ڈرون حملے جاری رکھنے کے لیے سی آئی اے کی پاکستان کو مراعات کی پیشکش

Posted: 28/03/2012 in All News, Important News, Pakistan & Kashmir, Survey / Research / Science News, USA & Europe

ایک رپورٹ کے مطابق پاک امریکا تعلقات میں جاری کشیدگی کے تناظر میں واشنگٹن نے پاکستان میں القاعدہ کے خلاف ڈرون حملوں کی مہم کو بچانے کے لیے پاکستان کو بعض اہم رعایتوں کی پیشکش کی تھی مگر پاکستانی حکام نے انہیں ٹھکرا دیا۔ خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے جنوری میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے لندن میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کو آئندہ ڈرون حملوں کی پیشگی اطلاع دینے کی پیشکش کی تھی۔ ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار نے بتایا کہ سی آئی اے کے سربراہ نے نشانہ بنائے جانے والے اہداف پر نئی حدود کے اطلاق کی بھی پیشکش کی تھی۔ نام ظاہر نہ کرنے والے دو پاکستانی اہلکاروں نے بتایا کہ جنرل پاشا نے پاکستانی پارلیمان کا مؤقف دہراتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین پر سی آئی اے کے خود مختار ڈرون حملوں کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان یہ مطالبہ کرے گا کہ امریکا دہشت گردوں کے بارے میں معلومات پاکستانی سکیورٹی فورسز کو فراہم کرے تا کہ وہ خود ان عسکریت پسندوں کا تعاقب کریں یا پھر ان کے مشتبہ ٹھکانوں پر گولہ باری کریں۔ گزشتہ برس مختلف ایسے واقعات پیش آئے تھے جن کے باعث پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کشیدگی بڑھتی چلی گئی۔ سی آئی اے کے ایک سکیورٹی افسر ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل، مئی میں اسامہ بن لادن کی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ امریکی کارروائی میں ہلاکت اور نومبر میں پاکستان کی ایک سرحدی چوکی پر امریکی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت نے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتمادی میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔اس کے نتیجے میں پاکستان نے نہ صرف ملک سے گزرنے والی نیٹو کی سپلائی لائن بند کر دی بلکہ امریکیوں سے بلوچستان کی شمسی ایئر بیس بھی خالی کروا لی جہاں سے مبینہ طور پر ڈرون طیارے اڑا کرتے تھے۔ فوجی سطح پر تعاون میں پاکستانی اہلکاروں کو تربیت دینے والے امریکی فوجی اہلکاروں کو نکال دیا گیا اور پاکستان نے امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائیوں میں بھی شرکت سے انکار کر دیا۔ گزشتہ ہفتے پاکستانی پارلیمان نے یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کیے جائیں۔ بعض دیگر امریکی حکام نے اس بات کی تردید کی ہے کہ پاشا پیٹریاس ملاقات میں پاکستان کو کسی قسم کی رعایتوں کی پیشکش کی گئی تھی۔ جب جنوری میں دونوں کی ملاقات ہوئی تو اس وقت امریکی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ جلد ہی آئی ایس آئی کے سربراہ تبدیل ہو جائیں گے۔ اے پی کے مطابق امریکی اہلکاروں کو خدشہ ہے کہ سفارتی تناؤ کے باعث کہیں پاکستان میں ڈرون حملوں کا پروگرام روکنا نہ پڑ جائے۔ لانگ وار جرنل ویب سائیٹ کے اہلکار Bill Roggio کے مطابق آٹھ برسوں کے دوران پاکستان میں کل 289 ڈرون حملے کیے گئے جن میں 2,223 مشتبہ عسکریت پسند، دہشت گرد اور طالبان ہلاک ہوئے۔ رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں ان ڈرون حملوں میں کافی کمی واقع ہو چکی ہے

Comments are closed.