ایران کیخلاف تشکیل پانے والی منحوس مثلث

Posted: 23/11/2011 in All News, Articles and Reports, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

حالیہ دنوں میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ میں امریکہ و برطانیہ گلا پھاڑ کر جس انداز میں ایران فوبیا کا پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مشرق وسطٰی میں سیاسی ڈھانچے کو تباہ کن جنگ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، تینوں ممالک کی یہ منڈلی یا جماعت جو منحوس مثلث پر مشتمل ہے، ایران کے خلاف اپنے مصنوعی اور بے بنیاد الزامات کو جواز بنائے ہوئے ہیں، اس منحوس مثلت کے اعلٰی دفاعی حکام نے گذشتہ دنوں میں ایک میٹنگ کے دوران ایران کیخلاف ایک متحدہ محاذ تشکیل دیا ہے، جس سے ان کے مستقبل قریب میں ایران اور خطے کے بارے میں مذموم عزائم کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ ایران پر حملہ کرنے کی افواہیں اور آئی اے ای اے کی حالیہ رپورٹ، جس میں ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے الزامات لگائے گئے، بعد میں منظر عام پر آئی ہیں۔
برطانوی جریدہ ’’گارڈین‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل ڈیوڈ رچرڈز نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں تل ابیب کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے اسرائیل کے چوٹی کے ملٹری اور انٹیلی جنس عہدیداروں سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں، جس میں اسرائیلی دفاعی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ برطانیہ ایران کی نیوکلیئر تنصیبات پر اسرائیل کے حملے کی مکمل حمایت کرے گا، مزید برآں برطانوی حکام نے مزید بتایا کہ امریکی حکومت ایران کے نیوکلیئر پلانٹس کے خلاف بڑی تیزی سے ٹارگٹڈ حملوں کا منصوبہ بنا رہی ہے، اور برطانیہ ان ممکنہ حملوں کے منصوبے کا حصہ بننے کیلئے تیار ہے۔ یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ پچھلے بدھ کو اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اپنے برطانوی ہم منصب سے لندن میں ملاقات کی اور ظاہر ہے کہ اس ملاقات کا اولین ایجنڈہ ایران کے علاوہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، اس ملاقات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ برطانوی دفاعی حکام نے دسیوں برسوں سے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا ہے، پس حالیہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعلقات میں استحکام اور فروغ کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔حال ہی میں واشنگٹن میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی فوجی کمانڈر نے کہا کہ ایران، امریکہ کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے، ایران امریکہ اور اس کے مفادات، ہمارے دوستوں کے لئے خطرے کی بڑی علامت بن چکا ہے، اس کا کہنا تھا کہ اس وقت اگر کسی چیز پر سب سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے تو وہ ایران ہے۔’’اتفاق‘‘ سے اسی دن اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے امریکی ٹی وی چینل سی این این کو ایک انٹرویو میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر کی خواہش کی کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کیلئے فوجی آپشن کا مرحلہ نزدیک تر آ گیا ہے، جب چینل کی طرف سے یہ سوال کیا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مسئلے کے کسی سیاسی یا سفارتی حل کی بجائے ملٹری آپشن کی طرف جا رہے ہیں؟ تو شمعون پیریز نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا مکمل یقین ہے اور میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ تمام ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کی نظرین گھڑی کی ٹک ٹک پر لگی ہوئی ہیں، جو رہنماؤں کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔اسی تناظر میں فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی اپنے الفاظ پر زور دیتے ہوئے کہتا ہے کہ ایران کا رویہ اور ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی شدید خواہش عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، اس نے کہا اگر اسرائیل کے وجود کو کوئی بھی خطرہ لاحق ہوا تو فرانس اس کے تحفظ میں خاموش نہیں رہے گا۔ فرانس کے موقف کے برعکس تین ممالک کی منڈلی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اپنی لفظی جنگ میں دو قدم مزید آگے بڑھالئے ہیں۔
 دھمکی یا دباؤ ایران کے لئے نئے الفاظ نہیں اور وہ اس تلخ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے، جیسا کہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ بدقسمتی سے امریکہ نے عالمی مسائل پر عقلمندی اور دانائی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے، اس نے صرف طاقت کے زور پر معاملات کو حل کرنے کی روش اپنا رکھی ہے، وہ معقولیت کو بھی گم کر بیٹھے ہیں، انکا کہنا تھا کہ ہم ہر تلخ اور سخت صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طرح تیارہیں، انہوں نے کہا ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ وہ ایران سے ٹکراؤ سے قبل کم از کم دو مرتبہ ضرور سوچیں گے۔امریکہ، ایران کیخلاف دوبارہ جاری اپنی لفظی جنگ میں اپنے وہی پرانے الزامات کو بار بار دوہرا رہا ہے، جیسے ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، ایران علاقے میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، ایران انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے، اور اگر ایٹم بم بنانے کی ٹیکنالوجی حاصل کر لیتا ہے تو یہ تیسری ورلڈوارکا پیش خیمہ ہو گا۔ حالیہ الزامات کا سلسلہ اس وقت مزید تیز ہو گیا جب عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران بڑے پیمانے پر سٹیل کے کنٹینر بنا چکا ہے جو نیوکلیئر ہتھیاروں کے لئے استعمال ہوتے ہیں، ایران نے نیوکلیئر وارہیڈ میں استعمال ہونے والے سپر کمپیوٹر بھی تیارکر لئے ہیں، اور اسی طرح کی دوسری قیمتی معلومات ابھی صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، جن کاتعلق  ایران کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام سے ہے۔’’منحوس مثلث‘‘ امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا ایران کیخلاف حملے کا پلان سٹیج کرنے کا مقصد اس کے معدنی ذخائر کی لوٹ مار کرنا ہے، تاہم ایران اس صورتحال پر کبھی بھی خاموش بیٹھا نہیں رہے گا اور حملہ آوروں کا ان کے گھر تک پیچھا کریگا۔ اگست 2011ء میں سپاہ پاسداران کے ایک اعلٰی کمانڈر بریگیڈیئر علی شادمانی نے ان تین موثر اقدامات کا ذکر کیا ہے، جو ایران کیخلاف ممکنہ کسی بھی جارحیت کی صورت پر حکمت عملی کے طور پر اختیار کئے جا سکتے ہیں۔
(1) امریکہ اسرائیل کا دوست اور ہمدرد ہے، ایران اسرائیل کا امن تباہ و برباد کر دیگا اور اسرائیل میں عدم اطمینان یقیناً امریکہ کو کسی بھی جارحیت سے روکنے پر مجبور کر سکتا ہے۔
(2) کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لے گا، جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی 40 فیصد سپلائی گزرتی ہے، جس سے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ جائیں گی اور پہلے ہی تیزی سے ابتر ہوتی ہوئی عالمی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گی۔ 
(3) ایران، عراق اور افغانستان میں اپنے اتحادیوں سے مل کر امریکہ کے ملٹری بیسز کا محاصرہ کر سکتا ہے اور کسی بھی حملے کی صورت میں ایرانی فوجیں ان بیسز کی طرف بڑھ جائیں گی اور امریکی افواج کی ممکنہ پیش قدمی کو روک دیں گی۔
حتمی تجزیئے میں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دنیا کو ایران فوبیا میں مبتلا کرنے کا امریکہ کا پوشیدہ ایجنڈہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق سنسی خیزی پیدا کر کے عالمی برادری کو خوف میں مبتلا کر دیا جائے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور دوسرے بدمعاش حواریوں سے ملکر ایران پر حملہ کر کے اس کے بہت بڑے معدنی ذخائر لوٹنا چاہتا ہے، جس کیلئے وہ ایک طویل عرصے سے نظریں جمائے ہوئے ہے، اس غیرمقدس اتحاد میں کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایران کو چھیڑنے کا ذمہ دار کون ہو گا لیکن جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ و برطانوی کتے کے پیچھے جو دم ہلتی نظر آ رہی ہے وہ اسرائیل ہے۔

 

Comments are closed.