ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں، امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تصدیق

Posted: 26/02/2012 in All News, Breaking News, Important News, Iran / Iraq / Lebnan/ Syria, Survey / Research / Science News, USA & Europe

  امریکی16 انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظرثانی کا باعث بنے۔امریکی اخبار نے 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی متفقہ طور پر تیار کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران جوہری ریسرچ میں ضرور ہے جو اسے ایٹم بم بنانے کے قابل بنا سکتا ہے لیکن ایران کے پاس اس وقت جوہری ہتھیار نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران نے 2003ء میں اپنے جوہری بم بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف عوامی سطح پر فوجی حملے کی باتیں کرتے ہیں لیکن ایک حقیقت کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ ایران جوہری بم بنانے میں کوئی فعال سرگرمی کی کوشش میں ہے۔  امریکی انٹیلی جنس کی طرف سے ایک 2007ء میں تیار کی گئی ایک انتہائی اہم رپورٹ گزشتہ برس پالیسی سازوں کو فراہم کی گئی تھی۔ قومی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق تہران نے 2003ء میں ایٹمی وار ہیڈز بنانے کی کوششوں کو روک دیا تھا جبکہ حال ہی میں 16 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اتفاق رائے سے تیار رپورٹ اشارہ کرتی ہے کہ ایران ابھی تک وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوا۔ اگرچہ ایران یورینیم کی کم سطح پر افزودگی جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے جو فیصلے پر نظر ثانی کا باعث بنے۔  سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بنیادی انٹیلی جنس یا تجزیے سے اختلاف نہیں۔ اسرائیل ایران کو اپنی سلامتی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس لئے وہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کے قابل بننے کی اجازت نہیں دینا چاہتا۔ کچھ اسرائیلی حکام سمجھتے ہیں کہ اس سے پہلے کہ ایران جوہری پیش رفت میں بہت آگے چلا جائے اس کو روکنے کیلئے فوجی حملے کا امکان ہے۔

Comments are closed.