ایران کی جانب سے تیل کی برآمد روکنے کے نتیجے میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ

Posted: 26/02/2012 in All News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

عداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت 3.168 ڈالر کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے ساتھ 3.565 ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ایران کی جانب سے برطانوی اور فرانسیسی کمپنیوں کو تیل کی برآمد روکنے کے اقدام کے نتیجے میں امریکہ میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ کی آٹو موبائل ایسوسی ایشن کے یومیہ ایندھن کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے ماہ فروری میں گذشتہ ماہ کی نسبت گیسولین کی قیمت میں تقریباً ۲۵ سینٹ اوسطاً اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریگولر گیسولین کی اوسط قیمت گزشتہ سال کی اوسط قیمت ۳.۱۶۸ ڈالر کے مقابلے میں ۱۲.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۳.۵۶۵ ڈالر تک بڑھ گئی ہیں۔ امریکی شہریوں نے گیسولین کی قیمتوں میں اضافے پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ کو ماہ اپریل میں خام تیل کی فراہمی میں ۲فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت ۱۰۵.۸ ڈالر فی بیرل تک بڑھ گئی ہے۔ یورپی منڈی میں پرینٹ کروڈ کی قیمتیں ۰.۵ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۲۰.۱۸ ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہیں۔ یورپ کو تیل کی فراہمی بند کرنے کا ایرانی فیصلہ یورپ اور امریکہ کی ایران پر پابندیوں کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ ایران کے خلاف یورپی اور امریکی پابندیاں یکم جولائی ۲۰۱۲ءسے نافذ العمل ہونگی لیکن عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آٹھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

Comments are closed.