برطانیہ: جسم فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن،میں18 سال تک کنواری رہوں گی،ہر 20 منٹ میں ایک بچے پر جنسی مجرمانہ حملہ،رپورٹ

Posted: 04/04/2012 in All News, Amazing / Miscellaneous News, Health & Sports News, Survey / Research / Science News, USA & Europe

لندن : ایک چیرٹی سیف ایگزٹ کے سربراہ ٹوئن بی ہال نے لندن اولمپکس سے قبل ایسٹ لندن میں جسم فروشی کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسم فروشی کے خلاف مہم کے نتیجے میں سنگین جرائم میں اضافہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی تشویش ناک بات ہے کہ جنوری سے اب تک ٹاور ہیملیٹس سے 48 اور گذشتہ 2 ماہ کے دوران نیوہیم سے 21 افراد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ سٹی ہال کے مطابق نیوہیم میں گذشتہ 18 ماہ کے دوران جسم فروشی کے 80 اڈے بند کئے جاکے ہیں۔ دوسری جانب میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کمیونٹی کی شکایت پر کارروائی کی ہے اولمپک کی وجہ سے نہیں. برطانیہ کی سب سے کم عمر ماں کی بیٹی ساشا نے جو اب 15 سال کی ہوچکی ہے کہا ہے کہ میں اپنی ماں کی غلطی نہیں دہراؤں گی اور 18 سال تک کنواری رہوں گی۔ اس نے کہا کہ جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری ماں نے صرف 12 سال کی عمر میں مجھے جنم دیا تھا تو میں ششدر رہ گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک ماں نہیں بننا چاہتی جب تک مالی طور پر خودکفیل نہ ہوجاؤں۔ اس نے کہا کہ اگرچہ بعض اوقات مجھ پر جنسی تعلق قائم کرنے کیلئے دباؤ ہوتا ہے لیکن اسکے باوجود لڑکوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ میں اب تک کنواری ہوں اور 18 سال کی عمر تک کنواری رہنا چاہتی ہوں۔ میرے خیال میں کمسنی میں جنسی تعلق قائم کرنا خطرناک ہے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے سے بہتر انتظار کرنا ہے۔ اس نے کہا کہ میں اپنی ماں سے محبت کرتی ہوں اور ماں بھی مجھے چاہتی ہے لیکن جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میں اس وقت پیدا ہوئی جب ماں کی عمر صرف 12 برس کی تھی تو مجھے دھچکا لگا کیونکہ اس عمر میں تو میں باربی سے کھیل رہی تھی۔ میری ماں کے پاس کبھی بھی وافر رقم نہیں رہی، میں اپنے اور اپنے بچوں کیلئے بہتر زندگی کی خواہاں ہوں.لندن جنسی جرائم کا ایک تہائی سے بھی زیادہ حصہ بچوں کے خلاف جرائم پر مشتمل ہے۔گزشتہ سال ہر 20 منٹ کے بعد ایک بچے کو مجرمانہ حملے کا نشانہ بنایا جاتا تھا جب کہ روزانہ 60 بچوں پر جنسی حملوں کی رپورٹ پولیس کو دی جاتی تھی۔ انگلینڈ اور ویلز میں 2010-11 ء میں 23,000 بچوں کو جنسی جرائم کا نشانہ بنایا گیا جن میں سے 20 فیصد اتنے چھوٹے تھے کہ سیکنڈری سکول میں داخلے کے قابل بھی نہیں تھے۔ ان بچوں کو جنسی حملوں کا نشانہ بنانے والے مجرموں میں 10 فیصد سے بھی کم کو سزائیں ہو سکیں۔جرائم کے ان اعداد و شمار میں زنا بالجبر، اور بچوں کو قحبہ گری پر مجبور کرنا بھی شامل ہے۔گزشتہ سال مجموعی طور پر 54,982 جنسی جرائم ہوئے جن میں سے 23,097 بچوں کے خلاف تھے۔ 14,819 بچے 11۔17 سال عمر اور 8749 بچے 13-15 سال عمر کے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔

Comments are closed.