Archive for the ‘Russia & Central Asia’ Category

کراچی : اسرائیل نے ایران سے روایتی اور ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے ترکی، قطر، اردن اور بھارت کے ذریعہ ایران کے ساتھ بیک ڈور دفاعی ڈپلومیسی کے لئے رابطے کئے ہیں،دونوں ملکوں میں جاری تناوٴکوکم کرنے کے لئے اسرائیل کے قریبی ممالک ترکی ، اردن ،قطراوربھارت نے 30رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کردی ہے، جنگ کو اپنے خصوصی عرب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حکومت کو عرب ممالک سمیت تین بڑے ایٹمی ممالک بھارت، چین اور روس نے مشورہ دیا ہے کہ وہ خطے میں امن قائم رکھنے کیلئے ایران کے خلاف اپنے جنگی جنون پر نظرثانی کریں، کہا جارہا ہے گزشتہ دنوں ترکی کے شہر استنبول میں عرب ممالک اور ترکی کے اعلیٰ دفاعی عہدیداروں کے درمیان ممکنہ اسرائیل ایران جنگ کے خطے پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے تین روزہ میٹنگ میں اسرائیل سے قریبی مراسم کے حامل ممالک جن میں ترکی اردن اور قطر و بھارت شامل ہیں،نے ایک 30 رکنی مذاکراتی کمیٹی بنائی ہے جو اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگی تناوٴ کو کم کرانے کیلئے تہران اور تل ابیب کے درمیان ایٹمی معاملات اور دونوں ملکوں کے خدشات کے حوالے سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل اور ایران کو جنگ سے دور رکھنے میں اپنا کردار اداکرے گی۔ 

Advertisements

تہران(آن لائن):ایران کے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے پیر کو کہا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا تاہم انہوں نے افزودگی کی سطح پر مذاکرات کا اشارہ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغرب پابندیاں ہٹائے تو تمام جوہری تنازعات طے کرنے پر تیار ہیں ۔تہران کی یورینیم افزودگی کی بڑھتی ہوئی استعدادکے بارے میں بین الاقوامی برادری خصوصاً ایران کے دشمن اسرائیل کو تشویش لاحق ہے ، افزودہ یورینیم کو پرامن مقاصد کے لئے استعمال کرینگے لیکن مزید افزودگی کو ایٹمی ہتھیاروں کے لئے بھی استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔صالحی نے ایران کے سٹلائیٹ چینل جام جم کو بتایا کہ عالمی طاقتیں اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ وہ ایران کی صلاحیت کے بارے میں آنکھیں بند نہیں کرسکتی اور ایران بھی اپنے حق سے دستبردار نہیں ہو گا ۔افزودگی وسیع پیمانے پر مشتمل ہے جس میں قدرتی یورینیم کو سو فیصد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے، اس لئے کوئی بھی اس اسپیکٹرم میں بات کرسکتا ہے۔اس مسئلہ پر بات کرنا بہت جلد ہوگا اور یہ بغداد اجلاس پر ہے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا ۔یہ بات انہوں نے طے شدہ مذاکرات کے آئندہ دور کے حوالے سے بتائی۔ صالحی جو ایران کی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ بھی ہیں، نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس حق کو تسلیم کریں گے اور ان کے خدشات کو دور کیا جائے گا ۔صالحی کا یہ بیان ہفتہ کو استنبول میں ایران اور چھ عالمی طاقتوں ، برطانیہ ، چین ، فرانس جرمنی ، روس اور امریکہ کے 15 مہینوں میں پہلے مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے۔ استنبول میں تہران اور عالمی طاقتوں نے 23مئی کو مزید مذاکرات کے انعقاد پر اتفاق کیا تھا،ہفتہ کے مذاکرات کا مقصد طرفین میں اعتماد کے قیام کی جانب پہلا قدم تھا ۔

شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کوفی عنان اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں  جہاں وہ ایران کے اعلی حکام سے شام کے معاملے میں گفتگو  اور تبادلہ خیال کریں گے۔ کوفی عنان کے ہمراہ 6 افراد پر مشتمل وفد ہے۔ ایران کے نائب وزير خارجہ نےمہر آباد ایئرپورٹ پر کوفی عنان اور اس کے ہمراہ وفد کا استقبال کیا۔  کوفی عنان ایران کے صدر احمدی ںژاد ، سعید جلیلی اور وزیر خارجہ علی اکبر صالحی کے ساتھ  شام کے معاملے کے بارے میں ملاقات اور گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ ایران شام میں وجی مداخلت کے خلاف ہے اور شامی حکومت کی طرف سے جاری اصلاحات کا حامی ہے۔

برازيل کی صدر نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ برازيل کی صدرڈیلما روسیف  نے واشنگٹن میں امریکی صدر باراک اوبامہ کے ساتھ ملاقات کے بعد  امریکہ کی اقتصادی پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ عالمی اقتصادی اور معاشی نظام کو نقصان پنہچا رہا ہے۔ اس نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کےرشد کے لئے امریکی پالسیاں نقصاندہ ہیں۔ برازيل دنیا کی چھٹی اقتصادی طاقت ہے برازیل کی صدر نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔

شیعہ علماء کونسل حیدرآباد کی جانب سے سانحہ چلاس وگلگت کے خلاف قدم گاہ مولاعلی سے کو ہ نور چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت سید کاظم حسین شاہ نقوی‘ سید غلام محی الدین شاہ حسینی‘ نواز علی شاہ‘ مصطفی علی حیدری ودیگرنے کی۔ ریلی میں شامل افراد کے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز تھے جن پر مختلف احتجاجی نعرے درج تھے.مقررین نے احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارہ چنار سے گلگت ،گلگت بلتستان سے کراچی اور کوئٹہ سے خیبر تک مٹھی بھر وحشی درندوں جن کی پشت پناہی غیر ملکی طاقتیں اور اندرونی طور پر کچھ ناعاقبت اندیش مفاد پرست قوتیں کر رہی ہیں اور اس ظلم و بربریت کا شکار نہتے پاکستانی خاص طور پر اہل تشیع کے افراد ہیں انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان وزیراعظم ، وزیر داخلہ، چیف آف آرمی اسٹاف اور سب سے بڑھ کر چیف جسٹس آف پاکستان ہمارے اس تشنہ سوال کا جواب دیں کہ شیعہ نسل کشی کیوں ہو رہی ہے اور یہ کیسے رک سکتی ہے-

بیجنگ: چین نے ایرانی تیل کی درآمد پر پابندی بارے امریکی صدر کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی ملک کو اجتماعی سزا دے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چین کی پالیسی بالکل واضح اور موقف ٹھوس ہے کہ وہ ایران پر پابندیوں کے حوالے سے امریکی منصوبے کی حمایت نہیں کر سکتا۔ چین نے ہمیشہ ایسی پابندیوں کی مخالفت کی ہے اور آئندہ عمل کریگا جس کے تحت کسی دوسرے ملک کو اجتماعی سزا دی جائے۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ چین ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہمارے قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں۔

پیرس: فرانسیسی عدالت نے پولیس کی جانب سے گزشتہ روز گرفتار کئے گئے 17 مسلمانوں کا 24 گھنٹے کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ دہشت گرد حملے کی انکوائری سے منسلک ایک ذریعہ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ پولیس نے ان 17 افراد کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے جنہیں جمعہ کو مبینہ دہشت گرد حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ فرانس کی علاقائی انٹیلی ایجنسی کے سربراہ بینرڈ اسکوارسنی نے   بتایا تھا کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد فرانسیسی ہیں اور دہشت گرد حملوں کی تربیت کے شبہ میں انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

ماسکو: سائبیریا کے مغربی علاقے میں روس کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کے نتیجے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق انتیس مسافر ہلاک جبکہ چودہ افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ روس کی وزارت ہنگامی امور کے مطابق طیارہ روس چینو سے سائبیریا کے شہر شورگٹ جا رہا تھا۔ طیارے میں انتالیس مسافر اور عملے کے چار ارکان سوار تھے جب ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ہی طیارہ تباہ ہوگیا۔ زخمی افراد کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ابھی مزید ارکان کی تلاش جاری ہے

تہران : ترکی کے وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ہونے والی ملاقات میں تہران کے جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کردی ہے۔ جبکہ ترک وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے صیہونی مخالف موٴقف کے باعث اپنے علاقائی اتحادی شام کا بھرپور دفاع کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق جمعرات کو تہران میں ترک وزیراعظم رجب طیب اردگان نے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد سے ملاقات کی ۔ ایرانی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں ترک وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ترک حکومت اور عوام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اس کے موقف کی ہمیشہ سے حمایتی رہے ہیں اور مستقبل میں بھی تہران کی حمایت جاری رکھیں گے۔ جبکہ ایرانی صدر نے رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مشہد میں ترک وزیراعظم سے ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی جس میں گفتگو کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شامی حکومت اسرائیل مخالف رویہ رکھتی ہے اس لئے بشارالاسد کے خلاف محاذ کھول دیا گیا ہے لیکن ایران علاقائی اتحادی کا بھرپور دفاع کرے گا۔

پولیس کی حراست میں ايک مقامی شخص کے ساتھ مبينہ طور پر جنسی تشدد اور اس کی موت کی خبريں منظر عام پر آنے کے بعد روسی شہر کزان ميں چند مزيد افراد نے مقامی پوليس کے خلاف جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کراديں۔ جب دارالحکومت ماسکو سے تفتیش کاروں کی ايک ٹيم باون سالہ روسی باشندے Sergei Nazarov کے ساتھ پولیس کی حراست میں جنسی تشدد اور موت کی رپورٹوں پر تفتيش کے ليے کزان پہنچی، تو وہاں مزيد چاليس افراد پوليس کی حراست کے دوران جنسی تشدد کی رپورٹيں دائر کرانے کے ليے موجود تھے۔ اس واقعے کے بعد تفتیش کاروں کی ٹيم نے ڈيلنی پوليس اسٹيشن کے سات متعلقہ اہلکاروں کو حراست ميں لے ليا ہے اور ٹيم تين مزيد واقعات کی تفتيش کر رہی ہے۔ وسطی روس کے شہر کزان ميں واقع ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں مبينہ طور پر تشدد کا شکار بننے والے بائيس سالہ Oskar Krylov يہ الزام عائد کرتے ہيں کہ گزشتہ سال اکتوبر ميں پوليس نے انہيں مشتبہ طور پر چوری کے الزام ميں گرفتار کرنے کے بعد جنسی تشدد کا شکار بنايا۔ اے ايف پی سے بات کرتے ہوئے Krylov نے کہا، ’Sergei Nazarov کا انجام ديکھتے ہوئے ميں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کيونکہ ميں زندہ ہوں اور ميری صحت ٹھيک ہے‘۔اگرچہ مقامی ميڈيا کی متعدد رپوٹيں ڈيلنی پوليس اسٹيشن ميں پوليس کے مبينہ تشدد کی نشاندہی کرتی آئی ہيں، کزان کے پوليس اہلکار ان الزامات کی ترديد کرتے ہيں۔ خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کزان کے پوليس چيف Rustem Kadyrov کا کہنا تھا کہ لوگوں کو پوليس پر بھروسہ کرنا چاہيے۔ انہوں نے مزيد کہا، ’ايک شرمناک واقعے کی بناء پر پورے ادارے کو الزام دينا درست نہيں ہے‘۔ دوسری جانب ملک ميں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظيميں کزان کے پوليس چيف کے بيان سے اتفاق نہيں کرتیں۔ کزان رائٹس سينٹر کے ڈائريکٹر Igor Sholokhov کا کہنا ہے کہ انہوں نے رواں ہفتے پوليس تشدد سے متعلق سترہ فائلز استغاثہ کو جمع کروائی ہيں۔ ان کے مطابق پانچ کيسز ميں ملزمان کی موت بھی واقع ہو چکی ہيں۔ البتہ Sholokhov کا دعوٰی ہے کہ يہ صورتحال محض Tatarstan تک محدود نہيں بلکہ ملک کے ديگر حصوں ميں بھی جيلوں ميں مختلف مظالم جاری ہيں۔ اپنے عہدے سے رخصت ہونے والے روسی صدر Dmitry Medvedev نے ملکی پوليس کے نظام کو بہتر بنانے کو کافی ترجيح دی تھی ليکن پچھتر فيصد روسی عوام کا ماننا ہے کہ نظام ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے

جینیوا: روس نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں قائم امریکی نواز حکومت شام میں حکومت مخالف باغیوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے میں مصروف ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ الزام اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب و ٹیلی چرکین نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ مصدقہ اطلاعات موصول ہیں کہ لیبیا میں شامی باغیوں کے لئے خصوصی طور پر ایک تربیت گاہ قائم کی گئی ہے جہاں لوگوں کو تربیت فراہم کر کے شامی حکومت کے خلاف لڑنے کے لئے بھیجا جانا ہے۔ انہوں نے سلامتی کونسل کے پندرہ ممبران کو واضح کیا کہ روس اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتا ہے چونکہ یہ اقدام نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی بلکہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں بے جا مداخلت کے بھی مترادف ہے۔ چرکین نے کہا کہ اس طرح کی سرگرمیاں قیام امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے لئے نقصان دہ ہیں۔

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

ماسکو (ایجنسیاں) روس نے شام میں جاری بحران کے تصفیے کیلئے منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ ذرائع ابلاغ نے روسی وزیر خا رجہ کے حوالہ سے بتایا کہ شامی حکومت کو رواں ہفتے منعقد ہونے والے اجلاس میں نمائندگی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں صرف شامی اپوزیشن کو نمائندگی دینے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تجویز پیش کی ہے کہ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کو شام میں جاری بحران کے حل کیلئے خصوصی طور پر اپنا خصوصی نمائندہ بھیجنا چاہئے

برطانوي اورامريکي دفاعي سازوسامان ميں نصب کمپيوٹر ٹيکنالوجي 40برس پراني ہے،برطانيہ کے جوہري پروگرام،امريکي بحريہ کے راڈار نظام اور فرانسيسي ہوائي جہازوں کي کمپيوٹر ٹيکنالوجي 1970کي ہے.ايف15اور ايف18لڑاکا طيارے،ہاک ميزائل، امريکي آبدوزيں،بحري بيڑے، بحريہ کا فائٹر سسٹم اور بين البراعظمي بيلسٹک ميزائلوں ميں 1980کے ويکس مني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں.برطانوي جوہري نظام ميں منسلک کمپيوٹر ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دورکي ہے جو فرانسيسي طيارہ ساز کمپني اپنے ہوائي جہازوں ميں استعمال کرتي ہے.ان کو جديد ٹيکنالوجي سے ليس کرنے ميں کروڑوں ڈالر لاگت اور قومي سيکورٹي ميں خلل کا خدشہ ہے .امريکي اخبار’وال اسٹريٹ جرنل‘ کے مطابق يہ انکشاف حال ہي ميں شائع مضمون ميں سامنے آيا کہ دفاعي ميدان ميں منسلک ٹيکنالوجي قديم ہے اورجديد تقاضوں کے مطابق نہيں ہے. عام طور پر يہ خيال کيا جاتا ہے کہ پاکستان اور افغانستان ميں ريموٹ کنٹرول سے فوجي انٹيلي جنس اکھٹي کرنے اور دشمنوں کو ہدف بنانے کے لئے ڈرونز استعمال کيے جاتے ہيں ڈرونز کي طرح تمام فوجي سازوسامان بھي جديد ترين ٹيکنالوجي سے ليس ہوگا جب کہ ايسا حقيقت ميں نہيں ہے.تاہم کچھ دفاعي ضروريات جديد ٹيکنالوجي سے ليس ہيں جن پر فوج کا انحصار ہے. ليکن زيادہ ترفوجي سازو سامان ميں نصب ٹيکنالوجي ويت نام جنگ کے دور کي ہے،يہي ٹيکنالوجي دنيا کا سب بڑا ہوائي جہاز A-380بنانے والے بھي اپني ائر بسوں ميں استعمال کرتے ہيں. اخبار لکھتا ہے کہ يہ صورت حال مشکل اورپريشان کن ہے.بحري جہازوں کا راڈار نظام اور برطانيہ کے جوہري ہتھياروں کي اسٹيبلشمنٹ بھي 1970کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کي طرف سے تيار کردہ پي ڈي پي مني کمپيوٹرز استعمال کرتے ہيں جب کہ فرانسيسي طيارہ ساز بھي اپني ايئر بس ميں اسي نظام کو استعمال کرتے ہيں.F-15اورF-18 لڑاکا طيارے، ہاک ميزائل نظام، امريکي بحريہ کي سب ميرينز اور امريکي بحري بيڑے کے مختلف حصوں، طيارہ بردار بحري جہاز اور بحريہ کا فائٹر سسٹم ان سب ميں 1980 کے ڈيجيٹل ايکوئپمنٹ کارپوريشن کے VAXمني کمپيوٹر استعمال کيے جاتے ہيں. اخبار کے مطابق حسا س اہميت کے پيش نظر ان نظاموں پر مستقبل ميں بھي انحصار کيا جائے گا شايد آئندہ وسط صدي تک يہ نظام اسي طرح کام کرتے رہيں گے.امريکي بين البراعظمي ميزائلوں کا انحصار DEC VAXنامي ٹيکنالوجي پر ہے اور حال ہي ميں اس کو اپ گريڈ کے ليے فنڈز مہيا کيے گئے اور يہ عمل2030تک مکمل ہوگا.رپورٹ کے مطابق دفاعي سازو سامان کي تمام ٹيکنالوجي کي تنصيب ميں کئي اربوں ڈالر کے اخراجات کيے گئے . اس کي تبديلي کے لئے کروڑوں ڈالر کي لاگت آئے گي اور اس عمل کے دوران قومي سلامتي ميں خلل پڑ سکتا ہے.

اگرچہ امریکی حکام بارہا دعوی کر چکے ہیں کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے لیکن امریکی وزیر دفاع نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے ابھی تک جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔فارس نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینٹا نے اعلان کیا ہے کہ اگرچہ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایران یورینیم کی انرچمنٹ کو جاری رکھے ہوئے ہے لیکن تہران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار تیار کرنے کا فیصلہ ایک ریڈ لائن ہے جس سے ہمیں شدید تشویش ہے۔ لیون پینٹا نے امریکی کانگریس کی دفاعی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے دعوی کیا کہ مغرب کی جانب سے ایران پر اقتصادی اور سفارتی پابندیوں نے اسے نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی جاسوسی ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق پرامن حل تلاش کرنے کیلئے مذاکرات انجام دینے پر تیار ہے۔ دوسری طرف امریکہ کی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ رونلڈ برگز نے سینیٹ کی فوجی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران پر فوجی حملہ کیا گیا تو وہ بھی امریکی فوجیوں کو اپنے حملون کا نشانہ بنا سکتا ہے اور آبنائے ہرمز کو بھی بند کر سکتا ہے۔ یورپی یونین نے بھی اپنے تازہ ترین بیانئے میں اعلان کیا ہے کہ ایران کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب سعید جلیلی نے کیتھرائن اشتون کے خط کا جواب دیا ہے جس میں مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کیتھرائن اشتون کی ترجمان ماجا کسیجانسیک نے کہا ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر سعید جلیلی کے خط کا بغور مطالعہ کیا ہے اور اپنے ساتھیوں سے مشورہ کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی خبر میں اعلان کیا ہے کہ ایران حال ہی میں ایٹمی ٹیکنولوجی کے میدان میں اپنی دو بڑی کامیابیوں کو منظر عام پر لایا ہے اور اسی طرح ایران نے ۶ یورپی ممالک کے سفراء کو وزارت خارجہ طلب کر کے انہیں وارننگ دی ہے کہ اگر وہ مغرب کی طرف سے ایران پر لگائے جانے والی یکطرفہ پابندیوں کی حمایت کریں گے تو ایران انہیں خام تیل کی فروخت روک دے گا۔ مغرب اور یورپی یونین نے کافی عرصے سے یہ بہانہ بناتے ہوئے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی مقاصد کیلئے ہے ایران پر یکطرفہ اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں جبکہ ایران ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے اور یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اسکا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کیلئے ہے 

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔غیر ملکی ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ بان کی مون کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی معاملے کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعہ  ہی ممکن  ہے اس نے کہا کہ مذاکرات کے علاوہ کوئي دوسرا راستہ نہیں ہے جس کے ذریعہ ایران کے  ایٹمی معاملے کو حل کیا جاسکے۔ بان کی مون نے کہا کہ ایران نے بعض ابہمات کو ابھی دور نہیں کیا اور ان ابہامات کومذاکرات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے۔

چین کے نائب وزير خارجہ نے شام میں جاری اصلاحات کے سلسلے میں عوامی ریفرینڈم کی مکمل حمایت کی ہے۔ رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ چین کے نائب وزير خارجہ شای جون نے شام میں جاری اصلاحات کے سلسلے میں عوامی ریفرینڈم کی مکمل حمایت کی ہے۔ چین کے نائب وزير خارجہ نے کہا کہ چين ، شام میں صدر بشار اسد کی اصلاحات کی مکمل حمایت کرتا ہے چین کے نائب وزير خارجہ نے کہا کہ امیدہے کہ شام میں ریفرینڈم اس ملک میں امن و ثبات کا باعث بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ ہم شامی حکومت کے مخالفین سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ شام کے قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ ادھر امریکہ نے مخالفین کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے  شام میں اصلاحات کو مضحکہ خیز قراردیا ہے۔

اسلام آباد…پاکستان نے ايران نے يقين دہاني کرادي ہے کہ پاکستان کوامريکا کو ايران پر حملے کيلئے کوئي اڈہ فراہم نہيں کرے گا.يہ يقين دہاني پاک ايران افغان صدور بات چيت ميں کرائي گئي .پاکستان کے صدر آصف علي زرداري نے پاکستان ، افغانستان اور ايران کے درميان جاري سہ فريقي مذاکرات کے دوران ايران صدر احمد نژاد کو يہ يقين دہاني کرائي ہے کہ اگرامريکا ايران پر حملہ کرتا ہے تو پاکستان اس کا ساتھ نہيں دے اور نہ ہي کوئي اڈہ فراہم کر ے گا.

ماسکو … روسي پارليمنٹ ڈوما کے چيئرمين اليکس پشکوف شام کا دورہ کرينگے. ڈوما انٹرنيشنل افيئر کميٹي کے چيئرمين سياسي بحران پر قابو پانے کے حوالے سے شام کے انتظامي اور قانون ساز حکام سے الگ الگ ملاقاتيں کريں گے. مقامي خبر رساں ادارے کو انٹرويو ديتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہت جلد شام کے دورہ پر روانہ ہونگے جہاں سياسي بحران اور ملکي صورتحال کے امور پر اعلي حکام سے تبادلہ خيال کرينگے. شام نے گزشتہ دنوں اقوام متحدہ عرب ليگ کي مشترکہ امن فورس تعينات کرنے کي عرب ليگ کي تجويز کرتے ہوئے کہا تھا کہ امن فورس تعينات کرنے کي کوئي ضرورت نہيں. مغربي ذرائع ابلاغ کے مطابق شام ميں پرتشدد احتجاجي مظاہروں ميں اب تک 5400 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہيں.

ويانا…فرانس نے کہا ہے کہ شام کے مسئلہ پر روس کے ساتھ سمجھوتہ ممکن ہے،ہميں شام ميں تشدد کے خاتمہ کيلئے سب کچھ کرنا چاہيے، فرانس شام کو انساني امداد کي فراہمي کيلئے نئي قرارداد پر کام کرنے کيلئے تيار ہے. فرانسيسي وزير خارجہ ايلن جوپے نے اپنے روسي ہم منصب سے ملاقات کے بعد ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پيرس شام ميں طويل عرصہ تک موجودہ سياسي صورتحال قبول نہيں کرے گا، ہمارے لئے مختصر المدت مقاصد کے حوالے سے کسي سمجھوتہ پر پہنچنا ممکن ہے. انہوں نے کہا کہ ہميں شام ميں تشدد کے خاتمہ کيلئے سب کچھ کرنا چاہيے. انہوں نے کہا کہ فرانس شام کو انساني امداد کي فراہمي کيلئے نئي قرارداد پر کام کرنے کيلئے تيار ہے. انہوں نے کہا کہ عرب ليگ کے عبوري منصوبہ کو ويٹو کرنے کے باوجود پيرس ماسکو کے ساتھ شام کي جوں کي توں صورتحال کے خاتمہ کيلئے سلامتي کونسل ميں نئي قرارداد لانے کيلئے تيار ہے

جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔مقام معظم رهبری کے بیانات سے ورلڈ میڈیا میں ہلچل کا سماں، ہر اخبار نے ان کے بیانات میں سے مختلف اہم نکات کا انتخاب کیا، فارس نیوز کے مطابق مقام معظم رہبری کے نمازِ جمعہ کے خطبے کے فورا بعد رویٹرز نیوز ایجنسی نے لکھا جمعے کے دن ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔
رویٹرز نیوز کے مطابق رهبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیاں یا ایران پر حملہ کرنے سے خود امریکہ کو نقصان پہنچے گا۔ ایران پر اقتصادی پابندیوں کا ایران کے اٹامک پروگرام سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے جنگ، ایران پر اقتصادی پابندیوں اور تیل نہ خریدنے کی امریکی دھمکیوں کے جواب میں کہا کہ ہمارے پاس بھی دھمکیوں کی کمی نہیں لیکن ہم ان کو مناسب وقت پر استعمال کریں گے۔   
رویٹرز نیوز ایجنسی نے مقام معظم رهبری  کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ “مجھے یہ کہنے میں کوئی ڈر یا باک نہیں کہ جو قوم یا گروہ اسرائیل کا مقابلہ کرے گا ہم اسکی علی الاعلان حمایت کریں گے”۔ پاکستانی اخبار ڈان نے بھی رویٹرز کی اس خبر کو من و عن لگایا ہے۔ 
آذر بائیجان کی نیوز ایجنسی ترند نے مقام معظم رهبری کے بیانات کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے،”انقلابِ اسلامی، ایران کے لوگوں کے لئے آزادی اور عزت لایا، انقلابِ اسلامی ایران نے اسلام مخالف قوتوں کو درھم برھم کر دیا اور ڈیکٹیٹر شپ کو ڈیمو کریسی میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود عظیم کامیابیاں حاصل کی ہیں”۔ ترند نیوز نے رہبر معظم‌ کے بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کے بارے میں مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے بحرین میں مداخلت کی ہوتی، تو بحرین کے انقلاب کی صورتحال کچھ اور ہوتی۔
فرانس نیوز ایجنسی نے مقام معظم رهبری کے بیانات کو کچھ یوں نقل کیا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں اور دھمکیوں کا محکم جواب دے گا۔ اسرئیلی اخبار Haaretz نے تمام خبروں کو رویٹز نیوز کے مطابق نقل کیا ہے۔ ایک اور اسرائیلی اخبار بدیعوت آحارونوت نے نیز  مقام معظم رهبری کے بیانات میں سے اس فراز کا انتخاب بطور عنوان کیا ہے۔ کہ “اسرائیل ایک سرطانی غدہ ہے”، اس اخبار نے مزید نقل کیا ہے، امریکہ کی ایران کو دھمکیوں سے اسے خود کو ہی نقصاں پہنچے گا۔ اسرائیلی اخبار کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا اشارہ آبنائے ہرمز کی بندش کی طرف تھا۔ 
اسوشیتد پریس کے مطابق ایران کے رهبرِ عالی نے اپنے بیانات میں اسرائیل کو سرطان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا جو قوم یا گروہ اسرائیل کا مقابلہ کرے گا ہم اسکی علی الاعلان حمایت کریں گے، انہوں نے اپنے بیانات کہا کہ ایران نے اسرائیل کے مقابلے پر حماس اور حزب اللہ کی حمایت کی۔
جرمن نیوز ایجنسی کے مطابق مقام معظم رهبری کا کہنا تھا کہ  ایران کسی کی دھمکیوں کی وجہ سے اپنے اٹامک پروگرام سے دستبردار نہیں ہو گا، ان کا کہنا تھا کہ ایران خود پر لگائی گئی پابندیوں کا منہ توڑ جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اقتصادی پابندیوں کے باوجود ٹیکنالوجی کے میدان میں مثالی ترقی کی ہے، اور نئی اقتصادی پابندیوں سے بھی ایران کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اسی نیوز ایجنسی نے رهبر انقلاب اسلامی کے بیانات کی تحلیل کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایران سے مذاکرات کرنے سے ہراساں ہے، اور سمجھتا ہے کہ جنگ اور خونریزی ہی تمام مسائل کا حل  ہے۔  رهبر انقلاب اسلامی کے بیانات کی بازگشت ابھی بھی ورلڈ میڈیا پر جاری ہے۔

امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے حوالے سے  نقل کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اسرائيل کے حق میں ہونے والے درجنوں ویٹوز پر کبھی سعودی بادشاہ نے برہمی کا اظہار نہیں لیکن شام کے حق روس اور چین کی جانب سے ویٹو پر امریکہ نواز سعودی بادشاہ نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے سعودی بادشاہ نے سکیورٹی کونسل کو ناتواں قراردیتے ہوئے امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی بھی کافی تعریف اور تمجید کی ہے۔ سعودی بادشاہ نے کہا کہ یہ ایام ہمارے لئے خوفناک ایام ہیں شام کے حق میں ویٹو سکیورٹی  کونسل کا پسندیدہ اقدام نہیں تھا جو واقعہ رونما ہوا وہ اچھی خبر نہیں تھی کیونکہ اس  سے پوری دنیا کا اعتماد سکیورٹی کونسل پر متزلزل ہوگیا ہے ذرائع کے مطابق سعودی منفور اور منحوس بادشاہ نے فلسطینیوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ جرائم پر کبھی بھی اظہار افسوس نہیں کیا لیکن شام کے خلاف وہ اپنے دل کی بات کہنے پر مجبور ہوگیا کیونکہ وہ خادم الحرمین نہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائيل کا خادم ہے۔ سعودی بادشاہ کا اعتماد اللہ تعالی پر ختم ہوگیا اور اس کا اعتماد امریکہ اور اسرائیل پر بڑھ گیا ہے سعودی عرب، اللہ تعالی سے  مدد مانگنے کے بجائے امریکہ سے مدد طلب کرتا ہےاور اس ملک کے حکام کفر کی جانب بڑھ گئے ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ نے شام کے مفتی اعظم سے ملاقات میں علاقائی ممالک کو تقسیم کرنے کے سلسلے میں مغربی ممالک کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے برحق اور پائدار مؤقف پر قائم ہے اور علاقائی ممالک کو ہوشیار رہنا چاہیے  رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے وزير خارجہ علی اکبر صالحی نے شام کے مفتی اعظم شیخ احمد بدرالدین حسون سے ملاقات میں علاقائی ممالک کو تقسیم کرنے کے سلسلے میں مغربی ممالک کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے برحق اور پائدار مؤقف پر قائم ہے اور علاقائی ممالک کو مغربی ممالک کی سازشوں کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے مسلمانوں کےدرمیان  اتحاد اور وحدت کے سلسلے شامی مفتی کی کوششوں اور تقریروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دشمنان اسلام علاقائی اسلامی ممالک کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کی کوشش میں ہیں اور اس صورت حال کے پیش نظر اتحاد کی اہمیت دوچنداں ہوجاتی ہے۔ شام کے مفتی نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ شام کے حالیہ بحران میں بعض علاقائی عرب حکام نے برطانیہ اور اسرائيل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی بھر پور کوشش کی ہے انھوں نے کہا کہ بی بی سی، سی این این، اور ان کے ساتھ الجزيرہ اور العربیہ کا تعاون کسی پر پوشیدہ نہیں انھوں نے شام کے حالات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی بہت زيادہ کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا شام ، اسلامی ممالک اور امت مسلمہ کے بارے میں مؤقف قابل قدر اور قابل ستائش ہے۔

روس کے وزیراعظم ولاديمير پيوٹن نے امريکہ اور يورپي ممالک کو متنبہ کيا ہے کہ وہ شام کيخلاف کسي بھي قسم کي فوجی جارحيت سے باز رہيں. اینٹرفیکس  کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس کے وزیراعظم ولاديمير پيوٹن نے امريکہ اور يورپي ممالک کو متنبہ کيا ہے کہ وہ شام کيخلاف کسي بھي قسم کي فوجی جارحيت سے باز رہيں.ايک بيان ميں ولاديمير پيوٹن نے کہا ہے کہ ہم شام ميں جاري پرتشدد کارروائيوں کي مذمت کرتے ہيں مگر اس کے باوجود ہم شام کيخلاف کسي بھي قسم کي جارحيت کي اجازت نہيں ديں گے. ولاديمير پيوٹن کا يہ بيان روسی وزير خارجہ سرگئي لاروف کي شام کے صدر بشار اسد سے ملاقات کے بعد وطن واپسي پر سامنے آيا ہے. ان کا کہنا تھا کہ صرف شام کے عوام کو اپنے مستقبل کا فيصلہ کرنے کا اختيار ہے. دوسري جانب روس کے وزير خارجہ سرگئي لاروف نے شام سے واپسي پر ميڈيا سے گفتگو ميں کہا کہ شام کي صورتحال پر ہونيوالے قومي سطح کے ڈائيلاگ کے نتائج کا فيصلہ کرنا شامي عوام کا اختيار ہے نہ کے بين الاقوامي کميونٹي کا. انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو دوسرے ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔ روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کو شام کے بارے میں اپنے معاندانہ مؤقف کو تبدیل کرنا چاہیے۔

روس کی وزارت خارجہ نے ایران کے خلاف کسی بھی حماقت اور فوجی کارروائی پرخبردار کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تمام پروپیگنڈے بےبنیاد ہیں اور ان کی اصل وجہ مغربی ممالک کےسیاسی اور تبلیغاتی اہداف ہیں۔رپورٹ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے اہلکار میخائیل اولیانوف نے اینٹر فیکس کے ساتھ گفتگو میں ایران کے خلاف کسی بھی حماقت اور فوجی کارروائی پرخبردار کرتے ہوئےکہا ہے کہ ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں تمام پروپیگنڈے بےبنیاد ہیں اور ان کی اصل وجہ مغربی ممالک کےسیاسی اور تبلیغاتی اہداف ہیں۔ اس نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام فوجی نوعیت کا بالکل نہیں ہے اور ایٹمی ایجنسی اپنی متعدد رپورٹوں میں اس کی مکمل تائید کرچکی ہے اور آج بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر ایٹمی ایجنسی کی مکمل نگرانی جاری ہے اور اس صورت میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا سیاسی اور تبلیغاتی اہداف کے لئے ہے۔ اس نے کہا کہ بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سربراہ یوکیوآمانو کی حالیہ رپورٹ میں ایران کے  ایٹمی پروگرام کے فوجی ہونے کے بار ےمیں کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔ ادھر فرانس کے صدر نے بھی ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر خبردار کیا ہے۔

کراچی ڈاکٹر محسن کو انکے گھر کے باہر صبح ۱۰ بجے کے قریب سر پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر محسن  فیڈرل بی ایریا بلاک ۱۲ ، گلبرگ میں واقع اپنے گھر کے باہر موجود تھے کہ  موٹر سائیکل پر سوار ناصبی وہابی کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے شہید کردیا، شہید کے سر میں گولی لگی اور اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی درجہ شہا دت پر فائض ہوئے۔ رپورٹ کیمطابق ڈاکٹر محسن کاروان آل عبا کے سرپرست اور ایک فعال شخصیت تھے، آج صبح وہ اپنے گھر کے باہر موجود تھے تو موٹر سائکل پر سوار پہلے سے گھات لگائے دہشت گردوں نے فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں انکے سر پر گولی لگی۔ شہید دو بیٹوں اور تین بیٹیوں کے والد گرامی تھے۔ ابھی کراچی میں شہید ہونے والے تین شیعہ وکلا اور کوئٹہ میں شہید ہونے والے تین جوانوں کا سوئم بھی نہیں ہوا تھا کہ آج صبح ڈاکٹر جعفر محسن کو شہید کردیا گیا۔ شیعہ قوم کی ہونے والی نسل کشی کو حکومتی سر پرستی حاصل ہے اور شیعہ قوم کا غم و غصہ حق بجانب ہے۔ اسپتال میں موجود شیعہ تنظیم کے نمائندے نے بتایا کہ حکومت شاید اس بات کو سمجھ نہیں پارہی یا پھر خود جان بوجھ کر توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ اب شیعہ قوم کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور  پاکستان کی بقا کی خاطر ہماری خاموشی کو شاید ہماری کمزوری سمجھا جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ وعوام اگر بپھر گئی تو پھر شیعہ قوم اپنے راستے میں آنے والی ہر روکاوٹ کو پیروں تلے روندتی چلی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سازشی عناصر اور ایجنسیاں بھی شیعہ قوم میں تفرقہ ڈالنے کی نئی نئی سازشوں کو تانے بانے بنے میں مصروف ہیں لیکن حکومت جان لے کہ شیعہ قوم متحد ہے اور اپنے خلاف ہونے والی ہر سازش کو بھی سمجھ رہی ہے اور سازشی عناصر پر بھی گہری نظر ہے۔ شہید ڈاکٹر جعفر محسن کا جسد ابھی ضیا الدین اسپتال سے کچھ دیر بعد مسجد خیر العلم  یا رضویہ امام بارگاہ منتقل کر دیا جائے گا۔

گذشتہ کئی روز سےملک میں ملت جعفریہ کے نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں کالعمد دہشت گرد گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندے ملوث ہیں ،تاہم حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے قاصر ہے اور ملک ان دہشت گردوں کے لئے ایک جنت کی مانند بنا ہوا ہے دہشت گرد ناصبی اور وہابی طالبان دہشت گرد جہاں چاہتے ہیں معصوم اور نہتے  شیعہ مسلمانوں کا خون بہا دیتے ہیں. پاکستان کے مختلف شہروں میں جاری شیعہ نوجوانوں کی مسلسل ٹارگٹ کلنگ میں امریکی و صہیونی گماشتے ملوث ہیں۔ ہم معصوم اور بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی شہادتوں پر دہشت گرد اور متعصب گروہوں سپاہ صحابہ ،لشکر جھنگوی سمیت القاعدہ اورطالبان دہشت گرد ناصبی  اور وہابی درندوں کی شدید مذمت کرتے ہیں پاکستان کے مختلف شہروں میں دن دیہاڑے بے گناہ اور معصوم شیعہ نوجوانوں کی دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں مظلومانہ شہادتیں حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہیں؟ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی صفوں کے اندر کالعدم دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ عناصر اور ان کے معاون ارکان کو نکال باہر کریں کہ جن کا مقصد ملک میں شیعہ سنی فسادات کو ہوا دینا اور اپنے غیر ملکی آقاؤں امریکا و اسرائیل کی ایماء پر مملکت پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔ ۔جبکہ شیعہ علماء کونسل جعفریہ الائنس اور مجلس وحدت مسلمین اور ان سے منسلک تمام ذمہ داروں  سمیت دیگر ملی تنطیموں نے ان کی مظلومانہ شہادت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے  کاروان آل عبا کے روح رواں اور آل عباامام بارگاہ گلبر گ کے ٹرسٹی ڈاکٹر محسن جعفر کے بہیمانہ قتل پر جعفریہ الائنس پاکستان کے سربراہ علامہ عباس کمیلی  اور دیگر علماءکرام اور عما ئدین نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے اس ظالمانہ اقدام کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت سے کالعدم دہشت گرد تنظیم کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے. شہداء کے ورثاء سے اظہار تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور شہداء کے قاتل ضرور بے نقاب ہوں گے  خدا شہید کو جوار معصومیں ّ سے ملحق کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاکرے.آمین

روس نے اعلان کیا ہے کہ روس شام کے صدر بشار اسد کے استعفی پر مبنی کسی بھی قرارداد کو ویٹو کردےگا۔الجزيرہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ روس نے تاکید کی ہے کہ وہ عربی اور مغربی ممالک کی طرف سے ہر ایسی قرارداد کو ویٹو کردےگا جس میں شام کےصدر بشار اسد سے  استعفی کا مطالبہ کیا گيا ہو روس نے شام کے خلاف عربی اور مغربی ممالک کی قرارداد کے ابتدائی مسودے کو بھی ناقابل قبول قراردیا ہے

شاور میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل حسن درویش وند سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ امام خمینی ایک روحانی شخصیت کے علاوہ ایک عالمی رہنماء اور مدبر سیاستدان تھے جنہوں نے دوسروں کیلئے کئی ایک قابل تقلید مثالیں قائم کیں، پاکستان اور ایران اسلامی بھائی چارے اور دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کرامت اللہ خان چغرمٹی نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران اسلامی بھائی چارے اور دوستی کے لازوال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، امام خمینی کو جو اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے وہ بہت ہی کم شخصیات کو ملتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسمبلی چیمبر میں پشاور میں متعین اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل حسن درویش وند سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، سپیکر صوبائی اسمبلی نے کہا کہ آیت اللہ امام خمینی ایک روحانی شخصیت کے علاوہ ایک عالمی رہنماء اور مدبر سیاستدان تھے جنہوں نے دوسروں کیلئے کئی ایک قابل تقلید مثالیں قائم کیں، انہوں نے کہا کہ امام خمینی کو جو اعلیٰ مقام حاصل ہوا ہے وہ بہت ہی کم شخصیات کو ملتا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم اور پائیدار ہو رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ دونو ں برادر اسلامی ممالک کے عوام میں بھی نجی طور بھی خوشگوار تعلقات قائم ہیں، صوبہ خیبر پختونخوا بالخصوص پشاور کے گھرانوں میں فارسی بولی اور سمجھی جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ وفود کی ملاقاتوں سے ممالک کے نہ صرف تعلقات مزید مضبوط ہوتے ہیں بلکہ ان سے عوام بھی ایک دوسرے کے قریب تر ہوتے ہیں، ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالخصوص پشاور کو اپنا دوسرا گھر تصور کرتے ہیں، پشاور انہیں اپنے دیس جیسا محسوس ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اور ایران کی تہذیب و ثقافت اور رسم و رواج میں تقریباً یکسانیت ہے، اس موقع پر حسن درویش وند نے سپیکر صوبائی اسمبلی کو ایران کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی، ملاقات میں سپیکر اسمبلی نے ایرانی قونصل جنرل کو اسمبلی کا سونئر پیش کیا جبکہ ایرانی قونصل جنرل نے سپیکر صوبائی اسمبلی کو ایران کی سوغات پر مشتمل ایک تحفہ پیش کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل پر یکطرفہ پابندیاں آزاد ریاستوں پر معاشی دباﺅ ڈالنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ایران پر پابندیوں سے خطے کی صورتحال مزید بگڑے گی جس کا اثر پوری دنیا پر پڑیگا۔ بیلا روس کی حکومت نے یورپی یونین کی جانب سے ایران پر پابندیوں کی شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام ناقابل قبول ہے۔ بیلا روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام قابل افسوس ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے تیل پر یکطرفہ پابندیاں آزاد ریاستوں پر معاشی دباﺅ ڈالنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔ ایران پر پابندیوں سے خطے کی صورتحال مزید بگڑے گی جس کا اثر پوری دنیا پر پڑیگا۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے فوجی سپاہیوں میں خودکشی اور جنسی تشدد کے رجحان میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال 2011ء میں 164 فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ سال 2011ء میں فوج میں جنسی تشدد کے 2290 واقعات رونما ہوئے جو 2006ء کے مقابلے میں 64 فیصد زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس میں سے 6 جنسی تشدد کے واقعات میں ذمہ داروں نے شراب نوشی کی ہوئی تھی۔ جنسی تشدد کے زیادہ تر واقعات خاتون فوجی اہلکاروں کے خلاف وقوع پذیر ہوئے۔

واشنگٹن : بڑی طاقتوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا عندیہ دے دیا تاہم اس کے لئے تہران پر سنجیدہ روئیے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ مغربی سفارتکاروں کے بقول اس حوالے سے بڑی طاقتیں ایران کے جوہری تنازعے پر یکساں موقف نہیں رکھتیں، واضح رہے کہ ان طاقتوں میں برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکہ شامل ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی  سربراہ کیتھرین ایشٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتکاری کا راستہ تمام تر پابندیوں اور فوجی حملے کے شبہات کے باوجود کھلا ہوا ہے۔ بیان کے مطابق یورپی یونین اس حوالے سے ایران کے ردعمل کا انتظار کر رہی ہے۔ اس سے قبل گزشتہ روز چین نے اپنے ملک میں آنے والے ایرانی وفد جس کی سربراہی ایرانی سپریم سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کر رہے تھے، کو جوہری تنازعے پر بات چیت کو اولین ترجیح بنانے کو کہا۔ چینی خبررساں ادارے کے مطابق چین کا ماننا ہے کہ ایرانی جوہری تنازعہ پرامن طریقہ سے مذاکرات کے ذریعے حل ہونا چاہئے، اس سلسلے میں پابندیاں اور فوجی حملہ کارگر ثابت نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ہیلیری کلنٹن نے واشنگٹن میں جرمن ہم منصب کے ہمراہ کہا ہے کہ ہم کوئی تصادم نہیں چاہتے بلکہ ہم ایرانی عوام کا بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے عندئیے کے باوجود بڑی طاقتیں ایران کو مذاکرات شروع کرنے کے لئے دی جانے والی مراعات کے حوالے سے منقسم نظر آتی ہین۔

مغربی ممالک کے بعض ذرائع کے مطابق امریکہ اور اسرائيل کو ایران کے خلاف جنگ پر اکسانے کے لئے عرب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے اورسعودی حکام نے صہیونیوں کے ساتھ خفیہ ملاقات میں ایران کے خلاف جنگ کے تمام اخراجات ادا کرنے کا وعدہ کیا ہےالنخیل سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائيل کو ایران کے خلاف جنگ پر ابھارنے کے لئے عرب خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے اورسعودی حکام نے صہیونیوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں ایران کے خلاف جنگ کے تمام اخراجات ادا کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے خطرے کے پیش نظر ایران پر ہمہ جہت فوجی حملہ کیا جائے۔ مذکورہ سائٹ کے مطابق سعودی عرب اور بعض دیگر خلیجی ممالک موجودہ وقت کو ایران پر حملے کے لئے مناسب قراردیتے ہیں سعودیوں کا خیال ہے کہ ایران پر حملہ شروع کرنے کے لئے شام کو مشغول رکھنا ضروری ہے۔ سائٹ کے مطابق سعودی عرب نےاسرائیلی حکام کے درمیان یورپی ممالک اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں جنگ کے اخراجات کو قبول کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے

ماسکو… روسي وزير خارجہ سرگئي لاوروف نے خبردارکيا ہے کہ مغربي ممالک کي جانب سے ايران پر ممکنہ حملہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جبکہ اسرائيلي وزير دفاع نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں.ميڈيا رپورٹس کے مطابق ماسکو ميں سالانہ پريس کانفرنس کے دوران روسي وزيرخارجہ نے کہا امريکہ اور مغربي ممالک کي تہران کے متنازعہ جوہري پروگرام کے پس منظر ميں ايران پر حملہ تباہ کن اور يہ جلتي پر تيل چھڑکنے کے مترادف ہوگا اور اس سے مسلمان ممالک ميں پہلے سے موجود فرقہ ورانہ تفريق ميں اضافہ ہوگا.انھوں نے کہا کہ ايران پرحملہ سے رد عمل کا ايک ايسا سلسلہ شروع ہوگا جس کو روکنا نا ممکن ہو جائے گا.دوسري جانب مقامي ريڈيو سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائيلي وزير دفاع ايہود باراک نے کہا ہے کہ ايران پر جلد حملے کا کوئي امکان نہيں ہے .روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ ایران پر حملے کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے ،فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔مغرب ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔انہوں نے یہ بات صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی ادھر سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے کہاہے کہ ان کا ملک ایرانی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام دستیاب آپشنز کو استعمال کرے گا ایرانی دھمکیوں سے غیرمطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوجائے گی۔ شہزادہ ترکی الفیصل نے یہ بات بحرین میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اپنے مفادات یا سکیورٹی کے لیے کسی خطرے کی صورت میں ہم اپنی قومی اور علاقائی سلامتی کے دفاع کے لیے تمام دستیاب آپشنز استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے۔شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ محاذ آرائی میں اضافے اور کشیدگی کا نتیجہ فوجی مہم جوئی کی صورت میں نکل سکتا ہے اور اس کے ناقابل یقین مضمرات ہوں گے یا اس سے غیر مطلوب فوجی محاذآرائی شروع ہوسکتی ہے

تہران(اے ایف پی) تیل کی اہم ترین گزرگاہ آبنائے ہرمزبندکرنے کی دھمکی پرامریکانے ایران کوایک خط بھیجا ہے ،ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنانے ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست کے حوالے سے بتایاہے کہ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزان رائس نے سوئس سفیرکے ذریعے ایک خط ایرانی سفیر محمد خازئی کوبھیجاہے ، ترجمان کے مطابق خط کے مندرجات کاجائزہ لیاجارہاہے ،اگرضرورت پڑی تواس کا جواب دیاجائے گا،واضح رہے کہ آبنائے ہرمزکی ممکنہ بندش روکنے کے لئے امریکاعلاقے میں اپنی بحریہ کی موجودگی میں اضافہ کررہاہے،ایرانی فورسزکے ڈپٹی چیف مسعود جزائری نے اتوارکوکہاہے کہ تمام ترپروپیگنڈے کے باوجودامریکی جارحیت ناکام رہے گی،واشنگٹن کواچھی طرح معلوم ہے کہ وہ علاقے میں ایران کی کسی کارروائی کوروکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ،ہماری پالیسی کشیدگی دور کرناہے تاہم اگرایران یاامت مسلمہ کوکوئی خطرہ لاحق ہوا تو ہماری افواج خطے میں پریشانیاں پیداکرنے کے خواہشمندوں سے ٹکرانے کی قابلیت رکھتی ہیں،ادھر ایرانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل حبیب الله سیاری نے کاکہناہے کہ آبنائے ہرمزبندکرناہمارے لئے پانی پینے جیسا آسان کام ہے ۔

واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل نے آئندہ ہونے والی مشترکہ فوجی مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے درمیان رواں سال آسٹر چیلنج بارہ نامی سب سے بڑی مشترکہ فضائی مشقیں ہونا تھیں تاہم دونوں ممالک نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر یہ مشقیں رواں سال کے آخر تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پینٹاگون کے ترجمان نیوی کیپٹن جان کربی نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بعض لاجسٹک وجوہات کی بناء پر رواں سال کے آخر تک ملتوی کر دی گئی ہیں جو کہ میزبان ملک اسرائیل کو درپیش ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایسی رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ ہم یہ مشقیں ایران ساتھ کشیدگی کے باعث ملتوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رہنمائوں نے لاجسٹک وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے رواں سال کے آخر تک مشقوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ مشقیں بہار میں ہونا تھی تاہم اب دسمبر تک متوقع ہیں۔

سمندروں کے اندر کئی کلومیٹر کی گہرائیوں میں موجود آتش فشانی دہانوں میں زندگی کی شکلوں کا پتہ چلا ہےجو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں۔ یہ بات تحقیقی جریدے نیچر کمیونیکیشن میں شائع ہوئی ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ سمندر کی تہہ میں بغیر آنکھوں والے جھینگے اور سفید شکنجوں والے چھوٹے جاندار سمندری مخلوق کی ان چند قسموں میں شامل ہیں جو معدنیات سے بھرپور پانی میں 450 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی قائم و دائم ہیں۔ ان دہانوں کے گرد زندگی کا سراغ کیمین جزائر کے جنوب میں Cayman Trough کہلانے والے علاقے میں بحیرہ کیریبیئن کی تہہ میں ملا ہے۔ سمندر کی سطح سے پانچ کلومیٹر نیچے واقع یہ جگہ دنیا کے سب سے گہرے ’سیاہ دھواں اگلنے والے‘ دہانوں کا مرکز ہے۔سن 2010ء میں سر انجام دی جانے والی ایک مہم کے دوران برطانیہ کے National Oceanography Centre کے  میرین جیو کیمسٹ Doug Connelly اور University of Southampton کے ماہر حیاتیات جون کوپلے نے اس جگہ کو چھاننے کے لیے روبوٹ کی مدد سے چلنے والی ایک آبدوز استعمال کی۔ محققین نے قریب واقع ماؤنٹ ڈینٹ میں ماضی میں نہ دریافت ہونے والے آتش فشانی دہانوں کا بھی کھوج لگایا۔ ماؤنٹ ڈینٹ پہاڑی سلسلہ سمندر کی تہہ سے شروع ہو کر تین کلومیٹر تک اوپر اٹھتا جاتا ہے۔ Connelly نے ایک بیان میں کہا: ’’ماؤنٹ ڈینٹ پر سیاہ دھواں اگلنے والے دہانے دریافت کرنا بالکل حیران کن تجربہ تھا۔ اس علاقے میں ماضی میں اس طرح کے گرم اور تیزابیت والے دہانے کبھی نہیں دیکھے گئے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان دریافتوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ سمندروں کی گہرائیوں میں موجود آتش فشاں کے دہانے دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آبدوز پر نصب کیمروں سے کھینچی گئی تصویروں میں انتہائی زرد رنگ کے جھینگوں کا سراغ ملا جن کی آنکھوں کے بجائے پشت پر روشنی کو محسوس کرنے والے اعضاء تھے تاکہ وہ سمندر کی گہرائیوں میں انتہائی مدہم روشنی میں راستہ تلاش کر سکیں۔ اس سے ملتی جلتی ایک نوع چار ہزار کلومیٹر دور بحر اوقیانوس کے وسط میں بھی پائی گئی ہیں۔کوپلے نے کہا: ’’ان دہانوں کے گرد پائی جانے والی مخلوق پر تحقیق اور ان کا دنیا کے دیگر آبی دہانوں میں پائی جانے والی انواع کا موازنہ کرنے سے ہمیں یہ بات سمجھنے میں مدد ملے گی کہ یہ جانور کس طرح گہرے سمندروں میں منتشر اور ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔‘‘ ماؤنٹ ڈینٹ کے دہانوں میں جھینگے کی ایک اور قسم کے علاوہ سانپ کی شکل کی ایک مچھلی کا بھی سراغ ملا ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے منفرد ہیں۔

اوسلو : ناروے کی ایک عدالت نے درجنوں افراد کے قتل میں ملوث شدت پسند اینڈرزبیرنگ بریویک کے نئے نفسیاتی معائنہ کا حکم دیا ہے۔ اس سے قبل ہونیوالے معائنہ میں مذکورہ شدت پسندکو فاتر العقل پایا گیا تھا۔ اینڈرز بیرنگ بریوک گذشتہ سال 22 جولائی کو ہونیوالے دھماکوں میں ملوث ہونے کا اعتراف جرم کر چکا ہے۔ اس بدقسمت واقعہ میں بیرنگ بریوک نے پہلے اوسلو میں حکومتی عمارت میں بم دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اسکے بعد وہ ایک مقامی جزیرہ اوٹایا گئے جہاں پر پولیس افسر کا بھیس بدل کر اپنی شناخت چھپائی او ر وہاں گرمیوں میں قائم ہونیوالے نوجوانوں کے کیمپ پر فائرنگ کرکے 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کیخلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالتوں کی طرف سے مقرر شدہ نفسیاتی ڈاکٹروں نے بیرنگ بریوک کو فاتر العقل ثابت کرکے انہیں اپنے جرائم کے حساب دینے سے مبرا ثابت قرار دیااور اسے جیل جانے کے بجائے نفسیاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں دیدیا تاہم وکلا کی جانب سے دوبارہ بیرنگ بریوک کی نفسیاتی معائنہ کرنے کے حوالے سے پٹیشنز دائر کی گئی جس میں بیرنگ بریوک کی نفسیاتی بیماری کا دوبارہ جائزہ لینے کی درخواست کی گئی

ٹوکیو ( ایجنسیاں) جاپان میں زلزلے کے باعث فوکوشیما ایٹمی پاور پلانٹ کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور گزشتہ روز چوتھا ری ایکٹر بھی دھماکے سے پھٹ گیا جس سے تابکاری کے اخراج میں مزید اضافہ ہوگیا، جاپانی حکام نے 30 کلومیٹر کے اطراف سے لوگوں کو نکل جانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ تابکاری کے اثرات اب فوکوشیما سے نکل کر ایباراکی ، سائی تامہ اور ٹوکیو تک پہنچ گئے ہیں۔ تاہم جاپانی ایٹمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹوکیو اور اطراف کے علاقوں میں پہنچنے والی تابکاری تاحال انسانی صحت کیلئے خطرے کا باعث نہیں۔ زلزلے ، سونامی اور ایٹمی بحران سے جاپان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے اور ٹوکیو اسٹاک مارکیٹ کریش کرگئی ہے اور گزشتہ تین دنوں میں ایک ہزار پوائنٹ کم ہوگئے اور حکومت نے عوام سے نقد امداد کی درخواست کردی ہے اور سرکاری ٹی وی پر امداد کے اعلانات کئے جارہے ہیں۔ جبکہ گزشتہ روز زلزلے کا ایک اور جھٹکا محسوس کیا گیا جس کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6ریکارڈ کی گئی، زلزلے کے ان جھٹکوں سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ اپنے گھروں سے باہر نکل آئے، حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز ٹوکیو سے 120 کلو میٹر دور شیزو کا میں ماوٴنٹ فیوجی کے نزدیک تھا۔ دوسری جانب آئی اے ای اے نے صورتحال کو سنگین قراردیاہے تاہم چرنوبل جیسے حادثہ کے امکان کو ردکردیاہے۔ جاپانی حکام ایٹمی پلانٹ سے تابکاری کے اخراج کو روکنے کیلئے بھرپور کوششیں کررہے ہیں جس میں انہیں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی سمیت امریکا اور برطانیہ کے ماہرین کی خدمات حاصل ہیں ۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی معیشت کو زلزلے سے ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے تین سے چار سال درکارہوں گے۔ جبکہ ایٹمی تابکاری کے اخراج کے بعد ایک بار پھر جاپان سے پاکستانیوں کے انخلا کے بارے میں سوالات پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ اس وقت پاکستان جانے والی تمام ایئر لائنوں میں سیٹیں ختم ہوچکی ہیں جس کے باعث زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ایٹمی تابکاری کے اثرات کے زیر اثر علاقوں میں ابھی تک ہزاروں پاکستانی موجود ہیں جن کے اخراج کا تاحال کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔علاوہ ازیں جاپانی وزیراعظم نے میڈیا کو بریفنگ میں بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ کے ری ایکٹر نمبر چار میں آگ لگی ہے جس کی وجہ سے تابکاری کی سطح انسانی صحت کیلئے خطرناک حدتک پہنچ گئی ہے۔

لندن … برطانوي وزير اعظم نے ايران کو خبردار کيا ہے اگر آبنائے ہرمز کو بند کيا گيا تو پوري دنيا اس کے خلاف کارروائي کريگي.برطانوي وزير اعظم ڈيوڈ کيمرون نے خليجي ممالک کے دورے کے موقع پر ايک عربي ٹي وي چينل کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کے راستوں کا کھلا رہنا پوري دنيا کے مفاد ميں ہے اور اگر ان کو بند کرنے کي کوئي دھمکي ملي ہے.تو انھيں يقين ہے کہ پوري دنيا متحد ہو کر ان کا کھلا رہنا يقيني بنائے گي.واضح رہے کہ ايران نے امريکا اور يورپي ممالک کي جانب سے معاشي پابندياں سخت کرنے کي صورت ميں آبنائے ہرمز بند کرنے کي دھمکي دي ہے.

عراق سے امریکی فوج کی ذلت آمیز پسپائی کیا ہوئی کہ پوری دنیا میں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج گیا ۔ یہ سرخی ہے برطانوی اخبار گارڈین کی جبکہ امریکی میگزین ٹائم نے لکھا ہے کہ امریکیوں کو بالآخر مجبور ہوکرعراقی عوام کے مطالبات کے سامنے جھکنا ہی پڑا اور جب عراق پر امریکا کے حملے کے اہداف و مقاصد پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ عراق میں امریکا کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے لکھا کہ امریکا کا مقصدعلاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا تھا مگر اس کا یہ مقصد نہ صرف یہ کہ پورا نہیں ہوا بلکہ نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ جی ہاں عراق سے امریکی فوج کے ذلت آمیز انخلاکے بعد عالمی ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر امریکا اور مغرب کے اخبارات و جرائد نے جو کچھ لکھا یہ تو اس کی محض چند ایک جھلکیاں ہیں ہوتا تو یہی تھا کہ امریکی اور مغربی ذرائع ابلاغ ہمیشہ امریکی اقدامات کو کسی نہ کسی صورت میں صحیح ٹھہرانے کی کوشش کرتے رہے ہيں مگر اس بار عراق میں امریکی ہزیمت و ذلت اتنی زیادہ آشکارہ ہے کہ امریکی مغربی اور حتی صہیونی ذرائع ابلاغ بھی اس پر پردہ نہ ڈال سکے حقیقت تو یہی ہے کہ عراق میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اپنی فوجیں اتار کر امریکا جو مقصد حاصل کرنا چاہتا تھا اس کو کچھ بھی نہ مل سکا اس کی کوشش تھی کہ وہ عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلے ، تیل سے مالا مال خلیج فارس کے علاقے پر تسلط جما لے، علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کو روکے ، عالم اسلام میں اٹھنے والی اسلامی بیداری کی لہر کے سامنے بندھ باندھے ، نئے مشرق وسطی کو جنم دے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ علاقے میں اسرائیل کی پوزیشن کو پہلے سے زیادہ مستحکم بنائے اس کے علاوہ بھی اس کے بہت سے سارے مقاصد تھے جن میں اسلامی ملکوں سے غنڈہ ٹیکس وصول کرنا بھی شامل تھا مگر نہ صرف یہ کہ اس میں سے امریکا کا ایک بھی مقصد حاصل نہيں ہوسکا بلکہ عراق میں امریکہ کی لشکر اور آٹھ برسوں تک اس کے غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں پندرہ لاکھ کے قریب عراقی شہری ضرور مارے گئے اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ مالی اعتبار سے امریکا کو کئی ٹریلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے یہ سب اس جنگ کے نقصانات ہیں جس میں امریکا اپنی طاقت وقوت کا مظاہرہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن یہ جنگ جہاں امریکا کے لئے انتہائي مہنگی ثابت ہوئي وہيں امریکیوں کو تاریخ میں ابتک کی ذلت آمیز شکست کا منہ بھی دیکھنا پڑا اور یوں امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بھی بج اٹھا ہے اسی لئے برطانوی اخبار گارڈين نے لکھا ہے کہ عراق سے امریکی فوج کی پسپائی یک قطبی نظام کے خاتمے کا اعلان بھی ہے جو عراق میں امریکی فوج کے آخری اڈے کے انخلاء کے موقع پر کیا گیا جب اس جنگ کے نتائج پر نظر ڈالی جاتی ہے اوریہ اندازہ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس جنگ سے امریکہ کو کیا ملا تو اس کا جواب یہی نظر آتا ہے کہ سن دوہزار تین سے امریکی قبضے کے نتیجے میں جو نتائج واشنگٹن کو حاصل ہوئے وہ یہ کہ امریکا سے عراقی عوام کی نفرت اور غیظ و غضب میں اضافہ ہوا ہے، اقوام عالم امریکہ جیسے بدمست ہاتھی کاغرور خاک میں مل جانے پر اس کی جانب طنزیہ مسکراہٹ سے دیکھ رہی ہیں اور دنیا پر یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ کاغذی شیر بہرحال کاغذي ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ یہ وہ نتائج ہيں جو امریکا کی مرضي کے نہيں اور نہ ہی امریکا ان نتائج کے پیش نظر عراق میں گیا تھا آج ہم دیکھ رہے ہيں امریکا کے وہ ذرائع ابلاغ جو صرف اور صرف امریکا کی کامیابی کا ڈھنڈورا ہی پیٹنے کے لئے قائم کئےگئے تھے وہ بھی عراق سے امریکا کی ذلت آمیز اور شرمناک پسپائی پر خاموش نہیں رہ سکے۔ امریکیوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ عراق میں شکست کا اعتراف ان کی جھوٹی ہیبت کا جنازہ نکالنے کے مترادف ہے لیکن اب اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہيں اسی لئے امریکی اثر و رسوخ والے اخبارات و جرائد بھی اب کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ امریکی سامراج کی موت کا نقارہ بج چکا ہے۔

میکسیکو جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران 31 قیدی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیںفرانسیسی خبررساں ایجنسی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ میکسیکو جیل میں ہنگامہ آرائی سے 31 قیدی ہلاک اور 13 زخمی ہوگئے ہیں ۔اطلاعات کے مطابق میکسیکو کے شمالی علاقے ال تامیرا کی جیل میں قیدیوں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑے پر 31 قیدی ہلاک ہوگئے اور 13 زخمی ہیں۔ ال تامیرا کی یہ جیل2000 قیدیوں کیلئے بنائی گئی تھی جبکہ اس میں 3000 قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔

روس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔ایٹارٹاس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان میں اتحادی افواج افغان عوام کی زندگی بہتر نہیں بنا سکیں۔روسی ذرائع کے مطابق اس رائے کا اظہار افغانستان کی قومی اسمبلی کے ساتھ تعاون سے متعلق روسی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے گروپ کے سیکرٹری ویاچیسلاو نِکراسوو نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پورے خطے پر کنٹرول قائم کرنا چاہتا ہے اوراس مقصد کیلئے وہ افغانستان میں دلچسپی رکھتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ روس  افغانستان میں مستقل امریکی اڈوں کے قیام کا مخالف ہے۔

تحریک کی منظور کردہ ایک قرارداد میں سمپانگ انڈونیشیا میں امام بارگاہوں کی آتشزدگی کی پرزور مذمت کی گئی اور اسے مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی اسلام دشمن سازش قرار دیا گیا۔سکینہ بنت الحسین ع کی پاکیزہ سیرت ہر صاحب دل اور باضمیر انسان کیلئے راہ ہدایت کی نوید ہے۔ ان خیالات کا اظہار ٹی این ایف جے لوکل کونسل غریب آباد کے زیراہتمام قصر رباب س  میں منعقدہ مجلس عزائے معصومہ سکینہ بنت الحسین ع سے خطاب کرتے ہوئے مختلف علماء و ذاکرین نے کیا۔  سید حامد علی شاہ موسوی کے اعلان پر عشرہ شہیدہ زنداں کی مناسبت سے منعقدہ مجلس میں راولپنڈی ڈویژن سے ہزاروں عزاداروں نے شرکت کی۔  مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علامہ محسن ہمدانی نے کہا کہ شہیدہ زنداں معصومہ سکینہ بنت الحسین کی مظلومانہ شہادت حق و باطل کا میزان ہے، جس نے ظلم و جبر کے چہرے سے منافقت کا نقاب اتار پھینکا اور انسانیت کا درد رکھنے والوں کو ظلم کے مقابل کھڑا ہو جانے پر مجبور کر دیا۔ علامہ قمر حیدر زیدی نے کہا کہ شہادت سکینہ س تاریخ انسانی میں مظلومیت، صبر اور عزم و عمل کا ایسا باب ہے جس کی نظیر پیش کرنا ناممکن ہے۔ معروف سکالر چوہدری مشتاق حسین نے کہا کہ دنیا کا دستور ہے کہ کسی کی بھی توجہ، خوشنودی اور ہمدردی حاصل کرنے کیلئے اس کی پیاری چیز کے ساتھ محبت عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا جائے، لہذا اگر عالم اسلام کو بھی رسول اکرم ص کی شفاعت حاصل کرنی ہے تو اسے رسول ص کی پیاری آل کے ساتھ اپنے دامن کو وابستہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ  آغا سید حامد علی شاہ موسوی کی جانب سے عشرہ شہیدہ زنداں منانے کا اعلان محمد وآل محمد ص کے ساتھ محبت و مودت کی عملی دلیل ہے۔ اس موقع پر منظور کردہ قراردادوں میں کوئٹہ میں بم دھماکے اور سرجن ڈاکٹر باقر شاہ کے قتل کی پرزور مذمت کی گئی اور وزیر داخلہ سے اپیل کی گئی کہ وہ ہر قتل اور دہشتگردی کو ذاتی اور علاقائی رنگ دینے کی روش سے گریز کریں، ایسے بیانات اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہیں اور سانحات کی آزادانہ تحقیقات کروائیں۔ قرارداد میں اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ امن عامہ کی بگڑتی صورتحال کے سبب عوام ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں جو حکومتی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک قرارداد میں سمپانگ انڈونیشیا میں امام بارگاہوں کی آتشزدگی کی پرزور مذمت کی گئی اور اسے مسلمانوں میں تفریق ڈالنے کی اسلام دشمن سازش قرار دیا گیا۔

سورچہ فال کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم  پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔ اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” ’’یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔‘‘پہلی جنگ عظیم کے بعد اور دوسری جنگ عظیم سے قبل دنیا کو ایک زبردست معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بحران 4 ستمبر 1929ء  کو اس وقت شروع ہوا جب امریکہ میں اچانک اسٹاک کی قیمتیں گریں، پھر تو اس معاشی افراتفری اور بحران نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پوری دنیا کے ہر امیر اور غریب ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ بحران تقریباً دس سال تک جاری رہا۔ اس کو بیسویں صدی کا بدترین معاشی بحران کہا جاتا ہے۔ بہرحال قوموں پر آیا ہوا مشکل وقت بھی گذر جاتا ہے۔ John D  Rochefeller نے کہا تھا:۔
“In the 93 years of my life, depressions have come and gone. Prosperity has always returned and come again.” یعنی میری 93 سالہ زندگی میں کئی معاشی بحران آئے اور گئے، خوشحالی آخر کار ضرور واپس لوٹتی ہے اور دوبارہ بھی آئے گی۔ بیسویں صدی کی مذکورہ بالا معاشی بدحالی کو Great Depression کہا گیا لیکن اکیسویں صدی کی موجودہ بگڑتی ہوئی بین الاقوامی معاشی صورتحال کو ماہرین معاشیات گریٹ ڈپریشن کہنے کی بجائے Great Recession کہتے ہیں:۔”یہ گریٹ Recession دسمبر2007ء میں شروع ہوئی اور اس نے بھی پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا لیکن جون 2009ء میں امریکہ میں یہ محسوس کیا گیا کہ بین الاقوامی معاشی جمود خاتمے کی طرف جا رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ حالات پھر مخدوش ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کچھ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ 2011ء کے موجودہ سال میں پوری دنیا Double Dip Recession کا شکار ہو چکی ہے۔ کہا یہ جار ہا ہے کہ موجودہ معاشی بدحالی یا جمود جس کی لپیٹ میں خصوصاً امریکہ اور یورپ ہے، کی اصل وجہ امریکی Booming Housing Market کا دیوالیہ ہو جانا ہے۔ جس کی بنیاد وہ بینک بنے جنہوں نے بہت کرپشن کی اور عوام کو لوٹا۔ کچھ ماہرین کا یہ خیال بھی ہے کہ امریکہ میں معاشی بدحالی کی بڑی وجہ اُن کے عراق اور افغانستان میں ہونے والے بے پناہ جنگی اخراجات ہیں۔ ان نقصانات کو اب امریکہ عراق، لیبیا، کویت اور بحرین کے تیل اور گیس کے ذخیروں پر قابض ہو کر دھڑا دھڑ پورا کر رہا ہے۔ امریکہ کی اب نظر ایران اور وسطی ایشائی ریاستوں کے تیل اور گیس کے خزانوں پر بھی ہے۔ روس اور چین اب امریکہ کو ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش کے بہانے ایران میں داخل ہونے سے روکنے کی حکمت عملی بھی تیار کر رہے ہیں۔ اس سے کہا یہ جاتا ہے کہ اب مغرب اور مشرق میں پھر سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔ Sorcha Fall کے مطابق ماسکو سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اب روس کے وزیراعظم پیوٹن اور چینی صدر Hu میں یہ اُصولی اتفاق ہو چکا ہے کہ اب امریکی جارحیت کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی کی جائے گی۔ روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق چینی ریئر ایڈمرل Zhang Zhooz hong نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ۔ “چین ایران کو بچانے میں نہیں ہچکچائے گا خواہ تیسری بین الاقوامی جنگ کا آغاز ہی کیوں نہ ہو جائے”۔  اسی طرح روسی جنرل Nikolai Maharov نے کہا:۔ I do not rule out local and regional armed conflicts, developing into a large- scale war, including using nuclear weapons” یعنی مقامی اور علاقائی لڑائیاں بڑے پیمانے پر جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ جن میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بعیداز قیاس نہیں۔ مشرق اور مغرب کے درمیان موجودہ تناؤ میں اس وقت شدت آئی جب دو ہفتے قبل شام سے واپس آتے ہوئے روسی سفیر Vladimir Titorenkoاور اس کے دو اسٹاف ممبران پر برطانوی MI-6 اور سی آئی اے کی مدد سے قطری سکیورٹی فورسز نے حملہ کیا اور اُن کو اتنا زخمی کر دیا کہ اُن کو قطر کے ایک ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ روس اور چین کا خیال ہے کہ  CIA اور برطانوی MI-6 والے سفارتی بیگوں سے خفیہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم کو دیتے ہیں۔ جس کو اُنہوں نے لیبیا میں کرنل قذافی کی حکومت کو گرانے کے لئے استعمال کیا تھا اور اب اس تنظیم کی وجہ سے شام اور ایران میں مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔   ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران اور شام پر مہلک Biological agents کا حملہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس سے کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن سکتے ہیں۔ ہالینڈ اراسمس میڈیکل سنٹر کے Virologist جن کا نام Ton Fouchier ہے، نے کہا ہے کہ مہلک جراثیم دوسرے ممالک پر پھینکنے کے لئے امریکہ کے ڈرون RQ-170 استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس بات کا انکشاف اس وقت ہوا جب حال ہی میں روس نے اپنے Avtobaza گراؤنڈ بسیڈ انٹیلی جنس اور جیمنگ سسٹم کو استعمال کر کے امریکی CIA کا ڈرون RQ۔170 ایران کے علاقے میں اتار لیا۔ جس میں حساس Aerosal Delivery System نصب تھا۔ جس سے دوسرے ممالک پر   Virus   حملے کئے جا سکتے ہیں۔ کہا یہ جاتا ہے کہ 1918ء میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر بھی Flu Virus کا استعمال ہوا تھا، جس سے دنیا کی آبادی کا تقریباً 3 فیصدی یا اندازا ً500 ملین لوگ متاثر ہوئے تھے۔ امریکہ کے ایک Investigativeجرنلسٹ Greg Hunter نے ایک رپورٹ لکھی جس کا عنوان ہے۔”Is the World Spinning out of Control”اس رپورٹ میں امریکی صحافی نے لکھا ہے کہ مغربی معاشی نظام 100ٹریلین ڈالرز کے قرضے کے نیچے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ یہ قرضہ کوئی ملک بھی واپس ادا نہیں کر سکتا۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر امریکی صحافی نے لکھا ہے۔ “Never in history has the World been this close to total financial choas and nuclear war at the same time” ’’یعنی انسانی تاریخ میں اس سے پہلے دنیا ایک ہی وقت پر معاشی بدحالی کی گرفت اور ایٹمی جنگ کے امکانات کے اتنا قریب نہ تھی جتنی اب ہے‘‘۔  قارئین آج سے تقریباً 200 سال پہلے امریکہ کے ایک بانی قائد تھامس جیفرسن نے کہا تھا:۔ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے بینکوں کے ادارے دشمن افواج سے زیادہ ہماری آزادی کے لئے خطرہ ہیں۔ اگر پرائیوٹ بینکوں کو یہ اختیار دے دیا گیا کہ وہ پہلے Inflation اور پھر Deflation کریں تو پھر بینکوں کے سہاروں پر کھڑی ہونے والی کارپوریشنیں لوگوں کو اُن کی تمام جائیدادوں سے اس طرح محروم کر دیں گی کہ اُن کے بچے اپنے اُس براعظم پر بے گھر کھڑے نظر آئیں گے، جس کو اُن کے اباؤ اجداد نے فتح کیا تھا  قارئین یہ یاد رکھا جائے کہ پاکستان اب معاشی بدحالی کے Mine Fieldکی تباہیاں جھیلنے کے بعد مکمل معاشی Collapse کے خوفناک گڑھے کی طرف بڑھ رہا ہے۔حکمرانی کمزور ہے، سٹیٹ بینک کا کوئی کنٹرول نہیں، حکومت پرائیویٹ بینکوں سے کھربوں روپے اُدھار لے کر کھا رہی ہے۔ تباہ حال کارپوریشنیوں کے پاس مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لئے بھی کچھ نہیں۔ بنیادی خرابیوں کو دور کئے بغیر ان کارپوریشنوں میں مزید اربوں روپے ڈبوئے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کمر توڑ ہے، مالیاتی ٹیم کی بے حسی ناقابلِ فہم ہے، بجٹ خسارے اور Inflation کی صحیح صورتِ حال عوام سے چھپائی جا رہی ہے۔ دولت کی بیرون ملک بے خوف پرواز جاری ہے۔ Run away Inflation اور بیرونی Debt default کے زبردست خطرات سر پر منڈلا رہے ہیں۔ صنعتوں کی بندش کی وجہ سے ایکسپورٹ رُکی ہوئی ہے۔ درآمدات بڑھ رہی ہیں۔تیل کی قیمتوں، بجلی اور گیس کے بحران نے زراعت، صنعت اور گھریلوں صارفین کی چیخیں نکال دی ہیں۔ زرِمبادلہ کے ذخائر، جو اب تقریباً 12 ارب ڈالرز ہیں، اگلے سال کے اختتام پر صرف چار یا پانچ ارب ڈالرز رہ جائیں گے۔ جس سے مارکیٹ مزید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو کر Collapse ہو سکتی ہے ۔ایسی صورتِحال میں صدرِ مملکت فرماتے ہیں کہ اُن کی جماعت کے منشور کے 80 فیصدی حصے پر عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اب خوف یہ ہے کہ حکمران اتحاد کے منشور کی 100 فیصدی تکمیل کے بعد پاکستان کا کیا بچے گا۔……تحریر:جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم

کراکس: دنیا میں امریکہ کی کھل کر مخالفت کرنے والے عالمی رہنمائوں میں سے ایک وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا امریکہ نے ایسی خفیہ ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے ذریعے وہ لاطینی امریکہ کے بائیں بازو کے حکمرانوں کو سرطان کے مرض میں مبتلا کر سکتا ہے۔ ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ بات بہت عجیب ہے کہ لاطینی امریکہ کے کئی رہنمائوں کو سرطان کا مرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر بہت حیران کن ہے لیکن وہ کسی قسم کا الزام عائد نہیں کر رہے۔ ہوگو شاویز کو اس سال کے آغاز میں کینسر کی تشخیص کے بعد علاج کرانا پڑا تھا۔ گزشتہ روز ارجنٹائن نے اعلان کیا کہ خاتون صدر کرِسٹینا فرنانڈز، کینسر میں مبتلا ہوگئی ہیں۔ ان کے علاوہ پیرا گوئے کے صدر فرناندو لوگو، برازیل کی صدر دِلما روزیف اور ان کے پیشرو، لولا ڈی سِلوا کو بھی کینسر کا علاج کرانا پڑا۔ تمام حکمرانوں کی بیماریوں کی کڑیاں جوڑتے ہوئے وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا ممکنات کے قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے، اس کی وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ لاطینی امریکہ میں سے، ہم چند ایک کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں الزام نہیں لگا رہا لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ انہوں، یعنی امریکہ نے کوئی ٹیکنالوجی بنا کر، ہم سب کو کینسر میں مبتلا کر دیا ہو اور اب ہمیں پتہ چل رہا ہو؟ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس کا پتہ ہی پچاس سال یا کئی سال بعد چلے؟ میں صرف ایک خیال کا اظہار کر رہا ہوں لیکن یقینا، یہ بہت زیادہ تعجب کی بات ہے کہ ہم سب کو کینسر ہوا ہے۔

بشکک: کرغزستان کے نئے صدر المازبک اتمبیوف نے اپنے ملک کے دارالحکومت بشکک کے ایئرپورٹ پر امریکی فوج کی موجودگی کو خطے کے ممالک کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 2014 تک اس ایئرپورٹ کو مکمل طور پر سویلین ایئرپورٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے امریکی نائب وزیر خارجہ رابرٹ بلیک سے ملاقات میں کہا ہے کہ ایئرپورٹ استعمال کرنے کی فیس جو کہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سالانہ ہے دیتا ہے وہ خطرے کا نعمل البدل نہیں ہم اپنا یہ ایئرپورٹ امریکی فوج کے حوالے رکھ کر وسطی ایشیا کے ممالک کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

بھارت میں شدید احتجاج کے بعد ایک روسی عدالت نے ہندوؤں کی مقدس کتاب بھگود گیتا کے ایک ترجمے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں استغاثہ نے دعویٰ کیا تھا کہ گیتا کا روسی زبان میں ایک مشہور ترجمہ دراصل انتہا پسندانہ لٹریچر ہے، جو اس کے ماننے والوں کو ’دہشت گردانہ‘ کارروائیوں کی طرف راغب کرتا ہے۔ استغاثہ کا مطالبہ تھا کہ ہندوؤں کی مقدس ترین کتاب کے اس ترجمے کو بھی ممنوعہ کتابوں کی اُسی فہرست میں شامل کیا جانا چاہیے، جس میں اڈولف ہٹلر کی تحریر کردہ کتاب ’میری جدوجہد‘ شامل ہے۔  روس میں بھگود گیتا کا ترجمہ سن 1968 میں شائع ہوا تھا۔ اس میں گیتا کے اصلی متن کے علاوہ اس پر سوامی پربھو پادا کی طرف سے کیے گئے تبصرے بھی شامل ہیں۔ سوامی پربھو پادا ’انٹر نیشنل ہرے کرشنا تحریک‘ ISKCON کے بانی تھے۔ استغاثہ کی طرف سے اس کتاب کو ممنوعہ قرار دینے کا مطالبہ جون میں سائبیریا کے علاقے میں ہرے کرشنا تحریک کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے بعد کیا گیا تھا۔روسی جنرل پراسیکیوٹر کے دفتر نے سن 2004 اور 2005 میں اس تحریک پر ’نیشنل چیک‘ رکھنے کا کہا تھا۔ روس کے اخبار The Izvestia daily کے مطابق جس وقت عدالت نے فیصلہ سنایا،کمرہ عدالت ہرے کرشنا تحریک کے کارکنوں کی تالیوں سے گونج اٹھا۔ اس تحریک کے ایک مقامی رہنما کا کہنا تھا، ’’ہم بغیر کسی بُغض کے اور انتہائی عاجزی کے ساتھ یہ فیصلہ قبول کرتے ہیں‘‘۔ اس مقدمے کے آغاز سے یہ خطرہ بھی پیدا ہو گیا تھا کہ دونوں اتحادی اور اسٹریٹیجک پارٹنر ملکوں کے مابین تعلقات ایک بند گلی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ’’ایسے جاہل اور غلط سمت میں جانے والے افراد کی کارروائی ہے، جو خاص طرح کے مقاصد کا حصول چاہتے ہیں۔ یہ مقدمہ ایک ایسی مذہبی کتاب پر حملہ ہے، جو بھارت کی ’عظیم تہذیب کی اصل روح کی وضاحت‘ کرتی ہے۔‘‘ گزشتہ ہفتے بھارتی پارلیمان کا ایک اجلاس اس لیے معطل کرنا پڑ گیا تھا کہ اس بارے میں ایوان میں زبردست ہنگامہ کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ کئی مظاہرین نے کولکتہ کے قریب روسی قونصل خانے کے باہر احتجاج بھی کیا تھا۔ سن 1997 میں بنایا جانے والا روس کا ایک متنازعہ قانون نہ صرف فعال مذہبی گروپوں کی رجسٹریشن بلکہ غیر ملکی مشنری کام کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یونان میں آرتھوڈوکس مسیحیوں کی ایک انتہائی مالدار اور مضبوط اثر و رسوخ کی حامل خانقاہ کے ایبٹ کو زمین کی فروخت کے اسکینڈل میں جیل بھیج دیا گیا۔ ماسکو اور ایتھنز کے قدامت پسند حلقوں نے اس پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک ہزار برس پرانی مقدس واتو پیدی خانقاہ ماؤنٹ ایتھوس کے علاقے میں واقع ہے جو کہ آرتھوڈوکس مسیحیت کا ایک مضبوط گڑھ ہے۔ بدھ کے روز جیل بھیجے جانے والے ایبٹ افرائیم کی گرفتاری سے روس کے ساتھ بھی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا ہے، جس نے اس اقدام کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قبرصی نژاد  56 سالہ افرائیم پر الزام ہے کہ انہوں نے چھ برس قبل ایک اسکیم کا منصوبہ تیار کیا تھا جس کے تحت مسیحی راہبوں نے سرکاری عہدیداروں کو سستی زرعی اراضی کو ایتھنز کی پرکشش رہائشی املاک کے عوض تبادلے پر آمادہ کر لیا تھا۔ اس اراضی میں جھیلیں بھی شامل تھیں۔ وکلائے استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے یونانی ریاست کو کروڑوں یورو کا نقصان پہنچا تھا۔افرائیم جن کا اصلی نام واسیلیوس کوتسو ہے، نے ان تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔ انہیں یونان کی سب سے بڑی جیل کوری ڈالوس میں حراست میں رکھا جا رہا ہے اور اگر ان پر جرم ثابت ہو گیا تو انہیں طویل عرصہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنا پڑ سکتا ہے۔ وکلائے استغاثہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ان پر عائد الزامات کی سنگینی کے باعث انہیں مقدمے کی سماعت سے قبل ہی جیل میں رکھا جائے۔ یونانی قانون سازوں نے اس اسکینڈل پر تین سابق حکومتی وزراء کے بارے میں بھی تحقیقات کی تھیں مگر انہیں حاصل استثناء کی بناء پر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔ ان وزراء کا کہنا ہے کہ انہوں نے ادنٰی درجے کے سرکاری اہلکاروں کے مشورے پر اس منصوبے کی توثیق کی تھی تاہم اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں ان کے اعلٰی افسران نے ایسا کرنے کو کہا تھا۔بہت سے یونانی شہریوں کے نزدیک ملک کے اقتصادی مسائل کے لیے پادریوں کی بجائے سیاست دانوں کو مورد الزام ٹھہرانے کی ضرورت ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت لاؤس پارٹی کے رہنما جارج کارات زافیرس نے کہا، ’’انہوں نے افرائیم کو تو جیل بھیجنے میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا جبکہ یونانی عوام کے پیسے خورد برد کرنے والے لوگ اب بھی دندناتے پھر رہے ہیں۔‘‘ کئی سرکاری عہدیداروں کے بارے میں پارلیمانی تحقیقات کے باوجود ابھی تک کسی بھی اعلٰی سیاست دان پر کوئی الزام نہیں لگایا گیا ہے۔ ادھر سیاہ لباس میں ملبوس درجنوں راہبوں نے جیل کے باہر مظاہرہ کرتے ہوئے ایبٹ افرائیم کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے عقیدت مندوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر بھی ان کے حق میں حمایت حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ اس معاملے پر روس اور یونان کی خارجہ امور کی وزارتوں میں بھی تلخ بیانات کا تبادلہ ہوا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا، ’’ہمیں یورپی عدالت برائے انسانی حقوق کی سفارشات کے باوجود  یونانی عدالت کی جانب سے انہیں مقدمہ چلنے سے قبل ہی گرفتار کرنے کے  فیصلے پر سخت تشویش لاحق ہے۔‘‘ یونان کی وزارت خارجہ نے روسی تشویش کو مسترد کر دیا ہے۔ روس میں لاکھوں آرتھوڈوکس مسیحی ماؤنٹ ایتھوس کمیونٹی کے عقیدت مند ہیں۔

ٹوکیو … جاپان نے ایرانی تیل کی درآمد بند کرنے کے امریکی مطالبے کومستردکردیا۔واشنگٹن کے دورے پرآئے جاپانی وزیرخارجہ کوئشیروگیمبا نے امریکی وزیرخارجہ ہلیری کلنٹن سے ملاقات کی۔ جس کے بعدمیڈیا سے گفت گومیں ان کا کہناتھا کہ جاپان ایران سے تیل کی درآمد بند نہیں کرے گا۔ایرانی اداروں پرپابندی اس کے جوہری پروگرام پرخدشات کے سبب لگائی گئی ہے ،لیکن تیل کی خریداری الگ معاملہ ہے۔جاپانی وزیرخارجہ نے واضح کیاکہ ان کاموقف ہے کہ اگرایران سے خام تیل کی درآمد روک دی گئی تویہ عالمی معیشت کے لیے خطرناک ہوگا۔اس لیے جاپان نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران سے خام تیل کی خریداری جاری رکھے گا

نیویارک…این جی ٹی…امریکی شخص نے اپنی پرانی کار کی رفتار بڑھانے کیلئے اس کی چھت پر کروز میزائل نصب کر دیا۔ جب ذہانت ،مہارت اور دیوانگی ایک ساتھ مل جائیں تو اسی قسم کے منفرد شاہکار سامنے آتے ہیں۔حال ہی میں ایک امریکی شخص نے اپنی پرانی کار کی رفتار کو بڑھا نے کیلئے اس کی چھت پر ایک کروز میزائل نصب کر دیا ہے۔ 100میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی 1967کایہ Chevrolet کارکا ماڈل اب اس میزائل کی مدد سے 300میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کار کے انجن سے 30فٹ لمبا آگ کا شعلہ بھی خارج ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ کار تیزی سے گزرتے ہوئے اپنے پیچھے گہرے دھوئیں کے بادل چھوڑتی نظر آتی ہے  امریکی شہری کی اس نازیبہ حرکت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خطرناک ترین نیوکلر وارہیڈ لے جانے والاکروز میزائل نہایت آسانی سے ایک عام شہری کے ہاتھ لگ سکتا ہے تو کیا یہ امریکی اور اسرائیلی دہشت گردوں کی پہنچ سے دور ہے?۔۔۔ کیا ہمارے ملک میں یہ اسلحہ عام ہے نہیں، یہ تو ساری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے اور امن پسند ممالک پر دہشت گردی کا جھوٹا اور بے بنیاد الزام لگا کر بے گناہ مسلمانوں کا خون اپنے اوپر حلال سمجھنے والے امریکی،اسرائیلی اور یورپی ممالک میں خطرناک ترین اسلحہ عام ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔