امریکی فوجیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا

Posted: 26/02/2012 in Afghanistan & India, All News, Important News, Religious / Celebrating News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

رباط : اسلامی تعاون تنظیم کے زیراہتمام تنظیم برائے سائنس وثقافت“آئیسیسکو” نے افغانستان میں قابض امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن پاک کے نسخے نذرآتش کرنے کی جسارت کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ قرآن کریم کے نسخوں کو آگ لگانا ایک غلیظ اور گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے افغانستان میں قابض امریکی فوج عالم اسلام اور مسلمانوں سے نظریاتی دہشت گردی کی مرتکب ہو رہی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق “آئی سیسکو” کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی فوج کے ایک اڈے میں قرآن پاک کا نذرآتش کیا جانا پرلے درجے کی اسلام دشمنی ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے گستاخ امریکی فوجیوں نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کیا ہے۔ اس کی تمام تر ذمہ داری امریکا اور اس کے اتحادی نیٹو فوجیوں پرعائد ہوتی ہے، جو تواتر کے ساتھ مسلمانوں کے مذہبی شعائر پر حملوں کے مرتکب ہو رہے ہیں۔اسلامی تنظیم برائے سائنس وثقافت نے امریکی حکومت، صدر براک اوباما، اقوام متحدہ، او آئی سی اورعرب لیگ سمیت انسانی حقوق کی تمام عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ قران پاک کی توہین کے مرتکب گستاخ امریکی فوجیوں کیخلاف ٹھوس تحقیقات شروع کریں اور صحائف کو جلانے کی پاداش میں ایسے قومی جنگی مجرموں کیخلاف عالمی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کے ایک فوجی اڈے پرامریکی فوجیوں کی اس غلیظ حرکت پربھی امریکیوں کو ذرا شرمندگی نہیں ہے اور وہ ان گستاخان اسلام کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کو بچانے والوں کا بھی وہی بدترین انجام ہو گا جو قرآن کی بے حرمتی کرنے والوں کی مقدر میں لکھا جا چکا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ افغانستان میں قرآن کریم کو نذرآتش کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔امریکی فوج اس سے قبل اسی طرح کی گھناؤنی حرکات عراق اور دیگرملکوں میں کرتی رہی ہے اور وہ اسرائیلی فوجیوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے جوفلسطین میں اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں میں ملوث ہیں

Comments are closed.