ایران پر ممکنہ اسرائیلی حملہ اور حماس کا کردار

Posted: 08/03/2012 in All News, Breaking News, Educational News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Palestine & Israel, Russia & Central Asia, Survey / Research / Science News, USA & Europe

اگر ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ ہوتی ہے تو کیا غزہ میں برسر اقتدار جماعت حماس اس سے کنارہ کش رہے گی، اس بارے میں اس جماعت کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بدھ کے روز حماس کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جنگی لحاظ سے اس قدر طاقتور نہیں ہے کہ کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن سکے۔ اس کے برعکس حماس کے ایک سینئر عہدیدار کا بعدازاں مبینہ طور پر کہنا تھا، ’’(اسرائیل کے خلاف) انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کی جائے گی۔‘‘ یہ تبصرے ان قیاس آرائیوں کے بعد سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اُس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس طرح کے خدشات رواں ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے دوران دیے جانے والے بیانات کے بعد پیدا ہوئے تھے۔حماس کے ایک ترجمان فوزی برحوم کا ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہمارے پاس بہت ہلکے ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دفاع کرنا ہے نہ کہ حملہ۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’محدود ہتھیار ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ ہم کسی بھی علاقائی جنگ کا حصہ بنیں۔ حماس کی اعلیٰ ترین فیصلہ ساز کمیٹی کے رکن صلاح البردویل نے بھی کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ تاہم بدھ کی شام ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی فارس نیوز نے حماس کے ایک سینئر عہدیدار محمود الزھار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا، ’’ایران کے خلاف صیہونی جنگ میں حماس انتہائی طاقت کے ساتھ جوابی کارروائی کرنے کی پوزیشن میں ہے۔‘‘ان بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس معاملے میں حماس تنظیم میں دراڑیں پیدا ہو چکی ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کونسی پالیسی غالب رہے گی۔ اسرائیل خیال کرتا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے ہے جبکہ ایران کا اصرار ہے کہ اس کا پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے حالیہ بیانات کے تناظر میں یوں لگتا ہے کہ وہ ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کا متمنی ہے جبکہ امریکی صدر باراک اوباما کی رائے میں یہ مسئلہ ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے تاہم امریکی صدر نے یہ بھی نہیں کہا کہ امریکی مفادات کی حفاظت کے لیے ملٹری آپریشن نہیں کیا جائے گا۔اسرائیلی فوجی عہدیداروں کی نظر میں ایران اور اسرائیل کے تنازعے میں ایران کے اتحادی (غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ) اس پر حملہ کر سکتے ہیں۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کا خبردار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے دشمنوں کے پاس دو لاکھ کے قریب راکٹ اور میزائل موجود ہیں، جو ان کے ملک کے تمام حصوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی صورت میں حزب اللہ کا رد عمل کیا ہو گا؟ گزشتہ ماہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ حملے کی صورت میں ایران حزب اللہ سے جوابی کارروائی کرنے کا نہیں کہے گا۔

Comments are closed.