار کر رہی ہے۔ ديکھنا يہ ہے کہ يہ تنازعہ آگے چل کر کيا رخ اختيار کرتا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس:  اسرائیل کی ایک عدالت میں پیش کیے گئے ایک فلسطینی بچے “مجاہدانہ جرات”کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت کے جج کو بھی کھری کھری سنا دیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی عدالت “عوفر” میں پیش کیے گئے ایک کم سن بچے نے جج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہا کہ”آپ ایک منظم گینگ اور دہشت گرد مافیا ہیں۔ ہم سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے لیکن میں اسرائیل کو نہیں مانتا”۔مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت میں پیش کیے گئے سات فلسطینی بچوں پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ یہودی آباد کاروں اور اسرائیلی فوج کی گاڑیوں پر پتھر پھینکتے ہیں۔ اس پرعدالت نے جب بے سے اس کا موقف پوچھا تووہ اس نے نہایت اعتماد کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ “وہ اور اس کے دوست اسرائیل کی کسی عدالت کو مانتے ہیں اور نہ ہی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ ہمارے نزدیک اسرائیل اور اس کے تمام ادارے “منظم گینگ” ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے تیار کیا گیا ہے”۔ عدالت میں پیش کیے گئے تمام فلسطینی مقبوضہ الخلیل شہر کے شمال میں بیت امر سے گرفتار کیے گئے تھے۔فلسطینی انسانی حقوق کے ایک مندوب اور کلب برائے اسیران کے وکیل نے بتایا کہ اسرائیلی عدالت “عوفر”میں جس بچے نے جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم جج کے سامنے کلمہ حق کہا اس کی احمد الصلیبی کے نام سے شناخت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عوفرکی عدالت میں جب بچوں کو پیش کیا گیا تو عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ وہ ان محروس لڑکوں کے خلاف تیار کی گئی فرد جرم پڑھ کر سنائیں۔ ابھی ملٹری پراسیکیوٹر نے فرد جرم پڑھنا شروع کی تھی کہ ان میں سے ایک بچہ بول پڑا۔ اس نے کہا کہ میری عمر پندرہ سال ہے اور میں عالمی قوانین کی رو سے ابھی بچہ ہوں، میرا شعور اور وجدان یہ کہتا ہے کہ میرا اور میرے ساتھیوں کا ٹرائل ظالمانہ ہے، میں نہ عدالت کو مانتا ہوں اور نہ ہی اس کے فیصلے اور نہ صہیونی ریاست کو، کیونکہ یہ سب منظم مافیا اور دہشت گرد گینگ ہے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ جب جج نے فلسطینی بچے کے یہ ریمارکس سنے توغصے سے آگ بگولا ہو گیا اور تمام بچوں کو دھمکیاں دیتا ہوا کمرہ عدالت سے نکل گیا اور کہا کہ میں تمہیں سخت ترین سزائیں سناؤں گا۔ خیال رہے کہ احمد الصلیبی کو رواں بارہ تاریخ کو الخلیل میں بیت امر کے مقام سے حراست میں لیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد اسرائیلی فوج نے اس پر ظالمانہ تشدد کیا ہے اور اسے ہولناک اذیتیں دی گئیں۔ تاہم اس نے تمام تر مظالم سہتے ہوئے صہیونی مجرم کے سامنے کلمہ حق کہہ کر فلسطینیوں کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں

قلقیلیہ :  فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں فلسطینیوں کے اسرائیل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران صہیونی فوج کے تشدد کے نتیجے میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں سمیت دسیوں غیرملکی اور مقامی شہری زخمی ہو گئے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق گزشتہ روز د مغربی کنارے کے شمالی شہر قلقیلیہ میں کفرقدوم کے مقام پر فلسطینیوں نے اسرائیلی مظالم، یہودی آباد کاری انتہا پسندوں کے حملوں اور نسلی دیوارکے خلاف ایک ریلی نکالی۔ احتجاجی ریلی میں جنوبی افریقہ اور پرتگال کے فلسطین میں متعین سفیروں سمیت کئی غیرملکی شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکا میں کئی افراد کا تعلق یورپی ملکوں سے بھی تھا۔قلقیلیہ کے وسط سے نکلنے والی احتجاجی ریلی شہر کے کئی سال سے بند داخلی دروازے کی طرف بڑھی، لیکن وہاں پر تعینات صہیونی فوج نے ریلی پراشک آور گیس کے گولے پھینکے جس کے نتیجے میں کئی غیرملکی شہریوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں رام اللہ میں متعین جنوبی افریقہ اور پرتگال کے سفیروں کے علاوہ ایک فرانسیسی انسانی حقوق کی خاتون سماجی کارکن بھی زخمی ہو گئیں۔ادھر گزشتہ روز بلعین میں بھی ایک احتجاجی ریلی پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور اشک اور گیس کی شیلنگ سے کئی بچوں اور خواتین سمیت ایک درجن افراد زخمی ہو گئے۔ آنسوگیس کے شیل لگنے سے زخمی اور زہریلی گیس کے باعث متاثر ہونے والے شہریوں کو فوری طبی امداد دی گئی تاہم تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے

نابلس :  فلسطینی انسانی حقوق کی تنظیم نے پنتیس روز سے اسرائیلی عقوبت خانے میں بھوک ہڑتال جاری رکھنے والی فلسطینی اسیرہ ھنا الشلبی کی ابتر صحت کے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الشلبی اپنی نازک حالت کے باعث کسی بھی وقت موت کے منہ میں جا سکتی ہیں۔ گزشتہ برس حماس اور اسرائیل کے مابین تبادلہ اسیران معاہدے کے تحت رہائی پا کر دوبارہ گرفتار کی جانے والی ھنا الشلبی نے بغیر کسی فرد جرم کے اپنی چار ماہ کی انتظامی حراست کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ اسیرہ کی زندگی شدید خطرے میں ہے اور وہ کسی بھی وقت موت سے ہمکنار ہو سکتی ہیں۔ ان کی دل کی دھڑکنیں انتہائی کمزور ہو چکی ہیں۔ جگر نے کام کرنا بند کر دیا،نظام انہضام تباہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے خون بھی زہر آلود ہوچکا ہے۔ فلسطین میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے اسیرہ ھنا الشلبی اور انتظامی بنیادوں پر حراست میں رکھے گئے تمام افراد کو فی الفور رہا کرنے کا مطالبہ کیا اور زیر حراست افراد کی زندگیوں کی ذمہ داری بھی اسرائیلی حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ریڈ کراس سے بھی اسرائیلی حکام پر بے گناہ فلسطینی اسیرہ کی رہائی کا دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا

برسلز: یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے صدر بشارالاسد کی اہلیہ اسماء الاسد سمیت دیگر بارہ اہلِ خانہ پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن کے تحت نہ صرف ان کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں بلکہ ان کے یورپ آنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔یورپی اتحاد کے وزرائے خارجہ نے جن بارہ افراد پر یہ پابندیاں عائد کی ہیں ان میں صدر بشار الاسد کی والدہ اور بہن بھی شامل ہیں۔دوسری جانب برطانیہ کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی اہلیہ اسمائ[L:4 R:4] الاسد برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں اس لیے برطانوی شہریوں کو یورپی یونین کی پابندی کے باوجود برطانیہ میں داخل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا۔ صدر بشارالاسد کی اہلیہ کے مغرب میں پروان چڑھنے کی وجہ سے مغرب میں یہ تاثر تھا کہ وہ شام میں اصلاحات کی وجہ بن سکتی ہیں۔چھتیس سالہ شامی نڑاد اسمائ[L:4 R:4] الاسد نے زندگی کا بیشتر حصّہ مغربی لندن میں گزارا ہے اور برطانیہ کی بارڈر ایجنسی نے ان کے برطانوی شہری ہونے کی تصدیق کی ہے۔برطانوی وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ اسماء الاسد جلد برطانیہ کا دورہ کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں اور برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو برطانیہ آنے کی اجازت ہے۔واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں بشار الاسدسے شادی سے پہلے اسماء لندن میں انویسٹمینٹ بینکر رہی ہیں اور بشار الاسد کی حکومت میں کبھی پیش پیش نہیں رہیںگزشتہ ہفتے صدر بشار الاسد کے مخالفین نے اسماء الاسدکی تین ہزار ای میلز شائی کی تھیں جن کے مطابق وہ صدر کے خلاف بغاوت کے باوجود بھی آن لائن شاپنگ کے ذریعے قیمتی اشیاء خریدتی رہیں تاہم ان پیغامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی

نئی دہلی: بھارت کے سابق آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ نے کہا ہے کہ انہیں غیر معیاری فوجی گاڑیوں کو کلیرکرنے پر 14کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔بھارتی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ یہ لابسٹ جو حال ہی میں فوج سے ریٹائر ہو چکا ہے اس نے انہیں کہا کہ اگر وہ فوج کے کچھ سامان کی خرید کو کلئیر کردیں تو وہ انہیں 14کروڑ روپے رشوت کے طور پر دے گا، جنرل سنگھ نے مزید بتایا کہ فوجی سامان میں 600غیر معیاری گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی کلئیرنس کے لئے انہیں معاوضہ کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج کے استعمال میں 7ہزار سے زائد گاڑیاں ہیں جن کی خرید و فروخت کے بارے میں کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔جنرل سنگھ نے کہا کہ انہوں نے اس بات کی اطلاع وزیر دفاع اے کے انتھونی کو بھی دے دی تھی

کنساس: افغانستان کے شہر قندھار میں 17 معصوم شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی فوجی پر باضابطہ الزامات عائد کردیے گئے ہیں۔امریکی فوجی سارجنٹ رابرٹ بیلز پر 11 مارچ کو قندھار میں اندھا دھند فائرنگ کرکے افغان شہریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا الزام ہے۔ وہ اس وقت فورٹ لیون ورتھ بیس کنساس میں زیر حراست ہے۔ لیکن اب یہ کیس لوئس میک کورڈ بیس منتقل کردیا گیا ہے۔ عام طور پر کسی امریکی فوجی پر مقدمہ چلانے کے مقام کا تعین کرنے کے اس عمل میں ڈیڑھ سے دو سال لگتے ہیں جس کے بعد کورٹ مارشل کی اصل کارروائی شروع ہوگی

سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ مصرس سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سعودی عرب میں ایک سیاسی سرگرم رکن  نے موج البحر کے عنوان سےکہا ہے کہ  سعودی عرب کے ولیعہد کو دماغ کا دورہ پڑا ہے جبکہ وہ دل کے دورے کے بھی مریض ہیں۔ سعودی عرب کے اس سیاسی سرگرم رکن کے مطابق اس نے پہلے سلطان بن عبد العزیز کے بارے میں بھی ایسی ہی اطلاعات پیش کی تھیں جو صحیح ثابت ہوئيں جبکہ سعودی حکام بالخصوص آل سعود اپنی اطلاعات اور اپنے راز کو پوشیدہ اور مخفی رکھنے کی تلاش و کوشش کرتے ہیں۔ موج البحر کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد نایف بن عبد العزیزدماغی سکتہ اور دل کے دورہ میں مبتلا ہیں اور امریکہ جانے کی اصل وجہ بھی یہی ہے وہ طویل مدت تک امریکہ میں رہنے کے لئے مجبور ہے۔ موج البحرکےمطابق آل سعود اس وقت سخت بحران میں گرفتارہیں کیونکہ سعودی عرب کے اعلی حکام اس وقت لا علاج بیماریوں میں مبتلا ہیں۔

سانحہ کوہستان کے بعد آغا راحت حسینی کی جانب سے دی جانے والی ڈیڈ لائن کے آخری دن آج مرکزی انجمن امامیہ کا اجلاس گلگت میں آغا راحت حسینی کی صدارت میں ختم ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق اجلاس میں ڈیڈ لائن کے ختم ہونے کے بعد لا ئحہ عمل طے کیا گیا جس کا اعلان آج بعد نماز ظہر کیا جانا تھا۔  دوران اجلاس وزیر داخلہ رحمان ملک نے آغا راحت حسینی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی اور ایک دن کی مہلت مانگی جس پر متفقہ طور پر حکومت کو مزید ایک دن کی مہلت دے دی گئی ہے۔ نمائندے کی اطلاعات کےمطابق سانحہ کوہستان کے بعد سے گلگت بلتستان میں تا حال کشیدگی برقرار ہے ۔ نمائندے نے مزید بتایا کے کل تک کی مہلت ملنے کے بعد حکومت کی طرف سے عملی اقدام کا انتظار کیا جائے گا اور پھر آئندہ کے لائحہ عمل کا عوام کے سامنے کل اعلان کیا جائے گا۔ نمائندے کیمطابق اس بات کا بھی امکان ہے کہ اگر حکومت کی طرف سے مطالبات پر اقدامات نہ کئے گئے تو کل گلگت میں سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کر دیا جائے۔ آغا راحت حسین الحسینی کی صدارت میں علما و عمائدین گلگت و بلتستان کا بند کمرہ اجلاس اختتام پذیر هو چکا هے ، دوران اجلاس رحمان ملک وفاقی وزیر داخلہ نے ٹیلی فونک رابطہ کے ذریعے وفد سے مذاکرات کرتے هوئے کها که سانحہ کوہستان کے قاتلوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے آج موسم کی خرابی کی وجہ سے گلگت نہیں پہنچ سکتا کل آکر آپ سے ملاقات کرکے اعلان کرونگا، آپکے تمام مطالبات پر عمل درآمد ہوگا، بعد از آن ملت جعفریہ گلگت بلتستان کی ۸ رکنی ’’مشترکہ سپریم کونسل‘‘ کی تشکیل کا اعلان کیا گیا هے ، علامہ شیخ حسن جعفری امام جمعہ و الجماعت اسکردو اور علامہ سید راحت حسین الحسینی امام جمعہ والجماعت گلگت کی سرپرستی ہوگی ۔جبکه کل تک کی مہلت کا اعلان کیا گیا هے ، تمام نوجوانوں کو مرکز سے مربوط رہنے کی ہدایت دیتے ہیں واضح رہے کہ سانحہ کوہستان میں گلگت جانے والی بس کو روک کر سفاک دہشت گردوں نے مومن مسافروں کو نیچے اتار کر شہید کردیا تھا جن کی تعداد ۱۸ تھی۔

ضلع تربت کی سب تحصیل مندبلو میں بس اڈے پر ایران سے آنے والے افراد پرنامعلوم شدت پسندوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہاں پر موجود 5 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 2 کی شناخت ہو گئی۔ جاں بحق ہو نے والوں میں ریاض احمد اور گلزار احمد شامل ہیں جبکہ 4 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں فیاض‘ شفیق‘ اعجاز‘ اوراحسان شامل ہیں۔ زخمیوں میں بعض کی حالت بہت تشویشناک ہے -عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے۔ جو حملہ کرنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے. واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ واقعہ میں جاں بحق افراد کی لاشوں کو ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے. اطلاعات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں ساہیوال ‘سیالکوٹ اور دیگر علاقوں سے ایک گروپ ہمسایہ ملک ایران زیارت کیلئے گیا تھا۔

فلسطین میں مسجد اقصیٰ کی تعمیرو مرمت کی ذمہ دار تنظیم” اقصیٰ فاؤنڈیشن” نے قبلہ اول کی دیوار براق کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک نئی صہیونی سازش کا انکشاف کیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں سرگرم ایک انتہا پسند یہودی گروپ نے امریکا کے شہر نیویارک کی بروکیلن کالونی میں قائم میوزیم میں دیوار براق جسے یہودی دیوار مبکی کے نام سے جانتے ہیں کا ایک قوی ہیکل مجسمہ نصب کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز دیواربراق کے اس نام نہاد مجسمے کی تنصیب کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اسرائیل کا ایک وزیر بھی موجود تھا۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن نے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے دیوار براق کے ڈھانچے کی امریکا میں تنصیب کو مسجد اقصیٰ کی تاریخ مسخ کرنے کی ایک سنگین سازش قرار دیا ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن و ٹرسٹ کی جانب سےجاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل دیوار براق کو مسجد اقصیٰ کا حصہ قرار دینے کے بجائے اسے قبلہ اول سے الگ اور مذموم ہیکل سلیمانی کا حصہ قرار دینے کی مہم چلا رہا ہے۔ امریکا میں یہودی گروپ کی جانب سے دیوار براق کا ہیکل تعمیر کر کے مسجداقصیٰ کی تاریخ اور حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بیان میں کہاگیا کہ دیواربراق مسجد اقصیٰ کا تاریخی حصہ ہے۔ اسرائیل اور یہودیوں کے اس پر دعوے قطعی بے بنیاد اور خرافات ہیں، جن میں ذرا برابر بھی صداقت نہیں ہے۔

واشنگٹن: بھارت نے رشوت سکینڈل میں اسرائیل کی اسلحہ ساز فرم ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ سمیت چھ فرموں پر دس سال کیلئے پابندی عائد کر دی۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ بھارت نے اسرائیل کی سرفہرست اسلحہ بنانے والی فرم اسرائیل ملٹری انڈسٹریز لمیٹڈ کو دس سال کیلئے بلیک لسٹ کر دیا۔ بھارتی وزارت دفاع کی اسرئیلی فرم پر دس سال کے پابندی کے فیصلے پر اسرائیل ششدر اور پریشان ہوگیا ہے۔ بھارت نے اپنے ملک کے علاوہ سوئٹزر لینڈ، روس اور سنگاپور کی پانچ فرموں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ بھارت نے ان فرموں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے معاہدہ حاصل کرنے کیلئے بھارتی اہلکار کو رشوت دی۔ اسرائیلی وزارت دفاع نے بھارتی الزامات کے خلاف اپنی فرم کے موقف کو بہترین قرار دیا اور کہا کہ بھارتی پابندی کا جواب دینے کیلئے وہ فرم سے مشاورت کرے گا۔ اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کیلئے بھارت ایک اہم ترین مارکیٹ ہے۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دو ہزار نو میں رشوت اسکینڈل میں ملوث ہونے پر بھارت نے چھ فرموں پر دس برس کیلئے پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارت نے اپنی دو فرموں پر بھی پابندی عائد کی ہے، ان فرموں پر پابندی سی بی آئی کی طرف سے ٹھوس ثبوت فراہم کرنے بعد بھارتی وزارت دفاع نے عائد کی۔ بھارت نے دو ہزار نو میں سات فرموں سے 1.5 ارب ڈالر کا معاہدے کو اس وقت روک دیا تھا جب پولیس نے وزارت دفاع کے اہم عہدے دار کو ان فرموں سے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

واشنگٹن: وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی زیر قیادت میں نیٹو افواج شام کے اندر حکومت کے خلاف کام کر رہی ہے۔ وکی لیکس نے امریکہ میں موجود انٹیلی جنس فرم کیلئے کام کرنے والے تجزیہ نگار کی جانب سے فراہم کردہ ایک خفیہ ای میل جاری کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ای میل بھیجنے والے نے گزشتہ سال دسمبر میں پنٹاگون کے اندر فرانس اور برطانیہ کے علاوہ نیٹو کے متعدد فوجی حکام نے اجلاس منعقد کیا تھا۔ تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ اس نے اس اجلاس کے دوران سنا تھا کہ نیٹو کے زمینی فوجی کافی عرصے سے شام میں موجود ہیں اور شام کے اندر مسلح گروپوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ اس تجزیہ نگار کے مطابق نیٹو افواج کی اس تربیت کا مقصد حکومت کے خلاف لوگوں کو گوریلا جنگ کیلئے تیار کرنا تھا۔

تہران: ایران کا شہر شیراز اعضاء کی پیوند کاری کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا شہر بن گیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کوا مداد فراہم کرنے والی خیراتی تنظیم کے سربراہ نادر معینی نے کہا ہے کہ یہ ان خاندانوں کیلئے اعزاز کی بات ہے جنہوں نے اپنے خاندان کا ایک رکن کھو دیا۔ تاہم انہوں نے اعضاء عطیہ کر کے دیگر افراد کی زندگیاں بچائی ہیں۔ شیراز شہر میں پیوندکاری کے اس عمل میں 200 افراد شریک ہوئے ہیں اور نادر معینی کے مطابق اب 251 افراد کے گردوں کی پیوندکاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک 341 افراد کے جگر کی پیوندکاری اور 23 افراد کے پتا کی پیوندکاری کی گئی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے مطابق بن لادن کے آخری ایام کے دوران اس کی بیویوں کے باہمی شکوک و شبہات بڑھ گئے تھے۔ وہ تیسری منزل پر اپنی چہیتی اہلیہ کے ساتھ قیام پذیر تھا۔ مسئلہ اس کی پہلی بیوی کے آنے کے شروع ہوا۔ پاکستانی فوج کے ایک سابق بریگیڈیئر شوکت قادر نے اپنی ایک رپورٹ میں اسامہ بن لادن کے آخری ایام کی منظر کشی کی ہے۔ انہوں نے کئی ماہ تک اس موضوع پر تحقیق کی اور انہیں وہ دستاویزات دیکھنے کا بھی موقع ملا ہے، جو پاکستانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے اسامہ بن لادن کی سب سے چھوٹی بیوی سے پوچھ گچھ کے بعد تیار کی تھیں۔ دو مئی کے واقعے کے بعد شوکت قادر کو ایبٹ آباد میں بن لادن کی آخری رہائش گاہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔ اس دوران انہوں نے تصاویر بھی اتاریں۔ یہ تصاویر خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھی دکھائی گئیں۔ اس میں ایک تصویر میں مرکزی سیڑھیوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ ایک اور تصویر میں کھڑکیاں دکھائی دے رہی ہیں، جنہیں لوہے کی باڑ لگا کر محفوظ بنایا گیا ہے۔
گھر کا نقشہ
لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے چھوٹی اور چہیتی اہلیہ کے ساتھ رہتا تھا۔ خاندان کے بقیہ افراد اس عمارت کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے، جس میں 2 مئی2011ء کو اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر نے اس رپورٹ کی تیاری میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی تفتیشی دستاویزات کے علاوہ القاعدہ کے زیر حراست ارکان کے انٹرویوز سے بھی مدد حاصل کی ہے۔ بن لادن 2005ء سے ایبٹ آباد کے اس تین منزلہ مکان میں رہ رہا تھا۔ اس گھر میں کل 28 افراد تھے، ان میں اسامہ بن لادن، اس کی تین بیویاں، آٹھ بچے اور پانچ پوتے پوتیاں تھے۔ بن لادن مکان کی تیسری منزل پر اپنی سب سے کم عمر اہلیہ امل احمد عبدالفتح السدا کے ساتھ رہائش پذیر تھا۔ اس کے بچوں کی عمریں 24 سے تین سال کے درمیان تھیں۔ اس کا سب سے بڑا بیٹا خالد ( 24) دو مئی کے آپریشن میں مارا گیا تھا۔ اس آپریشن میں بن لادن کا پیغام رساں اور اس کا بھائی بھی مارے گئے تھے اور اُن کی بیویاں اور بچے بھی اس مکان میں رہائش پذیر تھے۔ 54 سالہ بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے معدے یا گردے کی شکایت تھی اور شاید اسی وجہ سے وہ عمر سے بڑا دکھائی دینے لگا تھا۔ ساتھ ہی اس کی نفسیاتی حالت کے بارے میں بھی شکوک و شبہات موجود تھے۔
بن لادن، امل اور خیرہ
یمنی نژاد امل کی شادی 1999ء میں بن لادن سے ہوئی تھی اور شادی کے وقت وہ 19برس کی تھی۔ بن لادن کی ایک اور اہلیہ سہام صابر بھی اسی منزل پر ایک الگ کمرے میں رہتی تھی اور یہ کمرہ کمپیوٹر روم کے طور بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول امل نے آئی ایس آئی کو بتایا کہ 2011ء میں بن لادن کی سب سے بڑی سعودی نژاد اہلیہ خیرہ صابر کی آمد کے بعد سے گھریلو معاملات میں گڑ بڑ پیدا ہونا شروع ہوئی۔ خیرہ صابر نے دورانِ تفتیش خود بھی تسیلم کیا کہ اس کا اپنا رویہ بھی بہت جارحانہ تھا۔ 2001ء میں خیرہ اپنے شوہر بن لادن کے دیگر رشتہ داروں کے ساتھ افغانستان سے ایران چلی گئی تھی۔ ایران میں اسے نظر بند کر دیا گیا تھا تاہم بعد میں تہران حکومت نے پاکستان سے ایک ایرانی سفارت کار کی رہائی کے بدلے اُسے سفر کی اجازت دے دی تھی۔ اس ایرانی سفارت کار کو شمالی علاقہ جات میں گرفتار کیا گیا تھا۔ امل نے دوران تفتیش بتایا کہ خیرہ فروری اور مارچ 2011ء کے درمیانی عرصے میں ایبٹ آباد پہنچی تھی۔ اس دوران بن لادن کا بڑا بیٹا خالد خیرہ سے بار بار پوچھتا رہا کہ وہ وہاں کیوں آئی ہے۔ امل کے بقول خیرہ نے جواب دیا کہ اسے اپنے شوہر کے لیے ایک آخری خدمت انجام دینی ہے۔ اس پر خالد نے فوراً ہی اپنے باپ کو بتا دیا کہ خیرہ اسے دھوکہ دینا یا چھوڑنا چاہتی ہے۔ شوکت قادر کے بقول ایسے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ خیرہ صابر نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت میں کوئی کردار ادا کیا۔بن لادن کہاں کہاں روپوش رہا امل نے بتایا ہے کہ بن لادن افغانستان سے فرار ہونے کے بعد پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں زیادہ عرصہ قیام کرنا نہیں چاہتا تھا۔ 2002ء میں وہ کچھ عرصہ کوہاٹ کے قریب ایک علاقے میں روپوش رہا۔ اس دوران گیارہ ستمبر کا منصوبہ ساز خالد شیخ محمد بھی ایک مرتبہ اس سے ملاقات کرنے آیا تھا، جسے 2003 ء میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ 2004 ء میں وہ اور خاندان کے کچھ افراد سوات کے قریب شانگلہ منتقل ہو گئے تھے۔ تفتیشی دستاویزات کے مطابق 2004ء کے آخر میں یہ لوگ ہری پور اور 2005ء کے موسم گرما میں ایبٹ آباد کے اس قلعہ نما مکان میں آ گئے، جس کی تیسری منزل پر بن لادن امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ اسامہ کے کچھ اہل خانہ کا خیال ہے کہ اس کی پہلی بیوی اس کا ساتھ چھوڑنا چاہتی تھی۔
آئی ایس آئی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بریگیڈیئر (ر) شوکت قادر کے بقول فوج میں ان کے ایک دوست نے انہیں بن لادن کی زیر حراست اہلیہ امل سے کی جانے والی تفتیشی رپورٹ تک رسائی دی تھی۔ قادر کے بقول انہوں نے بن لادن کے مکان کا چار مرتبہ دورہ کیا۔ ان کے بقول اس گھر میں فرار ہونے کا کوئی خفیہ راستہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کوئی انتباہی نظام نصب نہیں تھا اور نہ ہی کوئی تہہ خانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے بقول ’’یہ گھر اس انداز میں تعمیر کیا گیا تھا کہ حملے کی صورت میں وہاں سے بچ نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا‘‘۔

ایک انتہائی طاقتور شمسی طوفان سورج سے زمین کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ طوفان آج جمعرات کے روز زمین تک پہنچے گا۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ طوفان توانائی کے نظام، پروازوں، سیٹیلائٹ نیٹ ورک اور جی پی ایس سروسز کو متاثر کر سکتا ہے۔ چھ برس میں اس نوعیت کا آنے والا یہ سب سے شدید شمسی طوفان ہے۔ جہاں اس طوفان سے نقصانات ہوں گے وہاں دنیا کے بعض حصوں میں آباد افراد اس کی دلکشی سے بھی محظوظ ہو سکیں گے۔ وسطی ایشیا کے علاقوں میں لوگ رات کی سیاہی پھیلنے پر اس شمسی طوفان سے پھوٹنے والی ’شمالی روشنی‘ کا خوبصورت منظر بھی دیکھ سکیں گے۔ناسا کے ماہرین نے اس طوفان کی شدت سے نہ صرف زمین بلکہ مریخ کے متاثر ہونے کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر دو ہزار چھ کے بعد یہ شمسی طوفان سب سے طاقتور ہے تاہم گزشتہ برس اگست میں زمین پر ایک طاقتور ریڈیو بلیک آؤٹ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ طوفان سے نہ صرف سیٹیلائٹ اور پاور گرڈز متاثر ہوں گے بلکہ انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں موجود خلا نوردوں کے متاثر ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ یہ خلا نورد ماضی کی طرح مخصوص جگہوں پر اپنی حفاظت کی غرض سے قیام کریں گے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس نوعیت کے شمسی طوفان آئندہ دنوں میں بھی آ سکتے ہیں۔ خلائی طوفان نئی بات نہیں ہیں۔ پہلا بڑا شمسی طوفان اٹھارہ سو انسٹھ میں برطانوی خلا نورد رچرڈ کیرنگٹن نے ریکارڈ کیا تھا۔ انیس سو بہتّر میں ایک بڑے شمسی طوفان تے امریکی ریاست الینوئے کے مواصلاتی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا۔ امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے مطابق انیس سو نواسی میں اس نوعیت کے ایک طوفان نے کینیڈا کے کیوبیک صوبے میں بجلی کے نظام کو متاثر کیا تھا۔